#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ ㊾
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
#سیرت_النبی_ﷺ #صراط_الخیر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
حضور کی تعظیم ہر حال میں لازم
آقا کریم ﷺ کا انداز گفتگو ...
نبی ﷺ تقسیم فرمانے والے ہیں ...
رحمت عالم ﷺ پر ظلم و ستم ...
ذکر ولادت مصطفیٰ کی برکات ...
سیدہ ام ایمن رضیاللہتعالیٰعنہا
حضور اپنے چچا ابو طالب کے پاس
میلاد منانا اہل عرب کا قدیم عمل
نام محمد ﷺ نام محمد کے فضائل
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
#سیرت_النبی_ﷺ #صراط_الخیر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
حضور کی تعظیم ہر حال میں لازم
آقا کریم ﷺ کا انداز گفتگو ...
نبی ﷺ تقسیم فرمانے والے ہیں ...
رحمت عالم ﷺ پر ظلم و ستم ...
ذکر ولادت مصطفیٰ کی برکات ...
سیدہ ام ایمن رضیاللہتعالیٰعنہا
حضور اپنے چچا ابو طالب کے پاس
میلاد منانا اہل عرب کا قدیم عمل
نام محمد ﷺ نام محمد کے فضائل
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جوانیِ مُصْطَفیٰ ﷺ: شام کا سفر اور نسطورا راہب
جب انبیا کے سَروَر، دو عالَم کے تاجْوَر، مَحبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عُمْر شریف تقریباً پچیس(25) سال ہوئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَمانت و صَداقَت کا چَرچا دُور دُور تک پہنچ چکا تھا۔ حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مَکَّہ کی ایک بہت ہی مال دار عَوْرت تھیں۔ اُن کے شوہر کا اِنتِقال ہو چُکا تھا۔ اُنہیں ضرورت تھی کہ کوئی اَمانت دار آدَمی مِل جائے تو اُن کے ساتھ اپنی تجارَت کا مال و سامان ملکِ شام بھیجیں، چُناں چہ اُن کی نَظَرِ اِنْتِخاب نے اِس کام کے لیے حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مُنْتَخَب (Select) کِیا اور کہلا بھیجا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرا مالِ تجارت لے کر ملکِ شام جائیں جو مُعَاوَضَہ میں دُوسروں کو دیتی ہوں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَمانت و دِیانت داری کی وجہ سے آپ کو اُس کا دوگُنا دُوں گی۔ حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن کی درخواست منظور فرما لی اورتِجارت کا مال و سامان لے کر ملکِ شام کو روانہ ہو گئے۔ اِس سَفَر میں حضرت سَیِّدَتُنا خَدِیْجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے ایک قابِلِ اِعْتِماد غُلام”مَیْسَرَہ“ کو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ رَوانہ کر دیا تا کہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خِدمت کرتا رہے ۔جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ملکِ شام کے مشہور شہر ”بَصْریٰ“ کے بازار میں پہنچے تو وہاں ”نَسْطُورا“ راہِب کی خانقاہ کے قریب ٹھہرے۔ ”نَسْطُورا“ مَیْسَرَہ کو بہت پہلے سے جانتا پہچانتا تھا۔حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صورت دیکھتے ہی ”نَسْطُورا“ مَیْسَرَہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ اے مَیْسَرَہ! یہ کون ہیں جو اِس درخت کے نیچے اُتر پڑے ہیں۔؟ مَیْسَرَہ نے جواب دیا: یہ مکّے کے رہنے والے اور خاندانِ بَنُو ہاشِم کے چَشْم و چَراغ ہیں، اِن کا نام نامی”محمد“ اور لقب ”اَمین“ ہے۔ نَسطورا نے کہا کہ سِواے نبی کے اِس درخت کے نیچے آج تک کبھی کوئی نہیں اُترا۔ اِس لیے مجھے یقینِ کامِل ہے کہ ”نَبِیِّ آخِرُ الزَّماں“ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہی ہیں کیوں کہ آخِری نَبِی کی تمام نشانیاں جو میں نے تَوریت و اِنجیل میں پڑھی ہیں وہ سب میں اِن میں دیکھ رہا ہوں۔ کاش!میں اُس وَقْت تک زِندہ رہتا جب یہ ا پنی نَبُوَّت کا علان کریں گے تو میں اِن کی بھر پور مَدَد کرتا اور پُوری جاں نثاری کے ساتھ اِن کی خدمت گزاری میں اپنی تمام عُمْر گزار دیتا۔ اے مَیْسَرَہ! میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ خَبَردار! ایک لمحے کے لیے بھی تُم اِن سے جُدا نہ ہونا اور اِنتِہائی خُلوص و عَقیدت کے ساتھ اِن کی خدمت کرتے رہنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اِن کو ”خَاتَمُ النَّبِیِّیْن“ (یعنی آخری نبی) ہونے کا شَرَف عطا فرمایا ہے۔حضورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَصْریٰ کے بازار میں بہت جلد تِجارت کا مال فروخت کرکے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ واپَس آگئے۔ واپسی میں جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قافِلَہ شہرِ مَکَّہ میں داخِل ہونے لگا تو حضرت سَیِّدَتُنا بی بی خَدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ایک بالاخانے (بُلند جگہ) پر بیٹھی ہوئیں قافِلے کی آمد کا مَنْظَر دیکھ رہی تھیں۔ جب اُن کی نَظَر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر پڑی تو اُنہیں ایسا نظر آیا کہ دو فرشتے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےسَرِ اَنْوَر پر دُھوپ سے سایہ کیے ہوئے ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا خَدِیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دِل پر اِس نُورانی مَنْظَر کا ایک خاص اَثَر ہوا اور وہ اِنتِہائی عَقیدت و مَحَبَّت سے یہ حَسِیْن جَلْوَہ دیکھتی رہیں۔ پھر اپنے غُلام مَیْسَرَہ سے کئی دن کے بعد اِس کا ذِکْر کِیا تو مَیْسَرَہ نے بتایا کہ میں تو پُورے سَفَر میں یہی مَنْظَر دیکھتا رہا ہوں۔ اِس کے عِلاوہ بھی میں نے بہت سی عجیب و غریب باتوں کامُشَاہَدَہ کیا ہے۔ پھر مَیْسَرَہ نے نَسطورا راہِب کی گفتگواور اُس کی عقیدت و مَحَبَّت کا تَذکِرَہ بھی کیا۔ یہ سُن کر حضرت سَیِّدَتُنا بی بی خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نِکاح کی رَغْبَت ہو گئی۔
(مدارج النبوۃ ، قسم دوم ، باب دوم،۲/ ۲۷ملخصاً)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1010207789556790/
جب انبیا کے سَروَر، دو عالَم کے تاجْوَر، مَحبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عُمْر شریف تقریباً پچیس(25) سال ہوئی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَمانت و صَداقَت کا چَرچا دُور دُور تک پہنچ چکا تھا۔ حضرت سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مَکَّہ کی ایک بہت ہی مال دار عَوْرت تھیں۔ اُن کے شوہر کا اِنتِقال ہو چُکا تھا۔ اُنہیں ضرورت تھی کہ کوئی اَمانت دار آدَمی مِل جائے تو اُن کے ساتھ اپنی تجارَت کا مال و سامان ملکِ شام بھیجیں، چُناں چہ اُن کی نَظَرِ اِنْتِخاب نے اِس کام کے لیے حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مُنْتَخَب (Select) کِیا اور کہلا بھیجا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرا مالِ تجارت لے کر ملکِ شام جائیں جو مُعَاوَضَہ میں دُوسروں کو دیتی ہوں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَمانت و دِیانت داری کی وجہ سے آپ کو اُس کا دوگُنا دُوں گی۔ حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن کی درخواست منظور فرما لی اورتِجارت کا مال و سامان لے کر ملکِ شام کو روانہ ہو گئے۔ اِس سَفَر میں حضرت سَیِّدَتُنا خَدِیْجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے ایک قابِلِ اِعْتِماد غُلام”مَیْسَرَہ“ کو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ رَوانہ کر دیا تا کہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خِدمت کرتا رہے ۔جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ملکِ شام کے مشہور شہر ”بَصْریٰ“ کے بازار میں پہنچے تو وہاں ”نَسْطُورا“ راہِب کی خانقاہ کے قریب ٹھہرے۔ ”نَسْطُورا“ مَیْسَرَہ کو بہت پہلے سے جانتا پہچانتا تھا۔حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صورت دیکھتے ہی ”نَسْطُورا“ مَیْسَرَہ کے پاس آیا اور پوچھا کہ اے مَیْسَرَہ! یہ کون ہیں جو اِس درخت کے نیچے اُتر پڑے ہیں۔؟ مَیْسَرَہ نے جواب دیا: یہ مکّے کے رہنے والے اور خاندانِ بَنُو ہاشِم کے چَشْم و چَراغ ہیں، اِن کا نام نامی”محمد“ اور لقب ”اَمین“ ہے۔ نَسطورا نے کہا کہ سِواے نبی کے اِس درخت کے نیچے آج تک کبھی کوئی نہیں اُترا۔ اِس لیے مجھے یقینِ کامِل ہے کہ ”نَبِیِّ آخِرُ الزَّماں“ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہی ہیں کیوں کہ آخِری نَبِی کی تمام نشانیاں جو میں نے تَوریت و اِنجیل میں پڑھی ہیں وہ سب میں اِن میں دیکھ رہا ہوں۔ کاش!میں اُس وَقْت تک زِندہ رہتا جب یہ ا پنی نَبُوَّت کا علان کریں گے تو میں اِن کی بھر پور مَدَد کرتا اور پُوری جاں نثاری کے ساتھ اِن کی خدمت گزاری میں اپنی تمام عُمْر گزار دیتا۔ اے مَیْسَرَہ! میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ خَبَردار! ایک لمحے کے لیے بھی تُم اِن سے جُدا نہ ہونا اور اِنتِہائی خُلوص و عَقیدت کے ساتھ اِن کی خدمت کرتے رہنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اِن کو ”خَاتَمُ النَّبِیِّیْن“ (یعنی آخری نبی) ہونے کا شَرَف عطا فرمایا ہے۔حضورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَصْریٰ کے بازار میں بہت جلد تِجارت کا مال فروخت کرکے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ واپَس آگئے۔ واپسی میں جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قافِلَہ شہرِ مَکَّہ میں داخِل ہونے لگا تو حضرت سَیِّدَتُنا بی بی خَدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ایک بالاخانے (بُلند جگہ) پر بیٹھی ہوئیں قافِلے کی آمد کا مَنْظَر دیکھ رہی تھیں۔ جب اُن کی نَظَر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر پڑی تو اُنہیں ایسا نظر آیا کہ دو فرشتے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےسَرِ اَنْوَر پر دُھوپ سے سایہ کیے ہوئے ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا خَدِیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دِل پر اِس نُورانی مَنْظَر کا ایک خاص اَثَر ہوا اور وہ اِنتِہائی عَقیدت و مَحَبَّت سے یہ حَسِیْن جَلْوَہ دیکھتی رہیں۔ پھر اپنے غُلام مَیْسَرَہ سے کئی دن کے بعد اِس کا ذِکْر کِیا تو مَیْسَرَہ نے بتایا کہ میں تو پُورے سَفَر میں یہی مَنْظَر دیکھتا رہا ہوں۔ اِس کے عِلاوہ بھی میں نے بہت سی عجیب و غریب باتوں کامُشَاہَدَہ کیا ہے۔ پھر مَیْسَرَہ نے نَسطورا راہِب کی گفتگواور اُس کی عقیدت و مَحَبَّت کا تَذکِرَہ بھی کیا۔ یہ سُن کر حضرت سَیِّدَتُنا بی بی خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نِکاح کی رَغْبَت ہو گئی۔
(مدارج النبوۃ ، قسم دوم ، باب دوم،۲/ ۲۷ملخصاً)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1010207789556790/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM