🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*📚"مخدوم سمناں کا تاریخی سفر:سمنان سے کچھوچھہ تک"*
*تالیف:* حضرت مولانامفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
(صدرمفتی و شیخ الحدیث
ادارہ شرعیہ اتر پردیش -راۓ بریلی)
*ناشر:* نوری مشن برانچ ناسک مہاراشٹر
*ترسیل کار:* نوری مشن مالیگاوں

ناسک: سر زمینِ ہند پر اشاعتِ دین و فریضۂ تبلیغ کا سہرا اسلافِ کرام و اولیاے اسلام کے سَر سجتا ہے۔ انھیں کی جدوجہد سے شرک کی وادیاں دین کی کرنوں سے روشن ہوئیں۔ جن میں حضرت مخدوم پاک سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات نمایاں ہے۔ آپ نے سمناں کے تاج کو چھوڑ کر دینِ مصطفیٰ ﷺ کی سربلندی کے لیے کچھوچھہ مقدسہ کی سرزمین کو مسکنِ عرفان بنایا۔ آپ کی حیات، خدمات، خاندانی حالات، تحصیلِ علم، سلطنت و ترکِ سلطنت، تزکیہ و روحانیت، سیاحت، مرشد کی نسبت، کچھوچھہ مقدسہ آمد جیسے عناوین پر مفتی محمدکمال الدین اشرفی مصباحی (ادارۂ شرعیہ راے بریلی) نے مختصر و جامع مقالہ بعنوان ’’مخدوم سمناں کا تاریخی سفر: سمناں سے کچھوچھہ تک‘‘ تحریر فرمایا۔ عرسِ مخدومی کی مبارک ساعتوں میں یہ مقالہ بزبانِ ہندی کتابی صورت میں نوری مشن برانچ ناسک سے منظر عام پر ہے۔ مقالہ گرچہ مختصر ہے لیکن جامع و عام فہم ہے۔ جسے ہندی خواں افراد میں بِلاقیمت تقسیم کیا جائے گا۔ 

ترسیل: نوری مشن برانچ ناسک
4 ستمبر 2021ء
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/270525504902644/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*’’قادیانی فتنہ‘‘*
اسلام کے خلاف صہیونی سازش
*[7 ستمبر 1974ء کو علماے حق کی کوششوں سے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا... 7 ستمبر "یومِ تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت" کے بطور منایا جاتا ہے-]*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/216201503668378/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    قادیانی تحریک اسلام مخالف قوتوں کی منظم سازش کا عملی نمونہ ہے۔ جس نے عقائد اسلامی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کی جرأت کی۔ اس فرقے اور فتنے سے امتِ مسلمہ کے ہر فرد کا با خبر ہونا ضروری ہے تا کہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان محفوظ رہ سکیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریز کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت و غیرت کا اندازا ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔ متعدد فرقے انگریزوں کی کو ششوں سے وجود پا ئے جن میں ایک نمایاں فرقہ ’’قادیانی‘‘ ہے، جس کے بانی کذاب مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں انگریز کے زیرِ اثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ حالاں کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمت عالم سرور کونین ﷺ آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین۔ اس پر نصِ قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں فروشی کی مثال قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموسِ رسالت مآب ﷺ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یاقادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعیِ نبوت کی سرکوبی کے لیے رہنما اور رہبر ہے ۔ انگریز نے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی و تائید حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔

    قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن ۲۴؍ گھنٹے اپنے جھوٹے عقائد کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کو پابند سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت مستحکم ہے؛ اور یہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔

    جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سد باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف و تقریر وتحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی و دیگرفرق ہائے باطلہ پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں، اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں؛ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہ نامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں: جزاء اللّٰہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ، المبین ختم النبیین، السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، قہرالدیان علی مرتد بقادیان۔ آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضاخان قادری نے ’’الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی‘‘ تصنیف کی؛ جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہور و ممبئی سے شائع ہوئی۔ اس دور کے دیگر علما ومشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ چشتی (گولڑہ شریف) کا نام بڑا نمایاں ہے۔

    عالمی مبلغ اسلام تلمیذِ اعلیٰ حضرت؛ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلادِ عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیف The Mirrior بیرون ممالک بہت مقبول ہوئی؛ اس کا عربی میں "المرآۃ" کے نام سے ترجمہ ہوا، اسی طرح اردو میں ’’مرزائی حقیقت کا اظہار‘‘ تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اُٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سے ١٩٧٤ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
اور آئین کا حصہ بنا دیا گیا ، جس کا خلاصہ اس طرح ہے:’’جو شخص محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتاہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (ماہ نامہ ضیائے حرم لاہور،دسمبر ١٩٧٤ء، ص۳۵۔۳۶)

    قادیانی تحریک کے سد باب میں اعلیٰ حضرت کے محب و معتقد پروفیسر الیاس برنی (پروفیسر معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن) کی تصنیف ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ نے اہم کردار ادا کیا، اس تصنیف نے عالمی شہرت پائی،اس کی جامعیت کی پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی نے بھی داد دی۔ نیز آپ نے انگریزی میں بھی اس موضوع پر وقیع کام کیا جس کے اثرات اب بھی پائے جاتے ہیں۔

    عصر حاضر میں جب کہ اسلام پرکئی طرح کے حملے کیے جا رہے ہیں۔ کہیں ناموسِ رسالت پر حملہ ہے تو کہیں مستشرقین کی تنقیدی سرگرمیاں اور سیرتِ طیبہ پر اعتراض و گستاخی، اور اسلامی قوانین پر اعتراض، ایسے حالات میں قادیانیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انھیں اسلام مخالف قوتیں تعاون فراہم کر رہی ہیں اور مادی و جدید ٹکنالوجی کے سہارے قادیانی فتنہ مسلمانوں کی تباہی کے درپے ہے، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کی نشرو اشاعت کریں اور ہر مسلمان کو اس عقیدے کی اہمیت سے باخبر کریں۔ اس پر کتابوں کو مختلف زبانوں میں شائع کریں،اخبارات بھی اپنا کردار نبھائیں اور قادیانیت کے رد میں ذہن سازی کر کے اُمتِ مسلمہ کے ایمان و ایقان کے تحفظ کا فریضہ سر انجام دیں- ابھی ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ فتنہ ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا، یہ ہماری بھول اور بے خبری ہے۔ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے  ؎

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

    قادیانی نئی نئی فتوحات کے پر فریب منصوبے تشکیل دے رہے ہیں اور بالخصوص برصغیر ان کے نشانے پر ہے، یہاں کی غریب مسلم آبادیوں کا ایمان وہ مادی اور مالی آسائشوں سے خریدنا چاہتے ہیں، سماجی و فلاحی کاموں کی آڑ میں اپنا دائرہ پھیلانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انھیں در پردہ فرقہ پرست تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے؛ امریکہ نواز حکومتیں ان کی معاون ہیں؛ تو کیا ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم بیدار ہو کر قادیانیت کا رد اور سدباب کریں؟ راقم کے خیال میں اس کے سد باب کا کامیاب لائحۂ عمل یہی ہو گا کہ آقا رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا موضوع سر فہرست رکھ کر اس کی اشاعت وتبلیغ کی جائے اور یہ ایمانی تقاضا بھی ہے؛ اس سلسلے میں امام احمد رضا کی جو تصانیف و رسائل ہیں ان کو گھر گھر عام کر دیا جائے، انھیں تسہیل و تخریج کے مرحلے سے گزار کر منظرِ عام پر لایا جائے۔ اس طرح کا علمی کام ایمان افروز بھی ہوگا اور وقت کا تقاضا بھی ہے۔ امید کہ اصحابِ بصیرت اس سمت کوئی مؤثر اور فوری اقدام کریں گے؎

بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نور اول کا جلوہ ہمارا نبی ﷺ

٭٭٭
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عالم شریعت مسلمانوں کے عقائد اور اعمال کا محافظ ہوتا ہے ۔ان کے پیچھے چلنے سے عقائد و اعمال درست رہتے ہیں
یوم تحفظ ختم نبوت، علماء اور مشائخ کی کم سے کم 20سالوں کی محنت کا ثمرہ ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کو بچانے کے لئے فتنہ قادیانیت کو سرکاری سطح پر مسلمانوں کی قوم سے نکالنے اور سرکاری طور پر انہیں غیر مسلم قرار دلوانے کے لئے مسجد و آستانہ سے لے کر قومی اسمبلی تک ہر محاذ پر جد و جہد کی۔
ویسے تو اس محاذ پر ہزاروں علماء و مشائخ اہل سنت نے کام کیا
ان سب کا شکریہ البتہ اس تحریک کے جو قائدین رہے جنہوں نے قوم کو فکری طور پر بیدار رکھا
ان میں
حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ
شہزادہ صدر الشریعہ شیخ الحدیث مفتی عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ
حضرت مولانا عبد الستار نیازی علیہ الرحمہ
یہ تین حضرات سب سے نمایاں رہے
اللہ تعالی ان تمام علماء و مشائخ اور ان کا ساتھ دینے والی عوام اہل سنت کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے امت مسلمہ پر اتنا بڑا احسان کیا اللہ تعالی ان کی قبور پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے

https://www.facebook.com/155987197821849/posts/4311462128940981/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2018میں یوم تحفظ ختم نبوت پر لکھی گئی تحریر

*از قلم مفتی علی اصغر عطاری* 7 ستمبر 2018

موضوع 👇

*قادیانی اسلام کے قلعہ میں نقب لگانے کے بعد اس قلعہ کو فتح کرنا چاہتے ہیں اورحضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں*


*6 ستمبر کو پاکستانی قوم یوم دفاع مناتی ہے اور 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت مناتی ہے ۔*
یوم دفاع ہماری زمین اور ہماری جان و املاک کے تحفظ کا دن ہےلیکن یوم ختم نبوت ہماری نظریاتی اثاث اور دین و ایمان کے دفاع کا دن کا

🌱🔵🌱وہ دن کہ ہزاروں علمائے اہل سنت اور لاکھوں لوگوں کے احتجاج کے بعد بالاخر حکومتی سطح پر یہ قانون منظور ہوا اور آئین پاکستان کا حصہ بنا کہ قادیانی اور لاہوری مذھب سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلمان نہیں ہیں

👈اس سے پہلے کہ میں کچھ اور عرض کروں ڈاکٹر اقبال شاعر مشرق نے ابلیس کا خطاب کچھ ان الفاظوں میں بیان کیا ہے
جو اقبال کے تخیل کے مطابق ابلیس نے اپنی شوری کو نصیحت خے طور پر کہا پلان دیا تھا

اقبال نے بہت ہی عمدہ انداز میں شیطانی سوچ کو بیان کیا ہے ملاحظہ ہو
🌱🌴🌱
*وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہيں ذرا*
*روح محمد اس کے بدن سے نکال دو*

*فکر عرب کو دے کے فرنگي تخيلات*
*اسلام کو حجاز و يمن سے نکال دو*
...
*افغانيوں کی غيرت ديں کا ہے يہ علاج*
*ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو*

*اہل حرم سے ان کی روايات چھين لو*
*آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو*

*اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تيز*
*ايسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو*


🌱🔵🌱جس طرح کسی ملک کو لاحق خطرات بدلتے رہتے ہیں کبھی کہیں سے خطرہ تو کبھی کہیں سے
👈اسی طرح ہماری نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے ایک جھوٹے اور کذاب ملعون مرزا غلام احمد نامی شخص کو پلانٹ کیا گیا جس نے نبوت کا دعوی کیا
📛پہلے اس نے خود کو مسیح موعود کہنا شروع کیا اور اس نے عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ آخری زمانے میں حضرت عیسی علیہ السلام جو آئیں گے وہ اصل میں میرے آنے کی خبریں بیان کی گئی تھی۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نہیں آیئں گے اور مسیح کا جو لفظ بولا گیا وہ در اصل میرے بارے میں بولا گیا۔

مرزا نے بہت ساری کتابیں بھی لکھیں جن میں انبیاء سابقین کی شان میں بہت ہی کھلی قسم کی توہین کی گئی ہے

🚫🚫جب مرزا قادیانی کے کچھ معتقدین پیدا ہو گئے تو اس نے ایک نیا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا کہ وہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ لانبی بعدی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اس کا ترجمہ کچھ اور طریقے سے بنے گا کہ میرے بعد ایک شخص آئے گا جس کا نام لانبی ہوگا اور وہ میں ہی ہوں ۔حالانکہ لا کا مطلب ہے noاور نبی کا مطلب ہے prophet اور بعدی کا مطلب ہے after me ۔
مطلب بالکل واضح ہے لیکن اس نے تو بھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دینا تھا
خود کو متعدد طریقوں سے نبی کہنا شروع کر دیا
یہ صورت حال بہت خطرناک تھی

👈وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بھی ماننے کا دعوی کرتا تھا

👈قرآن پاک پر یقین رکھنے کا دعوی بھی کرتا تھا
👈ہر وہ کام کرتا تھا جو مسلمان کرتے ہیں

👈اس کو پلانٹ کرنے والوں نے یہ سوچ کر اس کو اتارا تھا کہ آئندہ مسلمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ اس مرزا کی پیروی کرنا شروع کردیں

🚫جب لوگ مرزا کو ہی اپنا نبی مان لیں گے تو پھر ہم مرزا کے ذریعے جو چاہیں گے کرواسکیں گے۔

👈یہ جھوٹا شخص اپنے ارادے میں کیسے کامیاب ہو سکتا تھا
کیوں کہ اس امت کے دلوں سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نکالنا مرزا جیسے پلانٹیڈ لوگوں کا کام نہیں
👈ہزاروں علماء اہل سنت

👈سیکنڑوں اولیاء قطب ابدال اور اپنے زمانے کے غوث کی صورت میں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جام پلانے والی ہستیوں کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن تھا

👈بلکہ اس امت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہےکہ علماءاور اولیاء انبیاء کے روحانی وارث ہیں ہمارے اکابرین دنیا سے چلے جائیں تب بھی ان کے مزارات محمد عربی صلی اللہ علیہ کی محبت کے جام لوگوں کو پلا رہے ہوتے ہیں
👈نہ ہمارا رشتہ آج تک خلفاء راشدین سے ختم ہوا ہے
👈خاص طور پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے خلاف سب سے پہلے جنگ کی
اسی صدیق اکبر سے ہمارا رشتہ آج بھی برقرار ہے کہ جب ہم روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوتے ہیں تو پہلوئے یار میں مدفون اس یار مزار پر بھی سلام عرض کرتے ہیں

👈نہ ہمارا رشتہ آج تک شہداء کربلا سے ختم ہوا ہے جنہوں نے یزیدیت کو قبول نہ کرنے کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا
👈نہ ہمارا رشتہ آج تک صلاح الدین ایوبی سے ختم ہوا ہے نہ ہی سلطان نور الدین زنگی سے کہ جو ان بد بختوں تک پہنچا اور خاتمہ کیا جو قبر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اکھیڑنا چاہتے تھے

👈نہ ہی ہمارا رشتہ امام اعظم ابو حنیفہ سے ختم ہوا ہے نہ غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے جو انوار محمدیہ کی خیرات تقسیم کرنے والی ہستیاں ہیں

👈نہ ہمارا رشتہ خواجہ معین الدین چستی سے ختم ہوا ہے جو لاکھوں بت پرستوں کو محمد عربی کا غلام بنانے والے ہیں

👈اور اولیاء کے فیضان کے حامل مجدد وقت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے مرزا قادیانی کے خلاف پانچ مختلف کتب تحریر کر کے اس کی تمام علمی دلیلوں کا آپریشن کر کے رکھ دیا

👈تاجدار گولڑا پیر مہر علی صاحب نے مرزا کی روحانی طاقت کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے دعوت مباہلہ دے کر اسے فرار ہونے پر مجبور کیا

👈صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اس بد بخت کی کتب میں موجود انبیاء کرام کی گستاخیاں منظر عام پر لا کر بہار شریعت حصہ اول میں شائع کر کے اسے کہیں کا نا چھوڑا

🚫🚫سازش بہت بڑی تھی

ھدف میں اور آپ نہیں پورا دین اسلام تھا

عیاری بھی تھی

مکاری بھی تھی

پلانٹ کرنے والے طاقت ور بھی تھے

پلانٹ کرنے والے آج تک یہ چاہتے ہیں کہ مرزائیوں کو
غیر مسلم نہ کہا جائے

یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں ہی کا فرقہ قرار دیا جائے

یہ چاہتے ہیں کہ قادیانیوں سے ان کی شناخت نہ ظاہر کرنے کا کہا جائے

یہ چاہتے ہیں کہ وہ دین اسلام کے قلعہ میں نقب لگائیں تو قلعے کے دروازے کھول کر انہیں ڈاکا ڈالنے دیا جائے

یہ چاہتے ہیں کہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو مرتد بنانے کا موقع دیا جائے
یہ چاہتے ہیں کہ مرزائیوں کو دشمنان اسلام قرار نہ دیا جائے

🌱🔵🌱لیکن علماء اہل سنت کی قربانیاں رنگ لے آئیں اور آئینی طور پر قادیانی اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا
👈ان پر یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ اپنی حقیقی شناخت کروانے کے پابند ہیں

👈خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے مسلمانوں جیسی مذھبی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے

📛لیکن یہ یاد رکھیے آئین کی سرحدیں ہوتی ہیں پاکستان میں کچھ حدود میں یہ لوگ ضرور رہتے ہیں لیکن خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں اسلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کرنے والے یہ لوگ آج بھی اپنی مذھبی تبلیغ کا ھدف مسلمانوں کو بنائے ہوئے ہیں

*طریقہ واردات* 👇
👈شروع میں مرزا کو ولی اللہ کہہ کر
👈پھر اسے مسیح موعود کہہ کر

👈پھر اسے ایسا نبی کہہ کر جس کے آنے سے ختم نبوت پر فرق نہ پڑے

👈پھر اسے محمد عربی سے افضل کہہ کر لوگوں کو پھنسانے انہیں گھیرنے ان کو مرتد بنانے کا سلسلہ جاری رکھےہوئے ہیں

اللہ پاک ہمیں ان کی چالبازی سمجھنے ان سے دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے

🌱🌹🌱آج بھی علمائے اہل سنت قادیانیوں کے خلاف اور ان کے مختلف چالبازیوں کے خلاف کتب لکھنے کا سلسلہ
خطبات سے بیدار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

👍آپ خود بھی بیدار رہیں اور بالخصوص جس کا ملنا جلنا قادیانیوں کے ساتھ ہے اسے نظریاتی طور پر مضبوط کریں اور خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو تبلیغ دین کے ذریعے محبت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا جام پلاتے رہیں
*محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے*

*اسی میں ہو گر خامی تو ایماں نامکمل ہے۔*

ہر مسلمان ایک کتاب کم از کم ضرور قادیانی مذھب کے تعلق سے پڑھے
الیاس برنی صاحب علیہ الرحمہ کی کتب بہت عمدہ ہیں اس موضوع پر دیگر معاصر و مرحوم علماء و سکالز کی کتب بھی عمدہ ہیں

https://www.facebook.com/155987197821849/posts/2402727026481177/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقیدۂ ختم نبوت پر اردوکےمنتخب نعتیہ اشعار
----- محمد حسین مشاہد رضوی

http://www.mushahidrazvi.com/2021/09/aqeeda-e-khatm-e-nubuwwat-par-urdu-k.html

اللہ رب العزت جل جلالہٗ نےسب سے پہلے اپنے محبوب محمد ٘مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو پیدا فرمایا ، اس نور کے طفیل سارے عالم و عالمیان کی تخلیق فرمائی ۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیےدنیا میں اُس نے انبیاومرسلین علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک انبیا و مرسلین علیہم السلام اِس دنیا میں تشریف لاتے رہے اور عالمِ انسانیت کو فوز و فلاح کی راہ دکھاتے رہے۔ جس نور سے اللہ نے ساری کائنات کو خلق فرمایا ۔ اخیر میں اسی نورِ مبین یعنی خاتم المرسلین حضرت سیدنا و مولانامحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرقِ اقدس پر نبیِ آخر الزماں کا تاجِ فضیلت و کرامت سجا کر اِس خاکدانِ گیتی پر جلوہ گر فرماتے ہوئے :مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا کا فرمانِ والا شان بھی قرآن میں نازل فرمایا کہ : محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں! اللّٰہ کے رسول ہیں ، اور سب نبیوں کے پچھلے ،اور اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے( سورۃ الاحزاب آیت ۴۰)یعنی نبیِ کریم ﷺآخر الانبیاء ہیںکہ نبوّت آپ پر ختم ہو گئی آپ کی نبوّت کے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوّت پہلے پا چکے ہیں مگر نُزول کے بعد شریعتِ محمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظّمہ کی طرف نماز پڑھیں گے ، حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے ، نصِّ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث توحدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور کی نبوّت کے بعد کسی اور کو نبوّت ملنا ممکن جانے ، وہ ختمِ نبوّت کا منکِر اور کافِر خارج از اسلام ہے ۔
عقیدۂ ختم نبوت کو تسلیم کرنا عین اسلام و ایمان ہے ۔ نبیِ کریم مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نہ ماننا غیر اسلامی عقیدہ ہے ۔ جو بھی آپ کے بعد کسی بھی شخص کو نبی مانے وہ مسلمان نہیں بلکہ دائرۂ اسلام سے خارج مانا جائے گا۔ دورِ صحابہ سے لے کر اب تک جتنے بھی افراد میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اُن کےفاسد اور کفریہ عقائدو نظریات کی ہر دور میں تردید کی جاتی رہی ہے۔ ان کذابوں کی دروغ گوئی کا ہر زمانے میں پرد ہ چاک کرنے میں علماے کرام کے ساتھ ساتھ شعراے اسلام نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ چناں چہ مختلف اندازمیں اپنی قوتِ متخیلہ کو بروے کار لاتے ہوئے شعرا ے اسلام نے اپنی نعتوں اور دیگر اصناف کے وسیلے سے عقیدۂ ختم نبوت کو اشعار کے پیکر میں ڈھالنے کی خوب صورت کوششیں کی ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ برصغیر ہندو پاک میں جب اردو اپنے تشکیلی دور سے آگے بڑھ کر ادبی زبان کا درجہ حاصل کرچکی تھی اُس عصر میں مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں نثر و نظم کےذریعے جس قدر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور جھوٹے دعواے نبوت کی تردید میں مضامین اور خیالات ملتے ہیں وہ سب اِسی مرزاے قادیان کذاب کے رد میں ہی ہیں۔ انگریزی عہد میں انگریزوں کے نمک خوار اسلام مخالف اِس کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیاعلماے اسلام نے اس کی پُرزور انداز میں مخالفت کی ، مناظرے کیے، اجلاس کا انعقاد کیا ، کانفرنسیں منعقد کیں ، کتابیں تصنیف فرمائیں ،شعرا نے اپنے اشعار کے ذریعے اِس کذاب کے عقائدِ باطلہ کا ردِ بلیغ کیا۔ غرض کہ ہر ہر محاذ پر علما نے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت و صیانت کا کام انجام دیا اور انھیں کے شانہ بہ شانہ شعراے اسلام نے بھی عقیدۂ ختم نبوت کو اپنی فکر و نظر کا مرکز و محور بنایا۔ اردو نعت میں کافیؔ، محسنؔ ، رضاؔ،امیرؔ مینائی،اکبرؔ وارثی، ظفرؔ علی خاں، مظہرؔ، نصیرؔ، حسنؔ، نظرؔ، اخترؔ الحامدی، ماہرؔ القادری، حفیظ تائبؔ، مظفرؔ وارثی، بشیر حسین ناظمؔ، راجا رشید محمودؔ وغیرہم نے جو روشن نقوش مرتب کیے ہیں ، وہ مثالی حیثیت کے حامل ہیں ۔ان شعرا کے ہاں عقیدۂ ختم نبوت کا بھرپور نظارا ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ علاوہ ان حضرات کے اردو کے جدید شعراے نعت کے ہاں بھی عقیدۂ ختم نبوت کا گہرا رچاؤ پایا جاتا ہے۔ اردو نعت کے عصری منظر نامے پر بھی جب ہم طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں تو بیشتر شعرا کے یہاں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت اور اُن کے اسوۂ حسنہ پر عمل کی تلقین کے ساتھ ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کا رنگارنگ اندازجلوہ گرنظر آتا ہے۔ اس مضمون میں بلاتبصرہ مختلف نعت گو شعراے کرام کےایسے منتخب اشعار پیش کیے
جارہے ہیں ،جن میں عقیدۂ ختم نبوت کا بیان کیا گیا ہے :
قلی قطب شاہ معانی ؔ:
تج مکھ اجت کی جوت تھے عالم وپین ہارا ہوا
تج دین تھے اسلام لے موہن جگت سارا ہوا
یک لک اسی پیغمبراںاپجے جگت میانے ولے
تج پر ہے نبوت ختم سب تھے تو ہی پیا را ہوا
----
ملاوجہیؔ:
اسی ہور ایک لاک پیغمبر آئے
ولے مرتبا کوئی تیرا نہ پائے
چھپا نور سب کا ترے نور انگے
کہ جیوں تارے چھپتے اہے سور انگے
----
نصرتیؔ :
رہے نامور سید المرسلین
کہ آخر ہے وے شافع المذنبیں
نول رُکھ پہ خلقت کے اے دل تو ریج
وہی پھل ہے آخر جو اول ہے بیج
----
غواصیؔ:
تو طہٰ تو یٰٓس تو ابطحی
تو امی تو مکی تو مرسل سبھی
توں اول توں آخر توں ہی ہے امیر
توں ظاہر توں باطن نبی بے نظیر
----
میر حسنؔ :
کیا حق نے نبیوں کا سردار اسے
بنایا نبوت کا حق دار اسے
نبوت جو کی اس پہ حق نے تمام
لکھا اشرف الناس خیر الانام
----
کافیؔ مرادآبادی:
خاتم الانبیاء ہوئے پیدا
مجتبیٰ مصطفیٰ ہوئے پیدا
٭٭٭
شبِ میلادِ ختم المرسلیں ہے نور کے جلوے
کنارے شرق سے مغرب تلک گھر گھر ہوئے پیدا
٭٭٭
شبِ ولادتِ ختم پیغمبراں ہے آج
شبِ ولادتِ سردارِ سرورا ہے آج
٭٭٭
وہ صاحبِ لولاک نبی ختم رسل کی
ہےنوبت و شہرت ورفعنا لک ذکرک
٭٭٭
خاص محبوبِ خدا ختم رسالت پہ سلام
عین رحمت شافعِ روزِ قیامت پہ سلام
٭٭٭
سیدسادات و فخرِ انبیا ختم رسل
سرورِ کونین و سلطانِ رسالت السلام
٭٭٭
سزاوارِ خطابِ رحمۃ للعالمیں ہو تم
بانگشتِ شہادت خاتم ختم رسولاں ہو
----
داغؔ دہلوی:
تو جو اﷲ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یانبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
اے شہنشاہِ رسل فخرِ رسل ختمِ رسل
خوب سے خوب خوش اسلوب ہوا خوب ہوا
----
امام احمد رضا ؔبریلوی :
نہ رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقی
چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا
٭٭٭
بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی
٭٭٭
فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
٭٭٭
آتے رہے انبیا کما قیل لہم
والخاتم حقکم کہ ختم ہوئے تم
یعنی جو ہوا دفترِ تنزیل تما
آخر میں ہوئی مہرکہ اکملت لکم
----
ڈاکٹر اقبالؔ :
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی یاسیں وہی طٰہٰ وہی قرآں وہی فرقاں
----
حسنؔ رضا بریلوی :
تمام ہوگئی میلادِ انبیاکی خوشی
ہمیشہ اب تیری باری ہے بارہویں تاریخ
٭٭٭
اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطع
تو نے ہی اسے مطلع انوار بنایا
٭٭٭
تھی جو اس ذات سے تکمیل فرامیں منظور
رکھی خاتم کے لیے مُہر نبوت محفوظ
٭٭٭
آپ ہیں ختم رُسل ختم رسالت مہر ہے
آپ آئینہ ہیں وہ تصویرِ پشت آئینہ
گر رسالت کی گواہی چاہتے ختم رسل
بول اُٹھتا طوطیِ تصویر پشت آئینہ
----
جمیلؔ قادری بریلوی:
وہ ختم الانبیاء تشریف فرما ہونے والے ہیں
نبی ہر ایک پہلے سے سناتا یہ خبر آیا
٭٭٭
نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی
وہ ہیں شاہِ رسل ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں
لگا کر پشت پر مہرِ نبوت حق تعالیٰ نے
انھیں آخر میں بھیجا خاتمیت اس کو کہتے ہیں
٭٭٭
نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے بعد اُن کے نبی کوئی
ہوا ظاہر یہ ختم الانبیاء کی مہرِ انور سے
٭٭٭
تمامی انبیا آئے مبشِّر
خبر اول تھی اس مبتدا کی
نہ ہوگا بعد اُن کے پیغمبر
بتاتی ہے مہرِ نبوت نبی کی
----
مفتی اعظم ہندنوریؔ بریلوی:
تم ہو فتحِ بابِ نبوت ، تم سے ختم دورِ رسالت
ان کی پچھلی فضیلت والے صلی اللہ علیک وسلم
٭٭٭
تمہارے بعد پیدا ہونبی کوئی نہیں ممکن
نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیاء تم ہو
----
صفیؔ لکھنوی:
ختم ہو جاتے جو حسن و عشق کے ناز و ادا
شاعری بھی ختم ہو جاتی نبوت کی طرح
----
نیاز ؔفتح پوری:
نبوت ختم ہے اُس پر یہ اپنا دین و ایماں ہے
وہ ہے مثل آپ ہی اپنا یہ مرکوزِ دل وجاں ہے
محمد سا اگر دنیا میں کوئی اور انساں ہے
تو میں کہہ دوں گا ہمتاے خدا ہونا بھی آساں ہے
٭٭٭
گر انساں ہمسرِ شانِ رحیمی ہونہیں سکتا
تو کوئی رحمۃ للعالمیں بھی ہونہیں سکتا
----
احسان دانشؔ:
اب نہ اتریں گے صحیفے اب نہ آئیں گے رسول
لے کے قرآں آخری پیغامبر پیدا ہوئے
----
مفتی احمد یار خاں سالکؔ نعیمی:
باغِ رسالت کی ہیں جزا اور بہارِ آخری
مبدا جو اس گلشن کے تھے وہ منتہیٰ یہی تو ہیں
٭٭٭
سب اولین و آخریں تارے ہیں تم مہرِ مبیں
یہ جگمگائے رات بھر چمکے جو تم کوئی نہیں
----
پیر نصیرالدین نصیرؔ:
جسم میں جب تک جان رہے
یہ تیرا ایمان رہے
سدا رہے یہ تجھ کو یاد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت ہے ایمان
ختم نبوت دین کی جان
یہ اِسلام کی ہے بنیاد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
اِس سے کرے گا جو اِنکار
وہ اِسلام کا ہے غدار
دین ہوا اُس کا برباد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
بات یہ ہے بالکل ظاہر
کہیں گے ہم اُس کو کافر
جو بھی کرے منسوخ جہاد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
یہی ہے مومن کی پہچان
کرتا ہے حق کا اعلان
سہہ لیتا ہے ہر اُفتاد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
حق منوا کر چھوڑیں گے
باطل کا منہ توڑیں گے
عزم ہمارا ہے فولاد
ختم نبوت زندہ باد
ختم نبوت زندہ باد
----
عتیق احمد عتیقؔ:
آپ اولین و آخریں نورِ خداے پاک ہیں
مختص بنام ِ مصطفیٰ صلوا علیہ وآلہ
----
صابرؔ گوالیاری:
دین حق کو آپ نے تکمیل پر پہنچادیا
آخری پیغامِ حق ٹھہری نبوت آپ کی
----
حزیںؔ صدیقی:
ابتدا آپ سے انتہا آ پ سے
دونوں عالم کا ہے سلسلہ آپ سے
----
اعظمؔ چشتی:
ہوئی تھی آپ ہی سے ابتدا امکانِ عالم کی
ہیں سب کی انتہا بن کر محمد مصطفیٰ آئے
----
سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی:
وہ ہی حریمِ بزمِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
وہ ہی نشانِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم
٭٭٭
بعثت پہ تیری ختم نبوت کا سلسلہ
پھر کیوں نہ مہرِ ختمِ نبوت کہوں تجھے
----
سید محمد اشرفؔ برکاتی :
لوحِ ازل پہ اولیں ، بزمِ جہاں میں آخری
اسم جسے لکھا گیا ، کون ہے ؟ ہاں! تم ہی تو ہو
----
مفتی اختر ؔرضا بریلوی:
کرنا تھا خدا کو ہم پر یہ آشکارا
آخری نبی ہے اس کو سب سے پیارا
کوئی بھی نبی ہو پچھلی امتوں کا
تم پہ سب کو سبقت یارسول اللہ
٭٭٭
حسنِ اول کی نمودِ اولیں
بزمِ آخر کا اجالا آپ ہیں
٭٭٭
فاتح و خاتمِ پیامبری
گلشنِ دہر کی بہار سلام
----
قمرالزماںقمرؔ اعظمی:
وہ نقشِ اولینِ کلکِ قدرت
نبوت اور رسالت کے وہ خاتم
----
قمرؔ یزدانی:
قمرؔ ! اختتامِ نبوت ہے اُن پر
نبی خاتم الانبیاء بن کے آئے
٭٭٭
رونق فروزِ بزمِ رسالت ترا وجود
اور تاجِ اختتامِ نبوت ہے تیرے سر
٭٭٭
تمہی تو مقتداے اولیں ہو یاحبیب اللہ!
تمہی تو پیشواے آخریں ہو یا حبیب اللہ!
٭٭٭
بالیقیں ہیں وہ انبیا کے امام
خاتمِ مرسلاں محمد (ﷺ)ہیں
٭٭٭
ناسخِ ادیاں رسالت ہے تمہاری واہ واہ
قاطعِ باطل شریعت ہے تمہاری واہ واہ
٭٭٭
مینارِ نور ،حدِّ یقیں کا ہیں بالیقیں
راہِ وفا کی آخری منزل ہیں مصطفیٰ
٭٭٭
ہیں نبیِّ اولیں محبوبِ رب العالمیں
اور رسولِ آخریں محبوبِ رب العالمیں
محفلِ کون و مکاں میں آپ کی ذاتِ جمیل
اولین و آخریں محبوبِ رب العالمیں
٭٭٭
تمہی تو خاتمِ پیغمبراں ہو یارسول اللہ
تمہی تو صدرِ بزمِ مرسلاں ہو یارسول اللہ
٭٭٭
جہانِ کن فکاں کی ابتدا و انتہا تم ہو
ہوئی ہے جن سے تزئینِ حریمِ دوسَرا تم ہو
ہوئی ہے ختم جس پر آیت رفعنا کی
وہی تو مسند آراے حریمِ کبریا تم ہو
----
محمد علی ظہوریؔ:
حضرت ِ موسیٰ جن کو ترستے رہے ، ابنِ مریم بھی جن کی خبر دے گئے
پہلے آئے ہوئے جن کے پیچھے کھڑے ، آج وہ خاتم الانبیاء آگئے
----
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی:
وہ ختمِ رسل ہیں جسے تسلیم نہیں یہ
وہ راندۂ درگاہِ خداوند وہ مغضوب
٭٭٭
بندھا تھا تارِ نبوت جو اس پہ ختم ہوا
یہ سلسلہ نہ پھر آگے شہِ شہاں سے چلا
٭٭٭
ختم اس پہ ہے نبوت ختم اس پہ ہے رسالت
اس تاج و تخت پر ہے اس کا ہی اب اجارا
٭٭٭
آگے تو سب فسانۂ دجل و فریب ہے
میرے نبی پہ ختم نبوت کی داستاں
٭٭٭
اسی پہ ختم نبوت اسی پہ دیں کامل
ہے تاج و تختِ نبوت اسی کا تا محشر
٭٭٭
اللہ نے اس ذات پہ کی ختم نبوت
اب آئے نبی کوئی نیا ہو نہیں سکتا
٭٭٭
تم ختمِ نبوت صلِّ علیٰ ہم آخرِ امت ہیں واللہ
تا حشر تمہیں تم کیا کہنا تا حشر ہمیں ہم کیا کہیے
٭٭٭
جو آپ کو سمجھے کہ نہیں ختمِ رُسُل آپ
ظالم ہے، وہ کافر ہے، وہ مردود و لعیں ہے
٭٭٭
محمد ابنِ عبداللہ پہ ہاں ختم ہوتا ہے
نبوت کا چلا تھا سلسلہ اوّل جو آدم سے
٭٭٭
قولِ اکملتُ لکم ہے ثبتِ قرآنِ مبیں
ہو گیا اتمامِ دیں بر ذاتِ ختم المرسلیں
٭٭٭
نبوت ختم ہے ان پر رسالت اختتامی ہے
میانِ بندہ و مولا وہ آخر کا پیامی ہے
٭٭٭
نبیوں میں مصطفیٰ ہی وہ فردِ فرید ہے
جس پر کہ ختم وحی خدائے وحید ہے
٭٭٭
ہے ختم کارِ نبوت ان پر رسالت ان پر تمام دیکھیں
ہر ایک پہلو سے ہے مکمل ہزار پہلو یہ کام دیکھیں
٭٭٭
محبوب ہے خدا کا مخدوم ہے جہاں کا
ختم الرسل پہ میرے تکمیلِ دینِ فطرت
٭٭٭
ختم ہے سلسلۂ وحی و نبوت اس پر
دین پائندہ و کامل ہے شریعت محکم
٭٭٭
اے وہ کہ جس پہ منتہی سلسلۂ پیمبری
اے وہ کہ جس نے ختم کی دنیا سے رسمِ آذری
اے وہ امامِ انبیا سب پہ ہے جس کو برتری
اے وہ عطا ہوئی جسے دونوں جہاں کی سروری
خاتم الانبیاء، خاتم المرسلیں منتہی آپ پر کارِ پیغمبری
٭٭٭
نبوت کے منصب کا وہ مختتم
رسالت ہوئی آپ پر منتہی
٭٭٭
رسالت منتہی ان پر نبوت مختتم ان پر
نظرؔ اس میں جسے شک ہو وہ مانگے خیر ایماں کی
٭٭٭
مختتم جس پہ رسالت وہ رسولِ اکرم
منتہی جس پہ نبوت وہ نبی ہے ساقی
٭٭٭
تجھ پر ہی منتہی ہے نبوت کا کارِ طول
اللہ کی طرف سے ہے تو آخری رسول
٭٭٭
اسی پر منتہی کارِ نبوت بھی رسالت بھی
اسی پر دیں ہوا کامل، ہوئی کامل شریعت بھی
٭٭٭
منتہی سلسلۂ کارِ نبوت تجھ پر
تا بہ ہنگامۂ محشر تری آقائی ہے
----
واصف علی واصف ؔ:
سلطانِ انبیا ہے ، تری ذاتِ باصفا
اوّل کہوں یا اوسط و آخر کہوں تجھے
تجھ پر ہوئی ہے ختم ، نبوّت کی داستاں
خاتمِ پیمبروں کا پیمبر کہوں تجھے
----
مظفرؔ وارثی:
حرفِ اول بھی تو حرفِ آخر بھی تو
دیکھتا ہوں مسلسل زمانہ ترا
٭٭٭
تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
روزِ ازل انسان کو خدا نے اک منشور دیا
اور اسی منشورِ ہدایت کی تکمیل ہیں آپ
٭٭٭
لقب ہیں رحمتہ للعالمین ختم الرسل جن کے
اُنھیں لطف خدا کی انتہا کہیے بجا کہیے
٭٭٭
خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی
ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی
لمحہ لمحہ اُن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا
آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا
لہجۂ خدا میں آپ نے صدا دی، لانبی بعدی
تھے اصول جتنے اُن کے ہر سخن میں نظم ہو گئے ہیں
دیں کے سارے رستے آپ تک پہنچ کر ختم ہو گئے ہیں
ذات حرفِ آخر ، بات انفرادی، لانبی بعدی
٭٭٭
بروزِ میثاق
ذات باری نے
عہد نبیوں سے یہ لیا تھا
کریں گے تائید وہ سب اُن کی
جو سب سے آخر میں آنے والے ہیں اِس جہاں میں
وہی جو مصداقِ آرزوئے خلیل بھی ہیں
کلیم جن کے ہوئے منادی
مسیح جن کے بنے مبشر
سلام مبعوثِ آخریں پر
نکالنے والے ظلمتوں سے
وہ حق کے حامل
وہ حق کے مرکز
انھی کو حق نے بنا کے بھیجا
جہاں کی رحمت
انھی پہ دیں ہو گیا مکمل
ہوئی تمام اُن پہ حق کی نعمت
سلام اُس نازشِ زمیں پر
وہ ہیں محمد وہ ہیں احمد
وہی ہی ماحی وہی ہیں حاشر وہی ہیں غالب
وہ ٹھہرے سب انبیا کے خاتم
نبی کوئی اُن کے بعد آئے نہیں یہ ممکن
اٹھائے جائیں گے روزِ محشر وہ سب سے پہلے
ملے گا اذنِ شفاعت اُن کو
وہ دیں گے مایوس امتوں کو
بشارتیں بخشش و عطا کی
انھی کے ہاتھوں میں سب خزانوں کی کنجیاں ہوں گی
پرچمِ حمدِ پاک ہو گا
وہ سب سے پہلے عطا کریں گے
بہشت کےگلشنوں کو رونق
فقیر و محتاج اُن کی امت کے
اُس گھڑی ان کے ساتھ ہوں گے
سلام اُس تاجدارِ دیں پر
٭٭٭
عیاں ہیں دن کی طرح سب صفات ختمِ رسل
کھلی کتاب ہے گویا حیاتِ ختمِ رسل
ہر ارتقا ہے انھی کی نظر سے اذن طلب
تمام حسنِ تمدن زکات ختمِ رسل
ضیا فگن ہے دلیلِ وجود حق بن کر
جریدۂ دوسرا پر ثباتِ ختمِ رسل
جو زندگی کو ہمیشہ حرارتیں دےگا
وہ آفتاب ہے دنیا میں ذاتِ ختمِ رسل
کتابِ زندہ و شرح متین و دینِ مبیں
جہاں میں کم تو نہیں معجزاتِ ختمِ رسل
٭٭٭
محمدِ عربی اعتبارِ لوح و قلم
محمدِ عربی افتخارِ جن و بشر
دارومدار کس پہ ہے فیضِ مدام کا
ختمِ رسل حبیبِ خدا اور کون ہے
تیری عظمت زمانے میں مسلم سیدِ عالم
مؤخر ہو کے بھی تو ہے مقدم سیدِ عالم
قائدِ مرسلیں تمہی ہادئ آخریں تمہی
رحمتِ عالمیں تمہی مصدرِ التفات ہو
٭٭٭
ہستیِ ختمِ رسل ہے زیب دیتا ہے جسے
کشتیِ انسانیت کی ناخدائی کا شرف
----
عباس عدیمؔ قریشی:
میرے نبی کے بعد نبوت کا مدّعی
ملعـونِ دوسرا ہے ، زنیم و پلید ہے
مہدی سمجھ، مسیح سمجھ ،چاہے جو سمجھ
کانا ہمارے ہاں تو مغلّظ رسید ہے
٭٭٭
حرفِ آخر ہے یہ فرماں لانبی بعدی
قولِ آقا ہے نمایاں لا نبی بعدی
اپنا ایماں ہے زبس ختمِ نبوت پہ عدیمؔ
میرے آقا کو ہے شایاں لانبی بعدی
----
تنویر پھولؔ:
وہ ختم الانبیا ہیں ، تا قیامت یہ شریعت ہے
نہیں ہے باز دروازہ رسالت یا نبوت کا
رسالت منصب اعلی ، نبوت اس میں ہے شامل
پیمبر اب نہ آئے گا ، یہ ہے مفہوم آیت کا
٭٭٭
افضل الانبیا ! آپ ہی ہیں شہا ! خاتم الانبیا
آپ کے نام پر ہم ہیں دل سے فدا خاتم الانبیا!
بعد اللہ کے آپ کا مرتبہ، آپ صدرالعلیٰ
سب جہانوں میں کوئی نہیں آپ سا خاتم الانبیا !
رب نے پیغام ' اقراکا بھیجا وہیں ، لائے روح الامیں
آپ کے نور سے ہے منور حرا ، خاتم الانبیا !
سنگ برسائے طائف میں بدبختوں نے ، خوں سے جوتے بھرے
آپ نے پھر بھی ان کا نہ چاہا برا ، خاتم الانبیا !
آپ ہی کو سراجامنیرا ' کہا رب نے قرآن میں
آپ شمس الضحیٰ ، آپ بدرالدجیٰ خاتم الانبیا !
مہرباں مہرباں ، راحت قلب و جاں، مونس بے کساں
آپ رحمت لقب اور عطا ہی عطا، خاتم الانبیا !
پھول روضے پہ کہتا ہے رو رو کے اب ہو کرم کی نظر
دین و دنیا میں ہے آپ کا آسرا، خاتم الانبیا !
٭٭٭
عزیزالدین خاکیؔ:
خلق میں چرچا ہوا ختم نبوت زندہ باد
سارے عالم نے کہا ختم نبوت زندہ باد
آپ کو اللہ نے بخشا ہے ایسا مرتبہ
ہیں امام الانبیاء ختم نبوت زندہ باد
----
سلمان رضا فریدیؔ :
ہے بلندی پہ سدا، ختمِ نبوت کا عَلَم
نہ جھکےگا نہ جھکا، ختمِ نبوت کا عَلَم
زیر کرپائیں گے کیا اس کو زمانے والے
رب نے ہے اونچا کیا، ختم نبوت کا عَلَم
----
مشاہد رضا عبیدؔالقادری :
مر کر بھی نہ پاؤگے کبھی چور در اس کا
آقا کی مرے ختمِ نُبوت زَمَنی ہے
----
فہیم بسمل ؔ:
رب واحد کا دینے پتا آئے ہیں
بن کے ہر بے نوا کی نوا آئے ہیں
مصطفیٰ ! خاتم الانبیا ء آئے ہیں
لے کے آئی خبر کیف پرور ہوا
ہو مبارک حبیبِ خدا آگئے
----
انس نواز رحیمیؔ:
ناز کیوں کر نہ کریں آپ سے نسبت والے
لوگ کہتے ہیں ہمیں ختم نبوت والے
----
مرزاخان ارشدؔ:
ہم ختمِ نبوت کا جو اظہار کریں گے
گر جرم عقیدت ہے تو ہر بار کریں گے
----
محمد آصفؔ قادری:
خدا نے تاج ہے جن کو دیا ختم نبوت کا
وہی ہیں دیں وہی ایماں دُرود ان پر سلام ان پر
----
عبدالمجید محامدؔ مصباحی:
تاج دارِ نبوت سدا آپ ہیں
بابِ ختم نبوت سدا آپ ہیں
----
ابرار حسین نیرؔ:
اسلام کی ہے شرط ، یہ جزو یقین ہے
ختم الرسل کی ختم نبوت کا اعتراف
----
غلام مجتبیٰ ہاشمیؔ:
شریعت ہو ، طریقت ہو، نبوت ہو ، رسالت ہو
ہوا آغاز تم سے ہی ، سبھی کی انتہا تم ہو
یہی فرماں ہے رب کا اور یہی ایمان ہے میرا
’’نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیاء تم ہو‘‘
----
شجاعت علی راہیؔ:
سب انبیا کا عکس جھلکتا ہے آپ میں
سب انبیا کی شان ہیں معراج ہیں
ہے ختم آپ ہی پہ نبوت کا سلسلہ
موسیٰ کے اور مسیح کے سرتاج آپ ہیں
----
محمد عارفؔ قادری:
ہیں وہی ختم الرسل ان پر نبوت ختم ہے
بعدِ رب ، سرکار پر ہر افضلیت ختم ہے
جاں لٹادیں گے اے عارفؔ ہم نبی کے نام پر
اس سعادت پر یقیناً ہر سعادت ختم ہے
----
سید حبدار قائمؔ:
آخری آقا ہیں ، عقیدہ رکھ
حشر تک دل کا یہ وظیفہ رکھ
----
سید فاضل میسوری :
کہے خاتمیتِ مصطفےٰ مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کسی نبی نے نہیں کہا مرے بعد کوئی نبی نہیں
چلے لاکھ کذب کا سلسلہ یہ اصول رد نہیں ہو سکا
جو بیانیہ ہے حدیث کا مرے بعد کوئی نبی نہیں
ہے خدائے پاک کا فیصلہ نہیں اس میں کوئی بھی شائبہ
کہ مرے رسول نے کہہ دیا مرے بعد کوئی نبی نہیں
تھے غلام جتنے حضور کے وہ یقین والے ضرور تھے
کہ لبِ حضور سے تھا سنا مرے بعد کوئی نبی نہیں
یہ کتابِ حق سے عیاں ہوا کہ ضروری جزو ہے دین کا
جو نبی کا قول ہے برملا مرے بعد کوئی نبی نہیں
----
شمس تبریز انجمؔ:
نائبِ ذاتِ رب العلیٰ آگئے
مالکِ کل ، شہِ انبیا آگئے
اب نہ ہوگا کوئی بھی نبی دوسرا
مصطفیٰ خاتم الانبیاء آگئے
----
طفیل احمد مصباحی:
مظہرِ ذاتِ رب العلیٰ آپ ہیں
مالکِ کل ، حبیبِ خدا آپ ہیں
نصِّ قرآں سے ثابت ہے یہ مسئلہ
مصطفیٰ ، خاتم الانبیاء آپ ہیں
----
محمد اویسؔ رضوی صدیقی:
اے سراپا نور ، اے دل نشین و مہ جبیں
چہر ہ ہے والشمس اور واللیل زلفِ عنبریں
آپ سب سے افضل و اعلیٰ خدا کے بعد ہیں
اے شہِ دیں ، رحمتِ کونین ، ختم المرسلیں
----
محمد حسین مشاہدؔرضوی:
خدا کی حمد کا مطلع ہے مصطفیٰ کی ذات
تمام نبیوں کا مقطع ہے مصطفیٰ کی ذات
خدا گواہ ، رسالت کی نظم کا لاریب
مشاہدؔ آخری مصرع ہےمصطفیٰ کی ذات
٭٭٭
مشعلیں ادیانِ سابق کی سبھی گل ہوگئیں
لے کر آئے مصطفیٰ ختم نبوت کا چراغ
٭٭٭
اور کوئی نہیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں بالیقیں خاتم الانبیاء
آپ ہیں آخری آخری آخری
سید المرسلیں خاتم الانبیاء
آپ کی خاتمیّت پہ شاہد ہے خود
ہاں کتابِ مبیں خاتم الانبیاء
میرا ختمِ نبوت پہ ایمان ہے
اے شہنشاہِ دیں خاتم الانبیاء
جان و دل اِس عقیدے پہ واریں گے ہم
اولیں آخریں خاتم الانبیاء

عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے سوشل میڈیا کے مختلف گروپس اور فورمز پر متعددطرحی و غیر طرحی نعتیہ مشاعرے مسلسل ہورہے ہیں اور اس موضوع پر شعرا حضرات پیہم طبع آزمائی بھی کررہے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں ختم نبوت پر مبنی اردو نعتیہ شاعری کے ذخیرے سے اس اعتراف کے ساتھ منتخب اشعار خوانِ مطالعہ پر سجانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ آپ حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے یا اپنے پسندیدہ شعراے کرام کے ختم نبوت پر منحصر اشعار پیش کریں ۔

محمد حسین مشاہدرضوی ، مالیگاؤں

https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2125692104236632/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یوم تحفظ ختم نبوت ❶
7 ستمبر 1974 عِـیسوی