Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔴 :اکابر دیو 👹 بند کے نزدیک یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو 🎆 جشن 🎆 منانا !
◀️: اکثر کچھ جاہل دیو 👹 باندی یہ اعتراض کرتے آ رہے ہیں کہ 12 ربیع الاول کو خوشی منانا، اسے ہر سال بطورِ یادگار منانا، اسی دن کو " جشن" منانا اور اسے بطور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم منانا کہاں سے ثابت ہے حالانکہ 12 تو یوم وفات ہے کیا تم لوگ یوم وفات کو وفات جشن منا رہے ہو؟
🔴🎆◀️ایسے جاہلانہ اعتراض کرنے والوں کو ان کے گھر سے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی کی ایک تقریر سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے❗
🔴◀️: آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی نے یوم میلاد سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے موقع پر کہا .
🎆◀️" آج کا دن بھی ایک تاریخی جشن مسرت اور دنیائے انسانی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے لیکن ایسی ایسی یادگار جو اپنی آن اور شان میں دوسری یادگاروں سے نرالی اور انوکھی ہے "
دیکھئے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جشن اور مسرت کا دن مانتے ہوئے اسی جشن و مسرت کو بطورِ یادگار مناتے ہیں جیسا کہ خود اقرار کرتے ہوئے بول اٹھے!
🎆◀️" آج ہم اس برگزیدہ ہستی یعنی رسول خدا سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی یادگار منا رہے ہیں."
جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی بھی یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خوشی کا جشن بطورِ یادگار مناتے رہے.
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں.
🔴: کیا سیوہاروی دیوبندی یوم وفات کو وفات کی خوشی اور جشن مناتے رہے ؟
🔴:کیا وہ وفات کی یادگار مناتے رہے ؟
🔴: کیا وہ بدعت کا ارتکاب کرتے رہے ؟
یہاں اور بھی کئی سوالات قائم ہوتے ہیں پر آج کیلئے یہی بہت ہیں‼️
✍️: ابوالھمّام فاروقی رضوی
6 ربیع الاول شریف 1443ھ
14_اکتوبر_2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=207951568076080&id=100065837134006
◀️: اکثر کچھ جاہل دیو 👹 باندی یہ اعتراض کرتے آ رہے ہیں کہ 12 ربیع الاول کو خوشی منانا، اسے ہر سال بطورِ یادگار منانا، اسی دن کو " جشن" منانا اور اسے بطور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم منانا کہاں سے ثابت ہے حالانکہ 12 تو یوم وفات ہے کیا تم لوگ یوم وفات کو وفات جشن منا رہے ہو؟
🔴🎆◀️ایسے جاہلانہ اعتراض کرنے والوں کو ان کے گھر سے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی کی ایک تقریر سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے❗
🔴◀️: آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی نے یوم میلاد سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے موقع پر کہا .
🎆◀️" آج کا دن بھی ایک تاریخی جشن مسرت اور دنیائے انسانی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے لیکن ایسی ایسی یادگار جو اپنی آن اور شان میں دوسری یادگاروں سے نرالی اور انوکھی ہے "
دیکھئے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جشن اور مسرت کا دن مانتے ہوئے اسی جشن و مسرت کو بطورِ یادگار مناتے ہیں جیسا کہ خود اقرار کرتے ہوئے بول اٹھے!
🎆◀️" آج ہم اس برگزیدہ ہستی یعنی رسول خدا سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی یادگار منا رہے ہیں."
جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی بھی یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خوشی کا جشن بطورِ یادگار مناتے رہے.
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں.
🔴: کیا سیوہاروی دیوبندی یوم وفات کو وفات کی خوشی اور جشن مناتے رہے ؟
🔴:کیا وہ وفات کی یادگار مناتے رہے ؟
🔴: کیا وہ بدعت کا ارتکاب کرتے رہے ؟
یہاں اور بھی کئی سوالات قائم ہوتے ہیں پر آج کیلئے یہی بہت ہیں‼️
✍️: ابوالھمّام فاروقی رضوی
6 ربیع الاول شریف 1443ھ
14_اکتوبر_2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=207951568076080&id=100065837134006
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رفعتِ ذکر رسول ﷺ کا دل آویز اسلوب
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کے پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیمان کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیان…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کے پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیمان کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیان…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4528799783868365&id=100002151654486
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4528799783868365&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خصائص فتاوی رضویہ کا تیسرا اڈیشن اب پاکستان سےاشاعت پزیر
الحمدللہ ناچیز کی تازہ ترین تصنیف "خصائص فتاویٰ رضویہ "کا تیسرا اڈیشن نہایت دیدہ زیب اور اعلی قسم کی طباعت کے ساتھ اکبر بک سیلز لاہور پاکستان سے اشاعت پزیر ہوکر اب پاکستانی قارئین کی مطالعاتی میز پر ہےایک مہینہ کے اندر اب تک اس کے تین اڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
میں اس کے لۓ اپنے ان تمام احباب کا صمیم قلب کے ساتھ شکر گزار ہوں جنہوں نے میری اس تصنیف پر قلبی دعاؤں سے نوازا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اس تیسرے اڈیشن پر میں بالخصوص مصنف کتب کثیرہ جناب میثم رضوی قادری پاکستان کا ممنون و مشکور ہوں کہ موصوف نے براہ راست مجھ سے رابطہ کرکے پاکستان سے اس کتاب کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی اور ان ہی کی سعی جمیل سے اس کا تیسرا اڈیشن چھپ کر پاکستان میں بھی منظر عام پر آیا نیز میں اکبر بک سیلر کا بھی شکر گزار ہوں کہ خطیر رقم لگاکر اس کتاب کو دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ محرک و ناشر اور میرے دعا گو تمام احباب کو جزاۓ خیر عطا فرمائے _(آمین ثم آمین)
. . . . . . . . . . . . . بندۀ عاصی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
خادم افتاواستادحدیث و فقہ
ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی
متوطن!
دولالی گرام، قصبہ رام گنج ،اسلام پور ،اتر دیناج پور مغربی بنگال
9580720418
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997219737273040&id=100009551292329
الحمدللہ ناچیز کی تازہ ترین تصنیف "خصائص فتاویٰ رضویہ "کا تیسرا اڈیشن نہایت دیدہ زیب اور اعلی قسم کی طباعت کے ساتھ اکبر بک سیلز لاہور پاکستان سے اشاعت پزیر ہوکر اب پاکستانی قارئین کی مطالعاتی میز پر ہےایک مہینہ کے اندر اب تک اس کے تین اڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
میں اس کے لۓ اپنے ان تمام احباب کا صمیم قلب کے ساتھ شکر گزار ہوں جنہوں نے میری اس تصنیف پر قلبی دعاؤں سے نوازا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اس تیسرے اڈیشن پر میں بالخصوص مصنف کتب کثیرہ جناب میثم رضوی قادری پاکستان کا ممنون و مشکور ہوں کہ موصوف نے براہ راست مجھ سے رابطہ کرکے پاکستان سے اس کتاب کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی اور ان ہی کی سعی جمیل سے اس کا تیسرا اڈیشن چھپ کر پاکستان میں بھی منظر عام پر آیا نیز میں اکبر بک سیلر کا بھی شکر گزار ہوں کہ خطیر رقم لگاکر اس کتاب کو دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ محرک و ناشر اور میرے دعا گو تمام احباب کو جزاۓ خیر عطا فرمائے _(آمین ثم آمین)
. . . . . . . . . . . . . بندۀ عاصی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
خادم افتاواستادحدیث و فقہ
ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی
متوطن!
دولالی گرام، قصبہ رام گنج ،اسلام پور ،اتر دیناج پور مغربی بنگال
9580720418
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997219737273040&id=100009551292329
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں : میلاد ہر جگہ تو بدعت ہے مگر کالج میں منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے ۔*
*اب دیوبندی حضرات سے سوال ھے کہ میلاد ہر جگہ بدعت کیوں ہے ؟ اور کالج میں جائز بلکہ واجب کیوں ھے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس تضاد بیانی کا جواب دیا جائے اوٹ پٹانگ باتوں سے پرھیز فرمائیں موضوع اور پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جاہلانہ کمنٹ کرنے والوں سے ایڈوانس معذرت ایسے لوگ پوسٹ سے دور رہیں ۔*
#_محمد__جمیل_اختر_رضا_ازہری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=421421532743250&id=100046262192386
*اب دیوبندی حضرات سے سوال ھے کہ میلاد ہر جگہ بدعت کیوں ہے ؟ اور کالج میں جائز بلکہ واجب کیوں ھے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس تضاد بیانی کا جواب دیا جائے اوٹ پٹانگ باتوں سے پرھیز فرمائیں موضوع اور پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جاہلانہ کمنٹ کرنے والوں سے ایڈوانس معذرت ایسے لوگ پوسٹ سے دور رہیں ۔*
#_محمد__جمیل_اختر_رضا_ازہری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=421421532743250&id=100046262192386
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رسول اللہﷺ سے نسبت و تعلق کے تقاضے اور
تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی و توہین روز مرّہ کا معمول بن چکی ہے، مقتضائے وقت ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ سے مسلمانوں کو قریب کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی مستشرقین کی جانب سے توہینِ رسالت کی جاتی ہے، کبھی پادریوں اور آریوں کی طرف سے یہی حرکت ہوتی ہے، تو کبھی فن اور آرٹ کے نام پر کارٹونسٹ تشدد بھرا اعلان دیتے ہیں۔ کبھی آزادیِ اظہار کے نام پر جرأت کی جاتی ہے۔ کیا آزادی اِسی کا نام ہے کہ جھوٹی باتیں روشن سیرتوں سے منسوب کی جائیں؟ غلط بیانی؛ منوّر ذات سے متعلق گڑھی جائے؟ کچھ یہی معاملہ برصغیر کا ہے جہاں شاتم و گستاخِ رسول کو بھرپور آزادی ہے۔ آریاؤں کے فتنے، پنڈتوں کے منفی ری مارک، سیاسی بازی گروں کی جسارت، ہند میں فرقہ پرست عناصر کے ذریعے شاتمانہ بیان بازی، دوسری سمت پڑوسی ملک میں تحفظِ ناموسِ رسالتﷺ کے لیے وضع قانون سے مسلسل انحراف؛ ایسے پہلو ہیں کہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کے اندر محبت رسول ﷺ کا جذبہ راسخ نہیں کیا تو کل اِس سے زیادہ حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے اور ایمان کی بربادی کا اندیشہ۔
سیرت سے متعلق ذمہ داری: سیرتِ طیبہ سے نسبت و تعلق کے تقاضوں کی بجا آوری میں کمی بھاری غلطی ہے؛ جس کا خمیازہ نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ نظامِ تعلیم میں بھی دین سے دوری کا بہت کچھ مواد شامل ہے۔ دہریت، لا اَدریت، آزاد روی کی لہر نے دین بیزار فکر رواج دی ہے۔ ایسے میں گھروں میں دینی ماحول کی پرورش، بچوں کی دینی تربیت، سیرت مصطفیٰ ﷺ کا لازمی مطالعہ، سیرت سے متعلق مستند لٹریچرز کا انتخاب، عظمتِ رسالت کے پہلوؤں کا خصوصی مطالعہ تا کہ دل میں محبت و تعظیم رسول ﷺ کا نقش جمے، یوں ہی ایسے معمولات بھی رواج دیے جائیں جن کی بنیاد پر رسول کریم ﷺ سے تعلق میں پختگی آئے۔ تا کہ نسبتوں کی بہاریں خزاں کے جھونکوں سے متاثر نہ ہو سکیں۔
جذبات کی سمت: قوم بڑی جذباتی ہے۔ کبھی شورش کے وقت بیدار ہو کر مناسب کبھی غیر مناسب اقدام کرتی ہے۔ پھر خوابِ غفلت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عقل و عشق رسول میں باہم ربط ضروری ہے۔ مثال سامنے ہے آشوپریہار، پروین توگڑیہ، نرسنگھانند کے خلافِ اسلام بیانات، سیرت مخالف ری مارک سے متعلق وقتی احتجاج درج کروائے گئے۔ نہ ہی ہم نے کوئی ٹھوس اقدام کیا، نہ ہی قانونی معاملات میں سنجیدہ پیش رفت کی، اس بابت کمیاں یہ رہیں:
[۱] قانونی معاملات سے پہلو تہی اِس لیے ہوئی کہ وہ صبر آزما مرحلہ ہے، ہم سے مستقل پیش رفت نہیں ہوتی۔
[۲] بلکہ شاتمین کی توہین پر ملک کے درجنوں مقامات پر درج ایف آئی آر سے متعلق بے اعتنائی رہی۔ اس درمیان شاتمین عالمی صہیونی طاقتوں کے زیر اثر اپنے لیے ماحول سازی میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بعد کو معاملہ تعطل کا شکار رہتا ہے-
[۳] دھرنے بھی وقتی، احتجاج بھی صبح تا شام، اگر ان میں صبر، دوام، استقرار ہوتا، علامہ خاد+م حسین رضوی کی طرح ہم مستقل احتجاج جاری رکھتے تو شاید حکومت جھکنے پر مجبور ہوتی، لیکن لمحاتی احتجاج کا اختتام جھوٹے اعلانات پر ہوتا ہے، تسلی و تشفی کے دوبول پر قوم پھسل جاتی ہے۔
"میلاد مصطفیٰ ﷺ اعادۂ عہد کا دن: الحمدللہ! ہمیں پھر اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کا یومِ ولادت منانے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ وہ مقدس دن جسے ہم یومِ انسانیت، عیدوں کی عید سے تعبیر کرتے ہیں، جس دن ساری انسانیت کو آزادی ملی، کفرو شرک کی موت کا دن ہے میلاد مصطفیٰﷺ۔ جتنے باطل مذاہب و ازم تھے سب پر اوس پڑ گئی؎
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
ہاں!یوم میلادالنبی ﷺ پر عہد کیجیے، اعمالِ صالحہ کی انجام دہی کا، اسلامی تعلیمات پر عمل آوری کا، اپنے دین کی حفاظت کے لیے قربانی و ایثار کیا اور اس دن ان ذمہ داریوں کا احساس بھی کیجیے کہ:
[۱] باطل قوتوں کے مقابل اسلام کی روایت و شعار کی بقا کے لیے ہم ناقابلِ تسخیر قوت بن کر اُبھریں گے۔
[۲] اپنی زندگی کو احکام خداوندی کے مطابق اور رسول کریم ﷺ کے طریقوں پر گزاریں گے۔
[۳] گستاخانِ بارگاہِ رسالت کے عزائم کے مقابل محبت رسول ﷺ کی عظیم قوت سے جہاں میں اُجالا برپا کریں گے۔
[۴] غلامیِ رسول میں ہر دُکھ گوارا کریں گے؛ لیکن ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی کا معاملہ قطعی برداشت نہیں کریں گے۔
[۵] رسول پاک ﷺ کے طریقوں پر زندگی گزاریں گے تا کہ تمام خلافِ اسلام راہوں کی عملی مذمت ہو۔
[۶] شریعت پر عمل کریں گے؛ تا کہ شریعت مصطفیٰ ﷺ کے خلاف قوانین دَم توڑ جائیں۔
[۷] رسول اللہ ﷺ کے مبارک اخلاق کی سمت گامزن ہوں گے تا کہ مخالفین بارگاہِ رسالت کے غیراخلاقی مشن کو سبوتاژ کر سکیں۔
تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی و توہین روز مرّہ کا معمول بن چکی ہے، مقتضائے وقت ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ سے مسلمانوں کو قریب کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی مستشرقین کی جانب سے توہینِ رسالت کی جاتی ہے، کبھی پادریوں اور آریوں کی طرف سے یہی حرکت ہوتی ہے، تو کبھی فن اور آرٹ کے نام پر کارٹونسٹ تشدد بھرا اعلان دیتے ہیں۔ کبھی آزادیِ اظہار کے نام پر جرأت کی جاتی ہے۔ کیا آزادی اِسی کا نام ہے کہ جھوٹی باتیں روشن سیرتوں سے منسوب کی جائیں؟ غلط بیانی؛ منوّر ذات سے متعلق گڑھی جائے؟ کچھ یہی معاملہ برصغیر کا ہے جہاں شاتم و گستاخِ رسول کو بھرپور آزادی ہے۔ آریاؤں کے فتنے، پنڈتوں کے منفی ری مارک، سیاسی بازی گروں کی جسارت، ہند میں فرقہ پرست عناصر کے ذریعے شاتمانہ بیان بازی، دوسری سمت پڑوسی ملک میں تحفظِ ناموسِ رسالتﷺ کے لیے وضع قانون سے مسلسل انحراف؛ ایسے پہلو ہیں کہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کے اندر محبت رسول ﷺ کا جذبہ راسخ نہیں کیا تو کل اِس سے زیادہ حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے اور ایمان کی بربادی کا اندیشہ۔
سیرت سے متعلق ذمہ داری: سیرتِ طیبہ سے نسبت و تعلق کے تقاضوں کی بجا آوری میں کمی بھاری غلطی ہے؛ جس کا خمیازہ نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ نظامِ تعلیم میں بھی دین سے دوری کا بہت کچھ مواد شامل ہے۔ دہریت، لا اَدریت، آزاد روی کی لہر نے دین بیزار فکر رواج دی ہے۔ ایسے میں گھروں میں دینی ماحول کی پرورش، بچوں کی دینی تربیت، سیرت مصطفیٰ ﷺ کا لازمی مطالعہ، سیرت سے متعلق مستند لٹریچرز کا انتخاب، عظمتِ رسالت کے پہلوؤں کا خصوصی مطالعہ تا کہ دل میں محبت و تعظیم رسول ﷺ کا نقش جمے، یوں ہی ایسے معمولات بھی رواج دیے جائیں جن کی بنیاد پر رسول کریم ﷺ سے تعلق میں پختگی آئے۔ تا کہ نسبتوں کی بہاریں خزاں کے جھونکوں سے متاثر نہ ہو سکیں۔
جذبات کی سمت: قوم بڑی جذباتی ہے۔ کبھی شورش کے وقت بیدار ہو کر مناسب کبھی غیر مناسب اقدام کرتی ہے۔ پھر خوابِ غفلت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عقل و عشق رسول میں باہم ربط ضروری ہے۔ مثال سامنے ہے آشوپریہار، پروین توگڑیہ، نرسنگھانند کے خلافِ اسلام بیانات، سیرت مخالف ری مارک سے متعلق وقتی احتجاج درج کروائے گئے۔ نہ ہی ہم نے کوئی ٹھوس اقدام کیا، نہ ہی قانونی معاملات میں سنجیدہ پیش رفت کی، اس بابت کمیاں یہ رہیں:
[۱] قانونی معاملات سے پہلو تہی اِس لیے ہوئی کہ وہ صبر آزما مرحلہ ہے، ہم سے مستقل پیش رفت نہیں ہوتی۔
[۲] بلکہ شاتمین کی توہین پر ملک کے درجنوں مقامات پر درج ایف آئی آر سے متعلق بے اعتنائی رہی۔ اس درمیان شاتمین عالمی صہیونی طاقتوں کے زیر اثر اپنے لیے ماحول سازی میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بعد کو معاملہ تعطل کا شکار رہتا ہے-
[۳] دھرنے بھی وقتی، احتجاج بھی صبح تا شام، اگر ان میں صبر، دوام، استقرار ہوتا، علامہ خاد+م حسین رضوی کی طرح ہم مستقل احتجاج جاری رکھتے تو شاید حکومت جھکنے پر مجبور ہوتی، لیکن لمحاتی احتجاج کا اختتام جھوٹے اعلانات پر ہوتا ہے، تسلی و تشفی کے دوبول پر قوم پھسل جاتی ہے۔
"میلاد مصطفیٰ ﷺ اعادۂ عہد کا دن: الحمدللہ! ہمیں پھر اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کا یومِ ولادت منانے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ وہ مقدس دن جسے ہم یومِ انسانیت، عیدوں کی عید سے تعبیر کرتے ہیں، جس دن ساری انسانیت کو آزادی ملی، کفرو شرک کی موت کا دن ہے میلاد مصطفیٰﷺ۔ جتنے باطل مذاہب و ازم تھے سب پر اوس پڑ گئی؎
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
ہاں!یوم میلادالنبی ﷺ پر عہد کیجیے، اعمالِ صالحہ کی انجام دہی کا، اسلامی تعلیمات پر عمل آوری کا، اپنے دین کی حفاظت کے لیے قربانی و ایثار کیا اور اس دن ان ذمہ داریوں کا احساس بھی کیجیے کہ:
[۱] باطل قوتوں کے مقابل اسلام کی روایت و شعار کی بقا کے لیے ہم ناقابلِ تسخیر قوت بن کر اُبھریں گے۔
[۲] اپنی زندگی کو احکام خداوندی کے مطابق اور رسول کریم ﷺ کے طریقوں پر گزاریں گے۔
[۳] گستاخانِ بارگاہِ رسالت کے عزائم کے مقابل محبت رسول ﷺ کی عظیم قوت سے جہاں میں اُجالا برپا کریں گے۔
[۴] غلامیِ رسول میں ہر دُکھ گوارا کریں گے؛ لیکن ناموسِ رسالت ﷺ میں بے ادبی کا معاملہ قطعی برداشت نہیں کریں گے۔
[۵] رسول پاک ﷺ کے طریقوں پر زندگی گزاریں گے تا کہ تمام خلافِ اسلام راہوں کی عملی مذمت ہو۔
[۶] شریعت پر عمل کریں گے؛ تا کہ شریعت مصطفیٰ ﷺ کے خلاف قوانین دَم توڑ جائیں۔
[۷] رسول اللہ ﷺ کے مبارک اخلاق کی سمت گامزن ہوں گے تا کہ مخالفین بارگاہِ رسالت کے غیراخلاقی مشن کو سبوتاژ کر سکیں۔
[۸]تعظیم مصطفیٰ ﷺ والے معاملات کو فروغ دیں، کہ دُشمنانِ اسلام کی سازش تعظیم نبی سے مسلمانوں کو دور کرنا ہے، مثلاً جب نام محبوب ﷺ آئے تو مکمل بیدار ہو کر ادب کی پوزیشن سنبھال لیں۔ باوضو نام اقدس لیں، جہاں تعظیم نبی ﷺ میں قیام ہو وہاں بھی ادب کو فوقیت دیں، والہانہ نغماتِ سلام کا احترام کریں، جیسے ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے دُنیا دار بھی جب -مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پہ لاکھوں سلام-پڑھا جاتا ہے تو حالتِ ادب میں آجاتے ہیں، اس لیے اعلیٰ حضرت کے سلام و نعت کو اردو طبقے میں ضرور عام کریں تاکہ رسول پاک ﷺ کی نعتوں سے بزم ایماں میں خوش بو پھیل جائے اور وجودِ مومن مہک مہک اُٹھے۔
[۹] معاشرے میں غریبوں کی دل جوئی کی جائے تا کہ میلاد النبی ﷺ کی بہاروں میں غریب بھی سنّت نبوی ﷺ کے تصدق خصوصی برکات سے محروم نہ رہیں اور انھیں یہ احساس رہے کہ میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں ہماری داد رَسی ہوتی ہے۔ جیسے نوری مشن ہر سال مالیگاؤں میں مساکین کی دل جوئی کے لیے راشن کٹ مع کتبِ سیرت تقسیم کرتی ہے۔
[۱۰] بے روزگاروں کو برسرِ روزگار بنایا جائے۔
[۱۱] قوم کی یتیم بچیوں کے مسائل کا تصفیہ کیا جائے۔ تا کہ ان کی عقیدتوں کا قبلہ کوئی منحرف نہ کر سکے اور یتیموں کے ماوا و ملجا کے احسانات انھیں ایمان کی تازگی پہنچائیں۔
[۱۲] بیماروں کی مزاج پُرسی کریں، صاحبِ مال ہوں تو علاج کے مصارف برداشت کریں۔ میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں مریضوں کی عیادت کریں تا کہ مقدس دن کی دل جوئی انھیں بارگاہِ رسالت ﷺ کے احسانات کی یاد دہانی کے لیے مہمیز دے۔
اللہ تعالیٰ! ہمیں مفید و صالح اُمور کی انجام دہی کی توفیق دے۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے فکرِ مغرب و اسیرانِ ہواو ہوس کے مقابل دین پر استقامت دے۔ ہمیں چاہیے کہ فتنۂ ارتداد کے مقابل مذہبی ذمہ داریوں کا احساس کریں تا کہ ارتداد کی لہریں دَم توڑ جائیں اور اسلامی کا حقیقی حسن عملی زندگی سے ظہور پذیر ہو۔ اس جانب بیداری رہی تو فکر خام کی مدھم کرنیں نگاہوں کو خیرہ نہ کر سکیں گی اور سرمۂ حبِ رسول ﷺ نگاہوں کو نور نور بنا دے گا؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4539497002798643&id=100002151654486
[۹] معاشرے میں غریبوں کی دل جوئی کی جائے تا کہ میلاد النبی ﷺ کی بہاروں میں غریب بھی سنّت نبوی ﷺ کے تصدق خصوصی برکات سے محروم نہ رہیں اور انھیں یہ احساس رہے کہ میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں ہماری داد رَسی ہوتی ہے۔ جیسے نوری مشن ہر سال مالیگاؤں میں مساکین کی دل جوئی کے لیے راشن کٹ مع کتبِ سیرت تقسیم کرتی ہے۔
[۱۰] بے روزگاروں کو برسرِ روزگار بنایا جائے۔
[۱۱] قوم کی یتیم بچیوں کے مسائل کا تصفیہ کیا جائے۔ تا کہ ان کی عقیدتوں کا قبلہ کوئی منحرف نہ کر سکے اور یتیموں کے ماوا و ملجا کے احسانات انھیں ایمان کی تازگی پہنچائیں۔
[۱۲] بیماروں کی مزاج پُرسی کریں، صاحبِ مال ہوں تو علاج کے مصارف برداشت کریں۔ میلادالنبی ﷺ کی ساعتوں میں مریضوں کی عیادت کریں تا کہ مقدس دن کی دل جوئی انھیں بارگاہِ رسالت ﷺ کے احسانات کی یاد دہانی کے لیے مہمیز دے۔
اللہ تعالیٰ! ہمیں مفید و صالح اُمور کی انجام دہی کی توفیق دے۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے فکرِ مغرب و اسیرانِ ہواو ہوس کے مقابل دین پر استقامت دے۔ ہمیں چاہیے کہ فتنۂ ارتداد کے مقابل مذہبی ذمہ داریوں کا احساس کریں تا کہ ارتداد کی لہریں دَم توڑ جائیں اور اسلامی کا حقیقی حسن عملی زندگی سے ظہور پذیر ہو۔ اس جانب بیداری رہی تو فکر خام کی مدھم کرنیں نگاہوں کو خیرہ نہ کر سکیں گی اور سرمۂ حبِ رسول ﷺ نگاہوں کو نور نور بنا دے گا؎
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4539497002798643&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی آمد
*دل افروز ساعت کی بہاریں*
"توہینِ رسالت کے مرتکب اہلِ مغرب سے ہوں؛ یا کسی خطے سے؛ ان کے مکر و فریب کے غبار چھٹ جائیں گے...محبوب پاک ﷺ کی عظمتوں کی قندیل طاقِ قلبِ مومن پر فروزاں رہے گی..."
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ اُمید کی کرنیں دَم توڑ رہی تھیں۔ معاشرتی ناہمواریوں نے کھلتی کلیوں کو کمھلا دیا تھا۔ ماؤں کے کلیجے چھلنی تھے۔ درندوں نے اپنی ہی بچیوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر زمیں کی گہرائیوں میں زندہ دفن کر دیا تھا۔ بچیوں کی گھٹی گھٹی چیخوں اور مدھم پڑتی نبضوں نے بھی بے رحمی کے پتھروں کو موم کا جگر عطا نہیں کیا۔ احساسِ انسانیت مر چکا تھا۔ شرک نے عقیدے کی بزم کو ویران کر ڈالا تھا۔ معبودانِ باطلہ کے آگے جبیں کا وقار لُٹ رہا تھا۔ بے حیائی کا ماحول تھا۔ شراب عام تھی۔ طہارت عنقا تھی۔ فکر میلی تھی اورنظر پراگندہ۔ کردار کی چمک ماند تھی۔ افکار پر برسوں کے غبار نے بسیرا کر رکھا تھا۔ انسانی قبا تار تار تھی۔ حیوانی خصلتیں تمغۂ افتخار تھیں- طاقتور ،غریب کی عزت کا سوداگر تھا۔ بازارِ دُنیا میں عصمتیں نیلام تھیں۔ کوئی دُکھی دلوں کا سہارا نہ تھا۔ گھٹی گھٹی فضا تھی۔ کائنات بہار کو ترس رہی تھی۔
یہ نظامِ قدرت ہے؛ اندھیروں کے بعد اُجالوں کا دور آتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار۔ ظلم کے بادل چھٹتے ہیں تو اُجالوں کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں۔ انسانیت کے لیے سب سے مہیب دور کیا آیا کہ رحمت الٰہی جوش پر آئی۔ ایک ایسی صبح نمودار ہوئی؛ جس نے ساری انسانیت کو نہال کر دیا۔ انھیں بھیجا گیا جن کی آمد کا سبھی کو انتظار تھا۔ جن کے لیے بزمِ کائنات سجائی گئی تھی، جس ذات کے لیے کونین کی تخلیق ہوئی تھی۔ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
’’اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔‘‘
(سورۃالبقرہ:آیت نمبر۸۹)
۱۲؍ربیع الاول شریف کی صبح تھی۔ جب انسانیت کا نصیبہ بیدار ہو گیا۔ایسی صبح کبھی نہ آئی، جس کے دامن سے احسان کا سویرا طلوع ہوا۔ زمانہ پُر نور ہوگیا۔ بزم ہستی نکھر گئی۔ جانِ رحمت کے نغمے بلند ہونے لگے۔ فلک کی رفعتوں اور زمیں کی پہنائیوں میں شہرہ ہونے لگا۔ رفعتِ ذکر پاک کا یہ عالم کہ رب کریم شان بیان کررہا ہے، وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ سے مقامِ محبوبیت کی اُن رفعتوں کو باور کرایا جا رہا ہے؛ جہاں عقل خام کی رسائی نہیں۔فکر انسانی رفعتِ ذکر کا ادراک نہیں کرسکتی۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کیا آئے انقلاب آگیا۔ پتھر دل موم ہونے لگے۔ توحید کے نغمے گونجنے لگے۔ خزاں کے بادل چھٹ گئے۔ آلودہ دل مثلِ آئینہ ہوگئے۔اللہ اللہ ؎
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
(رضاؔ بریلوی)
کردار دَمکنے لگے۔ افکار چمکنے لگے۔ اطوار مہکنے لگے۔ مُرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں۔ ٹوٹے دل جُڑنے لگے۔ ڈالیاں جھولنے لگیں۔ کلیاں کھلنے لگیں۔ صبحِ اُمید نمودار ہوگئی۔ شام غم چھَٹ گئی۔ پژمردہ چہرے گلاب ہوگئے۔ ذرے آفتاب ہوگئے۔ قطرے گُہر بن گئے۔انسانیت کو رُسوا کرنے والے، عزتوں کے سفیر بن گئے۔ رہزن، رہبر بن گئے۔ تھمی تھمی ہوائیں مشک بار ہو گئیں۔ خزاں کے نشانات مٹ گئے۔ گلشن ہرے بھرے ہوگئے۔ بلبلیں چہکنے لگیں۔ قمریاں نغمہ سرا ہوگئیں۔ توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ پستیوں میں بسنے والے ہم دوشِ ثریا ہوگئے ؎
اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
خاک کے ذرّوں کو ہمدوشِ ثریا کردیا
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ نور کے باڑے بٹنے لگے۔ پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایسی کامل کہ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔ انبیا کا آنا جانا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری کے لیے تھا۔ وہ آئے تو کائنات کا نکھار بن کر، بزمِ ہستی کی بہار بن کر، کونین کا وقار بن کر، غمگین دلوں کا قرار بن کر، قیامت تک انھیں کا سکہ چلے گا، اولین وآخرین انھیں کے کرم خاص سے حصہ پائیں گے۔ ؎
رُخِ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسراآئینہ
نہ کسی کی بزم خیال میں نہ دوکانِ آئینہ ساز میں
فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزم محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
رضاؔ بریلوی نے اپنے آفاقی سلام میں رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’جانِ رحمت‘‘ اور ’’شمع بزمِ ہدایت‘‘ کہا، لاریب! خوب کہا۔ اس لیے کہ رحمت کی وہ جان ہیں۔ وہ کیا آئے کہ رحمتیں چھا گئیں۔ زحمت کا دور رُخصت ہوا۔ بہار ہی بہار اور رونق ہی رونق۔
*دل افروز ساعت کی بہاریں*
"توہینِ رسالت کے مرتکب اہلِ مغرب سے ہوں؛ یا کسی خطے سے؛ ان کے مکر و فریب کے غبار چھٹ جائیں گے...محبوب پاک ﷺ کی عظمتوں کی قندیل طاقِ قلبِ مومن پر فروزاں رہے گی..."
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ اُمید کی کرنیں دَم توڑ رہی تھیں۔ معاشرتی ناہمواریوں نے کھلتی کلیوں کو کمھلا دیا تھا۔ ماؤں کے کلیجے چھلنی تھے۔ درندوں نے اپنی ہی بچیوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر زمیں کی گہرائیوں میں زندہ دفن کر دیا تھا۔ بچیوں کی گھٹی گھٹی چیخوں اور مدھم پڑتی نبضوں نے بھی بے رحمی کے پتھروں کو موم کا جگر عطا نہیں کیا۔ احساسِ انسانیت مر چکا تھا۔ شرک نے عقیدے کی بزم کو ویران کر ڈالا تھا۔ معبودانِ باطلہ کے آگے جبیں کا وقار لُٹ رہا تھا۔ بے حیائی کا ماحول تھا۔ شراب عام تھی۔ طہارت عنقا تھی۔ فکر میلی تھی اورنظر پراگندہ۔ کردار کی چمک ماند تھی۔ افکار پر برسوں کے غبار نے بسیرا کر رکھا تھا۔ انسانی قبا تار تار تھی۔ حیوانی خصلتیں تمغۂ افتخار تھیں- طاقتور ،غریب کی عزت کا سوداگر تھا۔ بازارِ دُنیا میں عصمتیں نیلام تھیں۔ کوئی دُکھی دلوں کا سہارا نہ تھا۔ گھٹی گھٹی فضا تھی۔ کائنات بہار کو ترس رہی تھی۔
یہ نظامِ قدرت ہے؛ اندھیروں کے بعد اُجالوں کا دور آتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار۔ ظلم کے بادل چھٹتے ہیں تو اُجالوں کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں۔ انسانیت کے لیے سب سے مہیب دور کیا آیا کہ رحمت الٰہی جوش پر آئی۔ ایک ایسی صبح نمودار ہوئی؛ جس نے ساری انسانیت کو نہال کر دیا۔ انھیں بھیجا گیا جن کی آمد کا سبھی کو انتظار تھا۔ جن کے لیے بزمِ کائنات سجائی گئی تھی، جس ذات کے لیے کونین کی تخلیق ہوئی تھی۔ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
’’اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔‘‘
(سورۃالبقرہ:آیت نمبر۸۹)
۱۲؍ربیع الاول شریف کی صبح تھی۔ جب انسانیت کا نصیبہ بیدار ہو گیا۔ایسی صبح کبھی نہ آئی، جس کے دامن سے احسان کا سویرا طلوع ہوا۔ زمانہ پُر نور ہوگیا۔ بزم ہستی نکھر گئی۔ جانِ رحمت کے نغمے بلند ہونے لگے۔ فلک کی رفعتوں اور زمیں کی پہنائیوں میں شہرہ ہونے لگا۔ رفعتِ ذکر پاک کا یہ عالم کہ رب کریم شان بیان کررہا ہے، وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ سے مقامِ محبوبیت کی اُن رفعتوں کو باور کرایا جا رہا ہے؛ جہاں عقل خام کی رسائی نہیں۔فکر انسانی رفعتِ ذکر کا ادراک نہیں کرسکتی۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کیا آئے انقلاب آگیا۔ پتھر دل موم ہونے لگے۔ توحید کے نغمے گونجنے لگے۔ خزاں کے بادل چھٹ گئے۔ آلودہ دل مثلِ آئینہ ہوگئے۔اللہ اللہ ؎
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
(رضاؔ بریلوی)
کردار دَمکنے لگے۔ افکار چمکنے لگے۔ اطوار مہکنے لگے۔ مُرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں۔ ٹوٹے دل جُڑنے لگے۔ ڈالیاں جھولنے لگیں۔ کلیاں کھلنے لگیں۔ صبحِ اُمید نمودار ہوگئی۔ شام غم چھَٹ گئی۔ پژمردہ چہرے گلاب ہوگئے۔ ذرے آفتاب ہوگئے۔ قطرے گُہر بن گئے۔انسانیت کو رُسوا کرنے والے، عزتوں کے سفیر بن گئے۔ رہزن، رہبر بن گئے۔ تھمی تھمی ہوائیں مشک بار ہو گئیں۔ خزاں کے نشانات مٹ گئے۔ گلشن ہرے بھرے ہوگئے۔ بلبلیں چہکنے لگیں۔ قمریاں نغمہ سرا ہوگئیں۔ توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ پستیوں میں بسنے والے ہم دوشِ ثریا ہوگئے ؎
اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
خاک کے ذرّوں کو ہمدوشِ ثریا کردیا
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ نور کے باڑے بٹنے لگے۔ پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایسی کامل کہ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔ انبیا کا آنا جانا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری کے لیے تھا۔ وہ آئے تو کائنات کا نکھار بن کر، بزمِ ہستی کی بہار بن کر، کونین کا وقار بن کر، غمگین دلوں کا قرار بن کر، قیامت تک انھیں کا سکہ چلے گا، اولین وآخرین انھیں کے کرم خاص سے حصہ پائیں گے۔ ؎
رُخِ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسراآئینہ
نہ کسی کی بزم خیال میں نہ دوکانِ آئینہ ساز میں
فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزم محشر کا
کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
رضاؔ بریلوی نے اپنے آفاقی سلام میں رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’جانِ رحمت‘‘ اور ’’شمع بزمِ ہدایت‘‘ کہا، لاریب! خوب کہا۔ اس لیے کہ رحمت کی وہ جان ہیں۔ وہ کیا آئے کہ رحمتیں چھا گئیں۔ زحمت کا دور رُخصت ہوا۔ بہار ہی بہار اور رونق ہی رونق۔
بزم ہدایت کی آخری شمع ہیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم۔ خاتم الانبیا کے نور سے اولین وآخرین روشن ہو رہے ہیں۔ بزمِ محشر انھیں کے نورِ اقدس سے منور ہوگی۔ کونین میں بہاریں انھیں کے وجودِ اقدس کا صدقہ ہیں۔ ان بہاروں سے جَلنے والے جلتے رہیں؛ عظمتوں کا نغمہ بلند ہوتا رہے گا- توہینِ رسالت کے مرتکب اہلِ مغرب سے ہوں؛ یا کسی خطے سے؛ ان کے مکر و فریب کے غبار چھٹ جائیں گے- ذکرِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دل و نگاہ جگمگائیں گے؛ محبوب پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظمتوں کی قندیل طاقِ قلبِ مومن پر فروزاں رہے گی- ہر صبح ان کے رفعتِ شان کا نیا نظارہ ایماں کو تازگی بخشے گا-
***
٢٨ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4539542546127422&id=100002151654486
***
٢٨ اکتوبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4539542546127422&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM