Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمۃ
*مواعظ کی معنویت و سیاحت کے اثرات*
{عرسِ مخدوم سمناں کی مناسبت سے خراجِ عقیدت}
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اشاعتِ دین اور تبلیغِ اسلام میں سیاحت کی بڑی اہمیت ہے- عہد رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اسلامی وفود دوسرے علاقوں میں بھیجے جاتے- صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے دور افتادہ زمینوں میں صداقت کے پرچم نصب کیے- رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبتوں کی قندیل روشن کی- دلوں کی دُنیا میں اسلام کا سویرا طلوع ہوا-
جس زمیں پر اہلِ حق کے قدم پہنچے؛ کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوئیں؛ ایمان بس گیا- سیاحت و مسافرت کے نتیجے میں وادیاں نورِ ایمان سے جَل تھل ہو گئیں- تاریخ اسلامی کی جتنی بڑی ہستیاں گزریں؛ اولیاے کرام کے کارواں گزرے؛ سیاحت و مسافرت کے پاکیزہ نقوش ان کی حیاتِ مبارکہ میں آویزاں نظر آتے ہیں- غوث اعظم جیلان سے بغداد مقدس پہنچے- داتا گنج بخش ہجویر سے پنجاب پہنچے- خواجہ غریب نواز سجز سے ہند پہنچے- محبوب الٰہی نے سیاحت کی- ان کے خلفا و تلامذہ نے سیاحت کی- کوئی روم سے آئے دکن پہنچے؛ کوئی شیراز و سجستان سے آئے اور ہند میں پھیلتے گئے؛ اشاعت دین کے کارواں وادیوں میں فروکش ہوئے-
سلسلۂ چشتیہ کے فرد فرید، سیادت کے جمال سے آراستہ و پیراستہ؛ حکومت و امارت اور تاج و تخت کے وارث حضور مخدوم سمناں سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ اقدس کا طویل عرصہ سیر و سیاحت میں گزرا-
*منزل بہ منزل:*
"لطائف اشرفی" میں جامع ملفوظات مخدوم پاک؛ حضرت نظام یمنی نے مخدوم پاک کے اسفار کی بابت کئی روایات ذکر کیں- مواعظِ حسنہ اور اسرار و معارف کی مجالس کا تذکرہ فرمایا- اشاعتِ دین اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کی روشنی میں ہونے والے وعظ و بیان کی مختلف نشستوں کے احوال درج کیے-
*مواعظ کی رونقیں:*
مخدوم پاک کے مواعظ و ارشادات سے دل کی دُنیا بدل جاتی- قلب نورِ ایمان سے لبریز ہو جاتے- اسرارِ شریعت و رموزِ طریقت لبہاے مبارک سے ادا ہوتے- طالبین علم و آگہی سامع ہوتے- گروہ در گروہ طالب آتے- مجالس سے استفادہ کرتے- یہ مجالس کبھی بغداد مقدس کی جامع مسجد میں آراستہ ہوتیں- کبھی ترکمانستان میں حضرت شیخ احمد بسوی کے جوار میں؛ جہاں ترکی زبان میں وعظ ہوتا- کبھی نواحِ فارس میں سجتیں اور کبھی دیگر بلاد و امصار میں-
مخدوم پاک حرم شریف مکہ معظمہ میں تھے؛ پیر حرم حضرت شیخ نجم الدین کے اصرار پر عربی زبان میں وعظ فرمایا- اہلِ مجلس نے بصد ذوق سُنا اور عرفان کی منزلیں طے کیں-
مخدوم پاک فرماتے ہیں: "امر معروف اور وعظ کے لیے صوفی کو نہایت نرم زبانی اختیار کرنا چاہیے......نصیحت نرمی سے کی جائے تو اس کے با اثر ہونے کی امید ہے-" (لطائف اشرفی، حصہ دوم، ص٢٣٤-٢٣٥)
اس اقتباس میں اصلاح کے طرزِ عمل کی ترغیب ہے؛ یعنی نصیحت نرم انداز میں کرنا مقبول ہوتا ہے اور بات دل میں اُترتی ہے-
امامت و قیادت اور شیخ طریقت جیسے مبارک منصب پر آج جہلا فائز ہیں؛ الا ماشاءاللہ... جب کہ مخدوم پاک کے نزدیک "امام وہ ہے جو ہدایت یافتہ ہو اور مریدین وصول مقصود کے لیے اس کی اقتدا کریں-"(ایضاً ص٢٣٧) ... یعنی شیخ یا قائد کی قیادت جبھی اطمینان بخش ہو گی جب کہ وہ علم دین و عرفان سے آراستہ ہو؛ تربیت یافتہ ہو، ایمان و عقیدے کی پاکیزگی سے مرصع ہو- پابند شریعت ہو-
مخدوم پاک بد عقیدگی کے مضر اثرات سے بھی باخبر کرتے ہیں؛ آپ کے نزدیک صحتِ عقیدہ درستیِ ایمان کے لیے لازمی ہے؛ اسی کی طرف اعلیٰ حضرت نے بھی اپنے عہد میں رہنمائی کی اور مخدومی مشن کی یاد تازہ کر دی- مخدوم پاک فرماتے ہیں: "باطل پر وہ ہے جو طریق نبوی کے علم سے منکر ہے اور حق پر وہ ہے جو اللہ و رسول پر ایمان لائے؛ اور ان کے امر و نہی پر غمگین نہ ہو-" (ایضاً ص٢٣٨)....
اسی مضمون میں آپ نے اس طبقے کی بھی خبر لی ہے؛ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابۂ کرام کی بے ادبی کی جرات کرتے ہیں- آپ ارشاد فرماتے ہیں:
"اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت ابوبکر سب صحابہ سے افضل و اکمل تھے-" (ایضاً)
آپ معرکۂ حق و باطل میں فاروقی تیور رکھتے تھے اور اس شعر کے مصداق تھے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
عقائد کے باب میں امام غزالی کی ایک کتاب کا بارگاہِ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں مقبول ہونا بھی آپ نے بیان فرمایا-
مخدوم پاک نے شریعت سے جدا راہ تراشنے والوں کی خبر لی؛ طریقت کے نام پر شرعی احکام سے فرار سخت محرومی ہے- بے شرع پیروں کے نظریات کی تردید میں فرماتے ہیں: "شریعت، طریقت اور حقیقت میں اتحاد ہے-"(ایضاً ص١٢٦)... یعنی بنا شریعت کے منزل نہیں مل سکتی، رہِ شریعت و طریقت اور حقیقت میں گہرا تعلق ہے، باہم مربوط ہیں-
مخدوم پاک نے کثیر اسفار کیے- حجاز مقدس گئے؛ بلادِ اسلامیہ کی
*مواعظ کی معنویت و سیاحت کے اثرات*
{عرسِ مخدوم سمناں کی مناسبت سے خراجِ عقیدت}
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اشاعتِ دین اور تبلیغِ اسلام میں سیاحت کی بڑی اہمیت ہے- عہد رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اسلامی وفود دوسرے علاقوں میں بھیجے جاتے- صحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے دور افتادہ زمینوں میں صداقت کے پرچم نصب کیے- رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبتوں کی قندیل روشن کی- دلوں کی دُنیا میں اسلام کا سویرا طلوع ہوا-
جس زمیں پر اہلِ حق کے قدم پہنچے؛ کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہوئیں؛ ایمان بس گیا- سیاحت و مسافرت کے نتیجے میں وادیاں نورِ ایمان سے جَل تھل ہو گئیں- تاریخ اسلامی کی جتنی بڑی ہستیاں گزریں؛ اولیاے کرام کے کارواں گزرے؛ سیاحت و مسافرت کے پاکیزہ نقوش ان کی حیاتِ مبارکہ میں آویزاں نظر آتے ہیں- غوث اعظم جیلان سے بغداد مقدس پہنچے- داتا گنج بخش ہجویر سے پنجاب پہنچے- خواجہ غریب نواز سجز سے ہند پہنچے- محبوب الٰہی نے سیاحت کی- ان کے خلفا و تلامذہ نے سیاحت کی- کوئی روم سے آئے دکن پہنچے؛ کوئی شیراز و سجستان سے آئے اور ہند میں پھیلتے گئے؛ اشاعت دین کے کارواں وادیوں میں فروکش ہوئے-
سلسلۂ چشتیہ کے فرد فرید، سیادت کے جمال سے آراستہ و پیراستہ؛ حکومت و امارت اور تاج و تخت کے وارث حضور مخدوم سمناں سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ اقدس کا طویل عرصہ سیر و سیاحت میں گزرا-
*منزل بہ منزل:*
"لطائف اشرفی" میں جامع ملفوظات مخدوم پاک؛ حضرت نظام یمنی نے مخدوم پاک کے اسفار کی بابت کئی روایات ذکر کیں- مواعظِ حسنہ اور اسرار و معارف کی مجالس کا تذکرہ فرمایا- اشاعتِ دین اور شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات کی روشنی میں ہونے والے وعظ و بیان کی مختلف نشستوں کے احوال درج کیے-
*مواعظ کی رونقیں:*
مخدوم پاک کے مواعظ و ارشادات سے دل کی دُنیا بدل جاتی- قلب نورِ ایمان سے لبریز ہو جاتے- اسرارِ شریعت و رموزِ طریقت لبہاے مبارک سے ادا ہوتے- طالبین علم و آگہی سامع ہوتے- گروہ در گروہ طالب آتے- مجالس سے استفادہ کرتے- یہ مجالس کبھی بغداد مقدس کی جامع مسجد میں آراستہ ہوتیں- کبھی ترکمانستان میں حضرت شیخ احمد بسوی کے جوار میں؛ جہاں ترکی زبان میں وعظ ہوتا- کبھی نواحِ فارس میں سجتیں اور کبھی دیگر بلاد و امصار میں-
مخدوم پاک حرم شریف مکہ معظمہ میں تھے؛ پیر حرم حضرت شیخ نجم الدین کے اصرار پر عربی زبان میں وعظ فرمایا- اہلِ مجلس نے بصد ذوق سُنا اور عرفان کی منزلیں طے کیں-
مخدوم پاک فرماتے ہیں: "امر معروف اور وعظ کے لیے صوفی کو نہایت نرم زبانی اختیار کرنا چاہیے......نصیحت نرمی سے کی جائے تو اس کے با اثر ہونے کی امید ہے-" (لطائف اشرفی، حصہ دوم، ص٢٣٤-٢٣٥)
اس اقتباس میں اصلاح کے طرزِ عمل کی ترغیب ہے؛ یعنی نصیحت نرم انداز میں کرنا مقبول ہوتا ہے اور بات دل میں اُترتی ہے-
امامت و قیادت اور شیخ طریقت جیسے مبارک منصب پر آج جہلا فائز ہیں؛ الا ماشاءاللہ... جب کہ مخدوم پاک کے نزدیک "امام وہ ہے جو ہدایت یافتہ ہو اور مریدین وصول مقصود کے لیے اس کی اقتدا کریں-"(ایضاً ص٢٣٧) ... یعنی شیخ یا قائد کی قیادت جبھی اطمینان بخش ہو گی جب کہ وہ علم دین و عرفان سے آراستہ ہو؛ تربیت یافتہ ہو، ایمان و عقیدے کی پاکیزگی سے مرصع ہو- پابند شریعت ہو-
مخدوم پاک بد عقیدگی کے مضر اثرات سے بھی باخبر کرتے ہیں؛ آپ کے نزدیک صحتِ عقیدہ درستیِ ایمان کے لیے لازمی ہے؛ اسی کی طرف اعلیٰ حضرت نے بھی اپنے عہد میں رہنمائی کی اور مخدومی مشن کی یاد تازہ کر دی- مخدوم پاک فرماتے ہیں: "باطل پر وہ ہے جو طریق نبوی کے علم سے منکر ہے اور حق پر وہ ہے جو اللہ و رسول پر ایمان لائے؛ اور ان کے امر و نہی پر غمگین نہ ہو-" (ایضاً ص٢٣٨)....
اسی مضمون میں آپ نے اس طبقے کی بھی خبر لی ہے؛ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابۂ کرام کی بے ادبی کی جرات کرتے ہیں- آپ ارشاد فرماتے ہیں:
"اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت ابوبکر سب صحابہ سے افضل و اکمل تھے-" (ایضاً)
آپ معرکۂ حق و باطل میں فاروقی تیور رکھتے تھے اور اس شعر کے مصداق تھے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
عقائد کے باب میں امام غزالی کی ایک کتاب کا بارگاہِ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں مقبول ہونا بھی آپ نے بیان فرمایا-
مخدوم پاک نے شریعت سے جدا راہ تراشنے والوں کی خبر لی؛ طریقت کے نام پر شرعی احکام سے فرار سخت محرومی ہے- بے شرع پیروں کے نظریات کی تردید میں فرماتے ہیں: "شریعت، طریقت اور حقیقت میں اتحاد ہے-"(ایضاً ص١٢٦)... یعنی بنا شریعت کے منزل نہیں مل سکتی، رہِ شریعت و طریقت اور حقیقت میں گہرا تعلق ہے، باہم مربوط ہیں-
مخدوم پاک نے کثیر اسفار کیے- حجاز مقدس گئے؛ بلادِ اسلامیہ کی
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
سیاحت کی، عراق و ایران کے بلاد و امصار میں مجالس آراستہ کیں، بنگال و ہند کی زمیں کو اپنے مواعظ سے روشنی بخشی- شرک کے اندھیرے دور کیے؛ عقیدہ و عمل کی بزم میں اُجالے برپا کیے- سمناں سے کچھوچھہ مقدسہ تک مخدومی فیض کی جلوہ باریاں ہیں اور حال کا شامیانہ بھی مخدوم پاک کے مبارک ذکر سے نورٌ علیٰ نور ہے-
***
noorimission92@gmail.com
Cell. 9325028586
***
noorimission92@gmail.com
Cell. 9325028586
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سمناں سے ہند تک:* حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی جلوہ باریاں
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/271338524821342/
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلامی تاریخ کے اَوراق ایسے اَن گِنَت واقعات وشخصیات کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں جن سے اشاعتِ دین کے کارواں کو تقویت ملی۔ ایسی لازوال شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخِ اسلامی کے ماتھے کاجھوٗمر ہیں جن کی مساعیِ جمیلہ سے دلوں کی تاریک دنیا میں تاریخی انقلاب آیا۔ دل و دماغ روشن ہوئے اور فکر کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ایسی ہی نادرِ زمن ہستیوں میں سمناں کے تاج دار وارثِ مملکتِ خداداد حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ ہیں۔ آپ سمناں کے تاج ور تھے ہی ساتھ ہی صحیح النسب سادات یعنی خاندانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کانام محمدابراہیم تھاجو باوصف تاج دار بڑے نیک وتہجد گزار تھے۔ دن کے مجاہد وشب کے عابد تھے۔ والدہ ماجدہ خدیجہ بیگم (بنت خواجہ احمد یسوح) ’’صائم الدہر‘‘ اور ’’قائم اللیل‘‘ تھیں۔شاہانہ طرزِ زندگی، آسائشوں کے انبار، شوکت و عزت سبھی کچھ ہونے کے باوجود عظیم والدین کی تربیت نے دُنیا میں رہ کر دُنیاداری سے دور رکھا۔ یہی مومن کی شانِ بے نیازی ہوتی ہے کہ اسے تخت وتاج، مال ومنال، شوکت و قوت ومادیت متاثر نہیں کر سکتے۔ مخدوم پاک کے یہاں سب کچھ تھا لیکن وہ تو مردِحق آگاہ تھے؛ اسی لیے جس کے پیچھے سبھی بھاگتے ہیں وہ ان سب کو پاکر بھی متاثر نہ ہوئے اور روحانی عظمتوں کی منازلِ شوق بہ ذوق طے کرتے رہے۔
باضابطہ علومِ دینیہ حاصل کیے۔ عمر کی ساتویں منزل میں ہی قرآن مقدس مع قرأت سبعہ حفظ کر لیا۔ سمناں ونواح کے دینی مراکز سے علمی تشنگی بجھائی۔ معقولات ومنقولات میں مہارتِ تامہ پیدا کی۔ حرفاً حرفاً اور سبقاً سبقاً علم دین سیکھا اور کمال حاصل کیا۔والد ماجد کے وصال کے بعد تاج ور ہوئے لیکن انھیں توروحانی تاج دار بننا تھا،ایک شب خواب دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کہتے ہیں کہ ’’سلطنتِ الٰہی چاہتے ہو تو بادشاہت کو خیر باد کہہ کر رختِ سفر جانبِ ہند باندھ لو۔‘‘ والدہ کو حال سُنایا، اجازتِ سیاحتِ ہند ملی۔ یوں سلطنت کو ٹھکرادیا۔ راہِ خدا میں سیاحت کو گلے لگایا۔ یہاں سے روحانی مدارج میں مسلسل ترقی کا مرحلۂ عرفان طے ہونا شروع ہوا۔
سیادت و سلطنت کا یہ امیں جب رُخصت ہونے کو آیا توسمناں سے بارہ ہزار سپاہی الوداع کو ساتھ ہولیے، جنھیں تین منزلوں پرہی رُخصت فرمادیا۔اسباب ساتھ تھے جنھیں آگے جاکر فقرا میں تقسیم فرمادیا۔ سمرقند گئے پھراوچ میں قیام پذیر ہوئے۔ جہاں حضرت سید جلال الدین بخاری جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھتے ہی آپ نے مخدوم پاک سے فرمایا:
’’عرصے کے بعد دماغ کو طالبِ صادق کی خوش بو نصیب ہوئی، مدت کے بعد چمنِ سیادت سے نسیمِ خراماں ہوئی۔ مبارک ہو! بے حد جسور فرزندآیا ہے جلدی کیجیے۔ میرے بھائی ’’علاؤالدین‘‘آپ کے منتظر ہیں، راہ میں توقف نہ کیجیے۔‘‘
اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا، اور آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر سے ہزاروں دل نورِایمان سے روشن ہواُٹھے تھے،آپ عرصہ سے منتظر تھے، انتظار کس کا تھا یہ اس وقت کھلا جب مخدوم پاک آپ کی بارگاہ میں پہنچے اور روحانی امانتوں کے امین ہوئے۔شیخ نے نگاہ ڈالی اور مقاماتِ معرفت کے اس عظیم منصب پر پہنچا دیا جہاں نگاہوں سے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور نظارۂ انوار وعرفان نگاہوں کا محور ٹھہرتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل کی،۱۲؍سال خدمتِ مرشد میں رہے،خرقۂ خلافت اور جہانگیر کا لقب پایا، مرشد نے خود روحانی تربیت کی۔ علامہ مشتاق احمد نظامی لکھتے ہیں:
ایک دن آپ(مخدوم پاک) کمر باندھ رہے تھے۔ مرشد نے پوچھا: ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’خدمتِ خلق کے لیے کمر کس رہا ہوں۔‘‘ مرشد نے فرمایا:’’اگر می بندی محکم بہ بند کہ ہیچ درمیاں نداری۔‘‘(اگر کمر کس رہے ہو تو مضبوطی سے کسو تاکہ پھر کوئی چیز درمیان میں نہ رہے) آپ نے فرمایا:’’آرزوئے نفس از میاں بیروں کشیدم تازندہ۔‘‘(جب تک زندہ ہوں نفس کی آرزوؤں کو دور ہی رکھوں گا)
مرشد کی اجازت سے سیاحت کے اگلے دور کا آغاز کیا۔ دلوں کی صفائی اور ستھرائی فرماتے رہے۔ جون پور گئے، محمد آباد گہنہ گئے، نواحِ اودھ میں بھی دین کی اشاعت کی۔ وہ دور ایسا تھا کہ سحر وجادو کے ذریعے شرک و کفر کو رواج دیا جارہا تھا، ایسے عالم میں زمانی ضرورت کے تحت آپ نے کرامتوں کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھوچھہ مقدس
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/271338524821342/
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلامی تاریخ کے اَوراق ایسے اَن گِنَت واقعات وشخصیات کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں جن سے اشاعتِ دین کے کارواں کو تقویت ملی۔ ایسی لازوال شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخِ اسلامی کے ماتھے کاجھوٗمر ہیں جن کی مساعیِ جمیلہ سے دلوں کی تاریک دنیا میں تاریخی انقلاب آیا۔ دل و دماغ روشن ہوئے اور فکر کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ایسی ہی نادرِ زمن ہستیوں میں سمناں کے تاج دار وارثِ مملکتِ خداداد حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ ہیں۔ آپ سمناں کے تاج ور تھے ہی ساتھ ہی صحیح النسب سادات یعنی خاندانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کانام محمدابراہیم تھاجو باوصف تاج دار بڑے نیک وتہجد گزار تھے۔ دن کے مجاہد وشب کے عابد تھے۔ والدہ ماجدہ خدیجہ بیگم (بنت خواجہ احمد یسوح) ’’صائم الدہر‘‘ اور ’’قائم اللیل‘‘ تھیں۔شاہانہ طرزِ زندگی، آسائشوں کے انبار، شوکت و عزت سبھی کچھ ہونے کے باوجود عظیم والدین کی تربیت نے دُنیا میں رہ کر دُنیاداری سے دور رکھا۔ یہی مومن کی شانِ بے نیازی ہوتی ہے کہ اسے تخت وتاج، مال ومنال، شوکت و قوت ومادیت متاثر نہیں کر سکتے۔ مخدوم پاک کے یہاں سب کچھ تھا لیکن وہ تو مردِحق آگاہ تھے؛ اسی لیے جس کے پیچھے سبھی بھاگتے ہیں وہ ان سب کو پاکر بھی متاثر نہ ہوئے اور روحانی عظمتوں کی منازلِ شوق بہ ذوق طے کرتے رہے۔
باضابطہ علومِ دینیہ حاصل کیے۔ عمر کی ساتویں منزل میں ہی قرآن مقدس مع قرأت سبعہ حفظ کر لیا۔ سمناں ونواح کے دینی مراکز سے علمی تشنگی بجھائی۔ معقولات ومنقولات میں مہارتِ تامہ پیدا کی۔ حرفاً حرفاً اور سبقاً سبقاً علم دین سیکھا اور کمال حاصل کیا۔والد ماجد کے وصال کے بعد تاج ور ہوئے لیکن انھیں توروحانی تاج دار بننا تھا،ایک شب خواب دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کہتے ہیں کہ ’’سلطنتِ الٰہی چاہتے ہو تو بادشاہت کو خیر باد کہہ کر رختِ سفر جانبِ ہند باندھ لو۔‘‘ والدہ کو حال سُنایا، اجازتِ سیاحتِ ہند ملی۔ یوں سلطنت کو ٹھکرادیا۔ راہِ خدا میں سیاحت کو گلے لگایا۔ یہاں سے روحانی مدارج میں مسلسل ترقی کا مرحلۂ عرفان طے ہونا شروع ہوا۔
سیادت و سلطنت کا یہ امیں جب رُخصت ہونے کو آیا توسمناں سے بارہ ہزار سپاہی الوداع کو ساتھ ہولیے، جنھیں تین منزلوں پرہی رُخصت فرمادیا۔اسباب ساتھ تھے جنھیں آگے جاکر فقرا میں تقسیم فرمادیا۔ سمرقند گئے پھراوچ میں قیام پذیر ہوئے۔ جہاں حضرت سید جلال الدین بخاری جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھتے ہی آپ نے مخدوم پاک سے فرمایا:
’’عرصے کے بعد دماغ کو طالبِ صادق کی خوش بو نصیب ہوئی، مدت کے بعد چمنِ سیادت سے نسیمِ خراماں ہوئی۔ مبارک ہو! بے حد جسور فرزندآیا ہے جلدی کیجیے۔ میرے بھائی ’’علاؤالدین‘‘آپ کے منتظر ہیں، راہ میں توقف نہ کیجیے۔‘‘
اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا، اور آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر سے ہزاروں دل نورِایمان سے روشن ہواُٹھے تھے،آپ عرصہ سے منتظر تھے، انتظار کس کا تھا یہ اس وقت کھلا جب مخدوم پاک آپ کی بارگاہ میں پہنچے اور روحانی امانتوں کے امین ہوئے۔شیخ نے نگاہ ڈالی اور مقاماتِ معرفت کے اس عظیم منصب پر پہنچا دیا جہاں نگاہوں سے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور نظارۂ انوار وعرفان نگاہوں کا محور ٹھہرتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل کی،۱۲؍سال خدمتِ مرشد میں رہے،خرقۂ خلافت اور جہانگیر کا لقب پایا، مرشد نے خود روحانی تربیت کی۔ علامہ مشتاق احمد نظامی لکھتے ہیں:
ایک دن آپ(مخدوم پاک) کمر باندھ رہے تھے۔ مرشد نے پوچھا: ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’خدمتِ خلق کے لیے کمر کس رہا ہوں۔‘‘ مرشد نے فرمایا:’’اگر می بندی محکم بہ بند کہ ہیچ درمیاں نداری۔‘‘(اگر کمر کس رہے ہو تو مضبوطی سے کسو تاکہ پھر کوئی چیز درمیان میں نہ رہے) آپ نے فرمایا:’’آرزوئے نفس از میاں بیروں کشیدم تازندہ۔‘‘(جب تک زندہ ہوں نفس کی آرزوؤں کو دور ہی رکھوں گا)
مرشد کی اجازت سے سیاحت کے اگلے دور کا آغاز کیا۔ دلوں کی صفائی اور ستھرائی فرماتے رہے۔ جون پور گئے، محمد آباد گہنہ گئے، نواحِ اودھ میں بھی دین کی اشاعت کی۔ وہ دور ایسا تھا کہ سحر وجادو کے ذریعے شرک و کفر کو رواج دیا جارہا تھا، ایسے عالم میں زمانی ضرورت کے تحت آپ نے کرامتوں کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھوچھہ مقدس
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ہ میں آپ نے سکونت اختیار کی۔پھر سیاحت کا دوسرا دور شروع ہوا۔ سیاحت کے ذریعے اسلام کی اشاعت کرنے والوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے اور عزم و حوصلہ دیا ہے، اس سفر میں حرمین، دمشق، نجف اشرف، کربلا، سمنان، ماوراء النہر، ترکستان، قندھار، غزنی، کابل، ملتان، اجودھن،دہلی، اجمیر، دکن،گجرات ہوتے ہوئے کچھوچھہ مقدسہ آئے۔ اس سیاحت میں اکابر اولیائے کرام سے فیض لیا، طالبین راہِ طریقت و معرفت کو فیض دیا،کفر کی وادیوں میں بھٹکنے والے کتنے ہی افراد کو حق آشنا کیا۔
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
*ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا*
*وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے*
***
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
*ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا*
*وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے*
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*📚"مخدوم سمناں کا تاریخی سفر:سمنان سے کچھوچھہ تک"*
*تالیف:* حضرت مولانامفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
(صدرمفتی و شیخ الحدیث
ادارہ شرعیہ اتر پردیش -راۓ بریلی)
*ناشر:* نوری مشن برانچ ناسک مہاراشٹر
*ترسیل کار:* نوری مشن مالیگاوں
ناسک: سر زمینِ ہند پر اشاعتِ دین و فریضۂ تبلیغ کا سہرا اسلافِ کرام و اولیاے اسلام کے سَر سجتا ہے۔ انھیں کی جدوجہد سے شرک کی وادیاں دین کی کرنوں سے روشن ہوئیں۔ جن میں حضرت مخدوم پاک سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات نمایاں ہے۔ آپ نے سمناں کے تاج کو چھوڑ کر دینِ مصطفیٰ ﷺ کی سربلندی کے لیے کچھوچھہ مقدسہ کی سرزمین کو مسکنِ عرفان بنایا۔ آپ کی حیات، خدمات، خاندانی حالات، تحصیلِ علم، سلطنت و ترکِ سلطنت، تزکیہ و روحانیت، سیاحت، مرشد کی نسبت، کچھوچھہ مقدسہ آمد جیسے عناوین پر مفتی محمدکمال الدین اشرفی مصباحی (ادارۂ شرعیہ راے بریلی) نے مختصر و جامع مقالہ بعنوان ’’مخدوم سمناں کا تاریخی سفر: سمناں سے کچھوچھہ تک‘‘ تحریر فرمایا۔ عرسِ مخدومی کی مبارک ساعتوں میں یہ مقالہ بزبانِ ہندی کتابی صورت میں نوری مشن برانچ ناسک سے منظر عام پر ہے۔ مقالہ گرچہ مختصر ہے لیکن جامع و عام فہم ہے۔ جسے ہندی خواں افراد میں بِلاقیمت تقسیم کیا جائے گا۔
ترسیل: نوری مشن برانچ ناسک
4 ستمبر 2021ء
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/270525504902644/
*تالیف:* حضرت مولانامفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
(صدرمفتی و شیخ الحدیث
ادارہ شرعیہ اتر پردیش -راۓ بریلی)
*ناشر:* نوری مشن برانچ ناسک مہاراشٹر
*ترسیل کار:* نوری مشن مالیگاوں
ناسک: سر زمینِ ہند پر اشاعتِ دین و فریضۂ تبلیغ کا سہرا اسلافِ کرام و اولیاے اسلام کے سَر سجتا ہے۔ انھیں کی جدوجہد سے شرک کی وادیاں دین کی کرنوں سے روشن ہوئیں۔ جن میں حضرت مخدوم پاک سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات نمایاں ہے۔ آپ نے سمناں کے تاج کو چھوڑ کر دینِ مصطفیٰ ﷺ کی سربلندی کے لیے کچھوچھہ مقدسہ کی سرزمین کو مسکنِ عرفان بنایا۔ آپ کی حیات، خدمات، خاندانی حالات، تحصیلِ علم، سلطنت و ترکِ سلطنت، تزکیہ و روحانیت، سیاحت، مرشد کی نسبت، کچھوچھہ مقدسہ آمد جیسے عناوین پر مفتی محمدکمال الدین اشرفی مصباحی (ادارۂ شرعیہ راے بریلی) نے مختصر و جامع مقالہ بعنوان ’’مخدوم سمناں کا تاریخی سفر: سمناں سے کچھوچھہ تک‘‘ تحریر فرمایا۔ عرسِ مخدومی کی مبارک ساعتوں میں یہ مقالہ بزبانِ ہندی کتابی صورت میں نوری مشن برانچ ناسک سے منظر عام پر ہے۔ مقالہ گرچہ مختصر ہے لیکن جامع و عام فہم ہے۔ جسے ہندی خواں افراد میں بِلاقیمت تقسیم کیا جائے گا۔
ترسیل: نوری مشن برانچ ناسک
4 ستمبر 2021ء
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/270525504902644/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*’’قادیانی فتنہ‘‘*
اسلام کے خلاف صہیونی سازش
*[7 ستمبر 1974ء کو علماے حق کی کوششوں سے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا... 7 ستمبر "یومِ تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت" کے بطور منایا جاتا ہے-]*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/216201503668378/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
قادیانی تحریک اسلام مخالف قوتوں کی منظم سازش کا عملی نمونہ ہے۔ جس نے عقائد اسلامی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کی جرأت کی۔ اس فرقے اور فتنے سے امتِ مسلمہ کے ہر فرد کا با خبر ہونا ضروری ہے تا کہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان محفوظ رہ سکیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریز کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت و غیرت کا اندازا ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔ متعدد فرقے انگریزوں کی کو ششوں سے وجود پا ئے جن میں ایک نمایاں فرقہ ’’قادیانی‘‘ ہے، جس کے بانی کذاب مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں انگریز کے زیرِ اثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ حالاں کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمت عالم سرور کونین ﷺ آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین۔ اس پر نصِ قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں فروشی کی مثال قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموسِ رسالت مآب ﷺ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یاقادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعیِ نبوت کی سرکوبی کے لیے رہنما اور رہبر ہے ۔ انگریز نے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی و تائید حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔
قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن ۲۴؍ گھنٹے اپنے جھوٹے عقائد کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کو پابند سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت مستحکم ہے؛ اور یہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔
جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سد باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف و تقریر وتحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی و دیگرفرق ہائے باطلہ پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں، اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں؛ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہ نامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں: جزاء اللّٰہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ، المبین ختم النبیین، السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، قہرالدیان علی مرتد بقادیان۔ آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضاخان قادری نے ’’الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی‘‘ تصنیف کی؛ جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہور و ممبئی سے شائع ہوئی۔ اس دور کے دیگر علما ومشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ چشتی (گولڑہ شریف) کا نام بڑا نمایاں ہے۔
عالمی مبلغ اسلام تلمیذِ اعلیٰ حضرت؛ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلادِ عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیف The Mirrior بیرون ممالک بہت مقبول ہوئی؛ اس کا عربی میں "المرآۃ" کے نام سے ترجمہ ہوا، اسی طرح اردو میں ’’مرزائی حقیقت کا اظہار‘‘ تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اُٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سے ١٩٧٤ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا
اسلام کے خلاف صہیونی سازش
*[7 ستمبر 1974ء کو علماے حق کی کوششوں سے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا... 7 ستمبر "یومِ تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت" کے بطور منایا جاتا ہے-]*
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/216201503668378/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
قادیانی تحریک اسلام مخالف قوتوں کی منظم سازش کا عملی نمونہ ہے۔ جس نے عقائد اسلامی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کی جرأت کی۔ اس فرقے اور فتنے سے امتِ مسلمہ کے ہر فرد کا با خبر ہونا ضروری ہے تا کہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان محفوظ رہ سکیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریز کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت و غیرت کا اندازا ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔ متعدد فرقے انگریزوں کی کو ششوں سے وجود پا ئے جن میں ایک نمایاں فرقہ ’’قادیانی‘‘ ہے، جس کے بانی کذاب مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں انگریز کے زیرِ اثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ حالاں کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمت عالم سرور کونین ﷺ آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین۔ اس پر نصِ قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں فروشی کی مثال قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموسِ رسالت مآب ﷺ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یاقادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعیِ نبوت کی سرکوبی کے لیے رہنما اور رہبر ہے ۔ انگریز نے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی و تائید حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔
قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن ۲۴؍ گھنٹے اپنے جھوٹے عقائد کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کو پابند سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت مستحکم ہے؛ اور یہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔
جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سد باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف و تقریر وتحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی و دیگرفرق ہائے باطلہ پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں، اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں؛ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہ نامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں: جزاء اللّٰہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ، المبین ختم النبیین، السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، قہرالدیان علی مرتد بقادیان۔ آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضاخان قادری نے ’’الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی‘‘ تصنیف کی؛ جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہور و ممبئی سے شائع ہوئی۔ اس دور کے دیگر علما ومشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ چشتی (گولڑہ شریف) کا نام بڑا نمایاں ہے۔
عالمی مبلغ اسلام تلمیذِ اعلیٰ حضرت؛ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلادِ عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیف The Mirrior بیرون ممالک بہت مقبول ہوئی؛ اس کا عربی میں "المرآۃ" کے نام سے ترجمہ ہوا، اسی طرح اردو میں ’’مرزائی حقیقت کا اظہار‘‘ تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اُٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سے ١٩٧٤ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا
Facebook
Aa'la Hazrat Research Center, Malegaon
❣️تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد❣️
ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایا
تمہیں ہو مالک مُلکِ خدا خاص
🌹صلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
حضرت شہنشاہ سخن استاد زمن علیہ رحمۃ الرحمن
ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایا
تمہیں ہو مالک مُلکِ خدا خاص
🌹صلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
حضرت شہنشاہ سخن استاد زمن علیہ رحمۃ الرحمن