🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 71
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط 72
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیخ الاسلام امام احمد رضا حنفی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں :

" مسلمان کو کافر ٹھہرانا کفرہے "

( فتاوی رضویہ شریف ، ج14 ، ص649 )

جوشخص کلمہ شریف پڑھتا ہے اُس کےکسی قول وفعل پرحکمِ کفر لگانا عوام کا کام نہیں ؛ یہ منصب ( ملک العلما ، صدرالشریعہ و صدرالافاضل رحمھم اللہ جیسے ) متکلم و فقیہ علما کا ہے -
عوام اپنے ایمان کی حفاظت کریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کو کافر کہتے کہتے خود کفر میں جا پڑیں -
نیز سُنی مسلمانوں کو بلا دلیل شرعی:
رافضی ، خارجی ، ناصبی ، وغیرہ ٹھہراتے ہوئے خود بدعقیدہ ہوجائیں ۔

لا الٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ
استغفراللہ العظیم واتوب الیہ

✍️لقمان شاہد
3-10-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3272819909664842&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امام احمد رضا کے فتاویٰ میں فرائض و واجبات کی تاکید🕯*


📬 امام عشق و محبت، حامی سنت، ماحیِ بدعت، قاطعِ کفر و ضلالت، مجدد دین وملت، آیۃ من آیات رب العالمین، معجزۃ من معجزات سید المرسلین، سیدنا سرکار اعلی حضرت ، الشاہ امام احمد رضا خان، قادری، فاضل بریلوی ولادت ۱۰/شوال المکرم ۱۲۷۲ھ، وفات ٢٥/صفر المظفر ١٣٤٠ھ سقی اللہ ثراہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں

آپ کو اللہ تعالی نے بے شمار علوم وفنون سے نوازا، غیر معمولی کتابیں تصنیف فرمائی، لاینحل مسائل کو بڑے سلیقے سے حل کیا جس پر آپ کے رسائل و تصانیف شاہد عدل ہیں، آپ نے جس عنوان پر بھی خامہ فرسائی کی تو اسے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک اس کے سارے گوشوں کو نیم روز سے زیادہ واضح نہ فرمادیا،متعدد بیش قیمت حواشی وتعلیقات مرتب فرمائی

آپ کا علمی مقام یہ تھا کہ اگر علم حدیث پر گفتگو فرماتے تو ایسا لگتا جیسے امام بخاری ومسلم کا فیضان براہِ راست آپ پر برس رہا ہو ، اگر اسماء الرجال کی تحقیق کرنے پر آجائیں تو لگے کہ اس فن میں آپ کا کوئی ثانی نہیں اور علامہ ابن حجر عسقلانی و علامہ بدر الدین عینی پیچھے رہ جائیں، اگر علم کلام پر قلم اٹھ جائے تو اعتزال پر کپکپی طاری ہو جائے، منطق کے فرضی قواعد پر قلم چل پڑے تو ارسطو و فارابی بھی میدان چھوڑکر بھاگتے نظر آئیں، جب نجدیت و وہابیت سر اٹھا کر دیکھے تو اس کی ایسی سرکوبی فرمائیں کہ اس کے ایوان باطل میں آخری کیل ٹھوک دیں جس سےلوگوں کے ایمان و اعتقاد کا تحفظ ہو ، اگر کسی فقہی مسئلہ کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھائیں تو اس وقت تک نہ چھوڑیں کہ آپ سے آگے اس مسئلہ کی تحقیق ممکن ہی نہ ہو۔

درج ذیل کئی رسائل آپ کی کاوش فکر کا نتیجہ ہیں:” لمعۃ الضحیٰ فی اعفاء اللحی” جو داڑھی کے مسئلے پر اٹھارہ آیتوں بہتر حدیثوں اور ساٹھ ارشادات علما کا منہ بولتا شاہکار ہے۔ “الحق المجتلی فی حکم المبتلی” جو بیماری کے تعدیہ اور انفیکشن کے بارے میں تحقیق انیق ہے، ” المقامع الحدید علی خد المنطق الجدید”، الجبل الثانوی علی کلیۃ التھانوی،سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح، الکوکبۃ الشھابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ، العطایا القدیر فی حکم التصویر،اجلی الاعلام بان الفتویٰ، مطلقاً علی قول الامام وغیرہ۔ علاوہ ازیں بے شمار رسائل وجرائد وفتاوی آپ کے علمی لیاقت کے تفوق کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ العطایا النبویہ فی فتاوی الرضویہ ایک بے مثال انسائکلو پیڈیا آپ کی علمی کاوش کا نتیجہ ہے۔

ان سب کے باوجود آپ نے عقائد و نظریات کی اصلاح کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی پر بھی زور دیا اور اس کی اپنے فتاوی میں جگہ بجگہ تاکید فرمائی ان شاءاللہ ہم اپنے اس مقالے میں اعلی حضرت کی اپنے فتاوی میں فرائض و واجبات کی تاکید کی کئی مثالیں پیش کرنے کی سعی کریں گے۔
اعلی حضرت نے کئی مسائل کا جواب دیتے ہوئے قوم مسلم کی کاہلی اور غفلت کو دیکھتے ہوئےاسے متنبہ فرمایا اور اس قوم کو بیدار کرنے کی سعی پیہم کی، ایسے مسائل کی تعداد بے شمار ہے ان میں سے بعض کو ہم ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔

نبی سے محبت ہی اصل ایمان اور کام یابی کا راز ہے

اشر ف علی تھانوی نے اپنی کتاب “حفظ الایمان ” میں جب نبی کی شان میں یہ اہانت آمیز الفاظ رقم کیے:”کہ پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے بعض غیب مراد ہے یا کل غیب، اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے؟ایسا علم غیب تو زید،عمرو،ہر صبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لیے بھی حاصل ہے

۔” تو اعلی حضرت فاضل بریلوی نے اس کے جواب میں ” تمہید ایمان بآیاتِ قرآن”تصنیف فرمائیجسے فتاوی رضویہ میں شامل کیا گیاہےاور اس میں اس پر حکم کفر لگایا اور سختی سے ایسے لوگوں سے ترک موالات پر زور دیا، فرمایا:کہ”جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ ایسے شخص سے دوستی نہیں رکھے گا بلکہ تاکید فرمائی کہ اے مسلمان! اپنے نبی سے سچی محبت کر ،کہ یہی مدار ایمان ہے اور اس پر اللہ تعالی بے شمار انعامات سے نوازتا ہے اور اگر نبی سے سچی محبت نہیں تو اس پر بے شمار عذاب نازل فرماتاہے۔
لہذا آپ نبی سے ایمان و محبت ضروری ہونے پر تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

“اے مسلمان! اےمسلمان! اے امتی سید الانس والجانصلی اللہ تعالی علیہ وسلمخدارا، ذرا انصاف کر، وہ سات بہتر ہیں جو ان لوگوں سے یک لختہ علاقہ ترک کردینے پر ملتے ہیں:کہ دل میں ایمان جم جاۓ، اللہ مددگار ہو، جنت مقام ہو، اللہ والوں میں شمار ہو، مرادیں ملیں، خدا تجھ سے راضی ہو۔ یا یہ سات بھلے ہیں جو ان لوگوں سے تعلق لگا دینے پر پڑیں گے:ظالم، گمراہ، کافر، جہنمی ہو ، آخرت میں خوار ہو، خدا کو ایذا دے، خدا دونوں جہان میں لعنت کرے۔
ہیھات، ہیھات، کون کہ سکتا ہے کہ یہ سات اچھے ہیں؟ کون کہ سکتاہے کہ وہ سات چھوڑنے کے ہیں، مگر جان برادر! خالی یہ کہ دینا تو کام نہیں دیتا، وہاں تو امتحان کی ٹھری ہے ابھی آیت سن چکے، “الم أحسب الناس”کیا اس بھلاوے میں ہوکہ بس زبان سے کہ کر چھوٹ جاؤگےامتحان نہ ہوگا ۔ ہاں یہی امتحان کا وقت ہے! دیکھو! یہ اللہ واحد قہار کی طرف سے تمھاری جانچ ہے۔ دیکھو! وہ فرما رہاہے کہ تمھارے رشتے، علاقے قیامت میں کام نہ آئیں گے، مجھ سے توڑکر کس سے جوڑتے ہو۔

دیکھو! وہ فرما رہاہے:کہ میں غافل نہیں، میں بے خبر نہیں، تمھارے اعمال دیکھ رہا ہوں، تمھارے اقوال سن رہا ہوں، تمھارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں، دیکھو! بے پروائی نہ کرو، پراے پیچھے اپنی عاقبت نہ بگاڑو، اللہ و رسول کے مقابل ضد سے کام نہ لو، دیکھو! وہ تمھیں سخت عذاب سے ڈراتا ہے، اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیں، دیکھو! وہ تمھیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے، بے اس کی رحمت کے کہیں نباہ نہیں، دیکھو! اور گناہ تو نرے گناہ ہوتے ہیں، جن پر عذاب کا استحقاق ہو، مگر ایمان نہیں جاتا عذاب ہو کہ خواہ رب کی رحمت،حبیب کی شفاعت سے بے عذاب ہی چھٹکارا ہوجاۓ گا یا ہوسکتا ہے، مگر یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا مقام ہے، ان کی عظمت، ان کی محبت مدار ایمان ہے، قرآن مجید کی آیتیں سن چکے کہ جو اس معاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے، دیکھو! جب ایمان گیا اصلا ابد الآباد تک کبھی، کسی طرح عذاب شدید سے رہائی نہ ہوگی، گستاخی کرنے والے، جن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرو وہاں اپنی بھگت رہے ہوں گے، تمھیں بچانے نہ آئیں گے، اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں؟۔

پھر ایسوں کا لحاظ کرکے اپنی جان ہمیشہ غضب جبار و عذاب نار میں پھنسا دینا کیا عقل کی بات ہے؟ لللہ لللہ ذرا دیر کو اللہ ورسول کے سوا سب ایں وآں سے نظر اٹھا کر آنکھیں بند کرو اور گردن جھکا کر اپنے آپ کو اللہ واحد قہار کے سامنے حاضر سمجھو اور نرے خالص سچے دل کےساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم عظمت، بلند عزت، رفیع وجاہت جو ان کے رب نے انھیں بخشی، اور ان کی تعظیم، ان کی توقیر پر ایمان واسلام کی بنا رکھی اسے دل میں جماکر انصاف وایمان سے کہو، کہ جس نے کہا: شیطان کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے۔ اس نے محمد رسول اللہ کی شان میں گستاخی نہ کی؟ کیا اس نے ابلیس لعین کے علم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پر نہ بڑھایا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم سے کافر ہوکر شیطان کی وسعت علم پر ایمان نہ لایا؟
(فتاوی رضویہ، ج:٣٠، ص:٣١٥،٣١٦)

گاے کی قربانی اسلامی شعار ہے، اورمسلمان اس کے مٹانے کے درپہ ہیں:
قربانی مسلمانوں کا محض ایک تیوہار ہی نہیں بلکہ اسلامی شعار بھی ہے جس کا باقی رکھنا اور اس کی بقا کی سعی کرنا مسلمانوں پر لازم ہے خصوصاً جب غیر مسلم اس کے روکنے کی کوشش کریں۔ لیکن اکثر یہ دیکھا گیاکہ کچھ لوگ اس موقع پر یہ باتیں کرتے ہیں: کہ”جب حکومت نے اس پر ممانعت عائد کررکھی ہے تو گاے کی قربانی کرنا کیا ضروری ہے؟ بلکہ اگر کوئی ایسے حالات میں کرلے تو اس پر زجر و توبیخ کی بوچھار کرتے ہوئے یہ دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ قربانی کے جانور اللہ تعالی نے اور بھی رکھے ہیں۔ جیسے :بکرا، بھینس، اونٹ، بھیڑ وغیرہ تو گاے کے ہی پیچھے پڑنا کیا ضروری ہے؟” حالاں کہ یہ سب وساوس خناس ہیں۔ بلکہ اگر کفار و مشرکین گاے کی قربانی سے روکیں تو گاے ہی قربان کرنا واجب ہے اور نہ کرنے والا اسلام کا سخت دشمن اور شیطان کا بھائی ہے۔ اس سلسلے میں اعلی حضرت کی ایک چشم کشا تحریر بشکل فتوی من وعن ملاحظہ ہو اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم کس قدر تباہی کے دہانے پر ہیں، اور جس شعار اسلام کا ابقاءواجرا ہم پر لازم و واجب تھا ہم اسی کے ختم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں بلکہ اس کے مٹانے کی دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں۔ اعلی حضرت فرماتے ہیں:
“گاے کی قربانی بیشک شعار اسلام ہے، قال اللہ تعالی:”والبدن جعلناھا لکم من شعائر اللہ۔” اللہ تعالی نے فرمایا:”ہم نے اونٹ اور گاے کی قربانی کو تمھارے لیے دینِ الہی کی نشانیوں سے کیا۔
خود مولوی عبد الباری محلی فرنگی کو اس کا اقرار ہے۔ رسالہ قربانی ص:٢١ پر لکھتے ہیں: “والبدن جعلناھا لکم من شعائر اللہ”سے گاے کی قربانی ثابت ہوتی ہے۔ خصوصاً اس معدن مشرکین ہندوستان میں کہ یہاں اس کا ابقاء و اجرا بلاشبہ اعظم مہمات اسلام سے ہے، مکتوبات شیخ مجدد میں ہے:
“ذبح بقر در ہندوستان از اعظم شعائر اسلام است۔ ہندوستان میں گاے کا ذبح کرنا اسلام کے سب سے بڑے شعائر میں سے ہے۔”
یہاں اس کا باقی رکھنا واجب ہے۔ جس کی تحقیق ہمارے رسالہ “انفس الفکر فی قربان البقر ” میں ہے۔
علماے لکھنؤ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے، مولوی عبد الحی صاحب کے فتاوی میں ہے: