🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط ❻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_اعلی_حضرت قسط ❼
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
استقبال ربیع الاول شریف
اعلیٰ حضرت کی آخری وصیت
اے رضا یہ احمد نوری کا فیض
قوموں کا ارتقاء اور استحکام سلف
یا الٰہی جب رضا خواب گراں سے
غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے
ماں کے سیدانی ہونے سے سید بننا
وہابی نے علم غیب کا مسئلہ پوچھا
ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابد
سماع موتی کے پر 365 دلائل
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
استقبال ربیع الاول شریف
اعلیٰ حضرت کی آخری وصیت
اے رضا یہ احمد نوری کا فیض
قوموں کا ارتقاء اور استحکام سلف
یا الٰہی جب رضا خواب گراں سے
غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے
ماں کے سیدانی ہونے سے سید بننا
وہابی نے علم غیب کا مسئلہ پوچھا
ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابد
سماع موتی کے پر 365 دلائل
❤1
#کتاب_یا_عبارت_کی_صحت_کو_چانچنے_کےطریقے
ضمنا فوائد کثیرہ مثلا۔۔۔ کون سے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز ہے؟
مقابلہ (نسخوں کی تقابل) کی اہمیت؟
تداول سے کیا مراد ہے؟
وجود نسخ سے کیا مراد ہے؟
الحاقات کی مثالیں۔۔۔۔غیرہ ذالک
سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ میں، کسی کتاب یا عبارت کی صحت جانچنے کے چند طریقے لکهیں ہیں جو درجہ ذیل ہیں-
*#اول* کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں۔ بہت رسالے خصوصا اکابر چشت کے نام ہیں جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں-
*#دوم* کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں۔بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں۔ جن کا مفصل بیان کتاب *الیواقیت والجواہر* امام عارف باللہ عبد الوہاب شعرانی رحمة اللہ علیہ میں ہے۔ خصوصا حضرت شیخ اکبر رضی اللہ عنہ کے کلام میں تو الحاقات کی گنتی نہیں۔ کهلے ہوئے صریح کفر بهر دئے ہیں۔ جس پر #درمختار میں علامہ مفتی ابوالسعود سے نقل کیا: "تیقنا ان بعض الیہود افتراها علی الشیخ قدس اللہ سرہ"
ہم کو یقین ہے کہ شیخ قدس اللہ سرہ پر یہ عبارتیں بعض یہودیوں نے گهڑ دی ہیں. (درمختار باب المرتد)
*#سوم* کتاب کا چهپ جانا اسے متواتر نہیں کر دیتا
کہ چهاپے کی اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی سیدهی صاف باتوں میں کسی کتاب سے کہ ظنی طور پر کسی بزرگ کی طرف منسوب ہو- #اسناد اور بات ہے اور ایسے امر میں جسے مسند کلمہ کفر بتایا اور اس سے توہین شان رسالت کے جواز پر سند لانا ہے، اس پر اعتماد اور بات-
علماء کے لئے ادنی درجہ ثبوت یہ تها کہ ناقل کے لئے مصنف تک سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو
خطیب بغدادی بطریق عبدالرحمان سلمی امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے راوی کہ فرمایا: "اذا وجد احدکم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء و ماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ"
جب تم میں کوئی ایک کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگا کر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایک ہوجائے-
(الفتاوی الحدیثیہ مطلب فی ان الانسان لایصح لہ ص 65)
فتاوی حدیثیہ امام زین الدین عراقی سے ہے: "نقل الانسان ما لیس لہ بہ روایة غیر سائع بالاجماع عند اهل الدرایة"
علمائے کرام کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکهتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں-
(ایضا ص 64)
#کون سے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز ہے؟؟
ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقابلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہو تو سب کا اسی طرح کے معتمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بهی ایک طریقہ روایت ہے، اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز-
فتاوی حدیثیہ میں ہے:قالوا ما وجد فی نسخة من تصنیف فان وثق بصحة النسخة بان قابلها المصنف او ثقة غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل و هکذا جاز الجزم بنسبتها الی صاحب ذالک الکتاب و ان لم یوثق لم یجزم (ایضا ص 65)
علماء نے بتایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سےجسے اصل پر مقابلہ کیا تها، یوں ہی اس ناقل تک، جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلان کتاب میں یہ لکها جائز ہے ورنہ جائز نہیں.
#مقابلہ_کی_اہمیت
مقدمہ امام عمرو بن الصلاح میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ انهوں نے اپنے صاحبزادے ہشام سے فرمایا تم نے لکهہ لیا؟ کہا ہاں- فرمایا مقابلہ کرلیا؟ کہا نہ- فرمایا لم تکتب تم نے لکها ہی نہیں.
(مقدمہ ابن صلاح النوع الخامس والعشرون ص 92)
اسی میں امام شافعی و یحی بن ابی کثیر سے ہے کہ دونوں صاحبوں نے فرمایا: من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج۔
جس نے لکها اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا.
( ایضا)
اسی میں ہے:اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل " قال فلان کذا و کذا " ال اذا وثق بصحة النسخة بان قابلها هو اوثق غیرہ باصول متعددة۔
جب کسی کتاب سے کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچهہ نقل کرنا چاہئے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تک کہ صحت نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ کسی ثقہ نے اسے متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو.(ایضا صفحہ 87)
اسی میں ہے:یطالع احدهم کتابا منسوبا الی مصنف معین و ینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحة النسخة قائلا " قال فلان کذا و کذا او ذکر فلان کذا و کذا" والصواب ما قدمناہ( ایضا) و لفظ الفتاوی الحدیثة عنہ والصواب ان ذالک لا یجوز
(فتاوی حدیثیہ صفحہ 65)
ضمنا فوائد کثیرہ مثلا۔۔۔ کون سے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز ہے؟
مقابلہ (نسخوں کی تقابل) کی اہمیت؟
تداول سے کیا مراد ہے؟
وجود نسخ سے کیا مراد ہے؟
الحاقات کی مثالیں۔۔۔۔غیرہ ذالک
سیدی امام اہل سنت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ میں، کسی کتاب یا عبارت کی صحت جانچنے کے چند طریقے لکهیں ہیں جو درجہ ذیل ہیں-
*#اول* کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام منسوب ہونا اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں۔ بہت رسالے خصوصا اکابر چشت کے نام ہیں جس کا اصلا کوئی ثبوت نہیں-
*#دوم* کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں۔بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں۔ جن کا مفصل بیان کتاب *الیواقیت والجواہر* امام عارف باللہ عبد الوہاب شعرانی رحمة اللہ علیہ میں ہے۔ خصوصا حضرت شیخ اکبر رضی اللہ عنہ کے کلام میں تو الحاقات کی گنتی نہیں۔ کهلے ہوئے صریح کفر بهر دئے ہیں۔ جس پر #درمختار میں علامہ مفتی ابوالسعود سے نقل کیا: "تیقنا ان بعض الیہود افتراها علی الشیخ قدس اللہ سرہ"
ہم کو یقین ہے کہ شیخ قدس اللہ سرہ پر یہ عبارتیں بعض یہودیوں نے گهڑ دی ہیں. (درمختار باب المرتد)
*#سوم* کتاب کا چهپ جانا اسے متواتر نہیں کر دیتا
کہ چهاپے کی اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی سیدهی صاف باتوں میں کسی کتاب سے کہ ظنی طور پر کسی بزرگ کی طرف منسوب ہو- #اسناد اور بات ہے اور ایسے امر میں جسے مسند کلمہ کفر بتایا اور اس سے توہین شان رسالت کے جواز پر سند لانا ہے، اس پر اعتماد اور بات-
علماء کے لئے ادنی درجہ ثبوت یہ تها کہ ناقل کے لئے مصنف تک سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو
خطیب بغدادی بطریق عبدالرحمان سلمی امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے راوی کہ فرمایا: "اذا وجد احدکم کتابا فیہ علم لم یسمعہ عن عالم فلیدع باناء و ماء فلینقعہ فیہ حتی یختلط سوادہ فی بیاضہ"
جب تم میں کوئی ایک کتاب پائے جس میں علم کی بات ہے اور اسے کسی عالم سے نہ سنا تو برتن میں پانی منگا کر وہ کتاب اس میں ڈبو دے کہ سیاہی سپیدی سب ایک ہوجائے-
(الفتاوی الحدیثیہ مطلب فی ان الانسان لایصح لہ ص 65)
فتاوی حدیثیہ امام زین الدین عراقی سے ہے: "نقل الانسان ما لیس لہ بہ روایة غیر سائع بالاجماع عند اهل الدرایة"
علمائے کرام کا اجماع ہے کہ آدمی جس بات کی سند متصل نہ رکهتا ہو اس کا نقل اسے حلال نہیں-
(ایضا ص 64)
#کون سے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز ہے؟؟
ہاں اگر اس کے پاس نسخہ صحیحہ معتمدہ ہو کہ اس نے یا کسی ثقہ معتمد نے خود اصل نسخہ سے مقابلہ کیا یا اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقابلہ اصل نسخہ مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زیادہ ہو تو سب کا اسی طرح کے معتمدات ہونا معلوم ہو تو یہ بهی ایک طریقہ روایت ہے، اور ایسے نسخہ کی عبارت کو مصنف کا قول بنانا جائز-
فتاوی حدیثیہ میں ہے:قالوا ما وجد فی نسخة من تصنیف فان وثق بصحة النسخة بان قابلها المصنف او ثقة غیرہ بالاصل او بفرع مقابل بالاصل و هکذا جاز الجزم بنسبتها الی صاحب ذالک الکتاب و ان لم یوثق لم یجزم (ایضا ص 65)
علماء نے بتایا جو عبارت کسی تصنیف کے کسی نسخہ میں ملے اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخہ سےجسے اصل پر مقابلہ کیا تها، یوں ہی اس ناقل تک، جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلان کتاب میں یہ لکها جائز ہے ورنہ جائز نہیں.
#مقابلہ_کی_اہمیت
مقدمہ امام عمرو بن الصلاح میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ انهوں نے اپنے صاحبزادے ہشام سے فرمایا تم نے لکهہ لیا؟ کہا ہاں- فرمایا مقابلہ کرلیا؟ کہا نہ- فرمایا لم تکتب تم نے لکها ہی نہیں.
(مقدمہ ابن صلاح النوع الخامس والعشرون ص 92)
اسی میں امام شافعی و یحی بن ابی کثیر سے ہے کہ دونوں صاحبوں نے فرمایا: من کتب ولم یعارض کمن دخل الماء ولم یستنج۔
جس نے لکها اور مقابلہ نہ کیا وہ ایسا ہے کہ پانی میں داخل ہے اور استنجا نہ کیا.
( ایضا)
اسی میں ہے:اذا اراد ان ینقل من کتاب منسوب الی مصنف فلا یقل " قال فلان کذا و کذا " ال اذا وثق بصحة النسخة بان قابلها هو اوثق غیرہ باصول متعددة۔
جب کسی کتاب سے کسی مصنف کی طرف منسوب ہے کچهہ نقل کرنا چاہئے تو یوں نہ کہے کہ مصنف نے ایسا کہا جب تک کہ صحت نسخہ پر اعتماد نہ ہو یوں کہ اس نے خواہ کسی ثقہ نے اسے متعدد صحیح نسخوں سے مقابلہ کیا ہو.(ایضا صفحہ 87)
اسی میں ہے:یطالع احدهم کتابا منسوبا الی مصنف معین و ینقل منہ عنہ من غیر ان یثق بصحة النسخة قائلا " قال فلان کذا و کذا او ذکر فلان کذا و کذا" والصواب ما قدمناہ( ایضا) و لفظ الفتاوی الحدیثة عنہ والصواب ان ذالک لا یجوز
(فتاوی حدیثیہ صفحہ 65)