🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
الحمدللہ ایک دین دار گھرانے میں آنکھ کھولی اور بچپن ہی سے علم اور علما کی محبت سیکھی ۔
بچپن میں کتابیں پڑھنے کے شوق کے ساتھ ساتھ علما کی تقریریں سننے کا بھی بے حد شوق رہا ، جیسے ہی معلوم ہوتا فلاں جگہ محفل پاک ہے اور فلانے عالم اور خطیب صاحب آرہے ہیں تو بصد شوق وہاں چلے جاتے ، تقریر سنتے ، اُسے یاد رکھتےاور احباب کو سناسنا کے محظوظ ہوتے رہتے ۔

اُس وقت ایک بات تھی کہ علما و خطبا ، اہل سنت میں انتشار و افتراق کا سبب نہیں بنتے تھے ، نہ تفضیلیوں ، تفسیقیوں کی طرح چولیں مارتے تھے ، بلکہ مسلک اعلیٰ حضرت سے وفا کرتے تھے ۔
وہ اہل بیت پاک کاذکر کرتے تو اتنے خلوص سے کرتے کہ دل چاہتا سنتے ہی رہیں ، صحابہ کرام کو یاد کرتے تو اتنے ادب سے کرتے کہ بے ساختہ سرتعظیم سےجھک جاتے ۔

لفظ مفتی آج کی طرح ہلکا نہیں ہوگیا تھا کہ جس کا جی چاہے مفتی کہلاتا پھرے ، اجلہ علما بھی خود کو مفتی نہیں کہلاتے تھے ، نہ فتوی دینے میں اس قدر جری تھے ۔
ہمارے گاؤں میں ایک طلاق ہوگئی ، قبلہ دادا جی پیش امام تھے وہ فتوی لینے علامہ ابوالنور محمد بشیر صاحب کے پاس پہنچے جو مستند عالم اور فقیہ اعظم کے بیٹے تھے ، لیکن انھوں نے فرمایا:

میں مفتی نہیں ہوں ، اس لیے فتوی نہیں دے سکتا ، آپ جامعہ حنفییہ دو دروازے چلے جائیں وہ فتوی دیں گے ۔

اور جامعہ حنفیہ میں قبلہ شیخ الحدیث استاذالعلما حافظ محمد عالم رحمہ اللہ فتوی دیتے تھے لیکن اپنے مفتی ہونے کی ( آج کی طرح ) تشہیر نہیں کیا کرتے تھے ۔

اب بڑی تشویش ناک صورت حال ہوتی جارہی ہے ، بس اللہ پاک ہی ہمارے حال پر رحم فرمانے والا ہے ۔

✍️لقمان شاہد
30-8-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3245823089031191&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج اپنی ایک پرانی تحریر نظر سے گزری ، سوچا آپ سے شیئر کردوں ، اگرچہ یہ کچھ طویل ہے لیکن کام کی ہے ۔

فارسی زبان میں جوحروف استعمال ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

ا ، ب ، پ ، ت ، ث ، ج ، چ ، ح ، خ ، د ، ذ ، ر ، ز ، ژ ، س ، ش ، ص ، ض ، ط ، ظ ، ع غ ، ف ، ق ، ک ،گ ، ل ، م ، ن ، و ، ہ ، ء ، ی -
ان میں 29 تووہی ہیں جو عربی زبان کے ہیں ، صرف یہ چار حروف زیادہ ہے:

پ ، چ ، ژ ، گ ۔

الف: فارسی کاپہلاحرف ہے ، یہ جب کسی دوحرفی لفظ سے پہلے آئے گا تو اِس پر ہمیشہ زبر آئے گا ، جیسے: اَبر ، اَبا ، اَبے وغیرہ - اور اگر دوسے زیادہ حروف پرمشتمل کسی لفظ پر آئے گا تو اُس لفظ کے پہلے والے حرف کی حرکت اِسے دیں گے ، مثلا:
لفظِ شُتر کے پہلے اگر الف لگایا تو اُشتر ہوجائے گا اور سِتم سے پہلے الف آئے گا تو اِستم ہو گا اور شِکم سے پہلے الف لائے تو اِشکم پڑھیں گے -

ب: اسے بائے موحدہ ( مُ وَ حِّ دَ ہ ) اور بائے تَازی کہتےہیں -

پ: اسے بائے فارسی اور بائے عجمی ( عَ جَ مِ ی ) کہتے ہیں ، فارسی والے اسے بہ وقتِ ضرورت ف سے بدل لیتے ہیں ، جیسے تَعریب میں پِیل کو فِیل کرلیا گیا ہے اور بغیر تعریب کے:
سپید کو سفید ، پرویش کو فرویش -
اسی طرح اسے ب سے بھی بدلاگیاہے ، جیسے پزدہ کوبزدہ کرلیا گیا -

ت: اس حرف کو مثنات فوقانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ فَ وْ قَ ا نِ ی ) اور تائے قرشت ( قَ رْ شَ ت ) کہتے ہیں -

ث: اسےثائےمثلثہ ( مُ ثَ لَّ ثَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ج: اسے جیم تَازی کہتے ہیں ۔

چ: اسے جیم فارسی کہتے ہیں ، اس کی تعریب ' ص ' سے کی جاتی ہے ، مثلاً: چرم سے صرم ، چنگ سے صنج وغیرہ ۔

ح: اسے حائے حطی ( حُ طِّ ی ) کہتے ہیں ، بعض فارسی الفاظ جو حائے حطی سے لکھے جاتے ہیں یہ اصل میں ہائے ہَوَّز ( ہ ) سے ہیں ، جیسے: حیز اورحال کی اصل ہیز اور ہال ہے ، یہ بعض لوگوں کی نا درست ادائگی نے مخلوط کردیے ہیں -

خ: اسے خائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ )کہتے ہیں ۔

د: اسے دالِ مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ذ: اس حرف کوذالِ معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، فارسی کلموں میں دال اورذال کی پہچان یہ ہے کہ جہاں دال سے پہلے حرفِ علت ہو وہاں ہمیشہ ذال معجمہ ہوتی ہے اورجہاں اس سے پہلے حرفِ صحیح ہوگا تو دیکھیں گے کہ وہ ساکن ہے یا متحرک ، اگر متحرک ہے تووہاں بھی ذالِ معجمہ ہی ہوگی اوراگر ساکن ہے تودالِ مہملہ -
بعض علماکاکہناہے کہ ذالِ معجمہ فارسی میں آتی ہے اور بعض کاکہناہے یہ حرف فارسی میں نہیں آتا ، اگر کہیں آیاہے تو دال مہملہ سے بدلاہوا آیاہے ، جیسے: آذر ( آگ ) اصل میں آدر تھا ، جسے ذال سے تبدیل کیاگیا -
نیز بعض اساتذہ نے جو سُود اور بُود کاقافیہ ماخُوذ اور اَعُوذ باندھا ہے ، باد کاقافیہ نَفاذ اور عید کاقافیہ تعویذ باندھا ہے اس کی یہی وجہ ہے ۔

ر: اسے رائے مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ، یہ حرف کلمے کے آخرمیں نسبت کافائدہ بھی دیتاہے ، جیسے: انگشت انگلی کوکہتے ہیں تو انگشتر انگوٹھی کو ؛ ظاہر ہے کہ ' ر ' کے ملنے سے ہی یہ معنی پیدا ہوئے اسی لیے حروفِ نسبت میں اس کابھی شمار کیاجاتاہے ۔

ز: اسے زائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) اور زائے تازی کہتے ہیں ۔

ژ: اس حرف کوزائے فارسی کہاجاتاہے ، یہ صرف فارسی زُبان کے ساتھ مخصوص ہے اس کے علاوہ کسی زبان میں نہیں آتا ، جس لفظ میں یہ آئے سمجھ لیجیے کہ یہ فارسی ہی ہے ، جیسے: اژدھا ( سانپ ) ، ژولیدگی ( پریشانی ) ، ژَند ( گُدڑی ) ، مژدہ ( خوش خبری ) -
اِسے ' ی ' کی طرح نہیں ، ' ز ' کی آواز سے پڑھناچاہیے ، مثلاً: اَژدھا کو ایدھا نہیں ازدھا کہیں گے ، مژدہ کو میدہ نہیں مزدہ پڑھیں گے -

س: اسے سین مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں

ش: اسے شین معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، تصریفِ افعال میں یہ حرف اکثر حاصلِ مصدرکی علامت ہوتاہے اور اس سے پہلے والے حرف کے نیچے ہمیشہ زیر آتاہے ، جیسے: خلِش ، دانِش ، بینِش ، کاہِش ، خارِش وغیرہ -

( کام کرنے والے پر کام کرتے وقت جوحالت طاری ہوتی ہے جوکلمہ اس پر دلالت کرے اُسے حاصل مصدر کہتے ہیں ، جیسے اُردو میں ملنا مصدر ہے اور میل ، ملاپ حاصل مصدر ہیں ۔ )

ص ، ض ، ط ، ظ ، ع:
ان حروف کو صاد مہملہ ، ضاد معجمہ ، طائے مہملہ ، ظائے معجمہ ، اور عین مہملہ کہتے ہیں ۔

غ: اسے غین معجمہ کہتے ہیں ، یہ فارسی میں آتا توہے لیکن بہت کم آتاہے -

ف: عربی اور فارسی میں اس کاتلفظ " فا " ہے اوراُردو میں فے پڑھاجاتاہے -

ق: محققین کاکہناہے کہ یہ حرف اصل فارسی میں تو نہیں آیا لیکن جہاں فارسی میں پایاجاتاہے دوحال سے خالی نہیں:

¹ وہ لفظ جس میں قاف آیاہے یا تووہ سرے سے فارسی ہی نہیں ہوگا ، جیسے لفظِ " قند " میں ق ہے تو سہی لیکن اس کی اصل ہندی " کھانڈ " ہے -

یا
² پھرمتاخرینِ عجم ، عرب سے مخلوط ہونے کی وجہ سے خ ، غ ، اور کاف کو قاف کے مخرج سے نکالتے تھے اس لیے اس کی رسمِ خط قاف کے ساتھ ٹھہر گئی ہے ، جیسے: تاخ کی تاق ، غالیچہ کی قالیچہ -

ک: اسے کافِ تازی کہتے ہیں ، یہ جب کلمے کے آخرمیں آتاہے ، تو اُس کلمے کا یا توجُزہوتاہے یا اِسے جُز ٹھہرا لیاجاتاہے ، جیسے: نمک میں جز ہے اور مامک ( ماں ) ، بابک ( باپ ) میں جُز ٹھہرا لیاگیاہے -

🌺 اگر کاف تازی سے پہلےحرفِ مدہ آئے تو وہ ساکن ہوتا ہے اور مدہ نہ ہو تو ہمیشہ مفتوح ( زبر والا) ہوتا ہے ، جیسے: ' نمَک ' کی میم مفتوح ہے اور ' خُوْک ' میں واو مدہ ہونے کی وجہ سے ساکن ہے -

🌺 کاف اگر کسی لفظ کے آخر میں لگایاجائے تواس کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں ، جن میں سے یہ بھی ہیں:

۱ اس سے تصغیر مقصودہوتی ہے ، جیسے پانی کو آب کہتے ہیں تو پانی کے قطرے کوآبک -

۲ کبھی اس سے تحقیر مرادہوتی ہے ، جیسے ذلیل وحقیر مرد کو مَردک کہاجاتاہے ، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ؎

ذکر روکے ، فضل کاٹے ، نقص کا جُویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی

۳ کبھی تعظیم کے لیے بھی آتا ہے ، جیسے: مام کو مامک ( یعنی عزت والی ماں ) اور باب کو بابک ( یعنی والد بزرگوار) کہا جاتاہے -

۴ کبھی اظہار شفقت مقصود ہوتاہے ، جیسے طفل لڑکے کوکہتے ہیں تو طفلک پیارا لڑکا ، فرزند بیٹا تو فرزندک پیارا بیٹا -
۵ کبھی تشبیہ کافائدہ دیتاہے ، جیسے چوشیدن کامعنی ہے چوسنا اورچوشک ٹونٹی دار کوزے کو کہتے ہیں -

۶ کبھی زائدہ بھی آتاہے ، جیسے کف اور کفک ( ہتھیلی ) ۔

گ: اسے کافِ فارسی اورکافِ عجمی کہتے ہیں ، بعض الفاظ جن کی اصل میں کافِ تازی ( ک) آتاہے ، ان کواہل فارس کاف فارسی ( گ ) پڑھتے ہیں اور اہل ماوراءالنہر کاف تازی ہی پڑھتے ہیں ، جیسے: کُشاد اور گشاد -

ل: اس حرف کو لام کہتے ہیں ، شعرا زلفِ محبوب کو لام سے تشبیہ بھی دیتے ہیں ، جیسے میرے امام نوراللہ مرقدہ کہتے ہیں؎

گیسو وقَد لام الف ، کردوبلامنصرف
لاکے تہِ تیغ لا تم پہ کروروں درود ۔

م : اسے میم کہتےہیں یہ حرف ناموں کے آخرمیں لگایاجائے تونسبت کے معنی بھی دیتا ہے ، جیسے نیلے رنگ کے ہیرے کو نیلم کہتے ہیں ، نیز دولفظوں میں دومیم اکٹھے آئیں تو ایک میم حذف بھی کردیاجاتاہے ، جیسے: نیم من کو نیمن پڑھا جاتاہے -

ن: اسے نون کہتے ہیں ، اگر کسی لفظ میں ن اور ب اکٹھے آئیں توانھیں میم سے بدل دیتے ہیں ، جیسے: انبرود کو امرود پڑھتے ہیں ، دُنب کو دُم اورخُنب کو خُم -

و: اسے واو کہتے ہیں ، اس کی چارقسمیں ہیں:

¹ واوِمعروف :
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش ہواورخوب ظاہر ہوکر پڑھاجائے ، جیسے: نُوْر اور حُوْر کاواو -

² واوِ مجہول:
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش توہو لیکن خوب ظاہر کرکے نہ پڑھاجائے ، جیسے: ہوش اور جوش کاواو ہے -

³ واوِ لین:
وہ واو جس کے پہلے حرف پرزبر ہو اور آواز کو نرم اورترچھی کرکے تلفظ کیاجائے ، جیسے: قَوم ، شَوق وغیرہ ۔

⁴ واو معدولہ:
وہ واو جولکھی توجاتی ہے لیکن پڑھنے میں نہیں آتی ، جیسے: خود اور خوش کاواو ہے -
ایسا واو فارسی میں عام طورپر خ کے بعد آتاہے اور اس کے نیچے بہ طور علامت سیدھی لکیر (-) بھی لگادیتے ہیں -

( یہ لکیر زیر نہیں ہوتی ، صرف تمیز کے لیے لگائی جاتی ہے اسے خُوِد یاخُوِش نہیں پڑھیں گے بلکہ خوش ( خُش ) اور خود ( خُد ) ہی پڑھاجائے گا ) ۔
اگر واوِ معدولہ کے بعد: ا ، پ ، ہ آئے تواس کا ماقبل ( پہلے والاحرف ) مفتوح ( یعنی زبروالا) ہوگا ، جیسے:خواب ، خوپلہ ، خوہلہ -

ہ: اسے ہائے ہوز ( ہَ وَّ ز) کہتے ہیں ، فارسی میں اس کی دوقسمیں ہیں:

¹ ہائے ملفوظ ( مَ لْ فُ وْ ظ )
² ہائے مختفی ( مُ خْ تَ فِ ی )

ہائے ملفوظ: اس ' ہ ' کو کہتے ہیں جسےمستقل حرف کی طرح استعمال کیاجائے اور واضح طور پر تلفظ میں آئے ، جیسے: ہوا ، ماہ ، راہ ۔

ہاے مختفی: وہ ' ہ ' جوظاہر کرکے نہ پڑھی جائے -
درحقیقت یہ مستقل حرف کی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی اپنی کوئی آواز ہے ، یہ اپنے سے پہلے والے حرف کو اِس طرح سہارا دیتی ہے کہ اُس کی حرکت قائم رہ سکے -
اِس طرح اس کی حیثیت علامت کی سی ہے ، جیسے: خانہ ، وقفہ ، دیوانہ -

🌺 لفظ کے آخر میں آنے والی ہائے ملفوظ ، جمع کی حالت میں اپنے حال پرہی رہتی ہے تبدیل نہیں ہوتی ، جیسے: مہ کی جمع مہان ہے -
(مہ( مِ ہْ ) قوم کے سردار کوکہتے ہیں ، جس کی جمع مہان ( مِ ہَ ان ) ہے )

🌺 ہائے مختفی ہمیشہ الفاظ کے آخر میں آتی ہے ، جمع میں اسے کافِ فارسی سے بھی بدلتے ہیں ، جیسے: خواجہ سے خواجگان ، بندہ سے بندگان -

ء: ہمزہ اور الف کو فارسی والے ایک ہی لفظ قراردیتے ہیں -

ی: اسے مثناۃ تحتانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ تَ حْ تَ ا نِ ی ) کہتے ہیں ، اس کی دوقسمیں ہیں: یائے معروف اور یائے مجہول -
یائے معروف:
اُس ' ی ' کو کہتے ہیں جس سے پہلے زیرہو اور خوب ظاہر ہوکرپڑھی جائے ، جیسے: عِید ، فقِیر ، امیر ۔
یائے مجہول:
وہ ' ی ' ہے جس سے پہلے زیرہو ( لیکن خالص زیر نہ ہو ) اور وہ خوب ظاہر کرکے نہ پڑھی جائے ، جیسے: بڑے ، کرے ، کسے -
🌺 جس طرح عربی میں " ی " نسبت کے معنی دیتی ہے ، اسی طرح فارسی میں بھی یاے معروف نسبت کے لیے آتی ہے ، البتہ عربی میں مُشدَّد ہوتی ہے اور فارسی میں ساکن ، جیسے: رومی ، ایرانی ، ہندی وغیرہ ۔

🌺 یائے نسبت فارسی میں اکثر اُسی طرح آتی ہے جیسے عربی میں آتی ہے ، مثلاً: " ہرا " ایک شہر کانام ہے ، ( جوکہ ہرات کا مخفف ہے ) جب اس میں یائے نسبت ملائیں گے تواس کا الف واو سے بدل جائے گا اوریہ ہروی ( ہَ رَ وِ ی ) ہوجائے گا ، یہی قاعدہ عربی زبان کاہے ؛ ہاں کہیں کہیں فارسی اصول عربی اصولوں کے برعکس بھی ہیں ۔

✍️لقمان شاہد
1-9-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3247232512223582&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدعالم ﷺ نے بہ نفس نفیس 27 جنگوں میں شرکت فرمائی ، اور 56 لشکر روانہ کیے ۔

اللہ پاک اِن 83 جنگوں کے صدقے ہمیں جہادِ فی سبیل اللہ کے راستے پر چلائے !

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3240733499540150&id=100008105947430
صحیح حدیث میں ہے:

جب کوئی مسلمان گناہ کر بیٹھتا ہے تو ( گناہ لکھنے والا ) فرشتہ تین گھڑیوں تک ٹھہرا رہتا ہے ، اگر وہ بندہ توبہ کرلے تو فرشتہ اس کا گناہ لکھتا ہی نہیں ، اور اللہ کریم بھی اُس بندے کو قیامت کے دن عذاب نہیں دے گا ۔ ( الترغیب والترھیب ، باب الاستغفار )

اللہ اللہ اللہ ﷻ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3248694942077339&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM