علیہ وسلم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے، کسی نے کہاکہ اسامہ کو اس کے حالات نے دہشت گرد نہیں بتایا ہے بلکہ اس کو اس کے مذہب اور اس کے رسول کی تعلیمات نے آتنک وادی بنایا ہے۔ ان حالات میں مطالعہ سیرت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے لیکن آج مطالعہ سیرت کی جہت ذرا مختلف ہونا چاہئے۔ جہاں تک سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اﷲً) دہشت گردی کے الزام کا رسول اہے تو یہ ان مستشرقین کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے جن کے دلوں میں اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بغض و عناد بھرا ہوا تھا۔ مگر اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خود ہم نے عملی طورپر دنیا کے سامنے اپنے مذہب ار اپنے رسول کو کس طرح پیش کیا ہے؟ شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہوکہ سیرت طیبہ پر جو سب سے پہلی کتاب لکھی گئی ہے اس کا نام "مغازی رسول" ہے یعنی حضور کے جنگی کارنامے۔ ہمارے یہاں بارہ ربیع الاول کے جلوس میں دو داڑھی والے حضرت عربی لباس میں ملبوس ہاتھ میں (لکڑی) کی تلواریں لئے ہوئے جلوس کے آگے آگے چلتے ہیں ممکن ہے یہ منظر اور جگہ بھی دیکھنے کو ملتا ہو، میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ آخر پیغمبر امن و سلامتی کے جشن ولادت کے موقع پر ہم ہاتھ میں تلوار لے کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حالانکہ اگر اعلان نبوت سے لے کر آپ کے وصال تک 23 سالہ زندگی کو مختلف کاموں پر تقسیم کرکے دیکھا جائے تو بڑے حیرت انگیزانکشافات ہوں گے۔ مثال کے طورپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوات میں شرکت فرمائی اگر ان سب کو جمع کرکے ان کے گھنٹے اور دن بنالئے جائیں تو معلوم ہوگا کہ ان 23برسوں میں صرف 6 ماہ ایسے ہیں جن میں آپ کے ہاتھ میں تلوار ہے، گویا ساڑھے بائیں سال میں آپ یا تو لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف فرمارہے ہیں یا پھر غریبوں اور مسکینوں کو مال تقسیم فرمارہے ہیں، یا لوگوں کے درمیان مساوات قائم فرمارہے ہیں، کبھی غلاموں، مزدوروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک فرمارہے ہیں اور اپنے صحابہ کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔ کبھی آپ عورتوں اور بیواؤں کے حقوق کے سلسلہ میں لوگوں کو متنبہ فرمارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر آپ ان 6ماہ (جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تلوار ہے) سے ان ساڑھے بائیس سال کا موازنہ کریں تو ایک نئی دنیا کی سیر ہوگی۔ یہاں یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ ان چھ مہینوں میں بھی آپ نے لوگوں کو ظلم و زیادتی سے بچانے کیلئے ار فتنہ و فساد رفع کرکے امن کے قیام کیلے تلوار اٹھائی ہے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت ہے کہ سیرت طیبہ کے ان ساڑھے بائیس برسوں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے۔ سیرت طیبہ سے متعلق ہمارے خطابات ہوں یا مضامین و مقالات ان میں عموماً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات یا آخرت میں آپ کی شفاعت اور اللہ کے نزدیک آپ کے مقام رفیع کا بیان ہماری توجہ کا مرکز ہوا کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کے بیان سے ہمارے ایمان بالرسول میں تازگی اور پختگی کا سامان ہوتاہے، مگر ساتھ ہی ہمیں آج کے بدلتے حالات میں زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبنہ کے ان گوشوں پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے جن میں فرد کی اصلاح اور ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کی سمت سفر کا آغاز کیا جاسکے۔ آج مطالعہ سیرت کی جہت کے تعین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں کو تحریراً، تقریراً اور عملاً سامنے لانے کی ضرورت ہے جن کا براہ راست تعلق انسان کی ہدایت و رہنمائی سے ہے، آپ کا اخلاق، صبر و رضا، قناعت و توکل، دشمنوں سے آپ کا حسن سلوک، مصیبت زدہ اور آفت رسیدہ انسانوں پر آپ کی شفقت و نوازش،غیر مسلموں کے ساتھ آپ کا حسن معاملہ وغیرہ تاکہ ایک طرف تو ہم اپنی قوم کے افراد کیلئے آپ کی زندگی کو "اسوہ حسنہ" یا بہترین نمونہ کے طورپر پیش کرسکیں، جس پر عمل کرکے ہم اعلیٰ انسانی اقدار سے متصف ہوکر ابدی سعادتوں سے بہرہ مند ہوں، ار دوسری طرف ہم دوسری اقوام کے سامنے اپنے رسول کا صحیح تعارف کرواسکیں جس سے اسلام کی دعوت اور غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کے راستے ہموار ہوں۔ آج اسلام دشمن میڈیا کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صرف دو چیزیں دی ہیں ایک تلوار اور دوسری چار شادیوں کی اجازت، اس مکروہ پروپگنڈہ کے جواب میں ہمیں مثبت طریقوں سے غیر مسلموں تک سیرت طیبہ کے اخلاقی و روحانی اور آفاقی پہلوؤں کو پہنچانے کی ضرورت ہے۔
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1006337783277124/
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1006337783277124/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM