حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں اللہ کا ذکرکر رہے تھے ۔نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔پھر فرمایا اپنا کام جاری رکھو ۔حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے دعا کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری دعا پر آمین کہی۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی
انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی
کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔
فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"
(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)
تو رسول اکرم ﷺ نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعةکو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعةکہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع
(الاصابۃ ج4ص2391)
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم ﷺ سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔
سفر آخرت کے وقت حالت
آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا
من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے )
تعداد مرویات
کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)
مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص295)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔
(الاوسط للامام المندر ج3ص94،سنن الدارقطنی ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا ’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذتین پڑھتے تھے۔
(مجمع الزوائد ج2 ص506،505)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔
(جامع الترمذی ج 1ص96 ) تعداد تلامذہ
احادیث نبوی ﷺ کے عظیم الشان ذخیرہ کی مناسبت سے آپ کے تلامذہ کا دائرہ وسیع تھا۔ صحابہ اور تابعین تلامذہ کی تعداد 800سے بڑھ جاتی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص517،الاسیتعاب ص852،البدایہ والنہایہ ج4ص498)

تاریخ وفات
آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں تین قول ہیں۔
1- 57ہجری
2- 58 ہجری
3- 59 ہجری 78 سال کی عمر پائی۔(الاستیعاب ص852،سیراعلام النبلاء ج3ص531)
نماز جنازہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ولید بن عقبہ نے نماز عصر کے بعد پڑھائی ،جس میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ بھی شریک تھے ۔
(سیراعلام النبلاء ج3ص532،الاستیعاب ص852،الاصابہ ج4ص2393)
پیش کش : ڈاکٹر مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/759310771313161/
انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی
کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔
فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"
(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)
تو رسول اکرم ﷺ نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعةکو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعةکہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع
(الاصابۃ ج4ص2391)
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم ﷺ سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔
سفر آخرت کے وقت حالت
آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا
من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے )
تعداد مرویات
کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)
مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص295)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔
(الاوسط للامام المندر ج3ص94،سنن الدارقطنی ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا ’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذتین پڑھتے تھے۔
(مجمع الزوائد ج2 ص506،505)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔
(جامع الترمذی ج 1ص96 ) تعداد تلامذہ
احادیث نبوی ﷺ کے عظیم الشان ذخیرہ کی مناسبت سے آپ کے تلامذہ کا دائرہ وسیع تھا۔ صحابہ اور تابعین تلامذہ کی تعداد 800سے بڑھ جاتی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص517،الاسیتعاب ص852،البدایہ والنہایہ ج4ص498)

تاریخ وفات
آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں تین قول ہیں۔
1- 57ہجری
2- 58 ہجری
3- 59 ہجری 78 سال کی عمر پائی۔(الاستیعاب ص852،سیراعلام النبلاء ج3ص531)
نماز جنازہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ولید بن عقبہ نے نماز عصر کے بعد پڑھائی ،جس میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ بھی شریک تھے ۔
(سیراعلام النبلاء ج3ص532،الاستیعاب ص852،الاصابہ ج4ص2393)
پیش کش : ڈاکٹر مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/759310771313161/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تنظیم و اُصول اور استعداد و صلاحیت کے ضمن میں
*تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی عصری افادیت*
(ماہِ رضا "صفر المظفر" کی نسبت سے)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ عالمِ اسلام کے عظیم نابغہ و عبقری تھے۔ آپ کی فکر و بصیرت نے اُمتِ مسلمہ کی رہبری کی۔ انگریزی اقتدار کے خلاف ذہن سازی کی۔ تمدنِ فرنگ سے نفرت کا اظہار کیا۔ فتاوے صادر فرمائے۔ مشرکین کی سازشوں سے پردہ اُٹھایا۔ مسلمانوں کی تنظیمی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اجتماعیت کی فکر دی۔ استعداد و صلاحیت کی قدر دانی سکھائی۔ اُصولِ ارتقاے قومیت کو تفوق بخشا۔ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کے ذریعے اسلامی ذہن سازی ہوئی۔ مسلمانوں کی ترقی کے لیے آپ کی تجاویز بڑی افادیت کی حامل ہیں۔
*تنظیم و اُصول:*
اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ’’شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں آپ سرکوبی اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین، رسالے بھیجتے رہیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، ج۱۲،رضا اکیڈمی ممبئی، ص۱۳۴)
یہ نکتہ جماعتی نظم و ضبط اور اتحاد و اتفاق، تحریک و تنظیم کے لحاظ سے کافی اہم ہے۔ اس رُخ سے کام کا آغاز آپ نے اپنی حیات میں ہی کر دیا تھا اور کئی تنظیموں کی ضرورت کے تحت بنا ڈالی۔ جن کی خدمات سے ہند کی تاریخ منور ہے۔ اس ضمن میں شدھی تحریک کے سدِ باب کے لیے آپ کے تلامذہ کی خدمات نمایاں ہیں، مشرکین کی شعائر اسلام کے خلاف سازشوں کی نقاب کشائی بھی اہم کارنامہ ہے۔ اقتصادی و سیاسی سطح پر ایمان سوز تحریکات نے آپ کے عہد میں جس تیزی کے ساتھ جنم لیا اس کی مثال نہیں ملتی؛ اور ان کا سدِ باب آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپ نے برصغیر کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے حالات پر نظر رکھی اور ضرورت کے پیشِ نظر کام کے لائق افراد تیار کیے۔ ملک کے طول و عرض سے قابل افراد طلب کیے جاتے اور بارگاہ ِرضا سے علما بھیجے جاتے۔ یوں جمعیت کے لیے عملاً پیش قدمی کی-
ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری بہاری جو مصنف، محقق، مدقق، مناظر، مدرس، منتظم، ماہر علومِ ہیئت و فلکیات تھے اور حاجی منشی لعل محمد خاں (کلکتہ) جو اشاعتی و تنظیمی امور میں پیش پیش رہا کرتے تھے اُن کے تذکرے میں اعلیٰ حضرت کا جماعتی درد اور ملی کرب ملاحظہ ہو، ملک العلماء کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’افسوس کہ ادھر نہ مدرس، نہ واعظ، نہ ہمت والے مال دار، ایک ظفرالدین کدھر کدھر جائیں اور ایک لعل خاں کیا کیا بنائیں۔‘‘
( حیاتِ اعلیٰ حضرت، از ملک العلماء، ادارۂ ترویج و اشاعت مسجد نورالاسلام بولٹن۲۰۰۳ء، ج۳، ص۳۹۱)
اعلیٰ حضرت کی تعمیری فکر سے ان کے تلامذہ کو وافر حصہ ملا، چناں چہ جماعتی اتحاد اور احکامِ شرع پر عمل کے لیے دعوتِ فکر دیتے ہوئے تلمیذ رضا، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (مصنف: بہارِ شریعت) لکھتے ہیں:
’’بے جا ضد اور ہٹ سے باز آؤ اور اسلام کی مضبوط رَسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ آپس میں خلوص و محبت سے پیش آؤ۔ ہماری عزت اسلام سے ہے۔ اور بہبودی و فلاح اتباع شریعت میں ہے۔‘‘
( پیغام عمل،یٰسٓ اختر مصباحی، دارالقلم دہلی ۲۰۰۲ء، ص۷۲)
آپ کے محبین، متوسلین، مریدین و خلفا اور تلامذہ نے مختلف بلاد و امصار میں حالات اور تقاضے کے تحت مسلمانوں کی رہنمائی کی ۔ منصوبہ بندی کے ساتھ حوادثِ زمانہ کا مقابلہ کیا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سرکردہ افراد اعلیٰ حضرت کے نکتۂ مذکورہ پر غور و فکر کے ساتھ عمل کی راہ نکالیں۔
*استعداد کا استعمال:*
اعلیٰ حضرت اپنے فکر پرور منصوبہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انھیں مہارت ہو لگائے جائیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۲، رضا اکیڈمی ممبئی،ص۱۳۴)
آپ نے کئی مقامات پر وظائف سے متعلق رہبری کی ہے، اِس اقتباس میں جو پہلو واضح کیا گیا وہ یہ ہے کہ با صلاحیت افراد کو ان کے متعلقہ شعبے میں مقرر کیا جائے تا کہ ان کی صلاحیت کا مثل ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ عمدہ نتیجہ قوم کو حاصل ہو، اس کے لیے معاشی آسودگی ضروری ہے اور وظائف کے ذریعے اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔یعنی فرد سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے۔ جس سے قوم کی نئی نسل کو فائدہ پہنچے گا اور صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
ماضی میں جب کہ علمی و تحقیقی امور کی انجام دہی کے لیے مسلم سلاطین نے بڑے بڑے جامعات و مدارس قائم کیے تھے، با صلاحیت علما کو وظائف دے کر معاشی ضروریات کا تصفیہ کیا جاتا تھا اس طرح وہ یکسوئی کے ساتھ علمی و دینی کام انجام دیا کرتے تھے اور قوم کی ترقی کا آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔
*تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی عصری افادیت*
(ماہِ رضا "صفر المظفر" کی نسبت سے)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ عالمِ اسلام کے عظیم نابغہ و عبقری تھے۔ آپ کی فکر و بصیرت نے اُمتِ مسلمہ کی رہبری کی۔ انگریزی اقتدار کے خلاف ذہن سازی کی۔ تمدنِ فرنگ سے نفرت کا اظہار کیا۔ فتاوے صادر فرمائے۔ مشرکین کی سازشوں سے پردہ اُٹھایا۔ مسلمانوں کی تنظیمی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اجتماعیت کی فکر دی۔ استعداد و صلاحیت کی قدر دانی سکھائی۔ اُصولِ ارتقاے قومیت کو تفوق بخشا۔ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کے ذریعے اسلامی ذہن سازی ہوئی۔ مسلمانوں کی ترقی کے لیے آپ کی تجاویز بڑی افادیت کی حامل ہیں۔
*تنظیم و اُصول:*
اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ’’شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں آپ سرکوبی اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین، رسالے بھیجتے رہیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، ج۱۲،رضا اکیڈمی ممبئی، ص۱۳۴)
یہ نکتہ جماعتی نظم و ضبط اور اتحاد و اتفاق، تحریک و تنظیم کے لحاظ سے کافی اہم ہے۔ اس رُخ سے کام کا آغاز آپ نے اپنی حیات میں ہی کر دیا تھا اور کئی تنظیموں کی ضرورت کے تحت بنا ڈالی۔ جن کی خدمات سے ہند کی تاریخ منور ہے۔ اس ضمن میں شدھی تحریک کے سدِ باب کے لیے آپ کے تلامذہ کی خدمات نمایاں ہیں، مشرکین کی شعائر اسلام کے خلاف سازشوں کی نقاب کشائی بھی اہم کارنامہ ہے۔ اقتصادی و سیاسی سطح پر ایمان سوز تحریکات نے آپ کے عہد میں جس تیزی کے ساتھ جنم لیا اس کی مثال نہیں ملتی؛ اور ان کا سدِ باب آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپ نے برصغیر کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے حالات پر نظر رکھی اور ضرورت کے پیشِ نظر کام کے لائق افراد تیار کیے۔ ملک کے طول و عرض سے قابل افراد طلب کیے جاتے اور بارگاہ ِرضا سے علما بھیجے جاتے۔ یوں جمعیت کے لیے عملاً پیش قدمی کی-
ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری بہاری جو مصنف، محقق، مدقق، مناظر، مدرس، منتظم، ماہر علومِ ہیئت و فلکیات تھے اور حاجی منشی لعل محمد خاں (کلکتہ) جو اشاعتی و تنظیمی امور میں پیش پیش رہا کرتے تھے اُن کے تذکرے میں اعلیٰ حضرت کا جماعتی درد اور ملی کرب ملاحظہ ہو، ملک العلماء کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’افسوس کہ ادھر نہ مدرس، نہ واعظ، نہ ہمت والے مال دار، ایک ظفرالدین کدھر کدھر جائیں اور ایک لعل خاں کیا کیا بنائیں۔‘‘
( حیاتِ اعلیٰ حضرت، از ملک العلماء، ادارۂ ترویج و اشاعت مسجد نورالاسلام بولٹن۲۰۰۳ء، ج۳، ص۳۹۱)
اعلیٰ حضرت کی تعمیری فکر سے ان کے تلامذہ کو وافر حصہ ملا، چناں چہ جماعتی اتحاد اور احکامِ شرع پر عمل کے لیے دعوتِ فکر دیتے ہوئے تلمیذ رضا، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (مصنف: بہارِ شریعت) لکھتے ہیں:
’’بے جا ضد اور ہٹ سے باز آؤ اور اسلام کی مضبوط رَسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ آپس میں خلوص و محبت سے پیش آؤ۔ ہماری عزت اسلام سے ہے۔ اور بہبودی و فلاح اتباع شریعت میں ہے۔‘‘
( پیغام عمل،یٰسٓ اختر مصباحی، دارالقلم دہلی ۲۰۰۲ء، ص۷۲)
آپ کے محبین، متوسلین، مریدین و خلفا اور تلامذہ نے مختلف بلاد و امصار میں حالات اور تقاضے کے تحت مسلمانوں کی رہنمائی کی ۔ منصوبہ بندی کے ساتھ حوادثِ زمانہ کا مقابلہ کیا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سرکردہ افراد اعلیٰ حضرت کے نکتۂ مذکورہ پر غور و فکر کے ساتھ عمل کی راہ نکالیں۔
*استعداد کا استعمال:*
اعلیٰ حضرت اپنے فکر پرور منصوبہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انھیں مہارت ہو لگائے جائیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۲، رضا اکیڈمی ممبئی،ص۱۳۴)
آپ نے کئی مقامات پر وظائف سے متعلق رہبری کی ہے، اِس اقتباس میں جو پہلو واضح کیا گیا وہ یہ ہے کہ با صلاحیت افراد کو ان کے متعلقہ شعبے میں مقرر کیا جائے تا کہ ان کی صلاحیت کا مثل ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ عمدہ نتیجہ قوم کو حاصل ہو، اس کے لیے معاشی آسودگی ضروری ہے اور وظائف کے ذریعے اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔یعنی فرد سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے۔ جس سے قوم کی نئی نسل کو فائدہ پہنچے گا اور صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
ماضی میں جب کہ علمی و تحقیقی امور کی انجام دہی کے لیے مسلم سلاطین نے بڑے بڑے جامعات و مدارس قائم کیے تھے، با صلاحیت علما کو وظائف دے کر معاشی ضروریات کا تصفیہ کیا جاتا تھا اس طرح وہ یکسوئی کے ساتھ علمی و دینی کام انجام دیا کرتے تھے اور قوم کی ترقی کا آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔
اعلیٰ حضرت نے اس میں قابل افراد کی قدر سکھائی ہے اور بیدار رہ کر قومی تعمیر کے فریضے کو بہتر طور پر انجام دینے کا ذہن دیا، یہ فکری نکتہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے کہ ؎
دلوں میں وَلوَلے آفاق گیری کے نہیں اُٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو انداز آفاقی
٭٭٭
* نوری مشن مالیگاؤں gmrazvi92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4420261098055568&id=100002151654486
دلوں میں وَلوَلے آفاق گیری کے نہیں اُٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو انداز آفاقی
٭٭٭
* نوری مشن مالیگاؤں gmrazvi92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4420261098055568&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عقیدۂ ختمِ نبوت بزبانِ خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ
☙ مجھے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی:
(۱) مجھے جامع کلمات دیے گئے،
(۲) رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی،
(۳) میرے ليے مال غنیمت کو حلال کر دیا گیا،
(٤) میرے ليے ساری زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی،
(۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا،
(٦) مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۲۱۰، حدیث ۱۱٦۷)
☙ بے شک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے (جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا)۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۵۵۳، حدیث ۳۳۷٦)
☙ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ میں (قصر نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۹٦۵، حدیث ۵۹٦۱)
☙ (اے علی!) تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسی سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۱۰۰٦، حدیث ٦۲۱۷)
☙ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔ (سنن ابن ماجہ، جلد ٤، صفحہ ٤۱٤، حدیث ٤۰۷۷)
☙ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (جامع الترمذی ، جلد ٤، صفحہ ۹۳، حدیث ۲۲۲٦)
☙ بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔ (جامع الترمذی، جلد ٤، صفحہ ۱۲۱، حدیث ۲۲۷۹)
☙ میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ الله تعالی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (جامع الترمذی، جلد ٤، صفحہ ۳۸۲، حدیث ۲۸٤۹)
☙ میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسند احمد، جلد ۲، صفحہ ٦٦۵، حدیث ۷۰۰۰)
☙ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں، (یعنی) اچھا خواب کہ بندہ خود دیکھے یا اس کے ليے دوسرے کو دکھایا جائے۔ (مسند احمد، جلد ۹، صفحہ ٤۵۰، حدیث ۲۵۰۳۱)
☙ اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد ۸، صفحہ ۱۱۵، حدیث ۷۵۳۵)
☙ میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بطور فخر نہیں کہتا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد ۱، صفحہ ٦۳، حدیث ۱۷۰)
☙ بنی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام چلاتے تھے جب بھی ایک نبی جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا اور میرے بعد تم میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد ۸، صفحہ ٦۱۵، حدیث ۱۵۲)
☙ بے شک میں الله تعالی کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین (لکھا ہوا) تھا جب حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ (کنز العمال، جزء ۱۱، جلد ٦، صفحہ ۱۸۸، حدیث ۳۱۹۵۷)
☙ میں ہی سب سے پیچھے آنے والا ہوں (یعنی دنیا میں سب انبیاء کے بعد آنے والا ہوں اور میں آخری نبی ہوں)، میں سب نبیوں کے بعد آیا ہوں (یعنی مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا) اور میں قیم ہوں۔ (شمائل ترمذی، صفحہ ۲۱٤، حدیث ۳٦۱)
☙ میں ہی پیچھے آنے والا ہوں اور میں حاشر ہوں، مجھے جہاد کے ليے بھیجا گیا کھیتیوں کے ليے نہیں۔ (شمائل ترمذی، صفحہ ۲۱٤، حدیث ۳٦۱)
تاجدارِ ختم نبوت۔۔۔ زندہ باد!
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/986374168606819/
☙ مجھے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی:
(۱) مجھے جامع کلمات دیے گئے،
(۲) رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی،
(۳) میرے ليے مال غنیمت کو حلال کر دیا گیا،
(٤) میرے ليے ساری زمین پاک اور نماز کی جگہ بنا دی گئی،
(۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا،
(٦) مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۲۱۰، حدیث ۱۱٦۷)
☙ بے شک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے (جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا)۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۵۵۳، حدیث ۳۳۷٦)
☙ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ میں (قصر نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۹٦۵، حدیث ۵۹٦۱)
☙ (اے علی!) تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسی سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح مسلم، صفحہ ۱۰۰٦، حدیث ٦۲۱۷)
☙ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو۔ (سنن ابن ماجہ، جلد ٤، صفحہ ٤۱٤، حدیث ٤۰۷۷)
☙ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (جامع الترمذی ، جلد ٤، صفحہ ۹۳، حدیث ۲۲۲٦)
☙ بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔ (جامع الترمذی، جلد ٤، صفحہ ۱۲۱، حدیث ۲۲۷۹)
☙ میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ الله تعالی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (جامع الترمذی، جلد ٤، صفحہ ۳۸۲، حدیث ۲۸٤۹)
☙ میں محمد ہوں، اُمّی نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسند احمد، جلد ۲، صفحہ ٦٦۵، حدیث ۷۰۰۰)
☙ میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں، (یعنی) اچھا خواب کہ بندہ خود دیکھے یا اس کے ليے دوسرے کو دکھایا جائے۔ (مسند احمد، جلد ۹، صفحہ ٤۵۰، حدیث ۲۵۰۳۱)
☙ اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد ۸، صفحہ ۱۱۵، حدیث ۷۵۳۵)
☙ میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بطور فخر نہیں کہتا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد ۱، صفحہ ٦۳، حدیث ۱۷۰)
☙ بنی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام چلاتے تھے جب بھی ایک نبی جاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا اور میرے بعد تم میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد ۸، صفحہ ٦۱۵، حدیث ۱۵۲)
☙ بے شک میں الله تعالی کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین (لکھا ہوا) تھا جب حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ (کنز العمال، جزء ۱۱، جلد ٦، صفحہ ۱۸۸، حدیث ۳۱۹۵۷)
☙ میں ہی سب سے پیچھے آنے والا ہوں (یعنی دنیا میں سب انبیاء کے بعد آنے والا ہوں اور میں آخری نبی ہوں)، میں سب نبیوں کے بعد آیا ہوں (یعنی مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا) اور میں قیم ہوں۔ (شمائل ترمذی، صفحہ ۲۱٤، حدیث ۳٦۱)
☙ میں ہی پیچھے آنے والا ہوں اور میں حاشر ہوں، مجھے جہاد کے ليے بھیجا گیا کھیتیوں کے ليے نہیں۔ (شمائل ترمذی، صفحہ ۲۱٤، حدیث ۳٦۱)
تاجدارِ ختم نبوت۔۔۔ زندہ باد!
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/986374168606819/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فخرِ مشرق مظہرِ اقبال علامہ بدرالقادری مصباحی علیہ الرحمہ کی مرقومہ اسلامی، انقلابی نظموں کے مجموعہ "الرحیل" کی پی ڈی ایف لنک اربابِ ذوق کی نذر :
http://www.mushahidrazvi.com/2021/09/ar-raheel-allama-badrul-qadri-misbahi.html
آپ کی نظموں میں شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبالؔ کے افکار و تخیل اور رنگ و آہنگ کی ایسی آمیزش ہے کہ اس پر اصل میں اقبالؔ کے اشعار کا شبہ ہونے لگتا ہے۔پورا مجموعۂ کلام ’’الرحیل‘‘ اقبالؔ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔چند مثالیں نشانِ خاطر فرمائیں ؎
شورِ تکبیر سے کونین لرز جاتے تھے
تو نے افسوس ! کہاں دیکھی و ہ ضربِ مضراب
تو چمکتا تھا صداقت کا ستارا بن کر
عدل و انصاف کی کشتی کا کنارا بن کر
درس دیتا تھا مساوات کا تو عالم کو
اپنی ہی زلفوں کے اب روتا ہے پیچ و خم کو
تعلیم فقط وضع بدل دیتی تو کیا غم
ہے یاں رخِ الحاد پہ افکار کا دھارا
غرناطہ و اسپین را اقبالؔ بزارد
بدرؔ ارضِ فلسطیٖن و مقاماتِ ہدارا
جل رہا ہے قبلۂ اوّل تمہارا آگ میں
اور تم کھوئے ہوئے ہو زندگی کے راگ میں
.... مشاہد رضوی
یہ کتاب pdf فائل میں
ٹیلی گرام پر یہاں ↶ ہے!
https://t.me/Naat_Nizaamat/1375
http://www.mushahidrazvi.com/2021/09/ar-raheel-allama-badrul-qadri-misbahi.html
آپ کی نظموں میں شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبالؔ کے افکار و تخیل اور رنگ و آہنگ کی ایسی آمیزش ہے کہ اس پر اصل میں اقبالؔ کے اشعار کا شبہ ہونے لگتا ہے۔پورا مجموعۂ کلام ’’الرحیل‘‘ اقبالؔ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔چند مثالیں نشانِ خاطر فرمائیں ؎
شورِ تکبیر سے کونین لرز جاتے تھے
تو نے افسوس ! کہاں دیکھی و ہ ضربِ مضراب
تو چمکتا تھا صداقت کا ستارا بن کر
عدل و انصاف کی کشتی کا کنارا بن کر
درس دیتا تھا مساوات کا تو عالم کو
اپنی ہی زلفوں کے اب روتا ہے پیچ و خم کو
تعلیم فقط وضع بدل دیتی تو کیا غم
ہے یاں رخِ الحاد پہ افکار کا دھارا
غرناطہ و اسپین را اقبالؔ بزارد
بدرؔ ارضِ فلسطیٖن و مقاماتِ ہدارا
جل رہا ہے قبلۂ اوّل تمہارا آگ میں
اور تم کھوئے ہوئے ہو زندگی کے راگ میں
.... مشاہد رضوی
یہ کتاب pdf فائل میں
ٹیلی گرام پر یہاں ↶ ہے!
https://t.me/Naat_Nizaamat/1375
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صفر المظفر میں پیش آنے والے چند تاریخی واقعات
❖ صفر المظفر ۱ھ میں حضرت سیدنا علی المرتضی اور خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی الله عنہما کی شادی خانہ آبادی ہوئی۔ (الکامل في التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۱۲)
❖ ۱۲ صفر المظفر ۲ھ کی رات جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔ (شرح الزرقاني على المواهب، جلد ۲، صفحہ ۲۱۸)
❖ صفر المظفر ۷ھ میں مسلمانوں کو فتح خیبر نصیب ہوئی۔ (البدایة والنھایة، جلد ۳، صفحہ ۳۹۲)
❖ سیف الله حضرت سیدنا خالد بن ولید، حضرت سیدنا عمرو بن عاص اور حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ عبدری رضی الله عنہم نے صفر المظفر ۸ھ میں بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۱۰۹)
❖ مدائن (جس میں کسریٰ کا محل تھا) کی فتح بھی ۱٦ھ صفر المظفر ہی کے مہینے میں ہوئی۔ (الکامل في التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/989314074979495/
❖ صفر المظفر ۱ھ میں حضرت سیدنا علی المرتضی اور خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمہ زہراء رضی الله عنہما کی شادی خانہ آبادی ہوئی۔ (الکامل في التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۱۲)
❖ ۱۲ صفر المظفر ۲ھ کی رات جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔ (شرح الزرقاني على المواهب، جلد ۲، صفحہ ۲۱۸)
❖ صفر المظفر ۷ھ میں مسلمانوں کو فتح خیبر نصیب ہوئی۔ (البدایة والنھایة، جلد ۳، صفحہ ۳۹۲)
❖ سیف الله حضرت سیدنا خالد بن ولید، حضرت سیدنا عمرو بن عاص اور حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ عبدری رضی الله عنہم نے صفر المظفر ۸ھ میں بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۱۰۹)
❖ مدائن (جس میں کسریٰ کا محل تھا) کی فتح بھی ۱٦ھ صفر المظفر ہی کے مہینے میں ہوئی۔ (الکامل في التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/989314074979495/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لا تقل: فلان لا يعرفنا إلا وقت الحاجة ۔
بل قل: الحمد لله الذي أكرمنا بقضاء حوائج الناس ۔
یہ مت کہو:
فلاں ہمیں صرف کام پڑنے پر ہی یاد کرتا ہے ۔
بلکہ یوں کہو:
تمام تعریفیں اس رب کے لیے ہیں جس نے ہمیں لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے کا شرف بخشا ۔
( فضيلة الشيخ رجب ديب رحمه الله تعاليٰ )
حماد رضا کی وال سے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3253824571564376&id=100008105947430
بل قل: الحمد لله الذي أكرمنا بقضاء حوائج الناس ۔
یہ مت کہو:
فلاں ہمیں صرف کام پڑنے پر ہی یاد کرتا ہے ۔
بلکہ یوں کہو:
تمام تعریفیں اس رب کے لیے ہیں جس نے ہمیں لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے کا شرف بخشا ۔
( فضيلة الشيخ رجب ديب رحمه الله تعاليٰ )
حماد رضا کی وال سے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3253824571564376&id=100008105947430
امریکہ بیس سال تک لاکھوں مسلمانوں کا خون بہاتا رہا ، مگر کسی کو اُس کے خلاف نکلنے کی توفیق نہ ہوئی ۔
اور جو مسلمان بیس سال اُس جابر سے لڑتے رہے اور اسے شکست کھانے پر مجبور کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جب وہ برسرِ اقتدار آگئے ہیں تو ان کی بے جا مخالفت شروع کردی گئی ہے ۔
اللہ پاک ہی رحم فرمانے والا ہے ! 😥😢
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3254488208164679&id=100008105947430
اور جو مسلمان بیس سال اُس جابر سے لڑتے رہے اور اسے شکست کھانے پر مجبور کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جب وہ برسرِ اقتدار آگئے ہیں تو ان کی بے جا مخالفت شروع کردی گئی ہے ۔
اللہ پاک ہی رحم فرمانے والا ہے ! 😥😢
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3254488208164679&id=100008105947430
اللہ پاک نے اپنی حکمتِ بالغہ کے مطابق عالَمِ اسباب میں مسبّبات کو اسباب سے ربط فرمادیا ہے ۔
آنکھ دیکھتی ہے ، کان سنتا ہے ، آ گ جلاتی ہے ، پانی پیاس بجھاتا ہے ؛ وہ چاہے تو آنکھ سُنے ۔۔۔۔ کان دیکھے ۔۔۔۔ پانی جلائے ۔۔۔۔ آگ پیاس بجھائے ؛ نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہوں ، دن کو پہاڑ نہ سُوجھے ۔۔۔۔ کروڑآگیں ہوں ، ایک تنکے پر داغ نہ آئے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3256444541302379&id=100008105947430
آنکھ دیکھتی ہے ، کان سنتا ہے ، آ گ جلاتی ہے ، پانی پیاس بجھاتا ہے ؛ وہ چاہے تو آنکھ سُنے ۔۔۔۔ کان دیکھے ۔۔۔۔ پانی جلائے ۔۔۔۔ آگ پیاس بجھائے ؛ نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہوں ، دن کو پہاڑ نہ سُوجھے ۔۔۔۔ کروڑآگیں ہوں ، ایک تنکے پر داغ نہ آئے !
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3256444541302379&id=100008105947430
کفر پر ایک لمحے کے لیے راضی ہونا بھی بندے کو مسلمان نہیں رہنے دیتا ، تو جو لوگ اٹھارہ سال تک کسی کے کفر پر راضی رہیں گے ، بلکہ راضی رہنے کو قانونی حیثیت دیں گے یا اِس حیثیت کو تسلیم کریں گے وہ کیسے مسلمان رہیں گے !
اللھم انی اعوذبک من الکفر وعذاب القبر 😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3258074724472694&id=100008105947430
اللھم انی اعوذبک من الکفر وعذاب القبر 😥
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3258074724472694&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ویسے جو خوش عقیدہ مسلمان اس حدیث پاک کا انکار نہیں کرتے:
" انا مدینۃ العلم وابو بکر اساسھا ۔
یعنی میں شہرِ علم ہوں اور ابو بکر بِنائے شہرِ علم ہے "
انھیں " حقاکہ بنائے لا الہ است حسین " پہ بھی کلام نہیں ہونا چاہیے ۔
یہ شعر جس کے بھی ہوں ، لفظی و معنوی طور پر درست ہیں ۔
فن شاعری سے آگاہ علما و مفتیان کرام ان کی تصحیح و تاویل فرماچکے ہیں ، جن میں سیدی تاج الشریعہ مفتی اختر رضا ازہری نوراللہ مرقدہ بھی ہیں ۔
بعض دفعہ شعر کا جو معنی ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں ، وہ مراد نہیں ہوتا ؛ شعر کے بہت سارے ایسے معنے ہوتے ہیں جو بہت سارے لوگ سمجھ نہیں پاتے ۔
رہی یہ بات کہ یہ رباعی کس کی ہے ؟
تو یہ تحقیق طلب بات ہے ۔
اور تحقیق وتدقیق کا دروازہ اہلعلم پر ہمیشہ وا رہے گا ۔
ویسے یہ دور ایسے مسائل میں الجھنےکا نہیں ، دین و ملت کے لیے سوچنے کا ہے ۔
کفر و الحاد پھلتا پھولتا رہے اور ہم باہمی اختلافات میں لگے رہیں تو ہمیں عقل مند کون کہے ۔
✍️لقمان شاہد
14-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3257410767872423&id=100008105947430
" انا مدینۃ العلم وابو بکر اساسھا ۔
یعنی میں شہرِ علم ہوں اور ابو بکر بِنائے شہرِ علم ہے "
انھیں " حقاکہ بنائے لا الہ است حسین " پہ بھی کلام نہیں ہونا چاہیے ۔
یہ شعر جس کے بھی ہوں ، لفظی و معنوی طور پر درست ہیں ۔
فن شاعری سے آگاہ علما و مفتیان کرام ان کی تصحیح و تاویل فرماچکے ہیں ، جن میں سیدی تاج الشریعہ مفتی اختر رضا ازہری نوراللہ مرقدہ بھی ہیں ۔
بعض دفعہ شعر کا جو معنی ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں ، وہ مراد نہیں ہوتا ؛ شعر کے بہت سارے ایسے معنے ہوتے ہیں جو بہت سارے لوگ سمجھ نہیں پاتے ۔
رہی یہ بات کہ یہ رباعی کس کی ہے ؟
تو یہ تحقیق طلب بات ہے ۔
اور تحقیق وتدقیق کا دروازہ اہلعلم پر ہمیشہ وا رہے گا ۔
ویسے یہ دور ایسے مسائل میں الجھنےکا نہیں ، دین و ملت کے لیے سوچنے کا ہے ۔
کفر و الحاد پھلتا پھولتا رہے اور ہم باہمی اختلافات میں لگے رہیں تو ہمیں عقل مند کون کہے ۔
✍️لقمان شاہد
14-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3257410767872423&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جن کتابوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا ، ان میں سے:
"میں ایک جاسوس تھا "
بھی شامل ہے ۔
یہ ایک محب وطن پاکستانی جاسوس کی کہانی ہے ، جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر ہندستان گیا اور مختلف آزمائشوں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرتارہا ۔
ہمت و استقامت کی یہ داستان طارق اسماعیل ساگر نے رقم کی ہے اور یہان کی زندگی کی پہلی کاوش ہے ۔
ابھی خبر ملی ہے کہ ساگر صاحب یہ جہان فانی چھوڑ گئے ہیں ۔ ؎
هَر کِه آمد عِمارتی نَو ساخت
رَفت و منزِل به دَیگری پَرداخت
یہاں جو آیا اس نے نئی عمارت بنائی ، ( لیکن رہنا نصیب نہ ہوا ) اور دوسروں کے لیے خالی کرکے چلا گیا ۔
اللہ پاک دنیاسے جانے والے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کی مغفرت فرمائے !
✍️لقمان شاہد
14-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3257528164527350&id=100008105947430
"میں ایک جاسوس تھا "
بھی شامل ہے ۔
یہ ایک محب وطن پاکستانی جاسوس کی کہانی ہے ، جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر ہندستان گیا اور مختلف آزمائشوں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرتارہا ۔
ہمت و استقامت کی یہ داستان طارق اسماعیل ساگر نے رقم کی ہے اور یہان کی زندگی کی پہلی کاوش ہے ۔
ابھی خبر ملی ہے کہ ساگر صاحب یہ جہان فانی چھوڑ گئے ہیں ۔ ؎
هَر کِه آمد عِمارتی نَو ساخت
رَفت و منزِل به دَیگری پَرداخت
یہاں جو آیا اس نے نئی عمارت بنائی ، ( لیکن رہنا نصیب نہ ہوا ) اور دوسروں کے لیے خالی کرکے چلا گیا ۔
اللہ پاک دنیاسے جانے والے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کی مغفرت فرمائے !
✍️لقمان شاہد
14-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3257528164527350&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
""کسی کی خدمت میں پیش کیے جانے والے تحفوں میں سے سب سے بہترین تحفہ احترام ہے۔ انسان اکڑ کر ایک ٹیلے پر نہیں چڑھ سکتا لیکن جھک کر کوہ ہمالیہ پرپہنچ سکتا ہے،
پس عاجزی سےجھکنا سیکھیں، تاکہ بلندی نصیب ہو۔"
#گلشنِ_اقوال
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2065813376891172/
حیات بخیر دوستو!
باتیں ہیں مصری کی ڈلی!
""کسی کی خدمت میں پیش کیے جانے والے تحفوں میں سے سب سے بہترین تحفہ احترام ہے۔ انسان اکڑ کر ایک ٹیلے پر نہیں چڑھ سکتا لیکن جھک کر کوہ ہمالیہ پرپہنچ سکتا ہے،
پس عاجزی سےجھکنا سیکھیں، تاکہ بلندی نصیب ہو۔"
#گلشنِ_اقوال
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2065813376891172/