السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
"انسانیت وہاں دم توڑدیتی ہے جب ایک انسان کی مصیبت دوسرے کے لیے تماشا بن جاتی ہے ۔"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/724534014790837/
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
"انسانیت وہاں دم توڑدیتی ہے جب ایک انسان کی مصیبت دوسرے کے لیے تماشا بن جاتی ہے ۔"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/724534014790837/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر ۔۔۔۔!!
نغمہ بار رہیں ۔۔۔۔!!
"وہی لوگ انمول ہیں جو خیرکی خبردیتے ہیں-
پریشانی میں دلاسہ اور بھروسہ دیتے ہیں-
عقل کی بات کرتے ہیں۔
ہمیشہ تنہائی میں اصلاح کرتے ہیں۔
کوئی لالچ نہیں رکهتے ایسےلوگ 'قیمت' سےنہیں 'قسمت' سے ملتے ہیں-"
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/719334581977447/
حیات بخیر ۔۔۔۔!!
نغمہ بار رہیں ۔۔۔۔!!
"وہی لوگ انمول ہیں جو خیرکی خبردیتے ہیں-
پریشانی میں دلاسہ اور بھروسہ دیتے ہیں-
عقل کی بات کرتے ہیں۔
ہمیشہ تنہائی میں اصلاح کرتے ہیں۔
کوئی لالچ نہیں رکهتے ایسےلوگ 'قیمت' سےنہیں 'قسمت' سے ملتے ہیں-"
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/719334581977447/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
السلام علیکم!
حیات بخیر!
انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/717403368837235/
حیات بخیر!
انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/717403368837235/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زندگی میں آسائشوں، راحتوں کےساتھ ساتھ آزمائشوں اور تکلیفوں کابھی سامنا ہوتا ہے، اللہ پاک اپنے بندوں کو کبھی مرض سے تو کبھی مال کی کمی سے،کبھی کسی رشتہ دار کی موت سے تو کبھی دشمن کے ڈر سے، کبھی کسی نقصان سے توکبھی آفات و بَلِیّات سے آزماتا ہےاور راہِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں آسکتی ہیں، انہی مصیبتوں اور آزمائشوں کے ذریعے فرماں بردار و نافرمان، محبت میں سچےّ اور محبت کے زبانی دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔
اللہ پاک کے نیک بندوں اور دوستوں پر کیسی کیسی آزمائشیں آئیں مثلاً ☆ساڑھےنوسوسال تبلیغ کے باوجود حضرت سیّدنا نوح علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام پر اکثر قوم ایمان نہ لائی ☆معبودِ حقیقی اللہ پاک کی عبادت کی طرف بُلانےاورباطل معبودوں(خداؤں) کے انکار کی وجہ سےحضرت سیّدنا ابراہیم علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو آگ میں ڈالا گیا ☆اسی طرح حضرت سیّدناایوب علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کابیماری میں مبتلا کیاجانا ☆ان کی اولاد اور اَمْوال واپس لے لینا ☆ حضرت سیّدنا موسیٰ علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کا مِصر سے ہجرت کرنا ☆ لوگوں کا حضرت سیّدنا عیسٰی علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو ستانا اور ☆کئی انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ والسَّلام کوشہیدکرنا ☆طائف کے مقام پر پیارےمکّی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےجسمِ مقدس کا لہولہان ہونا ☆نیز آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاشَعْبِ ابی طالب میں مسلسل تین سال تک مَحْصُور(قید) رہ کر زندگی کے کٹھن (مشکل) دن گزارنا ☆اور مکۂ پاک سے مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت کرنا ☆صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اور اہلِ بیتِ اَطہار بِالخصوص شُہدائے کربلا و اَسیرانِ کربلاپرمصیبتوں کی کثرت کا ہونا، یہ سب راہِ خدا میں آنے والی آزمائشوں ہی کی داستانیں ہیں۔ مگر ان تمام مَصائب و تکالیف کے باوجود ان مبارک ہستیوں کے پائے اِسْتِقْلال (یعنی استقامت) میں ذَرّہ برابربھی فرق نہ آیا۔ ان مبارک ہستیوں نےکلمۂ حق کو بلند کئے رکھا اور مصیبتوں پر صبر کے پہاڑ بنے رہے۔ 10محرّمُ الحرام 61ہجری جمعۃ المبارک کے دن کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حضرت سیّدناامام حُسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رُفَقا (Companions) کے جسموں پر تیروں،تلواروں اور نیزوں کے برسنے، میدانِ کربلامیں اَہلِ بیتِ اَطْہار کے خاندانِ عالیشان کےنوجوانوں اوربچّوں کی لاشوں کے بکھرے پڑے ہونے،شہدائےکرام کے سَر نیزوں پر بلند ہونے، یزیدی دَرِندوں کی دَرِنْدَگی اور ان کے مقابلے میں ان پاک ہستیوں کے راہِ حق میں آنے والی تکالیف پرصبرکو جب آسمان نے دیکھا تو اس سے خون برس پڑا اور سات دنوں تک اس کایہ سلسلہ جاری رہا، بیتُ المُقَدَّس کی سَرزمین کاجوبھی پتّھر اُٹھایاجاتاتواس کےنیچےبھی تازہ خون پایا جاتا۔ (دلائل النبوۃ،ج6 ،ص471،الصواعق المحرقۃ، ص194 ماخوذاً) یاد رہے کہ آزمائشیں اورمصیبتیں انسان پر اس کی دینداری کےمطابق آتی ہیں جودین میں جتنا زیادہ پُختہ ہوتا ہے اس پرآنے والی آزمائشیں اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں، نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی : یَارسولَ اللہ! (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں؟ فرمایا: انبیا (علیہم السَّلام)پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر ان کے بعد جو بہتر ہیں، بندے کو اپنی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر وہ دین میں سَخْت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سَخْت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں کمزور ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی دینداری کے مطابق اسے آزماتا ہے۔(ابن ماجہ ،ج4،ص369،حدیث:4023ملتقطاً)
عام طورپرکئی لوگ مصیبتوں اورآزمائشوں کےوقت بےصَبْرے ہوجاتے ہیں حالانکہ ہم پرمصیبتوں کاآنا ہمارے ساتھ اللہ پاک کی طرف سے بھلائی کے ارادے اور ہم سے اس کی محبت کی نشانی ہے،نیز اگر اللہ پاک کی رضاکےلئےہم نے مصیبت پر صبر کیا تو وہ آزمائش قیامت کے دن ہمارے چہرےکو روشن کرےگی، تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں:(1)اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،ج4،ص4، حدیث:5645) (2)جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت فرماتا ہے یا اسے اپنا دوست بنانے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس پر آزمائشوں کی با رش فرما دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب ،ج4،ص142،حدیث:19) (3)مصیبت اپنے صاحب کا چہرہ اس دن چمکائے گی جس دن چہرے سیاہ ہوں گے۔ (معجم اوسط،ج3،ص290، حدیث:4622) اللہ کریم نے قراٰنِ پاک میں 70سے زائد مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا اور اکثر دَرَجات و بھلائیوں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کاپھل قرار دیا ہے۔صبرکے فضائل پر 10 روایات ملاحظہ کیجئے: ☆صبر ایمان کا نصف حصّہ ہے۔ (حلیۃالاولیاء،ج5،ص38، حدیث:6235) ☆صبر جنَّت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج 4،ص24، حدیث:16)
☆صبر ایمان کا ایک سُتون ہے۔ ( شعب
اللہ پاک کے نیک بندوں اور دوستوں پر کیسی کیسی آزمائشیں آئیں مثلاً ☆ساڑھےنوسوسال تبلیغ کے باوجود حضرت سیّدنا نوح علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام پر اکثر قوم ایمان نہ لائی ☆معبودِ حقیقی اللہ پاک کی عبادت کی طرف بُلانےاورباطل معبودوں(خداؤں) کے انکار کی وجہ سےحضرت سیّدنا ابراہیم علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو آگ میں ڈالا گیا ☆اسی طرح حضرت سیّدناایوب علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کابیماری میں مبتلا کیاجانا ☆ان کی اولاد اور اَمْوال واپس لے لینا ☆ حضرت سیّدنا موسیٰ علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کا مِصر سے ہجرت کرنا ☆ لوگوں کا حضرت سیّدنا عیسٰی علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو ستانا اور ☆کئی انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ والسَّلام کوشہیدکرنا ☆طائف کے مقام پر پیارےمکّی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےجسمِ مقدس کا لہولہان ہونا ☆نیز آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاشَعْبِ ابی طالب میں مسلسل تین سال تک مَحْصُور(قید) رہ کر زندگی کے کٹھن (مشکل) دن گزارنا ☆اور مکۂ پاک سے مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت کرنا ☆صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اور اہلِ بیتِ اَطہار بِالخصوص شُہدائے کربلا و اَسیرانِ کربلاپرمصیبتوں کی کثرت کا ہونا، یہ سب راہِ خدا میں آنے والی آزمائشوں ہی کی داستانیں ہیں۔ مگر ان تمام مَصائب و تکالیف کے باوجود ان مبارک ہستیوں کے پائے اِسْتِقْلال (یعنی استقامت) میں ذَرّہ برابربھی فرق نہ آیا۔ ان مبارک ہستیوں نےکلمۂ حق کو بلند کئے رکھا اور مصیبتوں پر صبر کے پہاڑ بنے رہے۔ 10محرّمُ الحرام 61ہجری جمعۃ المبارک کے دن کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حضرت سیّدناامام حُسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رُفَقا (Companions) کے جسموں پر تیروں،تلواروں اور نیزوں کے برسنے، میدانِ کربلامیں اَہلِ بیتِ اَطْہار کے خاندانِ عالیشان کےنوجوانوں اوربچّوں کی لاشوں کے بکھرے پڑے ہونے،شہدائےکرام کے سَر نیزوں پر بلند ہونے، یزیدی دَرِندوں کی دَرِنْدَگی اور ان کے مقابلے میں ان پاک ہستیوں کے راہِ حق میں آنے والی تکالیف پرصبرکو جب آسمان نے دیکھا تو اس سے خون برس پڑا اور سات دنوں تک اس کایہ سلسلہ جاری رہا، بیتُ المُقَدَّس کی سَرزمین کاجوبھی پتّھر اُٹھایاجاتاتواس کےنیچےبھی تازہ خون پایا جاتا۔ (دلائل النبوۃ،ج6 ،ص471،الصواعق المحرقۃ، ص194 ماخوذاً) یاد رہے کہ آزمائشیں اورمصیبتیں انسان پر اس کی دینداری کےمطابق آتی ہیں جودین میں جتنا زیادہ پُختہ ہوتا ہے اس پرآنے والی آزمائشیں اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں، نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی : یَارسولَ اللہ! (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں؟ فرمایا: انبیا (علیہم السَّلام)پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر ان کے بعد جو بہتر ہیں، بندے کو اپنی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر وہ دین میں سَخْت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سَخْت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں کمزور ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی دینداری کے مطابق اسے آزماتا ہے۔(ابن ماجہ ،ج4،ص369،حدیث:4023ملتقطاً)
عام طورپرکئی لوگ مصیبتوں اورآزمائشوں کےوقت بےصَبْرے ہوجاتے ہیں حالانکہ ہم پرمصیبتوں کاآنا ہمارے ساتھ اللہ پاک کی طرف سے بھلائی کے ارادے اور ہم سے اس کی محبت کی نشانی ہے،نیز اگر اللہ پاک کی رضاکےلئےہم نے مصیبت پر صبر کیا تو وہ آزمائش قیامت کے دن ہمارے چہرےکو روشن کرےگی، تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں:(1)اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،ج4،ص4، حدیث:5645) (2)جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت فرماتا ہے یا اسے اپنا دوست بنانے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس پر آزمائشوں کی با رش فرما دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب ،ج4،ص142،حدیث:19) (3)مصیبت اپنے صاحب کا چہرہ اس دن چمکائے گی جس دن چہرے سیاہ ہوں گے۔ (معجم اوسط،ج3،ص290، حدیث:4622) اللہ کریم نے قراٰنِ پاک میں 70سے زائد مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا اور اکثر دَرَجات و بھلائیوں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کاپھل قرار دیا ہے۔صبرکے فضائل پر 10 روایات ملاحظہ کیجئے: ☆صبر ایمان کا نصف حصّہ ہے۔ (حلیۃالاولیاء،ج5،ص38، حدیث:6235) ☆صبر جنَّت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج 4،ص24، حدیث:16)
☆صبر ایمان کا ایک سُتون ہے۔ ( شعب
الایمان،ج1،ص70،حدیث:39) ☆بندے کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ (مستدرک،ج3،ص187، حدیث:3605) ☆صبرافضل ترین عمل ہے۔ (شعب الایمان،ج7 ،ص122، حدیث:9710) ☆صبر بھلائیوں کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (موسوعۃابن ابی الدنیا،ج4،ص24،حدیث:17) ☆بینائی چلی جانے پر صبر کرنے کی جزا جنّت ہے۔ (بخاری،ج4،ص6، حدیث: 5653) ☆صبر کے ساتھ آسانی کا انتظار کرنا عبادت ہے۔ ( شعب الایمان،ج 7،ص204، حدیث: 10003) ☆فتنے کی شِدّت پرصبر کرنے والے کو قیامت کے دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ ( شعب الایمان،ج 7،ص124،حدیث:9721) ☆قیامت کے دن رُوئے زمین کے سب سے زیادہ شکر گزار بندےکو لایا جائے گا۔ اللہ پاک اسے شکر کاثواب عطا فرمائے گاپھررُوئے زمین کے سب سے زیادہ صبر کرنے والے کو لایا جائے گا تو اللہ پاک فرمائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ اس شکر گزار کو ملنے والا ثواب تجھے بھی ملے؟ وہ عرض کرے گا: ہاں میرے ربّ ۔ اللہ پاک فرمائے گا: ہرگزنہیں! میں نے تجھے نعمت عطا کی تَو تُونے شکر کیا اورمصیبت میں مبتلا کیا تَوتُونے صبر کیا۔آج میں تجھے دُگنا اَجْر عطا کروں گاپھر اسے شکرگزار سے دُگنا اَجْر عطا کیا جائے گا۔(تفسیرِنیشاپوری،پ1، البقرة،تحت الآیۃ:155،ج1،ص442)
تمام عاشقانِ رسول سےمیری فریادہےکہ اللہ پاک کی رضا کے لئےراہِ حق میں آنےوالی مصیبتوں اورآزمائشوں پر صبرکیجئے، اس کے دین کی سَربُلَندی کے لئے اپنی کوششوں کو تیز تَر کردیجئے، اللہ پاک کی رحمت سے قوی امید ہے کہ وہ کربلا والوں کے صدقے میں ہماری قَبْر وآخِرت کوضرور روشن فرمائے گا۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
وہ عشقِ حقیقی کی لذّت نہیں پا سکتا
جو رنج و مُصیبت سے دوچار نہیں ہوتا (وسائلِ بخشش (مُرمَّم) ص 164)
نوٹ: یہ مضمون نگرانِ شوریٰ کے بیانات اور گفتگووغیرہ کی مدد سے تیار کر کے انہیں چیک کروانے کے بعد پیش کیا گیا ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تمام عاشقانِ رسول سےمیری فریادہےکہ اللہ پاک کی رضا کے لئےراہِ حق میں آنےوالی مصیبتوں اورآزمائشوں پر صبرکیجئے، اس کے دین کی سَربُلَندی کے لئے اپنی کوششوں کو تیز تَر کردیجئے، اللہ پاک کی رحمت سے قوی امید ہے کہ وہ کربلا والوں کے صدقے میں ہماری قَبْر وآخِرت کوضرور روشن فرمائے گا۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
وہ عشقِ حقیقی کی لذّت نہیں پا سکتا
جو رنج و مُصیبت سے دوچار نہیں ہوتا (وسائلِ بخشش (مُرمَّم) ص 164)
نوٹ: یہ مضمون نگرانِ شوریٰ کے بیانات اور گفتگووغیرہ کی مدد سے تیار کر کے انہیں چیک کروانے کے بعد پیش کیا گیا ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
134 خلفائے "اَعلیٰ حَضرَت" کا مختصر تذکرہ (باعتبار حروف تہجی)
✍ رکن شوریٰ حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاریمدنی
عالمِ اسلام کی عبقری اور نابغۂ روزگار شخصیت امام عشق و محبت ، امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے شجرِ اسلام کو اپنے لہو سے جس طرح سیراب کیا اور اس کی آبیاری میں جس جانکاہی کا مظاہرہ فرمایا ہے اس کے اَنمِنٹ نقوش پوری دنیا میں دیکھے جارہے ہیں۔بر صغیر کے طبقۂ علما کے سرخیل امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تمام عمر ایوانِ جہل و ظلمت میں قندیلِ ربانی روشن کرتے رہے۔ آپ نے فقہ و فتاویٰ ، تفسیر و کلام اور سیر و تاریخ کے دامن میں اپنے علم و فن کے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ آج بھی آبدار موتی کی طرح چمک دمک رہے ہیں اور ان سے عالَمِ انسانیت فیضیاب ہورہا ہے۔
ایک طرف اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی اپنی ذاتی خدمات اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں تو دوسری طرف ان کے سو (100)سے زیادہ تربیت یافتہ خلفا اور ہزاروں تلامذہ کی خدماتِ دینی بھی بر صغیر کی تاریخ کا ایک انمول حصہ ہے۔ امامِ اہلِ سنت نے برصغیر میں بالخصوص تقدیسِ الٰہی، تحفظِ ختمِ نبوت اور تعظیمِ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمات کا جو بیڑا اٹھایاتھا ان کے تلامذہ اور خلفا نے اس کو چار چاند لگانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
اعلیٰ حضرت نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر میدان کا مردِ مجاہد تیار کرکے قوم کو عطا کیا۔ حجۃ الاسلام، صدرالشریعہ، صدرالافاضل، محدثِ اعظم ہند، مفتیِ اعظم ہند، ملک العلماء، مبلغِ اسلام، شیر بیشۂ اہلسنت جیسے برجِ فضل و کمال کے درخشندہ ماہ ونجوم آپ ہی کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے ہیں۔ آپ کے متعدد خلفا نے مختلف جہتوں میں کام کیا ۔ مثلاً فقہی، معاشرتی اور معاشی مسائل،تحریک جدو جہد آزادی، تبلیغِ اسلام، روحانی اور طریقت کے افکار، ردِ مذاہبِ باطل ادیان وغیرہا۔ آپ کے خلفا پاکستان، ہند، بنگال، افریقہ اور بلادِ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے پاک و ہند اور بیرونی دنیا کے گوشہ گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچایا اور مسلکِ اہل سنت و جماعت کی اشاعت کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سچا فدائی و پرستار بنایا۔
یہاں بڑی جانفشانی اور خوب محنت کے بعد 134 خلفائے اعلیٰ حضرت کا مختصر اور جامع تذکرہ جمع کیا گیا ہے۔ حالات لکھتے وقت حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہر خلیفۂ اعلیٰ حضرت کا لقب، کنیت ملے تو اس کا ذکر، نسبت، مکمل نام، پیدائش اور وفات کی تاریخ، ان کی لکھی ہوئی کتاب، ان کا قائم کردہ ادارہ ہو تو اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ بعض خلفا کے متعلق ممکنہ تلاش و بسیار کے باجود زیادہ معلومات نہ مل سکیں ، اس لئے ان کے متعلق جتنی معلومات میسر آئیں وہ رقم کردی گئی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک اس کاوش کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے اور ہمیں مسلکِ اعلیٰ پر دوام نصیب فرمائے۔ آمین
✍ رکن شوریٰ حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاریمدنی
عالمِ اسلام کی عبقری اور نابغۂ روزگار شخصیت امام عشق و محبت ، امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے شجرِ اسلام کو اپنے لہو سے جس طرح سیراب کیا اور اس کی آبیاری میں جس جانکاہی کا مظاہرہ فرمایا ہے اس کے اَنمِنٹ نقوش پوری دنیا میں دیکھے جارہے ہیں۔بر صغیر کے طبقۂ علما کے سرخیل امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تمام عمر ایوانِ جہل و ظلمت میں قندیلِ ربانی روشن کرتے رہے۔ آپ نے فقہ و فتاویٰ ، تفسیر و کلام اور سیر و تاریخ کے دامن میں اپنے علم و فن کے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ آج بھی آبدار موتی کی طرح چمک دمک رہے ہیں اور ان سے عالَمِ انسانیت فیضیاب ہورہا ہے۔
ایک طرف اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی اپنی ذاتی خدمات اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں تو دوسری طرف ان کے سو (100)سے زیادہ تربیت یافتہ خلفا اور ہزاروں تلامذہ کی خدماتِ دینی بھی بر صغیر کی تاریخ کا ایک انمول حصہ ہے۔ امامِ اہلِ سنت نے برصغیر میں بالخصوص تقدیسِ الٰہی، تحفظِ ختمِ نبوت اور تعظیمِ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمات کا جو بیڑا اٹھایاتھا ان کے تلامذہ اور خلفا نے اس کو چار چاند لگانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
اعلیٰ حضرت نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر میدان کا مردِ مجاہد تیار کرکے قوم کو عطا کیا۔ حجۃ الاسلام، صدرالشریعہ، صدرالافاضل، محدثِ اعظم ہند، مفتیِ اعظم ہند، ملک العلماء، مبلغِ اسلام، شیر بیشۂ اہلسنت جیسے برجِ فضل و کمال کے درخشندہ ماہ ونجوم آپ ہی کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے ہیں۔ آپ کے متعدد خلفا نے مختلف جہتوں میں کام کیا ۔ مثلاً فقہی، معاشرتی اور معاشی مسائل،تحریک جدو جہد آزادی، تبلیغِ اسلام، روحانی اور طریقت کے افکار، ردِ مذاہبِ باطل ادیان وغیرہا۔ آپ کے خلفا پاکستان، ہند، بنگال، افریقہ اور بلادِ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے پاک و ہند اور بیرونی دنیا کے گوشہ گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچایا اور مسلکِ اہل سنت و جماعت کی اشاعت کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سچا فدائی و پرستار بنایا۔
یہاں بڑی جانفشانی اور خوب محنت کے بعد 134 خلفائے اعلیٰ حضرت کا مختصر اور جامع تذکرہ جمع کیا گیا ہے۔ حالات لکھتے وقت حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہر خلیفۂ اعلیٰ حضرت کا لقب، کنیت ملے تو اس کا ذکر، نسبت، مکمل نام، پیدائش اور وفات کی تاریخ، ان کی لکھی ہوئی کتاب، ان کا قائم کردہ ادارہ ہو تو اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ بعض خلفا کے متعلق ممکنہ تلاش و بسیار کے باجود زیادہ معلومات نہ مل سکیں ، اس لئے ان کے متعلق جتنی معلومات میسر آئیں وہ رقم کردی گئی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک اس کاوش کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے اور ہمیں مسلکِ اعلیٰ پر دوام نصیب فرمائے۔ آمین
آ
(1) عاشقِ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّد آصف علی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل اور مجازِ طریقت تھے، کانپور محلہ فیل خانہ قدیم میں 1295ہجری میں پیدا ہوئے اور 14شوال 1360ہجری میں کانپور (یوپی) ہند میں ہی وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص283-288)
الف
(2 ) عالمِ باعمل حضرت سیدابراہیم بن عبدالقادرحنفی مدنی کی ولادت مدینہ شریف میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل تھے۔ فاضلِ اَجل، عابد و زاہد اور بڑ ے پرہیز گار تھے ۔ تحصیلِ علم کے لیے6 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔ (تذکرہ ٔخلفائے اعلیٰ حضرت ص 79،تاریخ الدولۃ المکیہ ص 117،ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت 214) (3)مُفسّر اعظم حضرتِ مولانا ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1325 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔ 11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂِ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔ (تجلیات تاجُ الشریعہ، ص93، مفتی اعظم اورانکے خلفاء، ص110)
(4)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رضوی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دارُالعلوم حِزبُ الاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک دارُالعلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص314-318)
(5)مفسّرقراٰن حضرت علامہ سَیِّد ابوالحسنات محمد احمد قادِرِی اَشْرَفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1314ھ اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور2شعبان 1380ھ میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں وفات پائی، مزارِ داتا گنج بخش سیّد علی ہَجْویری کے قُرب میں دفن ہونے کا شرف پایا۔ آپ حافظ، قاری، عالمِ باعمل، بہترین واعِظ، مسلمانوں کے مُتَحَرِّک راہنما اور کئی کتب کے مُصَنِّف تھے۔ تصانیف میں تفسیرُالحَسَنات (8جلدیں) آپ کا خوبصورت کارنامہ ہے۔ ( تذکرہ اکابراہلسنت، ص442، تفسیرالحسنات، 1/46)
(6)مدرسِ حرم، عالمِ باعمل حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابوبکر بن سالم البار مکّی عَلَوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1301 ھ کومکّۂ مکرمہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 2 صَفَرُالْمُظَفَّر 1384ھ کو وصال فرمایا، جنّت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ آپ قاضیِ شہر، فقیہِ شافعی، استاذُ العُلَما، مصنف اور شیخِ طریقت تھے۔(الدلیل المشیر، ص 21، سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص200)
(7)شہزادۂ شیخ المشائخ،حضرت مولاناسیّد ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی کی ولادت 1286 ھ کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈ کر نگر،یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مناظرِ اسلام اورسلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ کو وصال فرمایا۔مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(حیات مخدوم الاولیا، ص439تا449)
(8)اُستاذُالعُلَماء مولانا اَحمد بخش صادِق تونْسَوِی رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، صاحبِ تصنیف، مُدرِّس و مُہْتَمِمْ مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف اور بانیِ جامِع مسجد احمد بخش (بلاک12، ڈیرہ غازی خان پنجاب) تھے۔ 1262ھ میں پیدا ہوئے اور 2 رجب 1364ھ میں وصال فرمایا۔ مزار مذکورہ جامِع مسجد سے مُتّصِل ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص124)
(9)مدرسِ حرم، قاضیِ مکّۂِ مکرّمہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بن عبدُاللہ ناضرین شافعی مکّی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1299ھ میں مکّۂ مکرّمہ میں ہوئی اور 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370 ھ کو وصال فرمایا، جنّۃُ المَعلٰیمیں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین مدرس، علومِ قدیم و جدید کے جامع، صاحبِ تقویٰ و ورع، فقہِ شافعی کے فقیہ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ (الدلیل المشیر، ص 46 تا51)
(10)شیخ الاسلام، حضرت امام احمد بن محمد حضراوی مكّى شاذلی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شاعرومؤرِّخِ اسلام، فقیہِ شافعی، کاتب و مصنّف کتب اور استاذُ العُلَماء تھے۔ 1252ھ کو مصر کے شہر اِسکَنْدَریہ میں پیدا ہوئے، حصولِ علم کے بعد زندگی بھر مکّۂ مکرَّمہ میں رہے اور یہیں 21ذوالقعدہ 1327ھ میں وصال فرمایا۔ تصنیف شدہ کتب میں نَفَحَاتُ الرّضی والقُبُول فِي فَضَائل الْمَدِيْنَةِ وزِيَارَةِ الرَّسُوْل بھی یادگار ہے۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 84۔ سالنامه معارف رضا 1999، ص203)
(11)امین الفقہاء حضرت مولانا احمدحسن خان قادری رضوی حیدرآبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1292ھ کو حیدرآباد دکن ہندمیں ہوئی۔ آپ جیّدعالمِ دین ،بہترین واعظ،سلسلہ قادریہ کے شیخِ طریقت تھے۔ آپ کا وصال29 ربیع الآخر 1395ھ کو حیدرآباد دکن میں ہی ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 557تا561)
(1) عاشقِ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّد آصف علی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل اور مجازِ طریقت تھے، کانپور محلہ فیل خانہ قدیم میں 1295ہجری میں پیدا ہوئے اور 14شوال 1360ہجری میں کانپور (یوپی) ہند میں ہی وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص283-288)
الف
(2 ) عالمِ باعمل حضرت سیدابراہیم بن عبدالقادرحنفی مدنی کی ولادت مدینہ شریف میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل تھے۔ فاضلِ اَجل، عابد و زاہد اور بڑ ے پرہیز گار تھے ۔ تحصیلِ علم کے لیے6 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔ (تذکرہ ٔخلفائے اعلیٰ حضرت ص 79،تاریخ الدولۃ المکیہ ص 117،ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت 214) (3)مُفسّر اعظم حضرتِ مولانا ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1325 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔ 11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂِ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔ (تجلیات تاجُ الشریعہ، ص93، مفتی اعظم اورانکے خلفاء، ص110)
(4)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رضوی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دارُالعلوم حِزبُ الاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک دارُالعلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص314-318)
(5)مفسّرقراٰن حضرت علامہ سَیِّد ابوالحسنات محمد احمد قادِرِی اَشْرَفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1314ھ اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور2شعبان 1380ھ میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں وفات پائی، مزارِ داتا گنج بخش سیّد علی ہَجْویری کے قُرب میں دفن ہونے کا شرف پایا۔ آپ حافظ، قاری، عالمِ باعمل، بہترین واعِظ، مسلمانوں کے مُتَحَرِّک راہنما اور کئی کتب کے مُصَنِّف تھے۔ تصانیف میں تفسیرُالحَسَنات (8جلدیں) آپ کا خوبصورت کارنامہ ہے۔ ( تذکرہ اکابراہلسنت، ص442، تفسیرالحسنات، 1/46)
(6)مدرسِ حرم، عالمِ باعمل حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابوبکر بن سالم البار مکّی عَلَوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1301 ھ کومکّۂ مکرمہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 2 صَفَرُالْمُظَفَّر 1384ھ کو وصال فرمایا، جنّت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ آپ قاضیِ شہر، فقیہِ شافعی، استاذُ العُلَما، مصنف اور شیخِ طریقت تھے۔(الدلیل المشیر، ص 21، سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص200)
(7)شہزادۂ شیخ المشائخ،حضرت مولاناسیّد ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی کی ولادت 1286 ھ کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈ کر نگر،یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مناظرِ اسلام اورسلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ کو وصال فرمایا۔مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(حیات مخدوم الاولیا، ص439تا449)
(8)اُستاذُالعُلَماء مولانا اَحمد بخش صادِق تونْسَوِی رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، صاحبِ تصنیف، مُدرِّس و مُہْتَمِمْ مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف اور بانیِ جامِع مسجد احمد بخش (بلاک12، ڈیرہ غازی خان پنجاب) تھے۔ 1262ھ میں پیدا ہوئے اور 2 رجب 1364ھ میں وصال فرمایا۔ مزار مذکورہ جامِع مسجد سے مُتّصِل ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص124)
(9)مدرسِ حرم، قاضیِ مکّۂِ مکرّمہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بن عبدُاللہ ناضرین شافعی مکّی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1299ھ میں مکّۂ مکرّمہ میں ہوئی اور 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370 ھ کو وصال فرمایا، جنّۃُ المَعلٰیمیں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین مدرس، علومِ قدیم و جدید کے جامع، صاحبِ تقویٰ و ورع، فقہِ شافعی کے فقیہ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ (الدلیل المشیر، ص 46 تا51)
(10)شیخ الاسلام، حضرت امام احمد بن محمد حضراوی مكّى شاذلی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شاعرومؤرِّخِ اسلام، فقیہِ شافعی، کاتب و مصنّف کتب اور استاذُ العُلَماء تھے۔ 1252ھ کو مصر کے شہر اِسکَنْدَریہ میں پیدا ہوئے، حصولِ علم کے بعد زندگی بھر مکّۂ مکرَّمہ میں رہے اور یہیں 21ذوالقعدہ 1327ھ میں وصال فرمایا۔ تصنیف شدہ کتب میں نَفَحَاتُ الرّضی والقُبُول فِي فَضَائل الْمَدِيْنَةِ وزِيَارَةِ الرَّسُوْل بھی یادگار ہے۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 84۔ سالنامه معارف رضا 1999، ص203)
(11)امین الفقہاء حضرت مولانا احمدحسن خان قادری رضوی حیدرآبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1292ھ کو حیدرآباد دکن ہندمیں ہوئی۔ آپ جیّدعالمِ دین ،بہترین واعظ،سلسلہ قادریہ کے شیخِ طریقت تھے۔ آپ کا وصال29 ربیع الآخر 1395ھ کو حیدرآباد دکن میں ہی ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 557تا561)
(12)تاجُ الْفُیُوض حضرت مولانا احمد حسین امروہی نقشبندی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شیخِ طریقت، شاعِر، کئی کُتُب کے مصنف اور مُتَرْجِم تھے۔ 1289ھ میں پیدا ہوئے اور 27رجب 1361ھ میں وِصال فرمایا۔ تدفین والِدِ گِرامی کے پہلو اَمروہہ ضلع مُرادآباد (یوپی) ہند میں ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص126،تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص264)
(13)استاذُ العُلَما، حضرت مولانا سیّد احمد عالَم قادری رجہتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع بچروکھی نزد رجہت (ضلع نوادہ، بہار) ہند میں ہوئی اور 12 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، بسرام پور، تھانہ امام گنج (ضلع گیا، بہار) ہند میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّد عالِم، مدرس اور قادرُ الکلام واعظ تھے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت،اپریل 2002ء صد سالہ منظرِ اسلام نمبر قسط:2، ص167)
(14)مبلغِ اسلام،حضرت مولانا شاہ احمد مختار صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،واعظِ خوش بیان، استاذُ العلماء، ہمدردِمِلّت اور بلند پایہ مُصنف تھے ،آپ کی کوشش سےکئی غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے۔1294ھ میں میرٹھ (یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے اور14 جمادی الاولیٰ1357ھ کودَمّن پرتگیز (ہند) میں وصال فرمایا۔(ماہانہ معارف رضا جون 2012ء، ص29)
(15) قاضی مکہ شیخ اَسْعدبن احمددھان مکی حَنَفِی کی ولادت 1280 ھ مکہ شریف میں ہوئی اور 1341 ھ کووِصال فرمایا، مکہِ مکرمہ میں دَفْن کئے گئے ۔آپ کثیرعُلُوْم کے جامِع ،بہترین کاتِب، مُدَرِّسِ حَرَم،امِام نمازِ تراویح ، حَسَنَۃُ الزَمان، زاہد ومتقی، رُکْنِ مَجْلسِ تعزیراتِ شَرْعِیہ ، صدرہیئۃِمجلسِ تَدْقیِقْاتِ اُمُوْرِ الْمُطَوِّفِیْن (معلمین سے معاملات کی چھان بین کرنے والے ادارے کےصدر) اور مُقَرِّظُ الدَوْلۃ المکیۃ وحُسام الحَرَمَیْن تھے۔(مختصر نشر النور والزھر ص129، امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلماء مکہ مکرمہ ص201تا205)
(16)مُحَافِظِ کُتُبِ حَرَم،عالمِ جَلیل حضرت شیخ سیداسماعیل بن سیدخلیل حنفی قادری آفندی مکی کی ولادت اندازاً 1270 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اوروصال 1329 ھ کواستبول میں فرمایا۔آپ جَیِّدومُحتاط عالمِ دین،بڑے ذَہین وفَطین،وَجیہ صورت اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔(الاجازات المتینہ ص32تا35،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص36 تا53،تاریخ الدولۃ المکیہ ص104)
(17)امام العُلَماء حضرت مولانا حافظ امام الدین کوٹلوی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت کوٹلی لوہاراں مغربی)ضلع سیالکوٹ) میں ہوئی اور19 صفَر المُظفّر 1381 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان عیدگاہ شریف راولپنڈی میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل ،اچھے واعظ ،مصنفِ کتب ،قادرالکلام شاعراورمجازِطریقت تھے ۔ نصرۃ الحق آپکے کلام کا مجموعہ ہے ۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص 30 ،33)
(18) صاحبِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1300ھ کو مدینۃ العُلَماءگھوسی (ضلع مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذوالقعدہ1376ھ کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم ومدرّس،متقی وپرہیزگار،مصنف کتب ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ)
(19)صاحبِ باغِ فردوس حضرت مولانا سیّد ایّوب علی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، فارسی و ریاضی میں ماہر، مُدَرِّس، شاعر، مصنف، بانیٔ رضوی کتب خانہ اوراعلیٰ حضرت کے پیش کار(منیجر) تھے۔ 1295ھ بریلی شریف( یوپی ،ہند) میں پیدا ہوئے، جمعۃُالوداع 26رمضان 1390ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک میانی قبرستان لاہور میں ہے۔ (ماہنامہ معارف رضا، نومبر 2001ء، ص19،21)
ب
(20) فاضلِ مکہ،حضرت مولانا بکررفیع مکی کو اعلیٰ حضرت نے3صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں خِلافت سے نوازا۔ (الاجازات المتینۃ،ص44)
(21) برہانِ ملت حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ کو جبل پور(سی پی) ہند میں ہوئی اور وصال26ربیع الاول 1405ھ کو فرمایا ۔مزارمبارک عیدگاہ کلاں رانی تال جبل پورمیں ہے ۔آپ فاضل دارالعلوم منطرِاسلام،مفتیِ اسلام،عُلومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،نعت گوشاعر،بہترین واعظ،متحرک راہنما،شیخِ طریقت اوردرگاہِ قادریہ سلامیہ کے سجادہ نشین تھے ۔تصنیف کردہ 26کتب ورسائل میں ’’جذبات برہان‘‘بھی ہے جو آپ کا نعتیہ دیوان ہے۔ (برہان ملت کی حیات وخدمات،16،17،63 )
(22) زینتُ القُرّاء حضرت مولانا حافظ قاری بشیر الدّین قادری نقشبندی جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرّس، شیخِ طریقت اور اچھے قاری تھے،ولادت 1285ہجری میں اور وصال 2 شوال 1326ہجری میں ہوا۔ مزار مبارک عیدگاہ کلاں جبل پور (مدھیہ پردیش) ہند میں ہے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص431-434)
ج
(13)استاذُ العُلَما، حضرت مولانا سیّد احمد عالَم قادری رجہتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع بچروکھی نزد رجہت (ضلع نوادہ، بہار) ہند میں ہوئی اور 12 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، بسرام پور، تھانہ امام گنج (ضلع گیا، بہار) ہند میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّد عالِم، مدرس اور قادرُ الکلام واعظ تھے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت،اپریل 2002ء صد سالہ منظرِ اسلام نمبر قسط:2، ص167)
(14)مبلغِ اسلام،حضرت مولانا شاہ احمد مختار صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،واعظِ خوش بیان، استاذُ العلماء، ہمدردِمِلّت اور بلند پایہ مُصنف تھے ،آپ کی کوشش سےکئی غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے۔1294ھ میں میرٹھ (یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے اور14 جمادی الاولیٰ1357ھ کودَمّن پرتگیز (ہند) میں وصال فرمایا۔(ماہانہ معارف رضا جون 2012ء، ص29)
(15) قاضی مکہ شیخ اَسْعدبن احمددھان مکی حَنَفِی کی ولادت 1280 ھ مکہ شریف میں ہوئی اور 1341 ھ کووِصال فرمایا، مکہِ مکرمہ میں دَفْن کئے گئے ۔آپ کثیرعُلُوْم کے جامِع ،بہترین کاتِب، مُدَرِّسِ حَرَم،امِام نمازِ تراویح ، حَسَنَۃُ الزَمان، زاہد ومتقی، رُکْنِ مَجْلسِ تعزیراتِ شَرْعِیہ ، صدرہیئۃِمجلسِ تَدْقیِقْاتِ اُمُوْرِ الْمُطَوِّفِیْن (معلمین سے معاملات کی چھان بین کرنے والے ادارے کےصدر) اور مُقَرِّظُ الدَوْلۃ المکیۃ وحُسام الحَرَمَیْن تھے۔(مختصر نشر النور والزھر ص129، امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلماء مکہ مکرمہ ص201تا205)
(16)مُحَافِظِ کُتُبِ حَرَم،عالمِ جَلیل حضرت شیخ سیداسماعیل بن سیدخلیل حنفی قادری آفندی مکی کی ولادت اندازاً 1270 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اوروصال 1329 ھ کواستبول میں فرمایا۔آپ جَیِّدومُحتاط عالمِ دین،بڑے ذَہین وفَطین،وَجیہ صورت اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔(الاجازات المتینہ ص32تا35،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص36 تا53،تاریخ الدولۃ المکیہ ص104)
(17)امام العُلَماء حضرت مولانا حافظ امام الدین کوٹلوی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت کوٹلی لوہاراں مغربی)ضلع سیالکوٹ) میں ہوئی اور19 صفَر المُظفّر 1381 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان عیدگاہ شریف راولپنڈی میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل ،اچھے واعظ ،مصنفِ کتب ،قادرالکلام شاعراورمجازِطریقت تھے ۔ نصرۃ الحق آپکے کلام کا مجموعہ ہے ۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص 30 ،33)
(18) صاحبِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1300ھ کو مدینۃ العُلَماءگھوسی (ضلع مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذوالقعدہ1376ھ کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم ومدرّس،متقی وپرہیزگار،مصنف کتب ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ)
(19)صاحبِ باغِ فردوس حضرت مولانا سیّد ایّوب علی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، فارسی و ریاضی میں ماہر، مُدَرِّس، شاعر، مصنف، بانیٔ رضوی کتب خانہ اوراعلیٰ حضرت کے پیش کار(منیجر) تھے۔ 1295ھ بریلی شریف( یوپی ،ہند) میں پیدا ہوئے، جمعۃُالوداع 26رمضان 1390ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک میانی قبرستان لاہور میں ہے۔ (ماہنامہ معارف رضا، نومبر 2001ء، ص19،21)
ب
(20) فاضلِ مکہ،حضرت مولانا بکررفیع مکی کو اعلیٰ حضرت نے3صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں خِلافت سے نوازا۔ (الاجازات المتینۃ،ص44)
(21) برہانِ ملت حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ کو جبل پور(سی پی) ہند میں ہوئی اور وصال26ربیع الاول 1405ھ کو فرمایا ۔مزارمبارک عیدگاہ کلاں رانی تال جبل پورمیں ہے ۔آپ فاضل دارالعلوم منطرِاسلام،مفتیِ اسلام،عُلومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،نعت گوشاعر،بہترین واعظ،متحرک راہنما،شیخِ طریقت اوردرگاہِ قادریہ سلامیہ کے سجادہ نشین تھے ۔تصنیف کردہ 26کتب ورسائل میں ’’جذبات برہان‘‘بھی ہے جو آپ کا نعتیہ دیوان ہے۔ (برہان ملت کی حیات وخدمات،16،17،63 )
(22) زینتُ القُرّاء حضرت مولانا حافظ قاری بشیر الدّین قادری نقشبندی جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرّس، شیخِ طریقت اور اچھے قاری تھے،ولادت 1285ہجری میں اور وصال 2 شوال 1326ہجری میں ہوا۔ مزار مبارک عیدگاہ کلاں جبل پور (مدھیہ پردیش) ہند میں ہے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص431-434)
ج
(23) مُدَرِّسِ حَرَم حضرتِ سَیِّدُناشیخ جمال بن امیربن حسین مالکی قادری کی ولادت 1285 ھ کومکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1349ھ کوفرمائی ،مکہ شریف میں دفن کئے گئے۔آپ امام مالکی،مُصَنِّفِ کُتُب،جَسْٹس شرعی عدالت،رُکْنِ مجلس اَعلیٰ محکمہ تعلیم اور مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ وحُسام الحرمین تھے، آپ کی کتب میں ’’الثمرات الجنیۃ فی الاسئلۃ النحویۃ‘‘ مشہور ہے۔ (مختصر نشر النوروالزھر،ص 163،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 149تا151)
(24)مداحُ الحبیب مولانا صوفی شاہ محمد جمیل الرحمٰن خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف ( یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1343 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان بہاری پور(سول لائن سٹی اسٹیشن) بریلی شریف(یوپی) ہندمیں مَزَار مولانا حسن رضا خان کے پہلو میں ہوئی۔ آپ خوش الحان نعت خوان، واعِظ خُوش بَیاں،عالمِ باعمل اورصاحبِ دِیوان شاعر تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص132،134۔برکات قادریت ص 15تا18 ،بریلی سے مدینہ ص 2)
ح
(25) شہزادۂِ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالم دین،ظاہری وباطنی حسن سےمالامال اور جانشینِ اعلیٰ حضرت تھے۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ میں وصال فرمایا اور مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہور ہے۔ (فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)
(26) مُحسنِ ملّت حضرتِ علّامہ مولانا حامد علی فاروقی رضوی رائے پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت قاضی پور چندہا (الٰہ آباد یوپی) ہند میں 1306ھ میں ہوئی۔ 26 محرّمُ الحرام 1388ھ کو وصال فرمایا، رائے پور کے مشہور ولیُ اللہ حضرت فاتح شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے قرب میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ فاضل منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظر و خطیبِ اسلام، ملّی قائد اور قومی راہنما تھے، آپ نے کئی فتاویٰ بھی لکھے، آپ کا 1924ء میں قائم کردہ ”مدرسہ و ادارہ اصلاحُ المسلمین و دارُالیتامیٰ چھتیس گڑھ ہند“ آج بھی قوم و ملت کی آبیاری کررہا ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص562تا573)
(27)مقرب شاہ جی میاں حضرت مولانا حکیم حبیب الرحمٰن خان رضوی پیلی بھیتی کی ولادت 1288ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1362ھ کو وِصال فرمایا، ان کی تدفین ان کے اپنےذاتی باغ میں ہوئی ۔ آپ عالم شہیر،مُدَرِّس جلیل، استاذالعُلَماء،مقبولِ عوام وعلما اوربانیٔ مدرسہ آستانہ عالیہ شیریہ ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، ص135۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص242)
(28) ہمدردِ ملّت حضرت مولانا حافظ حبیب اللہ قادری میرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، عربی وفارسی کےمدرِس اور بانیِ مسلم دَارُ الیَتَامٰی وَالمَسَاکِیْن مِیرَٹھ ہیں۔ 1304ہجری میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1367 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک قبرستان شاہ ولایت محلہ خیر نگر میرٹھ (یوپی) ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 227-233)
(29) صاحبِ ذوقِ نعت، استاذِ زَمَن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان برادرِ اکبراعلیٰ حضرت، قادِرُالکلام شاعر ،کئی کتب کےمصنف اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کےمہتممِ اوّل ہیں، 1276ھ کو محلہ سوداگران بریلی میں پیدا ہوئے، 22ر مضان 1326ھ کو وہیں وصال فرمایا، مزارمبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔آپ حضرت شاہ ابوالحسین نوری کے مریدوخلیفہ تھے، اعلیٰ حضرت نے بھی آپ کو خلافت سے نوازا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ،ص79،78،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(30)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت، سیّدُنا شیخ حسن بن عبدُالرّحمٰن عُجَیْمی حنفی مکی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالمِ کبیر،فاضلِ جلیل اور عُجَیْمیخاندان کے علمی وارث تھے،1289ھ میں ولادت ہوئی اورجمادی الاولیٰ1361ھ میں وصال فرمایا،جنت المعلیٰ مکۂِ مکرمہ میں دفن کیے گئے۔( مکۂ مکرمہ کے عُجَیْمی علما، ص95 ۔ الاجازت المتینۃ، ص64)
(31) شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العُلَما حضرتِ مولانا حسنین رضا خان رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)
(32) مفسرقرآن حضرت مولاناحشمت علی فائق قادری رضوی کی ولادت 1882ء بریلی شریف میں ہوئی اوریہیں 1962ء کو وصال فرمایا۔ قبرستان باقر گنج بریلی شریف میں دَفْن کئے گئے۔آپ فاضل منظراسلام،واعِظ اور شاعر تھے۔ آپ نے بالُخُصوص بچوں، عورتوں اور دینی طَلَبَہ کے لیے کُتُب تحریر فرمائیں۔ آپ کی تفسیر جواہرالایقان المعروف تفسیررضوی پانچ جلدوں پرمشتمل
(24)مداحُ الحبیب مولانا صوفی شاہ محمد جمیل الرحمٰن خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف ( یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1343 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان بہاری پور(سول لائن سٹی اسٹیشن) بریلی شریف(یوپی) ہندمیں مَزَار مولانا حسن رضا خان کے پہلو میں ہوئی۔ آپ خوش الحان نعت خوان، واعِظ خُوش بَیاں،عالمِ باعمل اورصاحبِ دِیوان شاعر تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص132،134۔برکات قادریت ص 15تا18 ،بریلی سے مدینہ ص 2)
ح
(25) شہزادۂِ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالم دین،ظاہری وباطنی حسن سےمالامال اور جانشینِ اعلیٰ حضرت تھے۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ میں وصال فرمایا اور مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہور ہے۔ (فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)
(26) مُحسنِ ملّت حضرتِ علّامہ مولانا حامد علی فاروقی رضوی رائے پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت قاضی پور چندہا (الٰہ آباد یوپی) ہند میں 1306ھ میں ہوئی۔ 26 محرّمُ الحرام 1388ھ کو وصال فرمایا، رائے پور کے مشہور ولیُ اللہ حضرت فاتح شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے قرب میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ فاضل منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظر و خطیبِ اسلام، ملّی قائد اور قومی راہنما تھے، آپ نے کئی فتاویٰ بھی لکھے، آپ کا 1924ء میں قائم کردہ ”مدرسہ و ادارہ اصلاحُ المسلمین و دارُالیتامیٰ چھتیس گڑھ ہند“ آج بھی قوم و ملت کی آبیاری کررہا ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص562تا573)
(27)مقرب شاہ جی میاں حضرت مولانا حکیم حبیب الرحمٰن خان رضوی پیلی بھیتی کی ولادت 1288ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1362ھ کو وِصال فرمایا، ان کی تدفین ان کے اپنےذاتی باغ میں ہوئی ۔ آپ عالم شہیر،مُدَرِّس جلیل، استاذالعُلَماء،مقبولِ عوام وعلما اوربانیٔ مدرسہ آستانہ عالیہ شیریہ ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، ص135۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص242)
(28) ہمدردِ ملّت حضرت مولانا حافظ حبیب اللہ قادری میرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، عربی وفارسی کےمدرِس اور بانیِ مسلم دَارُ الیَتَامٰی وَالمَسَاکِیْن مِیرَٹھ ہیں۔ 1304ہجری میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1367 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک قبرستان شاہ ولایت محلہ خیر نگر میرٹھ (یوپی) ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 227-233)
(29) صاحبِ ذوقِ نعت، استاذِ زَمَن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان برادرِ اکبراعلیٰ حضرت، قادِرُالکلام شاعر ،کئی کتب کےمصنف اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کےمہتممِ اوّل ہیں، 1276ھ کو محلہ سوداگران بریلی میں پیدا ہوئے، 22ر مضان 1326ھ کو وہیں وصال فرمایا، مزارمبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔آپ حضرت شاہ ابوالحسین نوری کے مریدوخلیفہ تھے، اعلیٰ حضرت نے بھی آپ کو خلافت سے نوازا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ،ص79،78،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(30)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت، سیّدُنا شیخ حسن بن عبدُالرّحمٰن عُجَیْمی حنفی مکی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالمِ کبیر،فاضلِ جلیل اور عُجَیْمیخاندان کے علمی وارث تھے،1289ھ میں ولادت ہوئی اورجمادی الاولیٰ1361ھ میں وصال فرمایا،جنت المعلیٰ مکۂِ مکرمہ میں دفن کیے گئے۔( مکۂ مکرمہ کے عُجَیْمی علما، ص95 ۔ الاجازت المتینۃ، ص64)
(31) شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العُلَما حضرتِ مولانا حسنین رضا خان رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)
(32) مفسرقرآن حضرت مولاناحشمت علی فائق قادری رضوی کی ولادت 1882ء بریلی شریف میں ہوئی اوریہیں 1962ء کو وصال فرمایا۔ قبرستان باقر گنج بریلی شریف میں دَفْن کئے گئے۔آپ فاضل منظراسلام،واعِظ اور شاعر تھے۔ آپ نے بالُخُصوص بچوں، عورتوں اور دینی طَلَبَہ کے لیے کُتُب تحریر فرمائیں۔ آپ کی تفسیر جواہرالایقان المعروف تفسیررضوی پانچ جلدوں پرمشتمل
ہے۔ (جہان مفتی اعظم ہند،1072)
(33) شیر بیشۂ سنّت، عبیدالرّضا مولانا ابو الفتح حشمت علی خان رضوی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1319ھ کولکھنو(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حافظُ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الہندیہ“ اور ”فتاویٰ شیربیشۂ سنّت“ زیادہ مشہور ہیں۔ وصال8 محرَّمُ الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316)
(33) شیر بیشۂ سنّت، عبیدالرّضا مولانا ابو الفتح حشمت علی خان رضوی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1319ھ کولکھنو(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حافظُ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الہندیہ“ اور ”فتاویٰ شیربیشۂ سنّت“ زیادہ مشہور ہیں۔ وصال8 محرَّمُ الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316)
(34) اِمامِ تراویح فی الحَرَم سیّدحسین بن صدیق دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت 1294 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1340 ھ کو انڈونیشیا میں ہوئی اور یہیں دفن کئے گئے۔ آپ خوش الحان قاری، مبلغ اسلام، سیاحِ مَمالِکِ اِسلامیہ، اَدیب وشاعر، جیدعالم اوراُستاذالعُلَما تھے ۔(نشرالنورص 179،امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ ص303)
(35) منظورِنظر اعلیٰ حضرت شیخ سیدحسین بن عبد القادر حَنَفِیْ مَدَنی کی وِلادت اوروِصال مدینہ شریف میں ہوا۔تدفین جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں کی گئی۔آپ مدرس مسجدنبوی،جامِع عُلُوم جَدیدہ وقَدیمہ بالخُصُوص جَفَر ،نُجُوم، ہیئت ، اوفاق، اور تکسیرمیں ماہر، متقی وقانِع اورباحیا تھے۔ تحصیلِ علم کے لیے 14 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔( تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص58تا60،تاریخ الدولۃ المکیہ ص66،117،ملفوظات اعلیٰ حضرت, 211تا214)
(36)حضرت مولانا سَیِّدحسین علی رضوی اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کتاب ”دربارِچشت اجمیر“ کے مصنف،انجمن تبلیغِ مُحِبِّ مِشَن ہند اجمیر کے بانی اور روضہ ِٔخواجہ غریب نواز کے مجاور تھے۔ وصال 22شعبان1387 ھ میں ہوا اور اناساگرھاٹی اجمیر (راجستھان) ہند میں دفن کیے گئے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 448تا462)
خ
(37) اُستاذالعُلَماحضرت مولانا خلیل الرحمٰن بہاری قادری رضوی ،جیدعالم دین ، واعظ خوش بیان،مدرس مدرسہ عربیہ متیال مٹھ مدراس(ریاست تامل ناڈو) اورمجازطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص415تا417)
د
(38) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد دِیدارعلی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری علیہ رحمۃ اللہ القَویجَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَماء، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1273ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22رجب 1345ھ میں وِصال فرمایا۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف اور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزار مُبارَک اَندرونِ دہلی گیٹ محمدی محلّہ لاہور میں ہے۔ (فتاویٰ دیداریہ، ص2)
ر
(39)استاذُ العُلَماء، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی)ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم، صدر مدرس اور مجازِ طریقت تھے۔ آپ نے بحالتِ سفر (غالباً28) صَفَرُالْمُظَفَّر 1363ھ کو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138)
(40)استاذُالعُلَماء حضرت علامہ مفتی رحیم بخش آروی رَضَوی،جیِّد مُدَرِّس،مُنَاظِر،واعظ،مجازِ طریقت اور بانیٔ مدرسہ فیضُ الغُرَبَا (آرہ بہارہند)تھے۔ 8شعبان 1344ھ میں وفات پائی ،مولا باغ قبرستان آرہ (ضلع شاہ آبادبہار) ہند میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص137)
(41)بڑے مولانا حضرت علامہ مفتی رحیم بخش باتھوی رَضَوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، عارف باللہ،فاضل منظرِاسلام، استاذُ العلماء اور شیخ طریقت ہیں،19 جُمادی الاُخریٰ 1379ھ میں وصال فرمایا، مزارمبارک جنوبی قبرستان موضع باتھ اصلی ضلع سیتامڑھی صوبہ بہارہند میں ہے۔(تذکرہ علماء اہل سنت سیتامڑھی،157تا159،فقیہ اسلام ،266)
س
(42)استاذالعلماحضرتِ سیّدنا شیخ سیّد سالم بن سیدعیدروس بن عبدالرحمٰن البار، مکی علوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مکۂِ مکرمہ کے جَیِّدعالِمِ دین ،مُدَرِّس،شیخِ طریقت ، 11صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت سے خلافت پانے والے، حرمِ پاک کےدومُدَرِّسِیْن شیخ سیدعیدروس البار،مکی (1299تا1367 ھ ) اور خلیفہِ اعلیٰ حضرت شیخ سید ابوبکرالبار،مکی (1301تا1384ھ) کے والدِگرامی تھے۔آپ نے 1327ھ کو مکۂِ مکرمہ میں وفات پائی۔ (الاجازات المتینۃ ،46،خلفائے اعلیٰ حضرت ،61)
(43) واعِظِ خُوش بَیاں حضرت مولانا سرفراز احمد قادری رضوی کی ولادت غالباً محلہ مکہڑی کھوہ مرزاپور(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وِصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت، عالمِ دین،واعِظ اور مَجازِ طریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 317)
(44) تِلمیذِاعلیٰ حضرت مولانامفتی نواب سلطان احمدخان قادری رضوی کی ولادت ذوالحجہ 1279ھ کو بریلی کے خاندان نواب حافظ الملک رحمت خان بہادر میں ہوئی ،آپ فاضل منظراسلام ،علم الفرائض میں وحیدالعصراورحضرت ابوالحسین نوری کے مرید اوراعلیٰ حضرت کے خلیفہ تھے ،فتاویٰ رضویہ کی پہلی چارجلدیں آپ نے ترتیب دیں ۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ ،ص153،تذکرہ علمائے ہندوستان ،183)
(45) مفکرِ اسلام، پروفیسر حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں مِیر داد، ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور، الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144، سیدی ضیاء الدین احمد القادری، 2/266-268 )
ش
(35) منظورِنظر اعلیٰ حضرت شیخ سیدحسین بن عبد القادر حَنَفِیْ مَدَنی کی وِلادت اوروِصال مدینہ شریف میں ہوا۔تدفین جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں کی گئی۔آپ مدرس مسجدنبوی،جامِع عُلُوم جَدیدہ وقَدیمہ بالخُصُوص جَفَر ،نُجُوم، ہیئت ، اوفاق، اور تکسیرمیں ماہر، متقی وقانِع اورباحیا تھے۔ تحصیلِ علم کے لیے 14 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔( تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص58تا60،تاریخ الدولۃ المکیہ ص66،117،ملفوظات اعلیٰ حضرت, 211تا214)
(36)حضرت مولانا سَیِّدحسین علی رضوی اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کتاب ”دربارِچشت اجمیر“ کے مصنف،انجمن تبلیغِ مُحِبِّ مِشَن ہند اجمیر کے بانی اور روضہ ِٔخواجہ غریب نواز کے مجاور تھے۔ وصال 22شعبان1387 ھ میں ہوا اور اناساگرھاٹی اجمیر (راجستھان) ہند میں دفن کیے گئے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 448تا462)
خ
(37) اُستاذالعُلَماحضرت مولانا خلیل الرحمٰن بہاری قادری رضوی ،جیدعالم دین ، واعظ خوش بیان،مدرس مدرسہ عربیہ متیال مٹھ مدراس(ریاست تامل ناڈو) اورمجازطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص415تا417)
د
(38) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد دِیدارعلی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری علیہ رحمۃ اللہ القَویجَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَماء، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1273ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22رجب 1345ھ میں وِصال فرمایا۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف اور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزار مُبارَک اَندرونِ دہلی گیٹ محمدی محلّہ لاہور میں ہے۔ (فتاویٰ دیداریہ، ص2)
ر
(39)استاذُ العُلَماء، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی)ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم، صدر مدرس اور مجازِ طریقت تھے۔ آپ نے بحالتِ سفر (غالباً28) صَفَرُالْمُظَفَّر 1363ھ کو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138)
(40)استاذُالعُلَماء حضرت علامہ مفتی رحیم بخش آروی رَضَوی،جیِّد مُدَرِّس،مُنَاظِر،واعظ،مجازِ طریقت اور بانیٔ مدرسہ فیضُ الغُرَبَا (آرہ بہارہند)تھے۔ 8شعبان 1344ھ میں وفات پائی ،مولا باغ قبرستان آرہ (ضلع شاہ آبادبہار) ہند میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص137)
(41)بڑے مولانا حضرت علامہ مفتی رحیم بخش باتھوی رَضَوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، عارف باللہ،فاضل منظرِاسلام، استاذُ العلماء اور شیخ طریقت ہیں،19 جُمادی الاُخریٰ 1379ھ میں وصال فرمایا، مزارمبارک جنوبی قبرستان موضع باتھ اصلی ضلع سیتامڑھی صوبہ بہارہند میں ہے۔(تذکرہ علماء اہل سنت سیتامڑھی،157تا159،فقیہ اسلام ،266)
س
(42)استاذالعلماحضرتِ سیّدنا شیخ سیّد سالم بن سیدعیدروس بن عبدالرحمٰن البار، مکی علوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مکۂِ مکرمہ کے جَیِّدعالِمِ دین ،مُدَرِّس،شیخِ طریقت ، 11صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت سے خلافت پانے والے، حرمِ پاک کےدومُدَرِّسِیْن شیخ سیدعیدروس البار،مکی (1299تا1367 ھ ) اور خلیفہِ اعلیٰ حضرت شیخ سید ابوبکرالبار،مکی (1301تا1384ھ) کے والدِگرامی تھے۔آپ نے 1327ھ کو مکۂِ مکرمہ میں وفات پائی۔ (الاجازات المتینۃ ،46،خلفائے اعلیٰ حضرت ،61)
(43) واعِظِ خُوش بَیاں حضرت مولانا سرفراز احمد قادری رضوی کی ولادت غالباً محلہ مکہڑی کھوہ مرزاپور(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وِصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت، عالمِ دین،واعِظ اور مَجازِ طریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 317)
(44) تِلمیذِاعلیٰ حضرت مولانامفتی نواب سلطان احمدخان قادری رضوی کی ولادت ذوالحجہ 1279ھ کو بریلی کے خاندان نواب حافظ الملک رحمت خان بہادر میں ہوئی ،آپ فاضل منظراسلام ،علم الفرائض میں وحیدالعصراورحضرت ابوالحسین نوری کے مرید اوراعلیٰ حضرت کے خلیفہ تھے ،فتاویٰ رضویہ کی پہلی چارجلدیں آپ نے ترتیب دیں ۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ ،ص153،تذکرہ علمائے ہندوستان ،183)
(45) مفکرِ اسلام، پروفیسر حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں مِیر داد، ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور، الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144، سیدی ضیاء الدین احمد القادری، 2/266-268 )
ش
(46) امینُ الفتویٰ مفتی شفیع احمدبیسلپوری مُدَرِّس،واعِظ،مفتیٔ اسلام اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت ہیں،شعبان1301ھ بیسل پور (پیلی بھیت،یوپی) ہند میں پیدا ہوئے، عین عالمِ جوانی میں محض 37 سال کی مختصر عمر میں24 رمضان جمعۃُ الوداع 1338ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک بیسل پورمیں ہے۔ (مجالسِ علماء، ص75۔ تذکرہ محدث سورتی،ص288)
(47)استاذالعُلَماء حضرت علامہ مفتی شمس الدین احمد باسنوی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ کو کمہاری نزدباسنی ، ناگور راجستھان میں ہوئی ،آپ عالمِ باعمل ،جیّدمدرس ،مفتی اسلام ،خطیب احمدشہیدمسجدکمہاری ،عاشقِ کتب اورشیخِ طریقت تھے۔ 27رجب 1357ھ کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا،تدفین مزارِحضرت بالاپیرحسن سے جانب مغرب ہوئی ۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 463تا470)
(48)شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمَعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوریعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جیّد مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرّمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂِ مزارِ حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔ (قانون شریعت ،19تا21،تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت ،198)
(49)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیّدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور ”الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ“ آپکے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578)
ص
(50)مفتیِ اَعظم مکہ ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حَنَفِی قادری کی ولادت63 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا ،مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دَفْن کئے گئے۔آپ علامہِ دَہْر،حافِظ وقاری، مُدَرِّسِ مسجدِحَرَم، قاضیِ جَدَّہ، شیخُ الخُطَباوَالْاَئِمہ،اُستاذُالْعُلَما اورمکہ شریف کی مُؤَثِّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمَین برجف ندوۃ المین ،الدَوْلَۃُ الْمَکِّیۃ،حُسام الحَرَمین، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمْ پر تَقارِیْظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 305)
ض
(51) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت1294ھ کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4ذوالحجہ 1401ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم باعمل ،ولیِ کامل ،حسنِ اخلاق کے پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی ،اپنے مکان عالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(52) استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہانپور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثّر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)
ظ
(53)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )
(54) قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی ظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂِ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔ (سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151)
ع
(55)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدُنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم اور کئی کُتُب کےمصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا
(47)استاذالعُلَماء حضرت علامہ مفتی شمس الدین احمد باسنوی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ کو کمہاری نزدباسنی ، ناگور راجستھان میں ہوئی ،آپ عالمِ باعمل ،جیّدمدرس ،مفتی اسلام ،خطیب احمدشہیدمسجدکمہاری ،عاشقِ کتب اورشیخِ طریقت تھے۔ 27رجب 1357ھ کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا،تدفین مزارِحضرت بالاپیرحسن سے جانب مغرب ہوئی ۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 463تا470)
(48)شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمَعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوریعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جیّد مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرّمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂِ مزارِ حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔ (قانون شریعت ،19تا21،تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت ،198)
(49)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیّدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور ”الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ“ آپکے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578)
ص
(50)مفتیِ اَعظم مکہ ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حَنَفِی قادری کی ولادت63 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا ،مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دَفْن کئے گئے۔آپ علامہِ دَہْر،حافِظ وقاری، مُدَرِّسِ مسجدِحَرَم، قاضیِ جَدَّہ، شیخُ الخُطَباوَالْاَئِمہ،اُستاذُالْعُلَما اورمکہ شریف کی مُؤَثِّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمَین برجف ندوۃ المین ،الدَوْلَۃُ الْمَکِّیۃ،حُسام الحَرَمین، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمْ پر تَقارِیْظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 305)
ض
(51) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت1294ھ کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4ذوالحجہ 1401ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم باعمل ،ولیِ کامل ،حسنِ اخلاق کے پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی ،اپنے مکان عالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(52) استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہانپور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثّر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)
ظ
(53)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )
(54) قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی ظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂِ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔ (سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151)
ع
(55)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدُنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم اور کئی کُتُب کےمصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا
محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 129-136)
(56)سلطان الواعِظِیْن حضرت علامہ مولانا عبدُالاَحد مُحَدِّث پیلی بھیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مجازِ طریقت، استاذُالعُلَماء اور واعِظِ خوش بیاں تھے۔ 1298ھ میں پیلی بَھیت (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنْج مرادآباد(ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کیے گئے۔(تذکرہ محدث سورتی،209تا218)
(57) مُحبّ اعلیٰ حضرت الحاج سیدعبدالرزاق رضوی ہندکی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کٹنی کی صاحب ثروت شخصیت اورمَجازِطریقت تھے، مَزارِاعلیٰ حضرت تعمیرکمیٹی کے رُکْن بنائے گئے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص446تا447)
(58)امامِ تراویح و مدرّسِ مسجدِ حرام حضرت سیّدنا شیخ عبدُالرحمن بن احمد دھان مکی حنفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، ماہرِ فلکیات، استاذُ العُلَماء، مقبولِ عوام وخواص اور مقرِّظِ الدّولۃُ المَکّیۃ وحُسّامُ الحَرَمَین ہیں۔ مکّۂ مکرَّمہ میں 1283ھ کو پیدا ہوئے اور 12 ذوالقعدۃ الحرام 1337ھ کو وصال فرمایا، قبرستان المعلیٰ میں دھان خاندان کے احاطے میں دفن کئے گئے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص241۔ امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص205تا211)
(59) مسندالعصر، حضرت شیخ سیِّدعبدالرحمن بن سید عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی کی ولادت1338ھ کو ہوئی ، اعلیٰ حضرت نے27ذوالحجہ 1323ھ کو مکہ مکرمہ میں ان کے والداورانہیں خلافت سے نوازا ۔شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے ان سے اجازت پائی ، کتاب نيل الأماني بفهرسة مسند العصر عبد الرحمن میں ان کے مشائخ میں اعلیٰ حضرت کا نام بھی درج ہے ۔(الاجازت المتینہ،ص41،تذکرہ سنوسی مشائخ ،109،215)
(60)مخدومِ ملّت حضرت مولاناسیّد عبدالرحمٰن رضوی گیاوی بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی عالمِ دین،فتاویٰ نویس، مدرس اورشیخِ طریقت تھے ،آپ کی ولادت 1294ھ کو بیتھوشریف(ضلع گیاصوبہ بہار) ہند میں ہوئی، خانقاہ رحمانیہ کیری شریف(ضلع بانکا،صوبہ بہار) ہند میں13ذوالحجہ 1392ھ کووصال فرمایا ،مزار مبارک یہیں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضر ت ،418تا 421)
(64)عمیدالعلماء، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جے پوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مؤ ناتھ بھنجن (ضلع مؤ،یوپی) ہند میں ہوئی اور 12 جمادی الاخریٰ 1370 ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین تکیہ آدم شاہ (آگرہ روڈ،جے پور،راجستھان)ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل ،مدرس،بانی دارالعلوم بحرالعلوم مؤ ناتھ بھنجن، شیخِ طریقت اورولی کامل تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 475تا479)
(62)حضرت مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-959-965)
(63)عالمِ جَلیل حضرت مولاناعبدالجبارقادری رضوی ڈھاکہ (بنگلادیش )میں پیداہوئے اوریہیں وِصال فرمایا ۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اور اچھے عالم دین تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص2تا669)
(64)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل،صُوفی، مُصَنِّف اوریادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11)
(65)اُستاذالعُلَما،حضرت مولانا مفتی عبد الحق پنجابی محدث پیلی بھیتی کی ولادت محلہ پنجابیاں پیلی بھیت ( یوپی) ہند میں ہوئی۔یہیں75 سال کی عمر میں 1361 ھ کووِصال فرمایا۔ آپ فاضل مدرستہ الحدیث پیلی بھیت،ذَہین وفَطین عالمِ دین، اوراد و وظائف کے پابند،بہترین مُدَرِّس اورپیلی بھیت کے چاروں مَدارِس مَدْرَسہ الحدیث ،مَدْرَسہ حافظیہ ،مَدْرَسہ رحمانیہ اور مَدْرَسہ آستانہ شیریہ میں تدریسی خدمات سَراَنْجام دینے والے تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ،ص180۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص252)
(66)استاذالعُلَماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباً 1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کوہوا۔تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں ہوئی۔آپ ذہین وفطین عالمِ دین، جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدثِ سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص253)
(56)سلطان الواعِظِیْن حضرت علامہ مولانا عبدُالاَحد مُحَدِّث پیلی بھیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مجازِ طریقت، استاذُالعُلَماء اور واعِظِ خوش بیاں تھے۔ 1298ھ میں پیلی بَھیت (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنْج مرادآباد(ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کیے گئے۔(تذکرہ محدث سورتی،209تا218)
(57) مُحبّ اعلیٰ حضرت الحاج سیدعبدالرزاق رضوی ہندکی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کٹنی کی صاحب ثروت شخصیت اورمَجازِطریقت تھے، مَزارِاعلیٰ حضرت تعمیرکمیٹی کے رُکْن بنائے گئے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص446تا447)
(58)امامِ تراویح و مدرّسِ مسجدِ حرام حضرت سیّدنا شیخ عبدُالرحمن بن احمد دھان مکی حنفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، ماہرِ فلکیات، استاذُ العُلَماء، مقبولِ عوام وخواص اور مقرِّظِ الدّولۃُ المَکّیۃ وحُسّامُ الحَرَمَین ہیں۔ مکّۂ مکرَّمہ میں 1283ھ کو پیدا ہوئے اور 12 ذوالقعدۃ الحرام 1337ھ کو وصال فرمایا، قبرستان المعلیٰ میں دھان خاندان کے احاطے میں دفن کئے گئے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص241۔ امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص205تا211)
(59) مسندالعصر، حضرت شیخ سیِّدعبدالرحمن بن سید عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی کی ولادت1338ھ کو ہوئی ، اعلیٰ حضرت نے27ذوالحجہ 1323ھ کو مکہ مکرمہ میں ان کے والداورانہیں خلافت سے نوازا ۔شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے ان سے اجازت پائی ، کتاب نيل الأماني بفهرسة مسند العصر عبد الرحمن میں ان کے مشائخ میں اعلیٰ حضرت کا نام بھی درج ہے ۔(الاجازت المتینہ،ص41،تذکرہ سنوسی مشائخ ،109،215)
(60)مخدومِ ملّت حضرت مولاناسیّد عبدالرحمٰن رضوی گیاوی بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی عالمِ دین،فتاویٰ نویس، مدرس اورشیخِ طریقت تھے ،آپ کی ولادت 1294ھ کو بیتھوشریف(ضلع گیاصوبہ بہار) ہند میں ہوئی، خانقاہ رحمانیہ کیری شریف(ضلع بانکا،صوبہ بہار) ہند میں13ذوالحجہ 1392ھ کووصال فرمایا ،مزار مبارک یہیں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضر ت ،418تا 421)
(64)عمیدالعلماء، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جے پوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مؤ ناتھ بھنجن (ضلع مؤ،یوپی) ہند میں ہوئی اور 12 جمادی الاخریٰ 1370 ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین تکیہ آدم شاہ (آگرہ روڈ،جے پور،راجستھان)ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل ،مدرس،بانی دارالعلوم بحرالعلوم مؤ ناتھ بھنجن، شیخِ طریقت اورولی کامل تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 475تا479)
(62)حضرت مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-959-965)
(63)عالمِ جَلیل حضرت مولاناعبدالجبارقادری رضوی ڈھاکہ (بنگلادیش )میں پیداہوئے اوریہیں وِصال فرمایا ۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اور اچھے عالم دین تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص2تا669)
(64)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل،صُوفی، مُصَنِّف اوریادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11)
(65)اُستاذالعُلَما،حضرت مولانا مفتی عبد الحق پنجابی محدث پیلی بھیتی کی ولادت محلہ پنجابیاں پیلی بھیت ( یوپی) ہند میں ہوئی۔یہیں75 سال کی عمر میں 1361 ھ کووِصال فرمایا۔ آپ فاضل مدرستہ الحدیث پیلی بھیت،ذَہین وفَطین عالمِ دین، اوراد و وظائف کے پابند،بہترین مُدَرِّس اورپیلی بھیت کے چاروں مَدارِس مَدْرَسہ الحدیث ،مَدْرَسہ حافظیہ ،مَدْرَسہ رحمانیہ اور مَدْرَسہ آستانہ شیریہ میں تدریسی خدمات سَراَنْجام دینے والے تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ،ص180۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص252)
(66)استاذالعُلَماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباً 1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کوہوا۔تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں ہوئی۔آپ ذہین وفطین عالمِ دین، جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدثِ سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص253)
(67)عالمِ جلیل، حضرت شیخ سیِّد عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ فاس مغرب (یعنی مراکش) میں ہوئی۔ 12 رجب 1382ھ کو وصال فرمایا۔ نیس(Nice) فرانس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ آپ مُحَدِّث عرب وعجم، عالمِ باعمل، کئی کتب کے مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کی کتاب”فِہْرِسُ الفہارس“ علمائے سِیَر(علمائے سیرت)میں معروف ہے۔ (نظامِ حکومتِ نبویہ مترجم، ص 27، الاعلام للزرکلی، 6/187)
(68)مجازِطریقت حضرت الحاج عبدالسّتّاراسماعیل کاٹھیاواڑی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی رنگون (برما)کی صاحب ثروت اوردینی حمیت سے مالامال شخصیت کے مالک اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں سے تھے۔رنگون پھرافریقہ میں مسلک حق اہلِ سنّت کی خوب اشاعت کی ،آپ کا وصال غالباً 19شوال 1354ھ کو افریقہ میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،515تا516،تذکرہ مشاہیرالفقیہ ،115)
(69)حضرت مولانا عبدالستارصدیقی دہلوی مکی حنفی چشتی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مکہ مکرمہ میں1286 کو ہوئی اوریہیں11رجب 1355ھ کو وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، فاضل مدرسہ صولتیہ، مدرس مسجدِحرام ،امام تراویح فی الحرم ، محدِّثِ وقت،مؤرخ ،مجازِطریقت اورکئی کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی 35کتب میں فيض الملك المتعاليآپ کی مشہورکتاب ہے۔انھوں نے 18ذوالحجہ 1323ھ کو اعلیٰ حضرت سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ( فيض الملك المتعالی،9/1 تا47، نثرالجواہروالدرر،708/1۔710)
(70)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد عبدالسَّلام باندوی قادری علیہ رحمۃ اللہ البارِی ، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزارِ مبارک پا پوش قبرستان ناظم آباد کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)
(71)عیدُالاسلام،حضرت مولانامفتی حافظ عبدالسلام رضوی جبل پوری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت1283 ھ میں جبل پور (ایم پی ، ہند) میں ہوئی ،تعلیم والدِگرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مریدو خلیفہ ہیں ،جبل پور میں دارُالافتاء عیدُالاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ کو جبل پورمیں وصال فرمایا، مزار شریف مشہورہے۔(برہان ملت کی حیات وخدمات، ص 28تا37)
(72)استاذالعُلَماء،حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت بجنور (یوپی، ہند) میں ہوئی، آپ عالم، مدرس اور شیخِ طریقت تھے، جامعہ منظر اسلام بریلی میں طویل عرصہ تدریس کی،8جمادی الاولیٰ 1369ھ میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص181)
(73)مُبلّغِ اسلام، حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی مِیرَٹھیرحمۃ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائدکتب کے مصنف ،شُعْلہ بیان خطیب،متعد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظررکھنے والے عالمِ دین تھے، انہوں نے دنیا کے کئی مَمَالِک کاسفرکیا، ان کی کوشِشوں سے صاحبِ اِقتدارحضرات سمیت تقریباً پچاس ہزار(50,000)غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے ۔آپ 1310ھ کو میرٹھ(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجۃ الحرام 1374ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا، تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص236تا242)
(74)عالمِ باعمل علاّمہ قاضی حافظ عبد الغفورقادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ ،قاضی اعوان خاندان کے چشم وچراغ،فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، استاذُ العُلَماء، آرمی خطیب (فیروزپورچھاؤنی) اور صاحبِ تصنیف ہیں، 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 15رجب المرجب 1371 ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پنجہ شریف (نزد مٹھا ٹوانہ ضلع خوشاب، پنجاب) پاکستان میں ہوئی، آپ کے دو رسائل تحفۃ العلماء اور عمدۃ البیان مطبوع ہیں۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، 366، عقیدۂ ختم النبوۃ، 13/507، 541 )
(75) حافظُ المسائل حضرت علّامہ عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدّث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف، شیخِ طریقت اور فعّال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر 2014ء، ص20)
(76)رئیس مکہ مکرّمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂِ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اوروہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 67)
(68)مجازِطریقت حضرت الحاج عبدالسّتّاراسماعیل کاٹھیاواڑی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی رنگون (برما)کی صاحب ثروت اوردینی حمیت سے مالامال شخصیت کے مالک اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں سے تھے۔رنگون پھرافریقہ میں مسلک حق اہلِ سنّت کی خوب اشاعت کی ،آپ کا وصال غالباً 19شوال 1354ھ کو افریقہ میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،515تا516،تذکرہ مشاہیرالفقیہ ،115)
(69)حضرت مولانا عبدالستارصدیقی دہلوی مکی حنفی چشتی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مکہ مکرمہ میں1286 کو ہوئی اوریہیں11رجب 1355ھ کو وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، فاضل مدرسہ صولتیہ، مدرس مسجدِحرام ،امام تراویح فی الحرم ، محدِّثِ وقت،مؤرخ ،مجازِطریقت اورکئی کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی 35کتب میں فيض الملك المتعاليآپ کی مشہورکتاب ہے۔انھوں نے 18ذوالحجہ 1323ھ کو اعلیٰ حضرت سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ( فيض الملك المتعالی،9/1 تا47، نثرالجواہروالدرر،708/1۔710)
(70)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد عبدالسَّلام باندوی قادری علیہ رحمۃ اللہ البارِی ، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزارِ مبارک پا پوش قبرستان ناظم آباد کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)
(71)عیدُالاسلام،حضرت مولانامفتی حافظ عبدالسلام رضوی جبل پوری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت1283 ھ میں جبل پور (ایم پی ، ہند) میں ہوئی ،تعلیم والدِگرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مریدو خلیفہ ہیں ،جبل پور میں دارُالافتاء عیدُالاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ کو جبل پورمیں وصال فرمایا، مزار شریف مشہورہے۔(برہان ملت کی حیات وخدمات، ص 28تا37)
(72)استاذالعُلَماء،حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت بجنور (یوپی، ہند) میں ہوئی، آپ عالم، مدرس اور شیخِ طریقت تھے، جامعہ منظر اسلام بریلی میں طویل عرصہ تدریس کی،8جمادی الاولیٰ 1369ھ میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص181)
(73)مُبلّغِ اسلام، حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی مِیرَٹھیرحمۃ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائدکتب کے مصنف ،شُعْلہ بیان خطیب،متعد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظررکھنے والے عالمِ دین تھے، انہوں نے دنیا کے کئی مَمَالِک کاسفرکیا، ان کی کوشِشوں سے صاحبِ اِقتدارحضرات سمیت تقریباً پچاس ہزار(50,000)غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے ۔آپ 1310ھ کو میرٹھ(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجۃ الحرام 1374ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا، تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص236تا242)
(74)عالمِ باعمل علاّمہ قاضی حافظ عبد الغفورقادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ ،قاضی اعوان خاندان کے چشم وچراغ،فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، استاذُ العُلَماء، آرمی خطیب (فیروزپورچھاؤنی) اور صاحبِ تصنیف ہیں، 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 15رجب المرجب 1371 ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پنجہ شریف (نزد مٹھا ٹوانہ ضلع خوشاب، پنجاب) پاکستان میں ہوئی، آپ کے دو رسائل تحفۃ العلماء اور عمدۃ البیان مطبوع ہیں۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، 366، عقیدۂ ختم النبوۃ، 13/507، 541 )
(75) حافظُ المسائل حضرت علّامہ عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدّث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف، شیخِ طریقت اور فعّال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر 2014ء، ص20)
(76)رئیس مکہ مکرّمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂِ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اوروہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 67)
(77)شَیخُ الخُطَباء و الاَئِمّہ، امام الحرم حضرت سیّدنا شیخ عبدُاللہ ابو الخیر مِرداد مکّی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1285ھ کو مکّہ شریف میں ہوئی اور شہادت طائف میں (غالباً یکم صفر) 1343ھ کو ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، حنفی فقیہ، مؤرّخ، مصنف، مدرس اور مکّہ شریف کی مؤثر شخصیت تھے۔ علمائے مکّہ کے حالات و کرامات پر مشتمل ضخیم کتاب ”نشر النّور والزھر“ آپ کی یادگار ہے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص31، اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماءِ مکّۂ مکرمہ، ص21،89)
(78) سیاحِ مَمَالِکِ اِسلامیہ حضرت شیخ سیّدعبداللہ بن صدقہ دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت91 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اور وِصال 10صفر1363ھ کوقاروت (Garut) صوبہ جاوا مغربی انڈو نیشا میں فرمائی۔آپ امام الحرم،ماہرعلم فلکیات، فقیہ اسلام، مقبول خاص وعام،کئی مَساجد،مَدارِس اور تنظیمات کے بانی تھے ۔(سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص198)
(79) شہزادہ رئیس مکہ شیخ عبداللہ فرید مکی کُرْدِی رئیسِ مکہِ مکرمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی کے فرزند ارجمند تھے ،ان کو اعلیٰ حضرت نے 9صفرالمظفر1324ھ کو خلافت سے نواز ا۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69)
(80)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83)
(81) استاذالعلماحضرت مولاناعلامہ قاضی حافظ عبدالواحد رضوی کی ولادت 1302ھ کوعلاقہ امازئی گڑھی کپورہ ضلع مردان (خیبرپختون خواہ )پاکستان کے علمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 14ربیع الاول1381ھ کووصال فرمایا،تدفین گھڑی امازئی کے سنڈاسرقبرستان میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،عالم باعمل ،زاہدوعبادت گزار، امام و خطیب جامع مسجدمیاں گان اوربانی مدرسہ تعلیم الاسلام ہیں۔ (حیات خلیفہ اعلیٰ حضرت مولوی عبدالواحد الرضوی، ص،24، 63، 42، 44)
(82)مجاہدِدین وملت حضرت مولاناقاضی عبدالوحید فردوسی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 1289 ھ عظیم آبادپٹنہ بہار ہندمیں ہوئی ،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت ،بہترین واعظ ،نعت گوشاعر ،مفکروراہنماتھے ، آپ نے مجلسِ عالی حمایت سنّتِ محمدی بنائی ،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلسنت وجماعت (مطبع حنفیہ )کا آغازکیا ،دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسہ اہلسنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔آپ کاوصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوااور درگاہِ حضرت پیرجگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ (بہار)ہندمیں دفن کئے گئے۔( سالنامہ معارف رضا2005 ء ، 251،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص191،تذکرہ علمائے اہلسنت ص153)
(83)تِلمیذِ اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الحسن خان رضوی پھپھوندی کی ولادت با سعادت قصبہ پھپھوند ( ضلع اٹاوہ) ہند میں ہوئی اور1362 ھ کو وِصال فرمایا، تدفین قصبہ پھپھوند شریف (Phaphund،ضلع اوریا،اترپردیش) ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام ، علم وعمل کے جامع اورپیکراخلاص وتقوی تھے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،ص183۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص183، تذکرہ محدث سورتی ص 256)
(84) خلیفہ وتِلمیذِ اعلیٰ حضرت، حضرت مولاناحکیم مفتی سید عزیز غوث بریلوی قادری رضوی کی ولادت با سعادت بریلی شریف (یوپی)ہند میں ہوئی۔ 1363ھ کو وِصال فرمایااور بریلی شریف (یوپی)ہندمیں آسودۂ خاک ہوئے۔آپ اولین فاضلِ دارالعلوم منظر اسلام، مفتی اسلام اورجَیِّدعالمِ دین تھے۔(جہان مفتیٔ اعظم ص1075،تذکرۂ علمائے اہل سنت ص 183،ماہنامہ اعلیٰ حضرت صدسالہ منظراسلام نمبرقسط1،مئی 2001 ص243 )
(85)عالم جلیل،حضرت سید علوی بن حسن الکاف حضرمی علوی خاندن کے چشم چراغ تھے۔ ( الاجازت المتینۃ، ص46 )
(86)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس)تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنّت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26)
(87)حضرت صوفی عنایت حسین قادری رضوی مُریدو خلیفہ اعلیٰ حضرت اوربریلی شریف (یوپی)ہندکے رہنے والے تھے۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ،ص107)
(78) سیاحِ مَمَالِکِ اِسلامیہ حضرت شیخ سیّدعبداللہ بن صدقہ دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت91 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اور وِصال 10صفر1363ھ کوقاروت (Garut) صوبہ جاوا مغربی انڈو نیشا میں فرمائی۔آپ امام الحرم،ماہرعلم فلکیات، فقیہ اسلام، مقبول خاص وعام،کئی مَساجد،مَدارِس اور تنظیمات کے بانی تھے ۔(سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص198)
(79) شہزادہ رئیس مکہ شیخ عبداللہ فرید مکی کُرْدِی رئیسِ مکہِ مکرمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی کے فرزند ارجمند تھے ،ان کو اعلیٰ حضرت نے 9صفرالمظفر1324ھ کو خلافت سے نواز ا۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69)
(80)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83)
(81) استاذالعلماحضرت مولاناعلامہ قاضی حافظ عبدالواحد رضوی کی ولادت 1302ھ کوعلاقہ امازئی گڑھی کپورہ ضلع مردان (خیبرپختون خواہ )پاکستان کے علمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 14ربیع الاول1381ھ کووصال فرمایا،تدفین گھڑی امازئی کے سنڈاسرقبرستان میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،عالم باعمل ،زاہدوعبادت گزار، امام و خطیب جامع مسجدمیاں گان اوربانی مدرسہ تعلیم الاسلام ہیں۔ (حیات خلیفہ اعلیٰ حضرت مولوی عبدالواحد الرضوی، ص،24، 63، 42، 44)
(82)مجاہدِدین وملت حضرت مولاناقاضی عبدالوحید فردوسی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 1289 ھ عظیم آبادپٹنہ بہار ہندمیں ہوئی ،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت ،بہترین واعظ ،نعت گوشاعر ،مفکروراہنماتھے ، آپ نے مجلسِ عالی حمایت سنّتِ محمدی بنائی ،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلسنت وجماعت (مطبع حنفیہ )کا آغازکیا ،دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسہ اہلسنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔آپ کاوصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوااور درگاہِ حضرت پیرجگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ (بہار)ہندمیں دفن کئے گئے۔( سالنامہ معارف رضا2005 ء ، 251،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص191،تذکرہ علمائے اہلسنت ص153)
(83)تِلمیذِ اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الحسن خان رضوی پھپھوندی کی ولادت با سعادت قصبہ پھپھوند ( ضلع اٹاوہ) ہند میں ہوئی اور1362 ھ کو وِصال فرمایا، تدفین قصبہ پھپھوند شریف (Phaphund،ضلع اوریا،اترپردیش) ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام ، علم وعمل کے جامع اورپیکراخلاص وتقوی تھے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،ص183۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص183، تذکرہ محدث سورتی ص 256)
(84) خلیفہ وتِلمیذِ اعلیٰ حضرت، حضرت مولاناحکیم مفتی سید عزیز غوث بریلوی قادری رضوی کی ولادت با سعادت بریلی شریف (یوپی)ہند میں ہوئی۔ 1363ھ کو وِصال فرمایااور بریلی شریف (یوپی)ہندمیں آسودۂ خاک ہوئے۔آپ اولین فاضلِ دارالعلوم منظر اسلام، مفتی اسلام اورجَیِّدعالمِ دین تھے۔(جہان مفتیٔ اعظم ص1075،تذکرۂ علمائے اہل سنت ص 183،ماہنامہ اعلیٰ حضرت صدسالہ منظراسلام نمبرقسط1،مئی 2001 ص243 )
(85)عالم جلیل،حضرت سید علوی بن حسن الکاف حضرمی علوی خاندن کے چشم چراغ تھے۔ ( الاجازت المتینۃ، ص46 )
(86)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس)تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنّت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26)
(87)حضرت صوفی عنایت حسین قادری رضوی مُریدو خلیفہ اعلیٰ حضرت اوربریلی شریف (یوپی)ہندکے رہنے والے تھے۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ،ص107)
(88)حامیِ سنّت حضرت الحاج عیسیٰ محمدخان گجراتی رضوی دھوراجی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (ضلع راجکوٹ،ریاست گجرات) ہندکی صاحبِثروت شخصیت،مجازِطریقت،مسائلِ فقہیہ پر عبوررکھنے والے ،بہترین واعظ ، مدرسہ مسکینیہ دھوراجی اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں شامل تھے۔آپ کا وصال جمادی الاولیٰ 1363ھ دھوراجی گجرات ہند میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 513 تا514 ،مشاہیرالفقیہ ،183)
(89)حضرت مولانا عبدالسلام اعظمی گھوسوی کا تعلق مدینۃ العلماگھوسی (ضلع اعظم گڑھ،یوپی)سےہے، آپ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے چچازادبھائی واستاذمولانا محمدصدیق اعظمی اورعلامہ وصی احمدمحدث سورتی کے شاگرد تھے ، آپ کو 1330ھ /1912ءاپنے استاذعلامہ صدیق صاحب کی وفات کے بعدمخدوم الاولیاء حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی نے مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پورکا صدرمدرس بنایا،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان نے انہیں 1336ھ کو خلافت عطافرمائی،آپ کا وصال 12صفرالمظفر 1336ھ ہوا۔(حیات مخدوم الاولیا ،290،تذکرہ محدث سورتی،269، دبدبہ سکندری رامپور شمارہ نمبر 17 جلد54 دسمبر 1917)
غ
(90)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت مولاناحکیم غلام احمدشوق فریدی نقشبندی جماعتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284ھ محلہ سرائے کبیرسنبھل(نزدمرادآباد،یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال23ربیع الاول 1362ھ کومرادآبادمیں ہو ا ،مزارشاہ باقی قبرستان میں درگاہ حضرت مظہراللہ شاہ صفی سے متصل جانبِ شمال مغرب ہے،آپ عالمِ دین ،حاذق طبیب ،صاحبِ دیوان شاعر،قومی راہنما،سجادہ نشین درگاہ شیخ کبیرکلہ رواں، تیس سے زائدکتابوں کےمصنف اورصدرالافاضل کے خالہ زاد بھائی تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 330تا339، تذکرہ خلفائے امیر ملت،ص116،121)
(91) فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمُظفّر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ، پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استراحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300)
(92)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت،حسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزارِ خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474)
(93) استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد غِیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غِیِاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرّمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزارِ مبارک خانقاہِ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373،ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35)
ف
(94)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اورصاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجدسیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367)
ق
(95)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302)
ک
(96) عاشِق اعلیٰ حضرت حاجی کِفایت اللہ خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف میں تقریبا1300 ھ میں ہوئی اور وصال 1359ھ کے بعدہوا۔آپ اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص ،متقی وپرہیزگار،محبوب خلیفہ اورمُجاوِرِخانقاہ رضویہ تھے۔ خانقاہ رضویہ میں تعویذات دینے کی ذمہ داری ان کے سپردتھی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص141تا149)
(89)حضرت مولانا عبدالسلام اعظمی گھوسوی کا تعلق مدینۃ العلماگھوسی (ضلع اعظم گڑھ،یوپی)سےہے، آپ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے چچازادبھائی واستاذمولانا محمدصدیق اعظمی اورعلامہ وصی احمدمحدث سورتی کے شاگرد تھے ، آپ کو 1330ھ /1912ءاپنے استاذعلامہ صدیق صاحب کی وفات کے بعدمخدوم الاولیاء حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی نے مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پورکا صدرمدرس بنایا،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان نے انہیں 1336ھ کو خلافت عطافرمائی،آپ کا وصال 12صفرالمظفر 1336ھ ہوا۔(حیات مخدوم الاولیا ،290،تذکرہ محدث سورتی،269، دبدبہ سکندری رامپور شمارہ نمبر 17 جلد54 دسمبر 1917)
غ
(90)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت مولاناحکیم غلام احمدشوق فریدی نقشبندی جماعتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284ھ محلہ سرائے کبیرسنبھل(نزدمرادآباد،یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال23ربیع الاول 1362ھ کومرادآبادمیں ہو ا ،مزارشاہ باقی قبرستان میں درگاہ حضرت مظہراللہ شاہ صفی سے متصل جانبِ شمال مغرب ہے،آپ عالمِ دین ،حاذق طبیب ،صاحبِ دیوان شاعر،قومی راہنما،سجادہ نشین درگاہ شیخ کبیرکلہ رواں، تیس سے زائدکتابوں کےمصنف اورصدرالافاضل کے خالہ زاد بھائی تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 330تا339، تذکرہ خلفائے امیر ملت،ص116،121)
(91) فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمُظفّر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ، پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استراحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300)
(92)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت،حسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزارِ خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474)
(93) استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد غِیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غِیِاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرّمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزارِ مبارک خانقاہِ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373،ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35)
ف
(94)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اورصاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجدسیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367)
ق
(95)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302)
ک
(96) عاشِق اعلیٰ حضرت حاجی کِفایت اللہ خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف میں تقریبا1300 ھ میں ہوئی اور وصال 1359ھ کے بعدہوا۔آپ اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص ،متقی وپرہیزگار،محبوب خلیفہ اورمُجاوِرِخانقاہ رضویہ تھے۔ خانقاہ رضویہ میں تعویذات دینے کی ذمہ داری ان کے سپردتھی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص141تا149)
(97)ناصرِ ملّت حضرت مولانا محمد لعل خان قادری رضوی رحمۃ اللّٰہ علیہ خادمِ سنّت، مصنّفِ کُتب اور عالی ہمت ہستی کےمالک تھے۔ پیدائش 1283ھ ویلور (مدراس،تامل ناڈو) ہند میں ہوئی۔ 15ذوالقعدۃ الحرام 1339ھ کو وصال فرمایا اور کلکتہ (ہند) میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص317،321۔ تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 554)
م
(98) اما م وخطیب مسجدِنَبَوِیْ سیّدمامون بَری مدنی حنفی قادری کا تعلق افریقی ملک تُوْنُسْ کے سیِّدبَری قبیلے سے ہے۔ آپ جیدعالم، مفتیٔ اَحناف مدینہ منورہ، اُستاذ العُلَماء اور بہترین خطیب تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص 82،188،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 76تا79،علمائے عرب کے خطوط ص45 )
(99)اَدِیْبِ جَلیل،حضرت شیخ مامون عبدالوہاب اَرْزَنْجانی مدنی قادری کی ولادت چودہویں صدی کے شروع میں اَرْزَنْجان (مشرقی اناطولیہ) ترکی میں ہوئی۔ وصال 1375ھ میں فرمایا۔آپ بہترین عالم دین،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ، روحانی اسکالر، صحافی،بانی اخبارالمدینۃ المنورہ(عربی و ترکی) ومجلہ (میگزین) المناھج دمشق اورکئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ ( علمائے عرب کے خطوط ص38تا40 ،الاجازت المتینۃ، 36،38 )
(100) واعِظِ اسلام حضرت مولانامحمداسماعیل پشاوری قادری رضوی عالِم ،واعِظ اورمجَازِطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 664)
(101) صوفی باصفا ثنا خوانِ مصطفیٰ ،حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل فخری چشتی رضوی کی ولادت ریاست محمود آباد(ضلع سیتا پور، یوپی ) ہندغالباً 1300 ھ میں ہوئی۔یہیں 1371 ھ میں وِصال فرمایا اور دَفْن کئے گئے۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،بانی مدرسہ نظامیہ محمودآباد،اُستاذالعُلَمااوررِقت وسوز کے مالک تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص211۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت ،ص62،تذکرہ محدث سورتی،ص258 )
(102) حضرت پروفیسرالحاج محمد الیاس برنی چشتی قادِری فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت برن (بلندشہر،یوپی) ہند میں1307ھ کو ہوئی اوریہیں 22رجب 1378ھ کووصال ہوا۔آپ نے دنیاوی علوم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، لکھنؤ اور علمِ حدیث پیلی بھیت سے حاصل کیا،آپ صدرشعبہ ِٔمعاشیات وناظم شعبہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباددکن، نعت گو شاعر،مصنّفِ کتب اورماہرِمعاشیات تھے۔ 33کتب میں سے قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ اورعلم المعیشت مشہور ہوئیں۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،ص658تا661،سالنامہ معارف رضا1984ء،ص250)
(103) ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1284 ھ کومکہ مکرّمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہِ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرّمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83،حسام الحرمین، ص79)
(104)فاضل نوجوان حضرت سیّدمحمدبن عثمان دحلان مکیرحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت نے مکہ شریف سے مدینہ منورہ سفرشروع کرتے وقت24صفر1324ھ کو اجازت وخلافت عطافرمائی ۔( الاجازات المتینۃ ص 65، ملفوظات اعلیٰ حضرت 215)
(105) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی ۔آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)
(106) برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ علمُ الفَرائض (وراثت کےعلم) کے ماہر تھے۔1293ھ میں پیداہوئے اور21شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا،مزار قبرستان بِہَاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس الاتقیاء،32،تجلیات تاج الشریعہ،89،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(107) شیخ الدلائل حضرت شیخ سیِد محمد سعید بن محمد مالکی قادری مغربی مدنی ادریسی کی ولادت با سعادت اندازاً1270ھ مدینہ شریف یا مراکش میں ہوئی۔1330ھ کے بعدکسی سال وِصال فرمایا ۔آپ جیدعالم ،مُدَرِّس مسجدِ نَبَوِیْ شریف ،شیخِ طریقت، مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ اورحُسام الحرمین،اورمَرْجَع خلَائق شخصیت تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص120 ، الاجازات المتینۃ ص 54، ملفوظات اعلیٰ حضرت 921)
م
(98) اما م وخطیب مسجدِنَبَوِیْ سیّدمامون بَری مدنی حنفی قادری کا تعلق افریقی ملک تُوْنُسْ کے سیِّدبَری قبیلے سے ہے۔ آپ جیدعالم، مفتیٔ اَحناف مدینہ منورہ، اُستاذ العُلَماء اور بہترین خطیب تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص 82،188،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 76تا79،علمائے عرب کے خطوط ص45 )
(99)اَدِیْبِ جَلیل،حضرت شیخ مامون عبدالوہاب اَرْزَنْجانی مدنی قادری کی ولادت چودہویں صدی کے شروع میں اَرْزَنْجان (مشرقی اناطولیہ) ترکی میں ہوئی۔ وصال 1375ھ میں فرمایا۔آپ بہترین عالم دین،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ، روحانی اسکالر، صحافی،بانی اخبارالمدینۃ المنورہ(عربی و ترکی) ومجلہ (میگزین) المناھج دمشق اورکئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ ( علمائے عرب کے خطوط ص38تا40 ،الاجازت المتینۃ، 36،38 )
(100) واعِظِ اسلام حضرت مولانامحمداسماعیل پشاوری قادری رضوی عالِم ،واعِظ اورمجَازِطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 664)
(101) صوفی باصفا ثنا خوانِ مصطفیٰ ،حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل فخری چشتی رضوی کی ولادت ریاست محمود آباد(ضلع سیتا پور، یوپی ) ہندغالباً 1300 ھ میں ہوئی۔یہیں 1371 ھ میں وِصال فرمایا اور دَفْن کئے گئے۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،بانی مدرسہ نظامیہ محمودآباد،اُستاذالعُلَمااوررِقت وسوز کے مالک تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص211۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت ،ص62،تذکرہ محدث سورتی،ص258 )
(102) حضرت پروفیسرالحاج محمد الیاس برنی چشتی قادِری فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت برن (بلندشہر،یوپی) ہند میں1307ھ کو ہوئی اوریہیں 22رجب 1378ھ کووصال ہوا۔آپ نے دنیاوی علوم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، لکھنؤ اور علمِ حدیث پیلی بھیت سے حاصل کیا،آپ صدرشعبہ ِٔمعاشیات وناظم شعبہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباددکن، نعت گو شاعر،مصنّفِ کتب اورماہرِمعاشیات تھے۔ 33کتب میں سے قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ اورعلم المعیشت مشہور ہوئیں۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،ص658تا661،سالنامہ معارف رضا1984ء،ص250)
(103) ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1284 ھ کومکہ مکرّمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہِ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرّمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83،حسام الحرمین، ص79)
(104)فاضل نوجوان حضرت سیّدمحمدبن عثمان دحلان مکیرحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت نے مکہ شریف سے مدینہ منورہ سفرشروع کرتے وقت24صفر1324ھ کو اجازت وخلافت عطافرمائی ۔( الاجازات المتینۃ ص 65، ملفوظات اعلیٰ حضرت 215)
(105) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی ۔آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)
(106) برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ علمُ الفَرائض (وراثت کےعلم) کے ماہر تھے۔1293ھ میں پیداہوئے اور21شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا،مزار قبرستان بِہَاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس الاتقیاء،32،تجلیات تاج الشریعہ،89،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(107) شیخ الدلائل حضرت شیخ سیِد محمد سعید بن محمد مالکی قادری مغربی مدنی ادریسی کی ولادت با سعادت اندازاً1270ھ مدینہ شریف یا مراکش میں ہوئی۔1330ھ کے بعدکسی سال وِصال فرمایا ۔آپ جیدعالم ،مُدَرِّس مسجدِ نَبَوِیْ شریف ،شیخِ طریقت، مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ اورحُسام الحرمین،اورمَرْجَع خلَائق شخصیت تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص120 ، الاجازات المتینۃ ص 54، ملفوظات اعلیٰ حضرت 921)
(108) فقیہِ اعظم حضرت علامہ محمد شریف محدث کوٹلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1277ھ میں کوٹلی لوہاراں ( سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ 6ربیع الآخر1370 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال ( سیالکوٹ) پاکستان میں جامع مسجد شریفی سے متصل ہے۔ آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، استاذ العُلَماء، واعظِ خوش بیان، رئیس التحریر ہفتہ روزہ اخبار الفقیہ ، مناظرِ اسلام، شاعروادیب اور صاحبِ تصنیف تھے۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص97-100)
(109)مفتیِ مالِکِیَّہ شیخ محمدعلی بن حسین مالِکِی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مُدَرِّسِ حَرَم، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور امامُ النَّحْو ہیں، 1287ھ میں مکہشریف میں پیدا ہوئے اور طائف میں 28شعبان 1367ھ کو وصال فرمایا۔حضرت سیّدُناعبد اللّٰہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار کے قریب دفن ہونے کی سعادت پائی۔(مختصرنشرالنوروالزھر، ص181،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 136تا 149)
(110)مفتی محمد عمرالدّین ہزاروی، مفتیِ اسلام، مُصَنِّف، نامور علمائے اسلام میں سے ہیں۔ طویل عرصہ بمبئی میں خدمتِ دین میں مصروف رہے۔ وصال 14شعبان 1349ھ میں فرمایا، مزار شریف کوٹ نجیبُ اللّٰہ (ضلع مانسہرہ) خیبر پختون خواہ پاکستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،622تا627)
(111)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمد عمر بن ابوبکر کھتری رَضَوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1291ھ کو پور بندر (صوبہ گجرات) ہند میں ہوئی اور وصال 5 ذوالقعدۃ الحرام 1384ھ کو ہوا۔ مزار پور بندر (گجرات) ہند میں ہے۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 532،533)
(112)پابندِسنت حضرت مولاناسیدمحمدعمرظہیرالدین اِلٰہ آبادی قادری رضوی کی ولادت غالباً موضع خلیل پورپرگنہ نواب گنج ضلع الہ آباد(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،عالمِ باعمل اور مجازِطریقت تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص13 ،تذکرہ محدث سورتی ،ص 269)
(113)جامع جمال وافتخار مولاناسیدمحمدعمرمطوف بن سید ابوبکررشیدی مکی،عالم دین ، عالی ہمت، جامع اور حُجاج کو حج و طواف کرانے پر مَعْمُوْر تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دوسرے حج کے موقع پر ان کے گھرقیام فرمایا اور انہیں 11صفر 1324ھ کو خلافت اوراجازت عطافرمائیں۔ (الاجازات المتینہ، ص ،9،55،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت،112تا116)
(114) شیخِ طریقت حضرت مولانا قاضی محمدقاسم میاں رضوی ،عالمِ دین ،مَجازِطریقت،حامیِ سنت اورامام جامع مسجد گونڈل پوربندر(کاٹھیاواڑ گجرات)ہند تھے۔(خطوط مشاہیربنام احمدرضا ،ص314)
(115) مُحدِّثِ اَعظم ہند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ کامل، مُفسِّرقراٰن، واعِظِ دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند میں ہے۔ 25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)
(116) عالِمِ ربّانی حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالفخرمحمد نور قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور صفرالمظفریاربیع الاول 1333ھ میں وصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے۔ آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118)
(117) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(118) اُستاذالعُلَماحضرت مولانامحمدیوسف افغانی مہاجر مکی، جید عالم، مدرس مدرسہ صولتیہ مکۂ معظمہ اور صاحبِ فَضائل و مَنَاقِب تھے۔ 24 صفر 1324ھ کو اعلیٰ حضرت سے خلافت کی سعادت پائی۔ ( الاجازت المتینۃ، ص47،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، 117 )
(109)مفتیِ مالِکِیَّہ شیخ محمدعلی بن حسین مالِکِی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مُدَرِّسِ حَرَم، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور امامُ النَّحْو ہیں، 1287ھ میں مکہشریف میں پیدا ہوئے اور طائف میں 28شعبان 1367ھ کو وصال فرمایا۔حضرت سیّدُناعبد اللّٰہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار کے قریب دفن ہونے کی سعادت پائی۔(مختصرنشرالنوروالزھر، ص181،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 136تا 149)
(110)مفتی محمد عمرالدّین ہزاروی، مفتیِ اسلام، مُصَنِّف، نامور علمائے اسلام میں سے ہیں۔ طویل عرصہ بمبئی میں خدمتِ دین میں مصروف رہے۔ وصال 14شعبان 1349ھ میں فرمایا، مزار شریف کوٹ نجیبُ اللّٰہ (ضلع مانسہرہ) خیبر پختون خواہ پاکستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،622تا627)
(111)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمد عمر بن ابوبکر کھتری رَضَوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1291ھ کو پور بندر (صوبہ گجرات) ہند میں ہوئی اور وصال 5 ذوالقعدۃ الحرام 1384ھ کو ہوا۔ مزار پور بندر (گجرات) ہند میں ہے۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 532،533)
(112)پابندِسنت حضرت مولاناسیدمحمدعمرظہیرالدین اِلٰہ آبادی قادری رضوی کی ولادت غالباً موضع خلیل پورپرگنہ نواب گنج ضلع الہ آباد(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،عالمِ باعمل اور مجازِطریقت تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص13 ،تذکرہ محدث سورتی ،ص 269)
(113)جامع جمال وافتخار مولاناسیدمحمدعمرمطوف بن سید ابوبکررشیدی مکی،عالم دین ، عالی ہمت، جامع اور حُجاج کو حج و طواف کرانے پر مَعْمُوْر تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دوسرے حج کے موقع پر ان کے گھرقیام فرمایا اور انہیں 11صفر 1324ھ کو خلافت اوراجازت عطافرمائیں۔ (الاجازات المتینہ، ص ،9،55،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت،112تا116)
(114) شیخِ طریقت حضرت مولانا قاضی محمدقاسم میاں رضوی ،عالمِ دین ،مَجازِطریقت،حامیِ سنت اورامام جامع مسجد گونڈل پوربندر(کاٹھیاواڑ گجرات)ہند تھے۔(خطوط مشاہیربنام احمدرضا ،ص314)
(115) مُحدِّثِ اَعظم ہند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ کامل، مُفسِّرقراٰن، واعِظِ دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند میں ہے۔ 25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)
(116) عالِمِ ربّانی حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالفخرمحمد نور قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور صفرالمظفریاربیع الاول 1333ھ میں وصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے۔ آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118)
(117) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(118) اُستاذالعُلَماحضرت مولانامحمدیوسف افغانی مہاجر مکی، جید عالم، مدرس مدرسہ صولتیہ مکۂ معظمہ اور صاحبِ فَضائل و مَنَاقِب تھے۔ 24 صفر 1324ھ کو اعلیٰ حضرت سے خلافت کی سعادت پائی۔ ( الاجازت المتینۃ، ص47،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، 117 )