This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯 ----------------------------------------------------------- 📚کیا عورت نکاح پڑھا سکتی ہے؟📚 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ السلام علیکم ورحمتہ اللہ علیہ وبرکاتہ کیا عورت نکاح پڑھا سکتی ہے؟ مدلل جواب عنایت فرما دیں؟ سائل: قیصر سعودی…
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد ہوسکتاہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
☆ اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆
📜الـســــــوال ↓↓↓↓↓
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ نکاح خوانی میں گواہی دو عورتیں ہیں تو کیا گواہی مانی جائے گی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔۔۔
المستفتی: سبحان رضا گورکھپوری۔
◆ــــــــــــــــــــــ(((🌹)))ـــــــــــــــــــــــــ◆
★وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ★
الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب
✍🏻صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوسکتا انعقاد نکاح کے لئے ضروری ہے کہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں سنی صحیح العقیدہ عاقل بالغ آزاد حاضر ہوں۔
📘فتاوی ھندیہ میں ہے👇🏽
📜" ولا ینعقد بشھادۃ المرأتین بغیر رجل و کذا الخنثین اذا لم یکن معھما رجل ھکذا فی فتاویٰ قاضی خان " اھ
📚( ج:1/ص:267/268/ کتاب النکاح / بیروت)
🖊️مجدد اعظم سیدی سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی بحوالۂ در مختار تحریر فرماتے ہیں :👇🏽
⚡" شرطہ حضور شاھدین حرین أو حر و حرتین مکلفین " یعنی نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اور حر مجلس میں حاضر ہوں " اھ
اور بحوالۂ بحر الرائق ارشاد فرماتے ہیں کہ "👇🏽
📜" فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصبیان " یعنی غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا " اھ
📚( فتاوی رضویہ جدید ج:11/ص:217/ کتاب النکاح / مکتبہ دعوت اسلامی)
🖊️اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ 👇
" صرف عورتوں یا خنثیٰ کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو " اھ
📚( ح:7/ص:12/ نکاح کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)
👑واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب👑
◆ــــــــــــــــــــــ(((🌹)))ـــــــــــــــــــــــــ◆
✍️کتبــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
رابطــــہ نمبــــر ....⇩⇩
📲+9 1 9 7 5 6 4 6 4 3 1 6
✅الجواب صحیح والمجیب مثاب: مصنف فتاوی اکرمی، حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی مد ظلہ العالی کلکتہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ا•┈┈•◉◈◈◉❒❒◉◈◈◉ •┈┈•
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/5541
-----------------------------------------------------------
📚کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد ہوسکتاہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
☆ اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ☆
📜الـســــــوال ↓↓↓↓↓
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ نکاح خوانی میں گواہی دو عورتیں ہیں تو کیا گواہی مانی جائے گی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔۔۔
المستفتی: سبحان رضا گورکھپوری۔
◆ــــــــــــــــــــــ(((🌹)))ـــــــــــــــــــــــــ◆
★وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ★
الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب
✍🏻صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوسکتا انعقاد نکاح کے لئے ضروری ہے کہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں سنی صحیح العقیدہ عاقل بالغ آزاد حاضر ہوں۔
📘فتاوی ھندیہ میں ہے👇🏽
📜" ولا ینعقد بشھادۃ المرأتین بغیر رجل و کذا الخنثین اذا لم یکن معھما رجل ھکذا فی فتاویٰ قاضی خان " اھ
📚( ج:1/ص:267/268/ کتاب النکاح / بیروت)
🖊️مجدد اعظم سیدی سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی بحوالۂ در مختار تحریر فرماتے ہیں :👇🏽
⚡" شرطہ حضور شاھدین حرین أو حر و حرتین مکلفین " یعنی نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اور حر مجلس میں حاضر ہوں " اھ
اور بحوالۂ بحر الرائق ارشاد فرماتے ہیں کہ "👇🏽
📜" فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصبیان " یعنی غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا " اھ
📚( فتاوی رضویہ جدید ج:11/ص:217/ کتاب النکاح / مکتبہ دعوت اسلامی)
🖊️اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ 👇
" صرف عورتوں یا خنثیٰ کی گواہی سے نکاح نہیں ہوسکتا جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو " اھ
📚( ح:7/ص:12/ نکاح کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)
👑واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب👑
◆ــــــــــــــــــــــ(((🌹)))ـــــــــــــــــــــــــ◆
✍️کتبــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
رابطــــہ نمبــــر ....⇩⇩
📲+9 1 9 7 5 6 4 6 4 3 1 6
✅الجواب صحیح والمجیب مثاب: مصنف فتاوی اکرمی، حضرت مفتی محمد شہروز عالم رضوی اکرمی مد ظلہ العالی کلکتہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ا•┈┈•◉◈◈◉❒❒◉◈◈◉ •┈┈•
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/5541
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کیا ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک صحابی تھے دوسرا منافق تھا؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماءدین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ثعلبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابی تھے دولت کی وجہ سے نمازیں بھی ترک کیں اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کیا تو کیایہ واقعہ درست ہے
کیونکہ صحابہ رضی الله عنہم اجمعین تو وہ ہیں جو میرے سرکارﷺ پہ اپنی جانوں کو نچھاور کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے تو کیا یہ ممکن ہے
سائل: محمد ریاض گریڈیہ جھارکھنڈ۔
______❣♻️❣_______
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
یہ واقعہ صحیح ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک شخص جس کا نام "ثعلبہ بن ابی حاطب" ہے نہایت غریب وتنگدست تھا ظاہری طور پر ایمان لایا اور اندرونی طور پر کافرہی تھا شریعت میں ایسی خصلت والے کو منافق کہتے ہیں
تو ثعلبہ بن ابی حاطب پکا منافق تھا اللّٰہ پاک نے جب اسے مال و دولت سے نوازا تو یہ اپنی منافقت میں اور چوکھا ہوگیا جب اللّٰہ پاک نے زکوۃ دینے کا حکم نازل فرمایا تو اس نے
اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا تھا
بعد میں اپنی منافقت کو چھپانے کے لئے مال زکوٰۃ لے کر حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سرکار دوعالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی زکوٰۃ کو مردود قرار فرمادیا
کیونکہ------------------!!!
ثعلبہ بن ابی حاطب نے حکم خداوندی کو ٹیکس کہا تھا
"ثعلبہ بن ابی حاطب" کے بابت حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
قرآن مجید کے سیاق اور تفاسیر سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ( ثعلبہ بن ابی حاطب ) منافق تھا سورہ توبہ کی آیت کریمہ
"ومنهم من عهد الله لئن اٰتٰنا من فضله لنصدقن"
(📗 سورہ توبہ آیت 75 پارہ 10)
اوران میں کوئی وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر ہمیں فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے
اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کے قبل منافقین کا تذکرہ ہے آیت کریمہ میں
"منهم کی ضمیر مجرور متصل کا مرجع" او پر مذکور منافقین ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ منافق تھا خازن میں ہے: " "(ومنهم) من المنافقين (من عهد الله)"حلف الله یعنی ثعلبہ بن ابی حاطب بن ابی بلتعہ
اسی طرح اصابہ میں حضرت علامہ ابن حجر مکی عسقلانی کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ منافق تھا
پہلے یہ لکھا "ذکرہ ابن اسحاق فیمن بنی مسجدا ضرارا"
ابن اسحاق نے ذکر کیا یہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے مسجد ضرار بنائی تھی اور محقق ہے کہ مسجد ضرار بنانے والے منافق تھےکچھ لوگوں نے یہ کہا تھا ثعلبہ بن حاطب بن عمر و بن عبید ہیں اسے رد کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ یہ بدر میں شہید ہوئے تھےاور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور اللہ تعالی نے بدر والوں سے فرمایا: "اعملوا ماشئتم فقد غفرت لكم"
یعنی جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا
اس کے بعد علامہ ابن حجر نے فرمایا "فمن يكون بهذه المثابة كيف يعقبه الله نفاقا في قلبه وينزل فيه مانزل" جس کا یہ حال ہو کیسے اس کے دل میں بعد میں اللہ تعالی نفاق پیدا فرمائے گا اور اس کے بارے میں وہ نازل فرمائے گا جو نازل فرمایا
ان تصریحات سے ظاہر ہو گیا کہ ثعلبہ مذکورمنافق تھا صحابی نہیں تھا
(📚فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ 41/42/43)
اسی طرح سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریرفرماتے ہیں کہ یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا مگروہ (ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید)بدری خود زمانۂ اقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں جنگ اُحد میں شہیدہوئے اور یہ(ثعلبہ ابن ابی حاطب) منافق زمانۂ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں مرا
(📘فتاویٰ رضویہ، فوائد تفسیریہ وعلوم قرآن، جلد ٢٦ صفحہ ٤٥٣ )
واضح رہے کہ
عہد رسالت میں ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک تو یہی ثعلبہ بن ابی حاطب جو کہ منافق تھا اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا اور آخر میں اپنے سر پر خاک ڈال ڈال کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر خلافت عثمانی میں مرا
دوسرے حضرت ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہیں جوکہ بدری مخلص صحابی ہیں
آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے
واعظین مقررین وغیرہ کو چاہئیے کہ بیان واقعہ کے وقت خلاصہ کرکے بیان کیا کریں تاکہ لوگ کسی قسم کے تذبذب اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
-----------------------------------------------------------
📚کیا ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک صحابی تھے دوسرا منافق تھا؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماءدین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ثعلبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابی تھے دولت کی وجہ سے نمازیں بھی ترک کیں اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کیا تو کیایہ واقعہ درست ہے
کیونکہ صحابہ رضی الله عنہم اجمعین تو وہ ہیں جو میرے سرکارﷺ پہ اپنی جانوں کو نچھاور کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے تو کیا یہ ممکن ہے
سائل: محمد ریاض گریڈیہ جھارکھنڈ۔
______❣♻️❣_______
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
یہ واقعہ صحیح ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک شخص جس کا نام "ثعلبہ بن ابی حاطب" ہے نہایت غریب وتنگدست تھا ظاہری طور پر ایمان لایا اور اندرونی طور پر کافرہی تھا شریعت میں ایسی خصلت والے کو منافق کہتے ہیں
تو ثعلبہ بن ابی حاطب پکا منافق تھا اللّٰہ پاک نے جب اسے مال و دولت سے نوازا تو یہ اپنی منافقت میں اور چوکھا ہوگیا جب اللّٰہ پاک نے زکوۃ دینے کا حکم نازل فرمایا تو اس نے
اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا تھا
بعد میں اپنی منافقت کو چھپانے کے لئے مال زکوٰۃ لے کر حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سرکار دوعالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی زکوٰۃ کو مردود قرار فرمادیا
کیونکہ------------------!!!
ثعلبہ بن ابی حاطب نے حکم خداوندی کو ٹیکس کہا تھا
"ثعلبہ بن ابی حاطب" کے بابت حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
قرآن مجید کے سیاق اور تفاسیر سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ( ثعلبہ بن ابی حاطب ) منافق تھا سورہ توبہ کی آیت کریمہ
"ومنهم من عهد الله لئن اٰتٰنا من فضله لنصدقن"
(📗 سورہ توبہ آیت 75 پارہ 10)
اوران میں کوئی وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر ہمیں فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے
اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس کے قبل منافقین کا تذکرہ ہے آیت کریمہ میں
"منهم کی ضمیر مجرور متصل کا مرجع" او پر مذکور منافقین ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ منافق تھا خازن میں ہے: " "(ومنهم) من المنافقين (من عهد الله)"حلف الله یعنی ثعلبہ بن ابی حاطب بن ابی بلتعہ
اسی طرح اصابہ میں حضرت علامہ ابن حجر مکی عسقلانی کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ منافق تھا
پہلے یہ لکھا "ذکرہ ابن اسحاق فیمن بنی مسجدا ضرارا"
ابن اسحاق نے ذکر کیا یہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے مسجد ضرار بنائی تھی اور محقق ہے کہ مسجد ضرار بنانے والے منافق تھےکچھ لوگوں نے یہ کہا تھا ثعلبہ بن حاطب بن عمر و بن عبید ہیں اسے رد کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ یہ بدر میں شہید ہوئے تھےاور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوگا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور اللہ تعالی نے بدر والوں سے فرمایا: "اعملوا ماشئتم فقد غفرت لكم"
یعنی جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا
اس کے بعد علامہ ابن حجر نے فرمایا "فمن يكون بهذه المثابة كيف يعقبه الله نفاقا في قلبه وينزل فيه مانزل" جس کا یہ حال ہو کیسے اس کے دل میں بعد میں اللہ تعالی نفاق پیدا فرمائے گا اور اس کے بارے میں وہ نازل فرمائے گا جو نازل فرمایا
ان تصریحات سے ظاہر ہو گیا کہ ثعلبہ مذکورمنافق تھا صحابی نہیں تھا
(📚فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ 41/42/43)
اسی طرح سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریرفرماتے ہیں کہ یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا مگروہ (ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید)بدری خود زمانۂ اقدس حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں جنگ اُحد میں شہیدہوئے اور یہ(ثعلبہ ابن ابی حاطب) منافق زمانۂ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں مرا
(📘فتاویٰ رضویہ، فوائد تفسیریہ وعلوم قرآن، جلد ٢٦ صفحہ ٤٥٣ )
واضح رہے کہ
عہد رسالت میں ثعلبہ نام کے دوشخص تھے ایک تو یہی ثعلبہ بن ابی حاطب جو کہ منافق تھا اپنے مال کی زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تھا اور آخر میں اپنے سر پر خاک ڈال ڈال کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر خلافت عثمانی میں مرا
دوسرے حضرت ثعلبہ ابن حاطب بن عمروبن عبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہیں جوکہ بدری مخلص صحابی ہیں
آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے
واعظین مقررین وغیرہ کو چاہئیے کہ بیان واقعہ کے وقت خلاصہ کرکے بیان کیا کریں تاکہ لوگ کسی قسم کے تذبذب اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر۔
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت مفتی جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور جھارکھنڈ۔
✅ الجواب صحیح والمجیب نجیح: حضرت علامہ مولانا مفتی اسرار احمد نوری صاحب قبلہ کالا ڈھونگی نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت مفتی جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور جھارکھنڈ۔
✅ الجواب صحیح والمجیب نجیح: حضرت علامہ مولانا مفتی اسرار احمد نوری صاحب قبلہ کالا ڈھونگی نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*علم جفر کیا ہے؟؟*
جفربیشک نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان ﷲ تعالٰی علیہم کاعلم ہے
امیرالمومنین *مولٰی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم* نے اپنے خواص پر اس کااظہارفرمایا اور *سیدنا امام جعفرصادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ* اسے معرض کتابت میں لائے۔
کتاب مستطاب *جفرجامع* تصنیف فرمائی۔ علامہ سیدشریف رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں: *امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا*
ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں
*جفر ایک جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تحریر فرما دیا*
*علامہ سید شریف رحمۃ اللہ علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں*
۔یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی دو کتابیں ہیں بے شک امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تک جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اُن کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔
✅ اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد ولی عہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ *تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا*
۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)
اور مشائخِ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیں، اور میں نے ملک شام میں ایک نظر دیکھی جس میں شاہانِ مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔
📚 فتاوی رضویہ شریف
📝 حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/1896173603897878/
جفربیشک نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان ﷲ تعالٰی علیہم کاعلم ہے
امیرالمومنین *مولٰی علی کرم ﷲ وجہہ الکریم* نے اپنے خواص پر اس کااظہارفرمایا اور *سیدنا امام جعفرصادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ* اسے معرض کتابت میں لائے۔
کتاب مستطاب *جفرجامع* تصنیف فرمائی۔ علامہ سیدشریف رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں: *امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا*
ابن قتیبہ پھر ابن خلکان پھر امام دمیری پھر علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں
*جفر ایک جلد ہے کہ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھی اور اس میں اہل بیت کرام کے لیے جس چیز کے علم کی انہیں حاجت پڑے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب تحریر فرما دیا*
*علامہ سید شریف رحمۃ اللہ علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں*
۔یعنی جفر و جامعہ امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی دو کتابیں ہیں بے شک امیر المومنین نے ان دونوں میں علم الحروف کی روش پر ختم دنیا تک جتنے وقائع ہونے والے ہیں سب ذکر فرمادیئے ہیں اور ان کی اولاد امجاد سےائمہ مشہورین رضی اللہ تعالٰی عنہم اُن کتابوں کے رموز پہچانتے اور ان سے احکام لگاتے تھے۔
✅ اور مامون رشید نے جب حضرت امام علی رضا ابن امام موسٰی کاظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنے بعد ولی عہد کیا اور خلافت نامہ لکھ دیا امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے قبول میں فرمان بنام مامون رشید تحریر فرمایا اس میں ارشاد فرماتے ہیں کہ *تم نے ہمارے حق پہنچانے جو تمہارے باپ دادا نے نہ پہچانے اس لیے میں تمہاری ولی عہدی قبول کرتا ہوں۔ مگر جفر وجامعہ بتارہی ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہوگا*
۔( چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مامون رشید کی زندگی ہی میں شہادت پائی)
اور مشائخِ مغرب اس علم سے حضہ اور اس میں اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اپنے انتساب کا سلسلہ رکھتے ہیں، اور میں نے ملک شام میں ایک نظر دیکھی جس میں شاہانِ مصر کے احوال کی طرف رمزوں میں اشارہ کیا ہے میں نے سنا کہ وہ احکام انہی دونوں کتابوں سے نکالے ہیں۔
📚 فتاوی رضویہ شریف
📝 حسن نوری گونڈوی
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/1896173603897878/
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM