🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
سلامت رہیں شاد و آباد رہیں!
" نیک لوگوں کی صحبت آدمی کے اندر برے لوگوں سے بھی اچھا گمان پروان چڑھا دیتی ہے۔
برے لوگوں کی صحبت آدمی کے اندر اچھے لوگوں سے بھی برا گمان پروان چڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا اچھی صحبت اختیار کریں اور بری صحبت سے بچیں ۔"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/713790849198487/
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
باتوں سے خوشبو پھیلے!
حیات نغمہ بار رہے!
"ہمدردی کی ضرورت کسی کو نہیں ہوتی۔ صرف رہنمائی کی غرض ہوتی ہے اور رہنمائی یہ ہے کہ کوئی آپ کو آپ تک پہنچنے میں مدد کر سکے _!"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/593734087870831/
‏اگر صبر آپ کے مزاج کا حصہ نہیں تو پھر شکر بھی آپ سے دور رہے گا کیوں کہ شکر کی فصل وہاں لہلہاتی ہے جہاں صبر کی زرخیز زمین موجود ہو۔
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ
#مشاہدرضوی

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/812210006023237/
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
"متکبر کے ساتھ تواضع حماقت ہے جبکہ متواضع کے ساتھ تکبر ہلاکت۔۔"
#گلشنِ_اقوال

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/722567524987486/
السلام علیکم!
"‏جب غیرت زنگ آلُود ہو جائے، تو پھر تلواریں ⚔️ صِرف رقص میں اِستعمال ہوتی ہیں!"
#گلشنِ_اقوال

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/933589363885300/
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
باتوں سے خوشبو پھیلے!
"قلب جاری ہونا یہ ہے کہ تیرا شعور بیدار ہو جائے ۔بدی تیرے دل میں کھٹکنے لگ جائے اور نیکی تیرے دل میں اطمینان پیدا کرنے لگ جائے یہ جس انسان کے اندر بھی پیدا ہو گیا اُس کا قلب جاری ہو گیا۔"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/712031276041111/
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر دوستو!
"محنت تو ابراہیم بننے کے لیے کرنی پڑتی ہے ـ اسماعیل تو انعام ہوا کرتے ہیں•"
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/963684550875781/
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
"انسانیت وہاں دم توڑدیتی ہے جب ایک انسان کی مصیبت دوسرے کے لیے تماشا بن جاتی ہے ۔"
#گلشنِ_اقوال #مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/724534014790837/
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر ۔۔۔۔!!
نغمہ بار رہیں ۔۔۔۔!!
"وہی لوگ انمول ہیں جو خیرکی خبردیتے ہیں-
پریشانی میں دلاسہ اور بھروسہ دیتے ہیں-
عقل کی بات کرتے ہیں۔
ہمیشہ تنہائی میں اصلاح کرتے ہیں۔
کوئی لالچ نہیں رکهتے ایسےلوگ 'قیمت' سےنہیں 'قسمت' سے ملتے ہیں-"
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/719334581977447/
السلام علیکم!
حیات بخیر!
انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔
#گلشنِ_اقوال
#مشاہدنامہ

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/717403368837235/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زندگی میں آسائشوں، راحتوں کےساتھ ساتھ آزمائشوں اور تکلیفوں کابھی سامنا ہوتا ہے، اللہ پاک اپنے بندوں کو کبھی مرض سے تو کبھی مال کی کمی سے،کبھی کسی رشتہ دار کی موت سے تو کبھی دشمن کے ڈر سے، کبھی کسی نقصان سے توکبھی آفات و بَلِیّات سے آزماتا ہےاور راہِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں آسکتی ہیں، انہی مصیبتوں اور آزمائشوں کے ذریعے فرماں بردار و نافرمان، محبت میں سچےّ اور محبت کے زبانی دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

اللہ پاک کے نیک بندوں اور دوستوں پر کیسی کیسی آزمائشیں آئیں مثلاً ☆ساڑھےنوسوسال تبلیغ کے باوجود حضرت سیّدنا نوح علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام پر اکثر قوم ایمان نہ لائی ☆معبودِ حقیقی اللہ پاک کی عبادت کی طرف بُلانےاورباطل معبودوں(خداؤں) کے انکار کی وجہ سےحضرت سیّدنا ابراہیم علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو آگ میں ڈالا گیا ☆اسی طرح حضرت سیّدناایوب علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کابیماری میں مبتلا کیاجانا ☆ان کی اولاد اور اَمْوال واپس لے لینا ☆ حضرت سیّدنا موسیٰ علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کا مِصر سے ہجرت کرنا ☆ لوگوں کا حضرت سیّدنا عیسٰی علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو ستانا اور ☆کئی انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ والسَّلام کوشہیدکرنا ☆طائف کے مقام پر پیارےمکّی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےجسمِ مقدس کا لہولہان ہونا ☆نیز آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاشَعْبِ ابی طالب میں مسلسل تین سال تک مَحْصُور(قید) رہ کر زندگی کے کٹھن (مشکل) دن گزارنا ☆اور مکۂ پاک سے مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت کرنا ☆صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اور اہلِ بیتِ اَطہار بِالخصوص شُہدائے کربلا و اَسیرانِ کربلاپرمصیبتوں کی کثرت کا ہونا، یہ سب راہِ خدا میں آنے والی آزمائشوں ہی کی داستانیں ہیں۔ مگر ان تمام مَصائب و تکالیف کے باوجود ان مبارک ہستیوں کے پائے اِسْتِقْلال (یعنی استقامت) میں ذَرّہ برابربھی فرق نہ آیا۔ ان مبارک ہستیوں نےکلمۂ حق کو بلند کئے رکھا اور مصیبتوں پر صبر کے پہاڑ بنے رہے۔ 10محرّمُ الحرام 61ہجری جمعۃ المبارک کے دن کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حضرت سیّدناامام حُسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رُفَقا (Companions) کے جسموں پر تیروں،تلواروں اور نیزوں کے برسنے، میدانِ کربلامیں اَہلِ بیتِ اَطْہار کے خاندانِ عالیشان کےنوجوانوں اوربچّوں کی لاشوں کے بکھرے پڑے ہونے،شہدائےکرام کے سَر نیزوں پر بلند ہونے، یزیدی دَرِندوں کی دَرِنْدَگی اور ان کے مقابلے میں ان پاک ہستیوں کے راہِ حق میں آنے والی تکالیف پرصبرکو جب آسمان نے دیکھا تو اس سے خون برس پڑا اور سات دنوں تک اس کایہ سلسلہ جاری رہا، بیتُ المُقَدَّس کی سَرزمین کاجوبھی پتّھر اُٹھایاجاتاتواس کےنیچےبھی تازہ خون پایا جاتا۔ (دلائل النبوۃ،ج6 ،ص471،الصواعق المحرقۃ، ص194 ماخوذاً) یاد رہے کہ آزمائشیں اورمصیبتیں انسان پر اس کی دینداری کےمطابق آتی ہیں جودین میں جتنا زیادہ پُختہ ہوتا ہے اس پرآنے والی آزمائشیں اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں، نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی : یَارسولَ اللہ! (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں؟ فرمایا: انبیا (علیہم السَّلام)پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر ان کے بعد جو بہتر ہیں، بندے کو اپنی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر وہ دین میں سَخْت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سَخْت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں کمزور ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی دینداری کے مطابق اسے آزماتا ہے۔(ابن ماجہ ،ج4،ص369،حدیث:4023ملتقطاً)

عام طورپرکئی لوگ مصیبتوں اورآزمائشوں کےوقت بےصَبْرے ہوجاتے ہیں حالانکہ ہم پرمصیبتوں کاآنا ہمارے ساتھ اللہ پاک کی طرف سے بھلائی کے ارادے اور ہم سے اس کی محبت کی نشانی ہے،نیز اگر اللہ پاک کی رضاکےلئےہم نے مصیبت پر صبر کیا تو وہ آزمائش قیامت کے دن ہمارے چہرےکو روشن کرےگی، تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ ہوں:(1)اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،ج4،ص4، حدیث:5645) (2)جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت فرماتا ہے یا اسے اپنا دوست بنانے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس پر آزمائشوں کی با رش فرما دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب ،ج4،ص142،حدیث:19) (3)مصیبت اپنے صاحب کا چہرہ اس دن چمکائے گی جس دن چہرے سیاہ ہوں گے۔ (معجم اوسط،ج3،ص290، حدیث:4622) اللہ کریم نے قراٰنِ پاک میں 70سے زائد مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا اور اکثر دَرَجات و بھلائیوں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کاپھل قرار دیا ہے۔صبرکے فضائل پر 10 روایات ملاحظہ کیجئے: ☆صبر ایمان کا نصف حصّہ ہے۔ (حلیۃالاولیاء،ج5،ص38، حدیث:6235) ☆صبر جنَّت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج 4،ص24، حدیث:16) 

☆صبر ایمان کا ایک سُتون ہے۔ ( شعب
الایمان،ج1،ص70،حدیث:39) ☆بندے کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ (مستدرک،ج3،ص187، حدیث:3605) ☆صبرافضل ترین عمل ہے۔ (شعب الایمان،ج7 ،ص122، حدیث:9710) ☆صبر بھلائیوں کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (موسوعۃابن ابی الدنیا،ج4،ص24،حدیث:17) ☆بینائی چلی جانے پر صبر کرنے کی جزا جنّت ہے۔ (بخاری،ج4،ص6، حدیث: 5653) ☆صبر کے ساتھ آسانی کا انتظار کرنا عبادت ہے۔ ( شعب الایمان،ج 7،ص204، حدیث: 10003) ☆فتنے کی شِدّت پرصبر کرنے والے کو قیامت کے دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی۔ ( شعب الایمان،ج 7،ص124،حدیث:9721) ☆قیامت کے دن رُوئے زمین کے سب سے زیادہ شکر گزار بندےکو لایا جائے گا۔ اللہ پاک اسے شکر کاثواب عطا فرمائے گاپھررُوئے زمین کے سب سے زیادہ صبر کرنے والے کو لایا جائے گا تو اللہ پاک فرمائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ اس شکر گزار کو ملنے والا ثواب تجھے بھی ملے؟ وہ عرض کرے گا: ہاں میرے ربّ ۔ اللہ پاک فرمائے گا: ہرگزنہیں! میں نے تجھے نعمت عطا کی تَو تُونے شکر کیا اورمصیبت میں مبتلا کیا تَوتُونے صبر کیا۔آج میں تجھے دُگنا اَجْر عطا کروں گاپھر اسے شکرگزار سے دُگنا اَجْر عطا کیا جائے گا۔(تفسیرِنیشاپوری،پ1، البقرة،تحت الآیۃ:155،ج1،ص442)

تمام عاشقانِ رسول سےمیری فریادہےکہ اللہ پاک کی رضا کے لئےراہِ حق میں آنےوالی مصیبتوں اورآزمائشوں پر صبرکیجئے، اس کے دین کی سَربُلَندی کے لئے اپنی کوششوں کو تیز تَر کردیجئے، اللہ پاک کی رحمت سے قوی امید ہے کہ وہ کربلا والوں کے صدقے میں ہماری قَبْر وآخِرت کوضرور روشن فرمائے گا۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

وہ عشقِ حقیقی کی لذّت نہیں پا سکتا
                               جو رنج و مُصیبت سے دوچار نہیں ہوتا (وسائلِ بخشش (مُرمَّم) ص 164)

نوٹ: یہ مضمون نگرانِ شوریٰ کے بیانات اور گفتگووغیرہ کی مدد سے تیار کر کے انہیں چیک کروانے کے بعد پیش کیا گیا ہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
👍1
اللہ پاک کے سچے دوست
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
134 خلفائے "اَعلیٰ حَضرَت" کا مختصر تذکرہ (باعتبار حروف تہجی)

رکن شوریٰ حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاریمدنی

عالمِ اسلام کی عبقری اور نابغۂ روزگار شخصیت امام عشق و محبت ، امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے    شجرِ اسلام کو اپنے لہو سے جس طرح سیراب کیا اور اس کی آبیاری میں جس جانکاہی  کا مظاہرہ فرمایا ہے اس کے اَنمِنٹ  نقوش پوری  دنیا میں دیکھے جارہے ہیں۔بر صغیر  کے طبقۂ علما کے سرخیل  امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تمام عمر ایوانِ جہل و ظلمت میں قندیلِ ربانی روشن     کرتے رہے۔   آپ نے فقہ و فتاویٰ ، تفسیر و کلام اور سیر و تاریخ کے دامن میں اپنے علم و فن کے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ آج بھی آبدار موتی کی طرح چمک دمک رہے ہیں اور ان سے عالَمِ انسانیت فیضیاب ہورہا ہے۔

ایک  طرف اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی اپنی ذاتی خدمات اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل  ہیں تو دوسری طرف  ان کے سو  (100)سے زیادہ تربیت یافتہ خلفا اور ہزاروں تلامذہ کی خدماتِ دینی بھی بر صغیر کی تاریخ کا ایک انمول حصہ ہے۔ امامِ اہلِ سنت نے برصغیر میں بالخصوص تقدیسِ الٰہی، تحفظِ ختمِ نبوت  اور تعظیمِ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی خدمات کا جو بیڑا اٹھایاتھا  ان کے تلامذہ اور خلفا نے اس کو چار چاند لگانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

اعلیٰ حضرت نے شعبہ ہائے زندگی کے  ہر میدان کا مردِ مجاہد تیار کرکے قوم کو  عطا کیا۔ حجۃ الاسلام، صدرالشریعہ، صدرالافاضل، محدثِ اعظم ہند، مفتیِ اعظم ہند، ملک العلماء، مبلغِ اسلام، شیر بیشۂ اہلسنت جیسے برجِ  فضل و کمال کے درخشندہ ماہ ونجوم آپ  ہی کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے ہیں۔ آپ کے متعدد خلفا نے مختلف جہتوں میں کام کیا ۔ مثلاً فقہی، معاشرتی اور معاشی مسائل،تحریک جدو جہد آزادی، تبلیغِ اسلام، روحانی اور طریقت کے افکار، ردِ مذاہبِ باطل ادیان وغیرہا۔ آپ کے خلفا پاکستان، ہند، بنگال، افریقہ اور بلادِ عرب میں  پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے پاک و ہند اور بیرونی دنیا  کے گوشہ گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچایا اور مسلکِ اہل سنت و جماعت کی اشاعت  کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو مدینے  کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا سچا فدائی و پرستار بنایا۔

یہاں   بڑی جانفشانی اور خوب محنت کے بعد 134  خلفائے اعلیٰ حضرت کا مختصر اور جامع   تذکرہ جمع کیا گیا ہے۔ حالات لکھتے وقت  حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہر خلیفۂ اعلیٰ حضرت کا لقب، کنیت ملے تو اس کا ذکر، نسبت، مکمل نام، پیدائش اور وفات کی تاریخ، ان کی  لکھی ہوئی کتاب، ان کا قائم کردہ ادارہ ہو تو اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ بعض خلفا کے متعلق ممکنہ  تلاش و بسیار کے باجود  زیادہ معلومات نہ مل سکیں ، اس لئے ان کے متعلق جتنی معلومات میسر آئیں وہ رقم کردی گئی ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ پاک اس کاوش کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے اور ہمیں مسلکِ اعلیٰ پر دوام نصیب فرمائے۔ آمین
آ

(1) عاشقِ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّد  آصف علی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل اور مجازِ طریقت تھے، کانپور محلہ فیل خانہ قدیم میں 1295ہجری میں پیدا ہوئے اور 14شوال 1360ہجری میں کانپور (یوپی) ہند میں ہی وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص283-288)

الف

(2 ) عالمِ باعمل حضرت سیدابراہیم بن عبدالقادرحنفی مدنی کی ولادت مدینہ شریف میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل تھے۔ فاضلِ اَجل، عابد و زاہد اور بڑ ے پرہیز گار تھے ۔ تحصیلِ علم کے لیے6 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔ (تذکرہ ٔخلفائے اعلیٰ حضرت ص 79،تاریخ الدولۃ المکیہ ص 117،ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت 214) (3)مُفسّر اعظم حضرتِ مولانا ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1325 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔ 11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂِ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔ (تجلیات تاجُ الشریعہ، ص93، مفتی اعظم اورانکے خلفاء، ص110)

 (4)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رضوی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دارُالعلوم حِزبُ الاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک   دارُالعلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ   لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص314-318)

(5)مفسّرقراٰن حضرت علامہ سَیِّد ابوالحسنات محمد احمد قادِرِی اَشْرَفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1314ھ اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے  اور2شعبان 1380ھ میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر  لاہور میں  وفات پائی، مزارِ داتا گنج بخش سیّد علی ہَجْویری کے قُرب میں دفن ہونے کا شرف پایا۔ آپ حافظ، قاری، عالمِ باعمل، بہترین واعِظ، مسلمانوں کے مُتَحَرِّک راہنما اور کئی کتب کے مُصَنِّف تھے۔ تصانیف میں تفسیرُالحَسَنات (8جلدیں) آپ کا خوبصورت کارنامہ ہے۔ ( تذکرہ اکابراہلسنت، ص442،  تفسیرالحسنات، 1/46)

 (6)مدرسِ حرم، عالمِ باعمل حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابوبکر بن سالم البار مکّی عَلَوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1301 ھ کومکّۂ مکرمہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 2 صَفَرُالْمُظَفَّر 1384ھ کو وصال فرمایا، جنّت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ آپ قاضیِ شہر، فقیہِ شافعی، استاذُ العُلَما، مصنف اور شیخِ طریقت تھے۔(الدلیل المشیر، ص 21، سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص200)

(7)شہزادۂ شیخ المشائخ،حضرت مولاناسیّد ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی  کی ولادت 1286 ھ کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈ کر نگر،یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مناظرِ اسلام اورسلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ کو وصال فرمایا۔مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(حیات مخدوم الاولیا، ص439تا449)

 (8)اُستاذُالعُلَماء مولانا اَحمد بخش صادِق تونْسَوِی رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، صاحبِ تصنیف، مُدرِّس و مُہْتَمِمْ مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف اور بانیِ جامِع مسجد احمد بخش (بلاک12،  ڈیرہ غازی خان پنجاب) تھے۔ 1262ھ میں پیدا ہوئے  اور 2 رجب 1364ھ میں وصال فرمایا۔ مزار مذکورہ جامِع مسجد سے مُتّصِل ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص124)

 (9)مدرسِ حرم، قاضیِ مکّۂِ مکرّمہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بن عبدُاللہ ناضرین شافعی مکّی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1299ھ میں مکّۂ مکرّمہ میں ہوئی اور 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370 ھ کو وصال فرمایا، جنّۃُ المَعلٰیمیں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین مدرس، علومِ قدیم و جدید کے جامع، صاحبِ تقویٰ و ورع، فقہِ شافعی کے فقیہ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ (الدلیل المشیر،  ص 46 تا51)

 (10)شیخ الاسلام، حضرت امام احمد بن محمد حضراوی مكّى شاذلی قادری رحمۃ اللّٰہ  علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شاعرومؤرِّخِ اسلام،  فقیہِ شافعی، کاتب و مصنّف کتب اور استاذُ العُلَماء تھے۔ 1252ھ کو مصر کے شہر اِسکَنْدَریہ میں پیدا ہوئے، حصولِ علم کے بعد زندگی بھر مکّۂ مکرَّمہ میں رہے اور یہیں 21ذوالقعدہ 1327ھ میں وصال فرمایا۔ تصنیف شدہ کتب میں نَفَحَاتُ الرّضی والقُبُول فِي فَضَائل الْمَدِيْنَةِ وزِيَارَةِ الرَّسُوْل بھی یادگار ہے۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 84۔ سالنامه معارف رضا 1999، ص203)

(11)امین الفقہاء حضرت مولانا احمدحسن خان قادری رضوی حیدرآبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1292ھ کو حیدرآباد دکن ہندمیں ہوئی۔ آپ جیّدعالمِ دین ،بہترین واعظ،سلسلہ قادریہ کے شیخِ طریقت تھے۔ آپ کا وصال29 ربیع الآخر 1395ھ کو حیدرآباد  دکن میں ہی ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 557تا561)
(12)تاجُ الْفُیُوض حضرت مولانا احمد حسین امروہی نقشبندی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شیخِ طریقت، شاعِر، کئی کُتُب کے مصنف اور مُتَرْجِم تھے۔ 1289ھ میں پیدا ہوئے اور 27رجب 1361ھ میں وِصال فرمایا۔ تدفین والِدِ گِرامی کے پہلو اَمروہہ ضلع مُرادآباد (یوپی) ہند میں ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص126،تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص264)

(13)استاذُ العُلَما، حضرت مولانا سیّد احمد عالَم قادری رجہتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع بچروکھی نزد رجہت (ضلع نوادہ، بہار) ہند میں ہوئی اور 12 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، بسرام پور، تھانہ امام گنج (ضلع گیا، بہار) ہند میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّد عالِم، مدرس اور قادرُ الکلام واعظ تھے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت،اپریل 2002ء صد سالہ منظرِ اسلام نمبر قسط:2، ص167)

 (14)مبلغِ اسلام،حضرت مولانا شاہ احمد مختار صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،واعظِ خوش بیان، استاذُ العلماء، ہمدردِمِلّت اور بلند پایہ مُصنف تھے ،آپ کی کوشش سےکئی غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے۔1294ھ میں میرٹھ (یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے اور14 جمادی الاولیٰ1357ھ کودَمّن پرتگیز (ہند) میں وصال فرمایا۔(ماہانہ معارف رضا جون 2012ء، ص29)

(15) قاضی مکہ شیخ اَسْعدبن احمددھان مکی حَنَفِی کی ولادت 1280 ھ مکہ شریف میں ہوئی اور 1341 ھ کووِصال فرمایا، مکہِ مکرمہ میں دَفْن کئے گئے ۔آپ کثیرعُلُوْم کے جامِع ،بہترین کاتِب، مُدَرِّسِ حَرَم،امِام نمازِ تراویح ، حَسَنَۃُ الزَمان، زاہد ومتقی، رُکْنِ مَجْلسِ تعزیراتِ شَرْعِیہ ، صدرہیئۃِمجلسِ تَدْقیِقْاتِ اُمُوْرِ الْمُطَوِّفِیْن (معلمین سے معاملات کی چھان بین کرنے والے ادارے کےصدر) اور مُقَرِّظُ الدَوْلۃ المکیۃ وحُسام الحَرَمَیْن تھے۔(مختصر نشر النور والزھر ص129، امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلماء مکہ مکرمہ ص201تا205)

 (16)مُحَافِظِ کُتُبِ حَرَم،عالمِ جَلیل حضرت شیخ سیداسماعیل بن سیدخلیل حنفی قادری آفندی مکی کی ولادت اندازاً  1270 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اوروصال 1329 ھ کواستبول میں فرمایا۔آپ جَیِّدومُحتاط عالمِ دین،بڑے ذَہین وفَطین،وَجیہ صورت اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔(الاجازات  المتینہ ص32تا35،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص36 تا53،تاریخ الدولۃ المکیہ ص104) 

(17)امام العُلَماء حضرت مولانا حافظ امام الدین کوٹلوی قادری رضوی رحمۃ اللہ  علیہکی ولادت کوٹلی لوہاراں مغربی)ضلع سیالکوٹ) میں ہوئی اور19 صفَر المُظفّر  1381 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان عیدگاہ شریف راولپنڈی میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل ،اچھے واعظ ،مصنفِ کتب ،قادرالکلام شاعراورمجازِطریقت تھے ۔ نصرۃ الحق آپکے کلام کا مجموعہ ہے ۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص 30 ،33)

(18) صاحبِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ حضرت  علامہ مولانا مفتی  امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ  علیہ کی ولادت 1300ھ کو مدینۃ العُلَماءگھوسی (ضلع مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذوالقعدہ1376ھ کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم ومدرّس،متقی وپرہیزگار،مصنف کتب ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ)

(19)صاحبِ باغِ فردوس حضرت مولانا سیّد ایّوب علی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، فارسی و ریاضی میں ماہر، مُدَرِّس، شاعر، مصنف، بانیٔ رضوی کتب خانہ اوراعلیٰ حضرت کے پیش کار(منیجر) تھے۔ 1295ھ بریلی شریف( یوپی ،ہند) میں پیدا  ہوئے، جمعۃُالوداع 26رمضان 1390ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک میانی قبرستان لاہور میں ہے۔ (ماہنامہ معارف رضا، نومبر 2001ء، ص19،21)

ب

(20) فاضلِ مکہ،حضرت مولانا بکررفیع مکی کو اعلیٰ حضرت نے3صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں خِلافت سے نوازا۔ (الاجازات المتینۃ،ص44)

(21) برہانِ ملت حضرت مولانا مفتی  برہان الحق جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی  کی ولادت 1310ھ کو جبل پور(سی پی) ہند میں ہوئی اور وصال26ربیع الاول 1405ھ کو فرمایا ۔مزارمبارک عیدگاہ کلاں رانی تال جبل پورمیں ہے ۔آپ فاضل دارالعلوم منطرِاسلام،مفتیِ اسلام،عُلومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،نعت گوشاعر،بہترین واعظ،متحرک راہنما،شیخِ طریقت اوردرگاہِ قادریہ سلامیہ کے سجادہ نشین تھے ۔تصنیف کردہ 26کتب ورسائل میں ’’جذبات برہان‘‘بھی  ہے جو آپ کا نعتیہ دیوان  ہے۔ (برہان ملت کی حیات وخدمات،16،17،63 )

(22) زینتُ القُرّاء حضرت مولانا حافظ قاری  بشیر الدّین قادری نقشبندی  جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرّس، شیخِ طریقت اور اچھے قاری تھے،ولادت 1285ہجری میں اور وصال 2 شوال 1326ہجری میں ہوا۔ مزار مبارک عیدگاہ کلاں جبل پور (مدھیہ پردیش)  ہند میں ہے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص431-434)

ج
(23) مُدَرِّسِ حَرَم حضرتِ سَیِّدُناشیخ جمال بن امیربن حسین مالکی قادری کی ولادت 1285 ھ کومکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1349ھ کوفرمائی ،مکہ شریف میں دفن کئے گئے۔آپ امام مالکی،مُصَنِّفِ کُتُب،جَسْٹس شرعی عدالت،رُکْنِ مجلس اَعلیٰ محکمہ تعلیم اور  مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ وحُسام الحرمین تھے، آپ کی کتب میں ’’الثمرات الجنیۃ فی الاسئلۃ النحویۃ‘‘ مشہور ہے۔ (مختصر نشر النوروالزھر،ص 163،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 149تا151)

(24)مداحُ الحبیب مولانا صوفی شاہ محمد جمیل الرحمٰن خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف ( یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1343 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان بہاری پور(سول لائن سٹی اسٹیشن) بریلی شریف(یوپی) ہندمیں مَزَار مولانا حسن رضا خان کے پہلو میں ہوئی۔ آپ خوش الحان نعت خوان، واعِظ خُوش بَیاں،عالمِ باعمل اورصاحبِ دِیوان شاعر تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص132،134۔برکات قادریت ص 15تا18 ،بریلی سے مدینہ ص 2)

ح

(25) شہزادۂِ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالم دین،ظاہری وباطنی حسن سےمالامال اور جانشینِ اعلیٰ حضرت تھے۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ میں وصال فرمایا اور مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہور ہے۔ (فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)

 (26) مُحسنِ ملّت حضرتِ علّامہ مولانا حامد علی فاروقی رضوی رائے پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت قاضی پور چندہا (الٰہ آباد یوپی) ہند میں 1306ھ میں ہوئی۔ 26 محرّمُ الحرام 1388ھ کو وصال فرمایا، رائے پور کے مشہور ولیُ اللہ حضرت فاتح شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے قرب میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ فاضل منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظر و خطیبِ اسلام، ملّی قائد اور قومی راہنما تھے، آپ نے کئی فتاویٰ بھی لکھے، آپ کا 1924ء میں قائم کردہ ”مدرسہ و ادارہ اصلاحُ المسلمین و دارُالیتامیٰ چھتیس گڑھ ہند“ آج بھی قوم و ملت کی آبیاری کررہا ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص562تا573)

 (27)مقرب شاہ جی میاں حضرت مولانا حکیم حبیب الرحمٰن خان رضوی پیلی بھیتی کی ولادت 1288ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1362ھ کو وِصال فرمایا، ان کی تدفین ان کے اپنےذاتی باغ میں ہوئی ۔ آپ عالم شہیر،مُدَرِّس جلیل، استاذالعُلَماء،مقبولِ عوام وعلما اوربانیٔ مدرسہ آستانہ عالیہ شیریہ ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت،  ص135۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص242)

(28) ہمدردِ ملّت حضرت مولانا حافظ  حبیب اللہ قادری میرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، عربی وفارسی کےمدرِس اور بانیِ مسلم دَارُ الیَتَامٰی وَالمَسَاکِیْن مِیرَٹھ ہیں۔ 1304ہجری میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1367 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک قبرستان شاہ ولایت محلہ خیر نگر میرٹھ (یوپی) ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 227-233)

(29) صاحبِ ذوقِ نعت، استاذِ زَمَن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان برادرِ اکبراعلیٰ حضرت، قادِرُالکلام شاعر ،کئی کتب کےمصنف    اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کےمہتممِ اوّل ہیں، 1276ھ  کو محلہ سوداگران بریلی میں پیدا  ہوئے،  22ر مضان 1326ھ کو وہیں وصال فرمایا، مزارمبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔آپ حضرت شاہ ابوالحسین نوری کے مریدوخلیفہ تھے، اعلیٰ حضرت نے بھی آپ کو خلافت سے نوازا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ،ص79،78،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)

(30)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت، سیّدُنا شیخ حسن بن عبدُالرّحمٰن عُجَیْمی حنفی مکی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالمِ کبیر،فاضلِ جلیل اور عُجَیْمیخاندان کے علمی وارث تھے،1289ھ میں ولادت ہوئی اورجمادی الاولیٰ1361ھ میں وصال فرمایا،جنت المعلیٰ مکۂِ مکرمہ میں دفن کیے گئے۔( مکۂ مکرمہ کے عُجَیْمی علما، ص95 ۔ الاجازت المتینۃ، ص64)

 (31) شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العُلَما حضرتِ مولانا حسنین  رضا خان رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔  (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر،  ص77تا81)

(32) مفسرقرآن حضرت مولاناحشمت علی فائق  قادری رضوی کی ولادت 1882ء بریلی شریف میں ہوئی اوریہیں 1962ء کو وصال فرمایا۔ قبرستان باقر گنج بریلی شریف میں دَفْن کئے گئے۔آپ فاضل منظراسلام،واعِظ اور شاعر تھے۔ آپ نے بالُخُصوص بچوں، عورتوں اور دینی طَلَبَہ کے لیے کُتُب تحریر فرمائیں۔ آپ کی تفسیر جواہرالایقان المعروف تفسیررضوی  پانچ جلدوں پرمشتمل
ہے۔ (جہان مفتی اعظم ہند،1072)

(33) شیر بیشۂ سنّت، عبیدالرّضا مولانا ابو الفتح حشمت علی خان رضوی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1319ھ کولکھنو(یوپی)   ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حافظُ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الہندیہ“ اور ”فتاویٰ شیربیشۂ سنّت“ زیادہ مشہور ہیں۔ وصال8 محرَّمُ الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316)
(34) اِمامِ تراویح فی الحَرَم سیّدحسین بن صدیق دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت 1294 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1340 ھ کو انڈونیشیا میں ہوئی اور یہیں دفن کئے گئے۔ آپ خوش الحان قاری، مبلغ اسلام، سیاحِ مَمالِکِ اِسلامیہ، اَدیب وشاعر، جیدعالم اوراُستاذالعُلَما تھے ۔(نشرالنورص 179،امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ ص303)

(35) منظورِنظر اعلیٰ حضرت شیخ سیدحسین بن عبد القادر حَنَفِیْ مَدَنی   کی وِلادت اوروِصال مدینہ شریف میں ہوا۔تدفین جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں کی گئی۔آپ مدرس مسجدنبوی،جامِع عُلُوم جَدیدہ وقَدیمہ بالخُصُوص جَفَر ،نُجُوم، ہیئت ، اوفاق، اور تکسیرمیں ماہر، متقی وقانِع اورباحیا تھے۔ تحصیلِ علم کے لیے 14 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔( تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص58تا60،تاریخ الدولۃ المکیہ ص66،117،ملفوظات اعلیٰ حضرت, 211تا214)

(36)حضرت مولانا سَیِّدحسین علی رضوی اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کتاب ”دربارِچشت اجمیر“ کے مصنف،انجمن تبلیغِ مُحِبِّ مِشَن ہند اجمیر کے بانی اور روضہ ِٔخواجہ غریب نواز کے مجاور تھے۔ وصال 22شعبان1387 ھ  میں  ہوا اور اناساگرھاٹی اجمیر (راجستھان) ہند میں دفن کیے گئے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 448تا462)

خ

(37) اُستاذالعُلَماحضرت مولانا خلیل الرحمٰن بہاری قادری رضوی ،جیدعالم دین ، واعظ خوش بیان،مدرس مدرسہ عربیہ متیال مٹھ مدراس(ریاست تامل ناڈو) اورمجازطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص415تا417)

د

(38) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد  دِیدارعلی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری علیہ رحمۃ اللہ القَویجَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَماء، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1273ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور  لاہور میں 22رجب 1345ھ میں  وِصال فرمایا۔  دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف اور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزار مُبارَک اَندرونِ دہلی  گیٹ محمدی محلّہ  لاہور میں ہے۔ (فتاویٰ دیداریہ، ص2)

ر

(39)استاذُ العُلَماء، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی)ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم، صدر مدرس اور مجازِ طریقت تھے۔ آپ نے بحالتِ سفر (غالباً28) صَفَرُالْمُظَفَّر 1363ھ کو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138)

(40)استاذُالعُلَماء حضرت علامہ مفتی  رحیم بخش آروی رَضَوی،جیِّد مُدَرِّس،مُنَاظِر،واعظ،مجازِ طریقت اور بانیٔ مدرسہ فیضُ الغُرَبَا (آرہ بہارہند)تھے۔ 8شعبان 1344ھ میں وفات پائی ،مولا باغ قبرستان آرہ (ضلع شاہ آبادبہار) ہند میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص137)

(41)بڑے مولانا حضرت علامہ مفتی  رحیم بخش باتھوی رَضَوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، عارف باللہ،فاضل منظرِاسلام، استاذُ العلماء اور شیخ طریقت ہیں،19 جُمادی الاُخریٰ 1379ھ میں وصال فرمایا، مزارمبارک جنوبی قبرستان موضع باتھ اصلی ضلع سیتامڑھی صوبہ بہارہند میں ہے۔(تذکرہ علماء اہل سنت سیتامڑھی،157تا159،فقیہ اسلام ،266)

س

(42)استاذالعلماحضرتِ سیّدنا شیخ سیّد  سالم بن سیدعیدروس بن عبدالرحمٰن البار،  مکی علوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مکۂِ مکرمہ کے جَیِّدعالِمِ دین ،مُدَرِّس،شیخِ طریقت ، 11صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت سے خلافت پانے والے، حرمِ پاک کےدومُدَرِّسِیْن شیخ سیدعیدروس البار،مکی (1299تا1367 ھ ) اور خلیفہِ اعلیٰ حضرت شیخ سید ابوبکرالبار،مکی (1301تا1384ھ) کے والدِگرامی تھے۔آپ نے  1327ھ کو مکۂِ مکرمہ میں وفات پائی۔ (الاجازات المتینۃ ،46،خلفائے اعلیٰ حضرت ،61)

(43) واعِظِ خُوش بَیاں حضرت مولانا سرفراز احمد قادری رضوی کی ولادت غالباً محلہ  مکہڑی کھوہ مرزاپور(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وِصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت، عالمِ دین،واعِظ اور مَجازِ طریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 317)

(44) تِلمیذِاعلیٰ حضرت مولانامفتی  نواب سلطان احمدخان قادری رضوی کی ولادت ذوالحجہ  1279ھ    کو بریلی کے خاندان نواب حافظ الملک رحمت خان بہادر  میں ہوئی ،آپ فاضل منظراسلام ،علم الفرائض میں وحیدالعصراورحضرت ابوالحسین نوری کے مرید اوراعلیٰ حضرت کے خلیفہ تھے ،فتاویٰ رضویہ کی پہلی چارجلدیں آپ نے ترتیب دیں ۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ ،ص153،تذکرہ علمائے ہندوستان ،183)

 (45) مفکرِ اسلام، پروفیسر حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں مِیر داد،   ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور، الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144، سیدی ضیاء الدین احمد القادری، 2/266-268 )

ش