الجواب :
معاذاللہ کسی وقت کی نما زقصداً ترک کرنا سخت کبیرہ شدیدہ و جریمۂ عظیمہ ہے جس پر سخت ہول ناک جاں گزا و عیدیں قرآنِ عظیم و احادیث صحیحہ میں وارد ، مگر بد مذہب اگرچہ کیسا ہی نمازی ہو، اللہ عزو جل کے نزدیک سنّی بے نماز سے بدرجہا برا ہے کہ فسقِ عقیدہ فسقِ عمل سے سخت ترہے اور صرف گناہانِ جوارح میں کلام کیجیے تو مسلمان کو عمداً ناحق قتل کرنا ترکِ نماز سے سخت تر ہے اس پر اگر احادیث میں حکم کفرہے اس پر خود قرآن عظیم میں حکم خلود فی النار ہے ۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔ واعظ نے جو مضمون بیان کیا اس کے قریب قریب دربارۂ سود خوار احادیث مرفوعہ حضرت ابوہریرہ و حضرت اسود زہری خال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و حضرت براء بن عازب و حضرت عبداللہ بن سلام و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت عبداللہ بن عباس و آثار موقوفہ حضرت امیر المومنین عثمان غنی و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ابن ماجہ و ابن ابی الدنیا و ابن جریر و بیہقی و ابن مندہ وابو نعیم و طبرانی و حاکم وابن عساکر و بغوی و عبدالرزاق کے یہاں مروی وقد ذکرنا ھا بتخاریجھا فی کتاب البیوع من فتاوانا( اس کو ہم نے تمام تخریجوں کے ساتھ اپنے فتاویٰ کی کتاب البیوع میں بیان کیا ہے ۔ ت ) مگر ان میں سے کسی میں بیت اللہ کا ذکر نہیں ، البتہ ایک حدیث صحیح میں حطیم کعبہ کا ذکر ہے کہ ظناً زمینِ کعبہ ہے نہ یقینا، اس میں ماں کا لفظ نہیں ۔ امام احمد وطبرانی عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بہ سند صحیح راوی ،رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
درھم ربایا کلہ الرجل ، وھویعلم ، اشد عنداﷲ من ستۃ وثلثین زنیۃ فی الحطیم ۔
ایک درم سود کا کہ آدمی دانستہ کھالے اللہ تعالیٰ کے نزدیک حطیم کعبہ میں چھتیس بار زنا کرنے سے سخت تر ہے ۔ (م )
اور دربارۂ ترک نماز اگرچہ اس سے سخت تر مذمت ارشاد ہوئی یہاں تک کہ احادیث مرفوعہ حضرت جابر بن عبداللہ و حضرت بریدہ اسلمی و حضرت عبادہ بن صامت و حضرت ثوبان و حضرت ابوہریرہ و حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت انس بن مالک و حضرت عبداللہ بن عباس و آثار موقوفہ حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ و حضرت عبداللہ بن عباس و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت جابر بن عبداللہ و حضرت ابودردا و غیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں احمد و مسلم و ابودائود و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبان و حاکم و طبرانی و محمد بن نصر مروزی و ہروی و بزاز وابو یعلی و ابوبکر بن ابی شیبہ و تاریخ بخاری و ابن عبدالبر وغیرہم کے یہاں ترک نماز پر صراحۃً حکم کفر و بے دینی مروی کما فصلہ الامام المنذری فی الترغیب (جیسا کہ امام منذری نے ترغیب میں مفصل بیان کیا ہے ۔ت ) مگر اس بارہ میں وہ الفاظ کہ واعظ نے ذکر کیے اصلاً نظر سے نہ گزرے ،واعظ سے سند مانگی جائے اگر سند معتبر پیش نہ کر سکے تو بے ثبوت ایسے ادعا جہل فاضح ہیں اور گناہ واضح والعیاذ باﷲ رب العٰلمین واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم ۔
(فتاویٰ رضویہ مترجم، ج۵ ، ص ۱۰۹ ۔ ۱۱۰)
نجدی پیشوائوں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی ہندی تلواریں :
۲۲؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۲ھ میں مولانا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری نے امام اہل سنّت سے غیر مقلدین وہابیہ کے بارے میں ایک استفتاکیا جس میں وہابیوں کے کلمہ کفر کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی درخواست کی ،مع سوال اعلیٰ حضرت کے دلائل کثیرہ ملاحظہ فرمائیں :
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید ائمۂ اربعہ کو شرک کہتے ہیں اور جس مسلمان کو مقلد دیکھیں مشرک بتاتے ہیں ، دہلی والے اسمٰعیل مصنفِ تقویۃ الایمان و صراط مستقیم وایضاح الحق و یک روزی و تنویر العینین کو اپنا پیشوا بتاتے اور اس کے اقوال کو حق و ہدایت جانتے او ر اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہاے کرام پیشوایانِ مذہب کے نزدیک ان پر اور ان کے پیشوا پر کلمۂ کفر لازم ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا …
( سائل کے سوال کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ چند سطر لکھنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ۔)
کتابیں جن سے ہم نے ان کے اقوال کا کلماتِ کفر ہونا ثابت کیا یہ ہیں :
(۱) قرآن عظیم (۲) صحیح بخاری شریف (۳) صحیح مسلم شریف (۴) فقہ اکبر تصنیف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۵) در مختار (۶) عالم گیری (۷) فتاویٰ قاضی خان (۸) بحرالرائق (۹) نہرا لفائق (۱۰) اشباہ والنظائر (۱۱) جامع الرموز (۱۲) برجندی شرح نقایہ (۱۳) مجمع الانہر (۱۴ ) شرح وہبانیہ (۱۵) رد المحتار (۱۶) شرح الدرروالغرر للعلامۃ اسمٰعیل النابلسی (۱۷) حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمد یہ للعلامہ عبدالغنی النابلسی (۱۸) نوازل امام فقیہ ابو اللیث (۱۹) فتاویٰ ذخیرہ امام برہان محمود (۲۰) فتاویٰ خلاصہ (۲۱) فتاویٰ بزازیہ (۲۲) فتاویٰ تاتار خانیہ (۲۳) مجمع الفتاویٰ (۲۴) معین الحکام علامہ طرابلسی (۲۵) فصول عمادی (۲۶)خزانۃ المفتیین (۲۷) جامع الفصولین (۲۸) جواہر اخلاطی (۲۹) تکملۂ لسان الحکام (۳۰) الاعلام
معاذاللہ کسی وقت کی نما زقصداً ترک کرنا سخت کبیرہ شدیدہ و جریمۂ عظیمہ ہے جس پر سخت ہول ناک جاں گزا و عیدیں قرآنِ عظیم و احادیث صحیحہ میں وارد ، مگر بد مذہب اگرچہ کیسا ہی نمازی ہو، اللہ عزو جل کے نزدیک سنّی بے نماز سے بدرجہا برا ہے کہ فسقِ عقیدہ فسقِ عمل سے سخت ترہے اور صرف گناہانِ جوارح میں کلام کیجیے تو مسلمان کو عمداً ناحق قتل کرنا ترکِ نماز سے سخت تر ہے اس پر اگر احادیث میں حکم کفرہے اس پر خود قرآن عظیم میں حکم خلود فی النار ہے ۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔ واعظ نے جو مضمون بیان کیا اس کے قریب قریب دربارۂ سود خوار احادیث مرفوعہ حضرت ابوہریرہ و حضرت اسود زہری خال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و حضرت براء بن عازب و حضرت عبداللہ بن سلام و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت عبداللہ بن عباس و آثار موقوفہ حضرت امیر المومنین عثمان غنی و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ابن ماجہ و ابن ابی الدنیا و ابن جریر و بیہقی و ابن مندہ وابو نعیم و طبرانی و حاکم وابن عساکر و بغوی و عبدالرزاق کے یہاں مروی وقد ذکرنا ھا بتخاریجھا فی کتاب البیوع من فتاوانا( اس کو ہم نے تمام تخریجوں کے ساتھ اپنے فتاویٰ کی کتاب البیوع میں بیان کیا ہے ۔ ت ) مگر ان میں سے کسی میں بیت اللہ کا ذکر نہیں ، البتہ ایک حدیث صحیح میں حطیم کعبہ کا ذکر ہے کہ ظناً زمینِ کعبہ ہے نہ یقینا، اس میں ماں کا لفظ نہیں ۔ امام احمد وطبرانی عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بہ سند صحیح راوی ،رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
درھم ربایا کلہ الرجل ، وھویعلم ، اشد عنداﷲ من ستۃ وثلثین زنیۃ فی الحطیم ۔
ایک درم سود کا کہ آدمی دانستہ کھالے اللہ تعالیٰ کے نزدیک حطیم کعبہ میں چھتیس بار زنا کرنے سے سخت تر ہے ۔ (م )
اور دربارۂ ترک نماز اگرچہ اس سے سخت تر مذمت ارشاد ہوئی یہاں تک کہ احادیث مرفوعہ حضرت جابر بن عبداللہ و حضرت بریدہ اسلمی و حضرت عبادہ بن صامت و حضرت ثوبان و حضرت ابوہریرہ و حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت انس بن مالک و حضرت عبداللہ بن عباس و آثار موقوفہ حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ و حضرت عبداللہ بن عباس و حضرت عبداللہ بن مسعود و حضرت جابر بن عبداللہ و حضرت ابودردا و غیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں احمد و مسلم و ابودائود و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبان و حاکم و طبرانی و محمد بن نصر مروزی و ہروی و بزاز وابو یعلی و ابوبکر بن ابی شیبہ و تاریخ بخاری و ابن عبدالبر وغیرہم کے یہاں ترک نماز پر صراحۃً حکم کفر و بے دینی مروی کما فصلہ الامام المنذری فی الترغیب (جیسا کہ امام منذری نے ترغیب میں مفصل بیان کیا ہے ۔ت ) مگر اس بارہ میں وہ الفاظ کہ واعظ نے ذکر کیے اصلاً نظر سے نہ گزرے ،واعظ سے سند مانگی جائے اگر سند معتبر پیش نہ کر سکے تو بے ثبوت ایسے ادعا جہل فاضح ہیں اور گناہ واضح والعیاذ باﷲ رب العٰلمین واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم ۔
(فتاویٰ رضویہ مترجم، ج۵ ، ص ۱۰۹ ۔ ۱۱۰)
نجدی پیشوائوں کے کفریات پر لٹکتی ہوئی ہندی تلواریں :
۲۲؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۱۲ھ میں مولانا مولوی محمد فضل المجید صاحب قادری نے امام اہل سنّت سے غیر مقلدین وہابیہ کے بارے میں ایک استفتاکیا جس میں وہابیوں کے کلمہ کفر کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی درخواست کی ،مع سوال اعلیٰ حضرت کے دلائل کثیرہ ملاحظہ فرمائیں :
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ غیر مقلدین جو تقلید ائمۂ اربعہ کو شرک کہتے ہیں اور جس مسلمان کو مقلد دیکھیں مشرک بتاتے ہیں ، دہلی والے اسمٰعیل مصنفِ تقویۃ الایمان و صراط مستقیم وایضاح الحق و یک روزی و تنویر العینین کو اپنا پیشوا بتاتے اور اس کے اقوال کو حق و ہدایت جانتے او ر اس کے مطابق اعتقاد رکھتے ہیں ہمارے فقہاے کرام پیشوایانِ مذہب کے نزدیک ان پر اور ان کے پیشوا پر کلمۂ کفر لازم ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا …
( سائل کے سوال کے بعد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ چند سطر لکھنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ۔)
کتابیں جن سے ہم نے ان کے اقوال کا کلماتِ کفر ہونا ثابت کیا یہ ہیں :
(۱) قرآن عظیم (۲) صحیح بخاری شریف (۳) صحیح مسلم شریف (۴) فقہ اکبر تصنیف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (۵) در مختار (۶) عالم گیری (۷) فتاویٰ قاضی خان (۸) بحرالرائق (۹) نہرا لفائق (۱۰) اشباہ والنظائر (۱۱) جامع الرموز (۱۲) برجندی شرح نقایہ (۱۳) مجمع الانہر (۱۴ ) شرح وہبانیہ (۱۵) رد المحتار (۱۶) شرح الدرروالغرر للعلامۃ اسمٰعیل النابلسی (۱۷) حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمد یہ للعلامہ عبدالغنی النابلسی (۱۸) نوازل امام فقیہ ابو اللیث (۱۹) فتاویٰ ذخیرہ امام برہان محمود (۲۰) فتاویٰ خلاصہ (۲۱) فتاویٰ بزازیہ (۲۲) فتاویٰ تاتار خانیہ (۲۳) مجمع الفتاویٰ (۲۴) معین الحکام علامہ طرابلسی (۲۵) فصول عمادی (۲۶)خزانۃ المفتیین (۲۷) جامع الفصولین (۲۸) جواہر اخلاطی (۲۹) تکملۂ لسان الحکام (۳۰) الاعلام
👍1
بقواطع الاسلام للامام ابن حجر المکی الشافعی (۳۱)شفا شریف للامام القاضی عیاض المالکی (۳۲) شرح الشفا للملاّعلی قاری (۳۳) نسیم الریاض للعلامۃ شہاب الدین الخفاجی (۳۴) شرح المواہب للعلامۃ الزرقانی المالکی (۳۵) شرح فقہ اکبر للعلامۃ القاری (۳۶) شرح العقائد العضدیہ للمحقق الدوانی الشافعی (۳۷) الدرر السنیہ للعلامۃ السید الشریف مولانا احمد زینی دحلان المکی الشافعی (۳۸) الدرالثمین للشاہ ولی اللہ دہلوی (۳۹) تحفہ اثناء عشریہ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی (۴۰)تفسیر عزیزی شاہ صاحب موصوف (۴۱) موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی برادر شاہ صاحب ممدوح ، یہاں تک کہ خود تقویۃ الایمان اور اس کا دوسرا حصہ تذکیر الاخوان وغیرہا ، اور نیز اس میں مدد لی گئی احیاء العلوم امام حجۃ الاسلام غزالی و شرح عقائد النسفی علامہ سعد تفتازانی و میزان الشریعۃ الکبریٰ امام عبدالوہاب شعرانی ومکتوبات جناب شیخ مجدد الف ثانی و حجۃ اللہ البالغہ و انتباہ فی سلاسل اولیا ہر دو تصنیف شاہ ولی اللہ صاحب ، یہاں تک کہ مسک الختام شرح بلوغ المرام تصنیف نواب صدیق حسن خاں بھوپالی ظاہری آنجہانی وغیرہا سے ، یہاں صرف سات (کفریہ ) قول پر اکتفا کروں ،
(فتاویٰ رضویہ مترجم ، ج ۱۴، ص ۲۴۰)
(رسالہ سل السیوف الہندیۃ علٰی کفریات بابا النجدیۃ)
اللہ اکبر … یہ کیساعظیم فن … کہ پڑھنے والا اور سننے والا حیرت زدہ رہ کر صرف اعلیٰ حضرت کے دلائل کثیرہ کو تکتارہے ۔علاوہ ازیں امام اہل سنّت نے مندرجہ بالا تصانیف کثیر ہ کے صرف نام لکھ کر نہیں چھوڑے بلکہ اپنی اس تصنیف میں لکھی ہوئی کتابوں کی عبارتوں کو بھی نقل کیا اور اُن سے وہابیہ کے کلمۂ کفر کو ثابت کیا،استاذ العلما جلالۃ العلم علامہ شاہ عبدالعزیز قد س سرہ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں :
’’ علامہ شامی کے بعد اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا دوسرافقیہ نہیں پیدا ہوا ۔ ‘‘
(ملفوظات حافظ ملت ، ص ۱۹ ، مقدمہ از علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی )
شیخ ابوالفتاح ابوغدہ(پروفیسر کلیۃ الشریعہ محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض )نے فتاویٰ رضویہ کا صرف ایک عربی فتویٰ مطالعہ کیا تو وہ حیران رہ گئے ، خود فرماتے ہیں :
’’ عبارت کی روانی اور کتب و سنّت و احوالِ سلف سے دلائل کے انبار دیکھ کر مَیں حیران ہو گیا اور ششدر رہ گیا اور اس ایک فتوے کے مطالعہ کے بعد مَیں نے یہ رائے قائم کر لی کہ یہ شخص کوئی عالم اور اپنے وقت کا زبردست فقیہ ہے ۔‘‘ ( امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں ، از علامہ یٰس ٓ اختر مصباحی ، ص ۱۹۴ )
تحقیقات رضویہ میں دلائل وبراہین کی کثرت کا جلوہ دیکھنے کے لیے قارئین تصانیف رضا بالخصوص ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘ کامطالعہ کریں اور فکر و نظر کی جلا کا سامان کریں۔
(مطبوعہ سالنامہ یادگار رضا ۲۰۰۸ء مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
(فتاویٰ رضویہ مترجم ، ج ۱۴، ص ۲۴۰)
(رسالہ سل السیوف الہندیۃ علٰی کفریات بابا النجدیۃ)
اللہ اکبر … یہ کیساعظیم فن … کہ پڑھنے والا اور سننے والا حیرت زدہ رہ کر صرف اعلیٰ حضرت کے دلائل کثیرہ کو تکتارہے ۔علاوہ ازیں امام اہل سنّت نے مندرجہ بالا تصانیف کثیر ہ کے صرف نام لکھ کر نہیں چھوڑے بلکہ اپنی اس تصنیف میں لکھی ہوئی کتابوں کی عبارتوں کو بھی نقل کیا اور اُن سے وہابیہ کے کلمۂ کفر کو ثابت کیا،استاذ العلما جلالۃ العلم علامہ شاہ عبدالعزیز قد س سرہ بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں :
’’ علامہ شامی کے بعد اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا دوسرافقیہ نہیں پیدا ہوا ۔ ‘‘
(ملفوظات حافظ ملت ، ص ۱۹ ، مقدمہ از علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی )
شیخ ابوالفتاح ابوغدہ(پروفیسر کلیۃ الشریعہ محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض )نے فتاویٰ رضویہ کا صرف ایک عربی فتویٰ مطالعہ کیا تو وہ حیران رہ گئے ، خود فرماتے ہیں :
’’ عبارت کی روانی اور کتب و سنّت و احوالِ سلف سے دلائل کے انبار دیکھ کر مَیں حیران ہو گیا اور ششدر رہ گیا اور اس ایک فتوے کے مطالعہ کے بعد مَیں نے یہ رائے قائم کر لی کہ یہ شخص کوئی عالم اور اپنے وقت کا زبردست فقیہ ہے ۔‘‘ ( امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں ، از علامہ یٰس ٓ اختر مصباحی ، ص ۱۹۴ )
تحقیقات رضویہ میں دلائل وبراہین کی کثرت کا جلوہ دیکھنے کے لیے قارئین تصانیف رضا بالخصوص ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘ کامطالعہ کریں اور فکر و نظر کی جلا کا سامان کریں۔
(مطبوعہ سالنامہ یادگار رضا ۲۰۰۸ء مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط ㊼
عیسوی جشن صد سالہ عرس رضا
مختصر سوانح والد اعلیٰ حضرت
رئیس الاتقیاء علامہ نقی علی خان
مختصر سوانح شہزادۂ اعلیٰحضرت
حضور مفتئ اعظم ہند الشاہعلامہ
مصطفیٰ رضا خان علیہم الـرحـمـہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عیسوی جشن صد سالہ عرس رضا
مختصر سوانح والد اعلیٰ حضرت
رئیس الاتقیاء علامہ نقی علی خان
مختصر سوانح شہزادۂ اعلیٰحضرت
حضور مفتئ اعظم ہند الشاہعلامہ
مصطفیٰ رضا خان علیہم الـرحـمـہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬