31 December ko New Year Night Celebration ki jati hay. Iss Celebration mein jana, iss mein hissa lena aur lougon ko Happy New Year kehna aur messeges karna kesa?
http://jamiaturraza.com/session/2Jan11/14.mp3
http://jamiaturraza.com/session/2Jan11/14.mp3
31st december yaani Happy New Year ki party me hamare kuch sunni sahiul aqida musalman bhai unki majlison me shirkat karte hai, aisa karne walon par kya shara'ai hukm hai?
http://jamiaturraza.com/session/29Dec13/10.mp3
http://jamiaturraza.com/session/29Dec13/10.mp3
*نا محرم مسلم ماں بہنیں ، وزیر اعظم مودی کے احسان سے حج پر جانے کی بجائے شریعت کے احکام پر عمل کریں ......*
اس معاملے میں ائمہ ء مساجد، علمائے دین اور مسلم تنظیمیں پورے ملک میں مذہبی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں ....
رضا اکیڈمی کے سر براہ الحاج محمد سعید نوری کی پرزور اپیل
.............................................
ممبئی / یکم جنوری
وزیر اعظم ہند نے اگر نا محرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دیے جانے کے اسلامی و شرعی قانون کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہوتا تو اس کی حکمتیں انہیں سمجھ میں بھی آسکتی تھیں کہ دنیا بھر سے نامحرم عورتوں کا سیلاب حج کے موقع پر جمع ہونے سے کس قدر خرافات اور برائیاں اس ارض مقدس پر عام ہوسکتی ہیں اور کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، اس طرح کے رد عمل کا اظہار رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے من کی بات میں وزیر اعظم کی طرف سے کہی گئی باتوں پر کیا ہے ، آپ نے کہا کہ شرعی معاملات اور اسلامی قوانین کو سعودی عرب یا کسی اور ملک کے قانون کو پڑھ کر نہیں سمجھا جا سکتا اس کے لیے قرآن و حدیث اور شریعت کی روشنی میں علمائے اسلام کی تشریحات کو سمجھنا ضروری ہے ........
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ
نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت شریعت نے نہیں دی اسے ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہی انصاف اور احسان ہے، اس لیے کہ شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے حج کی ادائیگی کے بغیر ہی حج مقبول کا ثواب انہیں حاصل ہو جاتا ہے .....
موصوف نے کہا کہ ملک کی نامحرم خواتین وزیر اعظم مودی کے احسان سے حج پر جانے کی بجائے قرآن و حدیث اور شریعت کے احکامات پر عمل کریں اور اللہ عزوجل کے فضل و انعام کے مستحق بنیں .......
واضح رہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بغیر محرم کے حج پر جانے کے دروازے مسلم خواتین کے لیے بی جے پی حکومت کے دور میں کھول دیے گئے ہیں، کل تک ہم سن رہے تھے ایسا ہونے والا ہے اور آج دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب کچھ ہورہا ہے جو نہیں ہونا چاہیے ، اگر اس کے باوجود بھی ہم خاموش رہیں تو یہ افسوس ناک بات ہوگی ، اس طرح کا بیان رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے دیا ہے ، موصوف نے کہا کہ اسلام کے ساتھ سچی محبت اور وفاداری کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی ان ماؤں اور بہنوں کو سمجھائیں، جنہوں نے بغیر محرم کے حج پر جانے کا عزم کر لیا ہے کہ وہ ایسا قدم نہ اٹھائیں جو اللہ کے غضب کا سبب بنے اور ایسے راستے پر نہ چلیں جس کی اجازت قرآن و حدیث اور شریعت نے نہیں دی ....... اسی طرح بغیر محرم کے حج کے لیے جانے کا وہ کام نہ کریں، جس سے حرمین شریفین کی مقدس سر زمین پر پہنچ کر بھی وہ شریعت کی خلاف ورزی کے سبب شدید عذاب میں گرفتار رہیں ..........
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ
جن خواتین نے بغیر محرم کے حج پر جانے کے لیے درخواستیں دی ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں، گھر والوں، رشتہ داروں اور بھائیوں بہنوں کی بھی ذہن سازی کی جائے ، انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ اگر سنجیدگی سے یہ کام کیا گیا تو ان شاء اللہ اس کے مثبت اثرات ہمارے سامنے آئیں گے ..........
اور جن مسلم ماں بہنوں اور ان کے گھر والوں نے شریعت کی صحیح معلومات نہیں ہونے کی وجہ سے درخواستیں دی ہیں وہ اسے ضرور واپس لیں گے ...... لیکن اس کے لیے منظم اور سنجیدہ کوشش ضروری ہے .....
موصوف نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اس کام کے لیے علماء اور ائمہ کو بھی آگے آنا چاہیے اسی طرح سر کردہ اور ذی اثر مسلم شخصیات کو بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہیے ، اور مختلف مسلم تنظیموں سے وابستہ ذمہ داران کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے ........ ، اور جن جن گاؤں اور شہروں سے بغیر محرم کے خواتین اسلام نے حج کے لیے فارم بھرے ہیں ان سے اور ان کے احباب و اقرباء سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں شرعی مسائل سے آگاہ کرنا چاہیے ........
اطلاعات کے مطابق بغیر محرم کے حج کی ادائیگی کے لیے ملک بھر سے 1244 خواتین نے درخواستیں دی ہیں، کیرالا سے 1088، آسام سے 4 ، جموں کشمیر سے 4 ، جھارکھنڈ سے 4، کرناٹک سے 24 ، مدھیہ پردیس سے 4 ، مہاراشٹر سے 12، پانڈیچری سے 8 ، راجستھان سے 12، اتر پردیس سے 32 ، اور مغربی بنگال سے 32 درخواستیں حج کمیٹی آف انڈیا کو موصول ہوئی ہیں ، رضا اکیڈمی نے ان ریاستوں کے علماء ائمہ اور سرکردہ شخصیات سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی حساسیت کو پیش نظر رکھ کر منظم طریقے سے کوششیں کی جائیں ......
اس ضمن میں رضا اکیڈمی کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ
ہمارے ملکی قانون کے مطابق اب تک صرف انہیں عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت تھی ، جو محرم کے ساتھ ہوں ....... یہ قانون اسلام اور شریعت کے عین مطابق تھا لیکن اسےختم کرکے بغیر محرم کے بھی حج پر جانے کی اجازت عورتوں کو دے دی گئی،
اس لیے اب برادران اسلام کے لیے ضروری ہو چک
اس معاملے میں ائمہ ء مساجد، علمائے دین اور مسلم تنظیمیں پورے ملک میں مذہبی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں ....
رضا اکیڈمی کے سر براہ الحاج محمد سعید نوری کی پرزور اپیل
.............................................
ممبئی / یکم جنوری
وزیر اعظم ہند نے اگر نا محرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دیے جانے کے اسلامی و شرعی قانون کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہوتا تو اس کی حکمتیں انہیں سمجھ میں بھی آسکتی تھیں کہ دنیا بھر سے نامحرم عورتوں کا سیلاب حج کے موقع پر جمع ہونے سے کس قدر خرافات اور برائیاں اس ارض مقدس پر عام ہوسکتی ہیں اور کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، اس طرح کے رد عمل کا اظہار رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے من کی بات میں وزیر اعظم کی طرف سے کہی گئی باتوں پر کیا ہے ، آپ نے کہا کہ شرعی معاملات اور اسلامی قوانین کو سعودی عرب یا کسی اور ملک کے قانون کو پڑھ کر نہیں سمجھا جا سکتا اس کے لیے قرآن و حدیث اور شریعت کی روشنی میں علمائے اسلام کی تشریحات کو سمجھنا ضروری ہے ........
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ
نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت شریعت نے نہیں دی اسے ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہی انصاف اور احسان ہے، اس لیے کہ شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے حج کی ادائیگی کے بغیر ہی حج مقبول کا ثواب انہیں حاصل ہو جاتا ہے .....
موصوف نے کہا کہ ملک کی نامحرم خواتین وزیر اعظم مودی کے احسان سے حج پر جانے کی بجائے قرآن و حدیث اور شریعت کے احکامات پر عمل کریں اور اللہ عزوجل کے فضل و انعام کے مستحق بنیں .......
واضح رہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بغیر محرم کے حج پر جانے کے دروازے مسلم خواتین کے لیے بی جے پی حکومت کے دور میں کھول دیے گئے ہیں، کل تک ہم سن رہے تھے ایسا ہونے والا ہے اور آج دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب کچھ ہورہا ہے جو نہیں ہونا چاہیے ، اگر اس کے باوجود بھی ہم خاموش رہیں تو یہ افسوس ناک بات ہوگی ، اس طرح کا بیان رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے دیا ہے ، موصوف نے کہا کہ اسلام کے ساتھ سچی محبت اور وفاداری کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی ان ماؤں اور بہنوں کو سمجھائیں، جنہوں نے بغیر محرم کے حج پر جانے کا عزم کر لیا ہے کہ وہ ایسا قدم نہ اٹھائیں جو اللہ کے غضب کا سبب بنے اور ایسے راستے پر نہ چلیں جس کی اجازت قرآن و حدیث اور شریعت نے نہیں دی ....... اسی طرح بغیر محرم کے حج کے لیے جانے کا وہ کام نہ کریں، جس سے حرمین شریفین کی مقدس سر زمین پر پہنچ کر بھی وہ شریعت کی خلاف ورزی کے سبب شدید عذاب میں گرفتار رہیں ..........
الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ
جن خواتین نے بغیر محرم کے حج پر جانے کے لیے درخواستیں دی ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں، گھر والوں، رشتہ داروں اور بھائیوں بہنوں کی بھی ذہن سازی کی جائے ، انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ اگر سنجیدگی سے یہ کام کیا گیا تو ان شاء اللہ اس کے مثبت اثرات ہمارے سامنے آئیں گے ..........
اور جن مسلم ماں بہنوں اور ان کے گھر والوں نے شریعت کی صحیح معلومات نہیں ہونے کی وجہ سے درخواستیں دی ہیں وہ اسے ضرور واپس لیں گے ...... لیکن اس کے لیے منظم اور سنجیدہ کوشش ضروری ہے .....
موصوف نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اس کام کے لیے علماء اور ائمہ کو بھی آگے آنا چاہیے اسی طرح سر کردہ اور ذی اثر مسلم شخصیات کو بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہیے ، اور مختلف مسلم تنظیموں سے وابستہ ذمہ داران کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے ........ ، اور جن جن گاؤں اور شہروں سے بغیر محرم کے خواتین اسلام نے حج کے لیے فارم بھرے ہیں ان سے اور ان کے احباب و اقرباء سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں شرعی مسائل سے آگاہ کرنا چاہیے ........
اطلاعات کے مطابق بغیر محرم کے حج کی ادائیگی کے لیے ملک بھر سے 1244 خواتین نے درخواستیں دی ہیں، کیرالا سے 1088، آسام سے 4 ، جموں کشمیر سے 4 ، جھارکھنڈ سے 4، کرناٹک سے 24 ، مدھیہ پردیس سے 4 ، مہاراشٹر سے 12، پانڈیچری سے 8 ، راجستھان سے 12، اتر پردیس سے 32 ، اور مغربی بنگال سے 32 درخواستیں حج کمیٹی آف انڈیا کو موصول ہوئی ہیں ، رضا اکیڈمی نے ان ریاستوں کے علماء ائمہ اور سرکردہ شخصیات سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی حساسیت کو پیش نظر رکھ کر منظم طریقے سے کوششیں کی جائیں ......
اس ضمن میں رضا اکیڈمی کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ
ہمارے ملکی قانون کے مطابق اب تک صرف انہیں عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت تھی ، جو محرم کے ساتھ ہوں ....... یہ قانون اسلام اور شریعت کے عین مطابق تھا لیکن اسےختم کرکے بغیر محرم کے بھی حج پر جانے کی اجازت عورتوں کو دے دی گئی،
اس لیے اب برادران اسلام کے لیے ضروری ہو چک
ا ہے کہ وہ اس تعلق سے شرعی احکامات کی تفصیلات سے اپنی ماں بہنوں کو آگاہ کریں، خواتین اسلام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں خواتین میں اپنے طور پر مذہبی بیداری پیدا کریں ......
خاص طور پر معلمات اور تعلیم یافتہ خواتین کا اس جانب متوجہ ہونا ضروری ہے ........
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ
یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہندوستان میں کوئی با اثر مسلم قیادت نہیں ، جن جماعتوں کو پہلے کانگریس اور اب بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھنے کی غلطی جان بوجھ کے کر رکھی ہے ان کا حال یہ ہے کہ ان کے ذمہ داروں کے پاس حکومت سے بات کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ سب کے سب سعودی حکومت کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں اور ان کے اندر اخلاقی طور پر اتنی ہمت اور طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ باضابطہ طور پر یہ اعلان کر سکیں کہ بغیر محرم کے مسلم خواتین کو حج کی ادائیگی کے لیے اجازت دینے والی سعودی حکومت بھی سخت گناہ گار ہے اور اس غیر شرعی عمل کو دیکھ کر خاموش رہنے والے سعودی علماء و مفتیان بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ..............
رضا اکیڈمی کے صدر الحاج محمد سعید نوری کا ماننا ہے کہ اگر محرم کے بغیر حج کی اجازت سعودی حکومت نہ دے تو دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی عورت بغیر محرم کے حج کی ادائیگی کے لیے نہیں جاسکتی ،
موصوف نے سعودی حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قدم ہرگز نہ اٹھائیں ورنہ ہندوستان سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کی شدید مخالفت کا اسے سامنا کرنا پڑے گا ......
پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ سعودی حکومت مسلسل شریعت مخالف امور کو انجام دیتے چلی آرہی ہے، گزشتہ چند برسوں سے ہزاروں خواتین کا خادماؤں کے نام پر جو تقرر سعودی حکومت کر رہی ہے وہ بھی غیر شرعی ہے لیکن حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے متعلق سعودی علماء لب کشائی کرنے کو تیار نہیں ، حد تو یہ ہوگئی کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مدینہ شریف کے پورے ایئر پورٹ کو خاتون ملازمین کے حوالے کر دیا گیا، چیکنگ، امیگریشن، بورڈنگ ہر جگہ مکمل طور پر لیڈیز اسٹاف موجود رہا، لیکن پھر بھی سعودی حکومت کے اس غیر شرعی کام کی مخالفت اور مذمت میں کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی ، .........
........................................ محمد عارف رضوی ، سکریٹری رضا اکیڈمی ، ممبئی
خاص طور پر معلمات اور تعلیم یافتہ خواتین کا اس جانب متوجہ ہونا ضروری ہے ........
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ
یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہندوستان میں کوئی با اثر مسلم قیادت نہیں ، جن جماعتوں کو پہلے کانگریس اور اب بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھنے کی غلطی جان بوجھ کے کر رکھی ہے ان کا حال یہ ہے کہ ان کے ذمہ داروں کے پاس حکومت سے بات کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ سب کے سب سعودی حکومت کے احسانات تلے دبے ہوئے ہیں اور ان کے اندر اخلاقی طور پر اتنی ہمت اور طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ باضابطہ طور پر یہ اعلان کر سکیں کہ بغیر محرم کے مسلم خواتین کو حج کی ادائیگی کے لیے اجازت دینے والی سعودی حکومت بھی سخت گناہ گار ہے اور اس غیر شرعی عمل کو دیکھ کر خاموش رہنے والے سعودی علماء و مفتیان بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ..............
رضا اکیڈمی کے صدر الحاج محمد سعید نوری کا ماننا ہے کہ اگر محرم کے بغیر حج کی اجازت سعودی حکومت نہ دے تو دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی عورت بغیر محرم کے حج کی ادائیگی کے لیے نہیں جاسکتی ،
موصوف نے سعودی حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قدم ہرگز نہ اٹھائیں ورنہ ہندوستان سمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کی شدید مخالفت کا اسے سامنا کرنا پڑے گا ......
پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ سعودی حکومت مسلسل شریعت مخالف امور کو انجام دیتے چلی آرہی ہے، گزشتہ چند برسوں سے ہزاروں خواتین کا خادماؤں کے نام پر جو تقرر سعودی حکومت کر رہی ہے وہ بھی غیر شرعی ہے لیکن حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے متعلق سعودی علماء لب کشائی کرنے کو تیار نہیں ، حد تو یہ ہوگئی کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مدینہ شریف کے پورے ایئر پورٹ کو خاتون ملازمین کے حوالے کر دیا گیا، چیکنگ، امیگریشن، بورڈنگ ہر جگہ مکمل طور پر لیڈیز اسٹاف موجود رہا، لیکن پھر بھی سعودی حکومت کے اس غیر شرعی کام کی مخالفت اور مذمت میں کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی ، .........
........................................ محمد عارف رضوی ، سکریٹری رضا اکیڈمی ، ممبئی
*محرم کے بغیر سفر کے لیے نکلنے والی عورت پر اللہ کی لعنت برستی ہے ،*
بغیر محرم کے حج کے لیے درخواستیں دینے والی خواتین، اپنا فارم واپس لے لیں،
اصلاح معاشرہ اور پیغام غوث اعظم کانفرنس سے مفتی اعظم مہاراشٹر مفتی محمد مجیب اشرف صاحب کا فکر انگیز خطاب
.............................................
مالیگاؤں / یکم جنوری ....
کون کتنی طاقت و قُدرت والا ہے اس کا اندازہ مقابلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ، سخت مٹی پتھر سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے .... اور پتھر پر جب لوہے سے بنے گھن کی مار پڑتی ہے تب اس کا مضبوط دکھائی دینے والا وجود بکھر جاتا ہے ..... لوہا بہت مضبوط ہونے کے باوجود آگ کی تپش سے پگھل جاتا ہے .....
آگ کے خطرناک شعلے بھی پانی کے آگے سرد پڑ جاتے ہیں .....
پانی کی طاقت آگ سے زیادہ ہے لیکن اس کا یہ غرور بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ روز لاکھوں ٹن پانی سورج اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر کھینچ لیتا ہے، پروردگار عالم کا بنایا ہوا یہ نظام ہے کہ جس پانی نے آگ بجھائی تھی اسے سورج نے اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر اڑا دیا ..... یہ بڑی عام سی مثالیں ہیں لیکن اس کی اپنی اہمیت ہے، سورج تو سورج ہے، اس سے آنکھ ملانا کس کی مجال ہے .......؟ مگر مولائے کائنات، شیر خدا، حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ سے پوچھو کہ مقام صہبا میں جب ان کی نماز عصر قضا ہوئی تو ڈوبا ہوا سورج مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر کس طرح واپس چلا آیا ........... ؟
معلوم ہوا کہ اس جہان میں خالق کائنات نے سب سے زیادہ طاقت و قُدرت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے ،
اس تمہید کے ساتھ اپنے ایمان افروز خطاب کا آغاز مفتی اعظم مہاراشٹر اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف صاحب نے جیلانی چوک میں آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان اور پر ہجوم کانفرنس میں کیا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے فضل و احسان سے انبیاء و اولیاء کو ایسی طاقت و قدرت عطا فرمائی جس سے خلق خدا کو راحت نصیب ہوتی ہے، حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی کرامات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ پیران پیر کے زمانے میں جب دریائے دجلہ کے خطرناک سیلاب نے ہر طرف تباہی اور بربادی مچادی اس وقت بغداد والوں نے غوث اعظم کے اشارے سے دجلہ کو سمٹتے ہوئے دیکھا ، اور اس پر بھی ان کی نظر پڑی کہ پیران پیر کس طرح سیلاب کے پانی پر چلتے ہوئے آگے بڑھے چلے جا رہے تھے لیکن پانی کے ایک قطرے کی مجال نہ تھی کہ آپ کے قدم مبارک کو گیلا کرتا ، اک خاص مقام پر پہنچ کر غوث پاک نے ایک لکڑی زمین میں گاڑ دی اور دجلہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ائے دجلہ سن لے اگر تو چاہتا ہے کہ رواں دواں رہے تو پھر اس نشان سے آگے نہیں بڑھنا،
تاریخ بتاتی ہے کہ سات سو برس گزر جانے کے بعد بھی دریائے دجلہ کا پانی کبھی اس مقام سے آگے نہیں بڑھا جس کی نشان دہی غوث پاک نے کی تھی، اس کرامت کا تذکرہ بہجتہ الاسرار شریف میں موجود ہے
ایک ساتھ تین طلاق دینے کو کم علمی اور جہالت قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ طلاق مسئلہ نہیں مسئلے کا حل ہے ......... اگر طلاق کی ضرورت پڑے تو پہلے ایک طلاق دو، اس کے بعد دوسری طلاق دو اور میاں بیوی میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اسے لوٹا لو، کیسا پیارا دستور قرآن نے ہمیں عطا کیا ..... لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ایسے لوگ طلاق کے اس قانون پر تنقید کر رہے ہیں جن کے پاس اس سے بہتر کوئی اور قانون ہی موجود نہیں ہے ....
علامہ موصوف نے فرمایا کہ کتنے تعجب کی بات ہے جو اپنے گھر کا مسئلہ نہیں حل سکتے جو اپنی بیوی کو انصاف نہیں دے سکتے وہ مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کے غم میں بیمار ہو رہے ہیں ، پہلے انہیں اپنے گھر کو سنبھالنا چاہیے پھر کسی اور کی بات کرنا چاہیے .......
آپ نے کہا کہ قرآن و حدیث اور شریعت سے ہٹ کر جو قانون بنایا جائے گا اسے مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتے ....
مفتی اعظم مہاراشٹر نے فرمایا کہ طلاق کا معاملہ طئے ہے اور یہ
قرآن وحدیث کا فیصلہ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ، علامہ موصوف نے نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت دیے جانے کے معاملے میں
حج کمیٹی کے اراکین کو بھی اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ اسلام اور شریعت کے خلاف بنائے جانے والے قانون پر حج کمیٹی کے جو لوگ اپنے منہ پر تالا لگائے بیٹھے رہے ہم ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، بڑے ہی جذباتی اور درد بھرے انداز میں آپ نے اسلامی ماں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کوئی پکنک نہیں، ایک عظیم عبادت ہے اس لیے فریضہ ء حج کی ادائیگی قرآن و حدیث اور شرعی احکامات کے مطابق کی جائے اس سے ہٹ کر بنائے جانے والے قانون کے مکروفریب سے قوم کی بہو بیٹیاں قطعی طور پر متاثر نہ ہوں اس لیے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون کے بعد ایک مسلمان کو، کسی دوسرے قانون ک
بغیر محرم کے حج کے لیے درخواستیں دینے والی خواتین، اپنا فارم واپس لے لیں،
اصلاح معاشرہ اور پیغام غوث اعظم کانفرنس سے مفتی اعظم مہاراشٹر مفتی محمد مجیب اشرف صاحب کا فکر انگیز خطاب
.............................................
مالیگاؤں / یکم جنوری ....
کون کتنی طاقت و قُدرت والا ہے اس کا اندازہ مقابلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ، سخت مٹی پتھر سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے .... اور پتھر پر جب لوہے سے بنے گھن کی مار پڑتی ہے تب اس کا مضبوط دکھائی دینے والا وجود بکھر جاتا ہے ..... لوہا بہت مضبوط ہونے کے باوجود آگ کی تپش سے پگھل جاتا ہے .....
آگ کے خطرناک شعلے بھی پانی کے آگے سرد پڑ جاتے ہیں .....
پانی کی طاقت آگ سے زیادہ ہے لیکن اس کا یہ غرور بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ روز لاکھوں ٹن پانی سورج اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر کھینچ لیتا ہے، پروردگار عالم کا بنایا ہوا یہ نظام ہے کہ جس پانی نے آگ بجھائی تھی اسے سورج نے اپنی طاقت سے بھاپ بنا کر اڑا دیا ..... یہ بڑی عام سی مثالیں ہیں لیکن اس کی اپنی اہمیت ہے، سورج تو سورج ہے، اس سے آنکھ ملانا کس کی مجال ہے .......؟ مگر مولائے کائنات، شیر خدا، حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ سے پوچھو کہ مقام صہبا میں جب ان کی نماز عصر قضا ہوئی تو ڈوبا ہوا سورج مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے پر کس طرح واپس چلا آیا ........... ؟
معلوم ہوا کہ اس جہان میں خالق کائنات نے سب سے زیادہ طاقت و قُدرت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے ،
اس تمہید کے ساتھ اپنے ایمان افروز خطاب کا آغاز مفتی اعظم مہاراشٹر اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف صاحب نے جیلانی چوک میں آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان اور پر ہجوم کانفرنس میں کیا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے فضل و احسان سے انبیاء و اولیاء کو ایسی طاقت و قدرت عطا فرمائی جس سے خلق خدا کو راحت نصیب ہوتی ہے، حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی کرامات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ پیران پیر کے زمانے میں جب دریائے دجلہ کے خطرناک سیلاب نے ہر طرف تباہی اور بربادی مچادی اس وقت بغداد والوں نے غوث اعظم کے اشارے سے دجلہ کو سمٹتے ہوئے دیکھا ، اور اس پر بھی ان کی نظر پڑی کہ پیران پیر کس طرح سیلاب کے پانی پر چلتے ہوئے آگے بڑھے چلے جا رہے تھے لیکن پانی کے ایک قطرے کی مجال نہ تھی کہ آپ کے قدم مبارک کو گیلا کرتا ، اک خاص مقام پر پہنچ کر غوث پاک نے ایک لکڑی زمین میں گاڑ دی اور دجلہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ائے دجلہ سن لے اگر تو چاہتا ہے کہ رواں دواں رہے تو پھر اس نشان سے آگے نہیں بڑھنا،
تاریخ بتاتی ہے کہ سات سو برس گزر جانے کے بعد بھی دریائے دجلہ کا پانی کبھی اس مقام سے آگے نہیں بڑھا جس کی نشان دہی غوث پاک نے کی تھی، اس کرامت کا تذکرہ بہجتہ الاسرار شریف میں موجود ہے
ایک ساتھ تین طلاق دینے کو کم علمی اور جہالت قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ طلاق مسئلہ نہیں مسئلے کا حل ہے ......... اگر طلاق کی ضرورت پڑے تو پہلے ایک طلاق دو، اس کے بعد دوسری طلاق دو اور میاں بیوی میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اسے لوٹا لو، کیسا پیارا دستور قرآن نے ہمیں عطا کیا ..... لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ایسے لوگ طلاق کے اس قانون پر تنقید کر رہے ہیں جن کے پاس اس سے بہتر کوئی اور قانون ہی موجود نہیں ہے ....
علامہ موصوف نے فرمایا کہ کتنے تعجب کی بات ہے جو اپنے گھر کا مسئلہ نہیں حل سکتے جو اپنی بیوی کو انصاف نہیں دے سکتے وہ مسلمانوں کی بہو بیٹیوں کے غم میں بیمار ہو رہے ہیں ، پہلے انہیں اپنے گھر کو سنبھالنا چاہیے پھر کسی اور کی بات کرنا چاہیے .......
آپ نے کہا کہ قرآن و حدیث اور شریعت سے ہٹ کر جو قانون بنایا جائے گا اسے مسلمان کبھی قبول نہیں کر سکتے ....
مفتی اعظم مہاراشٹر نے فرمایا کہ طلاق کا معاملہ طئے ہے اور یہ
قرآن وحدیث کا فیصلہ ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ، علامہ موصوف نے نامحرم عورتوں کو حج پر جانے کی اجازت دیے جانے کے معاملے میں
حج کمیٹی کے اراکین کو بھی اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ اسلام اور شریعت کے خلاف بنائے جانے والے قانون پر حج کمیٹی کے جو لوگ اپنے منہ پر تالا لگائے بیٹھے رہے ہم ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، بڑے ہی جذباتی اور درد بھرے انداز میں آپ نے اسلامی ماں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ حج کوئی پکنک نہیں، ایک عظیم عبادت ہے اس لیے فریضہ ء حج کی ادائیگی قرآن و حدیث اور شرعی احکامات کے مطابق کی جائے اس سے ہٹ کر بنائے جانے والے قانون کے مکروفریب سے قوم کی بہو بیٹیاں قطعی طور پر متاثر نہ ہوں اس لیے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانون کے بعد ایک مسلمان کو، کسی دوسرے قانون ک
ی ضرورت نہیں ، بغیر محرم کے حج کے لیے جانے کا فارم جن خواتین نے بھرا ہے ان سے مفتی اعظم مہاراشٹر نے یہ اپیل بھی کی کہ وہ اللہ عزوجل کی رضا و خوشی کے لیے اپنے فارم واپس لے لیں، حدیث پاک کا حوالہ دیتے ہوئے آب نے فرمایا کہ جو عورت اپنے گھر سے بغیر محرم کے سفر کے لیے نکلتی ہے اس پر قدم قدم پر اللہ کی لعنت برستی ہے، قوم کی بہو بیٹیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پاک کو اپنے پیش نظر رکھیں اور ہرگز کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے اللہ کا عذاب ان پر نازل ہو، آپ نے فرمایا کہ آخرت کا امتحان اور عذاب بہت سخت تر ہے ، مفتی اعظم مہاراشٹر سے قبل فاضل ازہر مولانا احمد رضا ازہری نے خطاب کیا ، اسٹیج پر مفتی واجد علی یارعلوی، مفتی نعیم رضا مصباحی، مفتی عرفان رضا مصباحی، مولانا مدثر ازہری ، مولانا عبداللّٰہ رضوی
مولانا اشفاق امجد ی، حافظ حفیظ اللّٰہ برکاتی، حافظ مزمّل رضا، قاری عمران رضوی، حافظ احسان رضا، حافظ شریف احمد رضوی اور قاری زین العابدین وغیرہ موجود تھے ، کانفرنس کے لیے بڑا ہی خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا، اسٹیج کے تینوں جانب ہزاروں سامعین نے علمائے کرام کے خطابات کو بڑی ہی توجہ کے ساتھ سنا ، ہزاروں مستورات نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی، نوجوانان جیلانی چوک نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے بڑی جدوجہد کی ، قاری محمد ہارون رضوی ، عقیل احمد رضوی ، عمران رضوی اور آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے دیگر ذمہ داران نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ،
کانفرنس کے دوسرے اجلاس کا انعقاد آج بروز منگل 2 جنوری کو بعد نماز مغرب سلام چاچا روڈ، شکاری چوک، نیا اسلامپورہ میں کیا گیا ہے ........
.............................................
مولانا اشفاق امجد ی، حافظ حفیظ اللّٰہ برکاتی، حافظ مزمّل رضا، قاری عمران رضوی، حافظ احسان رضا، حافظ شریف احمد رضوی اور قاری زین العابدین وغیرہ موجود تھے ، کانفرنس کے لیے بڑا ہی خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا، اسٹیج کے تینوں جانب ہزاروں سامعین نے علمائے کرام کے خطابات کو بڑی ہی توجہ کے ساتھ سنا ، ہزاروں مستورات نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی، نوجوانان جیلانی چوک نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے بڑی جدوجہد کی ، قاری محمد ہارون رضوی ، عقیل احمد رضوی ، عمران رضوی اور آل انڈیا سنی جمیعتہ العلماء کے دیگر ذمہ داران نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ،
کانفرنس کے دوسرے اجلاس کا انعقاد آج بروز منگل 2 جنوری کو بعد نماز مغرب سلام چاچا روڈ، شکاری چوک، نیا اسلامپورہ میں کیا گیا ہے ........
.............................................
Watch "In Kitabo Ko Na Padhe Aur Na Padhne De / By, Hasan Noori Sahab | Bazme Islahe Khawatin !!" on YouTube
https://youtu.be/xN3eP_tvgjg
https://youtu.be/xN3eP_tvgjg
YouTube
In Kitabo Ko Na Padhe Aur Na Padhne De / By, Hasan Noori Sahab | Bazme Islahe Khawatin !!
Bazme Islahe Khawatin Bazme islahe Khawateen
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*جس عورت کو اولاد نہ ہو وہ نیوگ کرے معاذ اللہ*
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
اور جو عورت بیوہ ہو یا زیادہ لڑکیاں پیدا کرے اسے طلاق دو ہندو مذہب کا تجزیاتی مطالعہ
---------------قسط4---------
📝 حسن نوری گونڈوی
ناشر:: بزم اصلاح خواتین اندور
https://www.facebook.com/BazmeIslaheKhawateen/
------------------------------------
*منوسمری ادھیائے ٩؛نمبر ٥٩ کا خلاصہ یہ ہے :*
" برہمنوں کے یہاں نیوگ کا رواج ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں خسرو وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت رشتہ دار یا دیور سے اولاد حسب دلخواہ حاصل کرے "
اے میری اسلامی بہنوں سوچو
جس دین میں غیر سے ربط حتی کہ زنا کی تعلیم ہو وہ آج خواتین اسلام کو آزادی دلانے کی بات کر رہا ہے
کیا ایسا دین و مذہب قابل تقلید و تائید ہے؟
جس دین میں خود عورت کی کوئی عزت و عظمت نہیں وہ اگر مسلم عورت کو آزادی دلانے کی بات کرے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عورتوں کو آزادی دیتا
*بیوہ کی عزت ہندو دھرم میں*
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
ستارتھ پرکاش لکھتا ہے :
بانجھ عورت ہو تو آتھوے برس (بیاہ سے آتھ برس) تک جب عورت کو حمل نہ ٹھہرے یا ہو کر مر جائے تو دسوے برس جب جب اولاد ہو تب تب تک لڑکیاں ہی ہو، لڑکے نہ ہو تو گیارھویں برس تک اور جو بد کلام ہونے والی ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کرکے اولاد پیدا کرے "
(ستیارتھ پرکاش، باب نمبر ٤؟صفحہ نمبر ١٥٢ ،١٥٣)
📚بحوالہ اسلام عورت اور سائنس
تین طلاق اور حلالہ پر بولنے والے بتائیں کہ
نیوگ کیا ہے؟
برہمن دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟
آج جس دین پر بھونک رہے ہیں اس نے تو بیوہ کو عزت دی ہے
سب سے پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو رب کے بعد پوری کائنات میں ہر اعتبار سے ہر جہت سے ہر حیثیت سے سب میں افضل ہیں آپ نے بیوہ سے شادی کی اور تمام مومنوں کی ماں بنا دیا
اسلام تو بیوہ کو عزت دیتا ہے
اور ہندوستانی مذہب و قانون زنا کی تعلیم
اب آپ ہی بتائیں کس کو اپنائیں گی؟
-----------------------------------
میرا مقصد اسلامی بہنوں کی اصلاح کے ساتھ انہیں اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اسلام نے تمہیں جو عزت دی ہے اسے پوری دنیا مل کر نہیں دے سکتی آپ کی آغوش وہ ہے جہاں سے آج بھی مجاہدین اسلام و غازیان دین پیدا ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و کو سیکھیں اور عمل کریں
آپ جوائن کریں
*بزم اصلاح خواتین اندور*
سبسکرائب کریں
https://www.youtube.com/channel/UCZeVoowyPwvz1o_t-lTuTdA
ٹیلیگرام چینل'' بزم اصلاح خواتین اندور
https://t.me/joinchat/AAAAAD6r0XGeKgLkR9pniA
YouTube
Hasan Noori Official
Sach O Haq Ke Mutlaashi, Sachhe Islam Ki isha,at Jhote Ilzaam Ka Jawab, Aur Maslak E Ahle Sunnat (Maslak E Ala Hazrat) Ki Pehchan, Qura'n o Hades Ijma Qayas Aur Buzrugan e Deen Ki Kitabo Ki Roshni Men Aqedah Ahle Sunnat, Mamulaat E Ahle Sunnat, Ahkam e Shari'at…
عرسِ #حضور_حافظ_ملت جلالة العلم
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی
حضرت علامــہ مُـفـتی الشاه عبد العزیز
محدث مرادآبادی رحمةُ اللهِ تعالیٰ علیه
ولادت : ۱۳۱۲ ہجری = ۱۸۹٤ عیسوی
وصال : ١٣٩٦ ہجری = ١٩٧٦ عیسوی