🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی📚
http://www.mushahidrazvi.com/p/my-books.html
اللہ کریم کی عطاؤں سے، دین و مذہب، علم و ادب، شعر و سخن، سیرت و سوانح، تنقید و تحقیق، تعلیم و تعلم، ادبِ اطفال اور ترجمہ نگاری کے میدان میں تصنیف و تالیف اور تدوین و ترتیب کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، آپ لوگوں کی دعاؤں کے زیرِ سایہ یہ سفر ان شآء اللہ ﷻ یوں ہی چلتا رہے گا ایسا حوصلہ بزرگوں کے فیوض سے اب بھی باقی ہے ؏ شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/983539092223660/
اللہ کریم آپ سب کو سلامت رکھے!
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مولانا افروز قادری چریا کوٹی ↶
https://www.ataunnabi.com/search?q=%DA%86%D8%B1%DB%8C%D8%A7%DA%A9%D9%88%D9%B9%DB%8C&max-results=20&m=1
ہماری بہت سی کتابیں اس پیج پر ہیں۔ قارئین اپنی بے پناہ محبتوں سے نوازتے ہیں اور عزت افزائی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ یہ اسی شیوہ تحسین کا نتیجہ ہے کہ بعض بعض کتابیں پچاسوں ہزار سے زائد مرتبہ ڈاونلوڈ ہوچکی ہیں۔ وذالک من فضل اللہ فقط🌹🙌
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/216266980514956/?substory_index=18
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯تاج الملت و الدین شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت بابا تاج الدین اولیاء علیہ الرحمہ🕯*


*ولادت:* 27 جنوری 1861ء (1297ھ) کو بھارت کے صوبہ مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے 15 کلو میٹر دور كامٹی گاؤں ، محلہ گورا بازار میں ہوئی۔

بابا تاج الدین پیدائش کے وقت سے ہی غیر معمولی تھے، وہ عام بچوں کی طرح روتے نہیں تھے ۔
آپ رحمۃ اللّٰه علیہ کے آبا ؤ اجداد مدینہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ خاندانی پیشہ سپہ گری تھا چنانچہ آپ ؒکے خاندان کے بیشتر بزرگ فوج میں شامل ہوئے۔ آپ کے والد محترم سیدبدرالدین رحمۃ اللّٰه علیہ آپ کی ولادت کے ایک سال بعد رحلت فرماگئے۔
جبکہ والدہ محترمہ حضرت سیدہ بی اماں مریم رحمۃ اللّٰه علیہا صاحبہ بھی آٹھ سال بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔

*پرورش:* آپ کے نانا حضرت شیخ میراں جو ایسٹ اندیا کمپنی کی فوج میں صوبیدار میجر تھے ، ماموں عبدالرحمٰن اور آپ کی نانی نے کی۔

*تعلیم:* حضرت تاجِ الاولیا رحمہ اللّٰه نے ابتدا ئی تعلیم کا مٹی کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ آپ ایک روز مکتب میں موجود تھے کہ کا مٹی میں سلسلہ قادریہ کے مشہور مجذوب بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ قادری کا مٹی رحمۃ اللّٰه علیہ مکتب میں تشریف لائے اور بابا صاحب رحمہ اللّٰه کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معلم سے فرمایا کہ *‘‘ا س کو کیا پڑھا رہے ہو ۔ یہ تو پڑھا پڑھایا آیا ہے ’’*
اتنا کہہ کر عبداللہ شاہ نے اپنی جھولی سے خرما نکال کر نصف خود کھایا اور بچا ہوا تاج الدین رحمہ اللّٰه کے منہ میں رکھ کر کہا :
*‘‘کم کھاؤ، کم سو اور کم بولو اور قرآن شریف پڑھو’’۔*

کہتے ہیں کہ خرما کھاتے ہی تاج الدین رحمہ اللّٰه میں تبدیلی آگئی، اور ان کی اندر کی دنیا ہی بدل گئی، دنیاوی چیزوں میں ان کی دلچسپی بہت کم ہو گئی۔

*بیعت:* اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ بابا تاج الدین نے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پھر بھی دو ہستیاں ایسی ہیں جن سے صرف قربت اور نسبت کا ذکر ملتا ہے۔
ایک سلسلہ قادریہ کے حضرت عبداللہ شاہ قادری، دوسرے سلسلۂ چشتیہ کے بابا داؤد مکی ۔
حضرت عبداللہ شاہ قادری کا مزار کا مٹی اسٹیشن کے پاس ہے۔ نو جوانی کے زمانے میں بابا تاج الدین حضرت عبداللہ شاہ صاحب کی خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔ حضرت عبداللہ شاہ کے سجادہ نشین کی روایت کے مطابق جب حضرت عبداللہ شاہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو تاج الدین ان کے پاس آئے۔ اس وقت شربت بنا کر شاہ صاحب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند گھونٹ پی کر باقی تاج الدین کو پلا دیا۔ روایت ہے کہ سید تاج الدین نے پندرہ سال کی عمر میں قرآن پڑھ لیا تھا اور اس کے بعد دیگر علوم کی تحصیل کی۔

جب تاج الدین 18 سال کے تھے (سن 1879تا 1880) تب كامٹی میں بہنے والے كنہان دریا میں سیلاب آ گیا۔ سیلاب سے ان کے مکان کو بھی کو کافی نقصان پہنچا۔ سن 1881 میں ان کے ماموں عبدالرحمٰن نے انہیں ناگپور کی ریجمنٹ نمبر 13 میں بھرتی کروادیا۔ فوج میں تین سال ملازمت کے بعد انہیں ساگر (مدھیہ پردیش)جانا پڑا۔
ساگر مدراسی پلٹن کے خیمہ (ملٹری کیمپ ) میں پہنچنے کے بعد دورانِ ملازمت وہیں ایک علاقے پیلی کوٹھی میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت داؤد مکی رحمۃ اللّٰه علیہ کے مزار پر تشریف لے جاتے۔
حضرت دا ؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ ، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللّٰه علیہ کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک رحمۃ اللّٰه علیہ کو مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمتہ اللہ علیہ سے خلافت ملی تھی۔ حضرت داؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنے مر شد کے حکم پر سا گر آئے اور یہیں وصال فر ما یا۔
جب تاج الدین رحمہ اللّٰه فوجی ملازمت کے سلسلے میں سا گر گئے تو آپ نے بابا داؤد مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریاضت و مر اقبے میں گزارے ۔ روایت کے مطابق یہیں تاج الدین کو چشتیہ نسبت اویسیہ طریقے پرمنتقل ہوئی۔
اب بابا تاج الدین کا روز کا معمول تھا کہ دن میں کام کے بعد پوری رات داؤد مکی ساگری ؒرحمہ اللّٰه کے مزارا قدس پر گزارتے اور یاد الہٰی میں محو رہتے۔
کامٹی میں جب نانی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو خیال آیا کہ کہیں کسی بری صحبت میں نہ پڑ گیا ہو۔ یہ سوچ کر نانی صاحبہ ساگر جاپہنچیں تاکہ یہ معلوم کریں کہ نواسہ راتوں کو کہاں رہتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تاج الدین خدا کی بندگی میں راتیں گزارتا ہے تو نانی کے دل کا بوجھ اتر گیا اور وہ نواسے کو دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی گئیں ۔
لیکن رفتہ رفتہ تاج الدین کا وقت داؤد مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی درگاہ پر زیادہ اور ڈیوٹی پر کم رہنے لگے ۔ ایک روز فوج کے کیپٹن کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ تاج الدین ڈیوٹی کے اوقات میں پیلی کوٹھی کی درگاہ پر دیکھے گئے ہیں۔ اس کیپٹن نے تاج الدین کو تنبیہہ کی اور کہا کہ پورے وقت ڈیوٹی پر حاضر رہا کریں ، میں نوٹ کروں گا….!