*محرم کے بغیر سفر کے لیے نکلنے والی عورت پر اللہ کی لعنت برستی ہے ،*
بغیر محرم کے حج کے لیے درخواستیں دینے والی خواتین، اپنا فارم واپس لے لیں،
اصلاح معاشرہ اور پیغام غوث اعظم کانفرنس سے مفتی اعظم مہاراشٹر مفتی محمد مجیب اشرف صاحب کا فکر انگیز خطاب
.............................................
مالیگاؤں / یکم جنوری ....
کون کتنی طاقت و قُدرت والا ہے اس کا اندازہ مقابلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ، سخت مٹی پتھر سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے .... اور پتھر پر جب لوہے سے بنے گھن کی مار پڑتی ہے تب اس کا مضبوط دکھائی دینے والا وجود بکھر جاتا ہے ..... لوہا بہت مضبوط ہونے کے باوجود آگ کی تپش سے پگھل جاتا ہے .....
آگ کے خطرناک شعلے بھی پانی کے آگے سرد پڑ جاتے ہیں .....
پانی کی طاقت آگ سے زیادہ ہے لیکن اس کا یہ غرور بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ روز لاکھوں ٹن پانی سورج اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر کھینچ لیتا ہے، پروردگار عالم کا بنایا ہوا یہ نظام ہے کہ جس پانی نے آگ بجھائی تھی اسے سورج نے اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر اڑا دیا ..... یہ بڑی عام سی مثالیں ہیں لیکن اس کی اپنی اہمیت ہے، سورج تو سورج ہے، اس سے آنکھ ملانا کس کی مجال ہے .......؟ مگر مولائے کائنات، شیر خدا، حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ سے پوچھو کہ مقام صہبا میں جب ان کی نماز عصر قضا ہوئی تو ڈوبا ہوا سورج مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر کس طرح واپس چلا آیا ........... ؟
معلوم ہوا کہ اس جہان میں خالق کائنات نے سب سے زیادہ طاقت و قُدرت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے ،
اس تمہید کے ساتھ اپنے ایمان افروز خطاب کا آغاز مفتی اعظم مہاراشٹر اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف صاحب نے جیلانی چوک میں آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان اور پر ہجوم کانفرنس میں کیا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے فضل و احسان سے انبیاء و اولیاء کو ایسی طاقت و قدرت عطا فرمائی جس سے خلق خدا کو راحت نصیب ہوتی ہے، حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی کرامات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ پیران پیر کے زمانے میں جب دریائے دجلہ کے خطرناک سیلاب نے ہر طرف تباہی اور بربادی مچادی اس وقت بغداد والوں نے غوث اعظم کے اشارے سے دجلہ کو سمٹتے ہوئے دیکھا ، اور اس پر بھی ان کی نظر پڑی کہ پیران پیر کس طرح سیلاب کے پانی پر چلتے ہوئے آگے بڑھے چلے جا رہے تھے لیکن پانی کے ایک قطرے کی مجال نہ تھی کہ آپ کے قدم مبارک کو گیلا کرتا ، اک خاص مقام پر پہنچ کر غوث پاک نے ایک لکڑی زمین میں گاڑ دی اور دجلہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ائے دجلہ سن لے اگر تو چاہتا ہے کہ رواں دواں رہے تو پھر اس نشان سے آگے نہیں بڑھنا،
تاریخ بتاتی ہے کہ سات سو برس گزر جانے کے بعد بھی دریائے دجلہ کا پانی کبھی اس مقام سے آگے نہیں بڑھا جس کی نشان دہی غوث پاک نے کی تھی، اس کرامت کا تذکرہ بہجتہ الاسرار شریف میں موجود ہے
ایک ساتھ تین طلاق دینے کو کم علمی اور جہالت قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ طلاق مسئلہ نہیں مسئلے کا حل ہے ......... اگر طلاق کی ضرورت پڑے تو پہلے ایک طلاق دو، اس کے بعد دوسری طلاق دو اور میاں بیوی میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اسے لوٹا لو، کیسا پیارا دستور قرآن نے ہمیں عطا کیا ..... لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ایسے لوگ طلاق کے اس قانون پر تنقید کر رہے ہیں جن کے پاس اس سے بہتر کوئی اور قانون ہی موجود نہیں ہے ....
علامہ موصوف نے فرمایا کہ کتنے تعجب کی بات ہے جو اپنے گھر کا مسئلہ نہیں حل سکتے جو اپنی بیوی کو انصاف نہیں دے سکتے وہ مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کے غم میں بیمار ہو رہے ہیں ، پہلے انہیں اپنے گھر کو سنبھالنا چاہیے پھر کسی اور کی بات کرنا چاہیے .......
آپ نے کہا کہ قرآن و حدیث اور شریعت سے ہٹ کر جو قانون بنایا جائے گا اسے مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتے ....
مفتی اعظم مہاراشٹر نے فرمایا کہ طلاق کا معاملہ طئے ہے اور یہ
قرآن وحدیث کا فیصلہ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ، علامہ موصوف نے نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت دیے جانے کے معاملے میں
حج کمیٹی کے اراکین کو بھی اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ اسلام اور شریعت کے خلاف بنائے جانے والے قانون پر حج کمیٹی کے جو لوگ اپنے منہ پر تالا لگائے بیٹھے رہے ہم ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، بڑے ہی جذباتی اور درد بھرے انداز میں آپ نے اسلامی ماں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کوئی پکنک نہیں، ایک عظیم عبادت ہے اس لیے فریضہ ء حج کی ادائیگی قرآن و حدیث اور شرعی احکامات کے مطابق کی جائے اس سے ہٹ کر بنائے جانے والے قانون کے مکروفریب سے قوم کی بہو بیٹیاں قطعی طور پر متاثر نہ ہوں اس لیے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون کے بعد ایک مسلمان کو، کسی دوسرے قانون ک
بغیر محرم کے حج کے لیے درخواستیں دینے والی خواتین، اپنا فارم واپس لے لیں،
اصلاح معاشرہ اور پیغام غوث اعظم کانفرنس سے مفتی اعظم مہاراشٹر مفتی محمد مجیب اشرف صاحب کا فکر انگیز خطاب
.............................................
مالیگاؤں / یکم جنوری ....
کون کتنی طاقت و قُدرت والا ہے اس کا اندازہ مقابلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ، سخت مٹی پتھر سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے .... اور پتھر پر جب لوہے سے بنے گھن کی مار پڑتی ہے تب اس کا مضبوط دکھائی دینے والا وجود بکھر جاتا ہے ..... لوہا بہت مضبوط ہونے کے باوجود آگ کی تپش سے پگھل جاتا ہے .....
آگ کے خطرناک شعلے بھی پانی کے آگے سرد پڑ جاتے ہیں .....
پانی کی طاقت آگ سے زیادہ ہے لیکن اس کا یہ غرور بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ روز لاکھوں ٹن پانی سورج اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر کھینچ لیتا ہے، پروردگار عالم کا بنایا ہوا یہ نظام ہے کہ جس پانی نے آگ بجھائی تھی اسے سورج نے اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر اڑا دیا ..... یہ بڑی عام سی مثالیں ہیں لیکن اس کی اپنی اہمیت ہے، سورج تو سورج ہے، اس سے آنکھ ملانا کس کی مجال ہے .......؟ مگر مولائے کائنات، شیر خدا، حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ سے پوچھو کہ مقام صہبا میں جب ان کی نماز عصر قضا ہوئی تو ڈوبا ہوا سورج مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر کس طرح واپس چلا آیا ........... ؟
معلوم ہوا کہ اس جہان میں خالق کائنات نے سب سے زیادہ طاقت و قُدرت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے ،
اس تمہید کے ساتھ اپنے ایمان افروز خطاب کا آغاز مفتی اعظم مہاراشٹر اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف صاحب نے جیلانی چوک میں آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان اور پر ہجوم کانفرنس میں کیا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے فضل و احسان سے انبیاء و اولیاء کو ایسی طاقت و قدرت عطا فرمائی جس سے خلق خدا کو راحت نصیب ہوتی ہے، حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی کرامات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ پیران پیر کے زمانے میں جب دریائے دجلہ کے خطرناک سیلاب نے ہر طرف تباہی اور بربادی مچادی اس وقت بغداد والوں نے غوث اعظم کے اشارے سے دجلہ کو سمٹتے ہوئے دیکھا ، اور اس پر بھی ان کی نظر پڑی کہ پیران پیر کس طرح سیلاب کے پانی پر چلتے ہوئے آگے بڑھے چلے جا رہے تھے لیکن پانی کے ایک قطرے کی مجال نہ تھی کہ آپ کے قدم مبارک کو گیلا کرتا ، اک خاص مقام پر پہنچ کر غوث پاک نے ایک لکڑی زمین میں گاڑ دی اور دجلہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ائے دجلہ سن لے اگر تو چاہتا ہے کہ رواں دواں رہے تو پھر اس نشان سے آگے نہیں بڑھنا،
تاریخ بتاتی ہے کہ سات سو برس گزر جانے کے بعد بھی دریائے دجلہ کا پانی کبھی اس مقام سے آگے نہیں بڑھا جس کی نشان دہی غوث پاک نے کی تھی، اس کرامت کا تذکرہ بہجتہ الاسرار شریف میں موجود ہے
ایک ساتھ تین طلاق دینے کو کم علمی اور جہالت قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ طلاق مسئلہ نہیں مسئلے کا حل ہے ......... اگر طلاق کی ضرورت پڑے تو پہلے ایک طلاق دو، اس کے بعد دوسری طلاق دو اور میاں بیوی میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اسے لوٹا لو، کیسا پیارا دستور قرآن نے ہمیں عطا کیا ..... لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ایسے لوگ طلاق کے اس قانون پر تنقید کر رہے ہیں جن کے پاس اس سے بہتر کوئی اور قانون ہی موجود نہیں ہے ....
علامہ موصوف نے فرمایا کہ کتنے تعجب کی بات ہے جو اپنے گھر کا مسئلہ نہیں حل سکتے جو اپنی بیوی کو انصاف نہیں دے سکتے وہ مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کے غم میں بیمار ہو رہے ہیں ، پہلے انہیں اپنے گھر کو سنبھالنا چاہیے پھر کسی اور کی بات کرنا چاہیے .......
آپ نے کہا کہ قرآن و حدیث اور شریعت سے ہٹ کر جو قانون بنایا جائے گا اسے مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتے ....
مفتی اعظم مہاراشٹر نے فرمایا کہ طلاق کا معاملہ طئے ہے اور یہ
قرآن وحدیث کا فیصلہ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ، علامہ موصوف نے نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت دیے جانے کے معاملے میں
حج کمیٹی کے اراکین کو بھی اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ اسلام اور شریعت کے خلاف بنائے جانے والے قانون پر حج کمیٹی کے جو لوگ اپنے منہ پر تالا لگائے بیٹھے رہے ہم ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، بڑے ہی جذباتی اور درد بھرے انداز میں آپ نے اسلامی ماں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کوئی پکنک نہیں، ایک عظیم عبادت ہے اس لیے فریضہ ء حج کی ادائیگی قرآن و حدیث اور شرعی احکامات کے مطابق کی جائے اس سے ہٹ کر بنائے جانے والے قانون کے مکروفریب سے قوم کی بہو بیٹیاں قطعی طور پر متاثر نہ ہوں اس لیے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون کے بعد ایک مسلمان کو، کسی دوسرے قانون ک
ی ضرورت نہیں ، بغیر محرم کے حج کے لیے جانے کا فارم جن خواتین نے بھرا ہے ان سے مفتی اعظم مہاراشٹر نے یہ اپیل بھی کی کہ وہ اللہ عزوجل کی رضا و خوشی کے لیے اپنے فارم واپس لے لیں، حدیث پاک کا حوالہ دیتے ہوئے آب نے فرمایا کہ جو عورت اپنے گھر سے بغیر محرم کے سفر کے لیے نکلتی ہے اس پر قدم قدم پر اللہ کی لعنت برستی ہے، قوم کی بہو بیٹیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک کو اپنے پیش نظر رکھیں اور ہرگز کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے اللہ کا عذاب ان پر نازل ہو، آپ نے فرمایا کہ آخرت کا امتحان اور عذاب بہت سخت تر ہے ، مفتی اعظم مہاراشٹر سے قبل فاضل ازہر مولانا احمد رضا ازہری نے خطاب کیا ، اسٹیج پر مفتی واجد علی یارعلوی، مفتی نعیم رضا مصباحی، مفتی عرفان رضا مصباحی، مولانا مدثر ازہری ، مولانا عبداللّٰہ رضوی
مولانا اشفاق امجد ی، حافظ حفیظ اللّٰہ برکاتی، حافظ مزمّل رضا، قاری عمران رضوی، حافظ احسان رضا، حافظ شریف احمد رضوی اور قاری زین العابدین وغیرہ موجود تھے ، کانفرنس کے لیے بڑا ہی خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا، اسٹیج کے تینوں جانب ہزاروں سامعین نے علمائے کرام کے خطابات کو بڑی ہی توجہ کے ساتھ سنا ، ہزاروں مستورات نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی، نوجوانان جیلانی چوک نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے بڑی جدوجہد کی ، قاری محمد ہارون رضوی ، عقیل احمد رضوی ، عمران رضوی اور آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے دیگر ذمہ داران نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ،
کانفرنس کے دوسرے اجلاس کا انعقاد آج بروز منگل 2 جنوری کو بعد نماز مغرب سلام چاچا روڈ، شکاری چوک، نیا اسلامپورہ میں کیا گیا ہے ........
.............................................
مولانا اشفاق امجد ی، حافظ حفیظ اللّٰہ برکاتی، حافظ مزمّل رضا، قاری عمران رضوی، حافظ احسان رضا، حافظ شریف احمد رضوی اور قاری زین العابدین وغیرہ موجود تھے ، کانفرنس کے لیے بڑا ہی خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا، اسٹیج کے تینوں جانب ہزاروں سامعین نے علمائے کرام کے خطابات کو بڑی ہی توجہ کے ساتھ سنا ، ہزاروں مستورات نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی، نوجوانان جیلانی چوک نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے بڑی جدوجہد کی ، قاری محمد ہارون رضوی ، عقیل احمد رضوی ، عمران رضوی اور آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے دیگر ذمہ داران نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ،
کانفرنس کے دوسرے اجلاس کا انعقاد آج بروز منگل 2 جنوری کو بعد نماز مغرب سلام چاچا روڈ، شکاری چوک، نیا اسلامپورہ میں کیا گیا ہے ........
.............................................
Watch "In Kitabo Ko Na Padhe Aur Na Padhne De / By, Hasan Noori Sahab | Bazme Islahe Khawatin !!" on YouTube
https://youtu.be/xN3eP_tvgjg
https://youtu.be/xN3eP_tvgjg
YouTube
In Kitabo Ko Na Padhe Aur Na Padhne De / By, Hasan Noori Sahab | Bazme Islahe Khawatin !!
Bazme Islahe Khawatin Bazme islahe Khawateen
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*جس عورت کو اولاد نہ ہو وہ نیوگ کرے معاذ اللہ*
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
YouTube
Hasan Noori Official
Sach O Haq Ke Mutlaashi, Sachhe Islam Ki isha,at Jhote Ilzaam Ka Jawab, Aur Maslak E Ahle Sunnat (Maslak E Ala Hazrat) Ki Pehchan, Qura'n o Hades Ijma Qayas Aur Buzrugan e Deen Ki Kitabo Ki Roshni Men Aqedah Ahle Sunnat, Mamulaat E Ahle Sunnat, Ahkam e Shari'at…
عرسِ #حضور_حافظ_ملت جلالة العلم
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی
عُرسِ #حضور_خطیب_البراہین حضرت
علامہ مفتی الشاه الحاج صوفی محمد
نظام الدین قَـــادِرِی بَـرکـــــاتِـی رَضَــوِی
مُحدث بستوی رَحــــمَــــةُ الــلّٰــهِ عَـلَـیـه
۱۸ جنوری ۲۰۱۸ء / بروز جمعرات
علامہ مفتی الشاه الحاج صوفی محمد
نظام الدین قَـــادِرِی بَـرکـــــاتِـی رَضَــوِی
مُحدث بستوی رَحــــمَــــةُ الــلّٰــهِ عَـلَـیـه
۱۸ جنوری ۲۰۱۸ء / بروز جمعرات