Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔴 :اکابر دیو 👹 بند کے نزدیک یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو 🎆 جشن 🎆 منانا !
◀️: اکثر کچھ جاہل دیو 👹 باندی یہ اعتراض کرتے آ رہے ہیں کہ 12 ربیع الاول کو خوشی منانا، اسے ہر سال بطورِ یادگار منانا، اسی دن کو " جشن" منانا اور اسے بطور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم منانا کہاں سے ثابت ہے حالانکہ 12 تو یوم وفات ہے کیا تم لوگ یوم وفات کو وفات جشن منا رہے ہو؟
🔴🎆◀️ایسے جاہلانہ اعتراض کرنے والوں کو ان کے گھر سے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی کی ایک تقریر سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے❗
🔴◀️: آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی نے یوم میلاد سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے موقع پر کہا .
🎆◀️" آج کا دن بھی ایک تاریخی جشن مسرت اور دنیائے انسانی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے لیکن ایسی ایسی یادگار جو اپنی آن اور شان میں دوسری یادگاروں سے نرالی اور انوکھی ہے "
دیکھئے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جشن اور مسرت کا دن مانتے ہوئے اسی جشن و مسرت کو بطورِ یادگار مناتے ہیں جیسا کہ خود اقرار کرتے ہوئے بول اٹھے!
🎆◀️" آج ہم اس برگزیدہ ہستی یعنی رسول خدا سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی یادگار منا رہے ہیں."
جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی بھی یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خوشی کا جشن بطورِ یادگار مناتے رہے.
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں.
🔴: کیا سیوہاروی دیوبندی یوم وفات کو وفات کی خوشی اور جشن مناتے رہے ؟
🔴:کیا وہ وفات کی یادگار مناتے رہے ؟
🔴: کیا وہ بدعت کا ارتکاب کرتے رہے ؟
یہاں اور بھی کئی سوالات قائم ہوتے ہیں پر آج کیلئے یہی بہت ہیں‼️
✍️: ابوالھمّام فاروقی رضوی
6 ربیع الاول شریف 1443ھ
14_اکتوبر_2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=207951568076080&id=100065837134006
◀️: اکثر کچھ جاہل دیو 👹 باندی یہ اعتراض کرتے آ رہے ہیں کہ 12 ربیع الاول کو خوشی منانا، اسے ہر سال بطورِ یادگار منانا، اسی دن کو " جشن" منانا اور اسے بطور یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم منانا کہاں سے ثابت ہے حالانکہ 12 تو یوم وفات ہے کیا تم لوگ یوم وفات کو وفات جشن منا رہے ہو؟
🔴🎆◀️ایسے جاہلانہ اعتراض کرنے والوں کو ان کے گھر سے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی کی ایک تقریر سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے❗
🔴◀️: آل انڈیا ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی نے یوم میلاد سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے موقع پر کہا .
🎆◀️" آج کا دن بھی ایک تاریخی جشن مسرت اور دنیائے انسانی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے لیکن ایسی ایسی یادگار جو اپنی آن اور شان میں دوسری یادگاروں سے نرالی اور انوکھی ہے "
دیکھئے یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جشن اور مسرت کا دن مانتے ہوئے اسی جشن و مسرت کو بطورِ یادگار مناتے ہیں جیسا کہ خود اقرار کرتے ہوئے بول اٹھے!
🎆◀️" آج ہم اس برگزیدہ ہستی یعنی رسول خدا سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی یادگار منا رہے ہیں."
جناب حفظ الرحمٰن سیوہاروی دیوبندی بھی یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خوشی کا جشن بطورِ یادگار مناتے رہے.
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے والے پہلے اپنے گھر کی خبر لیں.
🔴: کیا سیوہاروی دیوبندی یوم وفات کو وفات کی خوشی اور جشن مناتے رہے ؟
🔴:کیا وہ وفات کی یادگار مناتے رہے ؟
🔴: کیا وہ بدعت کا ارتکاب کرتے رہے ؟
یہاں اور بھی کئی سوالات قائم ہوتے ہیں پر آج کیلئے یہی بہت ہیں‼️
✍️: ابوالھمّام فاروقی رضوی
6 ربیع الاول شریف 1443ھ
14_اکتوبر_2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=207951568076080&id=100065837134006
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رفعتِ ذکر رسول ﷺ کا دل آویز اسلوب
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کے پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیمان کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیان…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
*’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘*
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
ذکر رسول ﷺ بلند ہو رہا ہے… ہر لمحہ ہر آن… عظیم رب نے اپنے محبوب ﷺ کو عظمتیں دیں…محبوب ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا… محبوب ﷺ کو آخر میں بھیجنا تھا؛ لیکن بھیجے جانے کا ذکر پہلے سے ہی ہوتا رہا… انبیاے کرام علیہم السلام ذکرِ محبوبﷺ کی محفلیں سجاتے رہے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام میلادِ مصطفیٰﷺ کا چرچا کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
’’ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔‘‘ (سورۃ الصف: ۶)
قرآن مقدس میں محبوب پاک ﷺ کی اداؤں کا ذکر ہے…بے مثالی و بے نظیری کا ذکر ہے…جود و سخا اور شانِ کریمی کا ذکر ہے…حسنِ پاک کا ذکر ہے…ادب و احترام کے پہلو بھی ہیں…بارگاہِ ناز کی تعظیم و تکریم بھی سکھائی گئی…اللہ تعالیٰ نے محبوب پاک ﷺ سے متعلق انبیاے کرام علیہم السلام سے عہد لیا…میلادِ پاک کے بیاں اور مقدس عہد و پیمان کا قرآنی انداز دیکھیے…اور محبوب پاک ﷺ سے وفاداری کا عہد کیجیے:
’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔‘‘ (سورۃ آل عمران:۸۱)
قرآن مقدس نے نور پاک کا ذکر کیا…ساتھ ہی آمد آمد کا تاباں بیان…محبوب پاک کی شان کے ساتھ ہی ولادت، تشریف آوری اور بھیجے جانے کا ذکر بھی فرمایا:
’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا۔‘‘ (سورۃ المآئدہ: ۱۵)
سبحان اللہ! محبوب پاک خوش خبری دیتے ہیں…حاضر و ناظر ہیں…شاہد و مبشر ہیں…چمکتے آفتاب…دمکتے ماہتاب…جن سے جہان روشن ہوا…جن سے ایمان ملا…اللہ کی معرفت اور رضاے الٰہی کا حصول ہوا…سُنیے سُنیے کیسی دل پذیر اور ایمان افروز صدا آرہی ہے:
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۴۶۔۴۵)
سارے جہان والوں کے لیے محبوب ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا…جہاں رحمت ہوگی وہاں برکتوں کا نزول ہوگا… ایمان کی بہاریں ہوں گی…اسی لیے ذکر پاک ﷺ کی محافل سجانا اسلاف کا طریقہ رہا ہے…میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقصد ذکر پاک کی ترغیب بھی ہے…رسول اللہﷺ کے بھیجے جانے کا بیاں بھی…قرآن مقدس کا کیسا پیارا انداز ہے رفعتِ ذکر کا…
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)
٭…’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا۔‘‘(سورۃ الفرقان:۵۶)
٭…’’بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔ ‘‘(سورۃ التوبۃ:۲۸)
اس مبارک ارشاد کے پس منظر مجھے اعلیٰ حضرت کا ایک فکر انگیز اقتباس یاد آرہا ہے…جسے یہاں اِس امید پر درج کر رہا ہوں…کہ دل کے کان سے سُنا جائے گا…عمل کے گام پر آویزاں کیا جائے گا…تفکر کی بزم میں پڑھا جائے گا:
’’محبوب بھی کیسا! جانِ ایمان و کانِ احسان، جس کے جمالِ جہاں آرا کی نظیر کہیں نہ ملے گی؛ اور خامۂ قدرت نے اس کی تصویربنا کر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسانہ ملے گا۔ کیسا محبوب! جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لیے رحمت بھیجا۔ کیسا محبوب! جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اُٹھا لیا۔ کیسا محبوب! جس نے تمھارے غم میں دن کا کھانا، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اور لہو و لعب میں مشغول ہو اور وہ تمھاری بخشش کے لیے شب و روز گریاں و ملول۔‘‘ (قمرالتمام،ص۴،طبع نوری مشن مالیگاؤں)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم فضل بھی ہیں…رحمت و نعمت بھی…بلکہ جانِ نعمت، جانِ رحمت… نعمتوں کے شکر بجا لانے والوں کے دلوں کا نغمہ ہے…’’مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘…نعمتوں کے ملنے پر خوشی منائی جاتی ہے…شرعی طریقے پر خوشی منانا قرآنی مقصود بھی ہے…اور دینی تقاضا بھی:
’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔‘‘(سورۃ یونس:۵۸)
ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں…نعمتوں کے حصول پر اظہارِ تشکر بجا لائیں…وہ قوم زندہ رہتی ہے جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے…نعمت و رحمت کے ملنے پر خوشی منانا دینِ فطرت سے وابستگی کا اظہار ہے…اسی لیے ہمیں حکم دیا گیا کہ:
’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔‘‘(سورۃ الضحیٰ: ۱۱)
چرچا کرنے والے مقبول ہو جاتے ہیں…بارگاہِ الٰہی میں ان کے دل کی آواز بھی مقبول…ان کی آخرت بھی روشن اور دنیا بھی ایمان کے نور سے معمور…آپ بھی ذکر محبوب ﷺ میں وارفتہ ہو جائیے…زباں پُکار اُٹھے گی…عقیدہ و عقیدت کی معراج ہوگی…لب وا ہوں گے…بقول اعلیٰ حضرت؎
انھیں جانا، انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4528799783868365&id=100002151654486
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
٭ ٭ ٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4528799783868365&id=100002151654486
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خصائص فتاوی رضویہ کا تیسرا اڈیشن اب پاکستان سےاشاعت پزیر
الحمدللہ ناچیز کی تازہ ترین تصنیف "خصائص فتاویٰ رضویہ "کا تیسرا اڈیشن نہایت دیدہ زیب اور اعلی قسم کی طباعت کے ساتھ اکبر بک سیلز لاہور پاکستان سے اشاعت پزیر ہوکر اب پاکستانی قارئین کی مطالعاتی میز پر ہےایک مہینہ کے اندر اب تک اس کے تین اڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
میں اس کے لۓ اپنے ان تمام احباب کا صمیم قلب کے ساتھ شکر گزار ہوں جنہوں نے میری اس تصنیف پر قلبی دعاؤں سے نوازا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اس تیسرے اڈیشن پر میں بالخصوص مصنف کتب کثیرہ جناب میثم رضوی قادری پاکستان کا ممنون و مشکور ہوں کہ موصوف نے براہ راست مجھ سے رابطہ کرکے پاکستان سے اس کتاب کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی اور ان ہی کی سعی جمیل سے اس کا تیسرا اڈیشن چھپ کر پاکستان میں بھی منظر عام پر آیا نیز میں اکبر بک سیلر کا بھی شکر گزار ہوں کہ خطیر رقم لگاکر اس کتاب کو دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ محرک و ناشر اور میرے دعا گو تمام احباب کو جزاۓ خیر عطا فرمائے _(آمین ثم آمین)
. . . . . . . . . . . . . بندۀ عاصی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
خادم افتاواستادحدیث و فقہ
ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی
متوطن!
دولالی گرام، قصبہ رام گنج ،اسلام پور ،اتر دیناج پور مغربی بنگال
9580720418
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997219737273040&id=100009551292329
الحمدللہ ناچیز کی تازہ ترین تصنیف "خصائص فتاویٰ رضویہ "کا تیسرا اڈیشن نہایت دیدہ زیب اور اعلی قسم کی طباعت کے ساتھ اکبر بک سیلز لاہور پاکستان سے اشاعت پزیر ہوکر اب پاکستانی قارئین کی مطالعاتی میز پر ہےایک مہینہ کے اندر اب تک اس کے تین اڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
میں اس کے لۓ اپنے ان تمام احباب کا صمیم قلب کے ساتھ شکر گزار ہوں جنہوں نے میری اس تصنیف پر قلبی دعاؤں سے نوازا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اس تیسرے اڈیشن پر میں بالخصوص مصنف کتب کثیرہ جناب میثم رضوی قادری پاکستان کا ممنون و مشکور ہوں کہ موصوف نے براہ راست مجھ سے رابطہ کرکے پاکستان سے اس کتاب کی اشاعت کی خواہش ظاہر کی اور ان ہی کی سعی جمیل سے اس کا تیسرا اڈیشن چھپ کر پاکستان میں بھی منظر عام پر آیا نیز میں اکبر بک سیلر کا بھی شکر گزار ہوں کہ خطیر رقم لگاکر اس کتاب کو دیدہ زیب انداز میں شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ محرک و ناشر اور میرے دعا گو تمام احباب کو جزاۓ خیر عطا فرمائے _(آمین ثم آمین)
. . . . . . . . . . . . . بندۀ عاصی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
خادم افتاواستادحدیث و فقہ
ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی
متوطن!
دولالی گرام، قصبہ رام گنج ،اسلام پور ،اتر دیناج پور مغربی بنگال
9580720418
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2997219737273040&id=100009551292329
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM