This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 امجــــدی مضـــامین 📚*
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-
کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،
ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*
اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-
(البداية والنهاية، ج5، ص477)
*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-
(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)
*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-
(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)
*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-
(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)
*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص186، ر1378)
*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-
(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)
*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-
(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)
*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-
(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)
*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-
(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)
*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-
(ایضاً، ص530، ر1520)
*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-
*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-
(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)
*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-
(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)
*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-
(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)
ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بالکلیہ جھوٹ ہے.*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*🌻السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل.. محمد توفیق رضا خان قادری*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*🌻وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*📚الجواب اللہم ہدایةالحق والصواب*
*اس کے متعلق فقیہ اعظم ہند علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے*
*لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گھڑھت اور بالکلیہ جھوٹ ہے*
*ھکذافی*
*📘(فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص ٣٨)*
*🕯واللہ اعلم بالصواب🕯*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*✍🏻کتبہ✍🏻*
*حضرت علامہ و مولانا غلام شمس ملت سلطان رضا شمسی خادم التدریس مدرسہ شمسیہ فیض رضا لپٹولی نیپال*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*🌻السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل.. محمد توفیق رضا خان قادری*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*🌻وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*📚الجواب اللہم ہدایةالحق والصواب*
*اس کے متعلق فقیہ اعظم ہند علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے*
*لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گھڑھت اور بالکلیہ جھوٹ ہے*
*ھکذافی*
*📘(فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص ٣٨)*
*🕯واللہ اعلم بالصواب🕯*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
*✍🏻کتبہ✍🏻*
*حضرت علامہ و مولانا غلام شمس ملت سلطان رضا شمسی خادم التدریس مدرسہ شمسیہ فیض رضا لپٹولی نیپال*
◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بے اصل ہے.🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*
*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*
*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*
*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯
-----------------------------------------------------------
📚کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی سامان کو نقد سو روپئے میں بیچنا اور اسی سامان کو ادھار ایک سو دس روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟
نیز سو روپئے کے پھٹے ہوئے نوٹ کو کچھ کمی کر کے (یعنی 90/95) میں دینا یا لینا از روۓ شرع کیسا ہے؟
سائل: ذیشان احمد دوست پور سلطانپور یوپی ہند
______❣♻️❣_______
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
الجواب الاول
کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا اور لینا جائز ہے۔
حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فوراً ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کردیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہوجائے گا
(📗فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 380/381ناشردارالاشاعت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی)
الجواب الثانی
سو کا نوٹ نوے 90 یا پنچانوے 95میں بیچنا لیناجانبین کی رضا سے جائز ہے۔
فقیہ ملت علیہ الرحمہ لکھتےہیں کہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "کفل الفقیہ الفاھم" میں تحریر فرماتے ہیں: یجوز بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا
یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوں اس کا بیچنا جائز ہے۔
(📕فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 383)
🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر۔
✅صح الجواب : محمد اسرار احمد نوری بریلوی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
-----------------------------------------------------------
📚کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی سامان کو نقد سو روپئے میں بیچنا اور اسی سامان کو ادھار ایک سو دس روپئے میں بیچنا کیسا ہے؟
نیز سو روپئے کے پھٹے ہوئے نوٹ کو کچھ کمی کر کے (یعنی 90/95) میں دینا یا لینا از روۓ شرع کیسا ہے؟
سائل: ذیشان احمد دوست پور سلطانپور یوپی ہند
______❣♻️❣_______
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
الجواب الاول
کوئی سامان نقد سو روپئے میں اور وہی سامان ادھار ڈیڑھ سو روپئے میں بیچنا اور لینا جائز ہے۔
حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فوراً ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کردیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہوجائے گا
(📗فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 380/381ناشردارالاشاعت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی)
الجواب الثانی
سو کا نوٹ نوے 90 یا پنچانوے 95میں بیچنا لیناجانبین کی رضا سے جائز ہے۔
فقیہ ملت علیہ الرحمہ لکھتےہیں کہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "کفل الفقیہ الفاھم" میں تحریر فرماتے ہیں: یجوز بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا
یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوں اس کا بیچنا جائز ہے۔
(📕فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم کتاب البیوع صفحہ 383)
🔹واللہ اعلم و رسولہ🔹
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ مولانا ابوالاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مہاراشٹر۔
✅صح الجواب : محمد اسرار احمد نوری بریلوی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
ــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ