🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی آمد
*دل افروز ساعت کی بہاریں*

"توہینِ رسالت کے مرتکب اہلِ مغرب سے ہوں؛ یا کسی خطے سے؛ ان کے مکر و فریب کے غبار چھٹ جائیں گے...محبوب پاک ﷺ کی عظمتوں کی قندیل طاقِ قلبِ مومن پر فروزاں رہے گی..."

غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ اُمید کی کرنیں دَم توڑ رہی تھیں۔ معاشرتی ناہمواریوں نے کھلتی کلیوں کو کمھلا دیا تھا۔ ماؤں کے کلیجے چھلنی تھے۔ درندوں نے اپنی ہی بچیوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر زمیں کی گہرائیوں میں زندہ دفن کر دیا تھا۔ بچیوں کی گھٹی گھٹی چیخوں اور مدھم پڑتی نبضوں نے بھی بے رحمی کے پتھروں کو موم کا جگر عطا نہیں کیا۔ احساسِ انسانیت مر چکا تھا۔ شرک نے عقیدے کی بزم کو ویران کر ڈالا تھا۔ معبودانِ باطلہ کے آگے جبیں کا وقار لُٹ رہا تھا۔ بے حیائی کا ماحول تھا۔ شراب عام تھی۔ طہارت عنقا تھی۔ فکر میلی تھی اورنظر پراگندہ۔ کردار کی چمک ماند تھی۔ افکار پر برسوں کے غبار نے بسیرا کر رکھا تھا۔ انسانی قبا تار تار تھی۔ حیوانی خصلتیں تمغۂ افتخار تھیں- طاقتور ،غریب کی عزت کا سوداگر تھا۔ بازارِ دُنیا میں عصمتیں نیلام تھیں۔ کوئی دُکھی دلوں کا سہارا نہ تھا۔ گھٹی گھٹی فضا تھی۔ کائنات بہار کو ترس رہی تھی۔

یہ نظامِ قدرت ہے؛ اندھیروں کے بعد اُجالوں کا دور آتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار۔ ظلم کے بادل چھٹتے ہیں تو اُجالوں کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں۔ انسانیت کے لیے سب سے مہیب دور کیا آیا کہ رحمت الٰہی جوش پر آئی۔ ایک ایسی صبح نمودار ہوئی؛ جس نے ساری انسانیت کو نہال کر دیا۔ انھیں بھیجا گیا جن کی آمد کا سبھی کو انتظار تھا۔ جن کے لیے بزمِ کائنات سجائی گئی تھی، جس ذات کے لیے کونین کی تخلیق ہوئی تھی۔ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

’’اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔‘‘
(سورۃالبقرہ:آیت نمبر۸۹)

۱۲؍ربیع الاول شریف کی صبح تھی۔ جب انسانیت کا نصیبہ بیدار ہو گیا۔ایسی صبح کبھی نہ آئی، جس کے دامن سے احسان کا سویرا طلوع ہوا۔ زمانہ پُر نور ہوگیا۔ بزم ہستی نکھر گئی۔ جانِ رحمت کے نغمے بلند ہونے لگے۔ فلک کی رفعتوں اور زمیں کی پہنائیوں میں شہرہ ہونے لگا۔ رفعتِ ذکر پاک کا یہ عالم کہ رب کریم شان بیان کررہا ہے، وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ سے مقامِ محبوبیت کی اُن رفعتوں کو باور کرایا جا رہا ہے؛ جہاں عقل خام کی رسائی نہیں۔فکر انسانی رفعتِ ذکر کا ادراک نہیں کرسکتی۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کیا آئے انقلاب آگیا۔ پتھر دل موم ہونے لگے۔ توحید کے نغمے گونجنے لگے۔ خزاں کے بادل چھٹ گئے۔ آلودہ دل مثلِ آئینہ ہوگئے۔اللہ اللہ ؎

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
(رضاؔ بریلوی)

کردار دَمکنے لگے۔ افکار چمکنے لگے۔ اطوار مہکنے لگے۔ مُرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں۔ ٹوٹے دل جُڑنے لگے۔ ڈالیاں جھولنے لگیں۔ کلیاں کھلنے لگیں۔ صبحِ اُمید نمودار ہوگئی۔ شام غم چھَٹ گئی۔ پژمردہ چہرے گلاب ہوگئے۔ ذرے آفتاب ہوگئے۔ قطرے گُہر بن گئے۔انسانیت کو رُسوا کرنے والے، عزتوں کے سفیر بن گئے۔ رہزن، رہبر بن گئے۔ تھمی تھمی ہوائیں مشک بار ہو گئیں۔ خزاں کے نشانات مٹ گئے۔ گلشن ہرے بھرے ہوگئے۔ بلبلیں چہکنے لگیں۔ قمریاں نغمہ سرا ہوگئیں۔ توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ پستیوں میں بسنے والے ہم دوشِ ثریا ہوگئے ؎

اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
خاک کے ذرّوں کو ہمدوشِ ثریا کردیا

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ نور کے باڑے بٹنے لگے۔ پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایسی کامل کہ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔ انبیا کا آنا جانا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری کے لیے تھا۔ وہ آئے تو کائنات کا نکھار بن کر، بزمِ ہستی کی بہار بن کر، کونین کا وقار بن کر، غمگین دلوں کا قرار بن کر، قیامت تک انھیں کا سکہ چلے گا، اولین وآخرین انھیں کے کرم خاص سے حصہ پائیں گے۔ ؎

رُخِ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسراآئینہ
نہ کسی کی بزم خیال میں نہ دوکانِ آئینہ ساز میں
فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزم محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

رضاؔ بریلوی نے اپنے آفاقی سلام میں رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’جانِ رحمت‘‘ اور ’’شمع بزمِ ہدایت‘‘ کہا، لاریب! خوب کہا۔ اس لیے کہ رحمت کی وہ جان ہیں۔ وہ کیا آئے کہ رحمتیں چھا گئیں۔ زحمت کا دور رُخصت ہوا۔ بہار ہی بہار اور رونق ہی رونق۔
بزم ہدایت کی آخری شمع ہیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم۔ خاتم الانبیا کے نور سے اولین وآخرین روشن ہو رہے ہیں۔ بزمِ محشر انھیں کے نورِ اقدس سے منور ہوگی۔ کونین میں بہاریں انھیں کے وجودِ اقدس کا صدقہ ہیں۔ ان بہاروں سے جَلنے والے جلتے رہیں؛ عظمتوں کا نغمہ بلند ہوتا رہے گا- توہینِ رسالت کے مرتکب اہلِ مغرب سے ہوں؛ یا کسی خطے سے؛ ان کے مکر و فریب کے غبار چھٹ جائیں گے- ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دل و نگاہ جگمگائیں گے؛ محبوب پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظمتوں کی قندیل طاقِ قلبِ مومن پر فروزاں رہے گی- ہر صبح ان کے رفعتِ شان کا نیا نظارہ ایماں کو تازگی بخشے گا-
***
٢٨ اکتوبر ٢٠٢٠ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4539542546127422&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#عید_میلاد_النبی_کی_سماجی_اہمیت

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

پچھلے ہفتے (12 تا 15 اکتوبر) تقریر کرنے کے لیے علاقہ مالوہ کے رتلام اور مندسور میں جانا ہوا۔ چار دنوں کے اس سفر میں چار الگ الگ مقامات پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔اس درمیان رتلام اور مندسور کے مابین کئی دیہاتوں اور شہر کے اہم مقامات سے بھی گزر ہوا۔علاقے کی غالب اکثریت ہندوؤں کی ہے۔تہذیبی اعتبار سے بھی ہندو سماج کو مکمل غلبہ حاصل ہے۔اکّا دکّا مقامات پر ٹوپی یا برقع بھلے ہی نظر آجائے ورنہ لباس کے ذریعے مسلمان کی پہچان کی جائے تو مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ان علاقوں میں بھولے سے بھی آپ کو اردو لکھی ہوئی نہیں ملے گی، حد تو یہ ہے کہ مساجد میں بھی اللہ ورسول کے ناموں کے علاوہ سب کچھ ہندی میں ملے گا۔اس لیے شہر ہو کہ دیہات ، مسلم علاقوں کی پہچان کرنا بے حد مشکل ہے۔ان حالات کی دو بنیادی وجہ ہیں:
1۔آبادی کا حد درجہ کم ہونا۔
2۔زبان اور تہذیب کے اعتبار سے مغلوب ہونا۔
پہلے ان علاقوں کا افرادی ولسانی خاکہ دیکھیں تاکہ زمینی حقائق کا صحیح اندازہ ہوسکے:

رتلام کی آبادی:
اُجّین ڈویژن (Ujjain division) کے قابل لحاظ مسلم آبادی والے ضلع رَتلام (Ratlam) کا کل رقبہ4861 مربع کلومیٹر ہے۔2011کی مردم شماری کے مطابق ضلع رتلام کی مسلم آبادی ایک لاکھ اکیاون ہزار سے زائد ( 151071) ہے۔جو ضلع کی کُل آبادی کا صرف %10.38 ہے۔آبادی کی کمی کے ساتھ اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ ضلع رتلام کی اردو آبادی (urdu population) صرف %1.27 ہے۔ دوسرے الفاظ میں رتلامی مسلمانوں کی غالب اکثریت ہندوؤں کی لسانی (linguistic) اور تہذیبی (cultural) یلغار کے نرغے میں ہے۔سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ضلع رتلام کی تحصیل واری (Tehsil wise) مسلم آبادی (Muslim population) مندرجہ ذیل ہے:

Jaora
46821 19%

Ratlam
74623 13%

Alot
10469 9%

Tal
8251 8%

Piploda
7665 6%

Sailana
2284 2%

Bajna
541 0.61%

Rawti
417 0.5%
_______________

اب مندسور کا خاکہ بھی دیکھ لیں:
ضلع مندسور(Mandsaur) کا رقبہ9791 مربع کلومیٹر ہے۔2011 کی مردم شماری (census) کے مطابق ضلع مندسور کی مسلم آبادی ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد ( 125548) ہے۔جو ضلع کی کل آبادی کا صرف %9.37 ہے۔رتلام کی طرح مندسور میں بھی مسلم آبادی کی اردو سے لاتعلقی بے حد افسوس ناک ہے۔حکومتی ریکارڈ کے مطابق مندسور کے مسلمانوں کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی ہی اردو سمجھتی ہے۔مندسور کے مسلمان بھی ہندوؤں کی لسانی(linguistic) اور (cultural) غلامی کے حصار میں ہیں۔ضلع مندسور کی تحصیل واری مسلم آبادی مندرجہ ذیل ہے.

MANDSAUR
61426 18%

Malha garh
15119 7%

Sita mau
12413 7%

Garoth
8495 6%

Bhanpura
8454 6%

Sham garh
7968 6%

Daloda
6992 6%

Suwasara
4681 5%
_____________

دونوں اضلاع میں مسلمانوں کی افرادی اور لِسانی پوزیشن آپ کے سامنے ہے۔ہندوؤں کی غالب اکثریت اور لسانی وتہذیبی غلبے کے درمیان اتنی معمولی اقلیت کا اپنے ایمان وعقیدے پر قائم رہنا اور اسلامی تہذیب سے اپنا جُڑاؤ برقرار رکھ پانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ان چیلنجوں کے درمیان عید میلاد کی آمد کسی نعمت اور بہار سے کم نہیں ہے۔جیسے ہی یہ ماہ مقدس آتا ہے تو ہر مسلمان کی چھت پر عید میلاد کے جھنڈے، راستوں میں برقی قمقمے، سرکار کی آمد مرحبا جیسے بینر اور طغرے نظر آنے لگتے ہیں۔میں ایسے کئی راستوں/علاقوں سے گزرا ہوں جہاں ماہ ولادت سے پہلے مسلمانوں کی پہچان کرنا بے حد مشکل تھا، کیوں کہ لباس اور زبان کے اعتبار سے ہندو مسلم میں فرق کرنا بے حد دشوار ہے۔ملی جلی آبادیوں میں مسلم گھروں کی پہچان کسی طور ممکن نہیں لیکن انہیں علاقوں میں اس وقت مسلمانیت نظر آنے لگتی ہے جب ماہ میلاد کا چاند نظر آتا ہے۔اِسی ماہ کی برکت سے میلاد کی محفلوں اور سیرت النبی کے جلسوں کا انعقاد وہاں کا عام معمول ہے، یوں کہہ لیں کہ جتنی محفلیں مسلم اکثریتی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں اُس سے کئی گنا زیادہ اُن علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں۔یہ محفلیں ان کی ضرورت بھی ہیں اور دینی ذوق کی تسکین کا ذریعہ بھی!
کیوں کہ وہاں آئے دن ہندو سماج کے مختلف تہوار اور ثقافتی پروگرام ہوتے رہتے ہیں، ایسے میں ہنود کی مذہبی تقریبات کے اثر سے خود کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے مذہبی محفلوں اور اپنے تہذیبی اجلاس کا انعقاد بے حد ضروری ہے۔
ذرا سوچیں!
اگر ان سے یہ تہذیبی تہوار بھی چھین لئے جائیں تو ہندوؤں کے افرادی اور تہذیبی غلبے کے درمیان معمولی سی مسلم اقلیت کا کیا حال ہوگا؟
ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا سب کچھ میلادالنبی جیسی تقاریب پر ہی منحصر ہے مگر یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ میلادالنبی جیسی تقریبات اُنہیں اسلامی تہذیب سے وابستہ رکھنے کا اہم اور بنیادی ذریعہ ہیں۔میلاد کی محفلیں دینی ومذہبی معلومات حاصل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہیں۔جس کے صدقے ان کی نسلیں اغیار کے اثر سے محفوظ ہیں، جس کی بنا پر ہندو تہذیب کے درمیان بھی اسلامی تہذیب کا عَلم قائم ہے۔یہ صرف اُنہیں علاقوں کی ضرورت نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی برائے نام ہے بلکہ میلادالنبی جیسے تہذیبی تہوار مسلم اکثریتی علاقوں کی بھی ضرورت ہیں۔ایسے نازک دور میں دیوبندی اور وہابی مکتب فکر کے افراد کا میلادالنبی جیسی تقریب کے خلاف مہم چلانا، اس کے جواز پر بخاری ومسلم سے دلیل مانگنا جہاں اسلامی مزاج ومقصد سے لاتعلقی کی دلیل ہے وہیں بھارت جیسے ملک میں مسلم اقلیت کو غیروں کی تہذیب پر بَلِی چڑھانے جیسا جرم بھی ہے۔یہ جرم اس وقت مزید بھیانک ہوجاتا ہے جب حکومتی کارندے، میڈیا، سنیما اور تعلیمی ادارے مسلمانوں سے ان کا تہذیبی تشخص چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ایسے نازک وقت میں میلادالنبی جیسی تقریبات کے خلاف مہم چلانا شرپسندوں کو تقویت پہنچانا اور ان کی مدد کرنے جیسا ہے۔عید میلاد النبی اور اس کی شرعی تقریبات بھارتی مسلمانوں کی سماجی ضرورت اور تہذیبی تشخص کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی مخالفت ناقابل معافی جرم ہے۔

١٢ ربیع الاول ١٤٤٣ ھ
19 اکتوبر 2021 بروز منگل

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4407812179336179&id=100003223204679
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایٹم کے زمانے میں عیدمیلاد

محمد میاں مالیگ [لندن]

۲۲؍اپریل۲۰۰۵ء کے ہفت روزہ نوائے وقت لندن میں عیدمیلاد پاک کے تعلق سے مفتی عبدالرشید احمد کا ایک مضمون شائع کروایا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ (مفہوم ) ’’دورِ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں نہ عید میلاد تھی نہ اسکے جلسے جلوس، اورنہ ہی یہ خود پکاؤ اورخود کھاؤ والی ایصالِ ثواب کی شکم پرستی، لہٰذا آج کے مسلمانوں میں رائج عیدمیلاد کی رسومات بدعات ہیں یعنی جہنمی، دوزخی، ناری کام‘‘… اس لئے منکرین فضائل رسالت سے ہمارا سوال ہے کہ آ پ کا وضع کردہ یہ غلط اورمن گھڑت اصول کیاکھوٹا اورناممکن العمل اصول اورقاعدہ نہیں؟ یعنی کیا یہ فرض ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جتنے بھی معروفات اور اوامر پرعمل پیرا رہنے کی مسلمانوں کوتلقین وتاکیدفرمائی ہے وہ ضرور ہی دورِ صحابہ میں بعینہ ہو بہو موجود رہے ہوں، تب ہی جنتی، فردوسی اور نعیمی کام ہوں گے ورنہ بدعت اور جہنمی و دوزخی و ناری کام۔ جواب عنایت ہو کہ دور صحابہ میں کیا اتنی وسعت اور اتنی گنجائش ہے؟ کہ یہ قیامت تک ہونے والے تمام امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی تمام ہی اشکال وامثال کااحاطہ کررہاہے۔ مثال کے طورپر دیکھئے ناں! عہدِ نبوت میں قرآن کریم یا عہدِ صحابہ میں صحاح ستہ بلکہ احادیث نبوی کی کوئی بھی صحیح یاغیرصحیح، سچی یا غیرسچی کتاب ہرگز ہرگز یکجاکتابی شکل میں موجود نہ تھی، پھربھی منکرین فضائل رسالت ان کو شیرمادربنائے بیٹھے ہیں ایسے ہی چودھویں صدی کے شیخ الحدیث مولانا زکریاصاحب سہارنپوری کی فضائل کی کتابوں کا عہدصحابہ میں پنج وقتہ نمازوں کے بعد سننے سنانے یاتبلیغی جماعت میں ہفتے میں ایک دن، مہینے میں تین دن، برس میں ایک چلہ اور زندگی میں تین چلے دینے کاصحاح ستہ توکیاکسی کمزور سے کمزور اور ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی کوئی ثبوت نہیں موجود۔ لیکن کتنے تعجب بلکہ افسوس اور دکھ کی ہے یہ بات کہ منکرین فضائل رسالت اپنے مولاناؤں کی ابداع و اختراع کردہ ان صریح بدعات اور جہنمی و دوزخی اور ناری کاموں کو تو گلے کا ہار سمجھتے پھر رہے ہیں لیکن ہمارے پیارے آقاومولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ ارواحنا فداہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشی و مسرت اور بہجت وانبساط کے اظہار کو بہرصورت اور بہرحال عہد صحابہ میں موجود نہ ہونے کی ہلکی پھلکی پھسپھسی بنیاد پربدعت اورجہنمی و دوزخی اور ناری کام قرار دینے پر بضد اور مصر ہیں۔ فیاللعجب … بلکہ یہ ماتھے پیٹنے اورماتم کرنے کا ہی مقام ہے کہ منکرین فضائل رسالت اس غم میں تو بلا شبہ گھلے اورپھنکے جارہے ہیں کہ عہد صحابہ میں اسکی نظیرموجود نہ ہونے کے باوجود مومنین فضائل رسالت اپنے پیارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت کی خوشی کیوں منارہے ہیں؟ لیکن انہیں خوداپنی یہ نویں سیرت، دسویں دعوت، گیارہویں ختم نبوت اور بارہویں توحید وسنت کانفرنسیں نظرنہیں آتیں جو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری دو دو آنکھوں کے سامنے بالکل ابھی ابھی چندبرس پہلے منکرین فضائل رسالت نے ابداع و اختراع کی ہیں اورجن کے ثبوت قرآن و احادیث میں سوفی صدعنقا ہیں، خصوصاً کانفرنس کا لفظ تواندھے سے اندھا مولوی بھی صحاح ستہ میں ہرگز ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ یااگر اس موقع پر ہماراحساب کتاب اور ہمارا میتھامیٹکس کچھ کمزور اورضعیف نظر آرہاہوتومنکرین فضائل رسالت سے درخواست ہے کہ دو اور دو چارکی طرح موجودہ ترقی یافتہ ایٹم کے زمانے میں جبکہ ایٹم کو بھی تقسیم کرکے اس کی تقسیم درتقسیم ہورہی ہے پرونان اورپھر اس کے کوارکس نکالے جارہے ہیں کوئی منکر فضائل رسالت ثابت کرے کہ یہ پہلی سیرت دوسری دعوت تیسری ختم نبوت اور چوتھی توحیدو سنت کانفرنسیں عہد صحابہ سے بالکل متصل ہیں اور ان میں اور دور صحابہ میں کوئی بعد اور دوری اورفصل نہیں، چشم ما روشن دل ماشاد۔ ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ؎

شرک و بدعت کی وارداتیں آہ
اب خلاصی نہیں کسی پل بھی
بن رہے ہدف عوام سمیت
عقل والے بھی اور پاگل بھی

آگے چل کر مفتی صاحب نے اپنے بیان میں یہ گہرافشانی بھی فرمائی ہے کہ (مفہوم ) ’’عید میلاد کے موقع پر مسلمانوں کا ایصال ثواب سارا کر کرا کے یہ رہ گیا ہے کہ بس دیگیں پکاؤ، قورمے پیٹ میں اتارو، مرغیاں اڑاؤ پھر ان کو ہضم کرنے کیلئے اوپر سے سوڈے کی بوتلیں چڑھاؤ‘‘……تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ کھانا پینا انسان کی فطری حاجت ہے، موت میت یاکتنے ہی بڑے سونامی سے کیوں نہ پالا پڑجائے کوئی انسان بلکہ جانور بھی کھانے پینے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتا۔ لیکن کتنے غضب کی بات ہے کہ مفتی صاحب کو کسی بھی موقع پر کسی کے بھی کھانے پینے پر کوئی افسوس کوئی دکھ اورکوئی رنج نہیں۔ ہاں دکھ ہے افسوس ہے رنج ہے تواس بات کا ہے کہ مومنین فضائل رسالت جہنم کے ابدی عذاب سے نجات دلواکر جنت کی ابدی راحتوں سے نہال فرمانے والے اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یافت پرخوشیاں کیوں منارہے ہیں؟ کھلا پلا
کیوں رہے ہیں؟ ان کے گیت کیوں گا رہے ہیں ان کے فضائل کیوں بیان کررہے ہیں؟ اللہ کے بنائے ہوئے محمد (۱۴۴:۳+۴۰:۳۳+۲:۴۷+۲۹:۴۸) صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعریف کیوں بیان کررہے ہیں؟ اللہ اللہ! خداوندکریم تو قرآن پاک میں مسلمانوں کو یہ امرفرمائے کہ (مفہوم ) ’’مومنو ! اللہ کے احسان اللہ کی نعمت اللہ کے فضل اور اللہ کی رحمت کی یافت پرفرحت وبہجت کامظاہرہ کرو ان کا ذکر کرو ان کو یاد کرو-‘‘ (۱۶۴:۳+۵۸:۱۰+۱۱:۹۳) لیکن مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل اللہ کی نعمت اللہ کے احسان اور اللہ کی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یافت کی خوشی میں کھانا کھلانے والے ان کے گیت گانے والے اور ان کے فضائل بیان کرنے والے بدعتی ہیں جہنمی ہیں دوزخی ہیں ناری ہیں اسلئے کہ عہد صحابہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا یااسلئے کہ صحاح ستہ کی کتب میں ان کا کوئی ثبوت نہیں موجود۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ پھر بیان کے آخرمیں مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ (مفہوم ) ’’اتنی بات تویقینی ہے کہ عیدمیلاد کے نا م پر ہونے والی ان ساری خرافات اور ان سارے ہنگاموں کاعہد صحابہ میں کوئی اتا پتہ نہ تھا اوریہ بہت بعد کی پیداوارہیں‘‘……اسلئے ہماری تمنا مچل رہی ہے کہ کاش کوئی منکر فضائل رسالت ہی ازراہ انصاف عقل سے کام لیتے ہوئے مفتی صاحب کے نمائندوں سے پوچھ لے کہ اے محترم حضرات! جیسے عید میلاد پاک کا عہدصحابہ میں کوئی اتا پتانہ تھا اور یہ بہت بعد کی پیدوار ہے یا جیسے عید میلاد کے موقع پر تلاوت قرآن پاک، درود خوانی، نمازوں کی باجماعت ادائیگی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، دیگیں پکانا، پیٹوں میں قورمے اتارنا، مرغیاں اڑانا اورپھر ان کوہضم کرنے کیلئے سوڈے کی بوتلیں چڑھانا کفر ہے، شرک ہے،حرام ہے جہنمی، دوزخی اورناری کام ہے بالکل ایسے ہی آپکی ابداع واختراع کردہ درج بالا کانفرنسوں میں بھی تو یہی سب کچھ بعینہ ہوبہ ہو سوفی صد ہوتا ہے، یعنی یہ ساری علتیں وہاں بھی توموجود ہیں، پھر آپ کی یہ کانفرنسیں بھی کیوں کفروشرک و بدعت اورجہنمی ودوزخی اورناری کام نہیں؟ جواب عنایت ہوکہ آپ حضرات کو آخرصرف اورصرف آمنہ کے لال فاطمۃ الزہرا کے والد گرامی وقار اور جنتیوں کے سردار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہی اتنی ضد، اتنی دشمنی، اتنی نفرت، اتنا کداور اتنا حسدکیوں ہے؟ ورنہ ہم کہیں گے کہ ؎

سورج سے ہے پھیلا ہواہرسمت اجالا پھربھی کسی اندھے کو دکھائی نہیں دیتا
***
05-05-05 فقط : محمد میاں مالیگ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4552845341463809&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*دین پر خاندانی اور علاقائی اجارہ داری نہیں*

حضرت عبدالرحمن جامی کی نصیحت:

بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
ترجمہ: جامی عشق کا بندہ بن جا اور خاندانی اکڑ چھوڑدے کہ راہ عشق میں فلاں ابن فلاں کی کوئی اہمیت نہیں
اس کی عملی مثال اس شعر میں کسی شاعر نے بہت خوب دی۔۔ ملاحظہ فرمائیں

حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم، سلمان از فارس
زخاک مکہ ابوجہل، ایں چہ بوالعجبی است

ترجمہ: کتنی عجیب بات ہے کہ حبشہ سے بلال، روم سے صہیب اور فارس سے سلمان جیسے صحابہ کرام پیدا ہوئے اور خود مکہ کی پاک خاک سے ابو جہل نے جنم لیا۔۔۔
*(بحوالہ منزلوں کے نشاں از مولانا جی ایم نعیمی صاحب*
*ترتیب، انتخاب و اضافہ ڈاکٹر شبیر احمد پرے)*

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4415547478562649&id=100003223204679
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قرآنی دعا | ربنا | قرآنی دعائیں 🤲
#قرآنی_دعائیں 📖 #ضیاء_طیبہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
ـ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
★ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)
☆ Kanzul Iman Translation:
◆ اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ربّ ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
◆ और कोई यूं कहता है कि ऐ रब हमारे हमें दुनिया में भलाई दे और हमें आख़िरत में भलाई दे और हमें अज़ाबे दोज़ख़ से बचा। (फ़387)

☆ Tafsir e Khazain ul Irfan:
( 387 fa )
دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیںایک وہ کا فر جن کی دعا میںصرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔
مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔
( AL-BAQARA - 2:201 )
________________