کچھ لوگ کہتے ہین جو سنت نہین وہ بدعت ہے، یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اوپر احادیث کی زبانی بتایا جا چکا ہے کہ جو کام سنت نا ہو وہ جائز بھی کہلا سکتا ہے، سنت کے بعد جائز بھی ایک قیمتی چیز ہے، جائز بھی دین کی تعلیمات میں سے ہے.. سنت سنت کی رٹ لگانے کے ساتھ ساتھ جائز جائز کی رٹ لگانا بھی ضروری ہے..
.
پھر آخر بدعت ہے کیا.....؟؟
ایات احادیث میں غور کرکے بدعت کی تعریف اخذ کی گئ ہے جسے علماء کرام نے جامع انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے کہ:
المراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع،،ویسمی فی عرف الشرع بدعۃ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعۃ
فالبدعۃ فی عرف الشرع مذمومۃ بخلاف اللغۃ
ترجمہ:
بدعت اس نئ چیز کو کہتے ہیں جسکی شریعت میں کوئ اصل نا ہو،،شریعت میں اسی کو بدعت کہا جاتا ہے
اور
جس نئے کام کی اصل ہو کہ اس پر شریعت رہنمائ کرے وہ تو بدعت نہیں، بدعۃ شریعت میں مذموم ہی ہوتی ہے"با خلاف لغت کے"
(فتح الباری 13/253
حاشیہ اصول الایمان ص126
اصول الرشاد ص64
مرعاۃ،عمدۃ القاری، مجمع بحار الانوار
فتح المبین،وغیرہ بہت کتابوں میں بھی یہی تعریف ہے
جن تین کتابوں کا مکمل حوالہ لکھا ہے وہ اس لیے کہ پہلی کتاب تمام کے ہاں معتبر ہے خاص کر اہل حدیث کے لیے
اور دوسری کتاب وہابیوں کی ہے سعودی عرب کی حکومت نے چھاپی ہے اور تیسری کتاب امام احمد رضا کے والد صاحب کی کتاب ہے)
.
نوٹ:
صحابہ کرام کا فتویٰ:
یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے
(بخاری جلد2 صفحہ707)
یہ فتوی دیگر بہت کتابوں میں بھی ہے
سنی وہابی نجدی شیعہ اہل ھدیث وغیرہ تمام کی کتابوں.میں "موضوع حدیث" لفظ بولا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں کوئ "حدیث" موضوع نہیں ہوتی ..اسکو فقط ظاہر کے لحاظ سے اور لغت و معنی مجاز کے لحاظ سے "حدیث" کہا جاتا ہے
اسی طرح "اچھی بدعت" حقیقت میں بدعت نہیں اسے فقط ظاہر کے لحاظ سے لغت و مجاز کے لحاظ سے بدعت کہا جاتا ہے... اوپر صحابہ کرام کے فتوے میں جو اچھی بدعت فرمایا گیا وہ بھی حقیقت میں بدعت نہیں...اسے ظاہر و لغت کے لحاظ سے بدعت فرمایا گیا ہے... بدعت کی جو پانچ اقسام بتائی جاتی ہیں وہ بھی دراصل ظاہر و لغت کے لحاظ سے ہیں ورنہ بدعت حسنہ حقیقتا بدعت ہی نہیں، بدعت کی تعریف میں"بخلاف لغت کے" الفاظوں میں اسی چیز کو بیان کیاگیا ہے
.
سوال⑥:
*آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل وہ دلائل پیش کریں*
جواب:
علماء کرام نے باقاعدہ میلاد پر کتابیں لکھی ہین اور قرآن و سنت سے کئ دلائل پیش کیے ہیں، یہاں تمام دلائل کا احاطہ مقصود نہیں..چند دلائل پیش ہیں
.
دلیل:1
القرآن...ترجمہ:
اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو..(سورہ والضحی آیت11)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہین..(بخاری2/41)
میلاد میں اللہ کریم کی عظیم نعمت یعنی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچہ ہی تو ہوتا ہے
.
دلیل:2
القرآن...ترجمہ:
کہہ دیجیے اللہ کے فضل و رحمت اور اسی پر خوشی کرنا چاہیے..(سورہ یونس آیت58)
میلاد میں اللہ کی عظیم رحمت اور اللہ کی عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے
.
دلیل:3
نبی پاک نے کئ بار ایک طریقے سے میلاد منایا...نبی پاک سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئ تو آپ نے فرمایا:
یہ دن میری ولادت کا دن ہے..(مسلم1/368)
یہ حدیث بے شمار کتابوں مین ہے
.
دلیل:4
اسی طرح صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے
دیکھیے ابو داود 1/331)
.
دلیل:5
نبی پاک کی ولادت پر عقیقہ ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے دوبارہ اپنا عقیقہ کیا جو کہ میلاد کی دلیل ہے
دیکھیے سنن کبری 9/300 فتح الباری9/595)
.
دلیل:6
صحابہ کرام ایک دن محفل سجائے بیٹھے تھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے حمد کر رہے تھے، نبی پاک کی آمد و بعثت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اللہ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے تو نبی پاک نے صحابہ کرام سے فرمایا:
اللہ فرشتوں سے تم پر فخر کر رہا ہے...(صحیح سنن نسائی حدیث5426) مسند احمد طبرانی وغیرہ کتب مین بھی یہ واقعہ درج ہے
.
دلیل:7
ہر سال ایام معین کرکےمیلاد منانےکی ایک دلیل..........!!
الحدیث:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ «أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ» فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے *#شکر* میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
.
پھر آخر بدعت ہے کیا.....؟؟
ایات احادیث میں غور کرکے بدعت کی تعریف اخذ کی گئ ہے جسے علماء کرام نے جامع انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے کہ:
المراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع،،ویسمی فی عرف الشرع بدعۃ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعۃ
فالبدعۃ فی عرف الشرع مذمومۃ بخلاف اللغۃ
ترجمہ:
بدعت اس نئ چیز کو کہتے ہیں جسکی شریعت میں کوئ اصل نا ہو،،شریعت میں اسی کو بدعت کہا جاتا ہے
اور
جس نئے کام کی اصل ہو کہ اس پر شریعت رہنمائ کرے وہ تو بدعت نہیں، بدعۃ شریعت میں مذموم ہی ہوتی ہے"با خلاف لغت کے"
(فتح الباری 13/253
حاشیہ اصول الایمان ص126
اصول الرشاد ص64
مرعاۃ،عمدۃ القاری، مجمع بحار الانوار
فتح المبین،وغیرہ بہت کتابوں میں بھی یہی تعریف ہے
جن تین کتابوں کا مکمل حوالہ لکھا ہے وہ اس لیے کہ پہلی کتاب تمام کے ہاں معتبر ہے خاص کر اہل حدیث کے لیے
اور دوسری کتاب وہابیوں کی ہے سعودی عرب کی حکومت نے چھاپی ہے اور تیسری کتاب امام احمد رضا کے والد صاحب کی کتاب ہے)
.
نوٹ:
صحابہ کرام کا فتویٰ:
یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے
(بخاری جلد2 صفحہ707)
یہ فتوی دیگر بہت کتابوں میں بھی ہے
سنی وہابی نجدی شیعہ اہل ھدیث وغیرہ تمام کی کتابوں.میں "موضوع حدیث" لفظ بولا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں کوئ "حدیث" موضوع نہیں ہوتی ..اسکو فقط ظاہر کے لحاظ سے اور لغت و معنی مجاز کے لحاظ سے "حدیث" کہا جاتا ہے
اسی طرح "اچھی بدعت" حقیقت میں بدعت نہیں اسے فقط ظاہر کے لحاظ سے لغت و مجاز کے لحاظ سے بدعت کہا جاتا ہے... اوپر صحابہ کرام کے فتوے میں جو اچھی بدعت فرمایا گیا وہ بھی حقیقت میں بدعت نہیں...اسے ظاہر و لغت کے لحاظ سے بدعت فرمایا گیا ہے... بدعت کی جو پانچ اقسام بتائی جاتی ہیں وہ بھی دراصل ظاہر و لغت کے لحاظ سے ہیں ورنہ بدعت حسنہ حقیقتا بدعت ہی نہیں، بدعت کی تعریف میں"بخلاف لغت کے" الفاظوں میں اسی چیز کو بیان کیاگیا ہے
.
سوال⑥:
*آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل وہ دلائل پیش کریں*
جواب:
علماء کرام نے باقاعدہ میلاد پر کتابیں لکھی ہین اور قرآن و سنت سے کئ دلائل پیش کیے ہیں، یہاں تمام دلائل کا احاطہ مقصود نہیں..چند دلائل پیش ہیں
.
دلیل:1
القرآن...ترجمہ:
اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو..(سورہ والضحی آیت11)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہین..(بخاری2/41)
میلاد میں اللہ کریم کی عظیم نعمت یعنی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچہ ہی تو ہوتا ہے
.
دلیل:2
القرآن...ترجمہ:
کہہ دیجیے اللہ کے فضل و رحمت اور اسی پر خوشی کرنا چاہیے..(سورہ یونس آیت58)
میلاد میں اللہ کی عظیم رحمت اور اللہ کی عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے
.
دلیل:3
نبی پاک نے کئ بار ایک طریقے سے میلاد منایا...نبی پاک سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئ تو آپ نے فرمایا:
یہ دن میری ولادت کا دن ہے..(مسلم1/368)
یہ حدیث بے شمار کتابوں مین ہے
.
دلیل:4
اسی طرح صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے
دیکھیے ابو داود 1/331)
.
دلیل:5
نبی پاک کی ولادت پر عقیقہ ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے دوبارہ اپنا عقیقہ کیا جو کہ میلاد کی دلیل ہے
دیکھیے سنن کبری 9/300 فتح الباری9/595)
.
دلیل:6
صحابہ کرام ایک دن محفل سجائے بیٹھے تھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے حمد کر رہے تھے، نبی پاک کی آمد و بعثت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اللہ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے تو نبی پاک نے صحابہ کرام سے فرمایا:
اللہ فرشتوں سے تم پر فخر کر رہا ہے...(صحیح سنن نسائی حدیث5426) مسند احمد طبرانی وغیرہ کتب مین بھی یہ واقعہ درج ہے
.
دلیل:7
ہر سال ایام معین کرکےمیلاد منانےکی ایک دلیل..........!!
الحدیث:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ «أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ» فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے *#شکر* میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم فرمایا۔
[صحيح البخاري ,4/153حدیث3397]
ایسی حدیث پاک مسلم ابن ماجہ طبرانی شعب الایمان صحیح ابن حبان وغیرہ کئ کتب میں ہے
.
علامہ شامی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ:
فيستفاد من فعل ذلك شكرا لله تعالى على ما من به في يوم معين من إسداء نعمة أو دفع نقمة، ويعاد ذلك في نظير ذلك اليوم من كل سنة، والشكر لله تعالى يحصل بأنواع العبادات والسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي الكريم نبيّ الرحمة في ذلك اليوم؟
ترجمہ:
اس حدیث پاک اور نبی پاک و صحابہ کرام کے اس فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پر کسی معین دن میں کوئی نعمت ملی ہو یا عذاب و برائی ٹلی ہو اس دن اللہ تعالیٰ شکر کا دن منانا چاہیے اور یہ دن ہر سال منانا چاہیے اور مختلف قسم کی عبادات سجود روزے صدقہ تلاوت وغیرہ بہت طریقوں سے شکر ادا کیاجاسکتا ہے اور ہمارے پیارے نبی رحمت کی جس دن دنیا میں تشریف آوری ہوئی اس دن سے بڑھ کر شکر و نعمت والا دن بھلا کوئی ہوسکتا ہے....؟؟(لیھذا ہر سال یوم ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی جشن منا کر ، روزہ نوافل صدقہ خیرات کرکے مختلف نیکیاں و عبادات کرکے کسی بھی نئے پرانے اچھے طریقے سے شکر و نعمت کے دن کے طور پر منانا مذکورہ حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے)
[سبل الهدى والرشاد1/444]
.
نوٹ:
الحدیث:
صوموا يوم عاشوراء,وخالفوا اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوما...ترجمہ:
عاشورہ(دس محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو(اس طرح)کہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو...(صحیح ابن خزیمہ حدیث2095)
.
اور بھی بہت دلائل علماء کرام نے کتابوں میں لکھے ہیں، عربی اردو مین میلاد پر کتابیں لکھی گئی ہیں، دو چار کتب تو ضرور پڑھنی چاہیے...
.
⑦میلاد پے لاکھوں عاشقانِ رسول اور مسجدیں ویران
یہ عاشقِ رسول ہیں یا بدعتی ٹھگ جعلی عاشق......؟؟
.
سوال:
فیس بک پر ایک صاحب کی تحریر پڑھی، خلاصہ یہ تھا کہ میلاد پر گلی گلی کوچہ کوچہ ہزاروں لاکھوں عاشقانِ رسول نکلتے ہیں مگر مسجدیں ویران....یہ میلادی عاشقِ رسول نہیں بدعتی ٹھگ ہیں
.
جواب:
الحدیث:
ایک صحابی تھے جنکا لقب حمار رضی اللہ عنہ تھا، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور آپ علیہ السلام بھی ان سے بڑا پیار کرتے تھے
وہ صحابی شراب مکمل چھوڑ نہ پائے، ایک دفعہ شراب پینے کے جرم و گناہ میں حضور کے پاس لائے گئے تو ایک صحابی کہنے لگے:
اللَّهُمَّ العَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟
ترجمہ: اے اللہ اس پر لعنت فرما، کتنی دفعہ یہ شراب پینے کے جرم مین لایا گیا ہے
یہ سن کر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»
ترجمہ:
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لعنت مت کرو، اللہ کی قسم میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے..(بخاری حدیث6780)
.
.
شراب نوشی کتنا بڑا جرم و گناہ ہے.......؟؟
القرآن:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ترجمہ:
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ..(سورہ مائدہ آیت90)
.
شراب کی مذمت میں بہت سی آیات و احادیث ہیں حتی کہ ترمذی کی ایک حدیث میں اسے لعنتی عمل تک کہا گیا
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر۔( ترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً،۳/۴۷، الحدیث: ۱۲۹۹)
مگر
یہی بدعمل برا عمل اگر ایسے شخص سے ہو جس میں عشقِ رسول کے آثار ہوں تو اسے لعنتی مردود کہنے کے بجائے محبِ رسول کہا رسول کریم نے..........!!
حضور اکرم کا یہ انداز یقینا شراب نوشی کی حمایت میں نہین تھا بلکہ آپ نے اس عاشقِ رسول شراب پینے والے صحابی کو سزا بھی دی اور یقینا سمجھاتے بھی رہے، منع بھی کرتے رہے مگر عاشقِ رسول پھر بھی کہا جعلی عاشق ٹھگ منافق نہ کہا...گناہ بدعملی کی وجہ سے عشقِ الہی اور عشقِ رسول کی نفی نہیں کی جاسکتی،جعلی عاشق منافقت و ڈھونگ نہیں کہہ سکتے بلکہ محب رسول ہی کہا جائے گا اور عمل کرنے کے لیے سمجھایا جایا جائے گا
.
[صحيح البخاري ,4/153حدیث3397]
ایسی حدیث پاک مسلم ابن ماجہ طبرانی شعب الایمان صحیح ابن حبان وغیرہ کئ کتب میں ہے
.
علامہ شامی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ:
فيستفاد من فعل ذلك شكرا لله تعالى على ما من به في يوم معين من إسداء نعمة أو دفع نقمة، ويعاد ذلك في نظير ذلك اليوم من كل سنة، والشكر لله تعالى يحصل بأنواع العبادات والسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي الكريم نبيّ الرحمة في ذلك اليوم؟
ترجمہ:
اس حدیث پاک اور نبی پاک و صحابہ کرام کے اس فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پر کسی معین دن میں کوئی نعمت ملی ہو یا عذاب و برائی ٹلی ہو اس دن اللہ تعالیٰ شکر کا دن منانا چاہیے اور یہ دن ہر سال منانا چاہیے اور مختلف قسم کی عبادات سجود روزے صدقہ تلاوت وغیرہ بہت طریقوں سے شکر ادا کیاجاسکتا ہے اور ہمارے پیارے نبی رحمت کی جس دن دنیا میں تشریف آوری ہوئی اس دن سے بڑھ کر شکر و نعمت والا دن بھلا کوئی ہوسکتا ہے....؟؟(لیھذا ہر سال یوم ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی جشن منا کر ، روزہ نوافل صدقہ خیرات کرکے مختلف نیکیاں و عبادات کرکے کسی بھی نئے پرانے اچھے طریقے سے شکر و نعمت کے دن کے طور پر منانا مذکورہ حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے)
[سبل الهدى والرشاد1/444]
.
نوٹ:
الحدیث:
صوموا يوم عاشوراء,وخالفوا اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوما...ترجمہ:
عاشورہ(دس محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو(اس طرح)کہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو...(صحیح ابن خزیمہ حدیث2095)
.
اور بھی بہت دلائل علماء کرام نے کتابوں میں لکھے ہیں، عربی اردو مین میلاد پر کتابیں لکھی گئی ہیں، دو چار کتب تو ضرور پڑھنی چاہیے...
.
⑦میلاد پے لاکھوں عاشقانِ رسول اور مسجدیں ویران
یہ عاشقِ رسول ہیں یا بدعتی ٹھگ جعلی عاشق......؟؟
.
سوال:
فیس بک پر ایک صاحب کی تحریر پڑھی، خلاصہ یہ تھا کہ میلاد پر گلی گلی کوچہ کوچہ ہزاروں لاکھوں عاشقانِ رسول نکلتے ہیں مگر مسجدیں ویران....یہ میلادی عاشقِ رسول نہیں بدعتی ٹھگ ہیں
.
جواب:
الحدیث:
ایک صحابی تھے جنکا لقب حمار رضی اللہ عنہ تھا، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور آپ علیہ السلام بھی ان سے بڑا پیار کرتے تھے
وہ صحابی شراب مکمل چھوڑ نہ پائے، ایک دفعہ شراب پینے کے جرم و گناہ میں حضور کے پاس لائے گئے تو ایک صحابی کہنے لگے:
اللَّهُمَّ العَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟
ترجمہ: اے اللہ اس پر لعنت فرما، کتنی دفعہ یہ شراب پینے کے جرم مین لایا گیا ہے
یہ سن کر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»
ترجمہ:
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لعنت مت کرو، اللہ کی قسم میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے..(بخاری حدیث6780)
.
.
شراب نوشی کتنا بڑا جرم و گناہ ہے.......؟؟
القرآن:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ترجمہ:
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ..(سورہ مائدہ آیت90)
.
شراب کی مذمت میں بہت سی آیات و احادیث ہیں حتی کہ ترمذی کی ایک حدیث میں اسے لعنتی عمل تک کہا گیا
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر۔( ترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً،۳/۴۷، الحدیث: ۱۲۹۹)
مگر
یہی بدعمل برا عمل اگر ایسے شخص سے ہو جس میں عشقِ رسول کے آثار ہوں تو اسے لعنتی مردود کہنے کے بجائے محبِ رسول کہا رسول کریم نے..........!!
حضور اکرم کا یہ انداز یقینا شراب نوشی کی حمایت میں نہین تھا بلکہ آپ نے اس عاشقِ رسول شراب پینے والے صحابی کو سزا بھی دی اور یقینا سمجھاتے بھی رہے، منع بھی کرتے رہے مگر عاشقِ رسول پھر بھی کہا جعلی عاشق ٹھگ منافق نہ کہا...گناہ بدعملی کی وجہ سے عشقِ الہی اور عشقِ رسول کی نفی نہیں کی جاسکتی،جعلی عاشق منافقت و ڈھونگ نہیں کہہ سکتے بلکہ محب رسول ہی کہا جائے گا اور عمل کرنے کے لیے سمجھایا جایا جائے گا
.
کچھ میلادی بے عمل، بدعمل ہوسکتے ہیں بلکہ ہوتے ہیں مگر میلادی عاشقِ رسول ضرور ہیں، بدعتی ٹھگ جعلی عاشقِ رسول نہیں...ہرگز نہیں...
میلاد عشقِ نبی کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، ایسے بدعمل عاشقِ رسول کو سمجھایا جاءے مگر ان سے عشقِ رسول کی نفی نہیں کرسکتے......ہرگز نہیں
.
نوٹ:
کسی صحابی کو شرابی گناہ گار نہیں کہہ سکتے کیونکہ صرف اور صرف دو چار صحابہ کرام سے اگر گناہ ہو بھی گئے تو انہوں نے توبہ کرلی، مجتنب رہے، اور جراءم و گناہ پر حد.و.سزا پا کر پاک پاکیزہ ہوگئے....توبہ و سزا سے پاک ہوجانے کے بعد انکا کوئی گناہ ثابت نہیں....لہھذا وہ توبہ و سزا پاکر پاک ہوگئے... توبہ و سزا کے بعد انہیں گناہ گار فاسق نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ان فضائل کے بیان کے حقدار ہین کہ جو صحابہ کرام کے متعلق آئے...صحابہ کرام کی تفسیق و مذمت جائز نہین بلکہ تعریف و بیان تطہیر لازم و فرض ہے........!!
.
.
⑧جلوس جھنڈے محافل جھومنا:
*میلاد اسٹیج نعت*
نبی علیہ الصلاۃ والسلام حضرت حسان کے لیے منبر (اسٹیج) رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہوکر شانِ مصطفی بیان کرتے، نعتِ نبی بیان کرتے، کافروں مشرکوں کی مذمت بیان کرتے تھے، نبی پاک کا دفاع بیان کرتے تھے..
(دیکھیے بخاری حدیث3212 ترمذی حدیث2846)
.
*میلاد ولادت اور سلام*
القرآن..ترجمہ:
مجھ(حضرت عیسی علیہ السلام) پر سلام ہو میری ولادت کے دن..(سورہ مریم آیت33)
.
*میلاد جلسے جلوس نعت جھنڈے
نعرے*
جب نبی پاک مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت عظیم الشان جلوس کے ساتھ آپ علیہ السلام کا استقبال کیا گیا، طلع البدر علینا اور دیگر نعت پڑھی گئ، جھنڈا نہین تھا تو ایک صحابی نے اپنے عمامے کو اتار کر بڑا جھنڈا بنا لیا، یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگائے گئے
(دیکھیے الوفا247 بخاری1/555 مسلم2/419)
.
بسکٹ وغیرہ میلاد کا لنگر عوام کیطرف پھینکنا بےادبی،ضیاع کاخطرہ اس لیے منع و گناہ ہے! ایسا نہ کریں لنگر سلیقےسےبانٹیں (دیکھیے احکام شریعت1/88)
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کیا:
نہیں،اللہ کی قسم آپﷺکا نام مبارک کبھی نہیں مٹاؤنگا…پھر نبی پاک نےخود مٹایا(ماخذ بخاری حدیث3184)
نیکی روزہ نوافل تلاوت درود ،جائز خوشی،عبادات خیرات کرکے میلاد منانا بہتر…میلاد پےکیک کاٹیں یا نہ ، یہ مسلہ اپنی جگہ مگر کم سےکم کیک پےنام مبارک تو ہرگز ہرگز نہ لکھا جائےکہ نام مٹےگا جو عشاق کا طریقہ نہیں،ہاں ضرورتا لکھنا مٹانا جائز جیسےبلیک بورڈ
.
معتدل جھومنا.................!!
الحدیث:
عن علي قال: أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم - وجعفر وزيد، قال: فقال لزيد: أنت مولاي، فحجل! قال: وقال لجعفر: أنت أشبهت خلقى وخلقي، قال: فحجل وراء زيد! قال لي: أنت مني وأنا منك، قال: فحجلت وراء جعفر
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت جعفر اور حضرت زید رضی اللہ عنھم اجمعین تینوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے
حضور نے حضرت زید کہا "انت مولائی"(یہ سن کر حضرت زید خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگے
پھر
حضور نے حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو(یہ سن کر حضرت جعفر خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر حضرت زید کے پیچھے جھومنے لگے
پھر
حضور نے مجھ(حضرت علی) سے کہا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(تو یہ سن کر خوشی سے) میں حضرت جعفر کے پیچھے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگا
(مسند احمد حدیث857)
.
امام بیھقی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں
فَالرَّقْصُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِي الْجَوَازِ
ترجمہ:
اس قسم سے ملتا جلتا(غیرِ فحش)رقص و جھومنا جائز ہے
(سنن کبری بیھقی1/382)
.
حمد و نعت ، نثر و بیان میں اللہ اور اسکے رسول کی محبت و تذکرے میں اور خاص کر میلاد کے مواقع پر معتاد بلاترتیبِ رقاصِ مذموم محض جھومنا جائز و ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، ایسا نہیں کہ جو نہ جھومے وہ محب نہیں....ہرگز نہیں، اور اسی طرح بلادلیل و شواہد جھومنے والوں پر دکھاوے جہالت و مذمت کے فتوے لگانا بھی ٹھیک نہیں..
.
ہم معتدل جھومنے کو جاءز کہتے ہین مگر ڈھول دھماکے ناچ گانے اور عورتون مردوں کے اختلاط کو ہر گز جائز نہیں سمجھتے....ہم اہلسنت ہمیشہ لکھتے رہتے ہین ، کہتے رہتے ہیں کہ میلاد گناہوں خرافات سے پاکیزہ ہونا ضروری ہے....کچھ جاہل لوگ یا سازشی لوگ میلاد پے ایسی خرافات کرتے ہیں تو ان خرافات کی مذمت کیجیے میلاد کی مزمت و تردید مت کیجیے بلکہ میلاد کو پاکیزہ رکھنے کی ہدایات و تلقین کیجیے.
.
مخالفین اور ہمارے معتبر عالمِ دیں، عظیم شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
میلاد عشقِ نبی کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، ایسے بدعمل عاشقِ رسول کو سمجھایا جاءے مگر ان سے عشقِ رسول کی نفی نہیں کرسکتے......ہرگز نہیں
.
نوٹ:
کسی صحابی کو شرابی گناہ گار نہیں کہہ سکتے کیونکہ صرف اور صرف دو چار صحابہ کرام سے اگر گناہ ہو بھی گئے تو انہوں نے توبہ کرلی، مجتنب رہے، اور جراءم و گناہ پر حد.و.سزا پا کر پاک پاکیزہ ہوگئے....توبہ و سزا سے پاک ہوجانے کے بعد انکا کوئی گناہ ثابت نہیں....لہھذا وہ توبہ و سزا پاکر پاک ہوگئے... توبہ و سزا کے بعد انہیں گناہ گار فاسق نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ان فضائل کے بیان کے حقدار ہین کہ جو صحابہ کرام کے متعلق آئے...صحابہ کرام کی تفسیق و مذمت جائز نہین بلکہ تعریف و بیان تطہیر لازم و فرض ہے........!!
.
.
⑧جلوس جھنڈے محافل جھومنا:
*میلاد اسٹیج نعت*
نبی علیہ الصلاۃ والسلام حضرت حسان کے لیے منبر (اسٹیج) رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہوکر شانِ مصطفی بیان کرتے، نعتِ نبی بیان کرتے، کافروں مشرکوں کی مذمت بیان کرتے تھے، نبی پاک کا دفاع بیان کرتے تھے..
(دیکھیے بخاری حدیث3212 ترمذی حدیث2846)
.
*میلاد ولادت اور سلام*
القرآن..ترجمہ:
مجھ(حضرت عیسی علیہ السلام) پر سلام ہو میری ولادت کے دن..(سورہ مریم آیت33)
.
*میلاد جلسے جلوس نعت جھنڈے
نعرے*
جب نبی پاک مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت عظیم الشان جلوس کے ساتھ آپ علیہ السلام کا استقبال کیا گیا، طلع البدر علینا اور دیگر نعت پڑھی گئ، جھنڈا نہین تھا تو ایک صحابی نے اپنے عمامے کو اتار کر بڑا جھنڈا بنا لیا، یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگائے گئے
(دیکھیے الوفا247 بخاری1/555 مسلم2/419)
.
بسکٹ وغیرہ میلاد کا لنگر عوام کیطرف پھینکنا بےادبی،ضیاع کاخطرہ اس لیے منع و گناہ ہے! ایسا نہ کریں لنگر سلیقےسےبانٹیں (دیکھیے احکام شریعت1/88)
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کیا:
نہیں،اللہ کی قسم آپﷺکا نام مبارک کبھی نہیں مٹاؤنگا…پھر نبی پاک نےخود مٹایا(ماخذ بخاری حدیث3184)
نیکی روزہ نوافل تلاوت درود ،جائز خوشی،عبادات خیرات کرکے میلاد منانا بہتر…میلاد پےکیک کاٹیں یا نہ ، یہ مسلہ اپنی جگہ مگر کم سےکم کیک پےنام مبارک تو ہرگز ہرگز نہ لکھا جائےکہ نام مٹےگا جو عشاق کا طریقہ نہیں،ہاں ضرورتا لکھنا مٹانا جائز جیسےبلیک بورڈ
.
معتدل جھومنا.................!!
الحدیث:
عن علي قال: أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم - وجعفر وزيد، قال: فقال لزيد: أنت مولاي، فحجل! قال: وقال لجعفر: أنت أشبهت خلقى وخلقي، قال: فحجل وراء زيد! قال لي: أنت مني وأنا منك، قال: فحجلت وراء جعفر
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت جعفر اور حضرت زید رضی اللہ عنھم اجمعین تینوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے
حضور نے حضرت زید کہا "انت مولائی"(یہ سن کر حضرت زید خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگے
پھر
حضور نے حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو(یہ سن کر حضرت جعفر خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر حضرت زید کے پیچھے جھومنے لگے
پھر
حضور نے مجھ(حضرت علی) سے کہا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(تو یہ سن کر خوشی سے) میں حضرت جعفر کے پیچھے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگا
(مسند احمد حدیث857)
.
امام بیھقی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں
فَالرَّقْصُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِي الْجَوَازِ
ترجمہ:
اس قسم سے ملتا جلتا(غیرِ فحش)رقص و جھومنا جائز ہے
(سنن کبری بیھقی1/382)
.
حمد و نعت ، نثر و بیان میں اللہ اور اسکے رسول کی محبت و تذکرے میں اور خاص کر میلاد کے مواقع پر معتاد بلاترتیبِ رقاصِ مذموم محض جھومنا جائز و ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، ایسا نہیں کہ جو نہ جھومے وہ محب نہیں....ہرگز نہیں، اور اسی طرح بلادلیل و شواہد جھومنے والوں پر دکھاوے جہالت و مذمت کے فتوے لگانا بھی ٹھیک نہیں..
.
ہم معتدل جھومنے کو جاءز کہتے ہین مگر ڈھول دھماکے ناچ گانے اور عورتون مردوں کے اختلاط کو ہر گز جائز نہیں سمجھتے....ہم اہلسنت ہمیشہ لکھتے رہتے ہین ، کہتے رہتے ہیں کہ میلاد گناہوں خرافات سے پاکیزہ ہونا ضروری ہے....کچھ جاہل لوگ یا سازشی لوگ میلاد پے ایسی خرافات کرتے ہیں تو ان خرافات کی مذمت کیجیے میلاد کی مزمت و تردید مت کیجیے بلکہ میلاد کو پاکیزہ رکھنے کی ہدایات و تلقین کیجیے.
.
مخالفین اور ہمارے معتبر عالمِ دیں، عظیم شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
اس موقعہ(میلاد، جلوس محافل) پر جو "بری بدعتیں" پیدا کر لی گئ ہیں اور آلاتِ محرمہ کے ساتھ گانا باجا ہوتا ہے ان سے محفل خالی ہو...(مدارج النبوۃ2/19)
.
.
⑨آمد مصطفی مرحبا کا مقصد اور عقیدہ حاضر ناظر کی وضاحت و دلائل:
*آمدِ مصطفی مرحبا کے نعرے*
معراج کی رات آسمانوں پر آمدِ مصطفی پے انبیاء کرام نے یہ کہتے ہوئے استقبال فرمایا...ترجمہ: آپ کی آمد مرحبا
(دیکھیے بخاری حدیث2968)
اسی ادا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، انبیاء کرام کی اتباع کرتے ہوئے آمدِ مصطفی کے مہینے دن کی مناسبت سے آمد مصطفی مرحبا مرحبا کے نعرے جائز و ثواب ہیں، بدعت نہیں.........!!
ہمارا یہ عقیدہ نہین کہ میلاد کی محفل و جلوس میں نبی کریم تشریف لائے ہین اس لیے امد پر مرحبا....ایسا عقیدہ ہرگز نہیں، بلکہ ہمارا عقیدہ حاضر ناظر یہ ہے کہ نبی کریم سب جانتے ہیں دیکھتے ہیں اور جب چاہیں جس جگہ چاہیں جا سکتے ہیں....لیھذا میلاد کی محفل و جلوس میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تشریف آوری ضروری نہیں مگر ممکن ضرور ہے البتہ نبی کریم جانتے دیکھتے ضرور ہیں
.
الحدیث:
جب بھی غیب کا سوال ہوتا یا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سوال فرماتے تو صحابہ کرام حضور کی بارگاہ میں جواب اس طرح عرض کرتے کہ "الله ورسوله اعلم"
ترجمہ:
اللہ کو اور اسکے رسول کو علم ہے..... "اللہ اور رسول جانے"کہنا ایک دو دفعہ کا واقعہ نہین بلکہ یہ تو صحابہ کرام تابعین عظام کی عادت مبارکہ تھی، نبی کریم کے سامنے یہ کہا کرتے تھے مگر کبھی نبی کریم نے ان پر شرک و بدعت کا فتوی نہین دیا، بخاری مسلم میں کم و بیش ساٹھ سے زائد مقامات پر اللہ ورسولہ اعلم جملہ آیا ہے...جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جملہ اہل اسلام کا عقیدہ تھا نظریہ تھا کہ اللہ کو علم ہے اور اللہ کے بتانے سے نبی کریم کو بھی علم ہے
(مثلا دیکھیے مسلم حدیث 159 بخاری حدیث3199)
.
الحدیث:
مجھ پر میری امت کے تمام اچھے برے اعمال پیش کیے گئے.(مسلم حدیث نمبر1120 سند صحیح ہے)
الحدیث:
تمھارے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں
(مجمع الزوائد جلد9 صفحہ24سند صحیح ہے)
.
الحدیث:
بے شک اللہ نے میرے لیے دنیا کو اس طرح مرتفع کر دیا کہ مین اسے اور اس مین ہونے والے تمام معاملات قیامت تک ایسے دیکھتا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں
(مجمع الزوائد جلد8 صفحہ287)
اسکی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر اوپر والی احادیث کی تائید کی وجہ سے ضعیف ہونے سے فرق نہین آئے گا..
ان تینوں احادیث مبارکہ میں صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم تمام اعمال و افعال جانتے ہیں، دنیا انکی نظر میں ایسے ہے جیسے جیسے دنیا ان کے ہاتھ کی ہتیھلی پر رکھی ہوئی ہو.....!!
.
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں..ترجمہ:
علماء میں کثرت اختلاف اور بہت سے مذاہب ہین لیکن اسکے باوجود سب کا اس میں اتفاق ہے کہ رسول اللہ.صلی اللہ علیہ وسلم(وفات کے بعد)حقیقتا بلا شک و شبہ بلا توھم و تاویل کے زندہ ہیں،دائم.و باقی ہیں.. امت کے تمام اعمال پر حاضر و ناظر ہیں،حقیقت کے.طلبگاروں اور متوجہ ہونے والوں کو فیض پہنچاتے ہیں..
(مکتوبات علی ہامش اخبار الاخیار ص155)
.
غیرمقلدوں اہل حدیثوں وہابیوں دیوبندیوں کے معتمد عالم شمس الحق اور قاضی شوکانی لکھتے ہیں:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی بعد وفاتہ وانہ یسر بطاعات امتہ
ترجمہ:
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وفات کے بعد زندہ ہیں اور وہ امت کی نیکیوں سے خوش ہوتے ہیں
(نیل الاوطار جلد4 صفحہ183)
.
تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
whatsapp nmbr:
03468392475
نوٹ آپ میرا نام نمبر مٹا کر بھی یہ تحریر آگے بھیج سکتے ہیں، کاپی پیسٹ کرسکتے ہیں...نام نمبر اس لیے لکھا تاکہ کسی کو سمجھنا ہو مزید تحقیق تسلی سوال جواب کرنا ہو تو آپ سے الجھنے کے بجائے ڈائریکٹ مجھ سے رابطہ کرسکے
.
.
⑨آمد مصطفی مرحبا کا مقصد اور عقیدہ حاضر ناظر کی وضاحت و دلائل:
*آمدِ مصطفی مرحبا کے نعرے*
معراج کی رات آسمانوں پر آمدِ مصطفی پے انبیاء کرام نے یہ کہتے ہوئے استقبال فرمایا...ترجمہ: آپ کی آمد مرحبا
(دیکھیے بخاری حدیث2968)
اسی ادا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، انبیاء کرام کی اتباع کرتے ہوئے آمدِ مصطفی کے مہینے دن کی مناسبت سے آمد مصطفی مرحبا مرحبا کے نعرے جائز و ثواب ہیں، بدعت نہیں.........!!
ہمارا یہ عقیدہ نہین کہ میلاد کی محفل و جلوس میں نبی کریم تشریف لائے ہین اس لیے امد پر مرحبا....ایسا عقیدہ ہرگز نہیں، بلکہ ہمارا عقیدہ حاضر ناظر یہ ہے کہ نبی کریم سب جانتے ہیں دیکھتے ہیں اور جب چاہیں جس جگہ چاہیں جا سکتے ہیں....لیھذا میلاد کی محفل و جلوس میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تشریف آوری ضروری نہیں مگر ممکن ضرور ہے البتہ نبی کریم جانتے دیکھتے ضرور ہیں
.
الحدیث:
جب بھی غیب کا سوال ہوتا یا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سوال فرماتے تو صحابہ کرام حضور کی بارگاہ میں جواب اس طرح عرض کرتے کہ "الله ورسوله اعلم"
ترجمہ:
اللہ کو اور اسکے رسول کو علم ہے..... "اللہ اور رسول جانے"کہنا ایک دو دفعہ کا واقعہ نہین بلکہ یہ تو صحابہ کرام تابعین عظام کی عادت مبارکہ تھی، نبی کریم کے سامنے یہ کہا کرتے تھے مگر کبھی نبی کریم نے ان پر شرک و بدعت کا فتوی نہین دیا، بخاری مسلم میں کم و بیش ساٹھ سے زائد مقامات پر اللہ ورسولہ اعلم جملہ آیا ہے...جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جملہ اہل اسلام کا عقیدہ تھا نظریہ تھا کہ اللہ کو علم ہے اور اللہ کے بتانے سے نبی کریم کو بھی علم ہے
(مثلا دیکھیے مسلم حدیث 159 بخاری حدیث3199)
.
الحدیث:
مجھ پر میری امت کے تمام اچھے برے اعمال پیش کیے گئے.(مسلم حدیث نمبر1120 سند صحیح ہے)
الحدیث:
تمھارے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں
(مجمع الزوائد جلد9 صفحہ24سند صحیح ہے)
.
الحدیث:
بے شک اللہ نے میرے لیے دنیا کو اس طرح مرتفع کر دیا کہ مین اسے اور اس مین ہونے والے تمام معاملات قیامت تک ایسے دیکھتا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں
(مجمع الزوائد جلد8 صفحہ287)
اسکی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر اوپر والی احادیث کی تائید کی وجہ سے ضعیف ہونے سے فرق نہین آئے گا..
ان تینوں احادیث مبارکہ میں صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم تمام اعمال و افعال جانتے ہیں، دنیا انکی نظر میں ایسے ہے جیسے جیسے دنیا ان کے ہاتھ کی ہتیھلی پر رکھی ہوئی ہو.....!!
.
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں..ترجمہ:
علماء میں کثرت اختلاف اور بہت سے مذاہب ہین لیکن اسکے باوجود سب کا اس میں اتفاق ہے کہ رسول اللہ.صلی اللہ علیہ وسلم(وفات کے بعد)حقیقتا بلا شک و شبہ بلا توھم و تاویل کے زندہ ہیں،دائم.و باقی ہیں.. امت کے تمام اعمال پر حاضر و ناظر ہیں،حقیقت کے.طلبگاروں اور متوجہ ہونے والوں کو فیض پہنچاتے ہیں..
(مکتوبات علی ہامش اخبار الاخیار ص155)
.
غیرمقلدوں اہل حدیثوں وہابیوں دیوبندیوں کے معتمد عالم شمس الحق اور قاضی شوکانی لکھتے ہیں:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی بعد وفاتہ وانہ یسر بطاعات امتہ
ترجمہ:
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وفات کے بعد زندہ ہیں اور وہ امت کی نیکیوں سے خوش ہوتے ہیں
(نیل الاوطار جلد4 صفحہ183)
.
تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
whatsapp nmbr:
03468392475
نوٹ آپ میرا نام نمبر مٹا کر بھی یہ تحریر آگے بھیج سکتے ہیں، کاپی پیسٹ کرسکتے ہیں...نام نمبر اس لیے لکھا تاکہ کسی کو سمجھنا ہو مزید تحقیق تسلی سوال جواب کرنا ہو تو آپ سے الجھنے کے بجائے ڈائریکٹ مجھ سے رابطہ کرسکے
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1