This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلیٰ حضرت نے ²⁹دن کچھ نہ کھایا
بری صحبت سے بچنا نہایت ضروری
فال کھولنا اور اجرت لینا حرام ہے...
غیبت اور بہتان میں فرق | تعریف
کرامت کس کو کہتے ہیں ؟ تعریف
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا...
تقویٰ کا معنیٰ | تفسیر صراط الجنان
شوہر اپنی بیوی کے جنازہ اور کندھا
مسواک موت کے سوا ہر بیماری سے
ہم نے خطا میں نہ کیں تم نے عطا...
بری صحبت سے بچنا نہایت ضروری
فال کھولنا اور اجرت لینا حرام ہے...
غیبت اور بہتان میں فرق | تعریف
کرامت کس کو کہتے ہیں ؟ تعریف
اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا...
تقویٰ کا معنیٰ | تفسیر صراط الجنان
شوہر اپنی بیوی کے جنازہ اور کندھا
مسواک موت کے سوا ہر بیماری سے
ہم نے خطا میں نہ کیں تم نے عطا...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚صاحب استطاعت نہ ہو تو قرض لے کر ولیمہ کرنا کیسا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الســوال ــــــــــــــ️👇
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین درج ذیل مسئلہ کے متعلق کہ قرض لے کر ولیمہ کرنے کے متعلق شریعت کا کیا حکم؟ کہ اگر صاحب استطاعت نہ ہو تو قرض لے کر ولیمہ کرنا کیسا ہے؟
المستفتی: ذیشان احمد رضوی دوست پور
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
الجوابــــ بعون الملک الوھاب
پہلی بات ولیمہ سننِ مستحبہ سے ہے اس کے تارک گنہگار نہیں۔ قرض لے کر ولیمہ کرنا منع نہیں ہے جب قرض ادا کرنے کی قوت رکھتا ہو ۔
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں رقم الطراز ہیں ۔ولیمہ سنت ہے بنیت اتباعِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولیمہ کرو خویش و اقارب اور دوسرے مسلمانوں کو کھانا کھلاؤ۔ بالجملہ مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کرے، اللہ (عزوجل) و رسول ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی مخالفت سے بچے اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔
وَھُوَ حَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوکیل وَاللہ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَیْہِ التُّکْلَان
📔بہار شریعت حصہ ہفتم 107
اس حوالے سے یہ ثابت ہے کہ ولیمہ کرنا جائز و درست ہے اور سنت مستحبہ سے ہے اگر صاحب استطاعت نہ ہو تو جائز کام پر قرض لینے میں حرج نہیں۔لیکن ایسا بھی قرض نہ لیں جو زندگی کا بوجھ بن جائے۔لہذا اگر قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ولیمہ ترک کرنے سے گنہگار بھی نہ ہوگا۔
جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت محدث بریلوی تحریر فرماتے ہیں۔
،،ولیمہ بعدنکاح سنت ہے اس صورت میں صیغہ امر بھی وارد ہے،عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالٰی عنہ سے فرمایا اولم ولو بشاۃٍ؛ ولیمہ کر اگرچہ ایک ہی دنبہ یا اگرچہ ایک دنبہ،دونوں معنی محتمل ہیں،اور اول اظہر تارکان سنت ہیں۔مگر یہ سنن مستحبہ سے ہے۔تارک گنہگار نہ ہوگا اگر اسے حق جانے۔،،
📔(فتاویٰ رضویہ؛ ج , ص ،٢٧٩)(رضافاؤنڈیشن لاہور)
🔖واللہ اعلم باالصواب🔖
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
فقیـــر محمــد امتیــــاز قمـر رضــوی امجـــدی عفــی عنــہ مقــام مــدنگـنڈی، بــرنی، پــوسٹ بلیــا، گــریڈیــہ جھــارکھنـڈ۔ رابطـہ نمبـر👇
📲919113471871☜
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیـر مشـاہـد رضـا حشمتی عفـی عنـہ خـادم التـدریـس جـامعـۃ ریـاض الجنـۃ کیمــری ضلـع رامپـور۔
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیـر قـادری محـفـوظ عـالـم نـوریٓ غفــرلــہ، خـادم دار العـلوم اھـلسنت انـوار القـرآن نـوڈیہـوا لال پـور بھلہیـا سعـد اللـہ نـگر ضـلع بـلرام پـور یـو پی الھنــد۔
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیــر محمــد اختــر عــلی واجــدالقـادری عفـی عنــہ، خــادم شمــس العلمـاء دارالافتــاء والقضــاء، جــامعــہ اسـلامیـہ میــرا روڈ ممبــئ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
-----------------------------------------------------------
📚صاحب استطاعت نہ ہو تو قرض لے کر ولیمہ کرنا کیسا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الســوال ــــــــــــــ️👇
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین درج ذیل مسئلہ کے متعلق کہ قرض لے کر ولیمہ کرنے کے متعلق شریعت کا کیا حکم؟ کہ اگر صاحب استطاعت نہ ہو تو قرض لے کر ولیمہ کرنا کیسا ہے؟
المستفتی: ذیشان احمد رضوی دوست پور
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
الجوابــــ بعون الملک الوھاب
پہلی بات ولیمہ سننِ مستحبہ سے ہے اس کے تارک گنہگار نہیں۔ قرض لے کر ولیمہ کرنا منع نہیں ہے جب قرض ادا کرنے کی قوت رکھتا ہو ۔
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں رقم الطراز ہیں ۔ولیمہ سنت ہے بنیت اتباعِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولیمہ کرو خویش و اقارب اور دوسرے مسلمانوں کو کھانا کھلاؤ۔ بالجملہ مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کرے، اللہ (عزوجل) و رسول ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی مخالفت سے بچے اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔
وَھُوَ حَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوکیل وَاللہ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَیْہِ التُّکْلَان
📔بہار شریعت حصہ ہفتم 107
اس حوالے سے یہ ثابت ہے کہ ولیمہ کرنا جائز و درست ہے اور سنت مستحبہ سے ہے اگر صاحب استطاعت نہ ہو تو جائز کام پر قرض لینے میں حرج نہیں۔لیکن ایسا بھی قرض نہ لیں جو زندگی کا بوجھ بن جائے۔لہذا اگر قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ولیمہ ترک کرنے سے گنہگار بھی نہ ہوگا۔
جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت محدث بریلوی تحریر فرماتے ہیں۔
،،ولیمہ بعدنکاح سنت ہے اس صورت میں صیغہ امر بھی وارد ہے،عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالٰی عنہ سے فرمایا اولم ولو بشاۃٍ؛ ولیمہ کر اگرچہ ایک ہی دنبہ یا اگرچہ ایک دنبہ،دونوں معنی محتمل ہیں،اور اول اظہر تارکان سنت ہیں۔مگر یہ سنن مستحبہ سے ہے۔تارک گنہگار نہ ہوگا اگر اسے حق جانے۔،،
📔(فتاویٰ رضویہ؛ ج , ص ،٢٧٩)(رضافاؤنڈیشن لاہور)
🔖واللہ اعلم باالصواب🔖
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
فقیـــر محمــد امتیــــاز قمـر رضــوی امجـــدی عفــی عنــہ مقــام مــدنگـنڈی، بــرنی، پــوسٹ بلیــا، گــریڈیــہ جھــارکھنـڈ۔ رابطـہ نمبـر👇
📲919113471871☜
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیـر مشـاہـد رضـا حشمتی عفـی عنـہ خـادم التـدریـس جـامعـۃ ریـاض الجنـۃ کیمــری ضلـع رامپـور۔
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیـر قـادری محـفـوظ عـالـم نـوریٓ غفــرلــہ، خـادم دار العـلوم اھـلسنت انـوار القـرآن نـوڈیہـوا لال پـور بھلہیـا سعـد اللـہ نـگر ضـلع بـلرام پـور یـو پی الھنــد۔
✅الجواب صحیح والمجیب نجیح: فقیــر محمــد اختــر عــلی واجــدالقـادری عفـی عنــہ، خــادم شمــس العلمـاء دارالافتــاء والقضــاء، جــامعــہ اسـلامیـہ میــرا روڈ ممبــئ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯مجاہد جنگ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیرآبادی۔
القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ۔
والد کااسمِ گرامی: بانیِ سلسلہ خیرآبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: علامہ فضلِ حق خیرآبادی بن مولانا فضلِ امام خیرآبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)
آپ کاشجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
(حدائق الحنفیہ۔ روشن دریچے:61)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیرالبلاد "خیرآباد" (ضلع سیتاپور، اترپردیش، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیرآبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے۔ آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاذ بن گئے۔
بیعت و خلافت: آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص: مجاہدِ تحریک آزادی، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشور ِعلم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے۔ بڑے ادیب، بڑے منطقی، نہایت ذہن، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور "قصیدے ہمزیہ" میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی۔۔۔منھا علوماجمۃ علماء۔
یعنی"اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے"۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے۔ آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں "تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ" لکھی۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا:
"اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے"۔
کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہوگیا۔
مولانا عبدالقادر صدر الصدور فرماتے ہیں:
"عربی ادب میں ابوالحسن اخفش جیسے ہیں، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے"۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سرزمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیرآبادی کو ہی حاصل ہے۔ علامہ کی تصنیف "الثورۃ الہندیہ" اور " قصائدِ فتنۃ الہند" جنگِ آزادی1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چوں کہ علامہ فضل حق خیرآبادی نے محمد بن عبدالوہاب نجدی کی "کتاب التوحید" کے اردو چربہ "تقویۃ الایمان" مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا۔ باایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں۔ چناں چہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیرآبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے۔ مخالفین کے گھر سے گواہی۔مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں:
"مولانا فضل حق صاحب خیرآبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟۔۔
-----------------------------------------------------------
🕯مجاہد جنگ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ فضلِ حق خیرآبادی۔
القاب: مجاہدِ جنگِ آزادی، بطلِ حریت، امام المناطقہ، رئیس المتکلمین وغیرہ۔
والد کااسمِ گرامی: بانیِ سلسلہ خیرآبادیت امام المناطقہ حضرت علامہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: علامہ فضلِ حق خیرآبادی بن مولانا فضلِ امام خیرآبادی بن محمد ارشد بن محمد صالح بن عبد الواحد بن عبد الماجد بن قاضی صدر الدین خیر آبادی۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)
آپ کاشجرۂ نسب تینتیس واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
(حدائق الحنفیہ۔ روشن دریچے:61)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1212ھ، مطابق 1797ء کو خیرالبلاد "خیرآباد" (ضلع سیتاپور، اترپردیش، انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے معقولات اپنے والدِ گرامی علامہ فضلِ امام خیرآبادی علیہ الرحمہ سے اور منقولات خاتم المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اور تصوف و اخلاق حضرت شیخ الاسلام محمد علی خیرآبادی علیھم الرحمہ سے حاصل کیے۔ آپ کی ذہانت و فطانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا۔ تیرہ سال کی عمر میں درسیات سے فارغ ہو کر کامل استاذ بن گئے۔
بیعت و خلافت: آپ رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ دھومن دہلوی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے۔
سیرت و خصائص: مجاہدِ تحریک آزادی، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں، کشور ِعلم کا تاجدار، منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے۔ فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد و امام تھے۔ بڑے ادیب، بڑے منطقی، نہایت ذہن، نہایت زکی، خلیق و ذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق و تحقیق تھے۔ علامہ موصوف نے اپنے مشہور "قصیدے ہمزیہ" میں بطور تحدیثِ نعمت اپنے علم و فضل کا اس انداز سے ذکر کرتے ہیں:
؏: اللہ اقنانی علوما یقتنی۔۔۔منھا علوماجمۃ علماء۔
یعنی"اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علوم عطاء کیے ہیں کہ ان میں سے بہت کچھ علماء نے حاصل کیے"۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم و ناثر بھی تھے۔ علامہ فضلِ حق خیرآبادی علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی حنفی تھے۔ آپ نے مولوی اسماعیل دہلوی کے رد میں "تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ" لکھی۔ اس کی بعض گستاخانہ عبارات پر تکفیر فرمائی اور یہ فتویٰ دیا:
"اس بے ہودہ کلام کا قائل از روئے شریعت کافر و بے دین ہے اور شرعاً اس کا حکم قتل اور تکفیر ہے"۔
کچھ ہی عرصہ بعد اتفاقاً وہ بالاکوٹ کے غیور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل بھی ہوگیا۔
مولانا عبدالقادر صدر الصدور فرماتے ہیں:
"عربی ادب میں ابوالحسن اخفش جیسے ہیں، ان کی نثر مقاماتِ حریری سے اور نظم دیوانِ متنبی سے ممتاز ہے"۔
اس تاریخی حقیقت سے ہر اہل فہم اور ذی علم واقف ہے کہ سرزمینِ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی تحریک کے قائدِ اعظم کی حیثیت علامہ فضل حق خیرآبادی کو ہی حاصل ہے۔ علامہ کی تصنیف "الثورۃ الہندیہ" اور " قصائدِ فتنۃ الہند" جنگِ آزادی1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
چوں کہ علامہ فضل حق خیرآبادی نے محمد بن عبدالوہاب نجدی کی "کتاب التوحید" کے اردو چربہ "تقویۃ الایمان" مولفہ مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ ساتھ دیگر عقائدِ وہابیہ کی تردید میں کلیدی کردار ادا کیا۔ باایں سبب آپ کی شخصیت کو مجروح کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں۔ چناں چہ تاریخی حقائق و شواہد پر پردہ ڈالنے اور جنگِ آزادی کے مسلمہ راہنماؤں کے خلاف فضا پیدا کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علامہ فضل حق خیرآبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔ اس تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی۔ لیکن حق چھپانے سے نہیں چھپ سکتا، اور ظاہر ہوکر رہتا ہے۔ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا ہے۔ مخالفین کے گھر سے گواہی۔مسلکِ مخالف کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کہتے ہیں:
"مولانا فضل حق صاحب خیرآبادی کو جو کہ تحریک کے بہت بڑے رکن تھے اور بریلی، علی گڑھ اور اس کے ملحقہ اضلاع کے دورانِ تحریک میں گورنر تھے، آخر ان کو گھر سے گرفتار کیا گیا۔ جس مخبر نے ان کو گرفتار کرایا تھا اس نے انکار کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں، فتویٰ جہاد پر جس نے دستخط کیے ہیں وہ یہ فضل حق ہیں یا کوئی اور ہیں ؟۔۔