اسلام سے پہلے عورتوں کا حال
عورت کی زندگی کے چار دور
عورت کی زندگی کے چار دور
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
عورت کی زندگی کے چار دور
عورت اسلام سے پہلے اور بعد
عورت جب پانچ نمازیں پڑھے
عورتوں کے لئے نماز کی بہتر جگہ
عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو
عورت اسلام سے پہلے اور بعد
عورت جب پانچ نمازیں پڑھے
عورتوں کے لئے نماز کی بہتر جگہ
عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
[اگر تحقیق میں غلطی ہو جائے تو رجوع کر لینا عالم کی عظمت ہے ]
موجودہ زمانے کا ایک خطرناک المیہ یہ ہے کہ بعض علماء عقیدے اور تحقیق میں غلطی کرتے ہیں اور متوجہ کرنے کے باوجود اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہیں خواہ ان کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دست و گریباں ہو رہی ہو۔ ایسے لوگوں کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اخلاص اور للہیت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا میں دو سال تک گھر سے غائب رہا ہوں، واپس آیا تو میری بیوی حاملہ ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت کو تین کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ فرمایا، حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین اس کے پیٹ میں بچے کا کیا قصور؟ اسے پیدائش تک چھوڑ دیجیے۔ آپ اس عورت کو سزا دینے سے رک گئے۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو اسکے دانت نکلے ہوئے تھے۔ اس شخص نے بچے کو شباہت سے پہچان لیا اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ میرا بیٹا ہے۔ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: عورتیں اس بات سے عاجز آ گئیں ہیں کہ معاذ جیسا بیٹا پیدا کریں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا (السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 7 ص 443)۔
2۔ ترجمہ: حضرت طاؤس تابعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک رائے قائم کرتے تھے مگر بعد میں اس سے رجوع کر لیتے تھے ( سنن الدارمی:634)۔
3۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جس کے پاس صحیح علم ہو وہ بیان کرے، اور جسے معلوم نہ ہو وہ کہے: اللہ بہتر جانتا ہے، جب کوئی شخص نہ جانتا ہو تو وہ بے تکلف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا، تو یہ بھی اس کے عالم ہونے کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: فرما دو میں تم لوگوں سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں (بخاری حدیث: 4774)۔
امام بغوی نے سورۃ ص کی آیت نمبر 86 کی تفسیر میں لکھا ہے: جس نے بھی خود اپنی طرف سے کوئی بات کہی اس نے اس کے لیے تکلف کیا (بغوی جلد 3 ص 715)۔
(ضابطہِ حیات، ص 132)
حسن رضا بھائی کے وال سے کاپی پیسٹ
Hassan Raza
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1894794450702460&id=100005157704773
موجودہ زمانے کا ایک خطرناک المیہ یہ ہے کہ بعض علماء عقیدے اور تحقیق میں غلطی کرتے ہیں اور متوجہ کرنے کے باوجود اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہیں خواہ ان کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دست و گریباں ہو رہی ہو۔ ایسے لوگوں کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اخلاص اور للہیت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا میں دو سال تک گھر سے غائب رہا ہوں، واپس آیا تو میری بیوی حاملہ ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت کو تین کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ فرمایا، حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین اس کے پیٹ میں بچے کا کیا قصور؟ اسے پیدائش تک چھوڑ دیجیے۔ آپ اس عورت کو سزا دینے سے رک گئے۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو اسکے دانت نکلے ہوئے تھے۔ اس شخص نے بچے کو شباہت سے پہچان لیا اور کہنے لگا رب کعبہ کی قسم یہ میرا بیٹا ہے۔ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: عورتیں اس بات سے عاجز آ گئیں ہیں کہ معاذ جیسا بیٹا پیدا کریں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا (السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 7 ص 443)۔
2۔ ترجمہ: حضرت طاؤس تابعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک رائے قائم کرتے تھے مگر بعد میں اس سے رجوع کر لیتے تھے ( سنن الدارمی:634)۔
3۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جس کے پاس صحیح علم ہو وہ بیان کرے، اور جسے معلوم نہ ہو وہ کہے: اللہ بہتر جانتا ہے، جب کوئی شخص نہ جانتا ہو تو وہ بے تکلف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا، تو یہ بھی اس کے عالم ہونے کی شان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: فرما دو میں تم لوگوں سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں (بخاری حدیث: 4774)۔
امام بغوی نے سورۃ ص کی آیت نمبر 86 کی تفسیر میں لکھا ہے: جس نے بھی خود اپنی طرف سے کوئی بات کہی اس نے اس کے لیے تکلف کیا (بغوی جلد 3 ص 715)۔
(ضابطہِ حیات، ص 132)
حسن رضا بھائی کے وال سے کاپی پیسٹ
Hassan Raza
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1894794450702460&id=100005157704773
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل صدائے حق
*جس نے نہ جانا جان لے*
ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو "بعض" علم ثابت کرتے ہیں وہ عزت و تمکین والا بعض ہے جو جملہ محتویات لوح محفوظ کو شامل ہے اور دیوبندی جس بعض کو ثابت کرتے ہیں وہ بغض و تحقیر والا بعض ہے کیونکہ حفظ الایمان میں تھانوی تو اس بعض کو علم بہائم و صبیان کے مشابہ یا مساوی بتا چکے ہیں _تو معلوم ہوا کہ بعض بعض میں بھی فرق ہوتا ہے
لہذا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارا اور مخالفین کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض علوم کے حصول میں اتفاق ہے، اختلاف علم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر فقط کلمہ کل کے اطلاق کا ہے یا اطلاق عالم الغیب کا ہے ایسا ہرگز نہیں ہمارا اختلاف اس بعض کی حقیقت اور تفصیلات میں بھی ہے
📚منکرین وسعت علم نبوی کا علمی و تحقیقی محاسبہ (تحقیقات رضا کی روشنی میں) صفحہ 97
📝حسن نوری گونڈوی
ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو "بعض" علم ثابت کرتے ہیں وہ عزت و تمکین والا بعض ہے جو جملہ محتویات لوح محفوظ کو شامل ہے اور دیوبندی جس بعض کو ثابت کرتے ہیں وہ بغض و تحقیر والا بعض ہے کیونکہ حفظ الایمان میں تھانوی تو اس بعض کو علم بہائم و صبیان کے مشابہ یا مساوی بتا چکے ہیں _تو معلوم ہوا کہ بعض بعض میں بھی فرق ہوتا ہے
لہذا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارا اور مخالفین کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض علوم کے حصول میں اتفاق ہے، اختلاف علم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر فقط کلمہ کل کے اطلاق کا ہے یا اطلاق عالم الغیب کا ہے ایسا ہرگز نہیں ہمارا اختلاف اس بعض کی حقیقت اور تفصیلات میں بھی ہے
📚منکرین وسعت علم نبوی کا علمی و تحقیقی محاسبہ (تحقیقات رضا کی روشنی میں) صفحہ 97
📝حسن نوری گونڈوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مختصر سیرت و خصائص
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت ابو بکر صدیق
حضرت مولیٰ علی مشکل کشا
خاتون حضرت فاطمہ
حضرت امیر معاویہ بن سفیان
حضرت امام جعفر صادق
امام موسیٰ کاظم بن جعفر
سیدنا علی نقی الہادی
حضرت سیدنا امام غزالی
خواجہ غریب نواز اجمیری
سید آل مصطفیٰ مارہرہ شریف
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت ابو بکر صدیق
حضرت مولیٰ علی مشکل کشا
خاتون حضرت فاطمہ
حضرت امیر معاویہ بن سفیان
حضرت امام جعفر صادق
امام موسیٰ کاظم بن جعفر
سیدنا علی نقی الہادی
حضرت سیدنا امام غزالی
خواجہ غریب نواز اجمیری
سید آل مصطفیٰ مارہرہ شریف