سوال : لڑکی ہو کر فیس بک پر کیوں آیی؟؟ ؟؟
جواب : کیوں؟ لڑکیوں کو آنے کی اجازت کیوں نہیں؟؟؟ علمی وجہ بتائیں.
سوال : کیا شریعت اجازت دیتی ہے لڑکیوں کے فیس بک یوز کرنے کی؟؟؟؟؟
جواب: شریعت کی اجازت کس بنا پر نہیں ہے؟ کیا کسی بھی عالم دین کا اس سلسلے میں کوئی کمنٹ ہے؟ تو پھر خود عالم بننے کی ضرورت کیا ہے؟
سوال : اتنا پردہ سوجھ رہا ہے تو انٹرنیٹ کیوں یوز کرتی ہو؟؟؟؟؟
جواب: انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا یوز کرنے پر کون سی بے پردگی ہو رہی ہے مذہبی نقطہ نظر سے واضح کیجئے.
نہ ہم کسی کی کال لیتے ہیں کہ آواز بے پردہ ہو، نہ ہم کسی قسم کی تصویر ڈالتے ہیں کہ چہرہ بے پردہ ہو اور نہ ہی کوئی اور جاندار کی تصویر
پھر بے پردگی کب کیسے ہو رہی ہے کوئی واضح کرے
سوال :اتنی نیک و پاکیزہ ہو تو گھر میں کیوں نہیں بیٹھتی؟؟؟؟؟؟
جواب: آپ لوگوں سے کس نے کہہ دیا کہ ہم سوشل میڈیا سڑک پر کھڑے رہ کر یوز کرتے ہیں؟؟؟؟
سوال : لڑکیوں کو کیا ضرورت انٹرنیٹ یوز کرنے کی؟؟؟
جواب: پوری دنیا جانتی ہے کہ انٹرنیٹ اس دور کی اہم ترین ضرورت ہے. لوگوں کے بڑے بڑے کام انٹرنیٹ کے ذریعے ہوتے ہیں
بڑی بڑی کلاسیس انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہی ہیں
پھر ہم نے یوز کر لیا تو کیا مسئلہ ہو گیا؟؟
اپنے گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر، گھر والوں کے علم میں لا کر اگر انٹرنیٹ کا جائز استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ کون متقی لوگ پیدا ہو گئے جنہیں یہ بھی برداشت نہیں اور اس کے برعکس لڑکیوں کے کالج یونیورسٹی جانے پر کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا.
کیا گھر میں بیٹھ کر گھر والوں کی رضامندی سے انٹرنیٹ یوز کرنا یونیورسٹی جانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے؟؟؟؟
سوال : دینی تبلیغ کے لیے انٹرنیٹ کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا مردوں کی کمی تھی اس کام کے لیے؟
جواب: ہاں، مردوں کی کمی تھی اس کام کے لیے. غیرت مند مردوں کی تو بہت زیادہ کمی تھی
دوسری بات کہ صرف مردوں میں تبلیغ کے لیے فیس بک کا استعمال کیا جاتا ہے یہ غلط فہمی مردوں کو کیوں ہویی؟؟؟
کچھ خاموش لڑکیاں بھی ہیں میری لسٹ میں جو میری ہر پوسٹ کی منتظر ہوتی ہے اور باقاعدہ کوپی کر کے اپنے حلقہ احباب میں شئر بھی کرتی ہیں
تیسری بات کہ پوسٹ کی جائے تو جوابات پوسٹ میں دئیے جاتے ہیں، کمنٹ کے آپشن موجود ہوتے ہیں، پھر کیا ضرورت انبوکس میں آنے کی؟؟؟
ہم نے پوسٹ کر کے صرف اس پہلو کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے جس کے متعلق عام عوام نہیں سوچ رہی ہے
تو لوگ اگر پوسٹ سے ہٹ کر انبوکس کا رخ کریں تو غلطی کس کی ہویی؟؟؟
اسلام نے جتنا عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے اتنا ہی مردوں کو بھی دیا ہے
بلکہ سورہ نور میں آیات پردہ میں پہلے مردوں کو حکم دیا گیا ہے پردے کا پھر عورتوں کو
تو پہلے مرد اپنے آپ کو کنٹرول کریں اس کے بعد ہم پر وہ تنقید کریں جو غلطی ہم نے کی ہو
ایسے بے تکے سوال کر کے ہمیں پریشان نہ کریں
عورتوں کی تبلیغ کے حوالے سے سب سے بڑی استاد ہم لوگوں کی ام المؤمنين سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ ہیں
جن سے علم سیکھنے کے لیے مرد صحابہ بھی حدود کا اہتمام کرتے ہوئے جایا کرتے تھے
اگر عورتوں کا تبلیغ کرنا اتنا بڑا جرم ہوتا تو ام المؤمنين یہ کام نہ کرتی
اور اس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض عورتیں بعض مردوں پر علمی لحاظ سے فوقیت رکھتی ہیں
اس لیے حدود شرع میں رہ کر کوئی کم علم ہم سے سوال کرے تو ہم جوابات دے سکتے ہیں
(یہاں ام المؤمنين رضی اللہ عنہ سے تقابل کی نیت ہرگز نہیں ہے..... میں تو ان کے قدموں کی دھول کو بھی اپنی ذات سے زیادہ اہم اور پاکیزہ تصور کرتی ہوں)
دوسری بات کہ فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر تبلیغی سرگرمی جاری رکھنا حدود شرع کی خلاف ورزی کسی پہلو سے ثابت نہیں ہوتاہے
ہاں اگر مرد و عورت اپنے نفس کے غلام ہو جائیں تو یہی ذرائع گناہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں
اور تخصیص تو یہاں پر بھی نہیں کی جا سکتی
مدارس، اسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں بھی اگر حدود توڑی جائے تو گناہ وہاں پر بھی ہو سکتا ہے تو صرف سوشل میڈیا کے استعمال ہی پر سوال کیوں؟؟؟؟
حقیقت کیا ہے پتہ ہے؟؟؟
کوئی لڑکی فیس بک پر آئے تو مرد حضرات فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے بات کرنا جائز ہو گیا ہے
چلو تھوڑا ٹائم پاس کریں
تھوڑی اپنی داستان غم سنائیں
ورنہ کبھی اپنی بہنوں کو سلام دعا کے لیے نہ پوچھنے والے ہر روز باقاعدگی سے سلام بھیجیں تو اس کا کیا مفہوم لیا جائے؟؟؟
اور ہم تو الحمد للہ اتنے محتاط ہیں کہ سلام کا جواب تک نہیں دیتے میسج کے ذریعے
اور لوگ ہمیں سلام کے جواب کے متعلق درس دینے لگتے ہیں
جب کہ اگر میسج میں لکھ کر جواب دے بھی دیا گیا تو کوئی شرعی عیب نہیں آتا مگر کیوں کہ غیر محرموں کو جَتا کر اور سنا کر جواب دینے کی اجازت نہیں تو اس میں بھی احتیاط کرتے ہیں
یہ احتیاط کسی عقل کے اندھے کو نہیں دکھتی؟؟؟
اتنے محتاط رہنے والوں کے کردار پر بھی شک کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں؟؟؟
جس سے علمی مدد چاہیے اس سے بھی دو ٹوک
جواب : کیوں؟ لڑکیوں کو آنے کی اجازت کیوں نہیں؟؟؟ علمی وجہ بتائیں.
سوال : کیا شریعت اجازت دیتی ہے لڑکیوں کے فیس بک یوز کرنے کی؟؟؟؟؟
جواب: شریعت کی اجازت کس بنا پر نہیں ہے؟ کیا کسی بھی عالم دین کا اس سلسلے میں کوئی کمنٹ ہے؟ تو پھر خود عالم بننے کی ضرورت کیا ہے؟
سوال : اتنا پردہ سوجھ رہا ہے تو انٹرنیٹ کیوں یوز کرتی ہو؟؟؟؟؟
جواب: انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا یوز کرنے پر کون سی بے پردگی ہو رہی ہے مذہبی نقطہ نظر سے واضح کیجئے.
نہ ہم کسی کی کال لیتے ہیں کہ آواز بے پردہ ہو، نہ ہم کسی قسم کی تصویر ڈالتے ہیں کہ چہرہ بے پردہ ہو اور نہ ہی کوئی اور جاندار کی تصویر
پھر بے پردگی کب کیسے ہو رہی ہے کوئی واضح کرے
سوال :اتنی نیک و پاکیزہ ہو تو گھر میں کیوں نہیں بیٹھتی؟؟؟؟؟؟
جواب: آپ لوگوں سے کس نے کہہ دیا کہ ہم سوشل میڈیا سڑک پر کھڑے رہ کر یوز کرتے ہیں؟؟؟؟
سوال : لڑکیوں کو کیا ضرورت انٹرنیٹ یوز کرنے کی؟؟؟
جواب: پوری دنیا جانتی ہے کہ انٹرنیٹ اس دور کی اہم ترین ضرورت ہے. لوگوں کے بڑے بڑے کام انٹرنیٹ کے ذریعے ہوتے ہیں
بڑی بڑی کلاسیس انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہی ہیں
پھر ہم نے یوز کر لیا تو کیا مسئلہ ہو گیا؟؟
اپنے گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر، گھر والوں کے علم میں لا کر اگر انٹرنیٹ کا جائز استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ کون متقی لوگ پیدا ہو گئے جنہیں یہ بھی برداشت نہیں اور اس کے برعکس لڑکیوں کے کالج یونیورسٹی جانے پر کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا.
کیا گھر میں بیٹھ کر گھر والوں کی رضامندی سے انٹرنیٹ یوز کرنا یونیورسٹی جانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے؟؟؟؟
سوال : دینی تبلیغ کے لیے انٹرنیٹ کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا مردوں کی کمی تھی اس کام کے لیے؟
جواب: ہاں، مردوں کی کمی تھی اس کام کے لیے. غیرت مند مردوں کی تو بہت زیادہ کمی تھی
دوسری بات کہ صرف مردوں میں تبلیغ کے لیے فیس بک کا استعمال کیا جاتا ہے یہ غلط فہمی مردوں کو کیوں ہویی؟؟؟
کچھ خاموش لڑکیاں بھی ہیں میری لسٹ میں جو میری ہر پوسٹ کی منتظر ہوتی ہے اور باقاعدہ کوپی کر کے اپنے حلقہ احباب میں شئر بھی کرتی ہیں
تیسری بات کہ پوسٹ کی جائے تو جوابات پوسٹ میں دئیے جاتے ہیں، کمنٹ کے آپشن موجود ہوتے ہیں، پھر کیا ضرورت انبوکس میں آنے کی؟؟؟
ہم نے پوسٹ کر کے صرف اس پہلو کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے جس کے متعلق عام عوام نہیں سوچ رہی ہے
تو لوگ اگر پوسٹ سے ہٹ کر انبوکس کا رخ کریں تو غلطی کس کی ہویی؟؟؟
اسلام نے جتنا عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے اتنا ہی مردوں کو بھی دیا ہے
بلکہ سورہ نور میں آیات پردہ میں پہلے مردوں کو حکم دیا گیا ہے پردے کا پھر عورتوں کو
تو پہلے مرد اپنے آپ کو کنٹرول کریں اس کے بعد ہم پر وہ تنقید کریں جو غلطی ہم نے کی ہو
ایسے بے تکے سوال کر کے ہمیں پریشان نہ کریں
عورتوں کی تبلیغ کے حوالے سے سب سے بڑی استاد ہم لوگوں کی ام المؤمنين سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ ہیں
جن سے علم سیکھنے کے لیے مرد صحابہ بھی حدود کا اہتمام کرتے ہوئے جایا کرتے تھے
اگر عورتوں کا تبلیغ کرنا اتنا بڑا جرم ہوتا تو ام المؤمنين یہ کام نہ کرتی
اور اس حدیث پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض عورتیں بعض مردوں پر علمی لحاظ سے فوقیت رکھتی ہیں
اس لیے حدود شرع میں رہ کر کوئی کم علم ہم سے سوال کرے تو ہم جوابات دے سکتے ہیں
(یہاں ام المؤمنين رضی اللہ عنہ سے تقابل کی نیت ہرگز نہیں ہے..... میں تو ان کے قدموں کی دھول کو بھی اپنی ذات سے زیادہ اہم اور پاکیزہ تصور کرتی ہوں)
دوسری بات کہ فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر تبلیغی سرگرمی جاری رکھنا حدود شرع کی خلاف ورزی کسی پہلو سے ثابت نہیں ہوتاہے
ہاں اگر مرد و عورت اپنے نفس کے غلام ہو جائیں تو یہی ذرائع گناہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں
اور تخصیص تو یہاں پر بھی نہیں کی جا سکتی
مدارس، اسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں بھی اگر حدود توڑی جائے تو گناہ وہاں پر بھی ہو سکتا ہے تو صرف سوشل میڈیا کے استعمال ہی پر سوال کیوں؟؟؟؟
حقیقت کیا ہے پتہ ہے؟؟؟
کوئی لڑکی فیس بک پر آئے تو مرد حضرات فوراً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے بات کرنا جائز ہو گیا ہے
چلو تھوڑا ٹائم پاس کریں
تھوڑی اپنی داستان غم سنائیں
ورنہ کبھی اپنی بہنوں کو سلام دعا کے لیے نہ پوچھنے والے ہر روز باقاعدگی سے سلام بھیجیں تو اس کا کیا مفہوم لیا جائے؟؟؟
اور ہم تو الحمد للہ اتنے محتاط ہیں کہ سلام کا جواب تک نہیں دیتے میسج کے ذریعے
اور لوگ ہمیں سلام کے جواب کے متعلق درس دینے لگتے ہیں
جب کہ اگر میسج میں لکھ کر جواب دے بھی دیا گیا تو کوئی شرعی عیب نہیں آتا مگر کیوں کہ غیر محرموں کو جَتا کر اور سنا کر جواب دینے کی اجازت نہیں تو اس میں بھی احتیاط کرتے ہیں
یہ احتیاط کسی عقل کے اندھے کو نہیں دکھتی؟؟؟
اتنے محتاط رہنے والوں کے کردار پر بھی شک کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں؟؟؟
جس سے علمی مدد چاہیے اس سے بھی دو ٹوک
گفتگو کرتے ہیں تاکہ سامنے والا نرم رویہ دیکھ کر بہک نہ جائے
یہ احتیاط نظر نہیں آتی؟؟
الٹا مغرور، گھمنڈی، سخت زبان، بدتمیز جیسے القاب سے نواز دیتے ہیں
ساری دنیا کے آنکھ والوں کو پتہ ہے کہ عورتوں کی مذہبی علوم میں کیا حالت زار ہے
عورتوں کے مدارس میں معیاری معلمات نہیں ہے
عورتوں میں اہل علم خواتین کی بہت زیادہ کمی ہے
اور دنیا میں رائج حالات کی جانکاری عورتوں کو اتنی زیادہ نہیں ہے
اس لیے طلب علم کے لیے جب عورتیں اس معیار کی دستیاب نہیں ہے تو ہم نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنایا
یہاں اہل علم حضرات سے جڑے تاکہ کچھ سیکھ سکیں
حالات حاضرہ کی خبر رکھ سکیں اور اس حساب سے اپنے گھر کے معاملات کو تھوڑا بدلیں
زمانے کے لحاظ سے علم کا لیول بھی بڑھا سکیں، تربیت کے نئے انداز موجودہ زمانے کے حساب سے دستیاب کروا سکیں
اپنی تحریریں شئر کیں تاکہ جو نہیں سوچ پاتے وہ بھی سوچیں اور جہاں ہم سوچنے میں غلطی کر رہے ہیں وہاں علمائے کرام ہماری اصلاح کریں
اس مقصد کو لے کر بھی سوشل میڈیا استعمال کرنا ناجائز ہو گیا؟؟
اتنی احتیاط کے ساتھ، اپنے لہجے تک کو کنٹرول کرتے ہوئے، بچ بچ کر چلتے ہوئے بھی سوشل میڈیا یوز کرنا اتنا بڑا جرم ہو گیا کہ ہمارے کردار ہی مشکوک ہو گئے؟؟؟؟
طلب علم کی حرص میں اہل علم حضرات سے استفادہ کی نیت سے فیس بک پر کنیکٹ ہونا اتنا بڑا جرم ہو گیا کہ ہر مرد ہمیں مفت کی پروپرٹی سمجھنے لگے اورفالتو میسج، آڈیو اور ویڈیو کال کرنا اپنا حق سمجھنے لگے؟؟
اور ہمیں اتنا بھی حق حاصل نہیں کہ احتجاج ہی کر سکیں؟؟؟
کسی کے قلم میں دم ہے تو لکھ دے کہ میں نے جو اعتراض کیا کہ مجھے کال نہ کرے فضول میسج نہ کرے یہ ڈیمانڈ ناجائز ہے......
بجائے اس کے کہ میری ڈیمانڈ پر غور کرتے ہوئے مجھ سے بات کرنے میں احتیاط کرتے الٹا یہ الزام لگا رہے ہیں کہ میں مشہور ہونا چاہتی ہوں؟؟؟
اور یہ بے تکے اعتراضات کرنے والے صرف مرد حضرات ہیں
کسی لڑکی نے نہیں کہا کہ میں نے غلط کیا ہے
مردوں نے ہی کہا ہے
کیا واقعی اس پریشانی کے عالم میں میرا احتجاج اس قابل تھا کہ بجائے سپورٹ کرنے کے سوال داغ دیا جاتا؟؟؟؟
دیکھیے
جس جس کو بھی عورتوں کے سوشل میڈیا پر آنے سے اعتراض ہے یا جو انبوکس میں ہی تشریف لانا چاہتے ہیں یا مجھ سے کوئی بھی پروبلم ہے وہ براہ کرم میری لسٹ سے نکل جائیں
ان شاء اللہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا
میری نیت طلب علم کی ہے تو اللہ رب العزت اہل علم سے رابطے کے اسباب پیدا کر دے گا
میں خود طالبہ ہوں، تبلیغی سرگرمیوں میں بھی شامل ہوں، ہزاروں خواتین سے ہر دوسرے دن خطاب رہتا ہے
بہت سی عورتیں دینی رہنمائی اور موجودہ زمانے کے جدید مسائل کے متعلق سوالات لیے گھر تک آتی ہیں
بے شمار چھوٹے بچے اور بچیاں علمی اور مذہبی تربیت کے لئے روزانہ آتے ہیں
ان کے ماں باپ جو تربیت اپنی کم علمی کی وجہ سے خود نہیں کر پاتے اس کے لیے ہمارے پاس بھیجتے ہیں
بچہ جب بات کرنے کے قابل ہوتا ہے تبھی مدرسہ بھیج دیا جاتا ہے ہم لوگوں کے پاس تربیت کے لئے
ان سب راستوں پر ثابت قدم رہنے کے لیے میرا خود اعلی تعلیم یافتہ ہونا اور جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی طور پر مسلح ہونا بہت زیادہ ضروری ہے
اس لیے نہ تو میں اہل علم سے علم سیکھنا چھوڑنے والی ہوں اور نہ ہی اس علم کا ذریعہ سوشل میڈیا چھوڑنے والی ہوں
جسے بھی اعتراض ہو اسے اجازت ہے وہ میری فرینڈ لسٹ چھوڑ دے
میں جیسی ہوں ویسی ہی رہوں گی
نہ میں نرم لہجہ اختیار کرنے والی ہوں اور نہ بدتمیزوں کو معاف کرنے والی ہوں
جتنا مرد ذات مجھے پریشان کرے گی میں انہیں مزید جوتی کی نوک پر رکھتی چلی جاؤں گی
اپنی عزت کروانی ہے تو عزت سے رہیں
ورنہ میں تو درگزر نہیں کروں
بے عزت کر کے ہی بلوک کروں گی
نوٹ:
وہ اہل علم حضرات جن سے میں خود رابطہ کرتی ہوں اور علمی مدد طلب کرتی ہوں ان سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس پوسٹ میں انہیں مخاطب کیا ہے
اہل علم حضرات ضرور میری غلطیوں کی اصلاح کریں
جہاں آپ کو لگے کہ یہ علمی بات عورتوں کو پتہ ہونی چاہیے وہ مجھ سے ضرور شئر کیجئے
مگر ہر شئرنگ کے ساتھ رہنمائی لکھیں کہ یہ پڑھیں یا غور کیجئے یا یہ چیز تربیت کے لئے مفید ہے یا یہ کتاب عورتوں کے پاس پہنچا دیں وغیرہ وغیرہ
تاکہ میں جلد بازی میں اہم باتیں نظر انداز نہ کر بیٹھوں
علمائے کرام بھی اس لہجے میں مخاطب نہیں ہیں اس وقت
در گذر فرمائیں
علمائے کرام اصلاح فرمائیں
شکریہ ( عروہ فاطمہ )
یہ احتیاط نظر نہیں آتی؟؟
الٹا مغرور، گھمنڈی، سخت زبان، بدتمیز جیسے القاب سے نواز دیتے ہیں
ساری دنیا کے آنکھ والوں کو پتہ ہے کہ عورتوں کی مذہبی علوم میں کیا حالت زار ہے
عورتوں کے مدارس میں معیاری معلمات نہیں ہے
عورتوں میں اہل علم خواتین کی بہت زیادہ کمی ہے
اور دنیا میں رائج حالات کی جانکاری عورتوں کو اتنی زیادہ نہیں ہے
اس لیے طلب علم کے لیے جب عورتیں اس معیار کی دستیاب نہیں ہے تو ہم نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنایا
یہاں اہل علم حضرات سے جڑے تاکہ کچھ سیکھ سکیں
حالات حاضرہ کی خبر رکھ سکیں اور اس حساب سے اپنے گھر کے معاملات کو تھوڑا بدلیں
زمانے کے لحاظ سے علم کا لیول بھی بڑھا سکیں، تربیت کے نئے انداز موجودہ زمانے کے حساب سے دستیاب کروا سکیں
اپنی تحریریں شئر کیں تاکہ جو نہیں سوچ پاتے وہ بھی سوچیں اور جہاں ہم سوچنے میں غلطی کر رہے ہیں وہاں علمائے کرام ہماری اصلاح کریں
اس مقصد کو لے کر بھی سوشل میڈیا استعمال کرنا ناجائز ہو گیا؟؟
اتنی احتیاط کے ساتھ، اپنے لہجے تک کو کنٹرول کرتے ہوئے، بچ بچ کر چلتے ہوئے بھی سوشل میڈیا یوز کرنا اتنا بڑا جرم ہو گیا کہ ہمارے کردار ہی مشکوک ہو گئے؟؟؟؟
طلب علم کی حرص میں اہل علم حضرات سے استفادہ کی نیت سے فیس بک پر کنیکٹ ہونا اتنا بڑا جرم ہو گیا کہ ہر مرد ہمیں مفت کی پروپرٹی سمجھنے لگے اورفالتو میسج، آڈیو اور ویڈیو کال کرنا اپنا حق سمجھنے لگے؟؟
اور ہمیں اتنا بھی حق حاصل نہیں کہ احتجاج ہی کر سکیں؟؟؟
کسی کے قلم میں دم ہے تو لکھ دے کہ میں نے جو اعتراض کیا کہ مجھے کال نہ کرے فضول میسج نہ کرے یہ ڈیمانڈ ناجائز ہے......
بجائے اس کے کہ میری ڈیمانڈ پر غور کرتے ہوئے مجھ سے بات کرنے میں احتیاط کرتے الٹا یہ الزام لگا رہے ہیں کہ میں مشہور ہونا چاہتی ہوں؟؟؟
اور یہ بے تکے اعتراضات کرنے والے صرف مرد حضرات ہیں
کسی لڑکی نے نہیں کہا کہ میں نے غلط کیا ہے
مردوں نے ہی کہا ہے
کیا واقعی اس پریشانی کے عالم میں میرا احتجاج اس قابل تھا کہ بجائے سپورٹ کرنے کے سوال داغ دیا جاتا؟؟؟؟
دیکھیے
جس جس کو بھی عورتوں کے سوشل میڈیا پر آنے سے اعتراض ہے یا جو انبوکس میں ہی تشریف لانا چاہتے ہیں یا مجھ سے کوئی بھی پروبلم ہے وہ براہ کرم میری لسٹ سے نکل جائیں
ان شاء اللہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا
میری نیت طلب علم کی ہے تو اللہ رب العزت اہل علم سے رابطے کے اسباب پیدا کر دے گا
میں خود طالبہ ہوں، تبلیغی سرگرمیوں میں بھی شامل ہوں، ہزاروں خواتین سے ہر دوسرے دن خطاب رہتا ہے
بہت سی عورتیں دینی رہنمائی اور موجودہ زمانے کے جدید مسائل کے متعلق سوالات لیے گھر تک آتی ہیں
بے شمار چھوٹے بچے اور بچیاں علمی اور مذہبی تربیت کے لئے روزانہ آتے ہیں
ان کے ماں باپ جو تربیت اپنی کم علمی کی وجہ سے خود نہیں کر پاتے اس کے لیے ہمارے پاس بھیجتے ہیں
بچہ جب بات کرنے کے قابل ہوتا ہے تبھی مدرسہ بھیج دیا جاتا ہے ہم لوگوں کے پاس تربیت کے لئے
ان سب راستوں پر ثابت قدم رہنے کے لیے میرا خود اعلی تعلیم یافتہ ہونا اور جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی طور پر مسلح ہونا بہت زیادہ ضروری ہے
اس لیے نہ تو میں اہل علم سے علم سیکھنا چھوڑنے والی ہوں اور نہ ہی اس علم کا ذریعہ سوشل میڈیا چھوڑنے والی ہوں
جسے بھی اعتراض ہو اسے اجازت ہے وہ میری فرینڈ لسٹ چھوڑ دے
میں جیسی ہوں ویسی ہی رہوں گی
نہ میں نرم لہجہ اختیار کرنے والی ہوں اور نہ بدتمیزوں کو معاف کرنے والی ہوں
جتنا مرد ذات مجھے پریشان کرے گی میں انہیں مزید جوتی کی نوک پر رکھتی چلی جاؤں گی
اپنی عزت کروانی ہے تو عزت سے رہیں
ورنہ میں تو درگزر نہیں کروں
بے عزت کر کے ہی بلوک کروں گی
نوٹ:
وہ اہل علم حضرات جن سے میں خود رابطہ کرتی ہوں اور علمی مدد طلب کرتی ہوں ان سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس پوسٹ میں انہیں مخاطب کیا ہے
اہل علم حضرات ضرور میری غلطیوں کی اصلاح کریں
جہاں آپ کو لگے کہ یہ علمی بات عورتوں کو پتہ ہونی چاہیے وہ مجھ سے ضرور شئر کیجئے
مگر ہر شئرنگ کے ساتھ رہنمائی لکھیں کہ یہ پڑھیں یا غور کیجئے یا یہ چیز تربیت کے لئے مفید ہے یا یہ کتاب عورتوں کے پاس پہنچا دیں وغیرہ وغیرہ
تاکہ میں جلد بازی میں اہم باتیں نظر انداز نہ کر بیٹھوں
علمائے کرام بھی اس لہجے میں مخاطب نہیں ہیں اس وقت
در گذر فرمائیں
علمائے کرام اصلاح فرمائیں
شکریہ ( عروہ فاطمہ )
Forwarded from 🌷 مفتی فیضان سرور مصباحی🌹
29کے چاند کا شرعی ثبوت حاصل نہ ہو سکا۔اس لئے 30کا چاند مانا گیا۔جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے صدر شعبہ افتا و صدرالمدرسین حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی صاحب قبلہ نے ابھی بتایا کہ آج مورخہ23مارچ بروز جمعہ 4رجب المرجب ہے مورخہ 25مارچ بروز اتوار رجب کی 06تاریخ ہوگی۔۔نورالہدیٰ مصباحی گورکھپور ی میڈیا انچارج تنظیم ابناے اشرفیہ مبارک پور&روزنامہ راشٹریہ سہارا گورکھپور 9198203525