(46) امینُ الفتویٰ مفتی شفیع احمدبیسلپوری مُدَرِّس،واعِظ،مفتیٔ اسلام اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت ہیں،شعبان1301ھ بیسل پور (پیلی بھیت،یوپی) ہند میں پیدا ہوئے، عین عالمِ جوانی میں محض 37 سال کی مختصر عمر میں24 رمضان جمعۃُ الوداع 1338ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک بیسل پورمیں ہے۔ (مجالسِ علماء، ص75۔ تذکرہ محدث سورتی،ص288)
(47)استاذالعُلَماء حضرت علامہ مفتی شمس الدین احمد باسنوی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ کو کمہاری نزدباسنی ، ناگور راجستھان میں ہوئی ،آپ عالمِ باعمل ،جیّدمدرس ،مفتی اسلام ،خطیب احمدشہیدمسجدکمہاری ،عاشقِ کتب اورشیخِ طریقت تھے۔ 27رجب 1357ھ کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا،تدفین مزارِحضرت بالاپیرحسن سے جانب مغرب ہوئی ۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 463تا470)
(48)شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمَعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوریعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جیّد مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرّمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂِ مزارِ حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔ (قانون شریعت ،19تا21،تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت ،198)
(49)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیّدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور ”الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ“ آپکے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578)
ص
(50)مفتیِ اَعظم مکہ ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حَنَفِی قادری کی ولادت63 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا ،مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دَفْن کئے گئے۔آپ علامہِ دَہْر،حافِظ وقاری، مُدَرِّسِ مسجدِحَرَم، قاضیِ جَدَّہ، شیخُ الخُطَباوَالْاَئِمہ،اُستاذُالْعُلَما اورمکہ شریف کی مُؤَثِّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمَین برجف ندوۃ المین ،الدَوْلَۃُ الْمَکِّیۃ،حُسام الحَرَمین، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمْ پر تَقارِیْظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 305)
ض
(51) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت1294ھ کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4ذوالحجہ 1401ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم باعمل ،ولیِ کامل ،حسنِ اخلاق کے پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی ،اپنے مکان عالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(52) استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہانپور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثّر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)
ظ
(53)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )
(54) قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی ظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂِ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔ (سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151)
ع
(55)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدُنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم اور کئی کُتُب کےمصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا
(47)استاذالعُلَماء حضرت علامہ مفتی شمس الدین احمد باسنوی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ کو کمہاری نزدباسنی ، ناگور راجستھان میں ہوئی ،آپ عالمِ باعمل ،جیّدمدرس ،مفتی اسلام ،خطیب احمدشہیدمسجدکمہاری ،عاشقِ کتب اورشیخِ طریقت تھے۔ 27رجب 1357ھ کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا،تدفین مزارِحضرت بالاپیرحسن سے جانب مغرب ہوئی ۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 463تا470)
(48)شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمَعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوریعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جیّد مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرّمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂِ مزارِ حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔ (قانون شریعت ،19تا21،تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت ،198)
(49)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیّدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور ”الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ“ آپکے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578)
ص
(50)مفتیِ اَعظم مکہ ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حَنَفِی قادری کی ولادت63 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا ،مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دَفْن کئے گئے۔آپ علامہِ دَہْر،حافِظ وقاری، مُدَرِّسِ مسجدِحَرَم، قاضیِ جَدَّہ، شیخُ الخُطَباوَالْاَئِمہ،اُستاذُالْعُلَما اورمکہ شریف کی مُؤَثِّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمَین برجف ندوۃ المین ،الدَوْلَۃُ الْمَکِّیۃ،حُسام الحَرَمین، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمْ پر تَقارِیْظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 305)
ض
(51) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت1294ھ کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4ذوالحجہ 1401ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم باعمل ،ولیِ کامل ،حسنِ اخلاق کے پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی ،اپنے مکان عالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(52) استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہانپور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثّر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)
ظ
(53)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )
(54) قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی ظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂِ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔ (سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151)
ع
(55)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدُنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم اور کئی کُتُب کےمصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا
محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 129-136)
(56)سلطان الواعِظِیْن حضرت علامہ مولانا عبدُالاَحد مُحَدِّث پیلی بھیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مجازِ طریقت، استاذُالعُلَماء اور واعِظِ خوش بیاں تھے۔ 1298ھ میں پیلی بَھیت (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنْج مرادآباد(ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کیے گئے۔(تذکرہ محدث سورتی،209تا218)
(57) مُحبّ اعلیٰ حضرت الحاج سیدعبدالرزاق رضوی ہندکی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کٹنی کی صاحب ثروت شخصیت اورمَجازِطریقت تھے، مَزارِاعلیٰ حضرت تعمیرکمیٹی کے رُکْن بنائے گئے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص446تا447)
(58)امامِ تراویح و مدرّسِ مسجدِ حرام حضرت سیّدنا شیخ عبدُالرحمن بن احمد دھان مکی حنفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، ماہرِ فلکیات، استاذُ العُلَماء، مقبولِ عوام وخواص اور مقرِّظِ الدّولۃُ المَکّیۃ وحُسّامُ الحَرَمَین ہیں۔ مکّۂ مکرَّمہ میں 1283ھ کو پیدا ہوئے اور 12 ذوالقعدۃ الحرام 1337ھ کو وصال فرمایا، قبرستان المعلیٰ میں دھان خاندان کے احاطے میں دفن کئے گئے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص241۔ امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص205تا211)
(59) مسندالعصر، حضرت شیخ سیِّدعبدالرحمن بن سید عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی کی ولادت1338ھ کو ہوئی ، اعلیٰ حضرت نے27ذوالحجہ 1323ھ کو مکہ مکرمہ میں ان کے والداورانہیں خلافت سے نوازا ۔شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے ان سے اجازت پائی ، کتاب نيل الأماني بفهرسة مسند العصر عبد الرحمن میں ان کے مشائخ میں اعلیٰ حضرت کا نام بھی درج ہے ۔(الاجازت المتینہ،ص41،تذکرہ سنوسی مشائخ ،109،215)
(60)مخدومِ ملّت حضرت مولاناسیّد عبدالرحمٰن رضوی گیاوی بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی عالمِ دین،فتاویٰ نویس، مدرس اورشیخِ طریقت تھے ،آپ کی ولادت 1294ھ کو بیتھوشریف(ضلع گیاصوبہ بہار) ہند میں ہوئی، خانقاہ رحمانیہ کیری شریف(ضلع بانکا،صوبہ بہار) ہند میں13ذوالحجہ 1392ھ کووصال فرمایا ،مزار مبارک یہیں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضر ت ،418تا 421)
(64)عمیدالعلماء، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جے پوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مؤ ناتھ بھنجن (ضلع مؤ،یوپی) ہند میں ہوئی اور 12 جمادی الاخریٰ 1370 ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین تکیہ آدم شاہ (آگرہ روڈ،جے پور،راجستھان)ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل ،مدرس،بانی دارالعلوم بحرالعلوم مؤ ناتھ بھنجن، شیخِ طریقت اورولی کامل تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 475تا479)
(62)حضرت مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-959-965)
(63)عالمِ جَلیل حضرت مولاناعبدالجبارقادری رضوی ڈھاکہ (بنگلادیش )میں پیداہوئے اوریہیں وِصال فرمایا ۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اور اچھے عالم دین تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص2تا669)
(64)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل،صُوفی، مُصَنِّف اوریادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11)
(65)اُستاذالعُلَما،حضرت مولانا مفتی عبد الحق پنجابی محدث پیلی بھیتی کی ولادت محلہ پنجابیاں پیلی بھیت ( یوپی) ہند میں ہوئی۔یہیں75 سال کی عمر میں 1361 ھ کووِصال فرمایا۔ آپ فاضل مدرستہ الحدیث پیلی بھیت،ذَہین وفَطین عالمِ دین، اوراد و وظائف کے پابند،بہترین مُدَرِّس اورپیلی بھیت کے چاروں مَدارِس مَدْرَسہ الحدیث ،مَدْرَسہ حافظیہ ،مَدْرَسہ رحمانیہ اور مَدْرَسہ آستانہ شیریہ میں تدریسی خدمات سَراَنْجام دینے والے تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ،ص180۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص252)
(66)استاذالعُلَماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباً 1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کوہوا۔تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں ہوئی۔آپ ذہین وفطین عالمِ دین، جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدثِ سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص253)
(56)سلطان الواعِظِیْن حضرت علامہ مولانا عبدُالاَحد مُحَدِّث پیلی بھیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مجازِ طریقت، استاذُالعُلَماء اور واعِظِ خوش بیاں تھے۔ 1298ھ میں پیلی بَھیت (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنْج مرادآباد(ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کیے گئے۔(تذکرہ محدث سورتی،209تا218)
(57) مُحبّ اعلیٰ حضرت الحاج سیدعبدالرزاق رضوی ہندکی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کٹنی کی صاحب ثروت شخصیت اورمَجازِطریقت تھے، مَزارِاعلیٰ حضرت تعمیرکمیٹی کے رُکْن بنائے گئے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص446تا447)
(58)امامِ تراویح و مدرّسِ مسجدِ حرام حضرت سیّدنا شیخ عبدُالرحمن بن احمد دھان مکی حنفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، ماہرِ فلکیات، استاذُ العُلَماء، مقبولِ عوام وخواص اور مقرِّظِ الدّولۃُ المَکّیۃ وحُسّامُ الحَرَمَین ہیں۔ مکّۂ مکرَّمہ میں 1283ھ کو پیدا ہوئے اور 12 ذوالقعدۃ الحرام 1337ھ کو وصال فرمایا، قبرستان المعلیٰ میں دھان خاندان کے احاطے میں دفن کئے گئے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص241۔ امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص205تا211)
(59) مسندالعصر، حضرت شیخ سیِّدعبدالرحمن بن سید عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی کی ولادت1338ھ کو ہوئی ، اعلیٰ حضرت نے27ذوالحجہ 1323ھ کو مکہ مکرمہ میں ان کے والداورانہیں خلافت سے نوازا ۔شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے ان سے اجازت پائی ، کتاب نيل الأماني بفهرسة مسند العصر عبد الرحمن میں ان کے مشائخ میں اعلیٰ حضرت کا نام بھی درج ہے ۔(الاجازت المتینہ،ص41،تذکرہ سنوسی مشائخ ،109،215)
(60)مخدومِ ملّت حضرت مولاناسیّد عبدالرحمٰن رضوی گیاوی بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی عالمِ دین،فتاویٰ نویس، مدرس اورشیخِ طریقت تھے ،آپ کی ولادت 1294ھ کو بیتھوشریف(ضلع گیاصوبہ بہار) ہند میں ہوئی، خانقاہ رحمانیہ کیری شریف(ضلع بانکا،صوبہ بہار) ہند میں13ذوالحجہ 1392ھ کووصال فرمایا ،مزار مبارک یہیں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضر ت ،418تا 421)
(64)عمیدالعلماء، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جے پوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مؤ ناتھ بھنجن (ضلع مؤ،یوپی) ہند میں ہوئی اور 12 جمادی الاخریٰ 1370 ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین تکیہ آدم شاہ (آگرہ روڈ،جے پور،راجستھان)ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل ،مدرس،بانی دارالعلوم بحرالعلوم مؤ ناتھ بھنجن، شیخِ طریقت اورولی کامل تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 475تا479)
(62)حضرت مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-959-965)
(63)عالمِ جَلیل حضرت مولاناعبدالجبارقادری رضوی ڈھاکہ (بنگلادیش )میں پیداہوئے اوریہیں وِصال فرمایا ۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اور اچھے عالم دین تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص2تا669)
(64)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل،صُوفی، مُصَنِّف اوریادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11)
(65)اُستاذالعُلَما،حضرت مولانا مفتی عبد الحق پنجابی محدث پیلی بھیتی کی ولادت محلہ پنجابیاں پیلی بھیت ( یوپی) ہند میں ہوئی۔یہیں75 سال کی عمر میں 1361 ھ کووِصال فرمایا۔ آپ فاضل مدرستہ الحدیث پیلی بھیت،ذَہین وفَطین عالمِ دین، اوراد و وظائف کے پابند،بہترین مُدَرِّس اورپیلی بھیت کے چاروں مَدارِس مَدْرَسہ الحدیث ،مَدْرَسہ حافظیہ ،مَدْرَسہ رحمانیہ اور مَدْرَسہ آستانہ شیریہ میں تدریسی خدمات سَراَنْجام دینے والے تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ،ص180۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص252)
(66)استاذالعُلَماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباً 1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کوہوا۔تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں ہوئی۔آپ ذہین وفطین عالمِ دین، جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدثِ سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص253)
(67)عالمِ جلیل، حضرت شیخ سیِّد عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ فاس مغرب (یعنی مراکش) میں ہوئی۔ 12 رجب 1382ھ کو وصال فرمایا۔ نیس(Nice) فرانس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ آپ مُحَدِّث عرب وعجم، عالمِ باعمل، کئی کتب کے مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کی کتاب”فِہْرِسُ الفہارس“ علمائے سِیَر(علمائے سیرت)میں معروف ہے۔ (نظامِ حکومتِ نبویہ مترجم، ص 27، الاعلام للزرکلی، 6/187)
(68)مجازِطریقت حضرت الحاج عبدالسّتّاراسماعیل کاٹھیاواڑی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی رنگون (برما)کی صاحب ثروت اوردینی حمیت سے مالامال شخصیت کے مالک اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں سے تھے۔رنگون پھرافریقہ میں مسلک حق اہلِ سنّت کی خوب اشاعت کی ،آپ کا وصال غالباً 19شوال 1354ھ کو افریقہ میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،515تا516،تذکرہ مشاہیرالفقیہ ،115)
(69)حضرت مولانا عبدالستارصدیقی دہلوی مکی حنفی چشتی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مکہ مکرمہ میں1286 کو ہوئی اوریہیں11رجب 1355ھ کو وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، فاضل مدرسہ صولتیہ، مدرس مسجدِحرام ،امام تراویح فی الحرم ، محدِّثِ وقت،مؤرخ ،مجازِطریقت اورکئی کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی 35کتب میں فيض الملك المتعاليآپ کی مشہورکتاب ہے۔انھوں نے 18ذوالحجہ 1323ھ کو اعلیٰ حضرت سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ( فيض الملك المتعالی،9/1 تا47، نثرالجواہروالدرر،708/1۔710)
(70)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد عبدالسَّلام باندوی قادری علیہ رحمۃ اللہ البارِی ، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزارِ مبارک پا پوش قبرستان ناظم آباد کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)
(71)عیدُالاسلام،حضرت مولانامفتی حافظ عبدالسلام رضوی جبل پوری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت1283 ھ میں جبل پور (ایم پی ، ہند) میں ہوئی ،تعلیم والدِگرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مریدو خلیفہ ہیں ،جبل پور میں دارُالافتاء عیدُالاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ کو جبل پورمیں وصال فرمایا، مزار شریف مشہورہے۔(برہان ملت کی حیات وخدمات، ص 28تا37)
(72)استاذالعُلَماء،حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت بجنور (یوپی، ہند) میں ہوئی، آپ عالم، مدرس اور شیخِ طریقت تھے، جامعہ منظر اسلام بریلی میں طویل عرصہ تدریس کی،8جمادی الاولیٰ 1369ھ میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص181)
(73)مُبلّغِ اسلام، حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی مِیرَٹھیرحمۃ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائدکتب کے مصنف ،شُعْلہ بیان خطیب،متعد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظررکھنے والے عالمِ دین تھے، انہوں نے دنیا کے کئی مَمَالِک کاسفرکیا، ان کی کوشِشوں سے صاحبِ اِقتدارحضرات سمیت تقریباً پچاس ہزار(50,000)غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے ۔آپ 1310ھ کو میرٹھ(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجۃ الحرام 1374ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا، تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص236تا242)
(74)عالمِ باعمل علاّمہ قاضی حافظ عبد الغفورقادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ ،قاضی اعوان خاندان کے چشم وچراغ،فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، استاذُ العُلَماء، آرمی خطیب (فیروزپورچھاؤنی) اور صاحبِ تصنیف ہیں، 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 15رجب المرجب 1371 ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پنجہ شریف (نزد مٹھا ٹوانہ ضلع خوشاب، پنجاب) پاکستان میں ہوئی، آپ کے دو رسائل تحفۃ العلماء اور عمدۃ البیان مطبوع ہیں۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، 366، عقیدۂ ختم النبوۃ، 13/507، 541 )
(75) حافظُ المسائل حضرت علّامہ عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدّث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف، شیخِ طریقت اور فعّال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر 2014ء، ص20)
(76)رئیس مکہ مکرّمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂِ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اوروہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 67)
(68)مجازِطریقت حضرت الحاج عبدالسّتّاراسماعیل کاٹھیاواڑی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی رنگون (برما)کی صاحب ثروت اوردینی حمیت سے مالامال شخصیت کے مالک اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں سے تھے۔رنگون پھرافریقہ میں مسلک حق اہلِ سنّت کی خوب اشاعت کی ،آپ کا وصال غالباً 19شوال 1354ھ کو افریقہ میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،515تا516،تذکرہ مشاہیرالفقیہ ،115)
(69)حضرت مولانا عبدالستارصدیقی دہلوی مکی حنفی چشتی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مکہ مکرمہ میں1286 کو ہوئی اوریہیں11رجب 1355ھ کو وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، فاضل مدرسہ صولتیہ، مدرس مسجدِحرام ،امام تراویح فی الحرم ، محدِّثِ وقت،مؤرخ ،مجازِطریقت اورکئی کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی 35کتب میں فيض الملك المتعاليآپ کی مشہورکتاب ہے۔انھوں نے 18ذوالحجہ 1323ھ کو اعلیٰ حضرت سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ( فيض الملك المتعالی،9/1 تا47، نثرالجواہروالدرر،708/1۔710)
(70)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد عبدالسَّلام باندوی قادری علیہ رحمۃ اللہ البارِی ، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزارِ مبارک پا پوش قبرستان ناظم آباد کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)
(71)عیدُالاسلام،حضرت مولانامفتی حافظ عبدالسلام رضوی جبل پوری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت1283 ھ میں جبل پور (ایم پی ، ہند) میں ہوئی ،تعلیم والدِگرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مریدو خلیفہ ہیں ،جبل پور میں دارُالافتاء عیدُالاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ کو جبل پورمیں وصال فرمایا، مزار شریف مشہورہے۔(برہان ملت کی حیات وخدمات، ص 28تا37)
(72)استاذالعُلَماء،حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت بجنور (یوپی، ہند) میں ہوئی، آپ عالم، مدرس اور شیخِ طریقت تھے، جامعہ منظر اسلام بریلی میں طویل عرصہ تدریس کی،8جمادی الاولیٰ 1369ھ میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص181)
(73)مُبلّغِ اسلام، حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی مِیرَٹھیرحمۃ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائدکتب کے مصنف ،شُعْلہ بیان خطیب،متعد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظررکھنے والے عالمِ دین تھے، انہوں نے دنیا کے کئی مَمَالِک کاسفرکیا، ان کی کوشِشوں سے صاحبِ اِقتدارحضرات سمیت تقریباً پچاس ہزار(50,000)غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے ۔آپ 1310ھ کو میرٹھ(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجۃ الحرام 1374ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا، تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص236تا242)
(74)عالمِ باعمل علاّمہ قاضی حافظ عبد الغفورقادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ ،قاضی اعوان خاندان کے چشم وچراغ،فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، استاذُ العُلَماء، آرمی خطیب (فیروزپورچھاؤنی) اور صاحبِ تصنیف ہیں، 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 15رجب المرجب 1371 ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پنجہ شریف (نزد مٹھا ٹوانہ ضلع خوشاب، پنجاب) پاکستان میں ہوئی، آپ کے دو رسائل تحفۃ العلماء اور عمدۃ البیان مطبوع ہیں۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، 366، عقیدۂ ختم النبوۃ، 13/507، 541 )
(75) حافظُ المسائل حضرت علّامہ عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدّث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف، شیخِ طریقت اور فعّال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر 2014ء، ص20)
(76)رئیس مکہ مکرّمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂِ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اوروہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 67)
(77)شَیخُ الخُطَباء و الاَئِمّہ، امام الحرم حضرت سیّدنا شیخ عبدُاللہ ابو الخیر مِرداد مکّی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1285ھ کو مکّہ شریف میں ہوئی اور شہادت طائف میں (غالباً یکم صفر) 1343ھ کو ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، حنفی فقیہ، مؤرّخ، مصنف، مدرس اور مکّہ شریف کی مؤثر شخصیت تھے۔ علمائے مکّہ کے حالات و کرامات پر مشتمل ضخیم کتاب ”نشر النّور والزھر“ آپ کی یادگار ہے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص31، اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماءِ مکّۂ مکرمہ، ص21،89)
(78) سیاحِ مَمَالِکِ اِسلامیہ حضرت شیخ سیّدعبداللہ بن صدقہ دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت91 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اور وِصال 10صفر1363ھ کوقاروت (Garut) صوبہ جاوا مغربی انڈو نیشا میں فرمائی۔آپ امام الحرم،ماہرعلم فلکیات، فقیہ اسلام، مقبول خاص وعام،کئی مَساجد،مَدارِس اور تنظیمات کے بانی تھے ۔(سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص198)
(79) شہزادہ رئیس مکہ شیخ عبداللہ فرید مکی کُرْدِی رئیسِ مکہِ مکرمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی کے فرزند ارجمند تھے ،ان کو اعلیٰ حضرت نے 9صفرالمظفر1324ھ کو خلافت سے نواز ا۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69)
(80)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83)
(81) استاذالعلماحضرت مولاناعلامہ قاضی حافظ عبدالواحد رضوی کی ولادت 1302ھ کوعلاقہ امازئی گڑھی کپورہ ضلع مردان (خیبرپختون خواہ )پاکستان کے علمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 14ربیع الاول1381ھ کووصال فرمایا،تدفین گھڑی امازئی کے سنڈاسرقبرستان میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،عالم باعمل ،زاہدوعبادت گزار، امام و خطیب جامع مسجدمیاں گان اوربانی مدرسہ تعلیم الاسلام ہیں۔ (حیات خلیفہ اعلیٰ حضرت مولوی عبدالواحد الرضوی، ص،24، 63، 42، 44)
(82)مجاہدِدین وملت حضرت مولاناقاضی عبدالوحید فردوسی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 1289 ھ عظیم آبادپٹنہ بہار ہندمیں ہوئی ،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت ،بہترین واعظ ،نعت گوشاعر ،مفکروراہنماتھے ، آپ نے مجلسِ عالی حمایت سنّتِ محمدی بنائی ،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلسنت وجماعت (مطبع حنفیہ )کا آغازکیا ،دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسہ اہلسنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔آپ کاوصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوااور درگاہِ حضرت پیرجگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ (بہار)ہندمیں دفن کئے گئے۔( سالنامہ معارف رضا2005 ء ، 251،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص191،تذکرہ علمائے اہلسنت ص153)
(83)تِلمیذِ اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الحسن خان رضوی پھپھوندی کی ولادت با سعادت قصبہ پھپھوند ( ضلع اٹاوہ) ہند میں ہوئی اور1362 ھ کو وِصال فرمایا، تدفین قصبہ پھپھوند شریف (Phaphund،ضلع اوریا،اترپردیش) ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام ، علم وعمل کے جامع اورپیکراخلاص وتقوی تھے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،ص183۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص183، تذکرہ محدث سورتی ص 256)
(84) خلیفہ وتِلمیذِ اعلیٰ حضرت، حضرت مولاناحکیم مفتی سید عزیز غوث بریلوی قادری رضوی کی ولادت با سعادت بریلی شریف (یوپی)ہند میں ہوئی۔ 1363ھ کو وِصال فرمایااور بریلی شریف (یوپی)ہندمیں آسودۂ خاک ہوئے۔آپ اولین فاضلِ دارالعلوم منظر اسلام، مفتی اسلام اورجَیِّدعالمِ دین تھے۔(جہان مفتیٔ اعظم ص1075،تذکرۂ علمائے اہل سنت ص 183،ماہنامہ اعلیٰ حضرت صدسالہ منظراسلام نمبرقسط1،مئی 2001 ص243 )
(85)عالم جلیل،حضرت سید علوی بن حسن الکاف حضرمی علوی خاندن کے چشم چراغ تھے۔ ( الاجازت المتینۃ، ص46 )
(86)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس)تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنّت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26)
(87)حضرت صوفی عنایت حسین قادری رضوی مُریدو خلیفہ اعلیٰ حضرت اوربریلی شریف (یوپی)ہندکے رہنے والے تھے۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ،ص107)
(78) سیاحِ مَمَالِکِ اِسلامیہ حضرت شیخ سیّدعبداللہ بن صدقہ دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت91 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اور وِصال 10صفر1363ھ کوقاروت (Garut) صوبہ جاوا مغربی انڈو نیشا میں فرمائی۔آپ امام الحرم،ماہرعلم فلکیات، فقیہ اسلام، مقبول خاص وعام،کئی مَساجد،مَدارِس اور تنظیمات کے بانی تھے ۔(سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص198)
(79) شہزادہ رئیس مکہ شیخ عبداللہ فرید مکی کُرْدِی رئیسِ مکہِ مکرمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی کے فرزند ارجمند تھے ،ان کو اعلیٰ حضرت نے 9صفرالمظفر1324ھ کو خلافت سے نواز ا۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69)
(80)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83)
(81) استاذالعلماحضرت مولاناعلامہ قاضی حافظ عبدالواحد رضوی کی ولادت 1302ھ کوعلاقہ امازئی گڑھی کپورہ ضلع مردان (خیبرپختون خواہ )پاکستان کے علمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 14ربیع الاول1381ھ کووصال فرمایا،تدفین گھڑی امازئی کے سنڈاسرقبرستان میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،عالم باعمل ،زاہدوعبادت گزار، امام و خطیب جامع مسجدمیاں گان اوربانی مدرسہ تعلیم الاسلام ہیں۔ (حیات خلیفہ اعلیٰ حضرت مولوی عبدالواحد الرضوی، ص،24، 63، 42، 44)
(82)مجاہدِدین وملت حضرت مولاناقاضی عبدالوحید فردوسی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 1289 ھ عظیم آبادپٹنہ بہار ہندمیں ہوئی ،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت ،بہترین واعظ ،نعت گوشاعر ،مفکروراہنماتھے ، آپ نے مجلسِ عالی حمایت سنّتِ محمدی بنائی ،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلسنت وجماعت (مطبع حنفیہ )کا آغازکیا ،دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسہ اہلسنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔آپ کاوصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوااور درگاہِ حضرت پیرجگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ (بہار)ہندمیں دفن کئے گئے۔( سالنامہ معارف رضا2005 ء ، 251،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص191،تذکرہ علمائے اہلسنت ص153)
(83)تِلمیذِ اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الحسن خان رضوی پھپھوندی کی ولادت با سعادت قصبہ پھپھوند ( ضلع اٹاوہ) ہند میں ہوئی اور1362 ھ کو وِصال فرمایا، تدفین قصبہ پھپھوند شریف (Phaphund،ضلع اوریا،اترپردیش) ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام ، علم وعمل کے جامع اورپیکراخلاص وتقوی تھے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،ص183۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص183، تذکرہ محدث سورتی ص 256)
(84) خلیفہ وتِلمیذِ اعلیٰ حضرت، حضرت مولاناحکیم مفتی سید عزیز غوث بریلوی قادری رضوی کی ولادت با سعادت بریلی شریف (یوپی)ہند میں ہوئی۔ 1363ھ کو وِصال فرمایااور بریلی شریف (یوپی)ہندمیں آسودۂ خاک ہوئے۔آپ اولین فاضلِ دارالعلوم منظر اسلام، مفتی اسلام اورجَیِّدعالمِ دین تھے۔(جہان مفتیٔ اعظم ص1075،تذکرۂ علمائے اہل سنت ص 183،ماہنامہ اعلیٰ حضرت صدسالہ منظراسلام نمبرقسط1،مئی 2001 ص243 )
(85)عالم جلیل،حضرت سید علوی بن حسن الکاف حضرمی علوی خاندن کے چشم چراغ تھے۔ ( الاجازت المتینۃ، ص46 )
(86)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس)تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنّت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26)
(87)حضرت صوفی عنایت حسین قادری رضوی مُریدو خلیفہ اعلیٰ حضرت اوربریلی شریف (یوپی)ہندکے رہنے والے تھے۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ،ص107)
(88)حامیِ سنّت حضرت الحاج عیسیٰ محمدخان گجراتی رضوی دھوراجی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (ضلع راجکوٹ،ریاست گجرات) ہندکی صاحبِثروت شخصیت،مجازِطریقت،مسائلِ فقہیہ پر عبوررکھنے والے ،بہترین واعظ ، مدرسہ مسکینیہ دھوراجی اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں شامل تھے۔آپ کا وصال جمادی الاولیٰ 1363ھ دھوراجی گجرات ہند میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 513 تا514 ،مشاہیرالفقیہ ،183)
(89)حضرت مولانا عبدالسلام اعظمی گھوسوی کا تعلق مدینۃ العلماگھوسی (ضلع اعظم گڑھ،یوپی)سےہے، آپ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے چچازادبھائی واستاذمولانا محمدصدیق اعظمی اورعلامہ وصی احمدمحدث سورتی کے شاگرد تھے ، آپ کو 1330ھ /1912ءاپنے استاذعلامہ صدیق صاحب کی وفات کے بعدمخدوم الاولیاء حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی نے مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پورکا صدرمدرس بنایا،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان نے انہیں 1336ھ کو خلافت عطافرمائی،آپ کا وصال 12صفرالمظفر 1336ھ ہوا۔(حیات مخدوم الاولیا ،290،تذکرہ محدث سورتی،269، دبدبہ سکندری رامپور شمارہ نمبر 17 جلد54 دسمبر 1917)
غ
(90)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت مولاناحکیم غلام احمدشوق فریدی نقشبندی جماعتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284ھ محلہ سرائے کبیرسنبھل(نزدمرادآباد،یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال23ربیع الاول 1362ھ کومرادآبادمیں ہو ا ،مزارشاہ باقی قبرستان میں درگاہ حضرت مظہراللہ شاہ صفی سے متصل جانبِ شمال مغرب ہے،آپ عالمِ دین ،حاذق طبیب ،صاحبِ دیوان شاعر،قومی راہنما،سجادہ نشین درگاہ شیخ کبیرکلہ رواں، تیس سے زائدکتابوں کےمصنف اورصدرالافاضل کے خالہ زاد بھائی تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 330تا339، تذکرہ خلفائے امیر ملت،ص116،121)
(91) فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمُظفّر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ، پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استراحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300)
(92)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت،حسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزارِ خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474)
(93) استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد غِیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غِیِاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرّمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزارِ مبارک خانقاہِ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373،ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35)
ف
(94)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اورصاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجدسیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367)
ق
(95)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302)
ک
(96) عاشِق اعلیٰ حضرت حاجی کِفایت اللہ خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف میں تقریبا1300 ھ میں ہوئی اور وصال 1359ھ کے بعدہوا۔آپ اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص ،متقی وپرہیزگار،محبوب خلیفہ اورمُجاوِرِخانقاہ رضویہ تھے۔ خانقاہ رضویہ میں تعویذات دینے کی ذمہ داری ان کے سپردتھی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص141تا149)
(89)حضرت مولانا عبدالسلام اعظمی گھوسوی کا تعلق مدینۃ العلماگھوسی (ضلع اعظم گڑھ،یوپی)سےہے، آپ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے چچازادبھائی واستاذمولانا محمدصدیق اعظمی اورعلامہ وصی احمدمحدث سورتی کے شاگرد تھے ، آپ کو 1330ھ /1912ءاپنے استاذعلامہ صدیق صاحب کی وفات کے بعدمخدوم الاولیاء حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی نے مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پورکا صدرمدرس بنایا،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان نے انہیں 1336ھ کو خلافت عطافرمائی،آپ کا وصال 12صفرالمظفر 1336ھ ہوا۔(حیات مخدوم الاولیا ،290،تذکرہ محدث سورتی،269، دبدبہ سکندری رامپور شمارہ نمبر 17 جلد54 دسمبر 1917)
غ
(90)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت مولاناحکیم غلام احمدشوق فریدی نقشبندی جماعتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284ھ محلہ سرائے کبیرسنبھل(نزدمرادآباد،یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال23ربیع الاول 1362ھ کومرادآبادمیں ہو ا ،مزارشاہ باقی قبرستان میں درگاہ حضرت مظہراللہ شاہ صفی سے متصل جانبِ شمال مغرب ہے،آپ عالمِ دین ،حاذق طبیب ،صاحبِ دیوان شاعر،قومی راہنما،سجادہ نشین درگاہ شیخ کبیرکلہ رواں، تیس سے زائدکتابوں کےمصنف اورصدرالافاضل کے خالہ زاد بھائی تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 330تا339، تذکرہ خلفائے امیر ملت،ص116،121)
(91) فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمُظفّر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ، پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استراحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300)
(92)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت،حسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزارِ خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474)
(93) استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد غِیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غِیِاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرّمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزارِ مبارک خانقاہِ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373،ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35)
ف
(94)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اورصاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجدسیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367)
ق
(95)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302)
ک
(96) عاشِق اعلیٰ حضرت حاجی کِفایت اللہ خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف میں تقریبا1300 ھ میں ہوئی اور وصال 1359ھ کے بعدہوا۔آپ اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص ،متقی وپرہیزگار،محبوب خلیفہ اورمُجاوِرِخانقاہ رضویہ تھے۔ خانقاہ رضویہ میں تعویذات دینے کی ذمہ داری ان کے سپردتھی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص141تا149)
(97)ناصرِ ملّت حضرت مولانا محمد لعل خان قادری رضوی رحمۃ اللّٰہ علیہ خادمِ سنّت، مصنّفِ کُتب اور عالی ہمت ہستی کےمالک تھے۔ پیدائش 1283ھ ویلور (مدراس،تامل ناڈو) ہند میں ہوئی۔ 15ذوالقعدۃ الحرام 1339ھ کو وصال فرمایا اور کلکتہ (ہند) میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص317،321۔ تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 554)
م
(98) اما م وخطیب مسجدِنَبَوِیْ سیّدمامون بَری مدنی حنفی قادری کا تعلق افریقی ملک تُوْنُسْ کے سیِّدبَری قبیلے سے ہے۔ آپ جیدعالم، مفتیٔ اَحناف مدینہ منورہ، اُستاذ العُلَماء اور بہترین خطیب تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص 82،188،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 76تا79،علمائے عرب کے خطوط ص45 )
(99)اَدِیْبِ جَلیل،حضرت شیخ مامون عبدالوہاب اَرْزَنْجانی مدنی قادری کی ولادت چودہویں صدی کے شروع میں اَرْزَنْجان (مشرقی اناطولیہ) ترکی میں ہوئی۔ وصال 1375ھ میں فرمایا۔آپ بہترین عالم دین،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ، روحانی اسکالر، صحافی،بانی اخبارالمدینۃ المنورہ(عربی و ترکی) ومجلہ (میگزین) المناھج دمشق اورکئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ ( علمائے عرب کے خطوط ص38تا40 ،الاجازت المتینۃ، 36،38 )
(100) واعِظِ اسلام حضرت مولانامحمداسماعیل پشاوری قادری رضوی عالِم ،واعِظ اورمجَازِطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 664)
(101) صوفی باصفا ثنا خوانِ مصطفیٰ ،حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل فخری چشتی رضوی کی ولادت ریاست محمود آباد(ضلع سیتا پور، یوپی ) ہندغالباً 1300 ھ میں ہوئی۔یہیں 1371 ھ میں وِصال فرمایا اور دَفْن کئے گئے۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،بانی مدرسہ نظامیہ محمودآباد،اُستاذالعُلَمااوررِقت وسوز کے مالک تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص211۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت ،ص62،تذکرہ محدث سورتی،ص258 )
(102) حضرت پروفیسرالحاج محمد الیاس برنی چشتی قادِری فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت برن (بلندشہر،یوپی) ہند میں1307ھ کو ہوئی اوریہیں 22رجب 1378ھ کووصال ہوا۔آپ نے دنیاوی علوم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، لکھنؤ اور علمِ حدیث پیلی بھیت سے حاصل کیا،آپ صدرشعبہ ِٔمعاشیات وناظم شعبہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباددکن، نعت گو شاعر،مصنّفِ کتب اورماہرِمعاشیات تھے۔ 33کتب میں سے قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ اورعلم المعیشت مشہور ہوئیں۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،ص658تا661،سالنامہ معارف رضا1984ء،ص250)
(103) ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1284 ھ کومکہ مکرّمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہِ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرّمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83،حسام الحرمین، ص79)
(104)فاضل نوجوان حضرت سیّدمحمدبن عثمان دحلان مکیرحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت نے مکہ شریف سے مدینہ منورہ سفرشروع کرتے وقت24صفر1324ھ کو اجازت وخلافت عطافرمائی ۔( الاجازات المتینۃ ص 65، ملفوظات اعلیٰ حضرت 215)
(105) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی ۔آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)
(106) برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ علمُ الفَرائض (وراثت کےعلم) کے ماہر تھے۔1293ھ میں پیداہوئے اور21شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا،مزار قبرستان بِہَاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس الاتقیاء،32،تجلیات تاج الشریعہ،89،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(107) شیخ الدلائل حضرت شیخ سیِد محمد سعید بن محمد مالکی قادری مغربی مدنی ادریسی کی ولادت با سعادت اندازاً1270ھ مدینہ شریف یا مراکش میں ہوئی۔1330ھ کے بعدکسی سال وِصال فرمایا ۔آپ جیدعالم ،مُدَرِّس مسجدِ نَبَوِیْ شریف ،شیخِ طریقت، مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ اورحُسام الحرمین،اورمَرْجَع خلَائق شخصیت تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص120 ، الاجازات المتینۃ ص 54، ملفوظات اعلیٰ حضرت 921)
م
(98) اما م وخطیب مسجدِنَبَوِیْ سیّدمامون بَری مدنی حنفی قادری کا تعلق افریقی ملک تُوْنُسْ کے سیِّدبَری قبیلے سے ہے۔ آپ جیدعالم، مفتیٔ اَحناف مدینہ منورہ، اُستاذ العُلَماء اور بہترین خطیب تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص 82،188،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 76تا79،علمائے عرب کے خطوط ص45 )
(99)اَدِیْبِ جَلیل،حضرت شیخ مامون عبدالوہاب اَرْزَنْجانی مدنی قادری کی ولادت چودہویں صدی کے شروع میں اَرْزَنْجان (مشرقی اناطولیہ) ترکی میں ہوئی۔ وصال 1375ھ میں فرمایا۔آپ بہترین عالم دین،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ، روحانی اسکالر، صحافی،بانی اخبارالمدینۃ المنورہ(عربی و ترکی) ومجلہ (میگزین) المناھج دمشق اورکئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ ( علمائے عرب کے خطوط ص38تا40 ،الاجازت المتینۃ، 36،38 )
(100) واعِظِ اسلام حضرت مولانامحمداسماعیل پشاوری قادری رضوی عالِم ،واعِظ اورمجَازِطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 664)
(101) صوفی باصفا ثنا خوانِ مصطفیٰ ،حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل فخری چشتی رضوی کی ولادت ریاست محمود آباد(ضلع سیتا پور، یوپی ) ہندغالباً 1300 ھ میں ہوئی۔یہیں 1371 ھ میں وِصال فرمایا اور دَفْن کئے گئے۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،بانی مدرسہ نظامیہ محمودآباد،اُستاذالعُلَمااوررِقت وسوز کے مالک تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص211۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت ،ص62،تذکرہ محدث سورتی،ص258 )
(102) حضرت پروفیسرالحاج محمد الیاس برنی چشتی قادِری فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت برن (بلندشہر،یوپی) ہند میں1307ھ کو ہوئی اوریہیں 22رجب 1378ھ کووصال ہوا۔آپ نے دنیاوی علوم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، لکھنؤ اور علمِ حدیث پیلی بھیت سے حاصل کیا،آپ صدرشعبہ ِٔمعاشیات وناظم شعبہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباددکن، نعت گو شاعر،مصنّفِ کتب اورماہرِمعاشیات تھے۔ 33کتب میں سے قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ اورعلم المعیشت مشہور ہوئیں۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،ص658تا661،سالنامہ معارف رضا1984ء،ص250)
(103) ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1284 ھ کومکہ مکرّمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہِ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرّمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83،حسام الحرمین، ص79)
(104)فاضل نوجوان حضرت سیّدمحمدبن عثمان دحلان مکیرحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت نے مکہ شریف سے مدینہ منورہ سفرشروع کرتے وقت24صفر1324ھ کو اجازت وخلافت عطافرمائی ۔( الاجازات المتینۃ ص 65، ملفوظات اعلیٰ حضرت 215)
(105) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی ۔آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)
(106) برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ علمُ الفَرائض (وراثت کےعلم) کے ماہر تھے۔1293ھ میں پیداہوئے اور21شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا،مزار قبرستان بِہَاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس الاتقیاء،32،تجلیات تاج الشریعہ،89،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(107) شیخ الدلائل حضرت شیخ سیِد محمد سعید بن محمد مالکی قادری مغربی مدنی ادریسی کی ولادت با سعادت اندازاً1270ھ مدینہ شریف یا مراکش میں ہوئی۔1330ھ کے بعدکسی سال وِصال فرمایا ۔آپ جیدعالم ،مُدَرِّس مسجدِ نَبَوِیْ شریف ،شیخِ طریقت، مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ اورحُسام الحرمین،اورمَرْجَع خلَائق شخصیت تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص120 ، الاجازات المتینۃ ص 54، ملفوظات اعلیٰ حضرت 921)
(108) فقیہِ اعظم حضرت علامہ محمد شریف محدث کوٹلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1277ھ میں کوٹلی لوہاراں ( سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ 6ربیع الآخر1370 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال ( سیالکوٹ) پاکستان میں جامع مسجد شریفی سے متصل ہے۔ آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، استاذ العُلَماء، واعظِ خوش بیان، رئیس التحریر ہفتہ روزہ اخبار الفقیہ ، مناظرِ اسلام، شاعروادیب اور صاحبِ تصنیف تھے۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص97-100)
(109)مفتیِ مالِکِیَّہ شیخ محمدعلی بن حسین مالِکِی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مُدَرِّسِ حَرَم، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور امامُ النَّحْو ہیں، 1287ھ میں مکہشریف میں پیدا ہوئے اور طائف میں 28شعبان 1367ھ کو وصال فرمایا۔حضرت سیّدُناعبد اللّٰہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار کے قریب دفن ہونے کی سعادت پائی۔(مختصرنشرالنوروالزھر، ص181،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 136تا 149)
(110)مفتی محمد عمرالدّین ہزاروی، مفتیِ اسلام، مُصَنِّف، نامور علمائے اسلام میں سے ہیں۔ طویل عرصہ بمبئی میں خدمتِ دین میں مصروف رہے۔ وصال 14شعبان 1349ھ میں فرمایا، مزار شریف کوٹ نجیبُ اللّٰہ (ضلع مانسہرہ) خیبر پختون خواہ پاکستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،622تا627)
(111)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمد عمر بن ابوبکر کھتری رَضَوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1291ھ کو پور بندر (صوبہ گجرات) ہند میں ہوئی اور وصال 5 ذوالقعدۃ الحرام 1384ھ کو ہوا۔ مزار پور بندر (گجرات) ہند میں ہے۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 532،533)
(112)پابندِسنت حضرت مولاناسیدمحمدعمرظہیرالدین اِلٰہ آبادی قادری رضوی کی ولادت غالباً موضع خلیل پورپرگنہ نواب گنج ضلع الہ آباد(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،عالمِ باعمل اور مجازِطریقت تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص13 ،تذکرہ محدث سورتی ،ص 269)
(113)جامع جمال وافتخار مولاناسیدمحمدعمرمطوف بن سید ابوبکررشیدی مکی،عالم دین ، عالی ہمت، جامع اور حُجاج کو حج و طواف کرانے پر مَعْمُوْر تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دوسرے حج کے موقع پر ان کے گھرقیام فرمایا اور انہیں 11صفر 1324ھ کو خلافت اوراجازت عطافرمائیں۔ (الاجازات المتینہ، ص ،9،55،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت،112تا116)
(114) شیخِ طریقت حضرت مولانا قاضی محمدقاسم میاں رضوی ،عالمِ دین ،مَجازِطریقت،حامیِ سنت اورامام جامع مسجد گونڈل پوربندر(کاٹھیاواڑ گجرات)ہند تھے۔(خطوط مشاہیربنام احمدرضا ،ص314)
(115) مُحدِّثِ اَعظم ہند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ کامل، مُفسِّرقراٰن، واعِظِ دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند میں ہے۔ 25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)
(116) عالِمِ ربّانی حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالفخرمحمد نور قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور صفرالمظفریاربیع الاول 1333ھ میں وصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے۔ آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118)
(117) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(118) اُستاذالعُلَماحضرت مولانامحمدیوسف افغانی مہاجر مکی، جید عالم، مدرس مدرسہ صولتیہ مکۂ معظمہ اور صاحبِ فَضائل و مَنَاقِب تھے۔ 24 صفر 1324ھ کو اعلیٰ حضرت سے خلافت کی سعادت پائی۔ ( الاجازت المتینۃ، ص47،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، 117 )
(109)مفتیِ مالِکِیَّہ شیخ محمدعلی بن حسین مالِکِی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مُدَرِّسِ حَرَم، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور امامُ النَّحْو ہیں، 1287ھ میں مکہشریف میں پیدا ہوئے اور طائف میں 28شعبان 1367ھ کو وصال فرمایا۔حضرت سیّدُناعبد اللّٰہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار کے قریب دفن ہونے کی سعادت پائی۔(مختصرنشرالنوروالزھر، ص181،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 136تا 149)
(110)مفتی محمد عمرالدّین ہزاروی، مفتیِ اسلام، مُصَنِّف، نامور علمائے اسلام میں سے ہیں۔ طویل عرصہ بمبئی میں خدمتِ دین میں مصروف رہے۔ وصال 14شعبان 1349ھ میں فرمایا، مزار شریف کوٹ نجیبُ اللّٰہ (ضلع مانسہرہ) خیبر پختون خواہ پاکستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،622تا627)
(111)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمد عمر بن ابوبکر کھتری رَضَوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1291ھ کو پور بندر (صوبہ گجرات) ہند میں ہوئی اور وصال 5 ذوالقعدۃ الحرام 1384ھ کو ہوا۔ مزار پور بندر (گجرات) ہند میں ہے۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 532،533)
(112)پابندِسنت حضرت مولاناسیدمحمدعمرظہیرالدین اِلٰہ آبادی قادری رضوی کی ولادت غالباً موضع خلیل پورپرگنہ نواب گنج ضلع الہ آباد(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،عالمِ باعمل اور مجازِطریقت تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص13 ،تذکرہ محدث سورتی ،ص 269)
(113)جامع جمال وافتخار مولاناسیدمحمدعمرمطوف بن سید ابوبکررشیدی مکی،عالم دین ، عالی ہمت، جامع اور حُجاج کو حج و طواف کرانے پر مَعْمُوْر تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دوسرے حج کے موقع پر ان کے گھرقیام فرمایا اور انہیں 11صفر 1324ھ کو خلافت اوراجازت عطافرمائیں۔ (الاجازات المتینہ، ص ،9،55،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت،112تا116)
(114) شیخِ طریقت حضرت مولانا قاضی محمدقاسم میاں رضوی ،عالمِ دین ،مَجازِطریقت،حامیِ سنت اورامام جامع مسجد گونڈل پوربندر(کاٹھیاواڑ گجرات)ہند تھے۔(خطوط مشاہیربنام احمدرضا ،ص314)
(115) مُحدِّثِ اَعظم ہند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ کامل، مُفسِّرقراٰن، واعِظِ دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند میں ہے۔ 25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)
(116) عالِمِ ربّانی حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالفخرمحمد نور قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور صفرالمظفریاربیع الاول 1333ھ میں وصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے۔ آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118)
(117) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(118) اُستاذالعُلَماحضرت مولانامحمدیوسف افغانی مہاجر مکی، جید عالم، مدرس مدرسہ صولتیہ مکۂ معظمہ اور صاحبِ فَضائل و مَنَاقِب تھے۔ 24 صفر 1324ھ کو اعلیٰ حضرت سے خلافت کی سعادت پائی۔ ( الاجازت المتینۃ، ص47،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، 117 )
(119) خلیفۂِ مفتیِ اعظم الور،شیخِ طریقت حضرت مولانا مفتی سیّدمحمودالحسن زیدی الوری نقشبندی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی جیّدعالمِ دین ،فاضل دارالعلوم مُعینیہ عثمانیہ اجمیرشریف،مدرس مدرسہ اسلامیہ اودے پور،صدرانجمن خادم الاسلام الور اور جانشین درگاہِ سیّدارشادعلی مجددی الوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی تھے۔آپ کا وصال 16جمادی الاولیٰ 1365ھ کو الورمیں ہوااورتدفین بیرون لادیددروازہ کےمتصل ہوئی۔ ( تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت501تا504 ،مشاہیرالفقیہ ،190،191)
(120) عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1255ھ کو پشاور پاکستان میں ہوئی اور 3 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک جام جودھ پور (ضلع جام نگر،گجرات) ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، خطیبِ اہلِ سنّت، شاعرِ اسلام اور جام جودھ پور کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ منظوم حیاتِ اعلیٰ حضرت ”ذکرِ رضا“ آپ کی یادگار ہے۔ (شخصیاتِ اسلام، ص 136تا138)
(121) جامع علوم و فُنون حضرت مولانا حافظ مشتاق اَحمد صِدّیقی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، واعِظ، شیخ الحدیث والتفسیرتھے۔ 1295ہجری میں سہارن پور (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور کانپور ہند میں یکم شوال 1360ہجری کو وِصال فرمایا۔ آپ کو بساطیوں والے قبرستان پنجابی محلہ کانپور(یوپی) ہندمیں والدِ گرامی علامہ احمد حسن کانپوری کے مزار سے متصل دفن کیا گیا۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص289-290)
(122) حضرت شیخ سید مصطفیٰ خلیل آفندی مکی ،حَسَب نَسَب کے اِعتبارسے اعلیٰ ،عقل وذَہانت کے مالک،صِدق وَفا سے مُتَّصِفْ اوربرادرمُحافِظِ کُتُبِ حَرَم سیداسماعیل تھے ۔آپکا وِصال1229 ھ میں ہوا ۔(الاجازات المتینہ ص 8،14،30،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص119)
(123) بدرِمُنیر حضرت مولانا منیرالدین بنگالی رضوی ،عالم دین ،مَجازِطریقت اورصاحبِ کَرامت بُزُرْگ تھے ۔آپ متحدہ بنگال ہند کے رہنے والے تھے۔حصول علمِ دین کے بعد11 سال بریلی شریف میں رہے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 555)
(124) عاشِق رضا حضرت میرمؤمن علی مؤمن جنیدی رضوی حافِظِ قرآن ،بہترین نعت خواں ،صاحبِ دِیوان شاعر اور بانیِ مدرسۃ العلوم مسلمانان تاجپور (ناگپور، مہاراشٹرہند) تھے۔ آپ کا دِیوان ’’تحفۂ مؤمن ‘‘شائع شدہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 664)
ن
(125) مفتیِ آگرہ حضرت علامہ مولانا حافظ نِثار احمدکانْپوری رضویرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1297ھ کانپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ غالباً 16ذوالحجہ 1349ھ کو حج سے واپسی پر جَدّہ شریف میں وصال فرمایا اور جنّت البقیع میں دَفْن ہوئے۔خوش اِلحان حافظ وقاری، عالمِ باعمل،سِحْربَیاں خَطیب ،حاضِردماغ مُناظِر اور قومی رَاہنُماتھے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص349-تذکرہ محدثِ سورتی،ص292)
(126) خطیب العُلَماءحضرت مولانانذیراحمدخُجندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ کو میرٹھ(یوپی )ہند میں ہوئی اور وصال 6 شعبان 1368ھ کو مدینۂِ منوّرہ میں ہو۱۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی۔آپ عالمِ باعمل ،خوش الحان قاری،امام جامع مسجدخیرالدین بمبئی،بہترین قلمکار، مجاہدِتحریک آزادی اورقادرالکلام شاعرتھے۔ (جب جب تذکرہ ٔ خجندی ہوا، 15،84 ،193 )
(127) صدرُالاَفاضِل حضرت علامہ حافظ سیّد نعیم الدّین مُرادآبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1300ھ مُرادآباد(ہند) میں ہوئی اور آپ نے 18ذوالحجہ 1367ھ کو وفات پائی۔دینی عُلوم کے ماہِر، شیخُ الحدیث، مُفَسِّرِقراٰن، مُناظِرِ ذيشان، مُفتیٔ اسلام ،درجن سے زائد کُتُب کے مصنف،قومی رَاہنما وقائد،شیخِ طریقت، اسلامی شاعر،بانیِ جامعہ نعیمیہ مُرادآباد، اُستاذُالعُلَماءاوراکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔کُتُب میں تفسیرِخزائنُ العِرفان مشہور ہے۔(حیات صدرالافاضل،ص9تا19)
(128)سیدالسادات حضرت مولاناعلامہ سیدنوراحمدچاٹگامی رضوی 1279ھ کو چاٹگام میں پیداہوئے اوریہیں 1345ھ میں وصال فرمایا۔فاضل مدرسہ فرنگی محل لکھنؤ،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اوربہترین واعِظ تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 665تا668)
(129) فخرالاماثل حضرت مولانا نورالحسن لکھنوی،ہندکے شہرلکھنوکے رہنے والے تھے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 353)
(130) قُطْبِ وقت حضرت مولانا سیّدنُورُ الحَسَن نَگِینْوِی نقشبندی قادِری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1315ھ کو مَحَلّہ سادات،نگینہ شریف ضلع بَجْنَور (اُترپردیش) ہند میں ہوئی اور 22 ذوالحجہ1393ھ کو وصال فرمایا،مزار مواز والہ (نزدموچھ ضلع میانوالی،پنجاب)پاکستان میں ہے۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت اور ولیِ کامل تھے۔(مقاماتِ نور، ص62،204-فیضانِ اعلی حضرت، ص680)
ہ
(120) عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1255ھ کو پشاور پاکستان میں ہوئی اور 3 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک جام جودھ پور (ضلع جام نگر،گجرات) ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، خطیبِ اہلِ سنّت، شاعرِ اسلام اور جام جودھ پور کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ منظوم حیاتِ اعلیٰ حضرت ”ذکرِ رضا“ آپ کی یادگار ہے۔ (شخصیاتِ اسلام، ص 136تا138)
(121) جامع علوم و فُنون حضرت مولانا حافظ مشتاق اَحمد صِدّیقی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، واعِظ، شیخ الحدیث والتفسیرتھے۔ 1295ہجری میں سہارن پور (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور کانپور ہند میں یکم شوال 1360ہجری کو وِصال فرمایا۔ آپ کو بساطیوں والے قبرستان پنجابی محلہ کانپور(یوپی) ہندمیں والدِ گرامی علامہ احمد حسن کانپوری کے مزار سے متصل دفن کیا گیا۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص289-290)
(122) حضرت شیخ سید مصطفیٰ خلیل آفندی مکی ،حَسَب نَسَب کے اِعتبارسے اعلیٰ ،عقل وذَہانت کے مالک،صِدق وَفا سے مُتَّصِفْ اوربرادرمُحافِظِ کُتُبِ حَرَم سیداسماعیل تھے ۔آپکا وِصال1229 ھ میں ہوا ۔(الاجازات المتینہ ص 8،14،30،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص119)
(123) بدرِمُنیر حضرت مولانا منیرالدین بنگالی رضوی ،عالم دین ،مَجازِطریقت اورصاحبِ کَرامت بُزُرْگ تھے ۔آپ متحدہ بنگال ہند کے رہنے والے تھے۔حصول علمِ دین کے بعد11 سال بریلی شریف میں رہے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 555)
(124) عاشِق رضا حضرت میرمؤمن علی مؤمن جنیدی رضوی حافِظِ قرآن ،بہترین نعت خواں ،صاحبِ دِیوان شاعر اور بانیِ مدرسۃ العلوم مسلمانان تاجپور (ناگپور، مہاراشٹرہند) تھے۔ آپ کا دِیوان ’’تحفۂ مؤمن ‘‘شائع شدہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 664)
ن
(125) مفتیِ آگرہ حضرت علامہ مولانا حافظ نِثار احمدکانْپوری رضویرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1297ھ کانپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ غالباً 16ذوالحجہ 1349ھ کو حج سے واپسی پر جَدّہ شریف میں وصال فرمایا اور جنّت البقیع میں دَفْن ہوئے۔خوش اِلحان حافظ وقاری، عالمِ باعمل،سِحْربَیاں خَطیب ،حاضِردماغ مُناظِر اور قومی رَاہنُماتھے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص349-تذکرہ محدثِ سورتی،ص292)
(126) خطیب العُلَماءحضرت مولانانذیراحمدخُجندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ کو میرٹھ(یوپی )ہند میں ہوئی اور وصال 6 شعبان 1368ھ کو مدینۂِ منوّرہ میں ہو۱۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی۔آپ عالمِ باعمل ،خوش الحان قاری،امام جامع مسجدخیرالدین بمبئی،بہترین قلمکار، مجاہدِتحریک آزادی اورقادرالکلام شاعرتھے۔ (جب جب تذکرہ ٔ خجندی ہوا، 15،84 ،193 )
(127) صدرُالاَفاضِل حضرت علامہ حافظ سیّد نعیم الدّین مُرادآبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1300ھ مُرادآباد(ہند) میں ہوئی اور آپ نے 18ذوالحجہ 1367ھ کو وفات پائی۔دینی عُلوم کے ماہِر، شیخُ الحدیث، مُفَسِّرِقراٰن، مُناظِرِ ذيشان، مُفتیٔ اسلام ،درجن سے زائد کُتُب کے مصنف،قومی رَاہنما وقائد،شیخِ طریقت، اسلامی شاعر،بانیِ جامعہ نعیمیہ مُرادآباد، اُستاذُالعُلَماءاوراکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔کُتُب میں تفسیرِخزائنُ العِرفان مشہور ہے۔(حیات صدرالافاضل،ص9تا19)
(128)سیدالسادات حضرت مولاناعلامہ سیدنوراحمدچاٹگامی رضوی 1279ھ کو چاٹگام میں پیداہوئے اوریہیں 1345ھ میں وصال فرمایا۔فاضل مدرسہ فرنگی محل لکھنؤ،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اوربہترین واعِظ تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 665تا668)
(129) فخرالاماثل حضرت مولانا نورالحسن لکھنوی،ہندکے شہرلکھنوکے رہنے والے تھے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 353)
(130) قُطْبِ وقت حضرت مولانا سیّدنُورُ الحَسَن نَگِینْوِی نقشبندی قادِری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1315ھ کو مَحَلّہ سادات،نگینہ شریف ضلع بَجْنَور (اُترپردیش) ہند میں ہوئی اور 22 ذوالحجہ1393ھ کو وصال فرمایا،مزار مواز والہ (نزدموچھ ضلع میانوالی،پنجاب)پاکستان میں ہے۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت اور ولیِ کامل تھے۔(مقاماتِ نور، ص62،204-فیضانِ اعلی حضرت، ص680)
ہ
(131) سلطانُ الواعظین مولانا سیّد ہدایت رسول لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی واعظ، شیخِ طریقت، شاعر، مصنف اورتلمیذوخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے، تصانیف میں ”فیوضِ ہدایت“ مطبوعہ ہے،غالباً1276 ھ مصطفےٰ آباد(رام پور،یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے، 23 رمضان المبارک 1332ھ کو یہیں وصال فرمایا۔ (تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، ص353،363)
ی
(132) استاذُالحُفّاظ، حضرت مولانا حافظ یعقوب علی خان پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادتِ باسعادت پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور 27 محرمُ الحرام1357ھ کو وصال فرمایااوریہیں پاکھڑ(یاموٹاپاکر)والی پُرانی جامع مسجد (محلہ بھورے خاں) سے متصل باغ میں دفن کیے گئے۔ آپ فاضل مدرَسۃ الحدیث پیلی بھیت ،حافظ القران ،مدرس مدرسۃ الحدیث ومدرسہ احمدیہ جامع مسجد، ولیُّ اللہ اور استاذُالحُفَاظ تھے۔(تجلیات امام احمدرضا ، ص53تا55،161، تذکرہ محدثِ سورتی، ص 269)
(133) حکیمِ اہلِ سنت حضرت مولاناحکیم یعقوب علی خان رامپوری قادری کی ولادت ایک علمی گھرانے میں غالباً 1260 ھ کو قصبہ بلاسپورتحصیل وضلع رامپور (یوپی)ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام، جیدعالم ،بہترین واعظ، عالم باعمل اورحاذِق طبیب تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور ص 454،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،341تا350)
(134)زینتُ القُرّاء، حضرت مولانا قاری حافظ یقین الدّین رضوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی حافظ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام،شیخ طریقت اور صاحبِ تصنیف تھے، آستانۂ رضویہ کی مسجد میں نمازِ تراویح پڑھاتے تھے،25سال مسجد پٹھان محلہ ضلع بالاسور(اڑیسہ) ہندمیں خدمات سرانجام دیں ۔یہیں 2 جُمادی الاُخریٰ 1353ھ کو وصال فرمایا۔مزاراحاطۂِ قدمِ رسول قبرستان میں ہے۔( تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 534تا540)
#AlaHazrat
ی
(132) استاذُالحُفّاظ، حضرت مولانا حافظ یعقوب علی خان پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادتِ باسعادت پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور 27 محرمُ الحرام1357ھ کو وصال فرمایااوریہیں پاکھڑ(یاموٹاپاکر)والی پُرانی جامع مسجد (محلہ بھورے خاں) سے متصل باغ میں دفن کیے گئے۔ آپ فاضل مدرَسۃ الحدیث پیلی بھیت ،حافظ القران ،مدرس مدرسۃ الحدیث ومدرسہ احمدیہ جامع مسجد، ولیُّ اللہ اور استاذُالحُفَاظ تھے۔(تجلیات امام احمدرضا ، ص53تا55،161، تذکرہ محدثِ سورتی، ص 269)
(133) حکیمِ اہلِ سنت حضرت مولاناحکیم یعقوب علی خان رامپوری قادری کی ولادت ایک علمی گھرانے میں غالباً 1260 ھ کو قصبہ بلاسپورتحصیل وضلع رامپور (یوپی)ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام، جیدعالم ،بہترین واعظ، عالم باعمل اورحاذِق طبیب تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور ص 454،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،341تا350)
(134)زینتُ القُرّاء، حضرت مولانا قاری حافظ یقین الدّین رضوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی حافظ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام،شیخ طریقت اور صاحبِ تصنیف تھے، آستانۂ رضویہ کی مسجد میں نمازِ تراویح پڑھاتے تھے،25سال مسجد پٹھان محلہ ضلع بالاسور(اڑیسہ) ہندمیں خدمات سرانجام دیں ۔یہیں 2 جُمادی الاُخریٰ 1353ھ کو وصال فرمایا۔مزاراحاطۂِ قدمِ رسول قبرستان میں ہے۔( تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 534تا540)
#AlaHazrat
💐 134 خلفائے اعلیٰ حضرت کا
مختصر تذکرہ باعتبار حروف تہجی
https://t.me/islaamic_Knowledge/17703
✍ رکن شوریٰ حاجی ابو ماجد
محمد شاہد عطاریمدنی
مختصر تذکرہ باعتبار حروف تہجی
https://t.me/islaamic_Knowledge/17703
✍ رکن شوریٰ حاجی ابو ماجد
محمد شاہد عطاریمدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
امام احمد رضا انور کشمیری کی ...
مردوں کو شانوں کے نیچے تک بال
عشرہ محرم میں روٹی پکانا جھاڑو
کیا بروز محشر حضرت فاطمہ برہنہ
مردوں کو کس طرح کی انگوٹھی
تقریظ حسام الحرمین مفتئ مالکیہ
حالت نماز میں اگر ٹوپی گر جائے تو
اگر ٹوپی گر جائے تو اٹھانا کیسا ہے؟
کیا پیر کا سید ہونا ضروری ہے ؟
بجلی کیا ہے؟ اسلامی نظریہ کیا ہے؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜¹⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
مردوں کو شانوں کے نیچے تک بال
عشرہ محرم میں روٹی پکانا جھاڑو
کیا بروز محشر حضرت فاطمہ برہنہ
مردوں کو کس طرح کی انگوٹھی
تقریظ حسام الحرمین مفتئ مالکیہ
حالت نماز میں اگر ٹوپی گر جائے تو
اگر ٹوپی گر جائے تو اٹھانا کیسا ہے؟
کیا پیر کا سید ہونا ضروری ہے ؟
بجلی کیا ہے؟ اسلامی نظریہ کیا ہے؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜¹⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی