٭٭٭
نبوت کے منصب کا وہ مختتم
رسالت ہوئی آپ پر منتہی
٭٭٭
رسالت منتہی ان پر نبوت مختتم ان پر
نظرؔ اس میں جسے شک ہو وہ مانگے خیر ایماں کی
٭٭٭
مختتم جس پہ رسالت وہ رسولِ اکرم
منتہی جس پہ نبوت وہ نبی ہے ساقی
٭٭٭
تجھ پر ہی منتہی ہے نبوت کا کارِ طول
اللہ کی طرف سے ہے تو آخری رسول
٭٭٭
اسی پر منتہی کارِ نبوت بھی رسالت بھی
اسی پر دیں ہوا کامل، ہوئی کامل شریعت بھی
٭٭٭
منتہی سلسلۂ کارِ نبوت تجھ پر
تا بہ ہنگامۂ محشر تری آقائی ہے
----
واصف علی واصف ؔ:
سلطانِ انبیا ہے ، تری ذاتِ باصفا
اوّل کہوں یا اوسط و آخر کہوں تجھے
تجھ پر ہوئی ہے ختم ، نبوّت کی داستاں
خاتمِ پیمبروں کا پیمبر کہوں تجھے
----
مظفرؔ وارثی:
حرفِ اول بھی تو حرفِ آخر بھی تو
دیکھتا ہوں مسلسل زمانہ ترا
٭٭٭
تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
روزِ ازل انسان کو خدا نے اک منشور دیا
اور اسی منشورِ ہدایت کی تکمیل ہیں آپ
٭٭٭
لقب ہیں رحمتہ للعالمین ختم الرسل جن کے
اُنھیں لطف خدا کی انتہا کہیے بجا کہیے
٭٭٭
خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی
ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی
لمحہ لمحہ اُن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا
آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا
لہجۂ خدا میں آپ نے صدا دی، لانبی بعدی
تھے اصول جتنے اُن کے ہر سخن میں نظم ہو گئے ہیں
دیں کے سارے رستے آپ تک پہنچ کر ختم ہو گئے ہیں
ذات حرفِ آخر ، بات انفرادی، لانبی بعدی
٭٭٭
بروزِ میثاق
ذات باری نے
عہد نبیوں سے یہ لیا تھا
کریں گے تائید وہ سب اُن کی
جو سب سے آخر میں آنے والے ہیں اِس جہاں میں
وہی جو مصداقِ آرزوئے خلیل بھی ہیں
کلیم جن کے ہوئے منادی
مسیح جن کے بنے مبشر
سلام مبعوثِ آخریں پر
نکالنے والے ظلمتوں سے
وہ حق کے حامل
وہ حق کے مرکز
انھی کو حق نے بنا کے بھیجا
جہاں کی رحمت
انھی پہ دیں ہو گیا مکمل
ہوئی تمام اُن پہ حق کی نعمت
سلام اُس نازشِ زمیں پر
وہ ہیں محمد وہ ہیں احمد
وہی ہی ماحی وہی ہیں حاشر وہی ہیں غالب
وہ ٹھہرے سب انبیا کے خاتم
نبی کوئی اُن کے بعد آئے نہیں یہ ممکن
اٹھائے جائیں گے روزِ محشر وہ سب سے پہلے
ملے گا اذنِ شفاعت اُن کو
وہ دیں گے مایوس امتوں کو
بشارتیں بخشش و عطا کی
انھی کے ہاتھوں میں سب خزانوں کی کنجیاں ہوں گی
پرچمِ حمدِ پاک ہو گا
وہ سب سے پہلے عطا کریں گے
بہشت کےگلشنوں کو رونق
فقیر و محتاج اُن کی امت کے
اُس گھڑی ان کے ساتھ ہوں گے
سلام اُس تاجدارِ دیں پر
٭٭٭
عیاں ہیں دن کی طرح سب صفات ختمِ رسل
کھلی کتاب ہے گویا حیاتِ ختمِ رسل
ہر ارتقا ہے انھی کی نظر سے اذن طلب
تمام حسنِ تمدن زکات ختمِ رسل
ضیا فگن ہے دلیلِ وجود حق بن کر
جریدۂ دوسرا پر ثباتِ ختمِ رسل
جو زندگی کو ہمیشہ حرارتیں دےگا
وہ آفتاب ہے دنیا میں ذاتِ ختمِ رسل
کتابِ زندہ و شرح متین و دینِ مبیں
جہاں میں کم تو نہیں معجزاتِ ختمِ رسل
٭٭٭
محمدِ عربی اعتبارِ لوح و قلم
محمدِ عربی افتخارِ جن و بشر
دارومدار کس پہ ہے فیضِ مدام کا
ختمِ رسل حبیبِ خدا اور کون ہے
تیری عظمت زمانے میں مسلم سیدِ عالم
مؤخر ہو کے بھی تو ہے مقدم سیدِ عالم
قائدِ مرسلیں تمہی ہادئ آخریں تمہی
رحمتِ عالمیں تمہی مصدرِ التفات ہو
٭٭٭
ہستیِ ختمِ رسل ہے زیب دیتا ہے جسے
کشتیِ انسانیت کی ناخدائی کا شرف
----
عباس عدیمؔ قریشی:
میرے نبی کے بعد نبوت کا مدّعی
ملعـونِ دوسرا ہے ، زنیم و پلید ہے
مہدی سمجھ، مسیح سمجھ ،چاہے جو سمجھ
کانا ہمارے ہاں تو مغلّظ رسید ہے
٭٭٭
حرفِ آخر ہے یہ فرماں لانبی بعدی
قولِ آقا ہے نمایاں لا نبی بعدی
اپنا ایماں ہے زبس ختمِ نبوت پہ عدیمؔ
میرے آقا کو ہے شایاں لانبی بعدی
----
تنویر پھولؔ:
وہ ختم الانبیا ہیں ، تا قیامت یہ شریعت ہے
نہیں ہے باز دروازہ رسالت یا نبوت کا
رسالت منصب اعلی ، نبوت اس میں ہے شامل
پیمبر اب نہ آئے گا ، یہ ہے مفہوم آیت کا
٭٭٭
افضل الانبیا ! آپ ہی ہیں شہا ! خاتم الانبیا
آپ کے نام پر ہم ہیں دل سے فدا خاتم الانبیا!
بعد اللہ کے آپ کا مرتبہ، آپ صدرالعلیٰ
سب جہانوں میں کوئی نہیں آپ سا خاتم الانبیا !
رب نے پیغام ' اقراکا بھیجا وہیں ، لائے روح الامیں
آپ کے نور سے ہے منور حرا ، خاتم الانبیا !
سنگ برسائے طائف میں بدبختوں نے ، خوں سے جوتے بھرے
آپ نے پھر بھی ان کا نہ چاہا برا ، خاتم الانبیا !
آپ ہی کو سراجامنیرا ' کہا رب نے قرآن میں
آپ شمس الضحیٰ ، آپ بدرالدجیٰ خاتم الانبیا !
مہرباں مہرباں ، راحت قلب و جاں، مونس بے کساں
آپ رحمت لقب اور عطا ہی عطا، خاتم الانبیا !
پھول روضے پہ کہتا ہے رو رو کے اب ہو کرم کی نظر
نبوت کے منصب کا وہ مختتم
رسالت ہوئی آپ پر منتہی
٭٭٭
رسالت منتہی ان پر نبوت مختتم ان پر
نظرؔ اس میں جسے شک ہو وہ مانگے خیر ایماں کی
٭٭٭
مختتم جس پہ رسالت وہ رسولِ اکرم
منتہی جس پہ نبوت وہ نبی ہے ساقی
٭٭٭
تجھ پر ہی منتہی ہے نبوت کا کارِ طول
اللہ کی طرف سے ہے تو آخری رسول
٭٭٭
اسی پر منتہی کارِ نبوت بھی رسالت بھی
اسی پر دیں ہوا کامل، ہوئی کامل شریعت بھی
٭٭٭
منتہی سلسلۂ کارِ نبوت تجھ پر
تا بہ ہنگامۂ محشر تری آقائی ہے
----
واصف علی واصف ؔ:
سلطانِ انبیا ہے ، تری ذاتِ باصفا
اوّل کہوں یا اوسط و آخر کہوں تجھے
تجھ پر ہوئی ہے ختم ، نبوّت کی داستاں
خاتمِ پیمبروں کا پیمبر کہوں تجھے
----
مظفرؔ وارثی:
حرفِ اول بھی تو حرفِ آخر بھی تو
دیکھتا ہوں مسلسل زمانہ ترا
٭٭٭
تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
روزِ ازل انسان کو خدا نے اک منشور دیا
اور اسی منشورِ ہدایت کی تکمیل ہیں آپ
٭٭٭
لقب ہیں رحمتہ للعالمین ختم الرسل جن کے
اُنھیں لطف خدا کی انتہا کہیے بجا کہیے
٭٭٭
خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی
ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی
لمحہ لمحہ اُن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا
آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا
لہجۂ خدا میں آپ نے صدا دی، لانبی بعدی
تھے اصول جتنے اُن کے ہر سخن میں نظم ہو گئے ہیں
دیں کے سارے رستے آپ تک پہنچ کر ختم ہو گئے ہیں
ذات حرفِ آخر ، بات انفرادی، لانبی بعدی
٭٭٭
بروزِ میثاق
ذات باری نے
عہد نبیوں سے یہ لیا تھا
کریں گے تائید وہ سب اُن کی
جو سب سے آخر میں آنے والے ہیں اِس جہاں میں
وہی جو مصداقِ آرزوئے خلیل بھی ہیں
کلیم جن کے ہوئے منادی
مسیح جن کے بنے مبشر
سلام مبعوثِ آخریں پر
نکالنے والے ظلمتوں سے
وہ حق کے حامل
وہ حق کے مرکز
انھی کو حق نے بنا کے بھیجا
جہاں کی رحمت
انھی پہ دیں ہو گیا مکمل
ہوئی تمام اُن پہ حق کی نعمت
سلام اُس نازشِ زمیں پر
وہ ہیں محمد وہ ہیں احمد
وہی ہی ماحی وہی ہیں حاشر وہی ہیں غالب
وہ ٹھہرے سب انبیا کے خاتم
نبی کوئی اُن کے بعد آئے نہیں یہ ممکن
اٹھائے جائیں گے روزِ محشر وہ سب سے پہلے
ملے گا اذنِ شفاعت اُن کو
وہ دیں گے مایوس امتوں کو
بشارتیں بخشش و عطا کی
انھی کے ہاتھوں میں سب خزانوں کی کنجیاں ہوں گی
پرچمِ حمدِ پاک ہو گا
وہ سب سے پہلے عطا کریں گے
بہشت کےگلشنوں کو رونق
فقیر و محتاج اُن کی امت کے
اُس گھڑی ان کے ساتھ ہوں گے
سلام اُس تاجدارِ دیں پر
٭٭٭
عیاں ہیں دن کی طرح سب صفات ختمِ رسل
کھلی کتاب ہے گویا حیاتِ ختمِ رسل
ہر ارتقا ہے انھی کی نظر سے اذن طلب
تمام حسنِ تمدن زکات ختمِ رسل
ضیا فگن ہے دلیلِ وجود حق بن کر
جریدۂ دوسرا پر ثباتِ ختمِ رسل
جو زندگی کو ہمیشہ حرارتیں دےگا
وہ آفتاب ہے دنیا میں ذاتِ ختمِ رسل
کتابِ زندہ و شرح متین و دینِ مبیں
جہاں میں کم تو نہیں معجزاتِ ختمِ رسل
٭٭٭
محمدِ عربی اعتبارِ لوح و قلم
محمدِ عربی افتخارِ جن و بشر
دارومدار کس پہ ہے فیضِ مدام کا
ختمِ رسل حبیبِ خدا اور کون ہے
تیری عظمت زمانے میں مسلم سیدِ عالم
مؤخر ہو کے بھی تو ہے مقدم سیدِ عالم
قائدِ مرسلیں تمہی ہادئ آخریں تمہی
رحمتِ عالمیں تمہی مصدرِ التفات ہو
٭٭٭
ہستیِ ختمِ رسل ہے زیب دیتا ہے جسے
کشتیِ انسانیت کی ناخدائی کا شرف
----
عباس عدیمؔ قریشی:
میرے نبی کے بعد نبوت کا مدّعی
ملعـونِ دوسرا ہے ، زنیم و پلید ہے
مہدی سمجھ، مسیح سمجھ ،چاہے جو سمجھ
کانا ہمارے ہاں تو مغلّظ رسید ہے
٭٭٭
حرفِ آخر ہے یہ فرماں لانبی بعدی
قولِ آقا ہے نمایاں لا نبی بعدی
اپنا ایماں ہے زبس ختمِ نبوت پہ عدیمؔ
میرے آقا کو ہے شایاں لانبی بعدی
----
تنویر پھولؔ:
وہ ختم الانبیا ہیں ، تا قیامت یہ شریعت ہے
نہیں ہے باز دروازہ رسالت یا نبوت کا
رسالت منصب اعلی ، نبوت اس میں ہے شامل
پیمبر اب نہ آئے گا ، یہ ہے مفہوم آیت کا
٭٭٭
افضل الانبیا ! آپ ہی ہیں شہا ! خاتم الانبیا
آپ کے نام پر ہم ہیں دل سے فدا خاتم الانبیا!
بعد اللہ کے آپ کا مرتبہ، آپ صدرالعلیٰ
سب جہانوں میں کوئی نہیں آپ سا خاتم الانبیا !
رب نے پیغام ' اقراکا بھیجا وہیں ، لائے روح الامیں
آپ کے نور سے ہے منور حرا ، خاتم الانبیا !
سنگ برسائے طائف میں بدبختوں نے ، خوں سے جوتے بھرے
آپ نے پھر بھی ان کا نہ چاہا برا ، خاتم الانبیا !
آپ ہی کو سراجامنیرا ' کہا رب نے قرآن میں
آپ شمس الضحیٰ ، آپ بدرالدجیٰ خاتم الانبیا !
مہرباں مہرباں ، راحت قلب و جاں، مونس بے کساں
آپ رحمت لقب اور عطا ہی عطا، خاتم الانبیا !
پھول روضے پہ کہتا ہے رو رو کے اب ہو کرم کی نظر
دین و دنیا میں ہے آپ کا آسرا، خاتم الانبیا !
٭٭٭
عزیزالدین خاکیؔ:
خلق میں چرچا ہوا ختم نبوت زندہ باد
سارے عالم نے کہا ختم نبوت زندہ باد
آپ کو اللہ نے بخشا ہے ایسا مرتبہ
ہیں امام الانبیاء ختم نبوت زندہ باد
----
سلمان رضا فریدیؔ :
ہے بلندی پہ سدا، ختمِ نبوت کا عَلَم
نہ جھکےگا نہ جھکا، ختمِ نبوت کا عَلَم
زیر کرپائیں گے کیا اس کو زمانے والے
رب نے ہے اونچا کیا، ختم نبوت کا عَلَم
----
مشاہد رضا عبیدؔالقادری :
مر کر بھی نہ پاؤگے کبھی چور در اس کا
آقا کی مرے ختمِ نُبوت زَمَنی ہے
----
فہیم بسمل ؔ:
رب واحد کا دینے پتا آئے ہیں
بن کے ہر بے نوا کی نوا آئے ہیں
مصطفیٰ ! خاتم الانبیا ء آئے ہیں
لے کے آئی خبر کیف پرور ہوا
ہو مبارک حبیبِ خدا آگئے
----
انس نواز رحیمیؔ:
ناز کیوں کر نہ کریں آپ سے نسبت والے
لوگ کہتے ہیں ہمیں ختم نبوت والے
----
مرزاخان ارشدؔ:
ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے
گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے
----
محمد آصفؔ قادری:
خدا نے تاج ہے جن کو دیا ختم نبوت کا
وہی ہیں دیں وہی ایماں دُرود ان پر سلام ان پر
----
عبدالمجید محامدؔ مصباحی:
تاج دارِ نبوت سدا آپ ہیں
بابِ ختم نبوت سدا آپ ہیں
----
ابرار حسین نیرؔ:
اسلام کی ہے شرط ، یہ جزو یقین ہے
ختم الرسل کی ختم نبوت کا اعتراف
----
غلام مجتبیٰ ہاشمیؔ:
شریعت ہو ، طریقت ہو، نبوت ہو ، رسالت ہو
ہوا آغاز تم سے ہی ، سبھی کی انتہا تم ہو
یہی فرماں ہے رب کا اور یہی ایمان ہے میرا
’’نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیاء تم ہو‘‘
----
شجاعت علی راہیؔ:
سب انبیا کا عکس جھلکتا ہے آپ میں
سب انبیا کی شان ہیں معراج ہیں
ہے ختم آپ ہی پہ نبوت کا سلسلہ
موسیٰ کے اور مسیح کے سرتاج آپ ہیں
----
محمد عارفؔ قادری:
ہیں وہی ختم الرسل ان پر نبوت ختم ہے
بعدِ رب ، سرکار پر ہر افضلیت ختم ہے
جاں لٹادیں گے اے عارفؔ ہم نبی کے نام پر
اس سعادت پر یقیناً ہر سعادت ختم ہے
----
سید حبدار قائمؔ:
آخری آقا ہیں ، عقیدہ رکھ
حشر تک دل کا یہ وظیفہ رکھ
----
سید فاضل میسوری :
کہے خاتمیتِ مصطفےٰ مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کسی نبی نے نہیں کہا مرے بعد کوئی نبی نہیں
چلے لاکھ کذب کا سلسلہ یہ اصول رد نہیں ہو سکا
جو بیانیہ ہے حدیث کا مرے بعد کوئی نبی نہیں
ہے خدائے پاک کا فیصلہ نہیں اس میں کوئی بھی شائبہ
کہ مرے رسول نے کہہ دیا مرے بعد کوئی نبی نہیں
تھے غلام جتنے حضور کے وہ یقین والے ضرور تھے
کہ لبِ حضور سے تھا سنا مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کتابِ حق سے عیاں ہوا کہ ضروری جزو ہے دین کا
جو نبی کا قول ہے برملا مرے بعد کوئی نبی نہیں
----
شمس تبریز انجمؔ:
نائبِ ذاتِ رب العلیٰ آگئے
مالکِ کل ، شہِ انبیا آگئے
اب نہ ہوگا کوئی بھی نبی دوسرا
مصطفیٰ خاتم الانبیاء آگئے
----
طفیل احمد مصباحی:
مظہرِ ذاتِ رب العلیٰ آپ ہیں
مالکِ کل ، حبیبِ خدا آپ ہیں
نصِّ قرآں سے ثابت ہے یہ مسئلہ
مصطفیٰ ، خاتم الانبیاء آپ ہیں
----
محمد اویسؔ رضوی صدیقی:
اے سراپا نور ، اے دل نشین و مہ جبیں
چہر ہ ہے والشمس اور واللیل زلفِ عنبریں
آپ سب سے افضل و اعلیٰ خدا کے بعد ہیں
اے شہِ دیں ، رحمتِ کونین ، ختم المرسلیں
----
محمد حسین مشاہدؔرضوی:
خدا کی حمد کا مطلع ہے مصطفیٰ کی ذات
تمام نبیوں کا مقطع ہے مصطفیٰ کی ذات
خدا گواہ ، رسالت کی نظم کا لاریب
مشاہدؔ آخری مصرع ہےمصطفیٰ کی ذات
٭٭٭
مشعلیں ادیانِ سابق کی سبھی گل ہوگئیں
لے کر آئے مصطفیٰ ختم نبوت کا چراغ
٭٭٭
اور کوئی نہیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں بالیقیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں آخری آخری آخری
سید المرسلیں خاتم الانبیاء
آپ کی خاتمیّت پہ شاہد ہے خود
ہاں کتابِ مبیں خاتم الانبیاء
میرا ختمِ نبوت پہ ایمان ہے
اے شہنشاہِ دیں خاتم الانبیاء
جان و دل اِس عقیدے پہ واریں گے ہم
اولیں آخریں خاتم الانبیاء
عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے سوشل میڈیا کے مختلف گروپس اور فورمز پر متعددطرحی و غیر طرحی نعتیہ مشاعرے مسلسل ہورہے ہیں اور اس موضوع پر شعرا حضرات پیہم طبع آزمائی بھی کررہے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں ختم نبوت پر مبنی اردو نعتیہ شاعری کے ذخیرے سے اس اعتراف کے ساتھ منتخب اشعار خوانِ مطالعہ پر سجانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ آپ حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے یا اپنے پسندیدہ شعراے کرام کے ختم نبوت پر منحصر اشعار پیش کریں ۔
محمد حسین مشاہدرضوی ، مالیگاؤں
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2125692104236632/
٭٭٭
عزیزالدین خاکیؔ:
خلق میں چرچا ہوا ختم نبوت زندہ باد
سارے عالم نے کہا ختم نبوت زندہ باد
آپ کو اللہ نے بخشا ہے ایسا مرتبہ
ہیں امام الانبیاء ختم نبوت زندہ باد
----
سلمان رضا فریدیؔ :
ہے بلندی پہ سدا، ختمِ نبوت کا عَلَم
نہ جھکےگا نہ جھکا، ختمِ نبوت کا عَلَم
زیر کرپائیں گے کیا اس کو زمانے والے
رب نے ہے اونچا کیا، ختم نبوت کا عَلَم
----
مشاہد رضا عبیدؔالقادری :
مر کر بھی نہ پاؤگے کبھی چور در اس کا
آقا کی مرے ختمِ نُبوت زَمَنی ہے
----
فہیم بسمل ؔ:
رب واحد کا دینے پتا آئے ہیں
بن کے ہر بے نوا کی نوا آئے ہیں
مصطفیٰ ! خاتم الانبیا ء آئے ہیں
لے کے آئی خبر کیف پرور ہوا
ہو مبارک حبیبِ خدا آگئے
----
انس نواز رحیمیؔ:
ناز کیوں کر نہ کریں آپ سے نسبت والے
لوگ کہتے ہیں ہمیں ختم نبوت والے
----
مرزاخان ارشدؔ:
ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے
گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے
----
محمد آصفؔ قادری:
خدا نے تاج ہے جن کو دیا ختم نبوت کا
وہی ہیں دیں وہی ایماں دُرود ان پر سلام ان پر
----
عبدالمجید محامدؔ مصباحی:
تاج دارِ نبوت سدا آپ ہیں
بابِ ختم نبوت سدا آپ ہیں
----
ابرار حسین نیرؔ:
اسلام کی ہے شرط ، یہ جزو یقین ہے
ختم الرسل کی ختم نبوت کا اعتراف
----
غلام مجتبیٰ ہاشمیؔ:
شریعت ہو ، طریقت ہو، نبوت ہو ، رسالت ہو
ہوا آغاز تم سے ہی ، سبھی کی انتہا تم ہو
یہی فرماں ہے رب کا اور یہی ایمان ہے میرا
’’نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیاء تم ہو‘‘
----
شجاعت علی راہیؔ:
سب انبیا کا عکس جھلکتا ہے آپ میں
سب انبیا کی شان ہیں معراج ہیں
ہے ختم آپ ہی پہ نبوت کا سلسلہ
موسیٰ کے اور مسیح کے سرتاج آپ ہیں
----
محمد عارفؔ قادری:
ہیں وہی ختم الرسل ان پر نبوت ختم ہے
بعدِ رب ، سرکار پر ہر افضلیت ختم ہے
جاں لٹادیں گے اے عارفؔ ہم نبی کے نام پر
اس سعادت پر یقیناً ہر سعادت ختم ہے
----
سید حبدار قائمؔ:
آخری آقا ہیں ، عقیدہ رکھ
حشر تک دل کا یہ وظیفہ رکھ
----
سید فاضل میسوری :
کہے خاتمیتِ مصطفےٰ مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کسی نبی نے نہیں کہا مرے بعد کوئی نبی نہیں
چلے لاکھ کذب کا سلسلہ یہ اصول رد نہیں ہو سکا
جو بیانیہ ہے حدیث کا مرے بعد کوئی نبی نہیں
ہے خدائے پاک کا فیصلہ نہیں اس میں کوئی بھی شائبہ
کہ مرے رسول نے کہہ دیا مرے بعد کوئی نبی نہیں
تھے غلام جتنے حضور کے وہ یقین والے ضرور تھے
کہ لبِ حضور سے تھا سنا مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کتابِ حق سے عیاں ہوا کہ ضروری جزو ہے دین کا
جو نبی کا قول ہے برملا مرے بعد کوئی نبی نہیں
----
شمس تبریز انجمؔ:
نائبِ ذاتِ رب العلیٰ آگئے
مالکِ کل ، شہِ انبیا آگئے
اب نہ ہوگا کوئی بھی نبی دوسرا
مصطفیٰ خاتم الانبیاء آگئے
----
طفیل احمد مصباحی:
مظہرِ ذاتِ رب العلیٰ آپ ہیں
مالکِ کل ، حبیبِ خدا آپ ہیں
نصِّ قرآں سے ثابت ہے یہ مسئلہ
مصطفیٰ ، خاتم الانبیاء آپ ہیں
----
محمد اویسؔ رضوی صدیقی:
اے سراپا نور ، اے دل نشین و مہ جبیں
چہر ہ ہے والشمس اور واللیل زلفِ عنبریں
آپ سب سے افضل و اعلیٰ خدا کے بعد ہیں
اے شہِ دیں ، رحمتِ کونین ، ختم المرسلیں
----
محمد حسین مشاہدؔرضوی:
خدا کی حمد کا مطلع ہے مصطفیٰ کی ذات
تمام نبیوں کا مقطع ہے مصطفیٰ کی ذات
خدا گواہ ، رسالت کی نظم کا لاریب
مشاہدؔ آخری مصرع ہےمصطفیٰ کی ذات
٭٭٭
مشعلیں ادیانِ سابق کی سبھی گل ہوگئیں
لے کر آئے مصطفیٰ ختم نبوت کا چراغ
٭٭٭
اور کوئی نہیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں بالیقیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں آخری آخری آخری
سید المرسلیں خاتم الانبیاء
آپ کی خاتمیّت پہ شاہد ہے خود
ہاں کتابِ مبیں خاتم الانبیاء
میرا ختمِ نبوت پہ ایمان ہے
اے شہنشاہِ دیں خاتم الانبیاء
جان و دل اِس عقیدے پہ واریں گے ہم
اولیں آخریں خاتم الانبیاء
عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے سوشل میڈیا کے مختلف گروپس اور فورمز پر متعددطرحی و غیر طرحی نعتیہ مشاعرے مسلسل ہورہے ہیں اور اس موضوع پر شعرا حضرات پیہم طبع آزمائی بھی کررہے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں ختم نبوت پر مبنی اردو نعتیہ شاعری کے ذخیرے سے اس اعتراف کے ساتھ منتخب اشعار خوانِ مطالعہ پر سجانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ آپ حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے یا اپنے پسندیدہ شعراے کرام کے ختم نبوت پر منحصر اشعار پیش کریں ۔
محمد حسین مشاہدرضوی ، مالیگاؤں
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2125692104236632/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
یوم تحفظ ختم نبوت ❷
7 ستمبر 1974 عِـیسوی
7 ستمبر 1974 عِـیسوی