Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
تاج الدین کو ملٹری کیمپ میں اسلحہ خانے پر پہرہ دینے کا کام سونپا گیا ، ایک رات دو بجے کے قریب فوج کا کیپٹن اچانک معائنے کے لیے آگیا۔ اس نے دیکھا کہ تاج الدین مستعدی سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کیپٹن انہیں دیکھ کر مطمئن روانہ ہوگیا۔
آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نماز ادا کررہا ہے۔ سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر سپاہی پکارا ‘‘ہالٹ’’۔ انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدین رحمہ اللّٰه اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔ وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور؟
اس نے تاج الدین رحمہ اللّٰه سے بات چیت کرکے اپنی پوری تسلی کرلی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔
دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدین کی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کررہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کررہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو؟ تم جادوگر تو نہیں ہو؟
یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے پیٹی، بندوق ، وردی سمیت تمام سرکاری سامان لاکر انہوں نے افسر کی میز پر رکھ دیا ’’لوجی حضّت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضّت‘‘۔
یہ کہہ کر تاج الدین فوراً کمرے سے نکل گئے۔
ناگ پور اور جبل پور شہروں کو ملانے والی شاہراہ کامٹی اور رام ٹیک سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہاں سے بہت بڑا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے گھنے جنگلوں میں قدم قدم پر خونخوار درندے گھومتے ہیں اور دنیا کے زہریلے ترین سانپ پائے جاتے ہیں۔
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین رحمہ اللّٰه نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا ، جہاں قدم قدم پر خونخوار شیر اور جنگلی درندے رہتے تھے اس جنگل کے اژدہے بھی شہرت رکھتے ہیں۔وہاں تاج الدین باباؒ نے کئی برس تک بلا خوف و خطر ریاضت کی۔ کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اُتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب وکیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔ ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر فوج کے ذریعے ان کے گھر بھیجی گئی۔ نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔ نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ كامٹی لے آئیں۔ كامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔
بابا تاج الدین شہر میں واپس آکر خوش نہیں تھے۔ انہیں جب بھی موقع ملتا پھر اپنے جنگل میں جانکلتے ۔ عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا ، بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے۔ کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ عقیدت سے ان کے ہاتھ چومتے لیکن تاج الدین باباؒ فنا کی ان منزلوں پر تھے جہاں پتھروں کی مار اور پھولوں کی بارش میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔ بستی میں آپ کادل نہیں لگتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور کبھی واپس کامٹی پہنچ جاتے۔
کچھ عرصے بعد آپ کی کرامات کا چرچا ہوا تو لوگ دور دور سے آپ کے پاس اپنا درد لے کر آنے لگے۔ بابا صاحب کی دعاؤں سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدتمندوں کا ہجوم رہنے لگا ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ
‘‘ اب ہم پاگل جھونپڑی جائیں’’۔
حالات کچھ ایسے بنے کہ 26 اگست، 1892 کو كامٹھی کے كینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔
پاگل خانہ کا سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ما روتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا،اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر نے بابا صاحب کی پاگل خانے میں موجودگی کا اپنی بیوی سے ذکر کیا ،اُس کی بیوی کے دل میں خیال آیا کہ میں چل کر حضور بابا صاحبؒ سے عرض کروں۔ اُس نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے باباصاحبؒ کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہباً مرہٹہ برہمن تھا،اس لیے اپنی بیوی سے یہ الفاظ سُن کر پہلے تو کچھ ہچکچایا ۔ بعد میں اس نے یہ چاہا کہ کسی طرح بابا صاحب کو اپنے گھر پر بلالے ۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ باباصاحب کی خدمت میںپہنچ گئی اورعرض کیا کہ :
آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نماز ادا کررہا ہے۔ سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر سپاہی پکارا ‘‘ہالٹ’’۔ انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدین رحمہ اللّٰه اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔ وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور؟
اس نے تاج الدین رحمہ اللّٰه سے بات چیت کرکے اپنی پوری تسلی کرلی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔
دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدین کی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کررہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کررہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو؟ تم جادوگر تو نہیں ہو؟
یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے پیٹی، بندوق ، وردی سمیت تمام سرکاری سامان لاکر انہوں نے افسر کی میز پر رکھ دیا ’’لوجی حضّت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضّت‘‘۔
یہ کہہ کر تاج الدین فوراً کمرے سے نکل گئے۔
ناگ پور اور جبل پور شہروں کو ملانے والی شاہراہ کامٹی اور رام ٹیک سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہاں سے بہت بڑا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے گھنے جنگلوں میں قدم قدم پر خونخوار درندے گھومتے ہیں اور دنیا کے زہریلے ترین سانپ پائے جاتے ہیں۔
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین رحمہ اللّٰه نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا ، جہاں قدم قدم پر خونخوار شیر اور جنگلی درندے رہتے تھے اس جنگل کے اژدہے بھی شہرت رکھتے ہیں۔وہاں تاج الدین باباؒ نے کئی برس تک بلا خوف و خطر ریاضت کی۔ کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اُتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب وکیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔ ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر فوج کے ذریعے ان کے گھر بھیجی گئی۔ نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔ نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ كامٹی لے آئیں۔ كامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔
بابا تاج الدین شہر میں واپس آکر خوش نہیں تھے۔ انہیں جب بھی موقع ملتا پھر اپنے جنگل میں جانکلتے ۔ عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا ، بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے۔ کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ عقیدت سے ان کے ہاتھ چومتے لیکن تاج الدین باباؒ فنا کی ان منزلوں پر تھے جہاں پتھروں کی مار اور پھولوں کی بارش میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔ بستی میں آپ کادل نہیں لگتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور کبھی واپس کامٹی پہنچ جاتے۔
کچھ عرصے بعد آپ کی کرامات کا چرچا ہوا تو لوگ دور دور سے آپ کے پاس اپنا درد لے کر آنے لگے۔ بابا صاحب کی دعاؤں سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدتمندوں کا ہجوم رہنے لگا ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ
‘‘ اب ہم پاگل جھونپڑی جائیں’’۔
حالات کچھ ایسے بنے کہ 26 اگست، 1892 کو كامٹھی کے كینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔
پاگل خانہ کا سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ما روتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا،اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر نے بابا صاحب کی پاگل خانے میں موجودگی کا اپنی بیوی سے ذکر کیا ،اُس کی بیوی کے دل میں خیال آیا کہ میں چل کر حضور بابا صاحبؒ سے عرض کروں۔ اُس نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے باباصاحبؒ کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہباً مرہٹہ برہمن تھا،اس لیے اپنی بیوی سے یہ الفاظ سُن کر پہلے تو کچھ ہچکچایا ۔ بعد میں اس نے یہ چاہا کہ کسی طرح بابا صاحب کو اپنے گھر پر بلالے ۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ باباصاحب کی خدمت میںپہنچ گئی اورعرض کیا کہ :
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
باباصاحب رحمۃ اللّٰه علیہ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ میرے لیے دعا کریں۔
بابا صاحب رحمہ اللّٰه نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ‘‘ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہوتا۔ ’’
یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ، لوگوں کی مرادیں پوری ہورہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے ۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا :
‘‘لڑکیاں کتنی جی ؟’’ تو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں…. بابا صاحب نے فرمایا ۔‘‘ اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑکے بھی پانچ ہوجاتے جی….!’’،
یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔ خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔
ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے غسل کے بعد لڑکے کو حضور بابا صاحب رحمہ اللّٰه کے قدموں میں رکھ دیا۔ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک نظر دیکھا اور تبسم کے ساتھ فرمایاکہ
‘‘ابھی تو چار اور آتے جی ! لے جانا ، یہ خوش رہے گا ۔’’
پاگل خانے میں بند کئے جانے کے بعد بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظر آئے اور ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔
اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے ونائیک راؤ کی بیوی زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر، وید، حکیم موجود تھے ۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مرچکا تھا اب زچہ کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ۔
مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی ۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب ؒ کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ
‘‘میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعاکی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے ۔’’
مہاراجہ نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ
‘‘ہاں چلو جلدسے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو’’۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر دروازے پر جاکر رُکی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرالیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔ بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے
‘‘ادھر کیا کرتے جی حضت! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا….!’’
ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے کام ہوگیا۔
مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو بیٹا ہواہے اور زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔
مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب ؒ پر اس قدر پختہ ہو اکہ اس نے اسی وقت چیف کمشنر ناگپور بینجمن رابرٹس کے پاس نقد زرضمانت جمع کرا ئی اور بابا صاحب ؒ سے عرض کہ آپ میرے ساتھ چلیے۔ آپ ؒ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔
21 ستمبر، 1908ء کو ناگپور کے مہاراجہ راگھوجی راؤ بھوسلے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بڑی دھوم دھام سے ہاتھی پر سوار کرا کے شكردرہ میں اپنے شاہی محل لے آیا ۔ جہاں تمام اہل خانہ نے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کااستقبال کیا ۔
مہاراجہ نے محل کا ایک حصے میں بنی ‘‘لال كوٹھی’’ آپ کے لیے مخصوص کردی ۔ راجہ خود صبح شام ان کو حاضری دیتے تھے ۔لال کوٹھی میں بھی ہروقت عام لوگوں کا ہجوم لگا رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے ان عقیدتمندوں کے لیے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ۔ آج بھی یہ محل عوام کے لیے وقف ہے اور زائرین زیارت کے لیے دور دور سےآتے ہیں۔
ایک مرتبہ بیگم راجہ آف بھوپال آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ اپنے ساتھ انواع اقسام کے کھانے لائیں اور بابا صاحب سے عرض کیا ‘‘اس میں سے کچھ تناول فرمائیں ’’۔
بابا صاحب نے چند لقمے لیے اس دوران بیگم صاحبہ نے دل میں سوچا کہ اتنے اچھے کھانے یہاں کون پکا کر باباصاحب ؒ کو کھلاتا ہوگا۔ آپ نے فوراً ہی فرمایا
‘‘یہ کھانا ہمارے کام کا نہیں۔ ہمیں ایسا کھانا کون کھلا سکتا ہے’’ اور یہ کہہ کر زمین سے پتھر اٹھا کر ویسے ہی کھانے لگے
جیسے کھانا تناول فرما رہے ہوں…. بیگم صاحبہ بہت ہی شرمندہ ہوئیں۔
چیف کمشنر بینجمن رابرٹس کی بھتیجی بہت شدید بیمار تھی۔ لندن میں ہر طرح کا علاج کروایا لیکن اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا تھا ۔ اسے کسی طرح بھی آرام نہ آرہا تھا ۔ بابا تاج الدین رحمہ اللہ کا شہر ہ سن کر وہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ رگھو راؤ نے ڈرتے ڈرتے بابا صاحب سے سوال کیا ۔ ‘‘چیف کمشنر رابرٹس آئے ہیں ۔ اگر اجازت ہو تو بلا لاؤں ؟’’
بابا صاحب رحمہ اللّٰه نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ‘‘ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہوتا۔ ’’
یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ، لوگوں کی مرادیں پوری ہورہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے ۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا :
‘‘لڑکیاں کتنی جی ؟’’ تو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں…. بابا صاحب نے فرمایا ۔‘‘ اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑکے بھی پانچ ہوجاتے جی….!’’،
یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔ خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔
ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے غسل کے بعد لڑکے کو حضور بابا صاحب رحمہ اللّٰه کے قدموں میں رکھ دیا۔ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک نظر دیکھا اور تبسم کے ساتھ فرمایاکہ
‘‘ابھی تو چار اور آتے جی ! لے جانا ، یہ خوش رہے گا ۔’’
پاگل خانے میں بند کئے جانے کے بعد بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظر آئے اور ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔
اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے ونائیک راؤ کی بیوی زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر، وید، حکیم موجود تھے ۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مرچکا تھا اب زچہ کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ۔
مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی ۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب ؒ کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ
‘‘میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعاکی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے ۔’’
مہاراجہ نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ
‘‘ہاں چلو جلدسے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو’’۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر دروازے پر جاکر رُکی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرالیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔ بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے
‘‘ادھر کیا کرتے جی حضت! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا….!’’
ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے کام ہوگیا۔
مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو بیٹا ہواہے اور زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔
مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب ؒ پر اس قدر پختہ ہو اکہ اس نے اسی وقت چیف کمشنر ناگپور بینجمن رابرٹس کے پاس نقد زرضمانت جمع کرا ئی اور بابا صاحب ؒ سے عرض کہ آپ میرے ساتھ چلیے۔ آپ ؒ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔
21 ستمبر، 1908ء کو ناگپور کے مہاراجہ راگھوجی راؤ بھوسلے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بڑی دھوم دھام سے ہاتھی پر سوار کرا کے شكردرہ میں اپنے شاہی محل لے آیا ۔ جہاں تمام اہل خانہ نے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کااستقبال کیا ۔
مہاراجہ نے محل کا ایک حصے میں بنی ‘‘لال كوٹھی’’ آپ کے لیے مخصوص کردی ۔ راجہ خود صبح شام ان کو حاضری دیتے تھے ۔لال کوٹھی میں بھی ہروقت عام لوگوں کا ہجوم لگا رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے ان عقیدتمندوں کے لیے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ۔ آج بھی یہ محل عوام کے لیے وقف ہے اور زائرین زیارت کے لیے دور دور سےآتے ہیں۔
ایک مرتبہ بیگم راجہ آف بھوپال آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ اپنے ساتھ انواع اقسام کے کھانے لائیں اور بابا صاحب سے عرض کیا ‘‘اس میں سے کچھ تناول فرمائیں ’’۔
بابا صاحب نے چند لقمے لیے اس دوران بیگم صاحبہ نے دل میں سوچا کہ اتنے اچھے کھانے یہاں کون پکا کر باباصاحب ؒ کو کھلاتا ہوگا۔ آپ نے فوراً ہی فرمایا
‘‘یہ کھانا ہمارے کام کا نہیں۔ ہمیں ایسا کھانا کون کھلا سکتا ہے’’ اور یہ کہہ کر زمین سے پتھر اٹھا کر ویسے ہی کھانے لگے
جیسے کھانا تناول فرما رہے ہوں…. بیگم صاحبہ بہت ہی شرمندہ ہوئیں۔
چیف کمشنر بینجمن رابرٹس کی بھتیجی بہت شدید بیمار تھی۔ لندن میں ہر طرح کا علاج کروایا لیکن اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا تھا ۔ اسے کسی طرح بھی آرام نہ آرہا تھا ۔ بابا تاج الدین رحمہ اللہ کا شہر ہ سن کر وہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ رگھو راؤ نے ڈرتے ڈرتے بابا صاحب سے سوال کیا ۔ ‘‘چیف کمشنر رابرٹس آئے ہیں ۔ اگر اجازت ہو تو بلا لاؤں ؟’’
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
‘‘بلالے بلالے ، بے چارہ پریشان ہے، تاج الدین کسی کو نکو روکتاجی ۔ ’’
راجہ کے ہمراہ سر بینجمن ننگے پاؤں حجرے میں داخل ہوا…. بابا جی نے بڑے اطمینان سے کہا….‘‘تو کائے کو اتنا خرچہ کیا ؟ بچی کو ناحق تکلیف دیا۔ بٹیا کو مٹی سنگھاتے ،اچھے ہو جاتے ۔ ’’
کوئی نہ سمجھ سکا بابا صاحب کیا کہہ رہے ہیں ۔ باباصاحب خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ دورازے کی جانب سر بینجمن کی میم اور جواں سال بھتیجی رگھوجی راؤ کی بیوی کے ہمراہ کھڑی تھیں۔ بابا نے ان کو دیکھا فوراً کھڑے ہوگئے ….‘‘آجاؤ رے’’….رانی لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی جس کے سر پرپٹی بندھی تھی۔
‘‘بابا ! اس کے سر میں درد رہتا ہے۔ لندن میں کسی بھی علاج سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سر بینجمن نے اسے آپ سے دم کرانے کے لیے وہاں سے بلوایا ہے’’….وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی ۔
‘‘یہ تو پگلا ہے جی بچی کو تکلیف دیا۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه کو بولنا تھا….’’ پھر بڑی شفقت سے لڑکی کو اپنے قریب بٹھایا اور بولے
‘‘پریشان نکو ہوتے ….بیٹی۔ مٹی سونگھ لیتے۔ اچھے ہوجاتے۔ پٹی کھول دیتے….’’ شفقت اور مٹھاس ان کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی ۔ لڑکی کچھ بھی نہ سمجھی۔ وہ اردو سے ناآشنا تھی۔ وہ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
‘‘ کونسی مٹی۔ رگھوجی نے پوچھا ….’’
بینجمن رابرٹس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا‘‘یہ لائے گاجی ۔ بچی کو سونگھا دے۔ جی اچھے ہوجاتے’’۔
سر بینجمن رابرٹس بابا کی خدمت میں پہلے بھی حاضری دے چکاتھا۔ بات سمجھ گیا فوراً تھوڑی سی مٹی ا ٹھا لایا اور بچی کو اُسے سونگھ لینے کی ہدایت کی۔ مٹی کو سونگھتے ہی بچی کو تین چار چھینکیں آئیں
‘‘بس بیٹی….! بس اب اچھے ہوگئے ’’ باباصاحب نے فرمایا ۔
رانی نے بچی کے سر کی پٹی کھولی۔ درد سر بالکل غائب ہوگیاتھا…. فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔
یہ سب لوگ سراپا تشکر اور سپاس بنے ہوئے تھے، سر بینجمن نے احساس تشکر کے ساتھ ساتھ بابا صاحب کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی تو آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے ۔ مگر آپ کے الفاظ میں بڑینرمیتھی ۔
‘‘بیٹی باپ کو نذزانہ نہیں، باپ بیٹی کو دیتا ہے ….’’ یہ کہا اور گاؤ تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا اور چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور وہ لوگ شاداں وِِفرحاں رخصت ہوگئے ۔
سر بینجمن کی بابا صاحب سے یہ ملاقات مہاراشٹر کے مسلمانوں کے حق میں رحمت ثابت ہوئی۔ سربینجمن نے بڑی تعداد میں وہاں اسکول اور مدرسے قائم کیے، مسلمانوں کی درسگاہوں کے لیے زمینیں فراہم کیں، عمارتوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرتے رہے۔
جبل پور میں مسلمانوں کا اسکول آج بھی رابرٹس انجمن اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے موجود ہے۔ انہوں نے وہاں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود رابرٹس کالج بھی قائم کیا….ناگپور کا انجمن اسلامیہ ہائی اسکول بھی سر بنجمن اور تاج الدین بابا کی اسی ملاقات کی یاد گار ہے۔
عبد الصمدنام کے بزرگ بھیکی پورجائس سے بابا کے پاس آئے۔ ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ کسی طرح انہیں کشف عطا ہوجائے۔ لیکن جب بابا سے آمنا سامنا ہوا تو وہ مدعا نہ کہہ سکے۔ بابا اس وقت بیڑی پی رہے تھے۔بابا نے بیڑی ان کو دیتے ہوئے کہا‘‘یہ لو کشف’’۔
عبد الصمد نے بیڑی کا ایک ہی کش لیا تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔
بابا نے کہا‘‘اب جاؤ تمہارے پانی سے شفا ہوتیحضت….!’’
عبد الصمدوہاں سے کشف وکرامات لے کر واپس ہوئے۔ دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی اور اتنی کثرت سے ضرورت مند پہنچنے لگے۔ ہندوستان کے طول وعرض میں ان کی دھوم مچ گئی۔ جہاں بھی ان کا دیا ہوا پانی پہنچا کیسا ہی مرض ہوتا ختم ہوجاتا۔ یہ سلسلہ عرصے تک جاری رہا۔ ایک بار کسی عورت کا بچہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ لیکن اتفاق سے وہ ایسے وقت میں عبد الصمد کے ہاں پہنچی جب عورتیں بے نماز ہوتی ہیں۔ عبد الصمد اس عورت کو دیکھ کر جلال میں آگئے اور چیخے کہ اس عورت کو باہر نکال دو ناپاک ہے۔ عورت نکالدیگئی۔
وہ پریشان حال شکستہ دل عورت بابا تاج الدین سے ناگپور ملنے گئی لیکن ناپاکی کے خیال سے دور ایک موسری کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئی۔ دل میں سوچنے لگی کہ جانے گھر جاکر بچہ زندہ بھی ملے گا یا نہیں۔ ادھر بابا نے ایک خادم کو حکم دیا کہ جاؤ موسری کے درخت کے نیچے ایک عورت بیٹھی ہے اسے بلالاؤ۔ خادم اس عورت کو بلالایا۔ وہ آتے ہی ایک فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ بابا انتہائی شفقت سے بولے :
‘‘ اماں!….’’
سہمی ہوئی عورت قریب آگئی۔ بابا بولے :
‘‘عبد الصمد ایک لٹیا پانی تھا گندہ ہوگیا تاج الدین سمندر ہے’’۔
عورت روتی ہوئی ان کے قدموں پر گر پڑی۔
بابانے کہا :‘‘نکو اماں! روتے نہیں، گھر جاتے بچہ کھیلتا ملتا، اچھا رہتا’’۔
راجہ کے ہمراہ سر بینجمن ننگے پاؤں حجرے میں داخل ہوا…. بابا جی نے بڑے اطمینان سے کہا….‘‘تو کائے کو اتنا خرچہ کیا ؟ بچی کو ناحق تکلیف دیا۔ بٹیا کو مٹی سنگھاتے ،اچھے ہو جاتے ۔ ’’
کوئی نہ سمجھ سکا بابا صاحب کیا کہہ رہے ہیں ۔ باباصاحب خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ دورازے کی جانب سر بینجمن کی میم اور جواں سال بھتیجی رگھوجی راؤ کی بیوی کے ہمراہ کھڑی تھیں۔ بابا نے ان کو دیکھا فوراً کھڑے ہوگئے ….‘‘آجاؤ رے’’….رانی لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی جس کے سر پرپٹی بندھی تھی۔
‘‘بابا ! اس کے سر میں درد رہتا ہے۔ لندن میں کسی بھی علاج سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سر بینجمن نے اسے آپ سے دم کرانے کے لیے وہاں سے بلوایا ہے’’….وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی ۔
‘‘یہ تو پگلا ہے جی بچی کو تکلیف دیا۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه کو بولنا تھا….’’ پھر بڑی شفقت سے لڑکی کو اپنے قریب بٹھایا اور بولے
‘‘پریشان نکو ہوتے ….بیٹی۔ مٹی سونگھ لیتے۔ اچھے ہوجاتے۔ پٹی کھول دیتے….’’ شفقت اور مٹھاس ان کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی ۔ لڑکی کچھ بھی نہ سمجھی۔ وہ اردو سے ناآشنا تھی۔ وہ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
‘‘ کونسی مٹی۔ رگھوجی نے پوچھا ….’’
بینجمن رابرٹس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا‘‘یہ لائے گاجی ۔ بچی کو سونگھا دے۔ جی اچھے ہوجاتے’’۔
سر بینجمن رابرٹس بابا کی خدمت میں پہلے بھی حاضری دے چکاتھا۔ بات سمجھ گیا فوراً تھوڑی سی مٹی ا ٹھا لایا اور بچی کو اُسے سونگھ لینے کی ہدایت کی۔ مٹی کو سونگھتے ہی بچی کو تین چار چھینکیں آئیں
‘‘بس بیٹی….! بس اب اچھے ہوگئے ’’ باباصاحب نے فرمایا ۔
رانی نے بچی کے سر کی پٹی کھولی۔ درد سر بالکل غائب ہوگیاتھا…. فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔
یہ سب لوگ سراپا تشکر اور سپاس بنے ہوئے تھے، سر بینجمن نے احساس تشکر کے ساتھ ساتھ بابا صاحب کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی تو آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے ۔ مگر آپ کے الفاظ میں بڑینرمیتھی ۔
‘‘بیٹی باپ کو نذزانہ نہیں، باپ بیٹی کو دیتا ہے ….’’ یہ کہا اور گاؤ تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا اور چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور وہ لوگ شاداں وِِفرحاں رخصت ہوگئے ۔
سر بینجمن کی بابا صاحب سے یہ ملاقات مہاراشٹر کے مسلمانوں کے حق میں رحمت ثابت ہوئی۔ سربینجمن نے بڑی تعداد میں وہاں اسکول اور مدرسے قائم کیے، مسلمانوں کی درسگاہوں کے لیے زمینیں فراہم کیں، عمارتوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرتے رہے۔
جبل پور میں مسلمانوں کا اسکول آج بھی رابرٹس انجمن اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے موجود ہے۔ انہوں نے وہاں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود رابرٹس کالج بھی قائم کیا….ناگپور کا انجمن اسلامیہ ہائی اسکول بھی سر بنجمن اور تاج الدین بابا کی اسی ملاقات کی یاد گار ہے۔
عبد الصمدنام کے بزرگ بھیکی پورجائس سے بابا کے پاس آئے۔ ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ کسی طرح انہیں کشف عطا ہوجائے۔ لیکن جب بابا سے آمنا سامنا ہوا تو وہ مدعا نہ کہہ سکے۔ بابا اس وقت بیڑی پی رہے تھے۔بابا نے بیڑی ان کو دیتے ہوئے کہا‘‘یہ لو کشف’’۔
عبد الصمد نے بیڑی کا ایک ہی کش لیا تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔
بابا نے کہا‘‘اب جاؤ تمہارے پانی سے شفا ہوتیحضت….!’’
عبد الصمدوہاں سے کشف وکرامات لے کر واپس ہوئے۔ دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی اور اتنی کثرت سے ضرورت مند پہنچنے لگے۔ ہندوستان کے طول وعرض میں ان کی دھوم مچ گئی۔ جہاں بھی ان کا دیا ہوا پانی پہنچا کیسا ہی مرض ہوتا ختم ہوجاتا۔ یہ سلسلہ عرصے تک جاری رہا۔ ایک بار کسی عورت کا بچہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ لیکن اتفاق سے وہ ایسے وقت میں عبد الصمد کے ہاں پہنچی جب عورتیں بے نماز ہوتی ہیں۔ عبد الصمد اس عورت کو دیکھ کر جلال میں آگئے اور چیخے کہ اس عورت کو باہر نکال دو ناپاک ہے۔ عورت نکالدیگئی۔
وہ پریشان حال شکستہ دل عورت بابا تاج الدین سے ناگپور ملنے گئی لیکن ناپاکی کے خیال سے دور ایک موسری کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئی۔ دل میں سوچنے لگی کہ جانے گھر جاکر بچہ زندہ بھی ملے گا یا نہیں۔ ادھر بابا نے ایک خادم کو حکم دیا کہ جاؤ موسری کے درخت کے نیچے ایک عورت بیٹھی ہے اسے بلالاؤ۔ خادم اس عورت کو بلالایا۔ وہ آتے ہی ایک فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ بابا انتہائی شفقت سے بولے :
‘‘ اماں!….’’
سہمی ہوئی عورت قریب آگئی۔ بابا بولے :
‘‘عبد الصمد ایک لٹیا پانی تھا گندہ ہوگیا تاج الدین سمندر ہے’’۔
عورت روتی ہوئی ان کے قدموں پر گر پڑی۔
بابانے کہا :‘‘نکو اماں! روتے نہیں، گھر جاتے بچہ کھیلتا ملتا، اچھا رہتا’’۔
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
عورت خوشی خوشی واپس چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی بابا نے جائس کی طرف منہ کرکے انگریزی میں کہا ‘‘عبد الصمد سسپنڈڈ’’۔
اسی لمحے جائس میں عبد الصمد کی تمام صلاحیت سلب ہوگئی۔
بیرہٹ اب تاج آباد کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دن بابا گھومتے ہوئے اس جگہ جاکر رُک گئے جہاں اب ان کا مزار ہے وہاں انہوں نے زمین سے تھوڑی مٹی اُٹھائی اور کہا :
سبحان اﷲ کیا اچھی مٹی ہے۔
ذیقعد 1343ھ میں بابا ڈگوری کے پل پر مقیم تھے یکایک وہ اپنے ایک معتقد سے پوچھنے لگے ۔
‘‘عید کا چاند دکھ گیا….؟’’۔ جواب ملا’’رمضان کی عید ہوچکی ہے اب بقرعید کا چاند دکھے گا’’….
بابا تاج الدین بولے ‘‘ہوبابو اب اس کے بعد چاند دکھے گا’’۔
اس کے بعد سے بابا تاج الدین کی طبیعت ناساز رہنے لگی ۔ راجہ رگھو راؤ نے بابا صاحب کے علاج کے لیے ناگپور سے ماہر ڈاکٹر بلوائے، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔
*وفات:* 26 محرم الحرام بمطابق17اگست 1925ء بروز پیر (چھیاسٹھ برس کی عمر میں )مغرب کے وقت بابا نے ہاتھ اُٹھا کر ایک لمحے کے لیے دعا کی۔ پلنگ سے اُٹھ کر چاروں طرف دیکھا پھر سکون سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے…. اسی حالت میں دارفانی سے کوچ فرمایا۔
آپ کا مزار تاج آباد (تاج باغ) امریڈ روڈ، ناگپور میں مرجع خلائق ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسی لمحے جائس میں عبد الصمد کی تمام صلاحیت سلب ہوگئی۔
بیرہٹ اب تاج آباد کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دن بابا گھومتے ہوئے اس جگہ جاکر رُک گئے جہاں اب ان کا مزار ہے وہاں انہوں نے زمین سے تھوڑی مٹی اُٹھائی اور کہا :
سبحان اﷲ کیا اچھی مٹی ہے۔
ذیقعد 1343ھ میں بابا ڈگوری کے پل پر مقیم تھے یکایک وہ اپنے ایک معتقد سے پوچھنے لگے ۔
‘‘عید کا چاند دکھ گیا….؟’’۔ جواب ملا’’رمضان کی عید ہوچکی ہے اب بقرعید کا چاند دکھے گا’’….
بابا تاج الدین بولے ‘‘ہوبابو اب اس کے بعد چاند دکھے گا’’۔
اس کے بعد سے بابا تاج الدین کی طبیعت ناساز رہنے لگی ۔ راجہ رگھو راؤ نے بابا صاحب کے علاج کے لیے ناگپور سے ماہر ڈاکٹر بلوائے، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔
*وفات:* 26 محرم الحرام بمطابق17اگست 1925ء بروز پیر (چھیاسٹھ برس کی عمر میں )مغرب کے وقت بابا نے ہاتھ اُٹھا کر ایک لمحے کے لیے دعا کی۔ پلنگ سے اُٹھ کر چاروں طرف دیکھا پھر سکون سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے…. اسی حالت میں دارفانی سے کوچ فرمایا۔
آپ کا مزار تاج آباد (تاج باغ) امریڈ روڈ، ناگپور میں مرجع خلائق ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید جلال الدین بخاری۔
*کنیت:* ابو عبداللہ۔
*لقب:* جہانیاں جہاں گشت، مخدوم جہانیاں، سیاح عالم۔
آپ کا نام اپنے جد بزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری رحمہ اللّٰه کے نام پر رکھا گیا۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا سلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللّٰه عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق ساداتِ بخارا سے ہے۔
*(تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 14/شعبان المعظم 707ھ مطابق 9/فروری1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پور پنجاب میں سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے گھر پر ہوئی۔ آپ کی جبین مبارک سے سعادت مندی اور رشد و ہدایت کے آثار واضح تھے۔ حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللّٰه علیہ سے منقول ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد گرامی آپ کو شیخ جمال خنداں رو رحمہ اللّٰه کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔ حضرت جمال خندہ رو رحمہ اللّٰه نے فرمایا:
’’اس فرزند کی عظمت و بزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب (شب برات ) کی ہے‘‘۔
*(یاد گار سہروردیہ:206)*
*تحصیل علم:* آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اوچ شریف میں ہوئی۔ علامہ قاضی بہاءالدین آپ کے استاذ تھے۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد ہدایہ و بزودی ختم کرنے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔ شیخ موسیٰ اور مولانا مجدالدین جیسے شفیق استاذ ملے۔ آپ نے ہدایہ اور بزودی جلد ہی ختم کی۔ بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزید تعلیم حاصل کی۔ ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح رحمہ اللّٰه کی اجازت سے مدرسے میں رہتے تھے۔ اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔ آپ کے استاذ شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہروردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔ آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
*(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)*
*بیعت و خلافت:* آپ اپنے والد گرامی سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔ اپنے چچا حضرت محمد غوث رحمہ اللّٰه سےخرقہ خلافت پہنا۔ والد کے وصال کے بعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔ زیادہ تر آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔
آپ فرماتے ہیں: میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء سےعالم خواب میں پہنا جو بیدار ہونے کے بعد سر پر پایا۔ حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کے خلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے، حضرت قطب الدین منور سے، حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے، شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے، شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے، قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے، شیخ اسحاق گازرونی سے، شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے، شیخ حمیدالدین سے، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ شیخ شرف الدین محمود شاہ سے، سید احمد رفاعی سے، شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے، حضرت خضر سے، حضرت احد الدین حسنی سے، حضرت شیخ نور الدین سے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
*(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:117)*
*سیرت و خصائص:* والئی اقلیمِ ولایت، حامی سنت، ماحیِ بدعت، غریق بحر ِمحبت، مقتدائے اہل مودت، شمع قصر ہدایت، سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ اپنے وقت کےعالم ِ متبحر، صوفیِ اعظم، اور دینِ مصطفیٰ ﷺ کے عظیم داعی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے دین کو ہر سو پھیلایا۔ جہاں بھی تشریف لے گئے دین کی بہاریں ساتھ لے گئے۔ جب واپس ہوتے تو گلشنِ اسلام سرسبز و شاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔ شہادت سید الشہداء کا یہی فلسفہ تھا کہ
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید جلال الدین بخاری۔
*کنیت:* ابو عبداللہ۔
*لقب:* جہانیاں جہاں گشت، مخدوم جہانیاں، سیاح عالم۔
آپ کا نام اپنے جد بزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری رحمہ اللّٰه کے نام پر رکھا گیا۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا سلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللّٰه عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق ساداتِ بخارا سے ہے۔
*(تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 14/شعبان المعظم 707ھ مطابق 9/فروری1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پور پنجاب میں سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے گھر پر ہوئی۔ آپ کی جبین مبارک سے سعادت مندی اور رشد و ہدایت کے آثار واضح تھے۔ حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللّٰه علیہ سے منقول ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد گرامی آپ کو شیخ جمال خنداں رو رحمہ اللّٰه کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔ حضرت جمال خندہ رو رحمہ اللّٰه نے فرمایا:
’’اس فرزند کی عظمت و بزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب (شب برات ) کی ہے‘‘۔
*(یاد گار سہروردیہ:206)*
*تحصیل علم:* آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اوچ شریف میں ہوئی۔ علامہ قاضی بہاءالدین آپ کے استاذ تھے۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد ہدایہ و بزودی ختم کرنے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔ شیخ موسیٰ اور مولانا مجدالدین جیسے شفیق استاذ ملے۔ آپ نے ہدایہ اور بزودی جلد ہی ختم کی۔ بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزید تعلیم حاصل کی۔ ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح رحمہ اللّٰه کی اجازت سے مدرسے میں رہتے تھے۔ اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔ آپ کے استاذ شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہروردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔ آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
*(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)*
*بیعت و خلافت:* آپ اپنے والد گرامی سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔ اپنے چچا حضرت محمد غوث رحمہ اللّٰه سےخرقہ خلافت پہنا۔ والد کے وصال کے بعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔ زیادہ تر آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔
آپ فرماتے ہیں: میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء سےعالم خواب میں پہنا جو بیدار ہونے کے بعد سر پر پایا۔ حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کے خلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے، حضرت قطب الدین منور سے، حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے، شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے، شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے، قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے، شیخ اسحاق گازرونی سے، شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے، شیخ حمیدالدین سے، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ شیخ شرف الدین محمود شاہ سے، سید احمد رفاعی سے، شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے، حضرت خضر سے، حضرت احد الدین حسنی سے، حضرت شیخ نور الدین سے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
*(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:117)*
*سیرت و خصائص:* والئی اقلیمِ ولایت، حامی سنت، ماحیِ بدعت، غریق بحر ِمحبت، مقتدائے اہل مودت، شمع قصر ہدایت، سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ اپنے وقت کےعالم ِ متبحر، صوفیِ اعظم، اور دینِ مصطفیٰ ﷺ کے عظیم داعی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے دین کو ہر سو پھیلایا۔ جہاں بھی تشریف لے گئے دین کی بہاریں ساتھ لے گئے۔ جب واپس ہوتے تو گلشنِ اسلام سرسبز و شاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔ شہادت سید الشہداء کا یہی فلسفہ تھا کہ
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مصطفیٰﷺ کے لائے دین کو آباد رکھنا ہے۔ آپ کے دستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سے مشرف ہوئے۔ جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کے علاقے میں آپ کا فیضان عام ہے۔ ریاست کاٹھیاواڑ کے نواب کو آپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کا گہوارہ بن گئی۔ اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔
(انسائیکلوپیڈیا:127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کے عہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کے منصب پر فائز رہے۔ آپ نے کثیر تعداد میں مدارس و مساجد اور خانقاہوں کی تعمیر کرائی۔
حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن و حدیث تفسیر و فقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کا درس مشہور ِعام تھا۔ علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔ آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ و قدوری کا درس دیتے تھے۔ اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے۔ آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔
(انسائیکلو پیڈیا:ج5،ص128)
اللہ اکبر! یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔ پہلے علاقہ اوچ شریف سے تحصیل علم کے لئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ پھر ساری زندگی اس علم کو جہاں بھر میں تقسیم فرمایا۔ اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔ آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جو تفسیر بیضاوی و جلالین اور بخاری و مشکوٰۃ کا درس دے رہا ہو۔ الاماشاء اللہ۔
یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کر لیتے تھے۔ اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہو رہے ہیں۔
آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ، تہجد، اشراق، چاشت، صلوۃ الاوابین، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے، اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے۔ رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہا نہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔ آپ نے چھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ فتوحات اس لیے قبول کر لیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔ آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے۔
ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقشِ پا ہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کا تاج سمجھتا ہوں۔اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبر لیتے تھے۔
(ہمارے مشائخِ زمانہ میں یہ آداب و اخلاق مفقود ہیں)
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔ اس کے علاوہ یمن، عدن، دمشق، لبنان، مدائن، فارس، بصرہ، کوفہ، شیراز، تبریز، ایرانز بلخ، نیشاپور، خراساں، سمرقند، گارزون، بحرین، قطیف، غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور، ملتان، بھکر، الور، روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔
اسی بناء پر آپ کو ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سے دنیا پہچانتی ہے۔ آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفر نامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘ میں موجود ہے۔
*بارگاہِ مصطفیٰﷺ میں قبولیت:* جب آپ اوچ شریف سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے، اور بارگاہِ سیدالعالمینﷺ میں عرض گزار ہوئے:
’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘۔
آپ کو جواب ملا:
’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)*
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ملفوظات و تعلیمات آب زر سےلکھنے کے قابل ہیں۔ ان میں چند یہ ہیں۔
*(1)* جاہل صوفیوں سے دور رہو، کیوں کہ وہ دین کے چور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں۔
*(2)* علم لدنی کے لئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو۔
*(3)* ہر مسلمان پر عمل سے پہلے علم واجب
(انسائیکلوپیڈیا:127)۔
سلطان محمد تغلق شاہ کے عہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کے منصب پر فائز رہے۔ آپ نے کثیر تعداد میں مدارس و مساجد اور خانقاہوں کی تعمیر کرائی۔
حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن و حدیث تفسیر و فقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کا درس مشہور ِعام تھا۔ علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔ آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ و قدوری کا درس دیتے تھے۔ اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے۔ آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔
(انسائیکلو پیڈیا:ج5،ص128)
اللہ اکبر! یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔ پہلے علاقہ اوچ شریف سے تحصیل علم کے لئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ پھر ساری زندگی اس علم کو جہاں بھر میں تقسیم فرمایا۔ اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔ آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جو تفسیر بیضاوی و جلالین اور بخاری و مشکوٰۃ کا درس دے رہا ہو۔ الاماشاء اللہ۔
یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کر لیتے تھے۔ اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہو رہے ہیں۔
آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ، تہجد، اشراق، چاشت، صلوۃ الاوابین، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے، اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے۔ رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہا نہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔ آپ نے چھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ فتوحات اس لیے قبول کر لیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔ آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے۔
ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقشِ پا ہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کا تاج سمجھتا ہوں۔اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبر لیتے تھے۔
(ہمارے مشائخِ زمانہ میں یہ آداب و اخلاق مفقود ہیں)
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔ اس کے علاوہ یمن، عدن، دمشق، لبنان، مدائن، فارس، بصرہ، کوفہ، شیراز، تبریز، ایرانز بلخ، نیشاپور، خراساں، سمرقند، گارزون، بحرین، قطیف، غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور، ملتان، بھکر، الور، روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔
اسی بناء پر آپ کو ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سے دنیا پہچانتی ہے۔ آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفر نامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘ میں موجود ہے۔
*بارگاہِ مصطفیٰﷺ میں قبولیت:* جب آپ اوچ شریف سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے، اور بارگاہِ سیدالعالمینﷺ میں عرض گزار ہوئے:
’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘۔
آپ کو جواب ملا:
’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)*
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ملفوظات و تعلیمات آب زر سےلکھنے کے قابل ہیں۔ ان میں چند یہ ہیں۔
*(1)* جاہل صوفیوں سے دور رہو، کیوں کہ وہ دین کے چور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں۔
*(2)* علم لدنی کے لئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو۔
*(3)* ہر مسلمان پر عمل سے پہلے علم واجب
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
ہے۔
*(4)* اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)*
*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 10/ذوالحج 785ھ، بروز پیر، عیدالاضحیٰ، مطابق 2/فروری 1384ء کو ہوا۔ مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام۔ تذکرہ جہانیاں جہاں گشت۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد دوم۔ یادگار سہروردیہ۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*(4)* اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)*
*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 10/ذوالحج 785ھ، بروز پیر، عیدالاضحیٰ، مطابق 2/فروری 1384ء کو ہوا۔ مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے۔
*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام۔ تذکرہ جہانیاں جہاں گشت۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد دوم۔ یادگار سہروردیہ۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید اشرف۔
لقب: جہانگیر، شاہِ سمنان۔
آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خدیجہ بیگم تھا۔ آپ سمنان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
ولادت باسعادت: آپ نے 688ھ، میں اس عالم کو روشنی بخشی۔
ولادت کی پیشین گوئی: آپ کی ولادت سے قبل حضرت خواجہ احمد یسوی کی روح پاک نے آپ کی والدہ ماجدہ کو مطلع کیا تھا کہ آپ کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو اپنے نور ولایت سے دنیا کو روشن کرے گا۔
تعلیم و تربیت: آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا اور ساتھ ہی ساتھ قرأت بھی سیکھی۔ پھر علوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔ چودہ سال کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔
والد کا وصال: ابھی آپ علوم ظاہری سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
تخت نشینی: والد کے انتقال کے بعد آپ تخت پر بیٹھے اور حکومت سنبھالی۔
بشارت: آپ حضرت اویس قرنی کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نے آپ کو ذکر اویسیہ تعلیم فرمایا۔ ایک دن حضرت خضر علیہ السلام نے تشریف لاکر آپ سے فرمایا کہ: "اگر خدا کی طلب ہے تو دنیا کو چھوڑو، ہندوستان جاؤ اور شیخ علاؤالدین بنگالی سے اپنا حصہ لیں"۔
تخت سے دست برداری: حضرت خضرعلیہ السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی۔ آپ تاج و تخت سے دست بردار ہوئے۔
حکومت سلطان محمود کے سپرد فرمائی اور اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر ہندوستان روانہ ہوئے۔
ہندوستان میں آمد: اوچ پہنچ کر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہوئے، پھر دہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔
بیعت و خلافت: حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی نےآپ کا شاندار استقبال کیا۔ آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے حلقہ ارادت میں آپ کو داخل کیا۔ "جہاں گیر" کے لقب سے آپ کو ممتاز کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز کیا۔
سیرت مبارک: آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ نے چار خانوادوں سے فیض حاصل کیا۔آپ علم، عبادت، مجاہدہ، زہد و تقویٰ، حلم، جود و سخا، تحمل اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔
آپ فرماتے ہیں: "جب سالک عقائد و اصطلاح صوفیہ سے واقف ہوگیا تو اس کےلئے ضروری ہے کہ زیادہ وقت محفل توحید میں صرف کرے اور مثل بگلے کے بیٹھا رہے۔"
آپ سے پوچھا گیا کہ بگلےکی طرح بیٹھنے سے کیا مطلب ہے۔؟
آپ نے جواب دیا: "بغیر تلاش کے پانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدار ہو جانا"۔
ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمت خلق سے بہتر ہے ان کا یہ خیال غلط ہے۔کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے۔ دونوں کے نتیجے پر نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ خدمت خلق نوافل پڑھنےسے بہتر ہے"۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:125)
وصال: آپ نے 27 محرم الحرام 808ھ کو اس جہان فانی سے سفر دار آخرت فرمایا۔آپ کا مزار پرانوار کچھوچھ شریف، یوپی، انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید اشرف۔
لقب: جہانگیر، شاہِ سمنان۔
آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خدیجہ بیگم تھا۔ آپ سمنان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
ولادت باسعادت: آپ نے 688ھ، میں اس عالم کو روشنی بخشی۔
ولادت کی پیشین گوئی: آپ کی ولادت سے قبل حضرت خواجہ احمد یسوی کی روح پاک نے آپ کی والدہ ماجدہ کو مطلع کیا تھا کہ آپ کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو اپنے نور ولایت سے دنیا کو روشن کرے گا۔
تعلیم و تربیت: آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا اور ساتھ ہی ساتھ قرأت بھی سیکھی۔ پھر علوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔ چودہ سال کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔
والد کا وصال: ابھی آپ علوم ظاہری سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
تخت نشینی: والد کے انتقال کے بعد آپ تخت پر بیٹھے اور حکومت سنبھالی۔
بشارت: آپ حضرت اویس قرنی کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نے آپ کو ذکر اویسیہ تعلیم فرمایا۔ ایک دن حضرت خضر علیہ السلام نے تشریف لاکر آپ سے فرمایا کہ: "اگر خدا کی طلب ہے تو دنیا کو چھوڑو، ہندوستان جاؤ اور شیخ علاؤالدین بنگالی سے اپنا حصہ لیں"۔
تخت سے دست برداری: حضرت خضرعلیہ السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی۔ آپ تاج و تخت سے دست بردار ہوئے۔
حکومت سلطان محمود کے سپرد فرمائی اور اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر ہندوستان روانہ ہوئے۔
ہندوستان میں آمد: اوچ پہنچ کر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہوئے، پھر دہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔
بیعت و خلافت: حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی نےآپ کا شاندار استقبال کیا۔ آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے حلقہ ارادت میں آپ کو داخل کیا۔ "جہاں گیر" کے لقب سے آپ کو ممتاز کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز کیا۔
سیرت مبارک: آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ نے چار خانوادوں سے فیض حاصل کیا۔آپ علم، عبادت، مجاہدہ، زہد و تقویٰ، حلم، جود و سخا، تحمل اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔
آپ فرماتے ہیں: "جب سالک عقائد و اصطلاح صوفیہ سے واقف ہوگیا تو اس کےلئے ضروری ہے کہ زیادہ وقت محفل توحید میں صرف کرے اور مثل بگلے کے بیٹھا رہے۔"
آپ سے پوچھا گیا کہ بگلےکی طرح بیٹھنے سے کیا مطلب ہے۔؟
آپ نے جواب دیا: "بغیر تلاش کے پانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدار ہو جانا"۔
ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمت خلق سے بہتر ہے ان کا یہ خیال غلط ہے۔کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے۔ دونوں کے نتیجے پر نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ خدمت خلق نوافل پڑھنےسے بہتر ہے"۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:125)
وصال: آپ نے 27 محرم الحرام 808ھ کو اس جہان فانی سے سفر دار آخرت فرمایا۔آپ کا مزار پرانوار کچھوچھ شریف، یوپی، انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دبستان اردو کے پہلے ادیب و مصنف
*حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی علمی خدمات*
تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719
اردو زبان کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں لیکن ان تمام نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ اردو کی بنیاد برصغیر ہندوپاک میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی. بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اردو زبان کی ابتداء چاہے جب اور جس علاقے میں ہوئی ہو لیکن ایک بات مسلم ہے کہ اس کی نشو و نما میں خانقاہی ادارے خاص طور سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جہاں کے صوفی معاشرہ میں ہر طرح کے لوگوں کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اس میں مذہب ، ذات پات اور طبقات کا فرق حائل نہیں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر اقبال نے ایک موقع پر یہ شعر کہا ہے :
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اردو زبان کےتشکیلی عہد میں صوفیاء کی جو لسانی خدمات رہی ہیں اس سے ہر گزانکار نہیں کیا جا سکتا،اس ضمن میں جن صوفیاء کو سب سے زیادہ اعتبار حاصل ہے ان میں خواجہ معین الدین چشتی: (متوفی 1235ء)خواجہ فرید الدین گنج شکر : (متوفی 1265ء)شیخ شرف الدین بو علی قلندر (متوفی 1323ء) امیر خسرو:(متوفی 1324ء)شیخ برہان الدین غریب: (متوفی1338ء)شیخ سراج الدین اخی سراج (متوفی 1365) اور شیخ شرف الدین یحیی منیری (متوفی 1370) شیخ عین الدین گنج العلم (متوفی1393) حاجی رومی (متوفی555ھ)سید شاہ مومن عارف اللہ (متوفی 597ھ)بابا مظہر طبل عالم (متوفی 662ھ)شاہ جلال الدین گنج رواں (متوفی 644ھ) سید احمد اکبر جہاں قلندر (متوفی659ھ)شاہ علی پہلوان (متوفی 672ھ)شاہ حسام الدین (680ھ)صوفی سرمست(متوفی 680ھ)بابا شرف الدین (متوفی 687ھ) بابا شہاب الدین (متوفی 691ھ) بابا فخر الدین (694ھ) سید اعزالدین حسینی(متوفی 699ھ)شیخ نورالحق پنڈوی متوفی (813ھ) حضرت قطب عالم (ولادت790ھ ،وفات 850ھ) حضرت شاہ عالم (ولادت 817ھ،وفات880ھ)شیخ بہاو الدین باجن (وفات 912ھ)سلطان شاہ غزنی (وفات 922ھ) شاہ علی جیو گام دھنی (وفات 972ھ) میاں خوب محمد چشتی (وفات 1023ھ)شاہ وجیہہ الدین علوی (وفات 998ھ) سید شاہ ہاشم علوی (وفات 1059ھ) خواجہ بندہ نواز گیسو دراز:(متوفی 1422ء)برہان الدین قطب عالم: (متوفی 1453ء)سراج الدین ابوالبرکات شاہ عالم :(متوفی 1475ء)شاہ صدر الدین :(متوفی 1471ء)شاہ میراں جی شمس العشاق : (متوفی 1496ء)سید محمد جونپوری : (متوفی 1504ء)قاضی محمود دریائی : (متوفی 1534ء)شیخ عبدالقدوس گنگوہی : (متوفی 1538ء)شیخ برہان الدین جانم : (متوفی 1582ء)شاہ حسین : (متوفی 1599ء)عبدالرحیم خان خاناں : (متوفی 1626ء)سلطان باہو : (متوفی 1690ء)بلھے شاہ : (متوفی 1787ء)
وغیرہ جیسے سینکڑوں صوفیاء شامل ہیں۔ان تمام اکابر صوفیاء کی جو لسانی خدمات ہیں اس نے اردو کو ہندوستان میں بحیثیت زبان اس ملک کے کونے کونے تک پھیلا یا اور عوام کو اس زبان سے اتنا قریب کر دیا کہ یہ ایک بولی سے زبان کی صورت اختیار کرتی چلی گئی،(ماخوذ:اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیا ئے کرام کا کام، مولوی عبدالحق/اردو کا ابتدائی زمانہ)
بقول انور سدید: درویشان ہند نے اپنے باطن کی روشنی کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئے اردو الفاظ کا سہارا لیا اور قربت واپنائیت کا وہ جذبہ پیدا کیا جو مسلم بادشاہان ہند اپنی دولت و ثروت کے باوجود پیدا نہ کر سکے۔ ہم زبانی کے اس عمل نے اردو زبان کی ابتدائی نشو نما کو گراں قدر فائدہ پہنچایا۔”(اردو کا ابتدائی زمانہ ص:69)
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار رہا ہے زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا.
*حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی علمی خدمات*
تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719
اردو زبان کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں لیکن ان تمام نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ اردو کی بنیاد برصغیر ہندوپاک میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی. بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اردو زبان کی ابتداء چاہے جب اور جس علاقے میں ہوئی ہو لیکن ایک بات مسلم ہے کہ اس کی نشو و نما میں خانقاہی ادارے خاص طور سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جہاں کے صوفی معاشرہ میں ہر طرح کے لوگوں کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اس میں مذہب ، ذات پات اور طبقات کا فرق حائل نہیں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر اقبال نے ایک موقع پر یہ شعر کہا ہے :
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اردو زبان کےتشکیلی عہد میں صوفیاء کی جو لسانی خدمات رہی ہیں اس سے ہر گزانکار نہیں کیا جا سکتا،اس ضمن میں جن صوفیاء کو سب سے زیادہ اعتبار حاصل ہے ان میں خواجہ معین الدین چشتی: (متوفی 1235ء)خواجہ فرید الدین گنج شکر : (متوفی 1265ء)شیخ شرف الدین بو علی قلندر (متوفی 1323ء) امیر خسرو:(متوفی 1324ء)شیخ برہان الدین غریب: (متوفی1338ء)شیخ سراج الدین اخی سراج (متوفی 1365) اور شیخ شرف الدین یحیی منیری (متوفی 1370) شیخ عین الدین گنج العلم (متوفی1393) حاجی رومی (متوفی555ھ)سید شاہ مومن عارف اللہ (متوفی 597ھ)بابا مظہر طبل عالم (متوفی 662ھ)شاہ جلال الدین گنج رواں (متوفی 644ھ) سید احمد اکبر جہاں قلندر (متوفی659ھ)شاہ علی پہلوان (متوفی 672ھ)شاہ حسام الدین (680ھ)صوفی سرمست(متوفی 680ھ)بابا شرف الدین (متوفی 687ھ) بابا شہاب الدین (متوفی 691ھ) بابا فخر الدین (694ھ) سید اعزالدین حسینی(متوفی 699ھ)شیخ نورالحق پنڈوی متوفی (813ھ) حضرت قطب عالم (ولادت790ھ ،وفات 850ھ) حضرت شاہ عالم (ولادت 817ھ،وفات880ھ)شیخ بہاو الدین باجن (وفات 912ھ)سلطان شاہ غزنی (وفات 922ھ) شاہ علی جیو گام دھنی (وفات 972ھ) میاں خوب محمد چشتی (وفات 1023ھ)شاہ وجیہہ الدین علوی (وفات 998ھ) سید شاہ ہاشم علوی (وفات 1059ھ) خواجہ بندہ نواز گیسو دراز:(متوفی 1422ء)برہان الدین قطب عالم: (متوفی 1453ء)سراج الدین ابوالبرکات شاہ عالم :(متوفی 1475ء)شاہ صدر الدین :(متوفی 1471ء)شاہ میراں جی شمس العشاق : (متوفی 1496ء)سید محمد جونپوری : (متوفی 1504ء)قاضی محمود دریائی : (متوفی 1534ء)شیخ عبدالقدوس گنگوہی : (متوفی 1538ء)شیخ برہان الدین جانم : (متوفی 1582ء)شاہ حسین : (متوفی 1599ء)عبدالرحیم خان خاناں : (متوفی 1626ء)سلطان باہو : (متوفی 1690ء)بلھے شاہ : (متوفی 1787ء)
وغیرہ جیسے سینکڑوں صوفیاء شامل ہیں۔ان تمام اکابر صوفیاء کی جو لسانی خدمات ہیں اس نے اردو کو ہندوستان میں بحیثیت زبان اس ملک کے کونے کونے تک پھیلا یا اور عوام کو اس زبان سے اتنا قریب کر دیا کہ یہ ایک بولی سے زبان کی صورت اختیار کرتی چلی گئی،(ماخوذ:اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیا ئے کرام کا کام، مولوی عبدالحق/اردو کا ابتدائی زمانہ)
بقول انور سدید: درویشان ہند نے اپنے باطن کی روشنی کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئے اردو الفاظ کا سہارا لیا اور قربت واپنائیت کا وہ جذبہ پیدا کیا جو مسلم بادشاہان ہند اپنی دولت و ثروت کے باوجود پیدا نہ کر سکے۔ ہم زبانی کے اس عمل نے اردو زبان کی ابتدائی نشو نما کو گراں قدر فائدہ پہنچایا۔”(اردو کا ابتدائی زمانہ ص:69)
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار رہا ہے زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا.
لیکن تاریخ کے مطالعہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ کے وہ ابواب جہاں جہاں مذہبی رجحانات کی کارفرمائی رہی ہے ہمارے ادبی مورخوں نے دیدہ و دانستہ اسے نظر انداز کردیا گیا ہے۔ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر اس حقیقت کے اعتراف میں کیا تردد ہے کہ اردو کے فروغ اور اس کی ابتدائی نشو ونما میں صوفیا اور صوفیانہ افکار کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اردو زبان صوفیاء کی گود میں پلی اور خانقاہوں میں پروان چڑھی اس زبان میں جو شیرینی اور حلاوت ہے وہ انھیں بزرگوں کا فیضان ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ جہاں بانی اور کشور صرف شہنشاہوں کا کام نہیں۔ تلواروں کی جھنکار حکومتوں کو زیر نگیں کرسکتی ہے مگر دلوں پر حکمرانی کا اصول ہی نرالا ہے زندگی کے مختلف میدانوں میں صوفیااسی اصول پر کار بند رہے۔ وہ خواہ علم و ادب کا میدان رہا ہو یا سلوک و معرفت کا۔ انھوں نے عشق کی وارفتگی اور جنوں کے پیرہن کے ساتھ دنیائے علم وادب پر جو اثرات مرتب کیے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ صوفیا کے حکیمانہ جمال کے سامنے بادشاہوں کا جاہ وجلال بھی نہیں ٹھہر سکا۔ انجذاب و انقیاد اور اخلاص و ایثار کا جو خمار ان بزرگوں کے عمل میں نظر آتا ہے اس کی مکمّل جھلک ان کی تحریروں میں بھی ملتی ہے۔ قلم کا رخ طویل بحث کی طرف مڑ گیا ہے جس کی یہاں قطعاً گنجائش نہیں اس کے لئے ایک دفتر درکار ہے انشاءاللہ پھر کبھی اس موضوع پر گفتگو کی جائے گی اس وقت مجھے اپنے مضمون کے مرکزی پہلو کو اجاگر کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ اردو زبان کی خدمات کے حوالے سے گروہِ صوفیاء میں ایک ایسا نام ہے جس کے بغیر اردو زبان کی تشکیلی تاریخ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا وہ مبارک نام ہے حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کا جنھیں دبستانِ اردو کا پہلا ادیب و مصنف بھی کہا جاتا ہے پہاں پر ہم اس عظیم المرتبت شخصیت کے احوال وخدمات کے چند نقوش کو مختصراً قلمبند کرنا چاہیں گے تاکہ مضمون موضوع کے مطابق ہوسکے.
*ولادت اور تعلیم و تربیت*: آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف بزرگ سلسلۂِ اشرفیہ کے بانی غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سمنان کے صوبہ خراسان کے دار السلطنت سمنان میں سن707ھ بقول دیگر 712ھ میں شہنشاہِ وقت ولیِ کامل حضرت ابراہیم علیہ الرحمہ کے گھر پیدا ہوئے.ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی سات برس کی عمر میں قرأت سبعہ کے ساتھ قرآن کریم حفظ کیا چودہ برس کی عمرمیں تمام علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوکر سند فراغت حاصل کرلیا.
*تخت نشینی اور ترک سلطنت* : جب آپ عمر کی پندرہویں بہار میں داخل ہوۓ تو تو والد گرامی کا وصال ہوگیا سمنان کے بادشاہ بن گئے۔آپ علیہ الرحمہ کے دور حکومت میں سمنان عدل و انصاف اور علم و فن کا مرکز بن گیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت مخدوم سمنانی کے ذریعہ مخلوق کے رشدوہدایت کا کام لینا تھا اسی لئے آپ کا دل امور سلطنت سے اچاٹ ہونے لگا اور راہ سلوک و معرفت کی طرف طبیعت مائل رہنے لگی۔ حضرت شیخ رکن الدین علاء الدین سمنانی متوفی ۷۳۶ھ شیخ عبدالرزاق کاشی، امام عبداللہ یافعی، سید علی ہمدانی ، شیخ عمادالدین تبریزی اور دیگر اکابر صوفیاء و مشائخ سے علوم شریعت اور عرفان طریقت سے بہرہ مند ہوئے۔(لطائف اشرفی ۱ص۲۰) بالآخر آپ نے 25 سال کی عمر میں رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب میں سلطنت کو ٹھوکر ماردیا حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور فرمایا :اشرف اب وقت آگیا ہے سمنان چھوڑ کر ہندوستان جاؤ تمہارے مرشد شیخ علاء الحق گنج نبات پنڈوی علیہ الرحمہ تمہارا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔آپ نے اپنی والدہ سے سفر کی اجازت طلب کی اور سلطنت اپنے چھوٹے بھائی سید محمد اعرف کے سپرد کرکے ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ ہندوستان کے مشہور ہندی وفارسی ادیب پدماوت کے مصنف ملک محمد جائسی (1542-1477) جائس شریف حال ضلع امیٹھی اتر پردیش کاقول ہے : امت محمدیہ کے صدقین میں دو شخص ترک سلطنت کے لحاظ سے تمام اولیاء پر فضیلت رکھتے ہیں ایک سلطان التارکین خواجہ ابراہیم بن ادہم،دوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہما ۔ (صحائف اشرفی ۱۱۳) حضرت مخدوم پاک،شہر سمنان سے نکل کر سمرقند کے راستے ملتان میں اوچھ شریف پہنچے۔ یہ مقام اس وقت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۷۸۰ ھ کے روحانی تصرفات و رشد و ہدایت کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت مخدوم سمنانی حضرت مخدوم جہاں کی خانقاہ میں تین روز تک مہمان رہے۔ خود حضرت مخدوم سمنانی کا بیان ہے کہ حضرت مخدوم جہاں نے آپ کو اکابر مشائخ سے حاصل ہونے والے تمام روحانی فیوض وبرکات اور سلسلہ قادریہ کی اجازت و خلافت سے نوازا۔(خزینۃ الاصفیان ج۲ص۵۷تا۶۳) حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی دہلی ہوتے ہوئے بہار شریف پہنچے وہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ مَنِیرِی علیہ الرحمۃ(661ھ-783ھ)کی نماز جنازہ تیار تھا آپ
*ولادت اور تعلیم و تربیت*: آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف بزرگ سلسلۂِ اشرفیہ کے بانی غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سمنان کے صوبہ خراسان کے دار السلطنت سمنان میں سن707ھ بقول دیگر 712ھ میں شہنشاہِ وقت ولیِ کامل حضرت ابراہیم علیہ الرحمہ کے گھر پیدا ہوئے.ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی سات برس کی عمر میں قرأت سبعہ کے ساتھ قرآن کریم حفظ کیا چودہ برس کی عمرمیں تمام علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوکر سند فراغت حاصل کرلیا.
*تخت نشینی اور ترک سلطنت* : جب آپ عمر کی پندرہویں بہار میں داخل ہوۓ تو تو والد گرامی کا وصال ہوگیا سمنان کے بادشاہ بن گئے۔آپ علیہ الرحمہ کے دور حکومت میں سمنان عدل و انصاف اور علم و فن کا مرکز بن گیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت مخدوم سمنانی کے ذریعہ مخلوق کے رشدوہدایت کا کام لینا تھا اسی لئے آپ کا دل امور سلطنت سے اچاٹ ہونے لگا اور راہ سلوک و معرفت کی طرف طبیعت مائل رہنے لگی۔ حضرت شیخ رکن الدین علاء الدین سمنانی متوفی ۷۳۶ھ شیخ عبدالرزاق کاشی، امام عبداللہ یافعی، سید علی ہمدانی ، شیخ عمادالدین تبریزی اور دیگر اکابر صوفیاء و مشائخ سے علوم شریعت اور عرفان طریقت سے بہرہ مند ہوئے۔(لطائف اشرفی ۱ص۲۰) بالآخر آپ نے 25 سال کی عمر میں رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب میں سلطنت کو ٹھوکر ماردیا حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور فرمایا :اشرف اب وقت آگیا ہے سمنان چھوڑ کر ہندوستان جاؤ تمہارے مرشد شیخ علاء الحق گنج نبات پنڈوی علیہ الرحمہ تمہارا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔آپ نے اپنی والدہ سے سفر کی اجازت طلب کی اور سلطنت اپنے چھوٹے بھائی سید محمد اعرف کے سپرد کرکے ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔ ہندوستان کے مشہور ہندی وفارسی ادیب پدماوت کے مصنف ملک محمد جائسی (1542-1477) جائس شریف حال ضلع امیٹھی اتر پردیش کاقول ہے : امت محمدیہ کے صدقین میں دو شخص ترک سلطنت کے لحاظ سے تمام اولیاء پر فضیلت رکھتے ہیں ایک سلطان التارکین خواجہ ابراہیم بن ادہم،دوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہما ۔ (صحائف اشرفی ۱۱۳) حضرت مخدوم پاک،شہر سمنان سے نکل کر سمرقند کے راستے ملتان میں اوچھ شریف پہنچے۔ یہ مقام اس وقت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۷۸۰ ھ کے روحانی تصرفات و رشد و ہدایت کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت مخدوم سمنانی حضرت مخدوم جہاں کی خانقاہ میں تین روز تک مہمان رہے۔ خود حضرت مخدوم سمنانی کا بیان ہے کہ حضرت مخدوم جہاں نے آپ کو اکابر مشائخ سے حاصل ہونے والے تمام روحانی فیوض وبرکات اور سلسلہ قادریہ کی اجازت و خلافت سے نوازا۔(خزینۃ الاصفیان ج۲ص۵۷تا۶۳) حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی دہلی ہوتے ہوئے بہار شریف پہنچے وہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ مَنِیرِی علیہ الرحمۃ(661ھ-783ھ)کی نماز جنازہ تیار تھا آپ
نے نماز جنازہ پڑھائی
*بنگال آمد اور اشرف جہانگیر کا خطاب* بہار شریف سے بنگال پہنچے۔ صوبہ بنگال میں ضلع مالدہ میں مقام پنڈوہ شریف کا مرکز حضرت شیخ علاء الحق والدین لاہور رشد و ہدایت بنا ہوا تھا۔ حضرت مخدوم سمنانی کی آمد کی خبر پہلے ہی متعدد بار حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت شیخ علاء الحق کو دے دی تھی۔ حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی نے شاہانہ انداز میں حضرت مخدوم سمنانی کا استقبال کیا اور بکمالِ اعزاز،انہیں اپنی خانقاہ میں لائے۔ حضرت شیخ نے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں مرید فرمایا اور دیگر سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ مخدوم سمنانی حضرت شیخ کی خدمت میں رہ کر کثیر مجاہدات و ریاضیات کے ذریعہ منازل سلوک و معرفت کی تکمیل فرمائی۔ ایک روز شیخ کی خانقاہ میں مجاہدہ میں مشغول تھے۔ اسی وقت درودیوار سے یہ غیبی آواز آنے لگی ’’اشرف جہانگیر ، اشرف جہانگیر‘‘ حضرت شیخ نے مسرت کا اظہار فرمایا اور اشارہ غیبی سے یہ معزز خطاب حضرت مخدوم سمنانی کو عطا فرمایا۔(مرأۃ الاسرار ،ص۱۰۴۶)۔صاحبِ لطائف اشرفی،خلیفہ مخدوم سمنانی ،حضرت نظام الدین یمنی نے لکھا ہے کہ حضرت مخدوم سمنانی نے راہ سلوک میں ۳۰؍ سال سیر و سیاحت کی اور ۵۰۰؍ سو اولیاء ومشائخ وقت سے علوم معرفت و فیوض و برکات حاصل کئے. تکمیل سلوک کے بعد اپنے شیخ کے حکم سے مخدوم سمنانی رشد وہدایت کے لئے بنگال سے مختلف بلاد وامصار کا گشت کرتے ہوئے شیراز ہند جونپوراور بنارس کے راستے سے کچھوچھہ پہونچے جواس وقت یوپی کے ضلع جونپور میں تھا اور اب ضلع امبیڈکرنگر میں ہے۔ جونپور میں ان دنوں سلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی اور سلطان کی علماء نوازی و مشائخ دوستی کی بنیاد پر جونپورعلماء و مشائخ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ حضرت مخدوم جونپور پہنچے تو وہاں پر سلطان ابراہیم شرقی اور علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی اور دیگر علماء و مشائخ نے آپ کا پرتپاک استقبال کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ خود سلطان آپ کا معتقد ہوا اور اپنے اہل خانہ کو آپ سے مرید کروادیا۔ قاضی شہاب الدین دولت آبادی مخدوم سمنانی کے علم و معرفت سے حد درجہ متاثر ہوئے اور آپ کے معتقد ہوگئے قاضی صاحب کا بعض مسائل میں حضرت مخدوم سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ (صحائف اشرفی ج۱،ص۶۰تا۷۵) کثیر تعداد میں غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور گمراہوں و فاسقوں نے اپنی گمراہی و فسق و فجور سے توبہ کی۔
*ایک زندۂِ جاوید کرامت*: ایک مرتبہ بنارس میں ہندوپنڈتوں سے آپ کا مباحثہ ہوا انہوں نے آپ سے دین اسلام کی حقانیت پر دلیل طلب کی، سامنے بت خانہ تھا اور لوگ پوجا میں مصروف تھے۔ آپ نے فرمایا : جس دین کا کلمہ میں پڑھتا ہوں اس کی حقانیت کی گواہی اگر تمہارے بت خود دے دیں تو؟ انہوں نے کہا:اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ حضرت مخدوم سمنانی نے ایک بت کو مخاطب کرکے کلمہ اسلام پڑھنے کو کہا تو وہ بت زندہ ہوگیا اور آپ کے ساتھ کلمہ پڑھنے لگا۔ آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اور اس کی شہرت سن کر اسی دن ایک لاکھ ہندو مسلمان ہوئے ۔ مقام کچھوچھہ جہاں پر آپ کا مزار پر انور ہے۔پہلے وہاں ایک بہت بڑا جوگی(جادوگر) اپنے پانچ سو تربیت یافتہ چیلوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ آپ کی بزرگی و کرامات سے متاثر ہو کر ان تمام کے تمام جادوگرآپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کئے۔ اس جیسے بے شمار کرامتوں کے ذریعہ آپ نے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل فرمایا اور لاکھوں مسلمانوں کو داخل سلسلہ کر کے ان کی اصلاح و تزکیہ نفس کا سامان مہیا فرمایا. ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺷﺮﻑ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺳﻤﻨﺎﻧﯽ رحمۃاللہ علیہ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺣﻀﺮﺕ شیخ ﻋﻼﻭٔ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮔﻨﺞ ﻧﺒﺎﺕ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺩﯾﻦ کی غرض سے ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ صرف ﺗﻘﺮﯾﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﯼ رکھا. سید اشرف جہانگیر سمنانی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور برگزیدہ صوفی کے علاوہ صاحب تصانیف کثیرہ بزرگ بھی تھے آپ بیک وقت مصنف ، مؤلف، مترجم،مفسر، مجدد، مصلح، محدث، فقیہ، محشی، مؤرخ، مفکر،نعت گوشاعر، منجم اور شارح تھے۔ تمام مروجہ علوم و فنون میں کامل مہارت اور ید طولیٰ رکھتے تھے. محبوب ربانی ہم شبیہ غوث صمدانی حضرت سید شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی اپنی مشہور ومعروف کتاب صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے رقمطراز ہیں: حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خداداد علم تھا کہ روئے زمین میں جہاں تشریف لے گئے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کرکے وہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ آتے بہت سی کتابیں آپ نے عربی ، فارسی ، سوری، زنگی، اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں تصنیف فرمائیں جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک طومار ہو جائے گی۔ علماء جلیل القدر کا یہ قول ہے کہ جس قدر حضرت محبوب یزدانی نے تصانيف فرمائیں بہت کم علماء اس قدر تصانیف
*بنگال آمد اور اشرف جہانگیر کا خطاب* بہار شریف سے بنگال پہنچے۔ صوبہ بنگال میں ضلع مالدہ میں مقام پنڈوہ شریف کا مرکز حضرت شیخ علاء الحق والدین لاہور رشد و ہدایت بنا ہوا تھا۔ حضرت مخدوم سمنانی کی آمد کی خبر پہلے ہی متعدد بار حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت شیخ علاء الحق کو دے دی تھی۔ حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی نے شاہانہ انداز میں حضرت مخدوم سمنانی کا استقبال کیا اور بکمالِ اعزاز،انہیں اپنی خانقاہ میں لائے۔ حضرت شیخ نے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں مرید فرمایا اور دیگر سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ مخدوم سمنانی حضرت شیخ کی خدمت میں رہ کر کثیر مجاہدات و ریاضیات کے ذریعہ منازل سلوک و معرفت کی تکمیل فرمائی۔ ایک روز شیخ کی خانقاہ میں مجاہدہ میں مشغول تھے۔ اسی وقت درودیوار سے یہ غیبی آواز آنے لگی ’’اشرف جہانگیر ، اشرف جہانگیر‘‘ حضرت شیخ نے مسرت کا اظہار فرمایا اور اشارہ غیبی سے یہ معزز خطاب حضرت مخدوم سمنانی کو عطا فرمایا۔(مرأۃ الاسرار ،ص۱۰۴۶)۔صاحبِ لطائف اشرفی،خلیفہ مخدوم سمنانی ،حضرت نظام الدین یمنی نے لکھا ہے کہ حضرت مخدوم سمنانی نے راہ سلوک میں ۳۰؍ سال سیر و سیاحت کی اور ۵۰۰؍ سو اولیاء ومشائخ وقت سے علوم معرفت و فیوض و برکات حاصل کئے. تکمیل سلوک کے بعد اپنے شیخ کے حکم سے مخدوم سمنانی رشد وہدایت کے لئے بنگال سے مختلف بلاد وامصار کا گشت کرتے ہوئے شیراز ہند جونپوراور بنارس کے راستے سے کچھوچھہ پہونچے جواس وقت یوپی کے ضلع جونپور میں تھا اور اب ضلع امبیڈکرنگر میں ہے۔ جونپور میں ان دنوں سلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی اور سلطان کی علماء نوازی و مشائخ دوستی کی بنیاد پر جونپورعلماء و مشائخ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ حضرت مخدوم جونپور پہنچے تو وہاں پر سلطان ابراہیم شرقی اور علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی اور دیگر علماء و مشائخ نے آپ کا پرتپاک استقبال کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ خود سلطان آپ کا معتقد ہوا اور اپنے اہل خانہ کو آپ سے مرید کروادیا۔ قاضی شہاب الدین دولت آبادی مخدوم سمنانی کے علم و معرفت سے حد درجہ متاثر ہوئے اور آپ کے معتقد ہوگئے قاضی صاحب کا بعض مسائل میں حضرت مخدوم سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ (صحائف اشرفی ج۱،ص۶۰تا۷۵) کثیر تعداد میں غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور گمراہوں و فاسقوں نے اپنی گمراہی و فسق و فجور سے توبہ کی۔
*ایک زندۂِ جاوید کرامت*: ایک مرتبہ بنارس میں ہندوپنڈتوں سے آپ کا مباحثہ ہوا انہوں نے آپ سے دین اسلام کی حقانیت پر دلیل طلب کی، سامنے بت خانہ تھا اور لوگ پوجا میں مصروف تھے۔ آپ نے فرمایا : جس دین کا کلمہ میں پڑھتا ہوں اس کی حقانیت کی گواہی اگر تمہارے بت خود دے دیں تو؟ انہوں نے کہا:اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ حضرت مخدوم سمنانی نے ایک بت کو مخاطب کرکے کلمہ اسلام پڑھنے کو کہا تو وہ بت زندہ ہوگیا اور آپ کے ساتھ کلمہ پڑھنے لگا۔ آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اور اس کی شہرت سن کر اسی دن ایک لاکھ ہندو مسلمان ہوئے ۔ مقام کچھوچھہ جہاں پر آپ کا مزار پر انور ہے۔پہلے وہاں ایک بہت بڑا جوگی(جادوگر) اپنے پانچ سو تربیت یافتہ چیلوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ آپ کی بزرگی و کرامات سے متاثر ہو کر ان تمام کے تمام جادوگرآپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کئے۔ اس جیسے بے شمار کرامتوں کے ذریعہ آپ نے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل فرمایا اور لاکھوں مسلمانوں کو داخل سلسلہ کر کے ان کی اصلاح و تزکیہ نفس کا سامان مہیا فرمایا. ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿﺪ ﺍﺷﺮﻑ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﺳﻤﻨﺎﻧﯽ رحمۃاللہ علیہ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺣﻀﺮﺕ شیخ ﻋﻼﻭٔ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮔﻨﺞ ﻧﺒﺎﺕ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺩﯾﻦ کی غرض سے ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ صرف ﺗﻘﺮﯾﺮ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﯼ رکھا. سید اشرف جہانگیر سمنانی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور برگزیدہ صوفی کے علاوہ صاحب تصانیف کثیرہ بزرگ بھی تھے آپ بیک وقت مصنف ، مؤلف، مترجم،مفسر، مجدد، مصلح، محدث، فقیہ، محشی، مؤرخ، مفکر،نعت گوشاعر، منجم اور شارح تھے۔ تمام مروجہ علوم و فنون میں کامل مہارت اور ید طولیٰ رکھتے تھے. محبوب ربانی ہم شبیہ غوث صمدانی حضرت سید شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی اپنی مشہور ومعروف کتاب صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے رقمطراز ہیں: حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خداداد علم تھا کہ روئے زمین میں جہاں تشریف لے گئے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کرکے وہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ آتے بہت سی کتابیں آپ نے عربی ، فارسی ، سوری، زنگی، اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں تصنیف فرمائیں جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک طومار ہو جائے گی۔ علماء جلیل القدر کا یہ قول ہے کہ جس قدر حضرت محبوب یزدانی نے تصانيف فرمائیں بہت کم علماء اس قدر تصانیف
کثیرہ کے مالک ہوئے ہوں گے حضرت سلطا ن سید اشرف جہانگیر سمنانی قد س سرہ النورانی خود فرماتے تھے کہ میری سلطنت میں میرے خاندان سادات نوربخشیہ سے ستر حافظ قرآن اور قاری فرقان ایک زمانے میں موجود تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے حضرت محبوب یزدانی کی کہ پانچ پشتوں میں سلطان ابن سلطان، سید ابن سید، ولی ابن ولی، حافظ ابن حافظ، قاری ابن قاری اور عالم ابن عالم برابر نسلاً بعد نسلاٍ حضرت تک ہوتے چلے آئے۔ *علمی آثار*: آپ کی چند معروف کتب کے اسماء درج ذیل ہیں: (1) ترجمہ قرآن کریم ( بزبان فارسی)(2)رسالہ مناقب: اصحاب کاملین و مراتب خلفائے راشدین (3) رسالہ غوثیہ (4) بشارۃ الاخوان (5) ارشاد الاخوان(6) فوایدالاشرف (7) اشرف الفوائد (8) رسالہ بحث وحدۃ الوجود (9) تحقیقات عشق (10) مکتوبات اشرفی (11) شرف الانساب (12) مناقب السادات(13) فتاوائے اشرفی (14) دیوان اشرف (14) رسالہ تصوف و اخلاق (بزبان اردو)(15) رسالہ حجۃ الذاکرین (16) بشارۃ المریدین (17) کنزالاسرار (18) لطائف اشرفی(ملفوظات)(19) شرح سکندرنامہ(20) سرالاسرار (21)شرح عوارف المعارف (22) شرح فصول الحکم (23) قواعد العقائد (24) تنبیہ الاخوان(25) رسالہ مصطلحات تصوف(26) تفسیر نور بخشیہ (27) رسالہ در تجویز طعنہ یزید(28) بحرالحقائق (29) نحو اشرفیہ (30) کنزالدقائق(31) ذکراسمائے الہی (32) مرقومات اشرفی(33) بحرالاذکار(34) بشارۃ الذاکرین (35) ربح سامانی (36) رسالہ قبریہ (37) رقعات اشرفی(38) تسخیرکواکب (39) فصول اشرفی (40) شرح ہدایہ (فقہ)(41) حاشیہ بر حواشی مبارک(حوالاجات:معارف سلسلہ اشرفیہ ص11،حیات غوث العالم ص74 تا 77، صحائف اشرفی حصہ اول 115 تا 118،سید اشرف جہانگیر سمنانی علمی دینی اور روحانی خدمات صفحہ 173 تا 206)
مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی صرف عربی و فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کے تشکیلی عہد کے میر کارواں تھے جنہیں کچھ ماہرین لسانیات نے دبستانِ اردو کا سب سے پہلا مصنف و ادیب بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ (جسے ہم نے فہرست کتب میں چودھویں نمبر پر شمار کرایا ہے) اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی ہے جو باضابطہ اردو نثر کی پہلی تصنیف ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو 758ھ مطابق 1308 ء میں تصنیف کیا گیا۔ در اصل یہ قلمی نسخہ جو ایک بزرگ مولانا سید وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے 28 صفحات ہیں۔ پروفیسر سید حامد حسن قادری صاحب نے اپنی تحقیق انیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں قادری صاحب نے اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے کہ : حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی کتب میں ایک کتاب "اخلاق و تصوف بزبان اردو بھی ہے محققین کے مطابق یہی اردو نثر کا پہلا رسالہ ہے اب تک کی تحقیق متفق الراۓ تھی کہ شمالی ہند میں اٹھاریوں صدری عیسوی /بارہویں صدی ہجری سے پہلے تصنیف و تالیف و نثر کا کوئی وجود نہ تھا یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چارسو برس پہلے اردو کی تصانیف کا آغاز ہوا لیکن اب سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہوگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند دکن میں امیرخسرؔو اور سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نظم ونثر کی بنیاد ڈالی۔( داستان تاریخ اردو ص 24)
مذکورہ بالا شواہد سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی قدس سرہٗ النورانی صرف ایک روحانی شخصیت ہی کے مالک نہیں تھے بلکہ علمی وادبی میدان میں بھی منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں اہم کردار اداکیا ہے وہیں علمی وادبی لحاظ سے بھی عظیم خدمات انجام دیں اور تاریخ کا ایک حصہ بن گئے لیکن افسو س کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس عظیم شخصیت پر وہ تحقیقی کام نہ ہوسکا جو ہونا چاہئے تھا اگرچہ مختلف حضرات نے آ پ کی سیرت پر لکھا لیکن صرف کشف و کرامات ہی پر اکتفا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ آپ کو صرف ایک ولی کامل کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ آپ کی شخصیت کا ادبی پہلو پردۂ خفا میں رہ گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشف وکرامات کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کے ادبی و علمی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کی جامع الکمالات شخصیت سے کماحقہ آشنا ہوسکیں
مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی صرف عربی و فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کے تشکیلی عہد کے میر کارواں تھے جنہیں کچھ ماہرین لسانیات نے دبستانِ اردو کا سب سے پہلا مصنف و ادیب بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ (جسے ہم نے فہرست کتب میں چودھویں نمبر پر شمار کرایا ہے) اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی ہے جو باضابطہ اردو نثر کی پہلی تصنیف ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو 758ھ مطابق 1308 ء میں تصنیف کیا گیا۔ در اصل یہ قلمی نسخہ جو ایک بزرگ مولانا سید وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے 28 صفحات ہیں۔ پروفیسر سید حامد حسن قادری صاحب نے اپنی تحقیق انیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں قادری صاحب نے اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے کہ : حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی کتب میں ایک کتاب "اخلاق و تصوف بزبان اردو بھی ہے محققین کے مطابق یہی اردو نثر کا پہلا رسالہ ہے اب تک کی تحقیق متفق الراۓ تھی کہ شمالی ہند میں اٹھاریوں صدری عیسوی /بارہویں صدی ہجری سے پہلے تصنیف و تالیف و نثر کا کوئی وجود نہ تھا یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چارسو برس پہلے اردو کی تصانیف کا آغاز ہوا لیکن اب سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہوگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند دکن میں امیرخسرؔو اور سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نظم ونثر کی بنیاد ڈالی۔( داستان تاریخ اردو ص 24)
مذکورہ بالا شواہد سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی قدس سرہٗ النورانی صرف ایک روحانی شخصیت ہی کے مالک نہیں تھے بلکہ علمی وادبی میدان میں بھی منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں اہم کردار اداکیا ہے وہیں علمی وادبی لحاظ سے بھی عظیم خدمات انجام دیں اور تاریخ کا ایک حصہ بن گئے لیکن افسو س کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس عظیم شخصیت پر وہ تحقیقی کام نہ ہوسکا جو ہونا چاہئے تھا اگرچہ مختلف حضرات نے آ پ کی سیرت پر لکھا لیکن صرف کشف و کرامات ہی پر اکتفا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ آپ کو صرف ایک ولی کامل کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ آپ کی شخصیت کا ادبی پہلو پردۂ خفا میں رہ گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشف وکرامات کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کے ادبی و علمی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کی جامع الکمالات شخصیت سے کماحقہ آشنا ہوسکیں
*وصال*:حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ نے۲۸محرم الحرام ۸۰۸ھ کو داعئ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار پر انوار کچھوچھہ مقدسہ ضلع امبیڈکرنگر یوپی میں ہے آپ کی ذات اقدس سے آج تک خلق خدا مستفیض و مستنیر ہورہی ہے ہرسال ماہ محرم کے آخری عشرہ میں 27 1ور 28 تاریخ کو تقریبات عرس نہایت ہی احترام و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں مریدین و زائرین شرکت فرماتے ہیں۔ مولیٰ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مخدومی فیضان سے مالا مال فرمائے۔
HashimAzmi78692@gmail.com
HashimAzmi78692@gmail.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سمنانی ثُـمَّــ کچھوچھوی = ❶
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـہٗ
یوم وفات = 27 محرم ۸۰۸ ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬