🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
یوم تحفظ ختم نبوت ❻
7 ستمبر 1974 عِـیسوی
7 ستمبر 1974 عِـیسوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مسلم قیادت، اور سیاسی "سلو پوائزن"*
مسلم لیڈروں کی سیاست ختم کرکے انھیں ملک و قوم کا غدار ثابت کرنے والے سیکولر ازم کے علم برداروں کی حقیقت بیاں کرتی ایک تجزیاتی تحریر -
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی
سلو پوائزن نام تو سنا ہی ہوگا، ایسا کارگر زہر ہے جس کا کوئی توڑ نہیں،اثر انداز ہونے میں وقت لیتا ہے، لیکن جب اثر کرتا ہے تو دنیا میں اس کا تریاق نہیں ملتا - خیر! ہمیں اس سے کیا؟ ہم بات کر رہے ہیں مسلم قیادت کو ٹھکانے لگانے کی یعنی سیاسی "سلو پوائزن" کی، مسلم لیڈران اور مسلم قیادت کو بھی سلو پوائزن دیا جاتا ہے، لیکن طریقے مختلف ہوتے ہیں، جب تک اس زہر کو لیڈر سمجھتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے -
کچھ روز قبل میں نے اپنی تحریر "انصاری پریوار پر سماجواد کے ڈورے" میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مسلم لیڈر سیکولر لیڈروں کا چکر چھوڑ کر اپنی قیادت کو مضبوط کریں، نام نہاد سیکولر مسلم قیادت چاہتے ہی نہیں ہیں، خود کے رشتے داروں پر سیکڑوں کیس ہیں اور آزاد گھوم رہے ہیں جب کہ مسلم لیڈرران کو یہی سیکولر جب چاہتے ہیں غنڈہ، موالی، انسانیت کا دشمن، اور جب چاہتے ہیں شرافت کا سرٹیفکیٹ کا دے کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں - دونوں صورتوں میں مسلم رہنماؤں کو کچھ نہیں ملتا، حکومت بنتے ہی مسلم لیڈروں کی حیثیت صفر ہوجاتی ہے، زیادہ کچھ مانگتے ہیں تو پارٹی سے باہر کردیا جاتا ہے اور جیل بھی بھجوا دیا جاتا ہے -
____ انڈر ورلڈ کا ایک طریقہ ہے کہ وہ جس آدمی کو اپنے ساتھ کام کرنے پر راضی کرتے ہیں اسے پہلی ڈلیوری یا دوسری پر خود ہی پولیس سے گرفتار کرا دیتے ہیں، پھر خود ہی ضمانت کرا لیتے ہیں، یہ سب اس لیے کرتے ہیں کہ اب تم ان کے چنگل سے کسی صورت نہ نکل سکو، اگر نکلنا چاہتے ہو تو جیل جاؤ یا پھر انکے دھندے میں شریک ہوکر ہر برا کام بھی کرو اور ضرورت پڑنے پر اپنی قربانی بھی پیش کرو - مسلم لیڈروں کے ساتھ سیاسی پارٹیاں یہی کرتی ہیں، پہلے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خوب گناہ کرنے دیتی ہیں، خود ہی کیس بھی کراتے رہتے ہیں اور رہا بھی کراتے ہیں، اب جب ایک حد تک خاصے جرم ہوجاتے ہیں تو یہ لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں اور انکے نام پر ووٹ لے کر خوب حکومت کرتے ہیں، سب کچھ انھیں ملتا ہے اور مسلم لیڈر باہو بلی بنتے جاتے ہیں، اب مسلم لیڈران کی مجبوری ہوتی ہے نہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی سے اپنی قوم کے لئے کچھ حاصل کر سکتے ہیں -
ایک ویڈیو میں دیکھا کہ عتیق احمد اکھلیش یادو سے ملاقات کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اکھلیش ہاتھ جھٹک دیتے ہیں، مسلم چہروں کو سیاسی مہرہ بناکر وزیر اعلی کی کرسی پانے والے کس قدر عزت افزائی کرتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے -
*یوں ختم کیے جاتے ہیں ہمارے لیڈر*
جرائم میں سر سے لے کر پیر تک ڈوبنے کے بعد آپ کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے یہ مختار انصاری اور عتیق احمد سے زیادہ کون جان سکتا ہے، وہیں وفاداری والی سیاست اور شفاف شبیہ والے اعظم خان اور نسیم الدین صدیقی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگائے گیے ہیں - حکومت میں ہوتے ہوئے بھی مسلم لیڈر اپنے لوگوں کے کام نہیں کروا پاتے نتیجہ ان کی مخالفت بڑھتی ہے اور اگلا الیکشن ہار جاتے ہیں، بسا اوقات جان بوجھ کر ہرایا جاتا ہے یا ایسی سیٹ سے الیکشن لڑایا جاتا ہے جہاں آپ کو کوئی پہچانتا نہیں ہے -
_یہ سائلینٹ موت یعنی سیاسی "سلو پوائزن" کس لیڈر کو کب دینا ہے یہ سیاسی پارٹیاں خوب جانتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بڑا مسلم لیڈر کچھ نہیں کر سکا، اعظم خان، نسیم الدین، عتیق احمد، مختار انصاری اور دہلی سے امانت اللہ خان وغیرہ ایسے لیڈر ہیں جب جب ان کی پاپولرٹی بڑھی ہے اسی وقت سیکولروں نے انھیں پارٹی سے باہر کر دیا( اتر پردیش کی پولیٹکس میں اندر باہر ہونے میں اعظم خان اور مذکورہ دونوں لیڈر ایک نمبر پر رہے ہیں) - پھر سال دو سال بھٹکنے دیتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ الیکشن قریب ہے مسلم ووٹ متاثر ہو سکتا ہے تو تمام تراکیب اپنا کر دوبارہ پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے، ظاہر ہے آپ ایک دو سال بعد پارٹی میں آئیں گے تو اپنی بات اتنی جلدی اور اس قوت سے جیسے پہلے رکھ سکتے تھے اب نہیں رکھ سکتے - نیز اب وہ وقت ہوتا ہے کہ سارا زور الیکشن کی تیاریوں میں ہی صرف ہوتا ہے، ایک سال شروع کا وزیر اعلیٰ بننے، دیگر وزرا بنانے اور کام کاج پٹری پر لانے میں نکل جاتا ہے، لاسٹ کے دو سال الیکشن کی تیاری میں، بیچ کے دو سال آپ پارٹی سے باہر ہوتے ہیں، یعنی آپ کے کام کے سال ایسے تباہ کیے کہ آپ کو خبر ہی نہ ہوئی، اور الیکشن میں آپ کو استعمال کرنے کے لیے دوبارہ پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے، مسلم لیڈر سمجھتے ہیں کہ ناک رگڑی ہے لیکن وہ جانتے ہیں ایک دن کا جھکنا انھیں پانچ سال بلند کرنے والا ہے اس لیے کیا جاتا ہے؟ اب اگر پارٹی جیت جاتی ہے تو طریقہ پھر وہی، اور ہار گیے تو پانچ سال پارٹی کے لیے احتجاج کریے، لاٹھی ڈنڈے
مسلم لیڈروں کی سیاست ختم کرکے انھیں ملک و قوم کا غدار ثابت کرنے والے سیکولر ازم کے علم برداروں کی حقیقت بیاں کرتی ایک تجزیاتی تحریر -
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی
سلو پوائزن نام تو سنا ہی ہوگا، ایسا کارگر زہر ہے جس کا کوئی توڑ نہیں،اثر انداز ہونے میں وقت لیتا ہے، لیکن جب اثر کرتا ہے تو دنیا میں اس کا تریاق نہیں ملتا - خیر! ہمیں اس سے کیا؟ ہم بات کر رہے ہیں مسلم قیادت کو ٹھکانے لگانے کی یعنی سیاسی "سلو پوائزن" کی، مسلم لیڈران اور مسلم قیادت کو بھی سلو پوائزن دیا جاتا ہے، لیکن طریقے مختلف ہوتے ہیں، جب تک اس زہر کو لیڈر سمجھتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے -
کچھ روز قبل میں نے اپنی تحریر "انصاری پریوار پر سماجواد کے ڈورے" میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مسلم لیڈر سیکولر لیڈروں کا چکر چھوڑ کر اپنی قیادت کو مضبوط کریں، نام نہاد سیکولر مسلم قیادت چاہتے ہی نہیں ہیں، خود کے رشتے داروں پر سیکڑوں کیس ہیں اور آزاد گھوم رہے ہیں جب کہ مسلم لیڈرران کو یہی سیکولر جب چاہتے ہیں غنڈہ، موالی، انسانیت کا دشمن، اور جب چاہتے ہیں شرافت کا سرٹیفکیٹ کا دے کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں - دونوں صورتوں میں مسلم رہنماؤں کو کچھ نہیں ملتا، حکومت بنتے ہی مسلم لیڈروں کی حیثیت صفر ہوجاتی ہے، زیادہ کچھ مانگتے ہیں تو پارٹی سے باہر کردیا جاتا ہے اور جیل بھی بھجوا دیا جاتا ہے -
____ انڈر ورلڈ کا ایک طریقہ ہے کہ وہ جس آدمی کو اپنے ساتھ کام کرنے پر راضی کرتے ہیں اسے پہلی ڈلیوری یا دوسری پر خود ہی پولیس سے گرفتار کرا دیتے ہیں، پھر خود ہی ضمانت کرا لیتے ہیں، یہ سب اس لیے کرتے ہیں کہ اب تم ان کے چنگل سے کسی صورت نہ نکل سکو، اگر نکلنا چاہتے ہو تو جیل جاؤ یا پھر انکے دھندے میں شریک ہوکر ہر برا کام بھی کرو اور ضرورت پڑنے پر اپنی قربانی بھی پیش کرو - مسلم لیڈروں کے ساتھ سیاسی پارٹیاں یہی کرتی ہیں، پہلے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خوب گناہ کرنے دیتی ہیں، خود ہی کیس بھی کراتے رہتے ہیں اور رہا بھی کراتے ہیں، اب جب ایک حد تک خاصے جرم ہوجاتے ہیں تو یہ لوگ ان کا استعمال کرتے ہیں اور انکے نام پر ووٹ لے کر خوب حکومت کرتے ہیں، سب کچھ انھیں ملتا ہے اور مسلم لیڈر باہو بلی بنتے جاتے ہیں، اب مسلم لیڈران کی مجبوری ہوتی ہے نہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی سے اپنی قوم کے لئے کچھ حاصل کر سکتے ہیں -
ایک ویڈیو میں دیکھا کہ عتیق احمد اکھلیش یادو سے ملاقات کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اکھلیش ہاتھ جھٹک دیتے ہیں، مسلم چہروں کو سیاسی مہرہ بناکر وزیر اعلی کی کرسی پانے والے کس قدر عزت افزائی کرتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے -
*یوں ختم کیے جاتے ہیں ہمارے لیڈر*
جرائم میں سر سے لے کر پیر تک ڈوبنے کے بعد آپ کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے یہ مختار انصاری اور عتیق احمد سے زیادہ کون جان سکتا ہے، وہیں وفاداری والی سیاست اور شفاف شبیہ والے اعظم خان اور نسیم الدین صدیقی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگائے گیے ہیں - حکومت میں ہوتے ہوئے بھی مسلم لیڈر اپنے لوگوں کے کام نہیں کروا پاتے نتیجہ ان کی مخالفت بڑھتی ہے اور اگلا الیکشن ہار جاتے ہیں، بسا اوقات جان بوجھ کر ہرایا جاتا ہے یا ایسی سیٹ سے الیکشن لڑایا جاتا ہے جہاں آپ کو کوئی پہچانتا نہیں ہے -
_یہ سائلینٹ موت یعنی سیاسی "سلو پوائزن" کس لیڈر کو کب دینا ہے یہ سیاسی پارٹیاں خوب جانتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بڑا مسلم لیڈر کچھ نہیں کر سکا، اعظم خان، نسیم الدین، عتیق احمد، مختار انصاری اور دہلی سے امانت اللہ خان وغیرہ ایسے لیڈر ہیں جب جب ان کی پاپولرٹی بڑھی ہے اسی وقت سیکولروں نے انھیں پارٹی سے باہر کر دیا( اتر پردیش کی پولیٹکس میں اندر باہر ہونے میں اعظم خان اور مذکورہ دونوں لیڈر ایک نمبر پر رہے ہیں) - پھر سال دو سال بھٹکنے دیتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ الیکشن قریب ہے مسلم ووٹ متاثر ہو سکتا ہے تو تمام تراکیب اپنا کر دوبارہ پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے، ظاہر ہے آپ ایک دو سال بعد پارٹی میں آئیں گے تو اپنی بات اتنی جلدی اور اس قوت سے جیسے پہلے رکھ سکتے تھے اب نہیں رکھ سکتے - نیز اب وہ وقت ہوتا ہے کہ سارا زور الیکشن کی تیاریوں میں ہی صرف ہوتا ہے، ایک سال شروع کا وزیر اعلیٰ بننے، دیگر وزرا بنانے اور کام کاج پٹری پر لانے میں نکل جاتا ہے، لاسٹ کے دو سال الیکشن کی تیاری میں، بیچ کے دو سال آپ پارٹی سے باہر ہوتے ہیں، یعنی آپ کے کام کے سال ایسے تباہ کیے کہ آپ کو خبر ہی نہ ہوئی، اور الیکشن میں آپ کو استعمال کرنے کے لیے دوبارہ پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے، مسلم لیڈر سمجھتے ہیں کہ ناک رگڑی ہے لیکن وہ جانتے ہیں ایک دن کا جھکنا انھیں پانچ سال بلند کرنے والا ہے اس لیے کیا جاتا ہے؟ اب اگر پارٹی جیت جاتی ہے تو طریقہ پھر وہی، اور ہار گیے تو پانچ سال پارٹی کے لیے احتجاج کریے، لاٹھی ڈنڈے
کھاکر پارٹی کے متعلق وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے گزاریے اور اپنا پیسہ بھی خرچ کریے یعنی جو حکومت میں کمایا ہے سب سود سمیت پارٹی کو واپس کردیجیے -
*عتیق احمد کی مجلس میں شمولیت اچھا فیصلہ ہے*
ساری سیاسی پارٹیاں مسلم چہرہ دکھا کر اتر پردیش میں مسلمانوں کا بیس فیصد ووٹ لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو ملتا کچھ نہیں ہے، ابھی تک کوئی مضبوط سیاسی پارٹی بھی نہیں تھی، لیکن اس بار مجلس اتحاد المسلمین میدان میں ہے اور سو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکی ہے، مجلس کے قومی صدر جناب اسد الدین اویسی صاحب اسی سلسلے میں آج ایودھیا سے اپنا تین روزہ سیاسی دورہ شروع کر رہے ہیں، اسی کڑی میں آج لکھنؤ میں سابق رکن پارلیمنٹ اور پانچ بار ایم ایل اے(MLA) رہے عتیق احمد کی بیوی، بیٹے سبھی مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہوگیے ہیں، عتیق احمد اتر پردیش الیکشن میں ایک بڑا مسلم چہرہ ہیں، ان کے آنے سے مجلس کا فائدہ یقینی ہے، اگر انصاری خاندان بھی اس کے متعلق سوچ لے تو مجلس اتر پردیش میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرے گی اور مسلمان بھی اپنا ذہن مجلس کے لیے بآسانی بنا لیں گے، اگر ایسا ہوجائے تو مسلمانوں کو ٹھگنے والے لوگوں کے لیے مشکلیں شروع ہوجائیں گی اور ہمیں ہمارے حقوق ملنے لگیں گے ، میں پھر کہوں گا کہ مخصوس نشستوں پر ہمیں اپنی قیادت کو سپورٹ کرنا ضروری ہے ورنہ ایسے ہی اور ستر سال ووٹ دیتے رہیں گے اور ملے گا کچھ نہیں -
8/9/2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/984753892095129/
*عتیق احمد کی مجلس میں شمولیت اچھا فیصلہ ہے*
ساری سیاسی پارٹیاں مسلم چہرہ دکھا کر اتر پردیش میں مسلمانوں کا بیس فیصد ووٹ لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو ملتا کچھ نہیں ہے، ابھی تک کوئی مضبوط سیاسی پارٹی بھی نہیں تھی، لیکن اس بار مجلس اتحاد المسلمین میدان میں ہے اور سو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکی ہے، مجلس کے قومی صدر جناب اسد الدین اویسی صاحب اسی سلسلے میں آج ایودھیا سے اپنا تین روزہ سیاسی دورہ شروع کر رہے ہیں، اسی کڑی میں آج لکھنؤ میں سابق رکن پارلیمنٹ اور پانچ بار ایم ایل اے(MLA) رہے عتیق احمد کی بیوی، بیٹے سبھی مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہوگیے ہیں، عتیق احمد اتر پردیش الیکشن میں ایک بڑا مسلم چہرہ ہیں، ان کے آنے سے مجلس کا فائدہ یقینی ہے، اگر انصاری خاندان بھی اس کے متعلق سوچ لے تو مجلس اتر پردیش میں ایک نئی طاقت بن کر ابھرے گی اور مسلمان بھی اپنا ذہن مجلس کے لیے بآسانی بنا لیں گے، اگر ایسا ہوجائے تو مسلمانوں کو ٹھگنے والے لوگوں کے لیے مشکلیں شروع ہوجائیں گی اور ہمیں ہمارے حقوق ملنے لگیں گے ، میں پھر کہوں گا کہ مخصوس نشستوں پر ہمیں اپنی قیادت کو سپورٹ کرنا ضروری ہے ورنہ ایسے ہی اور ستر سال ووٹ دیتے رہیں گے اور ملے گا کچھ نہیں -
8/9/2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/984753892095129/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عَکَّاف نامی ایک شخص سیدِ عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔
آپ نے اُسے فرمایا:
عَکَّاف ! کیا تمھاری بیوی ہے ؟ کہنے لگا: نہیں ۔
فرمایا: اور لونڈی بھی نہیں ؟ کہنے لگا: نہیں ۔
ارشادفرمایا: کیا تم مال دار نہیں ہو؟
کہا: حضور مال دار ہوں ۔
فرمایا: ( اگر صاحب استطاعت ہونے کے باوجود تم ایسے ہو ) تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو ۔
اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تو راہب ہوتے ، ہماری سنت تو نکاح کرنا ہے ۔
تم میں سے کم تر وہ لوگ ہیں ، جو نکاح نہیں کرتے ، اور تمھارے مُردوں میں بھی ارذل ( کم درجے والے ) بے نکاحے ہیں ۔
کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو ! شیطان کا نیک لوگوں کے لیے موثرترین ہتھیار عورت ہے ، ( جس سے وہ کنواروں کو شکار کرتا ہے ) البتہ شادی شدہ افراد اس سے محفوظ رہتے ہیں ۔ (مسند احمد ، ر 6834 )
نکاح مطلوب شریعت اور باعثِ شرف ہے ، اب بندے کی استطاعت پر ہے کہ ایک کرے یا دو ، تین ، چار ؛ البتہ ایک سے زیادہ نکاح مستحب ہیں ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے :
شادی کرو ! جو ہم میں بہتر تھے ( یعنی رسول اللہﷺ ) ، ان کی ازواج پاک بھی زیادہ تھیں ۔ ( مسند احمد ، ر6832 )
✍️لقمان شاہد
4-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3250387131908120&id=100008105947430
آپ نے اُسے فرمایا:
عَکَّاف ! کیا تمھاری بیوی ہے ؟ کہنے لگا: نہیں ۔
فرمایا: اور لونڈی بھی نہیں ؟ کہنے لگا: نہیں ۔
ارشادفرمایا: کیا تم مال دار نہیں ہو؟
کہا: حضور مال دار ہوں ۔
فرمایا: ( اگر صاحب استطاعت ہونے کے باوجود تم ایسے ہو ) تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو ۔
اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تو راہب ہوتے ، ہماری سنت تو نکاح کرنا ہے ۔
تم میں سے کم تر وہ لوگ ہیں ، جو نکاح نہیں کرتے ، اور تمھارے مُردوں میں بھی ارذل ( کم درجے والے ) بے نکاحے ہیں ۔
کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو ! شیطان کا نیک لوگوں کے لیے موثرترین ہتھیار عورت ہے ، ( جس سے وہ کنواروں کو شکار کرتا ہے ) البتہ شادی شدہ افراد اس سے محفوظ رہتے ہیں ۔ (مسند احمد ، ر 6834 )
نکاح مطلوب شریعت اور باعثِ شرف ہے ، اب بندے کی استطاعت پر ہے کہ ایک کرے یا دو ، تین ، چار ؛ البتہ ایک سے زیادہ نکاح مستحب ہیں ۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے :
شادی کرو ! جو ہم میں بہتر تھے ( یعنی رسول اللہﷺ ) ، ان کی ازواج پاک بھی زیادہ تھیں ۔ ( مسند احمد ، ر6832 )
✍️لقمان شاہد
4-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3250387131908120&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطان الواعظین مولانا ابوالنور محمد بشیر کوٹلوی رحمہ اللہ فرماتے تھے:
بارات میں ، باراتی سیکڑوں ہوتے ہیں ، لیکن دولھا ایک ہوتا ہے ۔
اور وہ ایک ایسا بے مثل ہوتا ہے کہ کوئی بھی باراتی ..... اس جیسا ہونے کادعوی نہیں کرسکتا ۔
اگر کوئی ڈُوم ڈھاڑی اس کی مثل بننے کی کوشش کرے اور کہے:
دولھا میں ہوں ، تو اُسے جوتے پڑتے ہیں ؛ اس کی بات نہیں مانی جاتی ۔
میرا نبی کائنات کا دولھا ہے اور یہ سارا جہاں سرکار کا باراتی ہے ۔
کوئی بھی فردِ بشر اُس پیارے کی مثل نہیں ہوسکتا ۔
قادیانی ڈوم نے جب کہا تھا:
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
میں محمد و احمد اور مجتبیٰ ہوں ۔
تو اسے ہرجگہ سےجوتے پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے کہا چول آدمی تو اس دولھے کی مثل بنتا ہے ، جس کی نظیر اللہ نے پیدا ہی نہیں کی ۔ ؎
یوں تو سارے نبی محترم ہیں مگر ، سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
حق تعالیٰ نے دولھابنایا تجھے ، اور سارا جہاں تیری بارات ہے
✍️لقمان شاہد
3-5-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3251989638414536&id=100008105947430
بارات میں ، باراتی سیکڑوں ہوتے ہیں ، لیکن دولھا ایک ہوتا ہے ۔
اور وہ ایک ایسا بے مثل ہوتا ہے کہ کوئی بھی باراتی ..... اس جیسا ہونے کادعوی نہیں کرسکتا ۔
اگر کوئی ڈُوم ڈھاڑی اس کی مثل بننے کی کوشش کرے اور کہے:
دولھا میں ہوں ، تو اُسے جوتے پڑتے ہیں ؛ اس کی بات نہیں مانی جاتی ۔
میرا نبی کائنات کا دولھا ہے اور یہ سارا جہاں سرکار کا باراتی ہے ۔
کوئی بھی فردِ بشر اُس پیارے کی مثل نہیں ہوسکتا ۔
قادیانی ڈوم نے جب کہا تھا:
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
میں محمد و احمد اور مجتبیٰ ہوں ۔
تو اسے ہرجگہ سےجوتے پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے کہا چول آدمی تو اس دولھے کی مثل بنتا ہے ، جس کی نظیر اللہ نے پیدا ہی نہیں کی ۔ ؎
یوں تو سارے نبی محترم ہیں مگر ، سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
حق تعالیٰ نے دولھابنایا تجھے ، اور سارا جہاں تیری بارات ہے
✍️لقمان شاہد
3-5-2020 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3251989638414536&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سفر میں کوئی نہ کوئی کتاب آپ کے ساتھ ضرور ہونی چاہیے ، اورجیسے ہی موقع ملے اس سے استفادہ بھی کرنا چاہیے ۔
سفر میں مطالعہ کرنے سے ذہن کھلتا ہے ، طبیعت بَشاش ہوتی ہے ، اجنبی لوگ پرائے محسوس نہیں ہوتے ، احساس کمتری جیسی چیزیں دور رہتی ہیں ، دل اور نگاہ کی حفاظت رہتی ہے ۔
( بس اتنا دھیان رکھنا چاہیے کہ دورانِ سفر ، گاڑی صاف روڈ پر چل رہی ہو تب مطالعہ کریں ، یا ہوائی جہاز میں مطالعہ کریں ، یا کہیں رکے ہوئے ہوں تومطالعہ کریں ؛ خراب سڑکوں پہ چلتی گاڑی پر مطالعہ کرنا نظر کی کمزوری اور دماغ کی بے جا کھپت کا سبب بنتاہے ۔ )
پرسوں سے سفر میں جو کتاب میرے ساتھ ہے وہ " الفرج بعد الشدۃ " ہے ۔
یہ کتاب ہر قسم کی ٹینشینوں سے نکلنے کا حوصلہ دیتی ہے ، اور یہ بتاتی ہے کہ دنیا جہان کا کوئی غم ایسا نہیں ہوتا جس نے ختم نہیں ہونا ہوتا ، بندہ مفت میں ہی ٹینشین لے کے ہلکان ہوتا رہتا ہے ۔
اس کتاب کی پانچ جلدیں ہیں ، اور یہ اپنے موضوع کی ضخیم کتاب ہے ۔
اس میں واقعات و روایات کو سند سے لکھنے کا التزام کیا گیا ہے ، جو کہ محققین کے لیے ازحد مفید ہے ۔
اس کتاب کا فارسی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے ، کیا ہی اچھا ہو کہ اردو زبان میں بھی ہوجائے ۔
اللہ کریم اپنے کرم سے ہمارے سارے غم دور فرما دے !
✍️لقمان شاہد
8-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3252674291679404&id=100008105947430
سفر میں مطالعہ کرنے سے ذہن کھلتا ہے ، طبیعت بَشاش ہوتی ہے ، اجنبی لوگ پرائے محسوس نہیں ہوتے ، احساس کمتری جیسی چیزیں دور رہتی ہیں ، دل اور نگاہ کی حفاظت رہتی ہے ۔
( بس اتنا دھیان رکھنا چاہیے کہ دورانِ سفر ، گاڑی صاف روڈ پر چل رہی ہو تب مطالعہ کریں ، یا ہوائی جہاز میں مطالعہ کریں ، یا کہیں رکے ہوئے ہوں تومطالعہ کریں ؛ خراب سڑکوں پہ چلتی گاڑی پر مطالعہ کرنا نظر کی کمزوری اور دماغ کی بے جا کھپت کا سبب بنتاہے ۔ )
پرسوں سے سفر میں جو کتاب میرے ساتھ ہے وہ " الفرج بعد الشدۃ " ہے ۔
یہ کتاب ہر قسم کی ٹینشینوں سے نکلنے کا حوصلہ دیتی ہے ، اور یہ بتاتی ہے کہ دنیا جہان کا کوئی غم ایسا نہیں ہوتا جس نے ختم نہیں ہونا ہوتا ، بندہ مفت میں ہی ٹینشین لے کے ہلکان ہوتا رہتا ہے ۔
اس کتاب کی پانچ جلدیں ہیں ، اور یہ اپنے موضوع کی ضخیم کتاب ہے ۔
اس میں واقعات و روایات کو سند سے لکھنے کا التزام کیا گیا ہے ، جو کہ محققین کے لیے ازحد مفید ہے ۔
اس کتاب کا فارسی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے ، کیا ہی اچھا ہو کہ اردو زبان میں بھی ہوجائے ۔
اللہ کریم اپنے کرم سے ہمارے سارے غم دور فرما دے !
✍️لقمان شاہد
8-9-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3252674291679404&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"والدین کی اطاعت کرو، ان کی فرماں برداری کرو، ان سے محبت کرو، ان کا کہنا مانو، ان کی جائز باتوں پر لبیک کہو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جنت کے دروازے کھول دے گا۔ انھیں مارو، انھیں پیٹو، ان کی شان میں گستاخیاں کرو، ان کی نافرمانیاں کرو تو کیا ان سب کاموں کی وجہ سے تمہارے لیے جنت کا دروازہ کھل سکتا ہے؟"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جب بہت زیادہ پریشان ہوا کرو اور پریشانی کا کوئی حل نظر نہ آئے تو اپنی اماں ابا کی قبروں پر جاکر فاتحہ پڑھ کر دعا مانگا کرو، ان شآءاللہ تعالیٰ دعا قبول ہوگی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" آج کل کے کچھ کمینے ایسے ہیں جو والدین کی پٹائی کرتے ہیں، والدین کو گالی بکتے ہیں اور فلاح و بہبودی اور کامرانی پانا چاہتے ہیں، قسم خدا کی والدین کو گالی بک کر والدین کی شان میں گستاخی کرکے، والدین کی نافرمانی کرکے کرکے فلاح و بہبودی اور کامرانی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ کامیابی و کامرانی چاہیے تو والدین کی عزت کرو۔"
رفیقِ ملت سید نجیب حیدر میاں برکاتی مارہروی کی باتیں
بموقع سالانہ فاتحہ اہلیۂ حضور احسن العلماء سیدہ محبوب فاطمہ علیہا الرحمہ ، مارہرہ مطہرہ
6 ستمبر 2021ء بروز پیر بعد نماز مغرب
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/984948398749396/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جب بہت زیادہ پریشان ہوا کرو اور پریشانی کا کوئی حل نظر نہ آئے تو اپنی اماں ابا کی قبروں پر جاکر فاتحہ پڑھ کر دعا مانگا کرو، ان شآءاللہ تعالیٰ دعا قبول ہوگی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" آج کل کے کچھ کمینے ایسے ہیں جو والدین کی پٹائی کرتے ہیں، والدین کو گالی بکتے ہیں اور فلاح و بہبودی اور کامرانی پانا چاہتے ہیں، قسم خدا کی والدین کو گالی بک کر والدین کی شان میں گستاخی کرکے، والدین کی نافرمانی کرکے کرکے فلاح و بہبودی اور کامرانی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ کامیابی و کامرانی چاہیے تو والدین کی عزت کرو۔"
رفیقِ ملت سید نجیب حیدر میاں برکاتی مارہروی کی باتیں
بموقع سالانہ فاتحہ اہلیۂ حضور احسن العلماء سیدہ محبوب فاطمہ علیہا الرحمہ ، مارہرہ مطہرہ
6 ستمبر 2021ء بروز پیر بعد نماز مغرب
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/984948398749396/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
نام ونسب
آپ کے اصلی نام کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ آپ کی کنیت ایسی مشہور ہے کہ نام چھپ کر رہ گیا۔اصحاب سیر نے آپ کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔
خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے نام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدشمس بن صخر تھا۔ اسلام لانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے میرا نام عبدالرحمن اور کنیت ابوہریرہ رکھی۔
ایک اور روایت میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں آپ کانام عبدشمس اور کنیت ابوالاسود تھی۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے آپ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوہریرہ رکھی ۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج4ص2385،سیر اعلام النبلاء ج3ص514)
علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”عبدالرحمن” نام کو راجح قرار دیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص513)
لیکن ہشام کلبی اور خلیفہ بن خیاط کے قول کے مطابق سلسلہ نسب یوں ہے
عبدالرحمن عمیر بن عامر بن عبدذی الشری بن طریف بن عتاب بن ابی صعب بن منبہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس
(اسد الغابۃ ج5ص247،سیراعلام النبلاء ج3ص514)
ابوہریرہ کنیت کی وجہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بلی پال رکھی تھی۔ رات کو اس کو درخت پہ رکھتا تھا اور صبح کو جب بکریاں چرانے جاتا تو ساتھ لے جاتا اور اس کے ساتھ کھیلتا تھا۔تولوگوں نے یہ بات دیکھ کر مجھے ابوہریرہ کہنا شروع کردیا۔
(الاصابۃج4ص2385، اسدالغابۃ ج5ص248،سیراعلام النبلاء ج3ص518)
ہجرت اور قبول اسلام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ خیبر تشریف لے گئے اور میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچا
(سیراعلام النبلاء ج3ص518)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے ایک آدمی طفیل بن عمرو دوسی نے ہجرت عظمی سے پہلے مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے وطن یمن واپس آکر اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی اور غزوہ خیبر کے زمانہ میں یمن سے 80افراد کو لے کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے، لیکن آپ تشریف لے گئے تھے۔ پھر یہ حضرات بھی خیبر پہنچے۔ اسی وفد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے،انہوں نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
(سیرالصحابہ ج2ص50)
علمی ذوق
ایک بار رسول اکرم ﷺ نے خودفرمایا ۔ انھوں نے ایک سوال کیا ”من اسعدالناس بشفاعتک ”کہ قیامت کے دن کون خوش نصیب آپ کی شفاعت کا زیادہ مستحق ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہاری حرص حدیث دیکھ کر میرا پہلے سے خیال تھا کہ یہ سوال آپ سے پہلے کوئی نہیں کرے گا۔ (الاصابۃ ج 4ص2388)
حدیث میں آپ کا مقام
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ علم کا ظرف اور برتن ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص521)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے)دوبرتن یاد کیے۔
(صحیح بخاری کتاب العلم،الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص521)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس نعمت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں اصحاب محمد ﷺ میں سے کسی کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ (سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر ہیں اور جو بیان کرتے ہیں اس کو زیادہ جانتے ہیں۔ (الاصابۃ ج4ص2391)
ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اصحاب محمد ﷺ میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔ (سیر اعلام النبلاء ج3ص521،الاصابۃ ج4ص2388)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی کو میں نہیں جانتا جن کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہوں۔(سیراعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ہمعصروں میں سب سے زیادہ حدیث جاننے والے تھے اور حفاظ حدیث میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔ (الاصابۃ ج4ص2388)

کثرت روایت کا سبب
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا
میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔
(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )
نام ونسب
آپ کے اصلی نام کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ آپ کی کنیت ایسی مشہور ہے کہ نام چھپ کر رہ گیا۔اصحاب سیر نے آپ کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔
خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے نام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدشمس بن صخر تھا۔ اسلام لانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے میرا نام عبدالرحمن اور کنیت ابوہریرہ رکھی۔
ایک اور روایت میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں آپ کانام عبدشمس اور کنیت ابوالاسود تھی۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے آپ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوہریرہ رکھی ۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج4ص2385،سیر اعلام النبلاء ج3ص514)
علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”عبدالرحمن” نام کو راجح قرار دیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص513)
لیکن ہشام کلبی اور خلیفہ بن خیاط کے قول کے مطابق سلسلہ نسب یوں ہے
عبدالرحمن عمیر بن عامر بن عبدذی الشری بن طریف بن عتاب بن ابی صعب بن منبہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس
(اسد الغابۃ ج5ص247،سیراعلام النبلاء ج3ص514)
ابوہریرہ کنیت کی وجہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بلی پال رکھی تھی۔ رات کو اس کو درخت پہ رکھتا تھا اور صبح کو جب بکریاں چرانے جاتا تو ساتھ لے جاتا اور اس کے ساتھ کھیلتا تھا۔تولوگوں نے یہ بات دیکھ کر مجھے ابوہریرہ کہنا شروع کردیا۔
(الاصابۃج4ص2385، اسدالغابۃ ج5ص248،سیراعلام النبلاء ج3ص518)
ہجرت اور قبول اسلام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ خیبر تشریف لے گئے اور میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچا
(سیراعلام النبلاء ج3ص518)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے ایک آدمی طفیل بن عمرو دوسی نے ہجرت عظمی سے پہلے مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے وطن یمن واپس آکر اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی اور غزوہ خیبر کے زمانہ میں یمن سے 80افراد کو لے کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے، لیکن آپ تشریف لے گئے تھے۔ پھر یہ حضرات بھی خیبر پہنچے۔ اسی وفد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے،انہوں نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
(سیرالصحابہ ج2ص50)
علمی ذوق
ایک بار رسول اکرم ﷺ نے خودفرمایا ۔ انھوں نے ایک سوال کیا ”من اسعدالناس بشفاعتک ”کہ قیامت کے دن کون خوش نصیب آپ کی شفاعت کا زیادہ مستحق ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہاری حرص حدیث دیکھ کر میرا پہلے سے خیال تھا کہ یہ سوال آپ سے پہلے کوئی نہیں کرے گا۔ (الاصابۃ ج 4ص2388)
حدیث میں آپ کا مقام
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ علم کا ظرف اور برتن ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص521)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے)دوبرتن یاد کیے۔
(صحیح بخاری کتاب العلم،الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص521)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس نعمت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں اصحاب محمد ﷺ میں سے کسی کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ (سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر ہیں اور جو بیان کرتے ہیں اس کو زیادہ جانتے ہیں۔ (الاصابۃ ج4ص2391)
ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اصحاب محمد ﷺ میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔ (سیر اعلام النبلاء ج3ص521،الاصابۃ ج4ص2388)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی کو میں نہیں جانتا جن کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہوں۔(سیراعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ہمعصروں میں سب سے زیادہ حدیث جاننے والے تھے اور حفاظ حدیث میں سب سے بڑے حافظ الحدیث تھے۔ (الاصابۃ ج4ص2388)

کثرت روایت کا سبب
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا
میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔
(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں اللہ کا ذکرکر رہے تھے ۔نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔پھر فرمایا اپنا کام جاری رکھو ۔حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے دعا کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری دعا پر آمین کہی۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی
انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی
کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔
فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"
(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)
تو رسول اکرم ﷺ نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعةکو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعةکہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع
(الاصابۃ ج4ص2391)
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم ﷺ سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔
سفر آخرت کے وقت حالت
آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا
من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے )
تعداد مرویات
کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)
مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص295)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔
(الاوسط للامام المندر ج3ص94،سنن الدارقطنی ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا ’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذتین پڑھتے تھے۔
(مجمع الزوائد ج2 ص506،505)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔
(جامع الترمذی ج 1ص96 ) تعداد تلامذہ
احادیث نبوی ﷺ کے عظیم الشان ذخیرہ کی مناسبت سے آپ کے تلامذہ کا دائرہ وسیع تھا۔ صحابہ اور تابعین تلامذہ کی تعداد 800سے بڑھ جاتی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص517،الاسیتعاب ص852،البدایہ والنہایہ ج4ص498)

تاریخ وفات
آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں تین قول ہیں۔
1- 57ہجری
2- 58 ہجری
3- 59 ہجری 78 سال کی عمر پائی۔(الاستیعاب ص852،سیراعلام النبلاء ج3ص531)
نماز جنازہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ولید بن عقبہ نے نماز عصر کے بعد پڑھائی ،جس میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ بھی شریک تھے ۔
(سیراعلام النبلاء ج3ص532،الاستیعاب ص852،الاصابہ ج4ص2393)
پیش کش : ڈاکٹر مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/759310771313161/
انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی
کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔
فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"
(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)
تو رسول اکرم ﷺ نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعةکو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعةکہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع
(الاصابۃ ج4ص2391)
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم ﷺ سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔
سفر آخرت کے وقت حالت
آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا
من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے )
تعداد مرویات
کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)
مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص295)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔
(الاوسط للامام المندر ج3ص94،سنن الدارقطنی ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا ’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذتین پڑھتے تھے۔
(مجمع الزوائد ج2 ص506،505)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔
(جامع الترمذی ج 1ص96 ) تعداد تلامذہ
احادیث نبوی ﷺ کے عظیم الشان ذخیرہ کی مناسبت سے آپ کے تلامذہ کا دائرہ وسیع تھا۔ صحابہ اور تابعین تلامذہ کی تعداد 800سے بڑھ جاتی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء ج3ص517،الاسیتعاب ص852،البدایہ والنہایہ ج4ص498)

تاریخ وفات
آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں تین قول ہیں۔
1- 57ہجری
2- 58 ہجری
3- 59 ہجری 78 سال کی عمر پائی۔(الاستیعاب ص852،سیراعلام النبلاء ج3ص531)
نماز جنازہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ولید بن عقبہ نے نماز عصر کے بعد پڑھائی ،جس میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ بھی شریک تھے ۔
(سیراعلام النبلاء ج3ص532،الاستیعاب ص852،الاصابہ ج4ص2393)
پیش کش : ڈاکٹر مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/759310771313161/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تنظیم و اُصول اور استعداد و صلاحیت کے ضمن میں
*تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی عصری افادیت*
(ماہِ رضا "صفر المظفر" کی نسبت سے)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ عالمِ اسلام کے عظیم نابغہ و عبقری تھے۔ آپ کی فکر و بصیرت نے اُمتِ مسلمہ کی رہبری کی۔ انگریزی اقتدار کے خلاف ذہن سازی کی۔ تمدنِ فرنگ سے نفرت کا اظہار کیا۔ فتاوے صادر فرمائے۔ مشرکین کی سازشوں سے پردہ اُٹھایا۔ مسلمانوں کی تنظیمی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اجتماعیت کی فکر دی۔ استعداد و صلاحیت کی قدر دانی سکھائی۔ اُصولِ ارتقاے قومیت کو تفوق بخشا۔ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کے ذریعے اسلامی ذہن سازی ہوئی۔ مسلمانوں کی ترقی کے لیے آپ کی تجاویز بڑی افادیت کی حامل ہیں۔
*تنظیم و اُصول:*
اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ’’شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں آپ سرکوبی اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین، رسالے بھیجتے رہیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، ج۱۲،رضا اکیڈمی ممبئی، ص۱۳۴)
یہ نکتہ جماعتی نظم و ضبط اور اتحاد و اتفاق، تحریک و تنظیم کے لحاظ سے کافی اہم ہے۔ اس رُخ سے کام کا آغاز آپ نے اپنی حیات میں ہی کر دیا تھا اور کئی تنظیموں کی ضرورت کے تحت بنا ڈالی۔ جن کی خدمات سے ہند کی تاریخ منور ہے۔ اس ضمن میں شدھی تحریک کے سدِ باب کے لیے آپ کے تلامذہ کی خدمات نمایاں ہیں، مشرکین کی شعائر اسلام کے خلاف سازشوں کی نقاب کشائی بھی اہم کارنامہ ہے۔ اقتصادی و سیاسی سطح پر ایمان سوز تحریکات نے آپ کے عہد میں جس تیزی کے ساتھ جنم لیا اس کی مثال نہیں ملتی؛ اور ان کا سدِ باب آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپ نے برصغیر کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے حالات پر نظر رکھی اور ضرورت کے پیشِ نظر کام کے لائق افراد تیار کیے۔ ملک کے طول و عرض سے قابل افراد طلب کیے جاتے اور بارگاہ ِرضا سے علما بھیجے جاتے۔ یوں جمعیت کے لیے عملاً پیش قدمی کی-
ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری بہاری جو مصنف، محقق، مدقق، مناظر، مدرس، منتظم، ماہر علومِ ہیئت و فلکیات تھے اور حاجی منشی لعل محمد خاں (کلکتہ) جو اشاعتی و تنظیمی امور میں پیش پیش رہا کرتے تھے اُن کے تذکرے میں اعلیٰ حضرت کا جماعتی درد اور ملی کرب ملاحظہ ہو، ملک العلماء کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’افسوس کہ ادھر نہ مدرس، نہ واعظ، نہ ہمت والے مال دار، ایک ظفرالدین کدھر کدھر جائیں اور ایک لعل خاں کیا کیا بنائیں۔‘‘
( حیاتِ اعلیٰ حضرت، از ملک العلماء، ادارۂ ترویج و اشاعت مسجد نورالاسلام بولٹن۲۰۰۳ء، ج۳، ص۳۹۱)
اعلیٰ حضرت کی تعمیری فکر سے ان کے تلامذہ کو وافر حصہ ملا، چناں چہ جماعتی اتحاد اور احکامِ شرع پر عمل کے لیے دعوتِ فکر دیتے ہوئے تلمیذ رضا، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (مصنف: بہارِ شریعت) لکھتے ہیں:
’’بے جا ضد اور ہٹ سے باز آؤ اور اسلام کی مضبوط رَسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ آپس میں خلوص و محبت سے پیش آؤ۔ ہماری عزت اسلام سے ہے۔ اور بہبودی و فلاح اتباع شریعت میں ہے۔‘‘
( پیغام عمل،یٰسٓ اختر مصباحی، دارالقلم دہلی ۲۰۰۲ء، ص۷۲)
آپ کے محبین، متوسلین، مریدین و خلفا اور تلامذہ نے مختلف بلاد و امصار میں حالات اور تقاضے کے تحت مسلمانوں کی رہنمائی کی ۔ منصوبہ بندی کے ساتھ حوادثِ زمانہ کا مقابلہ کیا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سرکردہ افراد اعلیٰ حضرت کے نکتۂ مذکورہ پر غور و فکر کے ساتھ عمل کی راہ نکالیں۔
*استعداد کا استعمال:*
اعلیٰ حضرت اپنے فکر پرور منصوبہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انھیں مہارت ہو لگائے جائیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۲، رضا اکیڈمی ممبئی،ص۱۳۴)
آپ نے کئی مقامات پر وظائف سے متعلق رہبری کی ہے، اِس اقتباس میں جو پہلو واضح کیا گیا وہ یہ ہے کہ با صلاحیت افراد کو ان کے متعلقہ شعبے میں مقرر کیا جائے تا کہ ان کی صلاحیت کا مثل ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ عمدہ نتیجہ قوم کو حاصل ہو، اس کے لیے معاشی آسودگی ضروری ہے اور وظائف کے ذریعے اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔یعنی فرد سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے۔ جس سے قوم کی نئی نسل کو فائدہ پہنچے گا اور صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
ماضی میں جب کہ علمی و تحقیقی امور کی انجام دہی کے لیے مسلم سلاطین نے بڑے بڑے جامعات و مدارس قائم کیے تھے، با صلاحیت علما کو وظائف دے کر معاشی ضروریات کا تصفیہ کیا جاتا تھا اس طرح وہ یکسوئی کے ساتھ علمی و دینی کام انجام دیا کرتے تھے اور قوم کی ترقی کا آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔
*تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی عصری افادیت*
(ماہِ رضا "صفر المظفر" کی نسبت سے)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ عالمِ اسلام کے عظیم نابغہ و عبقری تھے۔ آپ کی فکر و بصیرت نے اُمتِ مسلمہ کی رہبری کی۔ انگریزی اقتدار کے خلاف ذہن سازی کی۔ تمدنِ فرنگ سے نفرت کا اظہار کیا۔ فتاوے صادر فرمائے۔ مشرکین کی سازشوں سے پردہ اُٹھایا۔ مسلمانوں کی تنظیمی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اجتماعیت کی فکر دی۔ استعداد و صلاحیت کی قدر دانی سکھائی۔ اُصولِ ارتقاے قومیت کو تفوق بخشا۔ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کے ذریعے اسلامی ذہن سازی ہوئی۔ مسلمانوں کی ترقی کے لیے آپ کی تجاویز بڑی افادیت کی حامل ہیں۔
*تنظیم و اُصول:*
اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ’’شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے واعظ یا مناظر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں آپ سرکوبی اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین، رسالے بھیجتے رہیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، ج۱۲،رضا اکیڈمی ممبئی، ص۱۳۴)
یہ نکتہ جماعتی نظم و ضبط اور اتحاد و اتفاق، تحریک و تنظیم کے لحاظ سے کافی اہم ہے۔ اس رُخ سے کام کا آغاز آپ نے اپنی حیات میں ہی کر دیا تھا اور کئی تنظیموں کی ضرورت کے تحت بنا ڈالی۔ جن کی خدمات سے ہند کی تاریخ منور ہے۔ اس ضمن میں شدھی تحریک کے سدِ باب کے لیے آپ کے تلامذہ کی خدمات نمایاں ہیں، مشرکین کی شعائر اسلام کے خلاف سازشوں کی نقاب کشائی بھی اہم کارنامہ ہے۔ اقتصادی و سیاسی سطح پر ایمان سوز تحریکات نے آپ کے عہد میں جس تیزی کے ساتھ جنم لیا اس کی مثال نہیں ملتی؛ اور ان کا سدِ باب آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپ نے برصغیر کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے حالات پر نظر رکھی اور ضرورت کے پیشِ نظر کام کے لائق افراد تیار کیے۔ ملک کے طول و عرض سے قابل افراد طلب کیے جاتے اور بارگاہ ِرضا سے علما بھیجے جاتے۔ یوں جمعیت کے لیے عملاً پیش قدمی کی-
ملک العلماء علامہ ظفر الدین قادری بہاری جو مصنف، محقق، مدقق، مناظر، مدرس، منتظم، ماہر علومِ ہیئت و فلکیات تھے اور حاجی منشی لعل محمد خاں (کلکتہ) جو اشاعتی و تنظیمی امور میں پیش پیش رہا کرتے تھے اُن کے تذکرے میں اعلیٰ حضرت کا جماعتی درد اور ملی کرب ملاحظہ ہو، ملک العلماء کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’افسوس کہ ادھر نہ مدرس، نہ واعظ، نہ ہمت والے مال دار، ایک ظفرالدین کدھر کدھر جائیں اور ایک لعل خاں کیا کیا بنائیں۔‘‘
( حیاتِ اعلیٰ حضرت، از ملک العلماء، ادارۂ ترویج و اشاعت مسجد نورالاسلام بولٹن۲۰۰۳ء، ج۳، ص۳۹۱)
اعلیٰ حضرت کی تعمیری فکر سے ان کے تلامذہ کو وافر حصہ ملا، چناں چہ جماعتی اتحاد اور احکامِ شرع پر عمل کے لیے دعوتِ فکر دیتے ہوئے تلمیذ رضا، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی (مصنف: بہارِ شریعت) لکھتے ہیں:
’’بے جا ضد اور ہٹ سے باز آؤ اور اسلام کی مضبوط رَسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ آپس میں خلوص و محبت سے پیش آؤ۔ ہماری عزت اسلام سے ہے۔ اور بہبودی و فلاح اتباع شریعت میں ہے۔‘‘
( پیغام عمل،یٰسٓ اختر مصباحی، دارالقلم دہلی ۲۰۰۲ء، ص۷۲)
آپ کے محبین، متوسلین، مریدین و خلفا اور تلامذہ نے مختلف بلاد و امصار میں حالات اور تقاضے کے تحت مسلمانوں کی رہنمائی کی ۔ منصوبہ بندی کے ساتھ حوادثِ زمانہ کا مقابلہ کیا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سرکردہ افراد اعلیٰ حضرت کے نکتۂ مذکورہ پر غور و فکر کے ساتھ عمل کی راہ نکالیں۔
*استعداد کا استعمال:*
اعلیٰ حضرت اپنے فکر پرور منصوبہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’جو ہم میں قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں، وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انھیں مہارت ہو لگائے جائیں۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۲، رضا اکیڈمی ممبئی،ص۱۳۴)
آپ نے کئی مقامات پر وظائف سے متعلق رہبری کی ہے، اِس اقتباس میں جو پہلو واضح کیا گیا وہ یہ ہے کہ با صلاحیت افراد کو ان کے متعلقہ شعبے میں مقرر کیا جائے تا کہ ان کی صلاحیت کا مثل ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ عمدہ نتیجہ قوم کو حاصل ہو، اس کے لیے معاشی آسودگی ضروری ہے اور وظائف کے ذریعے اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔یعنی فرد سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے۔ جس سے قوم کی نئی نسل کو فائدہ پہنچے گا اور صلاحیتیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
ماضی میں جب کہ علمی و تحقیقی امور کی انجام دہی کے لیے مسلم سلاطین نے بڑے بڑے جامعات و مدارس قائم کیے تھے، با صلاحیت علما کو وظائف دے کر معاشی ضروریات کا تصفیہ کیا جاتا تھا اس طرح وہ یکسوئی کے ساتھ علمی و دینی کام انجام دیا کرتے تھے اور قوم کی ترقی کا آفتاب نصف النہار پر پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔