🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی📚
http://www.mushahidrazvi.com/p/my-books.html
اللہ کریم کی عطاؤں سے، دین و مذہب، علم و ادب، شعر و سخن، سیرت و سوانح، تنقید و تحقیق، تعلیم و تعلم، ادبِ اطفال اور ترجمہ نگاری کے میدان میں تصنیف و تالیف اور تدوین و ترتیب کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، آپ لوگوں کی دعاؤں کے زیرِ سایہ یہ سفر ان شآء اللہ ﷻ یوں ہی چلتا رہے گا ایسا حوصلہ بزرگوں کے فیوض سے اب بھی باقی ہے ؏ شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/983539092223660/
اللہ کریم آپ سب کو سلامت رکھے!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مولانا افروز قادری چریا کوٹی ↶
https://www.ataunnabi.com/search?q=%DA%86%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%8C&max-results=20&m=1
ہماری بہت سی کتابیں اس پیج پر ہیں۔ قارئین اپنی بے پناہ محبتوں سے نوازتے ہیں اور عزت افزائی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ یہ اسی شیوہ تحسین کا نتیجہ ہے کہ بعض بعض کتابیں پچاسوں ہزار سے زائد مرتبہ ڈاونلوڈ ہوچکی ہیں۔ وذالک من فضل اللہ فقط🌹🙌
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/216266980514956/?substory_index=18
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯تاج الملت و الدین شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت بابا تاج الدین اولیاء علیہ الرحمہ🕯*


*ولادت:* 27 جنوری 1861ء (1297ھ) کو بھارت کے صوبہ مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے 15 کلو میٹر دور كامٹی گاؤں ، محلہ گورا بازار میں ہوئی۔

بابا تاج الدین پیدائش کے وقت سے ہی غیر معمولی تھے، وہ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے ۔
آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کے آبا ؤ اجداد مدینہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ خاندانی پیشہ سپہ گری تھا چنانچہ آپ ؒکے خاندان کے بیشتر بزرگ فوج میں شامل ہوئے۔ آپ کے والد محترم سیدبدرالدین رحمۃ اللّٰه علیہ آپ کی ولادت کے ایک سال بعد رحلت فرماگئے۔
جبکہ والدہ محترمہ حضرت سیدہ بی اماں مریم رحمۃ اللّٰه علیہا صاحبہ بھی آٹھ سال بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔

*پرورش:* آپ کے نانا حضرت شیخ میراں جو ایسٹ اندیا کمپنی کی فوج میں صوبیدار میجر تھے ، ماموں عبدالرحمٰن اور آپ کی نانی نے کی۔

*تعلیم:* حضرت تاجِ الاولیا رحمہ اللّٰه نے ابتدا ئی تعلیم کا مٹی کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ آپ ایک روز مکتب میں موجود تھے کہ کا مٹی میں سلسلہ قادریہ کے مشہور مجذوب بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ قادری کا مٹی رحمۃ اللّٰه علیہ مکتب میں تشریف لائے اور بابا صاحب رحمہ اللّٰه کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معلم سے فرمایا کہ *‘‘ا س کو کیا پڑھا رہے ہو ۔ یہ تو پڑھا پڑھایا آیا ہے ’’*
اتنا کہہ کر عبداللہ شاہ نے اپنی جھولی سے خرما نکال کر نصف خود کھایا اور بچا ہوا تاج الدین رحمہ اللّٰه کے منہ میں رکھ کر کہا :
*‘‘کم کھاؤ، کم سو اور کم بولو اور قرآن شریف پڑھو’’۔*

کہتے ہیں کہ خرما کھاتے ہی تاج الدین رحمہ اللّٰه میں تبدیلی آگئی، اور ان کی اندر کی دنیا ہی بدل گئی، دنیاوی چیزوں میں ان کی دلچسپی بہت کم ہو گئی۔

*بیعت:* اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ بابا تاج الدین نے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پھر بھی دو ہستیاں ایسی ہیں جن سے صرف قربت اور نسبت کا ذکر ملتا ہے۔
ایک سلسلہ قادریہ کے حضرت عبداللہ شاہ قادری، دوسرے سلسلۂ چشتیہ کے بابا داؤد مکی ۔
حضرت عبداللہ شاہ قادری کا مزار کا مٹی اسٹیشن کے پاس ہے۔ نو جوانی کے زمانے میں بابا تاج الدین حضرت عبداللہ شاہ صاحب کی خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔ حضرت عبداللہ شاہ کے سجادہ نشین کی روایت کے مطابق جب حضرت عبداللہ شاہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو تاج الدین ان کے پاس آئے۔ اس وقت شربت بنا کر شاہ صاحب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند گھونٹ پی کر باقی تاج الدین کو پلا دیا۔ روایت ہے کہ سید تاج الدین نے پندرہ سال کی عمر میں قرآن پڑھ لیا تھا اور اس کے بعد دیگر علوم کی تحصیل کی۔

جب تاج الدین 18 سال کے تھے (سن 1879تا 1880) تب كامٹی میں بہنے والے كنہان دریا میں سیلاب آ گیا۔ سیلاب سے ان کے مکان کو بھی کو کافی نقصان پہنچا۔ سن 1881 میں ان کے ماموں عبدالرحمٰن نے انہیں ناگپور کی ریجمنٹ نمبر 13 میں بھرتی کروادیا۔ فوج میں تین سال ملازمت کے بعد انہیں ساگر (مدھیہ پردیش)جانا پڑا۔
ساگر مدراسی پلٹن کے خیمہ (ملٹری کیمپ ) میں پہنچنے کے بعد دورانِ ملازمت وہیں ایک علاقے پیلی کوٹھی میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت داؤد مکی رحمۃ اللّٰه علیہ کے مزار پر تشریف لے جاتے۔
حضرت دا ؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ ، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللّٰه علیہ کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک رحمۃ اللّٰه علیہ کو مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ سے خلافت ملی تھی۔ حضرت داؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنے مر شد کے حکم پر سا گر آئے اور یہیں وصال فر ما یا۔
جب تاج الدین رحمہ اللّٰه فوجی ملازمت کے سلسلے میں سا گر گئے تو آپ نے بابا داؤد مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریاضت و مر اقبے میں گزارے ۔ روایت کے مطابق یہیں تاج الدین کو چشتیہ نسبت اویسیہ طریقے پرمنتقل ہوئی۔
اب بابا تاج الدین کا روز کا معمول تھا کہ دن میں کام کے بعد پوری رات داؤد مکی ساگری ؒرحمہ اللّٰه کے مزارا قدس پر گزارتے اور یاد الہٰی میں محو رہتے۔
کامٹی میں جب نانی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو خیال آیا کہ کہیں کسی بری صحبت میں نہ پڑ گیا ہو۔ یہ سوچ کر نانی صاحبہ ساگر جاپہنچیں تاکہ یہ معلوم کریں کہ نواسہ راتوں کو کہاں رہتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تاج الدین خدا کی بندگی میں راتیں گزارتا ہے تو نانی کے دل کا بوجھ اتر گیا اور وہ نواسے کو دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی گئیں ۔
لیکن رفتہ رفتہ تاج الدین کا وقت داؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی درگاہ پر زیادہ اور ڈیوٹی پر کم رہنے لگے ۔ ایک روز فوج کے کیپٹن کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ تاج الدین ڈیوٹی کے اوقات میں پیلی کوٹھی کی درگاہ پر دیکھے گئے ہیں۔ اس کیپٹن نے تاج الدین کو تنبیہہ کی اور کہا کہ پورے وقت ڈیوٹی پر حاضر رہا کریں ، میں نوٹ کروں گا….!
تاج الدین کو ملٹری کیمپ میں اسلحہ خانے پر پہرہ دینے کا کام سونپا گیا ، ایک رات دو بجے کے قریب فوج کا کیپٹن اچانک معائنے کے لیے آگیا۔ اس نے دیکھا کہ تاج الدین مستعدی سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کیپٹن انہیں دیکھ کر مطمئن روانہ ہوگیا۔
آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نماز ادا کررہا ہے۔ سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر سپاہی پکارا ‘‘ہالٹ’’۔ انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدین رحمہ اللّٰه اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔ وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور؟
اس نے تاج الدین رحمہ اللّٰه سے بات چیت کرکے اپنی پوری تسلی کرلی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔
دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدین کی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کررہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کررہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو؟ تم جادوگر تو نہیں ہو؟
یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے پیٹی، بندوق ، وردی سمیت تمام سرکاری سامان لاکر انہوں نے افسر کی میز پر رکھ دیا ’’لوجی حضّت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضّت‘‘۔
یہ کہہ کر تاج الدین فوراً کمرے سے نکل گئے۔

ناگ پور اور جبل پور شہروں کو ملانے والی شاہراہ کامٹی اور رام ٹیک سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہاں سے بہت بڑا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے گھنے جنگلوں میں قدم قدم پر خونخوار درندے گھومتے ہیں اور دنیا کے زہریلے ترین سانپ پائے جاتے ہیں۔
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین رحمہ اللّٰه نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا ، جہاں قدم قدم پر خونخوار شیر اور جنگلی درندے رہتے تھے اس جنگل کے اژدہے بھی شہرت رکھتے ہیں۔وہاں تاج الدین باباؒ نے کئی برس تک بلا خوف و خطر ریاضت کی۔ کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اُتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب وکیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔ ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر فوج کے ذریعے ان کے گھر بھیجی گئی۔ نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔ نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ كامٹی لے آئیں۔ كامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔
بابا تاج الدین شہر میں واپس آکر خوش نہیں تھے۔ انہیں جب بھی موقع ملتا پھر اپنے جنگل میں جانکلتے ۔ عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا ، بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے۔ کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ عقیدت سے ان کے ہاتھ چومتے لیکن تاج الدین باباؒ فنا کی ان منزلوں پر تھے جہاں پتھروں کی مار اور پھولوں کی بارش میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔ بستی میں آپ کادل نہیں لگتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور کبھی واپس کامٹی پہنچ جاتے۔
کچھ عرصے بعد آپ کی کرامات کا چرچا ہوا تو لوگ دور دور سے آپ کے پاس اپنا درد لے کر آنے لگے۔ بابا صاحب کی دعاؤں سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدتمندوں کا ہجوم رہنے لگا ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ
‘‘ اب ہم پاگل جھونپڑی جائیں’’۔
حالات کچھ ایسے بنے کہ 26 اگست، 1892 کو كامٹھی کے كینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔
پاگل خانہ کا سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ما روتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا،اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر نے بابا صاحب کی پاگل خانے میں موجودگی کا اپنی بیوی سے ذکر کیا ،اُس کی بیوی کے دل میں خیال آیا کہ میں چل کر حضور بابا صاحبؒ سے عرض کروں۔ اُس نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے باباصاحبؒ کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہباً مرہٹہ برہمن تھا،اس لیے اپنی بیوی سے یہ الفاظ سُن کر پہلے تو کچھ ہچکچایا ۔ بعد میں اس نے یہ چاہا کہ کسی طرح بابا صاحب کو اپنے گھر پر بلالے ۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ باباصاحب کی خدمت میںپہنچ گئی اورعرض کیا کہ :
باباصاحب رحمۃ اللّٰه علیہ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ میرے لیے دعا کریں۔
بابا صاحب رحمہ اللّٰه نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ‘‘ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہوتا۔ ’’
یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ، لوگوں کی مرادیں پوری ہورہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے ۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا :
‘‘لڑکیاں کتنی جی ؟’’ تو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں…. بابا صاحب نے فرمایا ۔‘‘ اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑکے بھی پانچ ہوجاتے جی….!’’،
یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔ خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔
ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے غسل کے بعد لڑکے کو حضور بابا صاحب رحمہ اللّٰه کے قدموں میں رکھ دیا۔ باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک نظر دیکھا اور تبسم کے ساتھ فرمایاکہ
‘‘ابھی تو چار اور آتے جی ! لے جانا ، یہ خوش رہے گا ۔’’
پاگل خانے میں بند کئے جانے کے بعد بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظر آئے اور ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔
اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے ونائیک راؤ کی بیوی زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر، وید، حکیم موجود تھے ۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مرچکا تھا اب زچہ کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ۔
مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی ۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب ؒ کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ
‘‘میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعاکی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے ۔’’
مہاراجہ نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ
‘‘ہاں چلو جلدسے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو’’۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر دروازے پر جاکر رُکی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرالیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔ بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے
‘‘ادھر کیا کرتے جی حضت! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا….!’’
ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے کام ہوگیا۔
مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو بیٹا ہواہے اور زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔
مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب ؒ پر اس قدر پختہ ہو اکہ اس نے اسی وقت چیف کمشنر ناگپور بینجمن رابرٹس کے پاس نقد زرضمانت جمع کرا ئی اور بابا صاحب ؒ سے عرض کہ آپ میرے ساتھ چلیے۔ آپ ؒ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔

21 ستمبر، 1908ء کو ناگپور کے مہاراجہ راگھوجی راؤ بھوسلے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بڑی دھوم دھام سے ہاتھی پر سوار کرا کے شكردرہ میں اپنے شاہی محل لے آیا ۔ جہاں تمام اہل خانہ نے باباصاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کااستقبال کیا ۔
مہاراجہ نے محل کا ایک حصے میں بنی ‘‘لال كوٹھی’’ آپ کے لیے مخصوص کردی ۔ راجہ خود صبح شام ان کو حاضری دیتے تھے ۔لال کوٹھی میں بھی ہروقت عام لوگوں کا ہجوم لگا رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے ان عقیدتمندوں کے لیے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ۔ آج بھی یہ محل عوام کے لیے وقف ہے اور زائرین زیارت کے لیے دور دور سےآتے ہیں۔
ایک مرتبہ بیگم راجہ آف بھوپال آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ اپنے ساتھ انواع اقسام کے کھانے لائیں اور بابا صاحب سے عرض کیا ‘‘اس میں سے کچھ تناول فرمائیں ’’۔
بابا صاحب نے چند لقمے لیے اس دوران بیگم صاحبہ نے دل میں سوچا کہ اتنے اچھے کھانے یہاں کون پکا کر باباصاحب ؒ کو کھلاتا ہوگا۔ آپ نے فوراً ہی فرمایا
‘‘یہ کھانا ہمارے کام کا نہیں۔ ہمیں ایسا کھانا کون کھلا سکتا ہے’’ اور یہ کہہ کر زمین سے پتھر اٹھا کر ویسے ہی کھانے لگے
جیسے کھانا تناول فرما رہے ہوں…. بیگم صاحبہ بہت ہی شرمندہ ہوئیں۔
چیف کمشنر بینجمن رابرٹس کی بھتیجی بہت شدید بیمار تھی۔ لندن میں ہر طرح کا علاج کروایا لیکن اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا تھا ۔ اسے کسی طرح بھی آرام نہ آرہا تھا ۔ بابا تاج الدین رحمہ اللہ کا شہر ہ سن کر وہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ رگھو راؤ نے ڈرتے ڈرتے بابا صاحب سے سوال کیا ۔ ‘‘چیف کمشنر رابرٹس آئے ہیں ۔ اگر اجازت ہو تو بلا لاؤں ؟’’
‘‘بلالے بلالے ، بے چارہ پریشان ہے، تاج الدین کسی کو نکو روکتاجی ۔ ’’
راجہ کے ہمراہ سر بینجمن ننگے پاؤں حجرے میں داخل ہوا…. بابا جی نے بڑے اطمینان سے کہا….‘‘تو کائے کو اتنا خرچہ کیا ؟ بچی کو ناحق تکلیف دیا۔ بٹیا کو مٹی سنگھاتے ،اچھے ہو جاتے ۔ ’’
کوئی نہ سمجھ سکا بابا صاحب کیا کہہ رہے ہیں ۔ باباصاحب خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ دورازے کی جانب سر بینجمن کی میم اور جواں سال بھتیجی رگھوجی راؤ کی بیوی کے ہمراہ کھڑی تھیں۔ بابا نے ان کو دیکھا فوراً کھڑے ہوگئے ….‘‘آجاؤ رے’’….رانی لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی جس کے سر پرپٹی بندھی تھی۔
‘‘بابا ! اس کے سر میں درد رہتا ہے۔ لندن میں کسی بھی علاج سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سر بینجمن نے اسے آپ سے دم کرانے کے لیے وہاں سے بلوایا ہے’’….وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی ۔
‘‘یہ تو پگلا ہے جی بچی کو تکلیف دیا۔ تاج الدین رحمہ اللّٰه کو بولنا تھا….’’ پھر بڑی شفقت سے لڑکی کو اپنے قریب بٹھایا اور بولے
‘‘پریشان نکو ہوتے ….بیٹی۔ مٹی سونگھ لیتے۔ اچھے ہوجاتے۔ پٹی کھول دیتے….’’ شفقت اور مٹھاس ان کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی ۔ لڑکی کچھ بھی نہ سمجھی۔ وہ اردو سے ناآشنا تھی۔ وہ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
‘‘ کونسی مٹی۔ رگھوجی نے پوچھا ….’’
بینجمن رابرٹس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا‘‘یہ لائے گاجی ۔ بچی کو سونگھا دے۔ جی اچھے ہوجاتے’’۔
سر بینجمن رابرٹس بابا کی خدمت میں پہلے بھی حاضری دے چکاتھا۔ بات سمجھ گیا فوراً تھوڑی سی مٹی ا ٹھا لایا اور بچی کو اُسے سونگھ لینے کی ہدایت کی۔ مٹی کو سونگھتے ہی بچی کو تین چار چھینکیں آئیں
‘‘بس بیٹی….! بس اب اچھے ہوگئے ’’ باباصاحب نے فرمایا ۔
رانی نے بچی کے سر کی پٹی کھولی۔ درد سر بالکل غائب ہوگیاتھا…. فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔
یہ سب لوگ سراپا تشکر اور سپاس بنے ہوئے تھے، سر بینجمن نے احساس تشکر کے ساتھ ساتھ بابا صاحب کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی تو آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے ۔ مگر آپ کے الفاظ میں بڑینرمیتھی ۔

‘‘بیٹی باپ کو نذزانہ نہیں، باپ بیٹی کو دیتا ہے ….’’ یہ کہا اور گاؤ تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا اور چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور وہ لوگ شاداں وِِفرحاں رخصت ہوگئے ۔
سر بینجمن کی بابا صاحب سے یہ ملاقات مہاراشٹر کے مسلمانوں کے حق میں رحمت ثابت ہوئی۔ سربینجمن نے بڑی تعداد میں وہاں اسکول اور مدرسے قائم کیے، مسلمانوں کی درسگاہوں کے لیے زمینیں فراہم کیں، عمارتوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرتے رہے۔
جبل پور میں مسلمانوں کا اسکول آج بھی رابرٹس انجمن اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے موجود ہے۔ انہوں نے وہاں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود رابرٹس کالج بھی قائم کیا….ناگپور کا انجمن اسلامیہ ہائی اسکول بھی سر بنجمن اور تاج الدین بابا کی اسی ملاقات کی یاد گار ہے۔

عبد الصمدنام کے بزرگ بھیکی پورجائس سے بابا کے پاس آئے۔ ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ کسی طرح انہیں کشف عطا ہوجائے۔ لیکن جب بابا سے آمنا سامنا ہوا تو وہ مدعا نہ کہہ سکے۔ بابا اس وقت بیڑی پی رہے تھے۔بابا نے بیڑی ان کو دیتے ہوئے کہا‘‘یہ لو کشف’’۔
عبد الصمد نے بیڑی کا ایک ہی کش لیا تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔
بابا نے کہا‘‘اب جاؤ تمہارے پانی سے شفا ہوتیحضت….!’’
عبد الصمدوہاں سے کشف وکرامات لے کر واپس ہوئے۔ دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی اور اتنی کثرت سے ضرورت مند پہنچنے لگے۔ ہندوستان کے طول وعرض میں ان کی دھوم مچ گئی۔ جہاں بھی ان کا دیا ہوا پانی پہنچا کیسا ہی مرض ہوتا ختم ہوجاتا۔ یہ سلسلہ عرصے تک جاری رہا۔ ایک بار کسی عورت کا بچہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ لیکن اتفاق سے وہ ایسے وقت میں عبد الصمد کے ہاں پہنچی جب عورتیں بے نماز ہوتی ہیں۔ عبد الصمد اس عورت کو دیکھ کر جلال میں آگئے اور چیخے کہ اس عورت کو باہر نکال دو ناپاک ہے۔ عورت نکالدیگئی۔
وہ پریشان حال شکستہ دل عورت بابا تاج الدین سے ناگپور ملنے گئی لیکن ناپاکی کے خیال سے دور ایک موسری کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئی۔ دل میں سوچنے لگی کہ جانے گھر جاکر بچہ زندہ بھی ملے گا یا نہیں۔ ادھر بابا نے ایک خادم کو حکم دیا کہ جاؤ موسری کے درخت کے نیچے ایک عورت بیٹھی ہے اسے بلالاؤ۔ خادم اس عورت کو بلالایا۔ وہ آتے ہی ایک فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ بابا انتہائی شفقت سے بولے :
‘‘ اماں!….’’
سہمی ہوئی عورت قریب آگئی۔ بابا بولے :
‘‘عبد الصمد ایک لٹیا پانی تھا گندہ ہوگیا تاج الدین سمندر ہے’’۔
عورت روتی ہوئی ان کے قدموں پر گر پڑی۔
بابانے کہا :‘‘نکو اماں! روتے نہیں، گھر جاتے بچہ کھیلتا ملتا، اچھا رہتا’’۔
عورت خوشی خوشی واپس چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی بابا نے جائس کی طرف منہ کرکے انگریزی میں کہا ‘‘عبد الصمد سسپنڈڈ’’۔
اسی لمحے جائس میں عبد الصمد کی تمام صلاحیت سلب ہوگئی۔
بیرہٹ اب تاج آباد کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دن بابا گھومتے ہوئے اس جگہ جاکر رُک گئے جہاں اب ان کا مزار ہے وہاں انہوں نے زمین سے تھوڑی مٹی اُٹھائی اور کہا :
سبحان اﷲ کیا اچھی مٹی ہے۔
ذیقعد 1343ھ میں بابا ڈگوری کے پل پر مقیم تھے یکایک وہ اپنے ایک معتقد سے پوچھنے لگے ۔
‘‘عید کا چاند دکھ گیا….؟’’۔ جواب ملا’’رمضان کی عید ہوچکی ہے اب بقرعید کا چاند دکھے گا’’….
بابا تاج الدین بولے ‘‘ہوبابو اب اس کے بعد چاند دکھے گا’’۔
اس کے بعد سے بابا تاج الدین کی طبیعت ناساز رہنے لگی ۔ راجہ رگھو راؤ نے بابا صاحب کے علاج کے لیے ناگپور سے ماہر ڈاکٹر بلوائے، لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔

*وفات:* 26 محرم الحرام بمطابق17اگست 1925ء بروز پیر (چھیاسٹھ برس کی عمر میں )مغرب کے وقت بابا نے ہاتھ اُٹھا کر ایک لمحے کے لیے دعا کی۔ پلنگ سے اُٹھ کر چاروں طرف دیکھا پھر سکون سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے…. اسی حالت میں دارفانی سے کوچ فرمایا۔
آپ کا مزار تاج آباد (تاج باغ) امریڈ روڈ، ناگپور میں مرجع خلائق ہے۔


*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید جلال الدین بخاری۔
*کنیت:* ابو عبداللہ۔
*لقب:* جہانیاں جہاں گشت، مخدوم جہانیاں، سیاح عالم۔
آپ کا نام اپنے جد بزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری رحمہ اللّٰه کے نام پر رکھا گیا۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا سلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللّٰه عنہ تک منتہی ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق ساداتِ بخارا سے ہے۔
*(تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)*

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 14/شعبان المعظم 707ھ مطابق 9/فروری1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پور پنجاب میں سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے گھر پر ہوئی۔ آپ کی جبین مبارک سے سعادت مندی اور رشد و ہدایت کے آثار واضح تھے۔ حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی رحمۃ اللّٰه علیہ سے منقول ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد گرامی آپ کو شیخ جمال خنداں رو رحمہ اللّٰه کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔ حضرت جمال خندہ رو رحمہ اللّٰه نے فرمایا:
’’اس فرزند کی عظمت و بزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب (شب برات ) کی ہے‘‘۔
*(یاد گار سہروردیہ:206)*

*تحصیل علم:* آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اوچ شریف میں ہوئی۔ علامہ قاضی بہاءالدین آپ کے استاذ تھے۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد ہدایہ و بزودی ختم کرنے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔ شیخ موسیٰ اور مولانا مجدالدین جیسے شفیق استاذ ملے۔ آپ نے ہدایہ اور بزودی جلد ہی ختم کی۔ بعد ازاں مدینہ منورہ جاکر مزید تعلیم حاصل کی۔ ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح رحمہ اللّٰه کی اجازت سے مدرسے میں رہتے تھے۔ اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔ آپ کے استاذ شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہروردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔ آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
*(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)*

*بیعت و خلافت:* آپ اپنے والد گرامی سید احمد کبیر رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت و اجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔ اپنے چچا حضرت محمد غوث رحمہ اللّٰه سےخرقہ خلافت پہنا۔ والد کے وصال کے بعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی رحمہ اللّٰه کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔ زیادہ تر آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔
آپ فرماتے ہیں: میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء سےعالم خواب میں پہنا جو بیدار ہونے کے بعد سر پر پایا۔ حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کے خلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے، حضرت قطب الدین منور سے، حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے، شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے، شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے، قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے، شیخ اسحاق گازرونی سے، شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے، شیخ حمیدالدین سے، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ شیخ شرف الدین محمود شاہ سے، سید احمد رفاعی سے، شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے، حضرت خضر سے، حضرت احد الدین حسنی سے، حضرت شیخ نور الدین سے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
*(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:117)*

*سیرت و خصائص:* والئی اقلیمِ ولایت، حامی سنت، ماحیِ بدعت، غریق بحر ِمحبت، مقتدائے اہل مودت، شمع قصر ہدایت، سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ اپنے وقت کےعالم ِ متبحر، صوفیِ اعظم، اور دینِ مصطفیٰ ﷺ کے عظیم داعی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے دین کو ہر سو پھیلایا۔ جہاں بھی تشریف لے گئے دین کی بہاریں ساتھ لے گئے۔ جب واپس ہوتے تو گلشنِ اسلام سرسبز و شاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔ شہادت سید الشہداء کا یہی فلسفہ تھا کہ
مصطفیٰﷺ کے لائے دین کو آباد رکھنا ہے۔ آپ کے دستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سے مشرف ہوئے۔ جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کے علاقے میں آپ کا فیضان عام ہے۔ ریاست کاٹھیاواڑ کے نواب کو آپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کا گہوارہ بن گئی۔ اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔
(انسائیکلوپیڈیا:127)۔

سلطان محمد تغلق شاہ کے عہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘ کے منصب پر فائز رہے۔ آپ نے کثیر تعداد میں مدارس و مساجد اور خانقاہوں کی تعمیر کرائی۔

حضرت مخدوم جہانیاں رحمۃ اللّٰه علیہ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن و حدیث تفسیر و فقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کا درس مشہور ِعام تھا۔ علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔ آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ و قدوری کا درس دیتے تھے۔ اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے۔ آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔
(انسائیکلو پیڈیا:ج5،ص128)

اللہ اکبر! یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔ پہلے علاقہ اوچ شریف سے تحصیل علم کے لئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ پھر ساری زندگی اس علم کو جہاں بھر میں تقسیم فرمایا۔ اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔ آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جو تفسیر بیضاوی و جلالین اور بخاری و مشکوٰۃ کا درس دے رہا ہو۔ الاماشاء اللہ۔
یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کر غیر مسلم اسلام قبول کر لیتے تھے۔ اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہو رہے ہیں۔

آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ، تہجد، اشراق، چاشت، صلوۃ الاوابین، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے، اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اوراد و وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے۔ رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہا نہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔ آپ نے چھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔ شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ فتوحات اس لیے قبول کر لیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔ آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے۔
ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقشِ پا ہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کا تاج سمجھتا ہوں۔اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبر لیتے تھے۔
(ہمارے مشائخِ زمانہ میں یہ آداب و اخلاق مفقود ہیں)

آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔ اس کے علاوہ یمن، عدن، دمشق، لبنان، مدائن، فارس، بصرہ، کوفہ، شیراز، تبریز، ایرانز بلخ، نیشاپور، خراساں، سمرقند، گارزون، بحرین، قطیف، غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور، ملتان، بھکر، الور، روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔
اسی بناء پر آپ کو ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سے دنیا پہچانتی ہے۔ آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفر نامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘ میں موجود ہے۔

*بارگاہِ مصطفیٰﷺ میں قبولیت:* جب آپ اوچ شریف سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے، اور بارگاہِ سیدالعالمینﷺ میں عرض گزار ہوئے:
’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘۔
آپ کو جواب ملا:
’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)*

آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ملفوظات و تعلیمات آب زر سےلکھنے کے قابل ہیں۔ ان میں چند یہ ہیں۔
*(1)* جاہل صوفیوں سے دور رہو، کیوں کہ وہ دین کے چور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں۔
*(2)* علم لدنی کے لئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو۔
*(3)* ہر مسلمان پر عمل سے پہلے علم واجب
ہے۔
*(4)* اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
*(تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)*

*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 10/ذوالحج 785ھ، بروز پیر، عیدالاضحیٰ، مطابق 2/فروری 1384ء کو ہوا۔ مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے۔

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام۔ تذکرہ جہانیاں جہاں گشت۔ تذکرہ اولیائے پاکستان جلد دوم۔ یادگار سہروردیہ۔


*المرتب محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ🕯


نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید اشرف۔
لقب: جہانگیر، شاہِ سمنان۔
آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خدیجہ بیگم تھا۔ آپ سمنان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ولادت باسعادت: آپ نے 688ھ، میں اس عالم کو روشنی بخشی۔
ولادت کی پیشین گوئی: آپ کی ولادت سے قبل حضرت خواجہ احمد یسوی کی روح پاک نے آپ کی والدہ ماجدہ کو مطلع کیا تھا کہ آپ کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو اپنے نور ولایت سے دنیا کو روشن کرے گا۔

تعلیم و تربیت: آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا اور ساتھ ہی ساتھ قرأت بھی سیکھی۔ پھر علوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔ چودہ سال کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔

والد کا وصال: ابھی آپ علوم ظاہری سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

تخت نشینی: والد کے انتقال کے بعد آپ تخت پر بیٹھے اور حکومت سنبھالی۔

بشارت: آپ حضرت اویس قرنی کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نے آپ کو ذکر اویسیہ تعلیم فرمایا۔ ایک دن حضرت خضر علیہ السلام نے تشریف لاکر آپ سے فرمایا کہ: "اگر خدا کی طلب ہے تو دنیا کو چھوڑو، ہندوستان جاؤ اور شیخ علاؤالدین بنگالی سے اپنا حصہ لیں"۔

تخت سے دست برداری: حضرت خضرعلیہ السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی۔ آپ تاج و تخت سے دست بردار ہوئے۔
حکومت سلطان محمود کے سپرد فرمائی اور اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر ہندوستان روانہ ہوئے۔

ہندوستان میں آمد: اوچ پہنچ کر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہوئے، پھر دہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔
بیعت و خلافت: حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی نےآپ کا شاندار استقبال کیا۔ آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے حلقہ ارادت میں آپ کو داخل کیا۔ "جہاں گیر" کے لقب سے آپ کو ممتاز کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز کیا۔

سیرت مبارک: آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ نے چار خانوادوں سے فیض حاصل کیا۔آپ علم، عبادت، مجاہدہ، زہد و تقویٰ، حلم، جود و سخا، تحمل اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔
آپ فرماتے ہیں: "جب سالک عقائد و اصطلاح صوفیہ سے واقف ہوگیا تو اس کےلئے ضروری ہے کہ زیادہ وقت محفل توحید میں صرف کرے اور مثل بگلے کے بیٹھا رہے۔"
آپ سے پوچھا گیا کہ بگلےکی طرح بیٹھنے سے کیا مطلب ہے۔؟
آپ نے جواب دیا: "بغیر تلاش کے پانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدار ہو جانا"۔
ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمت خلق سے بہتر ہے ان کا یہ خیال غلط ہے۔کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے۔ دونوں کے نتیجے پر نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ خدمت خلق نوافل پڑھنےسے بہتر ہے"۔ (تذکرہ اولیائے پاک وہند:125)

وصال: آپ نے 27 محرم الحرام 808ھ کو اس جہان فانی سے سفر دار آخرت فرمایا۔آپ کا مزار پرانوار کچھوچھ شریف، یوپی، انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دبستان اردو کے پہلے ادیب و مصنف
*حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی علمی خدمات*

تحریر *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719
اردو زبان کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں لیکن ان تمام نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ اردو کی بنیاد برصغیر ہندوپاک میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی. بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اردو زبان کی ابتداء چاہے جب اور جس علاقے میں ہوئی ہو لیکن ایک بات مسلم ہے کہ اس کی نشو و نما میں خانقاہی ادارے خاص طور سے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جہاں کے صوفی معاشرہ میں ہر طرح کے لوگوں کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اس میں مذہب ، ذات پات اور طبقات کا فرق حائل نہیں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر اقبال نے ایک موقع پر یہ شعر کہا ہے :
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اردو زبان کےتشکیلی عہد میں صوفیاء کی جو لسانی خدمات رہی ہیں اس سے ہر گزانکار نہیں کیا جا سکتا،اس ضمن میں جن صوفیاء کو سب سے زیادہ اعتبار حاصل ہے ان میں خواجہ معین الدین چشتی: (متوفی 1235ء)خواجہ فرید الدین گنج شکر : (متوفی 1265ء)شیخ شرف الدین بو علی قلندر (متوفی 1323ء) امیر خسرو:(متوفی 1324ء)شیخ برہان الدین غریب: (متوفی1338ء)شیخ سراج الدین اخی سراج (متوفی 1365) اور شیخ شرف الدین یحیی منیری (متوفی 1370) شیخ عین الدین گنج العلم (متوفی1393) حاجی رومی (متوفی555ھ)سید شاہ مومن عارف اللہ (متوفی 597ھ)بابا مظہر طبل عالم (متوفی 662ھ)شاہ جلال الدین گنج رواں (متوفی 644ھ) سید احمد اکبر جہاں قلندر (متوفی659ھ)شاہ علی پہلوان (متوفی 672ھ)شاہ حسام الدین (680ھ)صوفی سرمست(متوفی 680ھ)بابا شرف الدین (متوفی 687ھ) بابا شہاب الدین (متوفی 691ھ) بابا فخر الدین (694ھ) سید اعزالدین حسینی(متوفی 699ھ)شیخ نورالحق پنڈوی متوفی (813ھ) حضرت قطب عالم (ولادت790ھ ،وفات 850ھ) حضرت شاہ عالم (ولادت 817ھ،وفات880ھ)شیخ بہاو الدین باجن (وفات 912ھ)سلطان شاہ غزنی (وفات 922ھ) شاہ علی جیو گام دھنی (وفات 972ھ) میاں خوب محمد چشتی (وفات 1023ھ)شاہ وجیہہ الدین علوی (وفات 998ھ) سید شاہ ہاشم علوی (وفات 1059ھ) خواجہ بندہ نواز گیسو دراز:(متوفی 1422ء)برہان الدین قطب عالم: (متوفی 1453ء)سراج الدین ابوالبرکات شاہ عالم :(متوفی 1475ء)شاہ صدر الدین :(متوفی 1471ء)شاہ میراں جی شمس العشاق : (متوفی 1496ء)سید محمد جونپوری : (متوفی 1504ء)قاضی محمود دریائی : (متوفی 1534ء)شیخ عبدالقدوس گنگوہی : (متوفی 1538ء)شیخ برہان الدین جانم : (متوفی 1582ء)شاہ حسین : (متوفی 1599ء)عبدالرحیم خان خاناں : (متوفی 1626ء)سلطان باہو : (متوفی 1690ء)بلھے شاہ : (متوفی 1787ء)
وغیرہ جیسے سینکڑوں صوفیاء شامل ہیں۔ان تمام اکابر صوفیاء کی جو لسانی خدمات ہیں اس نے اردو کو ہندوستان میں بحیثیت زبان اس ملک کے کونے کونے تک پھیلا یا اور عوام کو اس زبان سے اتنا قریب کر دیا کہ یہ ایک بولی سے زبان کی صورت اختیار کرتی چلی گئی،(ماخوذ:اردو کی ابتدائی نشوونما میں صوفیا ئے کرام کا کام، مولوی عبدالحق/اردو کا ابتدائی زمانہ)
بقول انور سدید: درویشان ہند نے اپنے باطن کی روشنی کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئے اردو الفاظ کا سہارا لیا اور قربت واپنائیت کا وہ جذبہ پیدا کیا جو مسلم بادشاہان ہند اپنی دولت و ثروت کے باوجود پیدا نہ کر سکے۔ ہم زبانی کے اس عمل نے اردو زبان کی ابتدائی نشو نما کو گراں قدر فائدہ پہنچایا۔”(اردو کا ابتدائی زمانہ ص:69)
اردو زبان کی ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے فروغ میں صوفیائے کرام کا نمایاں کردار رہا ہے زبان کے تشکیلی مراحل سے اس کی ترقی تک صوفیا کرام کے مختلف سلسلوں نے اس کو اختیار کیا اور اس سے قربت کا محرک بنے۔ اگرچہ صوفیا کرام کا اصل مقصد تبلیغ و اصلاح تھامگر بندگان خدا تک ترسیل و ابلاغ کے ایک ذریعے کے طور پر انھوں نے اس زبان کو اختیار کیا۔ کچھ تو ان کا خلوص اور جدوجہد اور کچھ اردو زبان کا عوامی لہجہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو تقویت بخشی۔ واقعہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں منہمک تھے جہاں دنیا داری کا شائبہ تک نہیں تھا بلکہ ایثار و اخلاص کی کارفرمائی تھی۔ اثیارواخلاص کے اسی ماحول میں اردو زبان نے اپنا سفرشروع کیا.