🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط ㊹
بدعت و منکرات کا رد اعلیٰ حضرت
کی کتب کی روشنی میں | قسط❹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت | قسط ㊺
بدعت و منکرات کا رد اعلیٰ حضرت
کی کتب کی روشنی میں | قسط❺
❗️ اعلیٰ سرکارِ حضرت اور مولوی
اشرف علی تھانوی نے دیوبند ســے
ایک ساتھ پڑھا کا جواب قسط¹تا⁶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کثرت دلائل اور امام احمد رضا علیہ الرحمہ
از: ڈاکٹر غلام مرسلین رضوی.ناگپور (انڈیا)
(یہ مقالہ میں نے 2008 میں لکھا تھا جوکہ یادگار رضا میں شائع ہوا تھا آج غلام مصطفی رضوی مالیگاؤں کے ذریعے دوبارہ مجھے موصول ہوا ہے)
امام اہل سنّت قاطع بدعات و منکرات فقیہ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں ۔آپ کی عبقری شخصیت اور غیر معمولی شہرت کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج ساری دُنیا میں آپ کے علوم و فنون پرتحقیق و ریسرچ کر کے ڈاکٹریٹ (Ph.D.) اور ایم ۔ فل (M.Phil.) کی ڈگریاں حاصل کی جارہی ہیں ۔ بلا مبالغہ امام اہل سنّت نے تقریباً تمام علوم و فنون پر تصانیف بہ طور یادگار چھوڑی ہیں ۔ کچھ علوم و فنون کتابی شکل میں محفوظ ہو گئے ۔ کچھ علوم و فنون شائع نہ ہو سکے اور کچھ علوم و فنون اپنوں کی بے اعتنائی اور لاپرواہی سے دیمک کی نذر ہو کر ضائع ہو گئے ۔ امام اہل سنّت نے قرآن ، تفسیر ، حدیث ، فقہ پر جو کام کیا ہے اس کا لوہا مخالفین نے بھی مانا ہے ، اس کے علاوہ درجنوں علوم و فنون پر آپ کی بیش تر تصانیف یادگار ہیں ۔
اللہ رب العزت نے اپنے حبیب سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں اعلیٰ حضرت کو ایک ایسا فن عطا کیا تھا جس کی نظیر نہیں ملتی اور وہ فن ہے کسی مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے علماے متقدمین و متاخرین کی اتباع کرتے ہوئے اس کثرت سے حدیث و فقہ سے دلائل قائم کرنا کہ مخالفین کو اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے۔ یوں معلوم ہوتا کہ امام اہل سنّت صرف کاغذ پر لکھے ہوئے سوالات کو مد نظر رکھ کر جواب نہیں دیتے تھے بلکہ سائل کے دل کی گہرائی کو سمجھ کر جواب دیتے کہ سائل کس مقصد سے سوال پوچھ رہا ہے۔ اور اس کے ذہن میںکیا کیا اشکال وارد ہیں۔ اور جواب دیتے وقت اس بات کو بھی مد نظر رکھتے کہ جوابات پر کیا کیا اعتراضات ہو سکتے ہیں ، ان کا بھی شافی و وافی جواب عنایت فرماتے ۔ امام اہل سنّت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے یہ فن روحانی طور پر حاصل کیا تھا ۔ اسے ہی علم لدنی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
بے مثل محدث ، اعلیٰ پایہ کے فقیہ ، استاذ المجتہدین حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق حضرت امام حافظ الدین کردری صاحب فتاویٰ بزازیہ(متوفی ۸۲۷ھ)علیہ الرحمہ اپنی تصنیف ’’مقامات امام اعظم ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: ’’ امام اعظم ابو حنیفہ ولایت کی نظر سے سائل کے قلب پر روشنی ڈالتے کہ یہ کس مقصد سے سوال پوچھ رہا ہے۔ اور پھر اس کو اطمینان بخش جواب عنایت فرماتے ۔‘‘ امام اہل سنّت کی تصانیف خصوصاً فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے یہ بات آفتاب کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ آپ مخالفین کو دنداں شکن جواب دینے کے لیے کس طرح دلائل کے انبار لگاتے چلے جاتے ہیں ۔ اس کی چند مثالیںقارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔
(۱) علم غیب مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جب سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم شریف کو ثابت کرنے کے لیے ترمذی شریف کی یہ حدیث بیان کی کہ ’’ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : اللہ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور اس کی ٹھنڈک مَیں نے اپنے سینے میں محسوس کی …پس جان لیا مَیں نے وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں تھا …‘‘(سبحان اللہ )تو مخالفین کے خیمہ میں انتشار برپا ہو گیا اور مخالفین اس حدیث کی طرح طرح سے تاویلیں کرنے لگے اور اعلیٰ حضرت سے مزید حوالے طلب کرنے لگے ، امام اہل سنّت مجد د اسلام اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ا س کی سند یوں بیان کرتے ہیں :
l رواہ امام الائمۃ ابو حنیفۃ والام احمد و عبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی و الطبرانی عن ابن عباس۔
l و احمد و الطبرانی و ابن مردویہ عن معاذ بن جبل۔
l وابن خزیمۃ والدارمی والبغوی وابن السکن وابونعیم و ابن بسطۃ عن عبدالرحمٰن بن عایش و الطبرانی عنہ عن صحابی۔
l والبزاز عن ابن عمر و عن ثوبان۔
l والطبرانی عن ابی امامۃ۔
l وابن قانع عن ابی عبیدۃ بن الجراح۔
l والدار قطنی و ابوبکر النیسا پوری فی الزیادات عن انس۔
l وابو الفرج تعلیقا عن ابی ہریرۃ۔
l وابن ابی شیبۃ مرسلا عن عبدالرحمٰن بن سابط۔ (رضی اﷲ تعالٰی عنہم )۔
آخر میں فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے طرق کی تفصیلات اور کلمات کا اختلاف اپنی بابرکت کتاب سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الوریٰ میں بیان کیا ہے ۔ قلم برداشتہ کسی حدیث کے اتنے مآخذ کا بیان کردینا معمولی بات نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج ۱، ص ۱۰ )
(۲) سفر وحضر میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا کیسا ہے ؟
۱۳۱۳ ھ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے سوال کیاگیا کہ سفر وحضر میں دو نمازوں کو ملا کر پڑھ لینا جائزہے یا نہیں ؟ چوں کہ غیر مقلدین اس کے قائل اور عامل ہیں نیز میاں نذیر حسین صاحب (دہلوی ) نے اپنی کتاب ’’معیار حق ‘‘ میں بلند بانگ دعوئوں کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی اور حنفی مسلک کو احادیث کے برخلاف قرار دیا تھا ، لہٰذاا علیٰ حضرت محدث بریلوی نے محدث کہلانے والے میاں صاحب کے دلائل کا جواب دینا ضروری سمجھا اور ایسا عالمانہ ومجددانہ رد کیا کہ میاں صاحب اور ان کے تلامذہ سے آج تک کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ ان روشن وواضح دلائل کا جواب دے ۔ فتاویٰ رضویہ جلد دوم میں ص ۲۰۷؍ سے ص ۳۰۵ ؍ تک ۹۸ ؍صفحات پر مشتمل اور فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۵؍ میںص ۱۵۹ سے ص ۳۱۳؍ تک ۱۵۴؍ صفحات پر مشتمل یہ مبارک فتویٰ ’’ حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین ‘‘کے نام سے موجود ہے جو امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی حدیث دانی کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔ امام احمد رضا نے میاں نذیر حسین دہلوی کے اس فتویٰ پر سخت تنقید کی اور ان کے ایک ایک شبہے کا جواب اتنے مضبوط حوالوں سے دیا ہے کہ مخالفین حدیث دانی کے دعوے کے باوجود آج تک اس کا جواب دینے کی ہمت نہ کر سکے ۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں :
اللہ عزو جل نے اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کے ارشادات سے نماز فرض کا ایک خاص وقت جداگانہ مقرر فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے نماز کی صحت نہ اس کے بعد تاخیر کی اجازت، ظہر ین عرفہ و عشائین مزدلفہ کے سوادو نمازوں کا قصداً ایک وقت میں جمع کرنا سفراً حضراً ہرگز کسی طرح جائز نہیں۔ قرآن عظیم و احادیث صحاح سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی ممانعت پر شاہد عدل ہیں۔ یہی مذہب ہے حضرت ناطق بالحق والصواب موافق الراے بالوحی والکتاب امیر المومنین عمر فاروق اعظم و حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص احد العشرۃ المبشرۃ و حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود من اجل فقہاء الصحابۃ البررۃ و حضرت سیّدنا و ابن سیّدنا عبداللہ بن عمر فاروق و حضرت سیّد تناامّ المو منین صدیقہ بنت الصدیق اعاظم صحابۂ کرام و خلیفہ راشد امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز و امام سالم بن عبداللہ بن عمر و امام علقمہ بن قیس و امام اسود بن یزید نخعی و امام حسن بصری و امام ابن سیرین و امام ابراہیم نخعی و امام مکحول شامی و امام جابر بن زید و امام عمرو بن دینار و امام حماد بن ابی سلیمان و امام اجل ابو حنیفہ اجلۂ ائمہ تابعین و امام سفیان ثوری و امام لیث بن سعد و امام قاضی الشرق و الغرب ابو یوسف و امام ابو عبداللہ محمد الشیبانی و امام زفر بن الہذیل و امام حسن بن زیاد و امام دار الہجرۃ عالم المدینۃ مالک بن انس فی روایۃ ابن قاسم اکابر تبع تابعین و امام عبدالرحمن بن قاسم عتقی تلمیذ امام مالک و امام عیسیٰ بن ابان و امام ابو جعفر احمد بن سلامہ مصری و غیرہم ائمۂ دین کا ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم ، ج ۵، ص ۱۶۰ )
یہاں تو امام اہل سنّت علیہ الرحمہ نے صحابۂ کرام ، تابعین و تبع تابعین ، اکابر تبع تابعین اور ائمۂ دین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قول و فعل کو بیان کیا ہے ۔ تخریج حدیث کے نمونے ملاحظہ فرمائیں ۔چند صفحات کے بعد فرماتے ہیں :
حضور پر نور سیّد یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جمع صوری کا ثبوت اصلاً محل کلام نہیں اور وہی مذہب مہذب ائمۂ حنفیہ ہے اس میں صاف صریح جلیل وصحیح احادیث مروی مگر ملاّ جی تو انکارِ آفتاب کے عادی ، بکمال شوخ چشمی بے نقط سُنادی کہ کوئی حدیث صحیح ایسی نہیں جس سے ثابت ہو کہ آں حضرت جمع صوری سفر میں کیا کرتے تھے بہت اچھا ذرا نگاہ رو بہ رو۔
حدیث : جلیل وعظیم حدیث سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ اس جناب سے مشہور و مستفیض ہے جسے امام بخاری و ابودائود و نسائی نے اپنی صحاح اور امام عیسیٰ بن ابان نے کتاب الحجج علیٰ اہلِ مدینہ اور امام طحاوی نے شرح معانی الآثار اور ذہلی نے زہریات اور اسمٰعیلی نے مستخرج صحیح بخاری میں بطرق عدیدہ کثیرہ روایت کیا :
فالبخاری والاسمعیلی والذہلی من طریق اللیث بن سعد عن یونس عن الزہری ، والنسائی من طریقی یزید بن زریع و النضربن شمیل عن کثیر بن قارونداکلاہماعن سالم۔ والنسائی عن قتیبۃ والطحاوی عن ابی عامر العقدی والفقیہ فی الحجج ثلثتہم عن العطاف، وابوداؤد عن فضیل بن غزوان، وعن عبداﷲ بن العلاء، وایضاھو عن عیسٰی والنسائی عن الولیدوالطحاوی عن بشر بن بکر، ھؤلاء الثلثۃ عن ابن جابر، والطحاوی عن اسامۃ بن زید، خمستہم اعنی العطاف وفضیلا و ابن العلاء و جابر واسامۃ عن نافع ۔ و ابوداؤد عن عبداﷲ بن واقد۔ والطحاوی عن اسمعیل بن عبدالرحمٰن۔ اربعتھم عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما۔