Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯ابو الولید ہشام اول رحمۃ اللّٰه علیہ بن عبدالرحمٰن الداخل الاموی (خلیفۂ اسپین)🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن۔
کنیت: ابوالولید تھی۔
تاریخ و مقامِ ولادت: ابو الولید ہشام بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 757ء میں ، قرطبہ، اسپین میں ہوئی۔
سیرت و خصائص: ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہوجا تا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تادمِ حیات حاکم ِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے۔
راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی۔ آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بےحد محبت کرتے تھے۔
تاریخِ وصال: حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180ھ کو اسپین میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯ابو الولید ہشام اول رحمۃ اللّٰه علیہ بن عبدالرحمٰن الداخل الاموی (خلیفۂ اسپین)🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن۔
کنیت: ابوالولید تھی۔
تاریخ و مقامِ ولادت: ابو الولید ہشام بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 757ء میں ، قرطبہ، اسپین میں ہوئی۔
سیرت و خصائص: ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہوجا تا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تادمِ حیات حاکم ِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے۔
راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی۔ آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بےحد محبت کرتے تھے۔
تاریخِ وصال: حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180ھ کو اسپین میں ہوا۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاوٰی رَضَوِیہ کی خصُوصِیات
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کےفِقْہی مقام کو سمجھنے کے لئے مسائلِ فِقْہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پرمُشتمل مجموعہ بنام”فتاویٰ رضویہ“ کی خصُوصیات میں سے چند خصُوصِیات کے بارے میں سنتے ہیں چُنانچہ
٭فتاویٰ رضویہ میں علمِ حدیث و علمِ فقہ کی کُتُب کا بَھر پُورعِلم موجود ہے
٭ فتاویٰ رضویہ میں نادرونایاب حوالوں کابھی جگہ بہ جگہ ذِکرکیا گیاہے
٭ فتاویٰ رضویہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں نِتْ نئےمسائل حل کیے گئے ہیں
٭فنِّ رِیاضی اورعلمِ تَوقِیْت کے ساتھ ساتھ علمِ میراث کے متعلق بھی نادرو نایاب تحقیق موجودہے
٭دِیگر مذاہبِ (فقہیہ) (فِقْ ہِیْ یَہ)کےقوانین اورجُزئیات (جُزْ۔ئی۔یات) کاعلم بھی شامل ہے
٭ہر مسئلے میں قرآن وسُنَّت کی پیروی کا اِہتمام کیا گیاہے
٭بِدْعات ومُنکِرات کا ایمان افروز رَدّکیاگیاہے
٭اس کے علاوہ سب سے بڑی خُصُوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مُفتیانِ کرام کو فقہی مسائل کےمُعاملے میں وقتاًفوقتاًفتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رَضویہ سےمددلیتے ہیں اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّآئندہ بھی لیتےرہیں گے۔
(آئینۂ رضویات،حصہ۲،ص۲۲۸،ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا کراچی)
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ ان عُلمائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے دینِ حَق کو پھیلانے کے لئے انتہائی ذوق و شوق کیساتھ عُلُوم و فُنون حاصل کئے اور اس کے بعدان عُلوم وفُنون کے فیضان کو پوری دیانتداری کے ساتھ بے شُمار طلبائے علمِ دین کے سینوں میں منتقل فرمایا۔یقیناً یہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی کھُلی کرامت تھی،اس لئے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے شب و روز کے معمولات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا اکثر وقت تصنیف و تالیف میں ہی گُزرجایا کرتا تھا جیسا کہ ملِکُ العُلَماحضرتِ علّامہ مفتی محمدظفرُ الدِّین بہاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اَکْثر اَوْقات آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تصنیف وتالیف میں مَشْغول رہتے۔
(حیاتِ اعلیٰ حضرت،١/٩٨)
عُموماً علمائے کرام فارغُ التحصیل ہونے کے بعد تصنیف و تالیف کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زمانَۂ طالب علمی سے ہی کتابیں تصنیف کرنے کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا۔
(حیات اعلیٰ حضرت،۳/۱۴۳۔۱۴۴ملتقطاً)
جس کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے محض8 برس کی عمر میں درسِ نظامی یعنی عالم کورس کے نصاب میں شامل علمِ نحو کی مشہور و معروف کتاب بنام’’ھَدایَۃ ُ النَحْوْ‘‘نہ صرف پڑھ لی بلکہ اسی ننھی سی عُمر میں ہی اس کتاب کی عربی زبان میں شرح بھی لکھ ڈالی۔
پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
#103thUrsOfAalahazrat
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/344890567421310/
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کےفِقْہی مقام کو سمجھنے کے لئے مسائلِ فِقْہ سے سجے ہوئے بے مثال فتاویٰ جات پرمُشتمل مجموعہ بنام”فتاویٰ رضویہ“ کی خصُوصیات میں سے چند خصُوصِیات کے بارے میں سنتے ہیں چُنانچہ
٭فتاویٰ رضویہ میں علمِ حدیث و علمِ فقہ کی کُتُب کا بَھر پُورعِلم موجود ہے
٭ فتاویٰ رضویہ میں نادرونایاب حوالوں کابھی جگہ بہ جگہ ذِکرکیا گیاہے
٭ فتاویٰ رضویہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں نِتْ نئےمسائل حل کیے گئے ہیں
٭فنِّ رِیاضی اورعلمِ تَوقِیْت کے ساتھ ساتھ علمِ میراث کے متعلق بھی نادرو نایاب تحقیق موجودہے
٭دِیگر مذاہبِ (فقہیہ) (فِقْ ہِیْ یَہ)کےقوانین اورجُزئیات (جُزْ۔ئی۔یات) کاعلم بھی شامل ہے
٭ہر مسئلے میں قرآن وسُنَّت کی پیروی کا اِہتمام کیا گیاہے
٭بِدْعات ومُنکِرات کا ایمان افروز رَدّکیاگیاہے
٭اس کے علاوہ سب سے بڑی خُصُوصیت یہ ہے کہ بڑے بڑے مُفتیانِ کرام کو فقہی مسائل کےمُعاملے میں وقتاًفوقتاًفتاویٰ رضویہ کی ضرورت پڑتی ہے،بہت سے مفتیانِ کرام فتویٰ دینے کے معاملے میں خاص طور پر فتاویٰ رَضویہ سےمددلیتے ہیں اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّآئندہ بھی لیتےرہیں گے۔
(آئینۂ رضویات،حصہ۲،ص۲۲۸،ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا کراچی)
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ ان عُلمائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے دینِ حَق کو پھیلانے کے لئے انتہائی ذوق و شوق کیساتھ عُلُوم و فُنون حاصل کئے اور اس کے بعدان عُلوم وفُنون کے فیضان کو پوری دیانتداری کے ساتھ بے شُمار طلبائے علمِ دین کے سینوں میں منتقل فرمایا۔یقیناً یہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی کھُلی کرامت تھی،اس لئے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے شب و روز کے معمولات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا اکثر وقت تصنیف و تالیف میں ہی گُزرجایا کرتا تھا جیسا کہ ملِکُ العُلَماحضرتِ علّامہ مفتی محمدظفرُ الدِّین بہاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اَکْثر اَوْقات آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تصنیف وتالیف میں مَشْغول رہتے۔
(حیاتِ اعلیٰ حضرت،١/٩٨)
عُموماً علمائے کرام فارغُ التحصیل ہونے کے بعد تصنیف و تالیف کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زمانَۂ طالب علمی سے ہی کتابیں تصنیف کرنے کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا۔
(حیات اعلیٰ حضرت،۳/۱۴۳۔۱۴۴ملتقطاً)
جس کی ایک روشن مثال یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے محض8 برس کی عمر میں درسِ نظامی یعنی عالم کورس کے نصاب میں شامل علمِ نحو کی مشہور و معروف کتاب بنام’’ھَدایَۃ ُ النَحْوْ‘‘نہ صرف پڑھ لی بلکہ اسی ننھی سی عُمر میں ہی اس کتاب کی عربی زبان میں شرح بھی لکھ ڈالی۔
پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
#103thUrsOfAalahazrat
https://www.facebook.com/104955781414791/posts/344890567421310/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM