🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
۔(۱)عن ابی قتادۃ ان رسول اللہ ﷺ سئل عن صوم الاثنین فقال فیہ ولدت وفیہ انزل علیّ(مسلم شریف،ج ۱،ص۳۶۸)”حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیرکے دن کاروزہ کے بارے میں پوچھاگیا(کہ آپ اس دن کاروزہ کس لئے رکھتے ہیں)آپ نے فرمایا(میں اس دن کاروزہ اس لیے رکھتاہوں)کہ یہ میرایوم میلادہے اوراسی دن مجھ پرنزول وحی کاآغازہوا”۔

۔(۲)اسی مسلم شریف میں حضرت ابوقتادہ کی روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیرکے دن کاروزہ کے بارے میں پوچھاگیا(کہ آپ اس دن کاروزہ کس لئے رکھتے ہیں)آپ نے فرمایا(میں اس دن کاروزہ اس لئے رکھتاہوں)کہ میں اسی دن پیداہوا،اسی دن مجھے مبعوث کیاگیا،اسی دن مجھ پرقرآن شریف نازل ہوا۔ّ(مسلم شریف،ج ۱،ص۳۶۸)۔

مذکورہ دونوں حدیثوں سے ثابت ہواکہ ہمارے آقاﷺ خود بھی اپنے یوم میلادکادوسرے دنوں کی بہ نسبت زیادہ اہتمام فرماتے تھے اوراظہارتشکروسرورکے لئے روزہ رکھتے تھے لہٰذایہ دن دوسرے دنوں کے بہ نسبت زیادہ عبادت کامستحق ہے چوں کہ آ پ ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پرمحفل میلادکااہتمام کرناباعث خیرو برکت ونجات ہے اس لئے دوسری عبادت کے ساتھ ساتھ آپ کے ذکرکی محافل کاانعقادکثرت سے کیاجاتاہے۔اوراس نعمت عظمیٰ کے حصول پراظہارتشکرکیاجاتاہے اورخوشی منائی جاتی ہے۔

لہٰذااس دن کوبطورعیدمنانا،اس کازیادہ اہتمام اوراظہارتشکروسرورقرآن وحدیث سے ثابت ہوا۔انفرادی طورپرمیلادشریف مناناتوعہدرسول کریم ﷺ اورعہد صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ثابت ہے جس پرمذکورہ حدیث کے علاوہ اوربھی دلائل ہیں۔ میلادشریف کی تقریبات کوہیٔت اجتماعی میں منانایہ اگرچہ عہدصحابہ ؓکے بعدمیں شروع ہوالیکن پھربھی حضورسرورکائنات ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک اچھی سنت اورکارثواب ہے۔اس تعلق سے حدیث پاک ملاحظہ ہو۔

حضرت جریررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:من سن فی الاسلام سنۃ فلہ حسنۃ اجرھاواجرمن عمل بھامن بعدہ(مسلم شریفـ:بحوالہ مشکوٰۃ،ص۳۳)کہ جس شخص نے اسلام میں کوئی نیا،اچھاطریقہ شروع کیااس کے لئے اس اچھائی کاثواب ہے اورجواس اچھے طریقے پراس کے بعدچلیں گے ان کا ثواب بھی” ۔

حدیث شریف سے پتہ چلتاہے کہ دین میں کوئی ایسانیاطریقہ اپناناجواسلامی اصولو ں کے خلاف نہ ہواگرچہ وہ نیاتوہے ہی ‘وہ نیاکام صرف جائزنہیں ہوگابلکہ سرورکائنات ﷺ کے فرمان گرامی کے مطابق اس پرثواب بھی ہوگا۔لہٰذامحافل میلادشریف کاانعقادکرکے تمام مسلمانو ں کواجتماعی طورپراس کارخیرمیں جمع کیاجاتاہے اورسیدعالم ﷺ کے میلاداورآپ کے فضائل کاذکرکرکے ان مسلمانوں کے دلو ں کوجان بخشی جاتی ہے جوسیدعالم ﷺ کے میلاداورآپ کے اصحاب ؓ کازمانہ نہ پاسکے ،لہٰذ میلادالنبیﷺ کی خوشیاں ہمیں اس مقدس عہدکے قریب کرنے کاایک وسیلہ ہے جسے ہم اپنے زمانہ کے لحاظ سے پانہ سکے۔

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ میلادالنبی ﷺکی خوشی پربخاری ومسلم شریف کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:بخاری ومسلم میں ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ شریف تشریف لائے توآپ نے یہودیوں کوعاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا،آپ نے ان سے پوچھاکہ ایساکیوں کرتے ہوتوانہوں نے کہاکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کوغرق کردیاتھااورحضرت موسیٰ علیہ السلام کونجا ت دی تھی ہم اللہ تعالیٰ کاشکراداکرنے کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔

اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ جس متعین دن میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطاکی ہے یاکوئی بلاٹالی ہے تووہ خاص دن جب بھی آئے اس نعمت کاشکراداکرناچاہئے اورشکرنماز،روزہ،صدقہ،تلاوت قرآن کریم اوردوسری عبادتوں سے اداہوتاہے اورحضورنبی رحمت کی ولادت اورآپ کے ظہورسے بڑھ کرکونسی نعمت ہے؟اس لیے جب ولادت کادن آئے تواس میں انواع واقسام کی عبادتوں سے اللہ کاشکراداکرناچاہئے۔(بحوالہ شرح مسلم،ج۳،ص۱۷۶)۔

ٰٰیہی امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ میلادالنبی کے موقع پربیہقی شریف کی ایک حدیث پاک سے خوشی منانے پردلیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:مجھ پراورایک دلیل ظاہرہوئی وہ یہ ہے کہ سنن بیہقی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اعلان نبوت کے بعدنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوداپناعقیقہ کیاحالانکہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ کے داداحضرت عبدالمطلب نے آپ کی ولادت کے ساتویں دن آپ کاعقیقہ کردیاتھااورعقیقہ دوبارنہیں کیاجاتاتومعلوم ہواکہ آپ نے یہ عقیقہ اپنی پیدائش اوراللہ تعالیٰ کاآپ کوسارے جہان کے لئے رحمۃ للعالمین بناکربھیجنے پراللہ تعالیٰ کاشکراداکرنے کے لئے کیاتھالہٰذاہمارے لئے یہ مستحب ہے کہ ہم آپ کی ولادت کے دن میں محفلیں منعقدکریں،کھاناکھلائیں،دیگرتقریبات کاانعقادکریں،عبادت زیادہ سے زیادہ کریںاورآپ کی ولادت پرخوشیوں کااظہارکریں۔(حوالہ سابق)۔
ٓاوپرکی حدیثوں سے یہ بات بالکل صاف ظاہرہوگئی کہ میلادالنبی کے موقع پرخوشیامنانااللہ جل جلالہ ،حضورنبی اکرم ﷺ اورصحابہ کرام کی سنت ہے اس لئے بزرگان دین نے کثیرتعدادمیں اس کے فضائل وبرکات بیان فرمائے ہیں۔ مجمع بحارالانوارمیں ہے:شھرالسروروالبھجۃ مظھرمنبع الانواروالرحمۃ شھرربیع الاول فانہ شھرامرناباظہارالجورفیہ کل عام۔(ج۵،ص۳۰۷،خاتمۃ الکتاب)۔

ربیع الاول خوشی وشادمانی کامہینہ ہے اورسرچشمۂ انوارورحمت ﷺ کازمانۂ ظہورہے،ہمیں حکم ہے کہ ہرسال اس میں خوشی کریں۔علامہ سیداحمدزینی دحلان مکی فرماتے ہیں:حضوراکرم ﷺ کی تعظیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کی ولادت والی رات میں خوشی منائے ،تذکرۂ ولادت کرے اورذکرولادت کے وقت قیام کرے،لوگوں کوکھاناکھلائے اوران کے علاوہ دیگرامورخیربھی انجام دے جن کے کرنے کے لوگ عادی ہیں ،اس لئے کہ یہ سب کام حضوراقدس ﷺ کی تعظیم میں شمارہوتے ہیں۔(الدررالسنیۃ)۔

”حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے وقت رب تبارک وتعالیٰ نے جشن کااہتمام فرمایا”
حضوراکرم ﷺ کی پیدائش مبارک کے پورے سال میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کانزول جاری رہااللہ تعالیٰ نے دنیامیں اپنے محبوب کی آمدکے موقع پرمشرق سے لے کرمغرب تک کائنات کی ہرچیزکوروشن ومنورفرمادیا۔ حضرت آمنہ اپنے عظیم الشان لخت جگرکی پیدائش کوبیان کرتی ہوئیں فرماتیں ہیں:فلمافصل منی خرج معہ نوراضاء لہ مابین المشرق الی المغرب۔(الخصائص الکبریٰ،ج۱،ص۴۶)جب سرورکائنات کاظہورہواتوساتھ ہی ایسانورنکلاجس سے مشرق ومغرب سب روشن ہوگئے۔

آپ ہی سے ایک روایت یوں مروی ہے:بے شک مجھ سے ایسانورنکلاجس کی روشنی سے بصریٰ کے محلات میری نظروں کے سامنے روشن اورواضح ہوگئے میں نے بصریٰ میں چلنے والے اونٹوں کی گردنوں کوبھی دیکھ لیا۔(البدایہ والنہایہ:ج۲،ص۲۷۵)۔

فضائل وسیرت کی کتابوں میں یہ روایتیں ملتی ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی ولادت پراس طرح خوشی کااظہارفرمایاکہ سال بھرکے لئے پوری زمین کو سر سبز و شاداب کردیا اور روئے زمین کے تمام سوکھے درختوں کو پھلوں سے لبریز کردیا

ہرطرف رحمتوں اور برکتوں کی بوچھار فرمادی اور قحط سالی میں مبتلا لوگو ں کے رزق میں اتنی کشادگی فرمادی کہ وہی قحط زدہ سال سرکار مصطفی ﷺ کی آمد کی برکت سے خوشی وفرحت والاسال کہلایا

چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ :جس سال نورے محمدی ﷺ حضرت آمنہ کوودیعت ہواوہ فتح ونصرت،تروتازگی،اورخوشحالی کاسال کہلایا۔قریش اس سے پہلے سخت قحط سالی میں مبتلاتھے۔ولادت کی برکت سے زمین ہری بھری ہوگئی،اوردرختوں کوپھلوں سے لاددیاگیا،قریش اس سال ہرطرف سے خیرکثیرآنے کی وجہ سے خوشحال ہوگئے۔(السیرۃ الحلبیہ،ج۱،ص۷۸)۔

عرب میں جس کے یہاں بچی پیداہوتی اہل عرب اس کو منحوس سمجھتے اور اس کے والدین کوحقارت وذلت کی نگاہ سے دیکھتے نتیجۃ والدین بچی کی پیدائش سے غمگین ہوتے اورلڑکے کی پیدائش پرخوش ہوتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی ولادت کے جشن میں پورے عرب بلکہ پوری دنیاکوشامل کرنے کے لی ے اس سال اتنالطف وکرم فرمایاکہ ہرعورت کے یہاں لڑکاپیداہوا۔

ایک روایت عمرو بن قتیبہ سے ہے کہ :میں نے اپنے والد سے سنا جوبہت بڑے عالم تھے کہ جب حضرت آمنہ کے یہاں ولادت باسعادت کاوقت قریب آیاتواللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تمام آسمانوں اورجنتوں کے دروازے کھول دو ۔

اور اس دن سورج کو عظیم نورپہنایاگیا اوراس سال اللہ تعالیٰ نے دنیا بھرکی عورتوں کے لیے یہ حکم نافذکردیا کہ وہ محمدﷺ کی آمدکی برکت سے لڑکے جنیں۔(انوارمحمدکہ،ص۲۲/السیرۃ الحلبیہ،ج۱،ص۷۸)۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 محمد صدر عالم مصباحی، امام روشن مسجد، میسورروڈ،بنگلور26*
09620747322
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹رحمۃ للعالمین ﷺ کی بعثت کا
پیغام انسانیت کے نام قِسط ⁰¹تا¹⁰
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#جشن_عید_میلاد_النبی_ﷺ
#ماہ_ربیع_النور #ماہ_ربیع_الاول
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹رحمۃ للعالمین ﷺ کی بعثت کا
پیغام انسانیت کے نام قِسط ¹¹تا²⁰