This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میلادالنبی ﷺ اور علماے عرب
ترتیب و تلخیص: محمد حسین مشاہد رضوی سے چند صفحات:
اخوان المسلمین کے بانی حسن البنّاء نے اپنی ڈائری میں جشنِ میلادالنبی اور جلوسِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک ایسا واقعہ قلم بند کیا ہے جو دل کو گرمانے اور روح کو تڑپانے میں بڑا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ لکھتے ہیں :
’’ مجھے یاد ہے کہ جب ربیع الاول کا مہینا آتا تو یکم ربیع الاول سے لے کر ۱۲؍ ربیع الاول تک معمولاً ہر رات ہم حصافی اخوان میں سے کسی ایک کے مکان پر محفلِ ذکر منعقد کرتے اور میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جلوس بناکر باہر نکلتے ، اتفاق سے ایک رات برادرم شیخ شبلی الرجال کے مکان پر جمع ہونے کی باری آگئی۔ ہم عادتاً عشآ بعد ان کے مکان پر حاضر ہوئے دیکھا کہ پورا مکان خوب روشنیوں سے جگمگا رہا ہے، اسے خوب صاف و شفاف اور آراستہ و پیراستہ کیا جاچکا ہے۔ شیخ شبلی الرجال نے رواج کے مطابق تمام حاضرین کو شربت اور قہوہ اور خوشبو پیش کی۔ اس کے بعد ہم جلوس بن کر نکلے اور بڑی مسرت و انبساط کے ساتھ مروجہ مناقب اور نظمیں گاتے رہے۔ جلوس ختم کرنے کے بعد ہم شیخ شبلی الرجال کے مکان پر واپس آگئے اور چند لمحات ان کے پاس بیٹھے رہے۔ جب اٹھنے لگے تو شیخ شبلی نے بڑے لطافت آمیز اور ہلکے پھلکے تبسم کے ساتھ اچانک یہ اعلان کیا کہ : ’ ان شآء اللہ کل آپ حضرات میرے ہاں علی الصبح تشریف لے آئیں تاکہ روحیہ کی تدفین کرلی جائے۔‘
روحیہ شیخ شبلی کی اکلوتی بچّی ہے، شادی کے تقریباً ۱۱؍ سال بعد اللہ نے شیخ کو عطا کی ہے۔ اس بچّی کے ساتھ انھیں اس قدر شدید محبت و وابستگی ہے کہ دورانِ کام بھی اُسے جدانہیں کرتے یہ بچّی نشوونما پاکر اب جوانی کی حدود میں داخل ہوچکی ہے شیخ نے اس کا نام روحیہ تجویز کررکھا ہے۔ کیوں کہ شیخ کے دل میں اسے وہی مقام حاصل ہے جو جسم میں روح کو حاصل ہے۔ شیخ کی اِس اطلاع پر ہم بھونچکے رہ گئے۔ عرض کیا: ’ روحیہ کا انتقال کب ہوا؟‘ - فرمانے لگے: ’ آج ہی مغرب سے تھوڑی دیر پہلے۔‘ - ہم نے کہا:’ آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہ اطلاع دی ؟ کم از کم میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جلوس کسی اور دوست کے گھر سے نکالتے؟‘ - کہنے لگے:’ جو کچھ ہوا بہتر ہوا اس سے ہمارے حزن و غم میں تخفیف ہوگئی اور سوگ مسرت میں تبدیل ہوگیا۔ کیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی کوئی اور نعمت درکار ہے؟ ‘ ‘
حسن البنّاء کی ڈائری کا یہ ورق عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جشن اور جلوس کے بارے میں اُن کے زمانے کا اشاریہ ہے۔ اُن کے دور میں ۱؍ ربیع الاول سے ۱۲؍ ربیع الاول تک ہر دن جلوس نکلتا تھا اور ذکرِ ولادت کی بابرکت محفلیں تزک و احتشام سے آراستہ ہوتی تھیں، درج بالا واقعہ تو ایک ایسے مثالی کردار کو پیش کرتا ہے جس کی نظیر مشکل ہی سے ملے گی۔ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تئیں حضرت شیخ شبلی الرجال جیسا مخلصانہ رویہ اور ایثار و قربانی کا حسیٖن جذبہ اب کہاں ؟ اب تو اس بابرکت جشن کا ہی انکار کیا جارہا ہے، افسوس !!
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1007916229785946/
ترتیب و تلخیص: محمد حسین مشاہد رضوی سے چند صفحات:
اخوان المسلمین کے بانی حسن البنّاء نے اپنی ڈائری میں جشنِ میلادالنبی اور جلوسِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک ایسا واقعہ قلم بند کیا ہے جو دل کو گرمانے اور روح کو تڑپانے میں بڑا مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ لکھتے ہیں :
’’ مجھے یاد ہے کہ جب ربیع الاول کا مہینا آتا تو یکم ربیع الاول سے لے کر ۱۲؍ ربیع الاول تک معمولاً ہر رات ہم حصافی اخوان میں سے کسی ایک کے مکان پر محفلِ ذکر منعقد کرتے اور میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جلوس بناکر باہر نکلتے ، اتفاق سے ایک رات برادرم شیخ شبلی الرجال کے مکان پر جمع ہونے کی باری آگئی۔ ہم عادتاً عشآ بعد ان کے مکان پر حاضر ہوئے دیکھا کہ پورا مکان خوب روشنیوں سے جگمگا رہا ہے، اسے خوب صاف و شفاف اور آراستہ و پیراستہ کیا جاچکا ہے۔ شیخ شبلی الرجال نے رواج کے مطابق تمام حاضرین کو شربت اور قہوہ اور خوشبو پیش کی۔ اس کے بعد ہم جلوس بن کر نکلے اور بڑی مسرت و انبساط کے ساتھ مروجہ مناقب اور نظمیں گاتے رہے۔ جلوس ختم کرنے کے بعد ہم شیخ شبلی الرجال کے مکان پر واپس آگئے اور چند لمحات ان کے پاس بیٹھے رہے۔ جب اٹھنے لگے تو شیخ شبلی نے بڑے لطافت آمیز اور ہلکے پھلکے تبسم کے ساتھ اچانک یہ اعلان کیا کہ : ’ ان شآء اللہ کل آپ حضرات میرے ہاں علی الصبح تشریف لے آئیں تاکہ روحیہ کی تدفین کرلی جائے۔‘
روحیہ شیخ شبلی کی اکلوتی بچّی ہے، شادی کے تقریباً ۱۱؍ سال بعد اللہ نے شیخ کو عطا کی ہے۔ اس بچّی کے ساتھ انھیں اس قدر شدید محبت و وابستگی ہے کہ دورانِ کام بھی اُسے جدانہیں کرتے یہ بچّی نشوونما پاکر اب جوانی کی حدود میں داخل ہوچکی ہے شیخ نے اس کا نام روحیہ تجویز کررکھا ہے۔ کیوں کہ شیخ کے دل میں اسے وہی مقام حاصل ہے جو جسم میں روح کو حاصل ہے۔ شیخ کی اِس اطلاع پر ہم بھونچکے رہ گئے۔ عرض کیا: ’ روحیہ کا انتقال کب ہوا؟‘ - فرمانے لگے: ’ آج ہی مغرب سے تھوڑی دیر پہلے۔‘ - ہم نے کہا:’ آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہ اطلاع دی ؟ کم از کم میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جلوس کسی اور دوست کے گھر سے نکالتے؟‘ - کہنے لگے:’ جو کچھ ہوا بہتر ہوا اس سے ہمارے حزن و غم میں تخفیف ہوگئی اور سوگ مسرت میں تبدیل ہوگیا۔ کیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی کوئی اور نعمت درکار ہے؟ ‘ ‘
حسن البنّاء کی ڈائری کا یہ ورق عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے جشن اور جلوس کے بارے میں اُن کے زمانے کا اشاریہ ہے۔ اُن کے دور میں ۱؍ ربیع الاول سے ۱۲؍ ربیع الاول تک ہر دن جلوس نکلتا تھا اور ذکرِ ولادت کی بابرکت محفلیں تزک و احتشام سے آراستہ ہوتی تھیں، درج بالا واقعہ تو ایک ایسے مثالی کردار کو پیش کرتا ہے جس کی نظیر مشکل ہی سے ملے گی۔ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تئیں حضرت شیخ شبلی الرجال جیسا مخلصانہ رویہ اور ایثار و قربانی کا حسیٖن جذبہ اب کہاں ؟ اب تو اس بابرکت جشن کا ہی انکار کیا جارہا ہے، افسوس !!
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1007916229785946/