🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 70
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میلاد میں کھڑے ہونا | ع مد القی
عید میلاد اور شاہ عبد الرحیم
شاہ عبد الرحیم کا بارگاہِ اقدس
شب ولادت خوشی منانا | تعظیم
ذکر ولادت مکان سجانا | جلیس
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
عید میلاد اور امام شمس الدین
میلاد مصطفیٰ منانےوالےکوثواب
محفل میلاد بدعت حسنہ ثواب
موصل کے صالحین بھی منعقد
میلاد پر خرچ کرو آگ سے محفوظ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 71
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عید میلاد النبی ﷺ اور اشرف علی
عید میلاد اور صدیق خاں بھوپالی
محفل میلاد ابن تیمیہ کی نظر میں
تعارف حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
محفل مولود اور حاجی امداداللہ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
حاجی امداد اللہ کا محفل مولود
عید میلاد النبی ﷺ پر چراغاں
عید میلاد النبی ﷺ اور جھنڈا
عورتوں کا بلند آواز سے میلاد
حمد و نعت ذکر و اذکار مزامیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سید علی احمد۔
*لقب:* علاء الدین صابر، بانیِ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالسلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)

آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰه علیہ کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلہ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی ﷲ عنہ تک منتہی ہوتاہے۔
(تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم:207)

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19/ربیع الاول 592ھ مطابق 22/فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ہرات‘‘ (افغانستان) میں ہوئی۔آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی۔

*بشارت قبل از ولادت:* آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’علی‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ نبیِّ مُکرَّمﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’احمد‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والد گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’یہ بچہ علاءالدین کہلائے گا‘‘۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کو ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو’’علاء الدین علی احمد صابر‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی۔
آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’لا موجود الا اللہ‘‘ تھا۔
(تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)

*تحصیلِ علم:* بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے۔ آپ انتہائی ذہین و فطین، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہوگیا۔
تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آگئی۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرما لی۔
حضرت شیخ العالم رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔ یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کر لئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
(مخدوم علاء الدین احمد صابر:48)

*بیعت و خلافت:* آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم، زُہدالانبیاء، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔

*خلافت کی عظیم الشان محفل:* حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ ماہِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرما ہیں، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔ آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری رحمۃ اللّٰه علیہ کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔ آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر رحمۃ اللّٰه علیہ کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نے آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘ پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔
اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه نے اپنا خؤاب بیان فرمایا، جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کو بوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شیخ علی احمد صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطا فرما کر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی، اور پھر علا
قہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔
(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)

*سیرت و خصائص:* پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم و معرفت، وارثِ علوم و معارفِ شیخ العالم، جگر گوشۂ غوث الاعظم، آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء، منبعِ جود و سخا، عاشقِ ذاتِ الٰہ، حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے، اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔
حضرت غوث الاعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے نسبی تعلق ہے۔ آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کے پہلے سال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھے اور دوسرے دن دودھ نہیں پیتے تھے، گویا اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب زندگی کا دوسرا سال شروع ہوا تو تیسرے دن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتے تھے گویا دو دن روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ دو سال کے ہوگئے تو دودھ پینا چھوڑ دیا، جب چوتھا سال شروع ہوا اور آپ کی زبان کھلی تو سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔
جب چھ سال کے ہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔ رات کا زیادہ حصہ عبادت میں گزارنے لگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نے نمازِ تہجد پابندی سے پڑھنا شروع کر دی۔
(تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)

*صابر کی وجہ تسمیہ:* سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ (باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین رحمۃ اللّٰه علیہ نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا۔
(خزینۃ الاصفیاء: 153)

شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں:
’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی، وعلمِ دل من ذاتِ شیخ علاء الدین احمد سرایت کردہ‘‘۔
یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے، اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔
(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:67/ خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)

شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔ جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی، تواضع و انکساری، اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔ تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا:
نظام الدین محبوبِ الہ ہیں، اور علاء الدین عاشقِ الہ ہیں۔
(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)

آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔ نہ آپ نے کسی سے اپنا تعارف کرایا، اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جما لیا۔ آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔ قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔ لباس میں کرتہ، تہبند، اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جو زیبِ گلو رہتا تھا۔ آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔ باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ ان کی روحانیت و حسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بہت کم گفتگو فرماتے۔ اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔ لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔ جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے:
’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔
اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔
بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔ آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔ بڑے اکابرین اولیاء و علماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔

اکثر تذکرہ نگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی، تو اس میں رطب و یابس جمع ہوگیا۔ انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی، وغیرہ۔
لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه کے لنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو، اور جس کے حسنِ اخلاق، اور صبر و قناعت، توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء
کیا گیا ہو۔ وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کر سکتا ہے۔

*تاریخِ وصال:* 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔ آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارنپور (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ سیر الاقطاب۔ خزینۃ الاصفیاء۔ اقتباس الانوار۔ تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔


*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*