🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟📚


السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی سامان کو نقد سو روپئے میں بیچنا اور اسی سامان کو ادھار ایک سو دس روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟
نیز سو روپئے کے پھٹے ہوئے نوٹ کو کچھ کمی کر کے (یعنی 90/95) میں دینا یا لینا از روۓ شرع کیسا ہے؟
سائل: ذیشان احمد دوست پور سلطانپور یوپی ہند

______♻️_______

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
الجواب الاول
کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا اور لینا جائز ہے۔

حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فوراً ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کردیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہوجائے گا
(📗فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 380/381ناشردارالاشاعت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی)

الجواب الثانی
سو کا نوٹ نوے 90 یا پنچانوے 95میں بیچنا لیناجانبین کی رضا سے جائز ہے۔

فقیہ ملت علیہ الرحمہ لکھتےہیں کہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "کفل الفقیہ الفاھم" میں تحریر فرماتے ہیں: یجوز بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا
یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوں اس کا بیچنا جائز ہے۔
(📕فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 383)

🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر۔

صح الجواب : محمد اسرار احمد نوری بریلوی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ🕯


اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی ارشد القادری تھا۔
آپ کے والد ماجد بحر الاسرار حضرت شاہ عبدالعلیم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سلسلۂ رشیدیہ کے سالک تھے، اسی وجہ سے آپ کا نام غلام رشید تجویز فرمایا۔ اور بعد میں ارشد القادری سے مشہور ہوئے۔
(رحمۃ اللہ علیہ)

تاریخ و مقامِ ولادت: اردو کے مشہور انشاء پر دراز رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رضوی موضع سید پور، ضلع بلیا میں 1924ء کو پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے ضلع کے مدارس اسلامیہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا اور وہاں پر حافظ ملت مولانا عبدالعزیز رضوی مراد آبادی کے مخصوص شاگرد رہے۔

بیعت و خلافت: حضرت علامہ ارشد القادری رضوی کو ارادت اور خلافت کا شرف مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی نے اجازت سے نوازا۔

سیرت و خصائص: رئیس القلم، مناظرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ ایک با وقار شخصیت کے حامل اور دین کا درد رکھنے والوں میں سے تھے۔ تکمیل درس کے بعد مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ کچھ عرصہ ناگپور میں بسلسلۂِ تدریس مقیم رہے۔ فیض العلوم، ادارۂ شریعہ بہار کا قیام حضرت علامہ ارشد القادری نے تقریباً 1954ء میں کیا۔ جمشید پور میں مشہور دیوبندی مولوی عبداللطیف اعظمی سے کامیاب مناظرہ کیا، اور پورے جمشید پور پر چھا گئے۔ ٹاٹا کمپنی سے زمین حاصل کر کے عظیم الشان فیض العلوم قائم کیا۔ 1388ھ میں سیوان، ضلع چھیرہ، صوبہ بہار میں صوبائی کانفرنس کا انعقاد اور اجلاس کے بطن سے پیدا شدہ ادارۂ شریعہ بہار علامہ ارشد القادری کی زندگی کا اہم کارنامہ ہے، ایک مست و سرشارِ بادۂِ حُبِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پورے بِہار کے سنی مسلمانوں کو ہوشیار و فرزانہ بنادیا ہے۔
1990ء؍1410ھ میں بھاگلپور کا فساد اور اس کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت، اس موقع پر ادارۂ شریعہ بِہار کی خدمات ہندوستان کے باشندوں پر روشن ہیں۔ علامہ ارشد القادری نے تن من دھن کی بازی لگا کر مسلمانوں کے ساتھ وہ تعاون کیا جس کی نظیر دوبارہ ملنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا دیدار بھی کرادیا۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے مدارس اور انجمنیں ان کی فعال اور متحرک ذہنیت کا زندہ ثبوت ہیں۔
جامِ کوثر اور جامِ نور علامہ ارشد القادری قوت عمل میں اپنی نظیر رکھتے ہیں۔ جامِ کوثر پندرہ روزہ اخبار کلکتہ سے نکالا، اس کے بعد جامِ نور جاری کیا۔ آپ منفرد اسلوب تحریر کے مالک ہیں، بلا مبالغہ آپ کو صاحبِ طرز انشاء پرداز کہا جا سکتا ہے۔ علامہ ارشد القادری کی ادیبانہ تحریر نے جامِ نور کو جو مقام دیا وہ مقام آج کل کے رسالوں میں نہیں پایا جاتا، مگر کچھ ناموافق حالات کی بنا پر جامِ نور بند ہوگیا۔

تاریخِ وصال: علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ 29 اپریل 2002ء کو ہوا۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ علماء اہلِ سنت۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM