This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*علم جفر کیا ہے؟؟*
جفربیشک نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان ﷲ تعالٰی علیہم کاعلم ہے
امیرالمومنین *مولٰی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم* نے اپنے خواص پر اس کااظہارفرمایا اور *سیدنا امام جعفرصادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ* اسے معرض کتابت میں لائے۔
کتاب مستطاب *جفرجامع* تصنیف فرمائی۔ علامہ سیدشریف رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں: *امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا*
ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں
*جفر ایک جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تحریر فرما دیا*
*علامہ سید شریف رحمۃ اللہ علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں*
۔یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی دو کتابیں ہیں بے شک امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تک جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اُن کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔
✅ اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد ولی عہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ *تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا*
۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)
اور مشائخِ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیں، اور میں نے ملک شام میں ایک نظر دیکھی جس میں شاہانِ مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔
📚 فتاوی رضویہ شریف
📝 حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/1896173603897878/
جفربیشک نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان ﷲ تعالٰی علیہم کاعلم ہے
امیرالمومنین *مولٰی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم* نے اپنے خواص پر اس کااظہارفرمایا اور *سیدنا امام جعفرصادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ* اسے معرض کتابت میں لائے۔
کتاب مستطاب *جفرجامع* تصنیف فرمائی۔ علامہ سیدشریف رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں: *امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا*
ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں
*جفر ایک جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تحریر فرما دیا*
*علامہ سید شریف رحمۃ اللہ علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں*
۔یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی دو کتابیں ہیں بے شک امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تک جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اُن کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔
✅ اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد ولی عہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ *تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا*
۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)
اور مشائخِ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیں، اور میں نے ملک شام میں ایک نظر دیکھی جس میں شاہانِ مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔
📚 فتاوی رضویہ شریف
📝 حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/1896173603897878/
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حال اور مستقبل کے بعض مذہبی خطرات پر جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ کے سابق استاذ مولانا مفتی رضاء الحق اشرفی مصباحی Razaulhaq Ashrafi (اہلِ سنت ریسرچ سینٹر, کچھوچھہ مقدسہ) کی ایک بیش قیمت تحریر :
🌹 *وقت کی پکار* 🌹
ہر دور میں حالات اور تقاضوں کے مطابق علماے اہل سنت وجماعت نے اپنی زبان و قلم کے ذریعہ ابھرتے ہوے باطل فرقوں کی سرکوبی کے لیے جدوجہد کی ہے.
ہندوستان میں شیعہ امراء ونوابین کے خاتمہ کے ساتھ شیعیت کا جنازہ بھی تقریبا نکل چکاتھا. لیکن پچھلی دو تین دہائیوں سے سرحد پار سے بہت تیزی کے ساتھ رافضیت و شیعیت، حُبِّ اہلِ بیت کے نعروں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہورہی ہے. اسے دشمنانِ اسلام کی خفیہ پشت پناہی بھی حاصل ہے.
دشمنانِ اسلام کے ساتھ شیعوں کے خوش گوار تعلقات کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں.
ہند وپاک کی بعض معروف و با اثر مذہبی شخصیات کو دامِ تزویر میں پھانس کر ان کے ذریعہ شیعیت کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے.
حُبِ اہلِ بیت کے نام پر صحابہ پر طنز کیا جا رہا ہے.
صحابیِ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی جارہی ہیں. حتی کہ ان کی صحابیت کا انکار ہو رہا ہے اور ان کے ایمان کی بھی نفی کی جارہی ہے. !!
حُبِ مولا علی رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے کر کفرِ ابو طالب کے جمہوری موقف سے ہٹ کر ایمانِ ابو طالب پر شدت اختیار کی جارہی ہے. قائلینِ کفر کو "ناصبی" "خارجی" گردانا جا رہا ہے. !!
مروجہ تعزیہ داری کو نہ صرف جائز بلکہ حُبِ اہلِ بیت، محبتِ امامِ عالی مقام کی دلیل باور کرایا جا رہا ہے. !!
حد یہ ہے کہ رافضی شعار ماتم وسینہ کوبی کو دلیلِ جواز فراہم کیاجا رہاہے. اوراس کے خلاف آواز اٹھانے والے علماے حق کو اہلِ بیت کا باغی، ناصبی و خارجی کہا جا رہا ہے. !!
تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی فہرست میں بعض ایسے نوجوان سادات و علماء بھی ہیں ماضی میں جن کے خاندان کا دینی ومسلکی خدمات کے حوالے سے قابل قدر ریکارڈ رہاہے. !!
عام مسلمانوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ میں کسی صوفی نے کسی کو کافر نہیں کہا. !!!
اس سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ علماء کا کام لوگوں کو کافر بنانا ہے. لہذا ان کے فتووں کا اعتبار نہ کیا جاے. !!
رافضیت کا راستہ صاف کرنے کا یہ بھی ایک حربہ ہے. کہ مستقبل میں جب ایسے لوگوں کی رافضیت کو طشت ازبام کر کے علماے حق ان پر حکمِ شرع نافذ کریں تو عام مسلمان اسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ : "یہ سب مولویوں کی باتیں ہیں, ان کا کام ہی ہے لوگوں کو کافر بنانا". !!
مختصر یہ کہ پچھلے چند سالوں میں رافضیت کے تھیلے سے اتنی بلیاں باہر آچکی ہیں کہ انھیں دیکھ کر یہ اندیشہ ہو چلا ہے کہ کہیں وہی حالات پیدا نہ ہوجائیں جو تیسری و چوتھی صدی ہجری میں بغداد کے اندر عبیدیین وفاطمیین کے غلبہ کے بعد پیدا ہوگیے تھے. !!
'مار کُشتن اول روز' (یعنی سانپ کو پہلے ہی دن مار دینا چاہیے) کے فارمولے پر عمل کرتے ہوے اگر بر وقت علمی مراکز کے ذمہ دار علماء اور مرکزی خانقاہوں کے مشائخ نے رافضیت کے بڑھتے ہوے سیلاب پر بند لگانے کی کوشش نہیں کی تو یہ مستقبل میں سوادِ اعظم کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے.
( رضاء الحق اشرفی راج محلی )
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/992177108019474/
🌹 *وقت کی پکار* 🌹
ہر دور میں حالات اور تقاضوں کے مطابق علماے اہل سنت وجماعت نے اپنی زبان و قلم کے ذریعہ ابھرتے ہوے باطل فرقوں کی سرکوبی کے لیے جدوجہد کی ہے.
ہندوستان میں شیعہ امراء ونوابین کے خاتمہ کے ساتھ شیعیت کا جنازہ بھی تقریبا نکل چکاتھا. لیکن پچھلی دو تین دہائیوں سے سرحد پار سے بہت تیزی کے ساتھ رافضیت و شیعیت، حُبِّ اہلِ بیت کے نعروں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہورہی ہے. اسے دشمنانِ اسلام کی خفیہ پشت پناہی بھی حاصل ہے.
دشمنانِ اسلام کے ساتھ شیعوں کے خوش گوار تعلقات کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں.
ہند وپاک کی بعض معروف و با اثر مذہبی شخصیات کو دامِ تزویر میں پھانس کر ان کے ذریعہ شیعیت کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے.
حُبِ اہلِ بیت کے نام پر صحابہ پر طنز کیا جا رہا ہے.
صحابیِ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی جارہی ہیں. حتی کہ ان کی صحابیت کا انکار ہو رہا ہے اور ان کے ایمان کی بھی نفی کی جارہی ہے. !!
حُبِ مولا علی رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے کر کفرِ ابو طالب کے جمہوری موقف سے ہٹ کر ایمانِ ابو طالب پر شدت اختیار کی جارہی ہے. قائلینِ کفر کو "ناصبی" "خارجی" گردانا جا رہا ہے. !!
مروجہ تعزیہ داری کو نہ صرف جائز بلکہ حُبِ اہلِ بیت، محبتِ امامِ عالی مقام کی دلیل باور کرایا جا رہا ہے. !!
حد یہ ہے کہ رافضی شعار ماتم وسینہ کوبی کو دلیلِ جواز فراہم کیاجا رہاہے. اوراس کے خلاف آواز اٹھانے والے علماے حق کو اہلِ بیت کا باغی، ناصبی و خارجی کہا جا رہا ہے. !!
تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی فہرست میں بعض ایسے نوجوان سادات و علماء بھی ہیں ماضی میں جن کے خاندان کا دینی ومسلکی خدمات کے حوالے سے قابل قدر ریکارڈ رہاہے. !!
عام مسلمانوں کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ میں کسی صوفی نے کسی کو کافر نہیں کہا. !!!
اس سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ علماء کا کام لوگوں کو کافر بنانا ہے. لہذا ان کے فتووں کا اعتبار نہ کیا جاے. !!
رافضیت کا راستہ صاف کرنے کا یہ بھی ایک حربہ ہے. کہ مستقبل میں جب ایسے لوگوں کی رافضیت کو طشت ازبام کر کے علماے حق ان پر حکمِ شرع نافذ کریں تو عام مسلمان اسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ : "یہ سب مولویوں کی باتیں ہیں, ان کا کام ہی ہے لوگوں کو کافر بنانا". !!
مختصر یہ کہ پچھلے چند سالوں میں رافضیت کے تھیلے سے اتنی بلیاں باہر آچکی ہیں کہ انھیں دیکھ کر یہ اندیشہ ہو چلا ہے کہ کہیں وہی حالات پیدا نہ ہوجائیں جو تیسری و چوتھی صدی ہجری میں بغداد کے اندر عبیدیین وفاطمیین کے غلبہ کے بعد پیدا ہوگیے تھے. !!
'مار کُشتن اول روز' (یعنی سانپ کو پہلے ہی دن مار دینا چاہیے) کے فارمولے پر عمل کرتے ہوے اگر بر وقت علمی مراکز کے ذمہ دار علماء اور مرکزی خانقاہوں کے مشائخ نے رافضیت کے بڑھتے ہوے سیلاب پر بند لگانے کی کوشش نہیں کی تو یہ مستقبل میں سوادِ اعظم کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے.
( رضاء الحق اشرفی راج محلی )
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/992177108019474/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions راہ خدا میں سفر کرنا Sacred Traditions https://www.facebook.com/114021443682673/posts/410480850703396/
🔎 #Sacred_Traditions
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہئیے کیونکہ سرکار ﷺ نے یہاں شوربہ فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہئیے، قریب ہو یا دور اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے۔ تیسرے یہ کہ ہمیشہ لذت پر الفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہئیے کیونکہ شوربے میں فقط پانی بڑھانے سے مزہ تو کم ہو جائے گا لیکن اس کے ذریعے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ اسی لیے فرمایا کہ صرف پانی ہی بڑھا دو اگرچہ گھی، مصالحہ یا کچھ اور نہ بڑھا سکو۔ (مرآۃ المناجیح، زکوٰۃ کا بیان، باب: بہترین صدقہ، حدیث ۱۹۳۷)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1000181200559449/
Urdu: جب شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔
Roman: Jab shorbah pakao tou uska paani ziyadah karo aur apne padosiyon ka khayal rakho.
Hindi: जब शोरबा पकाओ तो उस का पानी ज़्यादा करो और अपने पड़ोसियों का ख़याल रखो ।
صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب الوصية بالجار والإحسان إليه، الحدیث 2625
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہئیے کیونکہ سرکار ﷺ نے یہاں شوربہ فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہئیے، قریب ہو یا دور اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے۔ تیسرے یہ کہ ہمیشہ لذت پر الفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہئیے کیونکہ شوربے میں فقط پانی بڑھانے سے مزہ تو کم ہو جائے گا لیکن اس کے ذریعے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ اسی لیے فرمایا کہ صرف پانی ہی بڑھا دو اگرچہ گھی، مصالحہ یا کچھ اور نہ بڑھا سکو۔ (مرآۃ المناجیح، زکوٰۃ کا بیان، باب: بہترین صدقہ، حدیث ۱۹۳۷)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/1000181200559449/
Urdu: جب شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو۔
Roman: Jab shorbah pakao tou uska paani ziyadah karo aur apne padosiyon ka khayal rakho.
Hindi: जब शोरबा पकाओ तो उस का पानी ज़्यादा करो और अपने पड़ोसियों का ख़याल रखो ।
صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب الوصية بالجار والإحسان إليه، الحدیث 2625