’’تفسیر کبیر‘‘میں ہے:ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے ایک اَعرابی کو مسجد کے دروازے پر آتا دیکھا،وہ اونٹنی سے اُترا اور اُسے وہیں چھوڑ کر مسجد میں داخل ہو کر سکون و اطمینان سے نماز میں مشغول ہوگیا،پھر دُعا کرنے لگا،جب وہ باہَر نکلا تو اونٹنی نہ پاکر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگا:یا الٰہی ! میں نے تیری امانت ادا کردی ! میری امانت کہاں ہے؟
راوی کہتے ہیں:ہم حیران رہ گئے کہ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک آدمی اونٹنی پر آیا اور اونٹنی اس کے حوالے کر دی۔
(تفسیر کبیر،جلد 1،صفحہ 257،دار الکتب العلمیہ بیروت)
https://www.facebook.com/100002760334407/posts/3918097194958920/
راوی کہتے ہیں:ہم حیران رہ گئے کہ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک آدمی اونٹنی پر آیا اور اونٹنی اس کے حوالے کر دی۔
(تفسیر کبیر،جلد 1،صفحہ 257،دار الکتب العلمیہ بیروت)
https://www.facebook.com/100002760334407/posts/3918097194958920/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM