🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی ﷲ عنہ🕯*


*نام ونسب:*
اسمِ گرامی: سید علی۔
*کنیت:* ابومحمد، ابوالحسن۔
*لقب:* سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین۔
*سلسلہ نسب:* حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی: شہر بانو بنت یزگرد ہے۔

*تاریخِ ولادت:* آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم/ 38 ھ،بمطابق جنوری/659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے۔

*سیرتِ مبارکہ:* آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی ضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے " مرحبا یا حبیب ابن الحبیب"۔ سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا۔ (طبقات الحفاظ)

امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں۔( طبقات الحفّاظ ) اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے۔ ( طبقات ابن سعد ) ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہوسکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی۔جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہوجاتا، اورجسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے۔

*وصال:* آپ کاوصال 18/محرم الحرام 94 ھ،بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا۔جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے۔

*ماخذومراجع:* الصواعق المحرقہ۔ شریف التواریخ۔


*المرتب محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 امجــــدی مضـــامین 📚*
--------------------------------------------------------------
*🕯اذان بلال اور سورج کا نکلنا🕯*



📬 عوام الناس سے لے کر خواص تک ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان میں لکنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اذان کے کلمات کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے تھے؛ ایک مرتبہ آپ کو اذان دینے سے روکا گیا اور جب آپ نے اذان نہیں دی تو سورج ہی نہیں نکلا!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال کی "سین" اللہ تعالی کے نزدیک "شین" ہے-
اس واقعے کو کچھ مقررین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بھی ایسی مسالے دار روایات سننے میں بڑا مزا آتا ہے-

کئی معتبر علما نے اس روایت کا رد کیا ہے اور اسے موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مقررین اپنی عادت سے مجبور ہیں- مقررین کی پیشہ ورانہ مجبوری اُنھیں ایسی روایات چھوڑنے نہیں دیتی،

ع *ذرا سا جھوٹ ضروری ہے داستاں کے لیے*


اس روایت کے متعلق علمائے محققین کی آرا ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:

*(1)* امام ابن کثیر (م774ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے-

(البداية والنهاية، ج5، ص477)

*(2)* امام شیخ عبد الرحمن سخاوی (م904ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد برہان سفاقسی کے حوالے سے علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبانوں پر تو مشہور ہے لیکن ہم نے کسی بھی کتاب میں اسے نہیں پایا-

(المقاصد الحسنة، ص190، ر221)


*(3)* امام سخاوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور اسی طرح علامہ جمال الدین المزی کا قول گزر چکا-

(ایضاً، ص397، ر582، ملتقطاً)


*(4)* علامہ عبد الوہاب شعرانی (م973ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اصول میں ہم نے اس بارے میں کوئی تائید نہیں دیکھی-

(البدر المنیر فی غریب احادیث البشیر والنذیر، ص117، ر915 بہ حوالہ جمال بلال)


*(5)* علامہ شعرانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-

(ایضاً، ص186، ر1378)


*(6)* امام ملا علی قاری حنفی (م1014ھ) نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے-

(الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الکبری، ص140 ،ر76)


*(7)* علامہ بدر الدین زرکشی (م794ھ) اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حافظ جمال الدین المزی فرماتے ہیں کہ یہ روایت عوام کی زبان پر تو مشہور ہے لیکن اس بارے میں ہم نے امہات الکتب میں کچھ بھی نہیں دیکھا اور اس روایت کے بارے میں شیخ برہان الدین سفاقسی کا بھی یہی قول ہے-

(اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشھورۃ، ص207، 208)


*(8)* علامہ ابن المبرد المقدسی (م909ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد علامہ جمال الدین المزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ مستند کتب میں اس کا کوئی وجود نہیں-

(التخریج الصغیر والتحبیر الکبیر، ص109، ر554)


*(9)* علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی (م1162ھ) اس روایت کو لکھنے کے بعد امام جلال الدین سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ امہات الکتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور امام ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں اور علامہ جمال الدین المزی سے نقل کرتے ہوئے شیخ برہان سفاقسی فرماتے ہیں کہ عوام کی زبان پر تو ایسا مشہور ہے لیکن اصل کتب میں ایسا کچھ بھی وارد نہیں ہوا-

(کشف الخفاء و مزیل الالباس، ص260، ر695)


*(10)* علامہ عجلونی مزید لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں-

(ایضاً، ص530، ر1520)

*(11 تا 15)* اس روایت کا رد ان کتب میں بھی موجود ہے:
"تمیز الطیب من الخبیث"، "تذکرۃ الموضوعات للھندی"، "الدرر المنتثرۃ للسیوطی"، "الفوائد للکرمی"، "اسنی المطالب"-


*(16)* علامہ شریف الحق امجدی (م1421ھ) لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج2 ،ص38)


*(17)* علامہ عبد المنان اعظمی (م1434ھ) لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان سے معزول کرنے کا ذکر ہم کو نہیں ملا بلکہ عینی جلد پنجم، صفحہ نمبر 108 میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر اور حضر ہر دو حال میں اذان دیتے اور یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ دونوں حضرات کی آخری زندگی تک مؤذن رہے-

(فتاوی بحر العلوم، ج1، ص109)


*(18)* مولانا غلام احمد رضا لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ موضوع و منگھڑت ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے کلمات اذان صحیح (طور پر) ادا نہیں ہو پاتے تھے-

(ملتقطاً: فتاوی مرکز تربیت افتا، ج2، ص647)


ان دلائل کے بعد اب اس روایت کے موضوع و منگھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-


عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و ح
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بالکلیہ جھوٹ ہے.*

◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆

*🌻السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل.. محمد توفیق رضا خان قادری*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆

*🌻وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ*

*📚الجواب اللہم ہدایةالحق والصواب*
*اس کے متعلق فقیہ اعظم ہند علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے*
*لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گھڑھت اور بالکلیہ جھوٹ ہے*
*ھکذافی*
*📘(فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص ٣٨)*

*🕯واللہ اعلم بالصواب🕯*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
*✍🏻کتبہ✍🏻*
*حضرت علامہ و مولانا غلام شمس ملت سلطان رضا شمسی خادم التدریس مدرسہ شمسیہ فیض رضا لپٹولی نیپال*
◆ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆
*🕯حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان نہ دینے کا واقعہ بے اصل ہے.🕯*


*اَلسَــلامُ عَلَيْـكُم وَرَحْمَـةُ اَللهِ وَبَـرَكاتُــهُ‎*
*📜سوال.. حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آذان کے تعلق سے جو پوسٹ تھی وہ اگر مل جائے تو مہربانی ہوگی*
*سائل:👈🏻محمد توفیق رضا خان*
*✧ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ـــــــــــــــــــــــــــ✧*

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*📚الجــــواب👇🏻*
*حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ حضرات نے ان کی اذان پر اعتراض کیا کہ وہ شین کو سین کہتے ہیں..*
*تو حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں معزول کر دیا اور کسی دوسرے صاحب نے اذان دی تو صبح نہ ہوئ*
*جب اذان حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دی تب صبح ہوئ.*

*یہ واقعہ بے اصل ہے مستند و معتبر حدیث و تاریخ کی کتابوں میں کہیں نہیں جو صاحب بیان کریں ان سے معلوم کرنا چاہیۓ کہ انہوں نے یہ واقعہ کہاں دیکھا.*
*اور یہ حدیث کہ حضرت رسول پاک ﷺ نے فرمایا👇*
*(سین بلال عنداللہ شین)*
*بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے*
*اس حدیث کو حضرت مولانا قاری علی مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گڑھی ہوئ فرمایا"*

*بحــــوالہ👇*
*📚(موضوعات کبیر ص/43)*
*📚(فتاویٰ بحرالعلوم ج/5 ص/380)*

*واللہ تعالیٰ اعلــم بــاالصـــوابـــــ*

*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*

*📝شــــرف قلـــــم📝*
*حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد آفتاب عالم رحمتی دہلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب و امام جامع مسجد مہا سموند (چھتیس گڑھ)*
*رابطہ کریں:+917860124553*