تفسیر کبیر میں ہے:ایک حبشی غلام جو امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتہائی مخلص محب تھا،شامتِ اعمال سے اس نے ایک مرتبہ چوری کر لی، لوگوں نے اس کو پکڑ کر دربار خلافت میں پیش کر دیا اور غلام نے اپنے جرم کا اقرار بھی کر لیا۔امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔جب وہ اپنے گھر کو روانہ ہوا تو راستہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن الکرا سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ابن الکرا نے پوچھا کہ تمہارا ہاتھ کس نے کاٹا ؟ تو غلام نے کہا :امیر المؤمنین ویعسوب المسلمین،داماد رسول وزوج بتول نے۔
ابن الکرا نےکہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہارا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر بھی تم اس قدر اعزاز و اکرام اور مدح و ثناء کے ساتھ انکا نام لیتے ہو؟ غلام نے کہا کہ کیا ہوا؟انہوں نے حق پر میرا ہاتھ کاٹا اور مجھے عذاب جہنم سے بچا لیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی گفتگو سنی اور امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس غلام کو بلوا کر اس کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی کلائی پر رکھ کر رومال سے چھپا دیا پھر کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی کہ رومال ہٹاؤ جب لوگوں نے رومال ہٹایا تو غلام کا کٹا ہوا ہاتھ اس طرح کلائی سے جڑ گیا تھا کہ کہیں کٹنے کا نشان بھی نہیں تھا۔
(تفسیر کبیر،جلد 21،22،صفحہ 92،دار الکتب العلمیہ،بیروت)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3918263448275628&id=100002760334407
ابن الکرا نےکہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمہارا ہاتھ کاٹ ڈالا پھر بھی تم اس قدر اعزاز و اکرام اور مدح و ثناء کے ساتھ انکا نام لیتے ہو؟ غلام نے کہا کہ کیا ہوا؟انہوں نے حق پر میرا ہاتھ کاٹا اور مجھے عذاب جہنم سے بچا لیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی گفتگو سنی اور امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس غلام کو بلوا کر اس کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی کلائی پر رکھ کر رومال سے چھپا دیا پھر کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی کہ رومال ہٹاؤ جب لوگوں نے رومال ہٹایا تو غلام کا کٹا ہوا ہاتھ اس طرح کلائی سے جڑ گیا تھا کہ کہیں کٹنے کا نشان بھی نہیں تھا۔
(تفسیر کبیر،جلد 21،22،صفحہ 92،دار الکتب العلمیہ،بیروت)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3918263448275628&id=100002760334407
’’تفسیر کبیر‘‘میں ہے:ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے ایک اَعرابی کو مسجد کے دروازے پر آتا دیکھا،وہ اونٹنی سے اُترا اور اُسے وہیں چھوڑ کر مسجد میں داخل ہو کر سکون و اطمینان سے نماز میں مشغول ہوگیا،پھر دُعا کرنے لگا،جب وہ باہَر نکلا تو اونٹنی نہ پاکر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگا:یا الٰہی ! میں نے تیری امانت ادا کردی ! میری امانت کہاں ہے؟
راوی کہتے ہیں:ہم حیران رہ گئے کہ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک آدمی اونٹنی پر آیا اور اونٹنی اس کے حوالے کر دی۔
(تفسیر کبیر،جلد 1،صفحہ 257،دار الکتب العلمیہ بیروت)
https://www.facebook.com/100002760334407/posts/3918097194958920/
راوی کہتے ہیں:ہم حیران رہ گئے کہ تھوڑی ہی دیر کے بعد ایک آدمی اونٹنی پر آیا اور اونٹنی اس کے حوالے کر دی۔
(تفسیر کبیر،جلد 1،صفحہ 257،دار الکتب العلمیہ بیروت)
https://www.facebook.com/100002760334407/posts/3918097194958920/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM