🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*تو شمع رسالتﷺ ھے عالم تیرا پروانہ*

غلام مصطفٰی رضوی 
نوری مشن مالیگاؤں

    یمن میں ہر طرف خوشی و مسرت کے دیپ روشن تھے، فضا اجلی اجلی تھی، ماحول میں نکھار آ گیا، برسوں سے حبشیوں کی غلامی میں جکڑا ہوا یمن آج آزاد ہوا تھا۔ ویسے بھی آزادی کی صبح بڑی درخشاں ہوتی ہے… حبشیوں نے یمن پر قبضہ جمایا، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ انسانیت کو رُسوا کر چھوڑا۔ یمن سے ایک جیالا اٹھا۔ طاقت و قوت سے لیس ہوا۔ اور دشمن پر یلغار کر دی۔ حبشی شکست سے دوچار ہوئے۔ بالآخر یمن کو آزادی نصیب ہوئی۔

    بات اہم تھی۔ پورے عرب میں یمن کی آزادی کا چرچا ہوا۔ شاہِ یمن سیف بن ذی یزن کے دربار میں وفود آنے لگے۔ تہنیت کے پیغامات بٹنے لگے۔ عرب کے قبیلہ قریش کا ایک قافلہ شاہِ یمن کو فتح کی مبارک باد دینے مکہ معظمہ سے روانہ ہوا۔ جس کی قیادت حضرت عبدالمطلب بن ہاشم فرما رہے تھے… صبح کا سپیدا نمودار ہوا۔ خنک ہوائیں چل رہی تھیں کہ یہ قافلہ حدود یمن میں داخل ہوا۔ کچھ ہی دیر میں شاہی محل کے رو برو پہنچ گیا۔ شاہِ یمن کے دربار میں اطلاع بھجوائی گئی۔ اذنِ حاضری ملا۔ وفد دربار میں پہنچا۔ شاہِ یمن سیف بن ذی یزن نے حضرت عبدالمطلب سے کہا:
    ’’اگر تمہیں دربار شاہی میں لب کشائی کے آداب کا علم ہے تو ہم تمہیں گفتگو کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘
    حضرت عبدالمطلب نے فصیح و بلیغ گفتگو کی۔ بادشاہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اس نے آپ کا تعارف دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا:
    ’’میں ہاشم کا بیٹا عبدالمطلب ہوں۔‘‘
    بادشاہ بہت احترام سے پیش آیا۔ شاہی اعزاز کے ساتھ اس وفد کو ٹھہرایا۔ خوب تواضع کی۔ اس اکرامِ خصوصی اور توجہِ خاص کا مطلب سمجھ میں نہ آیا!… کچھ مدت قافلہ قیام پذیر رہا۔ رخصت کی گھڑی قریب آئی۔ شاہِ یمن نے حضرت عبدالمطلب کو خلوت میں طلب کیا۔ اور کہا:
    ’’اے عبدالمطلب! دل کے نہاں خانے میں ایک راز ہے۔ میں اس سے تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ بتاؤ! تم اسے افشا تو نہیں کرو گے اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ خود ظاہر فرما دے۔‘‘
    پھر شاہِ یمن نے کہا:
    ’’میں نے اپنی کتاب میں پڑھا ہے: اِذَا وُلِدَ بِتِھَامَۃَ غُلَامٌ بَیْنَ کَتَفَیْہِ شَامَۃٌ کَانَتْ لَہُ الْاِمَامَۃُ وَلَکُمْ بِہِ الزِّعَامَۃُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ جب تہامہ میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو جس کے کندھوں کے درمیان نشان ہو وہی امام ہو گا۔ اور اس کے صدقہ قیامت تک تمہیں سرداری نصیب رہے گی۔‘‘
    شاہِ یمن نے کہا: ’’ہم اپنے علاوہ اپنی کتاب کے مطالعہ کی کسی کو اجازت نہیں دیتے، وہ ایک رازِ نہاں ہے۔‘‘
    حضرت عبدالمطلب نے فرمایا: ’’اگر شاہی جلال اور ادب حائل نہ ہوتا تو میں بشارت کی تفصیل کی خواہش کرتا تا کہ میری مسرتوں میں اور اضافہ ہوتا۔‘‘
    شاہ یمن نے کہا: ’’ممکن ہے وہ عظیم بچہ پیدا ہو چکا ہو۔ اس کا نام ’’احمد‘‘ ہے۔ اس کے والد اور والدہ رحلت کر جائیں گے۔ اس کے مشفق دادا اور چچا اس کی کفالت کریں گے۔ اس کی وجہ سے اصنامِ عرب پاش پاش کر دیے جائیں گے۔ صدیوں سے جل رہے آتش کدے بجھا دیے جائیں گے۔ ان کی آگ سرد ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے گی۔ اور شیطان ذلت سے دوچار ہو جائے گا۔ ہم اہلِ یمن اس کے مددگار بنیں گے۔ اس کے جاں نثار اور اصحاب کی فتح کا سبب ہم بنیں گے۔ وہ جہان کو رحمتوں سے بھر دے گا۔ سچائی اور انصاف کو نافذ کرے گا۔ اس کا دشمن ذلت و رُسوائی میں مبتلا ہو گا۔‘‘
    حضرت عبدالمطلب نے بادشاہ سے مزید وضاحت طلب کی تو شاہِ یمن ابنِ ذی یزن نے پر عزم لہجے میں کہا:
    ’’اے عبدالمطلب! تم ان کے دادا ہو۔‘‘
    یہ سننا تھا کہ حضرت عبدالمطلب کا چہرہ دمک اٹھا۔ فرطِ مسرت سے آنکھیں نم ہو گئیں۔ بشارت با برکت نے نہاں خانۂ دل کو نہال کر دیا۔ فوراً بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر ادا فرمایا… بادشاہ نے بے تاب ہو کر کہا:
    ’’سر اٹھائیے اور مجھے بتایے کہ جو علامات میں نے آپ کو بتائی ہیں کیا ان میں سے آپ نے کچھ مشاہدہ کیا ہے؟‘‘
    حضرت عبدالمطلب نے کونین کے آقا رحمت عالم نور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت، نام پاک، والدین کے وصال، اور مبارک کندھوں کے درمیان نشانِ اقدس کے بارے میں بتایا… شاہِ یمن ابنِ یزن نے ہدایت کی کہ: اس امر سے کسی کو آگاہ نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ حسد کے جذبات سینوں میں بھڑک اٹھیں۔ اس نے رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہودیوں سے محفوظ رکھنے کی تاکید کی اور کہا: ’’یہود (رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے) بدترین دشمن ہوں گے۔‘‘
    اس کے بعد شاہِ یمن نے حضرت عبدالمطلب کو مبارک باد دی یوں اس نے اعلانِ نبوت سے پہلے ہی شان و عظمت اور ولادت کا تذکرہ کر کے میلاد نبوی منایا۔ عقل کہتی ہے کہ یہ خدائی اہتمام تھا کہ بشارتوں کی نوائے دل نوازبہت پہلے سے ہی گونج رہی تھی۔ مختلف انداز میں رب کریم نے اپنے محبوب کی ولادت کے جشن منائے جانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ فطری انداز میں اس کی تعمیل بھی ہوتی رہی۔ بہر
حال شاہِ یمن نے حضرت عبدالمطلب کو خلعتِ شاہانہ و انعامات خسروانہ سے نواز کر بڑے ادب کے ساتھ یمن سے جانب مکہ رخصت کیا، حضرت مصطفیٰ رضا نوریؔ بریلوی نے خوب ہی کہا ہے:

تو شمع رسالت ھے عالم تیرا پروانہ 
تو ماە نبوت ھے اے جلوە جانانہ 

***
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 67
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جشن عید میلاد النبی ﷺ مبارک
جشن عید میلاد النبی کا مفہوم
عید کے لغوی معنیٰ خوشی منانا
عید کے لغوی و عرفی معنیٰ قرآن
عید کے لغوی معنیٰ حدیث میں!
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
خوشی نہ منانے کا ذکر کہیں نہیں
حضور نے جمعہ کو عید کا دن کہا

کل امت مسلمہ منکرین میلاد کے
میلاد مصطفیٰ ﷺ قرآن کے آئینے
اللہ کے فضل و رحمت پر خوشیاں
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ 68
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
موضوع #میلاد_النبی📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور ﷺ کے متعلق حضرت عیسیٰ
حضور کی تشریف آوری " عیسیٰ
میلاد مصطفیٰ قرآن کے آئینے میں
میلاد مصطفیٰ اور دلائل احمد رضا
عید میلاد النبی ﷺ پر کتابیں 📚
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
ایک اصلاحی پیغام قوم مسلم کے
اجماع امت قرآن کی روشنی میں
سواد اعظم بڑی جماعت کی پیروی
مشہور ائمہ محدثین و مفسرین کی
عیدمیلادالنبی ﷺ امام سیوطی کی