ذرا سوچیں!
اگر ان سے یہ تہذیبی تہوار بھی چھین لئے جائیں تو ہندوؤں کے افرادی اور تہذیبی غلبے کے درمیان معمولی سی مسلم اقلیت کا کیا حال ہوگا؟
ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا سب کچھ میلادالنبی جیسی تقاریب پر ہی منحصر ہے مگر یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ میلادالنبی جیسی تقریبات اُنہیں اسلامی تہذیب سے وابستہ رکھنے کا اہم اور بنیادی ذریعہ ہیں۔میلاد کی محفلیں دینی ومذہبی معلومات حاصل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہیں۔جس کے صدقے ان کی نسلیں اغیار کے اثر سے محفوظ ہیں، جس کی بنا پر ہندو تہذیب کے درمیان بھی اسلامی تہذیب کا عَلم قائم ہے۔یہ صرف اُنہیں علاقوں کی ضرورت نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی برائے نام ہے بلکہ میلادالنبی جیسے تہذیبی تہوار مسلم اکثریتی علاقوں کی بھی ضرورت ہیں۔ایسے نازک دور میں دیوبندی اور وہابی مکتب فکر کے افراد کا میلادالنبی جیسی تقریب کے خلاف مہم چلانا، اس کے جواز پر بخاری ومسلم سے دلیل مانگنا جہاں اسلامی مزاج ومقصد سے لاتعلقی کی دلیل ہے وہیں بھارت جیسے ملک میں مسلم اقلیت کو غیروں کی تہذیب پر بَلِی چڑھانے جیسا جرم بھی ہے۔یہ جرم اس وقت مزید بھیانک ہوجاتا ہے جب حکومتی کارندے، میڈیا، سنیما اور تعلیمی ادارے مسلمانوں سے ان کا تہذیبی تشخص چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ایسے نازک وقت میں میلادالنبی جیسی تقریبات کے خلاف مہم چلانا شرپسندوں کو تقویت پہنچانا اور ان کی مدد کرنے جیسا ہے۔عید میلاد النبی اور اس کی شرعی تقریبات بھارتی مسلمانوں کی سماجی ضرورت اور تہذیبی تشخص کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی مخالفت ناقابل معافی جرم ہے۔
١٢ ربیع الاول ١٤٤٣ ھ
19 اکتوبر 2021 بروز منگل
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4407812179336179&id=100003223204679
اگر ان سے یہ تہذیبی تہوار بھی چھین لئے جائیں تو ہندوؤں کے افرادی اور تہذیبی غلبے کے درمیان معمولی سی مسلم اقلیت کا کیا حال ہوگا؟
ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا سب کچھ میلادالنبی جیسی تقاریب پر ہی منحصر ہے مگر یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ میلادالنبی جیسی تقریبات اُنہیں اسلامی تہذیب سے وابستہ رکھنے کا اہم اور بنیادی ذریعہ ہیں۔میلاد کی محفلیں دینی ومذہبی معلومات حاصل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہیں۔جس کے صدقے ان کی نسلیں اغیار کے اثر سے محفوظ ہیں، جس کی بنا پر ہندو تہذیب کے درمیان بھی اسلامی تہذیب کا عَلم قائم ہے۔یہ صرف اُنہیں علاقوں کی ضرورت نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی برائے نام ہے بلکہ میلادالنبی جیسے تہذیبی تہوار مسلم اکثریتی علاقوں کی بھی ضرورت ہیں۔ایسے نازک دور میں دیوبندی اور وہابی مکتب فکر کے افراد کا میلادالنبی جیسی تقریب کے خلاف مہم چلانا، اس کے جواز پر بخاری ومسلم سے دلیل مانگنا جہاں اسلامی مزاج ومقصد سے لاتعلقی کی دلیل ہے وہیں بھارت جیسے ملک میں مسلم اقلیت کو غیروں کی تہذیب پر بَلِی چڑھانے جیسا جرم بھی ہے۔یہ جرم اس وقت مزید بھیانک ہوجاتا ہے جب حکومتی کارندے، میڈیا، سنیما اور تعلیمی ادارے مسلمانوں سے ان کا تہذیبی تشخص چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ایسے نازک وقت میں میلادالنبی جیسی تقریبات کے خلاف مہم چلانا شرپسندوں کو تقویت پہنچانا اور ان کی مدد کرنے جیسا ہے۔عید میلاد النبی اور اس کی شرعی تقریبات بھارتی مسلمانوں کی سماجی ضرورت اور تہذیبی تشخص کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی مخالفت ناقابل معافی جرم ہے۔
١٢ ربیع الاول ١٤٤٣ ھ
19 اکتوبر 2021 بروز منگل
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4407812179336179&id=100003223204679
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایٹم کے زمانے میں عیدمیلاد
محمد میاں مالیگ [لندن]
۲۲؍اپریل۲۰۰۵ء کے ہفت روزہ نوائے وقت لندن میں عیدمیلاد پاک کے تعلق سے مفتی عبدالرشید احمد کا ایک مضمون شائع کروایا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ (مفہوم ) ’’دورِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں نہ عید میلاد تھی نہ اسکے جلسے جلوس، اورنہ ہی یہ خود پکاؤ اورخود کھاؤ والی ایصالِ ثواب کی شکم پرستی، لہٰذا آج کے مسلمانوں میں رائج عیدمیلاد کی رسومات بدعات ہیں یعنی جہنمی، دوزخی، ناری کام‘‘… اس لئے منکرین فضائل رسالت سے ہمارا سوال ہے کہ آ پ کا وضع کردہ یہ غلط اورمن گھڑت اصول کیاکھوٹا اورناممکن العمل اصول اورقاعدہ نہیں؟ یعنی کیا یہ فرض ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جتنے بھی معروفات اور اوامر پرعمل پیرا رہنے کی مسلمانوں کوتلقین وتاکیدفرمائی ہے وہ ضرور ہی دورِ صحابہ میں بعینہ ہو بہو موجود رہے ہوں، تب ہی جنتی، فردوسی اور نعیمی کام ہوں گے ورنہ بدعت اور جہنمی و دوزخی و ناری کام۔ جواب عنایت ہو کہ دور صحابہ میں کیا اتنی وسعت اور اتنی گنجائش ہے؟ کہ یہ قیامت تک ہونے والے تمام امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی تمام ہی اشکال وامثال کااحاطہ کررہاہے۔ مثال کے طورپر دیکھئے ناں! عہدِ نبوت میں قرآن کریم یا عہدِ صحابہ میں صحاح ستہ بلکہ احادیث نبوی کی کوئی بھی صحیح یاغیرصحیح، سچی یا غیرسچی کتاب ہرگز ہرگز یکجاکتابی شکل میں موجود نہ تھی، پھربھی منکرین فضائل رسالت ان کو شیرمادربنائے بیٹھے ہیں ایسے ہی چودھویں صدی کے شیخ الحدیث مولانا زکریاصاحب سہارنپوری کی فضائل کی کتابوں کا عہدصحابہ میں پنج وقتہ نمازوں کے بعد سننے سنانے یاتبلیغی جماعت میں ہفتے میں ایک دن، مہینے میں تین دن، برس میں ایک چلہ اور زندگی میں تین چلے دینے کاصحاح ستہ توکیاکسی کمزور سے کمزور اور ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی کوئی ثبوت نہیں موجود۔ لیکن کتنے تعجب بلکہ افسوس اور دکھ کی ہے یہ بات کہ منکرین فضائل رسالت اپنے مولاناؤں کی ابداع و اختراع کردہ ان صریح بدعات اور جہنمی و دوزخی اور ناری کاموں کو تو گلے کا ہار سمجھتے پھر رہے ہیں لیکن ہمارے پیارے آقاومولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ ارواحنا فداہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشی و مسرت اور بہجت وانبساط کے اظہار کو بہرصورت اور بہرحال عہد صحابہ میں موجود نہ ہونے کی ہلکی پھلکی پھسپھسی بنیاد پربدعت اورجہنمی و دوزخی اور ناری کام قرار دینے پر بضد اور مصر ہیں۔ فیاللعجب … بلکہ یہ ماتھے پیٹنے اورماتم کرنے کا ہی مقام ہے کہ منکرین فضائل رسالت اس غم میں تو بلا شبہ گھلے اورپھنکے جارہے ہیں کہ عہد صحابہ میں اسکی نظیرموجود نہ ہونے کے باوجود مومنین فضائل رسالت اپنے پیارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت کی خوشی کیوں منارہے ہیں؟ لیکن انہیں خوداپنی یہ نویں سیرت، دسویں دعوت، گیارہویں ختم نبوت اور بارہویں توحید وسنت کانفرنسیں نظرنہیں آتیں جو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دو دو آنکھوں کے سامنے بالکل ابھی ابھی چندبرس پہلے منکرین فضائل رسالت نے ابداع و اختراع کی ہیں اورجن کے ثبوت قرآن و احادیث میں سوفی صدعنقا ہیں، خصوصاً کانفرنس کا لفظ تواندھے سے اندھا مولوی بھی صحاح ستہ میں ہرگز ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ یااگر اس موقع پر ہماراحساب کتاب اور ہمارا میتھامیٹکس کچھ کمزور اورضعیف نظر آرہاہوتومنکرین فضائل رسالت سے درخواست ہے کہ دو اور دو چارکی طرح موجودہ ترقی یافتہ ایٹم کے زمانے میں جبکہ ایٹم کو بھی تقسیم کرکے اس کی تقسیم درتقسیم ہورہی ہے پرونان اورپھر اس کے کوارکس نکالے جارہے ہیں کوئی منکر فضائل رسالت ثابت کرے کہ یہ پہلی سیرت دوسری دعوت تیسری ختم نبوت اور چوتھی توحیدو سنت کانفرنسیں عہد صحابہ سے بالکل متصل ہیں اور ان میں اور دور صحابہ میں کوئی بعد اور دوری اورفصل نہیں، چشم ما روشن دل ماشاد۔ ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ؎
شرک و بدعت کی وارداتیں آہ
اب خلاصی نہیں کسی پل بھی
بن رہے ہدف عوام سمیت
عقل والے بھی اور پاگل بھی
آگے چل کر مفتی صاحب نے اپنے بیان میں یہ گہرافشانی بھی فرمائی ہے کہ (مفہوم ) ’’عید میلاد کے موقع پر مسلمانوں کا ایصال ثواب سارا کر کرا کے یہ رہ گیا ہے کہ بس دیگیں پکاؤ، قورمے پیٹ میں اتارو، مرغیاں اڑاؤ پھر ان کو ہضم کرنے کیلئے اوپر سے سوڈے کی بوتلیں چڑھاؤ‘‘……تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ کھانا پینا انسان کی فطری حاجت ہے، موت میت یاکتنے ہی بڑے سونامی سے کیوں نہ پالا پڑجائے کوئی انسان بلکہ جانور بھی کھانے پینے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتا۔ لیکن کتنے غضب کی بات ہے کہ مفتی صاحب کو کسی بھی موقع پر کسی کے بھی کھانے پینے پر کوئی افسوس کوئی دکھ اورکوئی رنج نہیں۔ ہاں دکھ ہے افسوس ہے رنج ہے تواس بات کا ہے کہ مومنین فضائل رسالت جہنم کے ابدی عذاب سے نجات دلواکر جنت کی ابدی راحتوں سے نہال فرمانے والے اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشیاں کیوں منارہے ہیں؟ کھلا پلا
محمد میاں مالیگ [لندن]
۲۲؍اپریل۲۰۰۵ء کے ہفت روزہ نوائے وقت لندن میں عیدمیلاد پاک کے تعلق سے مفتی عبدالرشید احمد کا ایک مضمون شائع کروایا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ (مفہوم ) ’’دورِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں نہ عید میلاد تھی نہ اسکے جلسے جلوس، اورنہ ہی یہ خود پکاؤ اورخود کھاؤ والی ایصالِ ثواب کی شکم پرستی، لہٰذا آج کے مسلمانوں میں رائج عیدمیلاد کی رسومات بدعات ہیں یعنی جہنمی، دوزخی، ناری کام‘‘… اس لئے منکرین فضائل رسالت سے ہمارا سوال ہے کہ آ پ کا وضع کردہ یہ غلط اورمن گھڑت اصول کیاکھوٹا اورناممکن العمل اصول اورقاعدہ نہیں؟ یعنی کیا یہ فرض ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جتنے بھی معروفات اور اوامر پرعمل پیرا رہنے کی مسلمانوں کوتلقین وتاکیدفرمائی ہے وہ ضرور ہی دورِ صحابہ میں بعینہ ہو بہو موجود رہے ہوں، تب ہی جنتی، فردوسی اور نعیمی کام ہوں گے ورنہ بدعت اور جہنمی و دوزخی و ناری کام۔ جواب عنایت ہو کہ دور صحابہ میں کیا اتنی وسعت اور اتنی گنجائش ہے؟ کہ یہ قیامت تک ہونے والے تمام امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی تمام ہی اشکال وامثال کااحاطہ کررہاہے۔ مثال کے طورپر دیکھئے ناں! عہدِ نبوت میں قرآن کریم یا عہدِ صحابہ میں صحاح ستہ بلکہ احادیث نبوی کی کوئی بھی صحیح یاغیرصحیح، سچی یا غیرسچی کتاب ہرگز ہرگز یکجاکتابی شکل میں موجود نہ تھی، پھربھی منکرین فضائل رسالت ان کو شیرمادربنائے بیٹھے ہیں ایسے ہی چودھویں صدی کے شیخ الحدیث مولانا زکریاصاحب سہارنپوری کی فضائل کی کتابوں کا عہدصحابہ میں پنج وقتہ نمازوں کے بعد سننے سنانے یاتبلیغی جماعت میں ہفتے میں ایک دن، مہینے میں تین دن، برس میں ایک چلہ اور زندگی میں تین چلے دینے کاصحاح ستہ توکیاکسی کمزور سے کمزور اور ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی کوئی ثبوت نہیں موجود۔ لیکن کتنے تعجب بلکہ افسوس اور دکھ کی ہے یہ بات کہ منکرین فضائل رسالت اپنے مولاناؤں کی ابداع و اختراع کردہ ان صریح بدعات اور جہنمی و دوزخی اور ناری کاموں کو تو گلے کا ہار سمجھتے پھر رہے ہیں لیکن ہمارے پیارے آقاومولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ ارواحنا فداہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشی و مسرت اور بہجت وانبساط کے اظہار کو بہرصورت اور بہرحال عہد صحابہ میں موجود نہ ہونے کی ہلکی پھلکی پھسپھسی بنیاد پربدعت اورجہنمی و دوزخی اور ناری کام قرار دینے پر بضد اور مصر ہیں۔ فیاللعجب … بلکہ یہ ماتھے پیٹنے اورماتم کرنے کا ہی مقام ہے کہ منکرین فضائل رسالت اس غم میں تو بلا شبہ گھلے اورپھنکے جارہے ہیں کہ عہد صحابہ میں اسکی نظیرموجود نہ ہونے کے باوجود مومنین فضائل رسالت اپنے پیارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت کی خوشی کیوں منارہے ہیں؟ لیکن انہیں خوداپنی یہ نویں سیرت، دسویں دعوت، گیارہویں ختم نبوت اور بارہویں توحید وسنت کانفرنسیں نظرنہیں آتیں جو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دو دو آنکھوں کے سامنے بالکل ابھی ابھی چندبرس پہلے منکرین فضائل رسالت نے ابداع و اختراع کی ہیں اورجن کے ثبوت قرآن و احادیث میں سوفی صدعنقا ہیں، خصوصاً کانفرنس کا لفظ تواندھے سے اندھا مولوی بھی صحاح ستہ میں ہرگز ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ یااگر اس موقع پر ہماراحساب کتاب اور ہمارا میتھامیٹکس کچھ کمزور اورضعیف نظر آرہاہوتومنکرین فضائل رسالت سے درخواست ہے کہ دو اور دو چارکی طرح موجودہ ترقی یافتہ ایٹم کے زمانے میں جبکہ ایٹم کو بھی تقسیم کرکے اس کی تقسیم درتقسیم ہورہی ہے پرونان اورپھر اس کے کوارکس نکالے جارہے ہیں کوئی منکر فضائل رسالت ثابت کرے کہ یہ پہلی سیرت دوسری دعوت تیسری ختم نبوت اور چوتھی توحیدو سنت کانفرنسیں عہد صحابہ سے بالکل متصل ہیں اور ان میں اور دور صحابہ میں کوئی بعد اور دوری اورفصل نہیں، چشم ما روشن دل ماشاد۔ ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ؎
شرک و بدعت کی وارداتیں آہ
اب خلاصی نہیں کسی پل بھی
بن رہے ہدف عوام سمیت
عقل والے بھی اور پاگل بھی
آگے چل کر مفتی صاحب نے اپنے بیان میں یہ گہرافشانی بھی فرمائی ہے کہ (مفہوم ) ’’عید میلاد کے موقع پر مسلمانوں کا ایصال ثواب سارا کر کرا کے یہ رہ گیا ہے کہ بس دیگیں پکاؤ، قورمے پیٹ میں اتارو، مرغیاں اڑاؤ پھر ان کو ہضم کرنے کیلئے اوپر سے سوڈے کی بوتلیں چڑھاؤ‘‘……تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ کھانا پینا انسان کی فطری حاجت ہے، موت میت یاکتنے ہی بڑے سونامی سے کیوں نہ پالا پڑجائے کوئی انسان بلکہ جانور بھی کھانے پینے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتا۔ لیکن کتنے غضب کی بات ہے کہ مفتی صاحب کو کسی بھی موقع پر کسی کے بھی کھانے پینے پر کوئی افسوس کوئی دکھ اورکوئی رنج نہیں۔ ہاں دکھ ہے افسوس ہے رنج ہے تواس بات کا ہے کہ مومنین فضائل رسالت جہنم کے ابدی عذاب سے نجات دلواکر جنت کی ابدی راحتوں سے نہال فرمانے والے اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشیاں کیوں منارہے ہیں؟ کھلا پلا
کیوں رہے ہیں؟ ان کے گیت کیوں گا رہے ہیں ان کے فضائل کیوں بیان کررہے ہیں؟ اللہ کے بنائے ہوئے محمد (۱۴۴:۳+۴۰:۳۳+۲:۴۷+۲۹:۴۸) صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعریف کیوں بیان کررہے ہیں؟ اللہ اللہ! خداوندکریم تو قرآن پاک میں مسلمانوں کو یہ امرفرمائے کہ (مفہوم ) ’’مومنو ! اللہ کے احسان اللہ کی نعمت اللہ کے فضل اور اللہ کی رحمت کی یافت پرفرحت وبہجت کامظاہرہ کرو ان کا ذکر کرو ان کو یاد کرو-‘‘ (۱۶۴:۳+۵۸:۱۰+۱۱:۹۳) لیکن مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل اللہ کی نعمت اللہ کے احسان اور اللہ کی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یافت کی خوشی میں کھانا کھلانے والے ان کے گیت گانے والے اور ان کے فضائل بیان کرنے والے بدعتی ہیں جہنمی ہیں دوزخی ہیں ناری ہیں اسلئے کہ عہد صحابہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا یااسلئے کہ صحاح ستہ کی کتب میں ان کا کوئی ثبوت نہیں موجود۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ پھر بیان کے آخرمیں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ (مفہوم ) ’’اتنی بات تویقینی ہے کہ عیدمیلاد کے نا م پر ہونے والی ان ساری خرافات اور ان سارے ہنگاموں کاعہد صحابہ میں کوئی اتا پتہ نہ تھا اوریہ بہت بعد کی پیداوارہیں‘‘……اسلئے ہماری تمنا مچل رہی ہے کہ کاش کوئی منکر فضائل رسالت ہی ازراہ انصاف عقل سے کام لیتے ہوئے مفتی صاحب کے نمائندوں سے پوچھ لے کہ اے محترم حضرات! جیسے عید میلاد پاک کا عہدصحابہ میں کوئی اتا پتانہ تھا اور یہ بہت بعد کی پیدوار ہے یا جیسے عید میلاد کے موقع پر تلاوت قرآن پاک، درود خوانی، نمازوں کی باجماعت ادائیگی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، دیگیں پکانا، پیٹوں میں قورمے اتارنا، مرغیاں اڑانا اورپھر ان کوہضم کرنے کیلئے سوڈے کی بوتلیں چڑھانا کفر ہے، شرک ہے،حرام ہے جہنمی، دوزخی اورناری کام ہے بالکل ایسے ہی آپکی ابداع واختراع کردہ درج بالا کانفرنسوں میں بھی تو یہی سب کچھ بعینہ ہوبہ ہو سوفی صد ہوتا ہے، یعنی یہ ساری علتیں وہاں بھی توموجود ہیں، پھر آپ کی یہ کانفرنسیں بھی کیوں کفروشرک و بدعت اورجہنمی ودوزخی اورناری کام نہیں؟ جواب عنایت ہوکہ آپ حضرات کو آخرصرف اورصرف آمنہ کے لال فاطمۃ الزہرا کے والد گرامی وقار اور جنتیوں کے سردار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہی اتنی ضد، اتنی دشمنی، اتنی نفرت، اتنا کداور اتنا حسدکیوں ہے؟ ورنہ ہم کہیں گے کہ ؎
سورج سے ہے پھیلا ہواہرسمت اجالا پھربھی کسی اندھے کو دکھائی نہیں دیتا
***
05-05-05 فقط : محمد میاں مالیگ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4552845341463809&id=100002151654486
سورج سے ہے پھیلا ہواہرسمت اجالا پھربھی کسی اندھے کو دکھائی نہیں دیتا
***
05-05-05 فقط : محمد میاں مالیگ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4552845341463809&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*دین پر خاندانی اور علاقائی اجارہ داری نہیں*
حضرت عبدالرحمن جامی کی نصیحت:
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
ترجمہ: جامی عشق کا بندہ بن جا اور خاندانی اکڑ چھوڑدے کہ راہ عشق میں فلاں ابن فلاں کی کوئی اہمیت نہیں
اس کی عملی مثال اس شعر میں کسی شاعر نے بہت خوب دی۔۔ ملاحظہ فرمائیں
حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم، سلمان از فارس
زخاک مکہ ابوجہل، ایں چہ بوالعجبی است
ترجمہ: کتنی عجیب بات ہے کہ حبشہ سے بلال، روم سے صہیب اور فارس سے سلمان جیسے صحابہ کرام پیدا ہوئے اور خود مکہ کی پاک خاک سے ابو جہل نے جنم لیا۔۔۔
*(بحوالہ منزلوں کے نشاں از مولانا جی ایم نعیمی صاحب*
*ترتیب، انتخاب و اضافہ ڈاکٹر شبیر احمد پرے)*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4415547478562649&id=100003223204679
حضرت عبدالرحمن جامی کی نصیحت:
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
ترجمہ: جامی عشق کا بندہ بن جا اور خاندانی اکڑ چھوڑدے کہ راہ عشق میں فلاں ابن فلاں کی کوئی اہمیت نہیں
اس کی عملی مثال اس شعر میں کسی شاعر نے بہت خوب دی۔۔ ملاحظہ فرمائیں
حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم، سلمان از فارس
زخاک مکہ ابوجہل، ایں چہ بوالعجبی است
ترجمہ: کتنی عجیب بات ہے کہ حبشہ سے بلال، روم سے صہیب اور فارس سے سلمان جیسے صحابہ کرام پیدا ہوئے اور خود مکہ کی پاک خاک سے ابو جہل نے جنم لیا۔۔۔
*(بحوالہ منزلوں کے نشاں از مولانا جی ایم نعیمی صاحب*
*ترتیب، انتخاب و اضافہ ڈاکٹر شبیر احمد پرے)*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4415547478562649&id=100003223204679
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قرآنی دعا | ربنا | قرآنی دعائیں 🤲
#قرآنی_دعائیں 📖 #ضیاء_طیبہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
ـ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)
☆ Kanzul Iman Translation:
◆ اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ربّ ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
◆ और कोई यूं कहता है कि ऐ रब हमारे हमें दुनिया में भलाई दे और हमें आख़िरत में भलाई दे और हमें अज़ाबे दोज़ख़ से बचा। (फ़387)
☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 387 fa )
دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیںایک وہ کا فر جن کی دعا میںصرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔
مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔
( AL-BAQARA - 2:201 )
________________
#قرآنی_دعائیں 📖 #ضیاء_طیبہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
ـ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)
☆ Kanzul Iman Translation:
◆ اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ربّ ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
◆ और कोई यूं कहता है कि ऐ रब हमारे हमें दुनिया में भलाई दे और हमें आख़िरत में भलाई दे और हमें अज़ाबे दोज़ख़ से बचा। (फ़387)
☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 387 fa )
دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیںایک وہ کا فر جن کی دعا میںصرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔
مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔
( AL-BAQARA - 2:201 )
________________
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM