This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*جس عورت کو اولاد نہ ہو وہ نیوگ کرے معاذ اللہ*
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
YouTube
Hasan Noori Official
Sach O Haq Ke Mutlaashi, Sachhe Islam Ki isha,at Jhote Ilzaam Ka Jawab, Aur Maslak E Ahle Sunnat (Maslak E Ala Hazrat) Ki Pehchan, Qura'n o Hades Ijma Qayas Aur Buzrugan e Deen Ki Kitabo Ki Roshni Men Aqedah Ahle Sunnat, Mamulaat E Ahle Sunnat, Ahkam e Shari'at…
عرسِ #حضور_حافظ_ملت جلالة العلم
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی
عُرسِ #حضور_خطیب_البراہین حضرت
علامہ مفتی الشاه الحاج صوفی محمد
نظام الدین قَـــادِرِی بَـرکـــــاتِـی رَضَــوِی
مُحدث بستوی رَحــــمَــــةُ الــلّٰــهِ عَـلَـیـه
۱۸ جنوری ۲۰۱۸ء / بروز جمعرات
علامہ مفتی الشاه الحاج صوفی محمد
نظام الدین قَـــادِرِی بَـرکـــــاتِـی رَضَــوِی
مُحدث بستوی رَحــــمَــــةُ الــلّٰــهِ عَـلَـیـه
۱۸ جنوری ۲۰۱۸ء / بروز جمعرات
*KhushKhabri...❗*
*KhushKhabri...❗*
*KhushKhabri...❗*
*NAMAZ-E-JUMA KI IMAMAT*
_*Janashin-O-Shahzada-E-Sarkaar Sadrush'Shariyah*_💐
_Waris-E-Uloom-E-Sarkaar Hafiz-E-Millat_💐
_Wali ibne wali_💐
_Faqeeh Ibne Faqeeh_💐
_Mumtaz-Ul-Fuqha Wal Muhaddiseen_💐
_Sultan-Ul-Asaatizah_ 💐
_Ustaaz-Ul-Ulama_💐
_Gazaali-E-Daurañ_💐
_Ameer-Ul-Momineen-Fil-Hadees_💐
*_Huzoor Muhaddis-E-Kabeer Hazrat Allama Mufti Ziya-Ul-Mustafa Qadri Amjadi DamaZillahul Aali Wal Noorani_*💐💐💐
_{Naib Qazi-Ul-Quzzat Fil Hind, SajjadahNasheen Aastana-E-Aaliyah Qadriyah Razviyah Amjadiah Wa Sarbaraah-E-Aala Aljamia-Tul-Amjadia Razviya Ghosi Sharif, Mau }_
Barkati Masjid,
kailash Apartment,
Near City Centre Mall,
Mumbai Central.
_Me Ada Farmayenge_
*Jama'at time:*
_1:30 pm_
_Ehbaab-E-Ahle Sunnat ke Liye Wali-E-Kamil Ki Iqteda me Namaz-E-Juma ada Karne Ka Sunahra Mauqa._
*KhushKhabri...❗*
*KhushKhabri...❗*
AAJ 12 January 2018
*NAMAZ-E-JUMA KI IMAMAT*
_*Janashin-O-Shahzada-E-Sarkaar Sadrush'Shariyah*_💐
_Waris-E-Uloom-E-Sarkaar Hafiz-E-Millat_💐
_Wali ibne wali_💐
_Faqeeh Ibne Faqeeh_💐
_Mumtaz-Ul-Fuqha Wal Muhaddiseen_💐
_Sultan-Ul-Asaatizah_ 💐
_Ustaaz-Ul-Ulama_💐
_Gazaali-E-Daurañ_💐
_Ameer-Ul-Momineen-Fil-Hadees_💐
*_Huzoor Muhaddis-E-Kabeer Hazrat Allama Mufti Ziya-Ul-Mustafa Qadri Amjadi DamaZillahul Aali Wal Noorani_*💐💐💐
_{Naib Qazi-Ul-Quzzat Fil Hind, SajjadahNasheen Aastana-E-Aaliyah Qadriyah Razviyah Amjadiah Wa Sarbaraah-E-Aala Aljamia-Tul-Amjadia Razviya Ghosi Sharif, Mau }_
Barkati Masjid,
kailash Apartment,
Near City Centre Mall,
Mumbai Central.
_Me Ada Farmayenge_
*Jama'at time:*
_1:30 pm_
_Ehbaab-E-Ahle Sunnat ke Liye Wali-E-Kamil Ki Iqteda me Namaz-E-Juma ada Karne Ka Sunahra Mauqa._
🌹 *امام کی تلاش* 🌹
.............................................
پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کا مدعا پوچھا : کیسے آنا ہوا ؟
مسجد کمیٹی :
بس آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے، آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونا بھی سعادت کی بات ہے
🌹مفتی صاحب :
ماشاء اللہ ! / اللہ خوش رکھے۔
پھر بھی اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں کیونکہ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے۔
مسجد کمیٹی :
جی بس آپ سے مِلنا بھی تھا اور ایک عرصے سے ہمارا آپ کے ہاں آنا جانا ہے تو ہم نےچاہا کہ ہم اپنی مسجد کےلیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔
🌹 مفتی صاحب :
پہلے والے امام صاحب کہاں ہیں ؟
مسجد کمیٹی :
انہیں فارغ کر دیا ہے۔
🌹مفتی صاحب : کیوں ؟
مسجدکمیٹی :
وه ٹائِم نہیں دیتے تھے ؟
🌹مفتی صاحب : کیا مطلب ؟
مسجدکمیٹی :
جی وہ نماز کے لیے ٹائِم پر نہیں آتے تھے !
🌹مفتی صاحب :
ٹائِم پر کیوں نہیں آتے تھے ؟
مسجد کمیٹی :
جی وہ اِدھر اُدھر ٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھر جماعَت میں کبھی ۵ منٹ رہتا تو پہنچتے اور کبھی بالکل عین جماعت کےٹائِم پر پہنچتے تھے روزانہ کسی نہ کسی نماز میں ایسا ہِی کرتے تھے۔
🌹مفتی صاحب :
اُنہیں وظیفہ کیا دیتے تھے ؟
مسجد کمیٹی :
جی ان کو چهہ ہزار (6000) دیتے تھے اور اب آپ کے امام صاحب کو آٹھ ہزار (8000) دیں گے۔
🌹مفتی صاحب :
امام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے یا اکیلے ؟
مسجد کمیٹی :
نہیں اکیلے تھے، ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے، اب کوشِش کر رہے ہیں۔
🌹مفتی صاحب :
آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتدا سید المرسلین ﷺ نے کی اور خلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا۔
خلفائے راشدین بَیَکْ وقت حاکِم بھی تھے اور امام بھی۔ ان کے بعد منصبِ امامت والے اُنہیں کے نائبین کہلاتے ہیں۔
اسی لیے مُصَلۂ اِمامت کو مصلائے رسول ﷺ اور منبرِ مسجد کو منبرِ رسول ﷺ بھی کہتےہیں۔
اب خود ہی سوچیں کہ یہ کتنا مقدس منصب ہے اور اس کی کتنی قدر ہونی چاہیے۔ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چَوبِیس گھنٹے مسجد میں موجود رہیں اور ہم جو بھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکے۔
آج اس دور میں سرکاری طور پر ایک معمولی مزدور کا وظیفہ بھی چودہ ہزار (14000) مقرر ہے لیکن لوگوں کی کم ظرفی تو دیکھیں کہ جس منصب کا رتبہ ملک کے صدر و وزیرِ اعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک معمولی مزدور کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے،
🌹🌹ارے میرے نزدیک تو امام و قرآن کی قدر یہ ہے کہ امام صاحب جو صِرف نمازِ فجر میں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگر صرف ایک نماز پر انہیں ہم ایک لاکھ روپے وظیفہ دیں تو یہ بھی کم ہے ! 🌹🌹
اور یہاں اس مقام کی قدر یہ هے کہ لوگ چھہ سات ہزار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بہُت بڑا احسان کرتے ہیں اوراگر ان کا اپنا بیٹا 30_40 ہزار بھی کماتا ہو پھر بھی انہیں کم نظر آتا هے اور وه اُنہیں امام صاحب سے دعا کرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے، حیرت و افسوس کا مقام ہے
لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اور کام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں۔
کیا وہ انسان نہیں ہیں ؟
کیا ان کے بیوی بچوں کی ضروریات نہیں ہیں ؟
کیا وہ اپنے بیوی بچوں کو خوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں ؟
آج لوگوں کو امام کی تلاش نہیں بلکہ ایک نوکر اور غلام کی تلاش ہے،
مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں اور دوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ کہہ کر مفتی صاحب چل دیۓ اور کمیٹی ممبران دیکھتے رہ گئے
یہ حال ہے ہماری قوم کا
الله تعالیٰ انہیں صحیح سمجھ
عطا فرمائے ! (منقول شدہ)
.............................................
پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کا مدعا پوچھا : کیسے آنا ہوا ؟
مسجد کمیٹی :
بس آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے، آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونا بھی سعادت کی بات ہے
🌹مفتی صاحب :
ماشاء اللہ ! / اللہ خوش رکھے۔
پھر بھی اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں کیونکہ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے۔
مسجد کمیٹی :
جی بس آپ سے مِلنا بھی تھا اور ایک عرصے سے ہمارا آپ کے ہاں آنا جانا ہے تو ہم نےچاہا کہ ہم اپنی مسجد کےلیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔
🌹 مفتی صاحب :
پہلے والے امام صاحب کہاں ہیں ؟
مسجد کمیٹی :
انہیں فارغ کر دیا ہے۔
🌹مفتی صاحب : کیوں ؟
مسجدکمیٹی :
وه ٹائِم نہیں دیتے تھے ؟
🌹مفتی صاحب : کیا مطلب ؟
مسجدکمیٹی :
جی وہ نماز کے لیے ٹائِم پر نہیں آتے تھے !
🌹مفتی صاحب :
ٹائِم پر کیوں نہیں آتے تھے ؟
مسجد کمیٹی :
جی وہ اِدھر اُدھر ٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھر جماعَت میں کبھی ۵ منٹ رہتا تو پہنچتے اور کبھی بالکل عین جماعت کےٹائِم پر پہنچتے تھے روزانہ کسی نہ کسی نماز میں ایسا ہِی کرتے تھے۔
🌹مفتی صاحب :
اُنہیں وظیفہ کیا دیتے تھے ؟
مسجد کمیٹی :
جی ان کو چهہ ہزار (6000) دیتے تھے اور اب آپ کے امام صاحب کو آٹھ ہزار (8000) دیں گے۔
🌹مفتی صاحب :
امام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے یا اکیلے ؟
مسجد کمیٹی :
نہیں اکیلے تھے، ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے، اب کوشِش کر رہے ہیں۔
🌹مفتی صاحب :
آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتدا سید المرسلین ﷺ نے کی اور خلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا۔
خلفائے راشدین بَیَکْ وقت حاکِم بھی تھے اور امام بھی۔ ان کے بعد منصبِ امامت والے اُنہیں کے نائبین کہلاتے ہیں۔
اسی لیے مُصَلۂ اِمامت کو مصلائے رسول ﷺ اور منبرِ مسجد کو منبرِ رسول ﷺ بھی کہتےہیں۔
اب خود ہی سوچیں کہ یہ کتنا مقدس منصب ہے اور اس کی کتنی قدر ہونی چاہیے۔ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چَوبِیس گھنٹے مسجد میں موجود رہیں اور ہم جو بھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکے۔
آج اس دور میں سرکاری طور پر ایک معمولی مزدور کا وظیفہ بھی چودہ ہزار (14000) مقرر ہے لیکن لوگوں کی کم ظرفی تو دیکھیں کہ جس منصب کا رتبہ ملک کے صدر و وزیرِ اعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک معمولی مزدور کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے،
🌹🌹ارے میرے نزدیک تو امام و قرآن کی قدر یہ ہے کہ امام صاحب جو صِرف نمازِ فجر میں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگر صرف ایک نماز پر انہیں ہم ایک لاکھ روپے وظیفہ دیں تو یہ بھی کم ہے ! 🌹🌹
اور یہاں اس مقام کی قدر یہ هے کہ لوگ چھہ سات ہزار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بہُت بڑا احسان کرتے ہیں اوراگر ان کا اپنا بیٹا 30_40 ہزار بھی کماتا ہو پھر بھی انہیں کم نظر آتا هے اور وه اُنہیں امام صاحب سے دعا کرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے، حیرت و افسوس کا مقام ہے
لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اور کام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں۔
کیا وہ انسان نہیں ہیں ؟
کیا ان کے بیوی بچوں کی ضروریات نہیں ہیں ؟
کیا وہ اپنے بیوی بچوں کو خوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں ؟
آج لوگوں کو امام کی تلاش نہیں بلکہ ایک نوکر اور غلام کی تلاش ہے،
مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں اور دوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
یہ کہہ کر مفتی صاحب چل دیۓ اور کمیٹی ممبران دیکھتے رہ گئے
یہ حال ہے ہماری قوم کا
الله تعالیٰ انہیں صحیح سمجھ
عطا فرمائے ! (منقول شدہ)