کثیرہ کے مالک ہوئے ہوں گے حضرت سلطا ن سید اشرف جہانگیر سمنانی قد س سرہ النورانی خود فرماتے تھے کہ میری سلطنت میں میرے خاندان سادات نوربخشیہ سے ستر حافظ قرآن اور قاری فرقان ایک زمانے میں موجود تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے حضرت محبوب یزدانی کی کہ پانچ پشتوں میں سلطان ابن سلطان، سید ابن سید، ولی ابن ولی، حافظ ابن حافظ، قاری ابن قاری اور عالم ابن عالم برابر نسلاً بعد نسلاٍ حضرت تک ہوتے چلے آئے۔ *علمی آثار*: آپ کی چند معروف کتب کے اسماء درج ذیل ہیں: (1) ترجمہ قرآن کریم ( بزبان فارسی)(2)رسالہ مناقب: اصحاب کاملین و مراتب خلفائے راشدین (3) رسالہ غوثیہ (4) بشارۃ الاخوان (5) ارشاد الاخوان(6) فوایدالاشرف (7) اشرف الفوائد (8) رسالہ بحث وحدۃ الوجود (9) تحقیقات عشق (10) مکتوبات اشرفی (11) شرف الانساب (12) مناقب السادات(13) فتاوائے اشرفی (14) دیوان اشرف (14) رسالہ تصوف و اخلاق (بزبان اردو)(15) رسالہ حجۃ الذاکرین (16) بشارۃ المریدین (17) کنزالاسرار (18) لطائف اشرفی(ملفوظات)(19) شرح سکندرنامہ(20) سرالاسرار (21)شرح عوارف المعارف (22) شرح فصول الحکم (23) قواعد العقائد (24) تنبیہ الاخوان(25) رسالہ مصطلحات تصوف(26) تفسیر نور بخشیہ (27) رسالہ در تجویز طعنہ یزید(28) بحرالحقائق (29) نحو اشرفیہ (30) کنزالدقائق(31) ذکراسمائے الہی (32) مرقومات اشرفی(33) بحرالاذکار(34) بشارۃ الذاکرین (35) ربح سامانی (36) رسالہ قبریہ (37) رقعات اشرفی(38) تسخیرکواکب (39) فصول اشرفی (40) شرح ہدایہ (فقہ)(41) حاشیہ بر حواشی مبارک(حوالاجات:معارف سلسلہ اشرفیہ ص11،حیات غوث العالم ص74 تا 77، صحائف اشرفی حصہ اول 115 تا 118،سید اشرف جہانگیر سمنانی علمی دینی اور روحانی خدمات صفحہ 173 تا 206)
مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی صرف عربی و فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کے تشکیلی عہد کے میر کارواں تھے جنہیں کچھ ماہرین لسانیات نے دبستانِ اردو کا سب سے پہلا مصنف و ادیب بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ (جسے ہم نے فہرست کتب میں چودھویں نمبر پر شمار کرایا ہے) اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی ہے جو باضابطہ اردو نثر کی پہلی تصنیف ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو 758ھ مطابق 1308 ء میں تصنیف کیا گیا۔ در اصل یہ قلمی نسخہ جو ایک بزرگ مولانا سید وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے 28 صفحات ہیں۔ پروفیسر سید حامد حسن قادری صاحب نے اپنی تحقیق انیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں قادری صاحب نے اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے کہ : حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی کتب میں ایک کتاب "اخلاق و تصوف بزبان اردو بھی ہے محققین کے مطابق یہی اردو نثر کا پہلا رسالہ ہے اب تک کی تحقیق متفق الراۓ تھی کہ شمالی ہند میں اٹھاریوں صدری عیسوی /بارہویں صدی ہجری سے پہلے تصنیف و تالیف و نثر کا کوئی وجود نہ تھا یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چارسو برس پہلے اردو کی تصانیف کا آغاز ہوا لیکن اب سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہوگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند دکن میں امیرخسرؔو اور سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نظم ونثر کی بنیاد ڈالی۔( داستان تاریخ اردو ص 24)
مذکورہ بالا شواہد سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی قدس سرہٗ النورانی صرف ایک روحانی شخصیت ہی کے مالک نہیں تھے بلکہ علمی وادبی میدان میں بھی منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں اہم کردار اداکیا ہے وہیں علمی وادبی لحاظ سے بھی عظیم خدمات انجام دیں اور تاریخ کا ایک حصہ بن گئے لیکن افسو س کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس عظیم شخصیت پر وہ تحقیقی کام نہ ہوسکا جو ہونا چاہئے تھا اگرچہ مختلف حضرات نے آ پ کی سیرت پر لکھا لیکن صرف کشف و کرامات ہی پر اکتفا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ آپ کو صرف ایک ولی کامل کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ آپ کی شخصیت کا ادبی پہلو پردۂ خفا میں رہ گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشف وکرامات کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کے ادبی و علمی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کی جامع الکمالات شخصیت سے کماحقہ آشنا ہوسکیں
مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی صرف عربی و فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کے تشکیلی عہد کے میر کارواں تھے جنہیں کچھ ماہرین لسانیات نے دبستانِ اردو کا سب سے پہلا مصنف و ادیب بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ (جسے ہم نے فہرست کتب میں چودھویں نمبر پر شمار کرایا ہے) اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی ہے جو باضابطہ اردو نثر کی پہلی تصنیف ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو 758ھ مطابق 1308 ء میں تصنیف کیا گیا۔ در اصل یہ قلمی نسخہ جو ایک بزرگ مولانا سید وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے 28 صفحات ہیں۔ پروفیسر سید حامد حسن قادری صاحب نے اپنی تحقیق انیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں قادری صاحب نے اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے کہ : حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی کتب میں ایک کتاب "اخلاق و تصوف بزبان اردو بھی ہے محققین کے مطابق یہی اردو نثر کا پہلا رسالہ ہے اب تک کی تحقیق متفق الراۓ تھی کہ شمالی ہند میں اٹھاریوں صدری عیسوی /بارہویں صدی ہجری سے پہلے تصنیف و تالیف و نثر کا کوئی وجود نہ تھا یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چارسو برس پہلے اردو کی تصانیف کا آغاز ہوا لیکن اب سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہوگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند دکن میں امیرخسرؔو اور سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نظم ونثر کی بنیاد ڈالی۔( داستان تاریخ اردو ص 24)
مذکورہ بالا شواہد سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی قدس سرہٗ النورانی صرف ایک روحانی شخصیت ہی کے مالک نہیں تھے بلکہ علمی وادبی میدان میں بھی منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں اہم کردار اداکیا ہے وہیں علمی وادبی لحاظ سے بھی عظیم خدمات انجام دیں اور تاریخ کا ایک حصہ بن گئے لیکن افسو س کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس عظیم شخصیت پر وہ تحقیقی کام نہ ہوسکا جو ہونا چاہئے تھا اگرچہ مختلف حضرات نے آ پ کی سیرت پر لکھا لیکن صرف کشف و کرامات ہی پر اکتفا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ آپ کو صرف ایک ولی کامل کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ آپ کی شخصیت کا ادبی پہلو پردۂ خفا میں رہ گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشف وکرامات کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کے ادبی و علمی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کی جامع الکمالات شخصیت سے کماحقہ آشنا ہوسکیں
*وصال*:حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ نے۲۸محرم الحرام ۸۰۸ھ کو داعئ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار پر انوار کچھوچھہ مقدسہ ضلع امبیڈکرنگر یوپی میں ہے آپ کی ذات اقدس سے آج تک خلق خدا مستفیض و مستنیر ہورہی ہے ہرسال ماہ محرم کے آخری عشرہ میں 27 1ور 28 تاریخ کو تقریبات عرس نہایت ہی احترام و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں مریدین و زائرین شرکت فرماتے ہیں۔ مولیٰ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مخدومی فیضان سے مالا مال فرمائے۔
HashimAzmi78692@gmail.com
HashimAzmi78692@gmail.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❷
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❷
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬