🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی
خبردار ہوشیار
آج کل کچھ سید پیر اپنی سیادت کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں. اپنی تقریر وتحریرسے مسلک اعلٰی حضرت کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں. اپنے باپ داداؤں کی روش سے ہٹ کر چل رہے ہیں. علما کو گالیاں دے رہے ہیں. محبتوں کا حوالہ دے کر نفرتوں کا سبق پڑھا رہے ہیں. تصوف کی آڑ میں دہشت گردی پھیلارہے ہیں خبردار ایسے پیروں سے جو اپنے اسلاف کی پگڑیاں اچھالنے میں فخر محسوس کرتے ہوں، علما کو گالیاں دینا، ان کا مذاق اڑانا،جن کاطرہ امتیاز بن چکاہو. جو اپنے باپ دادا کے افکار ونظریات منسوخ قرار دے کر نئے افکار ونظریات ایجاد کررہے ہوں،جواپنے آباء واجداد کی عزت کو نیلام کرنے کی قسم کھائے بیٹھے ہوں. ایسے پیروں کے دام تزویر میں نہ آئیں. ان سے خود بھی بچیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی بچائیں. ان کی دہشت گردانہ تقریرو تحریر سے اکابر علما کو آگاہ فرمائیں تاکہ ان کا بروقت علاج کیا جاسکے. اوران کی شرپسندانہ پوسٹس سے پولیس کو بھی آگاہ کریں تاکہ ان کی دہشت گردانہ اور مجرمانہ کارروائیوں کاسد باب ہوسکے.
خادم محمد ذوالفقار خان نعیمی ککرالوی. یکے از گروپ خادمان مسلک اعلٰی حضرت.
رَوضَۂ سرکارِ اعلیٰ حضرت بریلی شریف
الحمد لله آپ لوگوں کی دُعاؤں سے
ہمارے گهر کی لائبریری میں اِتنی ⬆️
کِتابیں ہَیں فَخریَہ نہِیں کہتا
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحفظ شریعت کانفرنس ⬆️
کہیں کہیں عوام میں جاری ہےایک قرآن چاہیے تو حافظ صاحب تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر کہتے ہیں لےلو تو سامنے والا سو دو روپیہ دے دیتا ہے ٖسوال یہ ہے کہ ایسا پیسہ لینا جائز ہے یا نا جائز ہے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*جواب* اگر کوئی شخص کسی حافظ صاحب سے کہے مجھے ایک ختم قرآن چاہئے تو حافظ صاحب تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر کہتے ہیں لے لو اور سامنے والا سو دو سو روپیہ دے دیتا تو ایسی صورت میں پیسہ لینا جائز نہیں کیونکہ ایک قسم دھوکہ پایا جارہا ہے اور دھوکہ دے کر پیسہ وغیرہ کسی سے لینا جائز نہیں حالانکہ سائل کی مراد یہ نہ تھی جیسا کہ فقیہ ملت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں فتاوی فقیہ ملت میں تحریر فرماتے ہیں کہ " جس حدیث شریف میں سورہ اخلاص پڑھنے کے ثواب کو قرآن مجید کے ثواب کے برابر فرمایا گیا وہاں صرف سورہ اخلاص کی فضیلت بتانا مقصود ہے اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر اعتبار سے سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب قرآن مجید پرھنے کے ثواب کے برابر ہے حدیث شریف " قل هو الله احد يعدل ثلث القرآن " کے تحت ملا علی قاری علیہ رحمة الله الباری تحریر فرماتے ہیں کہ " معناه أن لها فضلا فى الثواب تحريضا على تعلمها لا ان قرأتها ثلاث مرات كقرأة القرآن فان هذا لا يستقيم و لو قرأها مائة مرة " (مرقاة ج ٤ ص ٣٤٩)
اور اگر تیس سورہ اخلاص کا پڑھنے سے دس قرآن پاک پڑھنے کی طرح ہوجائے تو تراویح میں پورے قرآن پاک کی جگہ صرف تین بار سورہ اخلاص کا پڑھنا کافی ہوجائے گا۔ اور بہار شریعت ح ۱٦ ص ١٦٩ پر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اولاد والدین کی طرف نظر رحمت کرے تو اسے حج مبرور کا ثواب ملتا ہے الخ تو والدین کو ایک بار محبت کی نظر سے دیکھ لینے پر حج نہیں پورا ہوجائے گا لہذا کسی کو ایصال ثواب کی خاطر دس قرآن مجید یہ خیال کر کے دینا کہ ہم نے تیس بار سورہ اخلاص پڑھ کر دیا ہے درست نہیں صرف تیس بار سورہ اخلاص کا پڑھنا شمار کیا جائےگا "( ج ۱ ص ۲۹۰)
لہذا مذکورہ باتوں سے ثابت ہوا کہ اس طرح روپیہ پیسہ لینا جائز نہیں کیونکہ ایک قسم کا دھوکہ اور فریب پایا جارہا ہے

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی خادم التدریس :
دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری
ویسٹ ممبئ فون نمبر : +917666456313
مسائل قرآن موبائل کمپیوٹر لیپ ٹاپ
پُوسٹَر ⬆️ مُقرِّرُوں کے نَذرَانے ⬆️

اِس پُوســـٹَر کا مُـــکـــمَّـــل جَـــــوَاب
نِـیچِـے مُـــلاحــــظَہ فَــرمَـائِـیں ! ⬇️
جس نے یہ پوسٹر تیار کیا ہے اس کا مقصد اصلاح نہیں ہےورنہ یہ انداز نہ ہوتا ..چلو مان لیا ان لوگوں کا ہدیہ طے کرنا معیوب ہے مگر کم ظرفوں تم کو سکہ کا ایک ہی رخ دکھا دوسرا رخ نسیا منسیا ھباءً منثوراً 

میں ایسے لوگوں سے عرض گزار ھوں کہ قوال اور قوالہ پر کتنا خرچ ھونا چاہیے ؟؟ناچنے گانے بجانے والی پر کتنا خر ھونا چاھئے؟؟

اس کے بعد مذہب ومسلک پر کتنا خرچ ھونا چاہیے اسپر شرع کا کیا حکم ھے وہ بھی وضاحت فرمائیں

تاکہ لوگ آپکے درد کو سمجھیں

اس کے بعد پھر خطباء کے نذرانے پر مذاکرہ کریں

مندر کا پجاری چرچ کا فادر پلین میں سفر کرے تو کوئی حیرت نہیں مگر جب مسلک حقہ کے مبلغین پلین  میں نذر آتے ہیں تو تعجب کیوں؟؟


آپکو علماء کے نزرانے دکھ رهے هیں شادیوں میں 50000 روپے میں رنڈی کی ناچ 100000 میں آر کے اسٹرا

10000 میں ڈی جے باجا

نهیں دکه رها هے

علما اگر اپنی محنت کے بدلے اجرت طلب کر لیں تو مجرم!!! آپکا بیٹا ڈاکٹر انجینئر پروفیسر بن کے اپنی اجرت مانگے تو فخر!!!

علما اگر دین کے لئے چنده کریں تو مجرم !!! آپ مشاعرہ نو ٹنکی ناچ آر میرےکے اسٹرا فرضی لیڈس قوالی کا چنده کریں تو کار ثواب 
ہوا یہی جو رهی تو اے نسیم بہار۔
کہاں سے آئینگی رعنائیاں چمن کے لئے؟؟؟؟
آج جہلا قیمتی کپڑےپہن کر گهومتے هیں اس پرکسی کو اعتراض نھیں
لیکن اگر علما قیمتی لباس پہنکر منهگی گاڑی میں گهومے تو ایسا لگتا هے کہ گاڑی کا پہیا آپ پہ چل رها هے بڑی تکلیف هوتی هے کہ مولانا لوگ کہاں سے اتنا کماتے هیں؟؟
ڈاکٹر دوا بیچیں کوئی اعتراض نھیں
مولانا سرمہ بیچے تو تو جرم عظیم سمجھا جاتا ھے
کالج کے بچے بال بڑا رکھیں تو کوئی اعتراض نھیں لیکن اگر مولانا زلفیں رکھ لیں تو سب  کے سب پیچھے پڑ جاتے ھیں
عمران حنفی سے کسی سیٹھ نے کھا جس مولانا کو دیکھو مدرسہ چلاتے ھیں؟؟؟؟

انھوں نے کھا  مدرسہ نہ چلائیں تو کیا رکشہ چلائیں؟؟؟

..ایک آدمی نے میرے تعلق سے ایک سال پہلے کہا تھا کہ لو بھائی اب اس نے بھی گرانڈ آئی ٹین فور وہیلر لے لی.لگتا ہے کسی پارٹی کو دھوکہ دیکر تعویز کے نام پر لاکھوں لے لئے ہیں..

یعنی علماء کو زندگی بھر ما نگنے کو ھی  ھونا

اگر عالم برکاتی ٹوپی لگائے
تو؟؟
لگتا ھے حضرت نے مدرسے کی رسید غائب کیا ھے
کمبخت بھول جاتے ھیں وہ اپنے گھر میں رھکر کھاتے پیتے ھیں اور ھم اللہ یا رسول اللہ کے گھر میں رھکر بھو کا کیوں مرینگے؟؟؟؟

اپنے کام سے کام رکھو ورنہ عمر کی ویلیڈیٹی چھن سکتی ھے

اور,امام غزالی کا ایک قول کہیں پڑھا تھا 

علماء کے پیچھے پڑجانا دنیا اور آخرت کے عذاب کا باعث ہے

...تم اپنے کام سے کام رکھو ہمیں اپنا کام کرنے دو..تمہارا باپ عالم سکرات میں ہو تو عالم کو یادمت کرنا کسی قوال کو بلا لینا اور جنازہ کسی شیخ چیلی سے پڑھوا لینا..
Copy paste
*علماء کرام کے نذرانوں سے پریشانی کیسی ؟*

: از - *محمد اسد رضا قادری*
بھیونڈی - +919323199788 📱
مؤرخـہ - 10 مئی 2018 بروز بُدھ

گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک *میسج وائرل* ہو رہا ہے،جس میں کچھ اکابرین علماء اکرام کے *نام کے ساتھ* انکی تقریروں کے نذرانے لکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی *طنزوتنقید* سے بھرا ہوا لمبا چوڑا بیجا پیغام بھی ہے، اس میسج کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ آج پوری قوم کی *پستی اور خستہ حالی* کا سبب یہی نذرانے ہیں، نعوذباللہ

تو کیا حقیقت میں ان علماء اکرام کا
یوں نذرانہ لینا *زیادتی ہے ؟*

جس طرح دنیا کے ہر انسان کو زندہ رہنے کے لیے کچھ چیزوں کو ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح علماء اکرام کو بھی ان چیزوں کی تکمیل کے لیے *مال و زر* کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ *نذرانے کی شکل* میں ہی ممکن ہوپاتی ہے، کیونکہ عام طور پر اکثر علماء اکرام کا کوئی اور *ذریعۂ معاش* نہیں ہوتا اور نا ہی ہماری قوم انکے لیے کوئی اسباب پیدا کرتے ہیں کہ اگر علماء اکرام کے دیگر اخراجات کسی ایک ذرائع سے پورے ہوجائیں تو وہ دین واسلام کا کام *فی سبیل اللہ* کرسکیں،

یہ بات بھی ہم سب جانتے ہیں کہ تقاریر کے پروگرامات اب *مہینوں اور تہواروں* کی مناسبت سے ہی ہوتے ہیں، یعنی سال کے بارہ مہینے نہیں بلکہ *گیارہویں، بارہویں، چھٹی اور محرم* کے مہینوں میں ہی اکثر پروگرامات ہوتے ہیں، اس لحاظ سے اگر ایک عالم *20000-25000* ہزار روپے نذرانہ لیتے ہوئے سال بھر میں *10_12* پروگرام ہی کرتا ہے، جسے اگر ہم مہینے کے اعتبار سے تقسیم کریں تو یہ *16000-18000* تک ہوجاتا ہے،

تو کیا ایک عالم کا مہینے کا 16000-18000 کمانا *عیب ہے؟؟؟ گناہ ہے؟؟؟ جرم ہے؟؟؟* جب کہ اس کے برعکس ایک دنیا دار ڈاکٹر مہینے کا *50-60* ہزار آسانی سے کما لیتا ہے، ایک انگریزی کا ٹیچر *35-40* ہزار اور ایک انجینئر *60-70* ہزار روپے آسانی سے کما لیتا ہے، تب کسی کی آنکھ میں یہ موٹی موٹی تنخواہیں نہیں آتی، الٹا ضرورت پڑنے *رشوت* کی شکل لاکھوں روپے مزید خرچ بھی کر دیے جاتے ہیں،جسکا کوئی حساب کتاب تک نہیں، ہاں حساب رکھنا ہے تو یہ کے کونسا عالم کتنا نذرانہ لے رہا ہے، *چِھی ہے ایسی گھٹیا سوچ* پر کہ اپنے قوم کے رہبروں کی ترقی پر *الو کی نظر* جمائے بیٹھیں ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں لوگوں کو لاکھوں روپے کی تنخواہیں *کم پڑ* جاتی ہیں اپنی زندگی کو خوشحال بنانے کے لیے، پھر بھی کوئی ڈاکٹروں، ٹیچروں، وکیلوں یا پھر انجینیئروں کی تنخواہ پر کہیں کوئی احتجاج نہیں کیا جاتا، تو پھر *کس حق* سے لوگ علماء اکرام کے نذرانوں پر آواز بلند کرتے ہیں؟؟؟ جب کہ پیدا ہونے سے لیکر مرکر مٹی میں جانے تک انہیں علماء اکرام کی *محتاجی* ہوتی ہے، یاد رکھیں کہ قوم مسلم کی ترقی انکے علماء اکرام پر ہی مبنی ہے، اور عوام کو اپنے *رہبروں* کی ترقی و کامیابی کے بارے میں سوچنا چاہیے نا کہ انکے ضرورتاً لیے جا رہے نذرانوں پر نظر رکھنی چاہیے،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے علماء اکرام کو ڈاکٹروں، ٹیچروں، وکیلوں اور دیگر دنیا دار شعبوں سے *زیادہ اہمیت* دینے والا بنائے۔۔۔ آمین
پُوسٹَر ⬆️ مُقرِّرُوں کے نَذرَانے ⬆️

اِس پُوســـٹَر کا مُـــکـــمَّـــل جَـــــوَاب
اُوپَر مُـــلاحــــظَہ فَــرمَـائِـیں ⬆️
✍️سنی صحافت📖🌹🌹
https://t.me/SunniSahafat
ٹیلی گرام پر اپنی نوعیت کا یہ وہ واحد چینل ہے،جوسنی رسائل و جرائد اور ان کی صحافتی خدمات کی نمائندگی کے لیے تشکیل پایا ہے.
اپنے اپنے مضامین اور سنی رسائل و جرائد کے ذریعے ہماری معاونت فرمائیں. مقصد یہ ہے کہ یہ سارے رسائل یکجا صورت میں آسانی سے مل سکیں، اور بوقت ضرورت اہل قلم کے کام آسکیں.
✍️اس چینل سے متعلق نیک خواہشات، مفید مشورے اور کسی طرح کی فرمائش کے لیے پرسنل پر حکم فرمائیں، یا پھر 👇اس گروپ پر تشریف لائیں.
✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️
🌻حنفی اسکالرز گروپ🌻
🌺صاحبان فہم ودانش کا علمی فورم🌺
علمائے کرام،مفتیانِ عظام اور اسلامیات کے ماہرین کے مابین علم دوستی اور تعاون باہمی کے فروغ کے لیے یہ گروپ تشکیل دیا گیا ہے.عوام اس میں ہرگز ہرگز شامل نہ ہوں .https://t.me/AdnanGousi
🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒🍒
✍️عوام اوپر کے دونوں گروپ سے دور رہیں، اور اگر اسلامی رہنمائی چاہتے ہیں تو پھر 👇اس واٹس ایپ گروپ سے جڑ جائیں.
🌻💧آؤ دین سیکھیں💧🌻
سادہ لوح سنی عوام کی اسلامی جانکاری میں اضافہ کرنے کے لیے یہ واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے، علمائے کرام،مفتیانِ عظام اور اسلامیات کے ماہرین اس میں شامل نہ ہوں.https://chat.whatsapp.com/GgCmLVnDO0F4Te4LWAndaX
جزاک اللہ خیرا
والسلام علی من اتبع الھدی.
تحفظ شریعت کانفرنس 📖 ⬆️
*جھوٹ اورحسد کی پہچان*

انجمن پیغام حق کے نام سے ایک امیج جو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے

وہ ایک فیک امیج ہے اور فرضی نام کی تنظیم سے شائع کی گئی ہے
اس طرح کی امیجس کوئی جاہل یا علماء کا حاسد ہی بناتا ہے
یا کوئی پکا صلحکلی بھی بنا سکتا ہے
اسلئے کہ کوئی بھی سنی سنیت کا درد رکھنے والا ایسا کام نہیں کرتا کہ جس سے علماء کی بدنامی ہو

یہ الگ بات ہے کہ کچھ مقریرین نذرانے طیے کرتے ہیں اور یہ بات انکو بھی معلوم ہے کہ نذرانہ طیے کرنا غلط بہت غلط ناجائز کام ہے

مگر سارے علماء ایسا کام نہیں کرتے یہ جو نذرانے ہیں خود لوگ انکو دیتے ہیں
اکثر علماء اپنے آمد ورفت کا خرچ بھی نہیں مانگتے بلکہ خود سے خرچ کر کے آتے ہیں

مگر چندجلسہ کرانےوالےلوگ ایسے بھی ہیں کہ جو کرایا کی رقم تلک صحیح سے علماءکونہیں دیتے ایسی حالت میں

مقریرین حضرات اپنا کرایا خود نہ مانگ کرکے جو بیچ میں پروگرام طیے کرتے ہیں انکے ذریئعے سے اپنا کرایا خرچ مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں

اور اسی بات کو لیکر چند علماء کے گستاخ ایسی پوسٹ امیج بناکر علماء کو بدنام کرتے ہیں

اب اسی امیج کو دیکھو نام "پیغام حق " کمیٹی ناگپور مگر کسی فرد کا نہ نام ہے نہ فون نمبر

تو سمجھ جانا چاہئیے کہ ایسے لوگ بذدل ہوتے ہیں ڈرپوک ہوتے ہیں اور منافق ہوتے ہیں

ایسوں کی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئیے ایسی امیجس کو بھی ڈلیٹ کردینا چاہیئے

اگر ان امیجس میں ان لوگوں کا نام یا نمبر ہوتا تو ان سے بات کی جاسکتی
اور ان پر قانونی طور پر ایکشن لیا جاسکتا
مگر یہ منافق قسم کے لوگ بہت شاطر ہوتے ہیں یہ کبھی اپنا نام اور نمبر نہیں لکھتے صرف فتنے پھیلانا انکا کام ہوتا ہے

مشتاق احمد رضوی نظامی
Contact 📱 +919916767092
خطباء اور شعراء کے
نذرانہ کا شرعی حکم



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب قبلہ! آج کل جو شعراء و خطباء کے بارے میں پوسٹر گھوم رہا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ برائے کرم مطلع فرمائیں ۔۔۔۔

السائل ۔۔۔افتخار سدا، گوال پوکھر، اتردیناج پور


الجواب بعون الملک الوھاب


آج کل خطابت اور نعت خوانی نے تجارت کی شکل اختیار کرلی ہے، اگر بحیثیت تجارت اس کا شرعی جائزہ لیا جائے تو شریعت مطہرہ کی روشنی میں اس کی دوصورتیں نکل سکتی ہیں ۔
ایک تو یہ کہ خطباء اور شعراء اپنے اوقات کی تجارت کرسکتے ہیں جوکہ جائز ہے۔اور جب یہ تجارت جائز ہے تو خطباء وشعراء کے اوقات "مبیع" اور نذرانہ اس کا "ثمن" ٹھہرا۔ اور شرعا مجہول ثمن پر تجارت درست نہیں لھذا نذرانہ متعین کرنا ضروری ہوگا ۔ اور جب نذرانہ ان کے اوقات کی قیمت ٹھہرا تو انہیں اس کی کمی یا زیادتی کا شرعا پورا پورا حق حاصل ہے ۔

اس صورت میں جس طرح نذرانہ متعین کرنا ضروری ہوگا جوکہ ثمن ہے اسی طرح اوقات کی تعیین بھی ضروری ہوگی(کیونکہ یہ مبیع ہے اور مبیع کا مجہول ہونا بھی درست نہیں) خواہ گھنٹہ کی شکل میں ہو یا کسی دوسری شکل میں۔
خطباء اور شعراء کے لئے متعین کردہ وقت سے ایک منٹ پہلے لوٹنا درست نہ ہوگا، نیز کمیٹی والوں کو یہ بھی حق حاصل ہوگا کہ وہ ان اوقات میں ان سے تقریر ونعت کے علاوہ بھی جو کام چاہیں لےسکتے ہیں، ان کے لئے نکیر کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ بجائے اوقات کے نفس خطابت و نعت خوانی کی تجارت ہو، اس صورت میں صرف ان تقریروں کی تجارت درست ہوگی جو خالص اصلاحِ عقائد و اعمال پر مبنی ہوں۔ نعت خوانی کی تجارت درست نہیں ہوگی، کیونکہ تقاریر کی تجارت کو ضرورت کا حاجت کے دامن میں پناہ مل جائے گی مگر نعت خوانی کو نہیں مل سکتی ۔ (اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تونعت خوانی کے نذرانہ پر بڑی وعید شدید کا ذکرفرمایا ہے )

لھذا پہلی صورت میں خطابت و نعت خوانی دونوں کا نذرانہ متعین کرنا درست بلکہ لازم و ضروری ہوگا اور دوسری صورت میں صرف خطابت کا نذرانہ درست ہوگا نعت خوانی کا نہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب

فداءالمصطفی قادری مصباحی
نعت خوانی کی اُجرت ⬆️
*یوم ولادت پاک حضور تاج الشریعہ مبارک ھو*،
🍃💐🍃💐🍃💐🍃💐🍃💐🍃
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
*مرشد برحق آقائے نعمت قاضی القضاة في الهند سیدی تاج الشریعہ مدظلہ العالی* کا آج یکم فروری کو *یوم ولادت پاک* کے موقع پر
قصر رضا عیدگاہ روڈ ٹھاکردوارہ ضلع مرادآباد یوپی میں بعد نماز ظہر *جشن ازھری* منعقد ہورہاھے جسکی *● سرپرستی:* میرے دادا جان حضرت مولانا صوفی *الحاج الشاہ محمد اختر رضا صاحب قادری رضوی والد ماجد حضور لیاقت ملت*
*● زیر صدارت* ترجمان مسلک اعلی حضرت پیر طریقت *علامہ الحاج قاری محمد لیاقت رضا نوری صاحب قبلہ خلیفئہ سیدنا حضور مفتئ اعظم ھند*
*● زیر نظامت* پیرزادہ شیر رضا حضرت *مولانا قاری محمد آصف رضا نوری لیاقتی صاحب*
*●زیر حمایت* برادر خورد حضور لیاقت ملت قاری *محمد حامد رضا نوری صاحب*
، *🌹دستور العمل🌹*
*🌷تلاوت قرآن*
*🌷محفل نوری*
*🌷ذکر پاک یاسلام*
*🌷ختم قادریہ شریف*
*🌷شجرہ شریف*
*🌷مصطفٰی جان رحمت پہ لاکھوں سلام*
فاتحہ خوانی و *سیدی تاج الشریعہ مدظلہ العالی* کی صحتیابی کے لئے وعالم اسلام کے خوش عقیدہ مسلمانوں کے لئے دعا پھر تبرک تقسیم کیا جائے گا ۔

*یاخدا سیدی اختر رضا کو چرخ پر اسلام کے*
*رکھ درخشاں ہرگڑی اپنی رضا کے واسطے*

*🌷سگ بارگاہ اعلی حضرت*
پیر زادہ محمد احمد رضا
نوری لیاقتی(بھائ جان)
قصر رضا عیدگاہ روڈ
ٹھاکردوارہ ضلع مرادآباد یوپی
huzoor aapka shamsi aur qamari "Date of Birth"san-o-hijri ke saathirshaad farmadijiye inshallah allah ne taofeeq di to zikre khuda omustafa ki mehfil ka in'iqaad karaenge.

http://jamiaturraza.com/session/2Jun13/10.mp3
حضور تاجُ الشریعہ دامت برکاتهم العالیَہ
کی تاریخ وِلادت ۱ فروری سن ۱۹٤٣ عیسوی
Date of Birth 01-02-1943 Eesvee