🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 71
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عید میلاد النبی ﷺ اور اشرف علی
عید میلاد اور صدیق خاں بھوپالی
محفل میلاد ابن تیمیہ کی نظر میں
تعارف حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
محفل مولود اور حاجی امداداللہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
حاجی امداد اللہ کا محفل مولود
عید میلاد النبی ﷺ پر چراغاں
عید میلاد النبی ﷺ اور جھنڈا
عورتوں کا بلند آواز سے میلاد
حمد و نعت ذکر و اذکار مزامیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سید علی احمد۔
*لقب:* علاء الدین صابر، بانیِ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالسلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)

آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰه علیہ کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلہ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی ﷲ عنہ تک منتہی ہوتاہے۔
(تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم:207)

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19/ربیع الاول 592ھ مطابق 22/فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ہرات‘‘ (افغانستان) میں ہوئی۔آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی۔

*بشارت قبل از ولادت:* آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’علی‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ نبیِّ مُکرَّمﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’احمد‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والد گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’یہ بچہ علاءالدین کہلائے گا‘‘۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کو ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو’’علاء الدین علی احمد صابر‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی۔
آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’لا موجود الا اللہ‘‘ تھا۔
(تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)

*تحصیلِ علم:* بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے۔ آپ انتہائی ذہین و فطین، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہوگیا۔
تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آگئی۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرما لی۔
حضرت شیخ العالم رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔ یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کر لئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
(مخدوم علاء الدین احمد صابر:48)

*بیعت و خلافت:* آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم، زُہدالانبیاء، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔

*خلافت کی عظیم الشان محفل:* حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ ماہِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرما ہیں، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔ آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری رحمۃ اللّٰه علیہ کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔ آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر رحمۃ اللّٰه علیہ کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نے آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘ پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔
اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه نے اپنا خؤاب بیان فرمایا، جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کو بوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شیخ علی احمد صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطا فرما کر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی، اور پھر علا
قہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔
(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)

*سیرت و خصائص:* پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم و معرفت، وارثِ علوم و معارفِ شیخ العالم، جگر گوشۂ غوث الاعظم، آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء، منبعِ جود و سخا، عاشقِ ذاتِ الٰہ، حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے، اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔
حضرت غوث الاعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے نسبی تعلق ہے۔ آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کے پہلے سال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھے اور دوسرے دن دودھ نہیں پیتے تھے، گویا اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب زندگی کا دوسرا سال شروع ہوا تو تیسرے دن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتے تھے گویا دو دن روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ دو سال کے ہوگئے تو دودھ پینا چھوڑ دیا، جب چوتھا سال شروع ہوا اور آپ کی زبان کھلی تو سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔
جب چھ سال کے ہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔ رات کا زیادہ حصہ عبادت میں گزارنے لگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نے نمازِ تہجد پابندی سے پڑھنا شروع کر دی۔
(تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)

*صابر کی وجہ تسمیہ:* سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ (باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین رحمۃ اللّٰه علیہ نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا۔
(خزینۃ الاصفیاء: 153)

شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں:
’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی، وعلمِ دل من ذاتِ شیخ علاء الدین احمد سرایت کردہ‘‘۔
یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے، اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔
(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:67/ خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)

شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔ جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی، تواضع و انکساری، اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔ تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا:
نظام الدین محبوبِ الہ ہیں، اور علاء الدین عاشقِ الہ ہیں۔
(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)

آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔ نہ آپ نے کسی سے اپنا تعارف کرایا، اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جما لیا۔ آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔ قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔ لباس میں کرتہ، تہبند، اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جو زیبِ گلو رہتا تھا۔ آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔ باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ ان کی روحانیت و حسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بہت کم گفتگو فرماتے۔ اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔ لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔ جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے:
’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔
اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔
بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔ آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔ بڑے اکابرین اولیاء و علماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔

اکثر تذکرہ نگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی، تو اس میں رطب و یابس جمع ہوگیا۔ انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی، وغیرہ۔
لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه کے لنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو، اور جس کے حسنِ اخلاق، اور صبر و قناعت، توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء
کیا گیا ہو۔ وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کر سکتا ہے۔

*تاریخِ وصال:* 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔ آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارنپور (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ سیر الاقطاب۔ خزینۃ الاصفیاء۔ اقتباس الانوار۔ تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔


*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت سیدنا صابر پاک
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید محمد بختیار۔
*لقب:* قطب الدین، کاکی۔
*مکمل نام:* سید محمد قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین)
*(سیر الاقطاب:168/ اقتباس الانوار:392/ خزینۃ الاصفیاء:77)*

*کاکی کی وجہ تسمیہ:* اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتےہیں: کاک ’’کُلچے‘‘ کو کہتے ہیں۔
حضرت کو ایک مرتبہ چند(دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہوگئے۔
*(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت: 482)*

اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دن کے فاقے بھی ہو چکے تھے۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مرجاؤ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوں گی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کردی۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو۔
*(سیرالاقطاب:174)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’اوش‘‘ وادیِ ’’فرغانہ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی۔
*(تذکرہ اولیائے برصغیر: 48/انسائیکلو پیڈیا)*

*ولادت سے قبل بشارت:*
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہوگیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہوگیا۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے۔
پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی۔
*(اقتباس الانوار: 392/سیر الاقطاب169)*

*تحصیلِ علم:* ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہوگیا۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے۔
یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سائے میں کی جائے۔جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابوحفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آگئے۔ ان سے فرمایا: ’’احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے۔استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں‘‘۔
*(اقتباس الانوار:394)*

سبع سنابل اور سیرالاقطاب میں ہے: کہ جب استاذ ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں۔ استاذ نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کرلئے ہیں۔
*(سیرالاقطاب:169)*
آپ تمام علوم ِ مروجہ کے عالم ِکامل تھے۔

*بیعت و خلافت:* آپ علوم ِ ظاہری کی تحصیل کے بعد سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سترہ سال کی عمر میں خلافت س
ے مشرف ہوئے۔ آپ کے تذکرے میں ہے کہ سرورِ عالمﷺ نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ کو حکم فرمایا تھا کہ قطب الدین خدا کا دوست ہے، اس کو خرقہ پہناؤ۔
*(شمس العارفین نمبر:36)*

*سیرت و خصائص:* دلیل العارفین، سراج الکاملین، بدر الواصلین، قائد المحبین، قطب آسمانِ ولایت، غیاث الہند، نائبِ سلطان الہند، قطب الاقطاب، شیخ الاسلام حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل، اور خاندانِ رسالت کے چشم و چراغ تھے۔ حضرت خواجہ غریبِ نواز کے خلیفۂ اعظم تھے۔ ہرشب سو رکعت کے علاوہ تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتےتھے۔ تین دن خانگی مجبوری کی وجہ سے یہ تحفہ ارسال نہ کرسکے تو دربارِ مصطفیٰﷺ سے پیغام آیا کہ تمھارا ہدیہ تین راتوں سے نہیں پہنچا۔
*(سیر العارفین: 24)*

*خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ سے خرقۂ خلافت کا حصول:* ایک دن تمام مریدین مجلس میں جمع تھے۔ سوال و جواب کا سلسلہ جاری تھا۔

حضرت خواجہ غریب نواز فرمانے لگے:
عارف کی مثال چمکنے والے آفتاب کی طرح ہے جس کے نور سے پوری دنیا روشن ہے۔ پھر فرمایاکہ اے درویشو! ہمیں یہاں (ہندوستان) بھیجا گیا ہے۔ ہماری قبر بھی یہیں ہوگی اور چند روز کے اندر ہم سفر آخرت کریں گے۔ اس کے بعد شیخ علی سنجری سے فرمایا کہ ایک تحریر لکھو کہ قطب الدین دہلی روانہ ہوجائے۔ ہم نے خلافت و سجادہ قطب الدین کو دےدی اور ان کا مقام دہلی ہوگا۔ جب حکم نامہ مکمل ہوگیا تو اس فقیر (خواجہ قطب الدین) کو عنایت فرمایا۔ اس فقیر نے سرِ تسلیم جھکا دیا۔پھر فرمایا۔ ذرا قریب آجاؤ، میں قریب ہوا تو دستار و کلاہ میرے سر پر رکھ کر خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللّٰه علیہ کا عصا عطا فرمایا، اور خرقہ پہنا کر قرآنِ کریم، جائے نماز اور نعلین عطا فرمائے اور فرمایا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی یہ امانت مشائخِ چشت کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے تم بھی اسے جاری رکھنا تاکہ قیامت کے دن مشائخ کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ اس فقیر نے سر جھکا دیا۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد حضرت مرشد نے میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کرکے فرمایا۔ اب جاؤ تمہیں اللہ کے سپرد کیا ،اور اللہ تعالیٰ تمہیں منزل پر پہنچائے۔ پھر فرمایا کہ چار چیزیں نفس کا جوہر ہیں، اول درویشی میں تونگری کرنا، دُوم بھوک میں سیر نظر آنا، سوم غم میں مسرور معلوم ہونا، چہارُم دشمن سے بھی دوستی کا معاملہ کرنا، پھر فرمایا جہاں بھی جاؤ کسی کا دل نہ دُکھانا، اور جہاں بھی جاؤ مَردوں کی طرح رہنا۔
*(اخبار الاخیار: 75)*

*دہلی میں ورودِ مسعود:*
حضرت محبوب الہی رحمۃ اللّٰه علیہ سے منقول ہے کہ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے دہلی میں سکونت کرلی تو وہاں کے تمام اکابر، امراء و رؤساء اور عوام آپ کی نیک صورت اور نیک سیرت پر شیدا ہوگئے۔ ایک دن حضرت اقدس نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غریب نواز کی خدمت میں خط لکھا اگر اجازت ہو تو حاضر ہوکر شرفِ قدم بوسی حاصل کروں۔ حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ نے جواب میں لکھا المرءُ مع من اَحَبّ (آدمی اسکے ساتھ ہوتا ہے جس سے اُسے محبت ہو) یعنی روحانی طور پر میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ بعد میں خود دہلی آؤں گا۔ یہ جواب سن کر آپ نے اجمیر شریف جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

*بادشاہ کی طرف سے منصبِ شیخ الاسلام کی پیشکش:* قیامِ دہلی کے کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز شیخ جمال الدین محمد بسطامی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا۔
چنانچہ سلطان شمس الدین التمش نے حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ منصبِ شیخ الاسلام قبول فرمالیں۔ لیکن آپ نے اس کی طرف ذرہ بھر بھی توجہ نہ فرمائی۔ آپ کے انکار کے بعد بادشاہ نے شیخ نجم الدین صغراء کو شیخ الاسلام مقرر کر دیا۔ پھر بتقاضائے بشریت شیخ نجم الدین میں معاصرت کی منافرت پیدا ہوگئی۔ جب شیخ نے حضرت خواجہ غریب نواز سے یہ شکایت کی کہ قطب الاقطاب کے مقابلے میں میری’’ شیخ الاسلامی‘‘ کو کوئی نہیں پوچھتا۔ خواجہ صاحب نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ فکر مت ہو۔ میں اس مرتبہ قطب الدین کو اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ چند ایام کے بعد جب حضرت خواجہ غریب نواز دہلی سے اجمیر تشریف لے جانے لگے تو حضرت قطب الاقطاب کو بھی ساتھ لے جانے لگے۔ یہ دیکھ کر خَلقِ خدا میں شور برپا ہوگیا اور تمام خاص و عام بمع سلطان شمس الدین روتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ حضرت خواجہ قطب الدین جس جگہ قدم رکھتے تھے لوگ وہاں کی خاک اٹھا کر منہ پر ملتے تھے۔ جب حضرت خواجہ غریب نواز نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا بابا قطب الدین تم اسی جگہ پر رہ جاؤ۔ تمہارے چلے جانے سے خَلق خدا پریشان اور بے حال ہے۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تمہاری جدائی میں اتنے دل جل کر کباب ہوجائیں۔ جاؤ۔ میں نے اس شہر کو ’’تمہاری پناہ میں دے دیا‘‘۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰه علیہ کا یہ ارشاد آج تک اپنی عظمت منوا رہا ہے۔ حکومتیں بدلیں، سرحدیں تبدیل ہوئیں،
لوگ بٹ گئے، لیکن یہ محبت و عقیدت آج بھی جولانی پر ہے۔

*قطب الاقطاب کی وہابیوں سے نفرت:* سیف اللہ المسلول حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میں قطب العالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ کے مزار مبارک میں مراقبہ کر رہا تھا۔ حالتِ مراقبہ میں دیکھا کہ حضور خواجہ صاحب رونق افروز ہیں اور دونوں دستِ مبارک میں اس قدر کتب کا انبار ہے کہ آسمان کی طرف حدِ نظر تک کتاب پر کتاب نظر آتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر تکلیف حضور نے کس لیے گوارا فرمائی ہے؟ ارشاد مبارک ہواکہ تم یہ بار اپنے ذمے لے کر ’’شیاطینِ وہابیہ‘‘ کا قلع قمع کردو۔ آپ نے مراقبہ سے سر اٹھایا اور اسی ہفتہ میں کتابِ مستطاب ’’بوارقِ محمدیہ‘‘ تالیف فرمائی‘‘۔
*( نور نور چہرے: 203)*

*تاریخِ وصال:* بروز پیر 14/ربیع الاول 635ھ مطابق30 نومبر 1237ء کو واصل باللہ ہوئے۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔

*نماز جنازہ کی وصیت:* سیر الاقطاب میں ہے کہ جب جنازہ تیار ہوگیا تو خواجہ ابوسعید نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ حضرت خواجہ قطب الاقطاب نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس نے ساری عمر اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھا ہو، بلوغت سے لے کر آج تک عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں، فرائض نماز کی تکبیر اولیٰ سے محروم نہ ہوا ہو، یہ اعلان سنتے ہی تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، آخر حضرت سلطان شمس الدین التمش آگے بڑھے اور فرمایا میں چاہتا تھا کہ میرا یہ راز کسی پر فاش نہ ہو۔ مگر آج میرے پیر و مرشد کی وصیت نے مجھے آشکارا کر دیا۔
*(سیر الاقطاب:183)*


*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*