🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیائی_بلیک_میلنگ... 02

✒️⁩ محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ

چند روز قبل ہم نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں علما اور خواص کو سوشل میڈیائی بلیک میلنگ سے خبردار کیا گیا تھا۔
خادم کو لگا تھا شاید یہ تحریر کافی ہوگی ہمارے سمجھدار طبقہ کے لیئے، کیوں کہ جس تیزی کے ساتھ وہ تحریر وائرل ہوئی تھی وہ تو یہی اشارہ کررہی تھی۔ صرف خادم کے پیج پر گیارہ ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا اور ان گنت صاحب فہم حضرات نے اپنی وال سے پوسٹ کیا، ساتھ ہی عالی جناب قمر غنی عثمانی صاحب نے اس تحریر کے افادہ کو عام کرنے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہندی میں بھی ترجمہ کروایا۔

#تازہ_معاملات
مگر آج ضرورت آن پڑی ہے دوسری قسط لکھنے کی، کیوں کہ لگاتار خبریں موصول ہورہی ہیں خواص کو گرفت میں لیکر بلیک میلنگ کی، کئی اہم لوگوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے اور ان سے اچھی خاصی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کچھ لوگ تو کچھ رقم دے بھی چکے ہیں جن کی پہچان ظاہر کرنے یا پہچان کی طرف کوئی اشارہ کرنا مناسب نہیں۔

#بلیک_میلنگ_کیا_ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جب کوئی شخص اپنے ناجائز مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کسی شخص، کنبے یا تنظیم کے بارے میں "کافی حد تک سچ معلومات" عام کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو، اس کارروائی کو "بلیک میلنگ" کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا معاملات کا مقصد اکثر 'عزت' کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
در حقیقت ، اس طرح کی معلومات کو عام کرنا کسی بھی طرح سے غیر قانونی جرم نہیں ہے، لیکن اپنے ناجائز مطالبات کو منوانے کے لیے کسی معلومات کا 'ہتھیار' کی طرح استعمال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔

#بلیک_میل_کس_کو_کیا_جاتا_ہے؟
بلیک میل کسی کو بھی کیا جاسکتا ہے؛ خاص کر ایسے لوگ کثیر تعداد میں بلیک میل کیے جاتے ہیں جو سماج میں عزت رکھتے ہوں، ان میں مذہبی رہنما، (کسی بھی مذہب کے ہوں) سیاسی رہنما، سماجی قائدین یا کوئی بھی عزت دار شخص ہوسکتا ہے۔ اور ہر طرح کے وہ لوگ جو اپنی بے عزتی سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہوں۔

آج کل بلیک میلرز کا پسندیدہ شکار ہمارے علما اور اشراف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ ایک بار اگر چنگل میں آگئے تو یہ اپنی عزت بچانے کے لیے زندگی بھر پیسہ دیتے رہیں گے اور کہیں کچھ بول بھی نہ سکیں گے۔
اسی لیے بڑے پیمانے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر ایکٹو لوگوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانا شروع کردیا۔
ابھی تک ان کے شکار ہوئے افراد سے ملی معلومات کے مطابق پہلے یہ لڑکیاں آپ کو فرینڈ رکیوسٹ بھیجیں گی اور اسے قبول کیئے جانے کے بعد پرسنل میسجز کا دور شروع ہوگا اور ساتھ ہی ویڈیو چیٹ کی مانگ بھی انہیں کی جانب سے کی جائے گی، اور جیسے ہی ویڈیو کالز شروع ہوئیں تو پھر وہ برہنہ ہوکر آپ کے سامنے آئیں گی اور آپ کو بھی برہنہ ہونے کی دعوت دیں گی؛ جب آپ بھی اس میں ملوث ہوجائیں گے تو وہ اس کا اسکرین رکارڈ کرکے آپ کو بلیک میل کرنا شروع کردیں گی۔
ایسے میں سیدھے سادھے یا اپنی عزت سے بہت زیادہ پیار کرنے والے افراد ڈر کر ان کے مطالبات ماننے لگتے ہیں اور انہیں پیسہ پہنچانے لگتے ہیں۔

#بلیک_میلرز_کے_مطالبات_نہ_مانیں
اگر آپ میں سے کسی کے ایسا معاملہ پیش آئے اور کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم سے کچھ پیسے لینے بعد مزید پیسوں کی مانگ جاری ہے۔

#سائبر_کرائم اور سوشل میڈیائی بلیک میلنگ
اگر آپ کو کوئی بلیک میل کر رہا ہو، تو سائبر کرائم کو اطلاع دیں۔
آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ سائبر کرائم واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔
مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا۔
آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمع ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس یا فون کالز کی ریکارڈنگ وغیرہ) اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر دے سکتے ہیں۔
یا مندرجہ ذیل ای میل پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
पुलिस मुख्यालय लखनऊ में स्थापित साइबर क्राइम मुख्यालय sp-cyber.lu@up.gov.in
یا سائبر ہیلپ لائن 155260 پر صبح 9:00 بجے سے شام 6:00 بجے درمیان کال کرسکتے ہیں۔
#ایک_گروہ_گرفتار_ہوا
لکھنؤ پولیس نے کل ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں میاں بیوی سمیت سات افراد شامل تھے، وہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسا کر ان سے اچھی خاصی رقم وصولتے تھے۔ اس گروپ کے دو فرد (جو میاں بیوی ہیں) پولیس کی گرفت میں ہیں بقیہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

#دھوکا_دھڑی_ان_پر_بھی
صرف ٹویٹر، فیس بک، واٹس اپ ہی نہیں اور بھی بہت سے ایسے ایپلیکیشنز ہیں جن پر آپ کے ساتھ دھوکا دھڑی ہوسکتی ہے جیسے:
Indian Messenger App
Hike Sticker Chat
JioChat
Troop Messenger
Namaste Bharat
ShareChat
Telegram
Kik
Hangouts
Line
Signal
Tindar
اور نہ جانے کتنے۔
ہمیں فضول میں ان ایپس کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
آپ صرف وہی ایپ استعمال کریں جو آپ کے کام کے ہیں۔
مثلاً واٹس اپ ٹیلیگرام وغیرہ جو آپ کے ڈیٹا کی ترسیل کے کام آتے ہیں بقیہ ایپس کی ضرورت نہیں! جب آپ اس طرح کے ایپس پر چیٹنگ کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کبھی نہ کبھی تو گرفت میں آنا ہی ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ تنہائی میں کیا ہوا کام ہے اسے کون دیکھ رہا ہے؟
آج کل تو لوگ یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ آپ سرچ کیا کرتے ہیں اپنے فون پر تو کسی سے کی ہوئی چیٹ کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اگر محفوظ رہ بھی جائے تب بھی آپ کا رب ہر چیز دیکھنے والا ہے، آپ کو کسی اور سے نہیں اپنے رب سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔
جس دن خوف خدا پیدا ہوگیا اس دن یہ ساری چیزیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔

#کوشش
کچھ خیر خواہ حضرت جن میں سر فہرست حضرت قاری آصف برکاتی صاحب مہاراشٹر ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ایسا ایپ ڈیولپ کرایا جائے جس کے ہوتے ہوئے موبائل میں کوئی فحش مواد یا فحش کال آ ہی نہ سکے۔
یقیناً یہ ایک قابل عمل مشورہ ہے اور کافی حد تک کارگر بھی ہوسکتا ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام کرسکے گا جب آپ اپنے موبائل میں وہ ایپ انسٹال کریں گے۔
اللہ کرے یہ ایپ جلد ہی تیار ہوجائے کیوں کہ کئی بار لوگ عدم معلومات کی بنا پر ان چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تو اس ایپ کی مدد سے وہ لوگ تو محفوظ ہو جائیں گے، مگر جو لوگ جان بوجھ کر دلدل میں چھلانگ لگانا چاہیں گے ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ توفیق بخشے۔

#دست_بستہ_گزارش
ہماری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس طرح کے کسی بھی ہنی ٹریپ کا شکار نہ ہوں۔
آپ کی عزت بحیثیت عالم صرف آپ ہی کی نہیں بلکہ مذہب اسلام کی بھی عزت ہے۔
اگر آپ کو اپنی پرواہ نہیں ہے تو کم از کم اپنے حُلیہ کی بناپر آپ کے مذہب پر جو الزام آئے گا اس کی تو پرواہ کریں۔
جہاں ان معاملات میں ملوث ہونے سے آپ کی پرسنل اور ازدواجی زندگی تباہ ہوگی وہیں آپ کی پروفیشنل زندگی بھی تباہ ہوگی۔ اور آخرت کا عذاب مزید برآں۔
تو خدا را کسی بھی انجان لڑکی یا عورت سے قطعاً رابطہ نہ کریں اگرچہ وہ آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تب بھی آپ اس سے دور ہی رہیں۔
یہی آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے سود مند ہوگا۔
ورنہ دونوں مقامات پر خائب و خاسر ہونگے۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981392675764584/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#روشن_خیالی_کے_مریض

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ: سواد اعظم دہلی

'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔

19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار

بہ شکریہ Ghulam Mustafa Naimi

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2895528547362631&id=100007165422879
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برصغیر پاک و ہند میں مروجہ بیعت کے اثرات۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی۔

برصغیر پاک و ہند کے اندر ایک سیدھا سادہ مسلمان جو شریعت مطہرہ کا عامل ، نماز روزے کا پابند، رزق حلال کمانے والا، اپنے والدین کی خدمت کرنے والا ،رشتے داروں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ،ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا ،دینی محافل میں ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرنے والا ،ہر دینی کتاب کو لگن اور شوق کے ساتھ پڑھنے والا قرآن و سنت میں مذکور مسنون دعاؤں کو اہتمام سے پڑھنے والا جب کسی پیر صاحب کا مرید ہو جاتا ہے تو اس کا اندازِ زیست ہی بدل جاتا ہے ۔ اس بیعت کے بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں کچھ کا تذکرہ اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔مخصوص وضع قطع اختیار کر لیتا ہے جس میں اپنے پیر خانے کی تشہیر نمایاں ہو ۔مخصوص رنگ کی ٹوپیاں ،عمامہ شریف ،گلے میں لٹکانے والی چادر وغیرہ۔پیر صاحب کا ذوق جس رنگ کا ہے سارے مرید اسی رنگ کی ٹوپیاں کرتے وغیرہ سلواتےہیں۔شیخ صاحب کے ذوق کو اس میں مرکزی اور نمایاں حیثیت ہوتی ہے ۔

2۔مروجہ طریقت میں پیر صاحب کا ذوق بھی ایک مستقل حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر پیر صاحب کو قوالی پسند ہے اور اس میں ایک مخصوص راگ اور ساز پسند ہے تو جملہ مریدین اسی راگ اور ساز کو سنیں گے ۔اگر پیر صاحب کو نماز کے بعد جہری ذکر ایک مخصوص طرز اور لے میں پسند ہے تو جملہ مریدین بھی اسی انداز اور طرز میں ذکر کریں گے۔ یہی معاملہ لباس کا ہے جو آستانہ کا آفیشل لباس منظور شدہ ہے تمام پیر بھائی حضرات وہی پہنتے ہیں کچھ عملی طور پر سست مرید یوں بھی کر لیتے ہیں پورا سال جینز ،تھری پیس ،شارٹس پہنے رکھتے ہیں جب پیر صاحب کے سامنے حاضری دیتے ہیں تو پیر صاحب کے مرغوب لباس پہن کر حاضر ہو جاتے ہیں یوں رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ قصہ مختصر پیر صاحب کے ذوق کی فرضوں کی طرح پابندی کی جاتی ہے ۔

3۔بیعت سے پہلے ہر دینی محفل میں شرکت کرنے والا اب بیعت کے بعد دوسری دینی محافل میں جانا چھوڑ دیتا ہے ۔صرف یاران طریقت کی محافل میں شرکت کی جاتی ہے دوسری محافل میں جتنا بھی قابل،عالم فاضل ،صاحب تقوی عالم دین بیان کرنے کے لیے آئے اسے در خور اعناء نہیں سمجھا جاتا۔

4۔ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا سالک اپنی تمام محبتیں شفقتیں، الفتیں ،چاہتیں، پیار ،خلوص، عزت و احترام اپنے شیخ پر ہی نچھاور کرتا ہے۔ بہت کم مرید ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جو دوسرے بزرگ کو بھی وہی ادب و احترام دے رہے ہو ں جو اپنے پیر صاحب کو دیتے ہیں۔ ایسی بازاری اور گھٹیا سیاست کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں کہ ایک علاقے میں کسی پیر صاحب کا حلقہ ارادت زیادہ ہو ،اسی علاقے میں کوئی دوسرے پیر صاحب آ جائیں تو مریدین دوسرے پیر صاحب پر گھٹیا الزام لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے جھوٹ، غیبت، چغلی، تہمت بہتان طرازی کا بھی سہارا لینے میں کوئی عار نہیں سمجھی جاتی۔

5۔مسنون دعاؤں کی پابندی کرنے والا اب اپنے آستانے کے اکثر غیر مسنون اوراد و وظائف کی اہتمام سے پابندی کرتا نظر آتا ہے۔
یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ مروجہ امور تصوف میں مسنون اوراد و وظائف کی جگہ غیر مسنون اوراد و وظائف زیادہ شامل ہیں۔

6۔مروجہ بیعت کی ایک تاثیر یہ بھی دیکھنے میں نظر آئی ہے کہ رسومات تصوف ،معمولات تصوف مثلا دست بوسی، قدم بوسی، استان بوسی،چادر پوشی، عرس اور قوالی میں اہتمام سے شرکت بلکہ ان محافل میں شرکت کو لازم اور فرض خیال کرتے ہیں، جب کہ فرائض دینیہ نماز ،روزہ، حج، زکوۃ، کسب حلال ،اکل حلال وغیرہ کو یکسر نظر انداز کیا جاتاہے۔مریدوں کے اندر یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ ہم جتنی بھی بد اعمالیاں کرلیں، صاحب مزار ہماری شفاعت کریں گے ۔اس غلط بات کو مزید ان واعظین نے عام کیا ہے جنہوں نے حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے دھوبی والی کرامت اور اس طرح کی دیگر کرامتیں بیان کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کر دیا ہے کہ تم جو مرضی کرو صاحب مزار آخرت میں تم کو قبر کے عذاب سے بھی چھڑوا لیں گے اور حشر میں اپنے جھنڈے تلے جگہہ دے کر تمہارے گناہ بھی بخشوا لیں گے تمہاری شفاعت کریں گے۔اور تمہیں جنت میں اپنے ساتھ رکھیں گے۔

8۔ شومئی قسمت اگر پیر صاحب علم دین سے کورے ہیں اور مسند ارشاد میراث میں ہی پائی ہے تو ان کے مریدین علم اور علماء سے سخت تنفر اور بیزاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی سرگرمیوں کو فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں جیسا کہ مدارس میں پڑھنا ،علم دین کی ترویج و اشاعت وغیرہ ۔ان کا موقف ہے کہ ہم درگاہ سے نسبت کی برکت سے اس مقام عالی پر فائز ہیں جہاں پر ظاہر بیں علماء سوچ بھی نہیں سکتے۔
9. ہم نے ایک سروے کیا تھا جس میں مختلف درگاہوں سے وابستہ افراد مثلآ مریدین، معتقدین ،محبین سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اس درگاہ پر بیعت ہونے کی برکت سے آپ کے اخلاق کردار، رویے اور اعمال میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے ؟ بہت سے لوگ یہ سوال سن کر خلا میں گھورنے لگتے۔۔۔۔۔ ۔یا گم صُم ہو کر منہ دیکھنے لگتے جیسے ہم نے کوئی بہت ہی مشکل سوال کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ۔کئی حضرات نے کہا کہ ہم نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں لیکن یہ حضرات بیعت سے پہلے بھی نماز روزے کے پابند تھے۔۔۔۔۔۔۔ ۔ایک فیصد سے بھی کم وہ حضرات تھے جنہوں نے کہا کہ اس آستانے پر بیعت کی برکت سے میں عملی طور پر اچھا مسلمان بن رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔یا میرے اخلاق اور رویے میں بہتری اور تبدیلی آئی ہے ۔یہ کسوٹی ہے اس بات کو دیکھنے کی کہ اس جگہ پر بیعت کی برکت سے میرے اندر کیا انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں ؟

حقیقت یہ ہے کہ بیعت کا ثمرہ وصول الی اللہ بطریق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔۔۔۔۔۔درگاہوں اور آستانوں پر جو بیعت ہوتی ہے یہ فقط بیعت برکت ہے حدیث مبارکہ میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ حاکم اسلام کی بیعت ہے ۔۔۔ ۔ پہلے لوگ بیعت کرتے تھے ۔۔۔باطنی تطہیر، روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اللہ تبارک و تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے اور اپنی تربیت کے لیے ۔ اب رسومات تصوف تو موجود ہیں حقیقت تصوف یعنی تزکیہ ،روحانی پاکیزگی مفقود ہے۔جس طرح دنیا کے تمام شعبے مادیت زدہ ہوئے ہیں اسی طرح روحانی پاکیزگی کا شعبہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے اب بیعت کی جاتی ہے امریکہ کے گرین کارڈ کے لیے،یورپی ممالک کی نیشنلٹی کے لیے،کسی دنیاوی عہدے کے حصول کے لیے یا کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے نہ مریدوں میں وہ تڑپ اور جذبہ صادق ہے کہ ہم گناہوں سے پاک ہو کر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کے مطابق زندگی بسر کریں اور نہ ہی شیوخ کا یہ مطمح نظر ہے کہ اپنے مریدوں کی تربیت کریں ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

ڈاکٹر محمد رضاء المصطفیٰ
29-08-2021۔اتوار
00923444650892واٹس اپ نمبر
DrRaza Ul Mustafa

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4250797741704291&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ سوشل میڈیا کیسی عجیب چیزہے ، ایک خبر چلتی ہے ۔۔۔۔۔ چلتی جاتی ہے ، جب لوگ اس پر یقین کرلیتے ہیں تو خبر آتی ہے کہ یہ خبر غلط ہے ۔

کل ایک عالم دین کے انتقال کی خبر چلی ، کئی گروپوں میں ، کئی معتبر لوگوں نے اس کی تشہیر کی ؛ لیکن آج معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی ، حضرت تو بقیدِ حیات ہیں ۔
اسی طرح کچھ دن پہلے ایک ثناخواں کے بیٹے ، بیٹی کے محرم شریف میں نکاح کی خبر چلی جس کی بعض مفتیان کرام نے بھی تائید و تشہیر کی ، لیکن آج ان کی زبانی معلوم ہوا کہ محرم میں تو انھوں نے کوئی نکاح کیا ہی نہیں ۔🤔

اس لیے آج سے نیت کر لی ہے کہ آئندہ بغیر تحقیقِ انیق میڈیائی خبروں پر کوئی اعتبار نہیں کرنا ۔
اللہ پاک سابقہ کوتاہیاں معاف فرمائے ، ہم کیوں کسی غلط چیز کو عام کرکے اپنی قبر تاریک کریں !

احباب سے بصد ادب عرض ہے کہ:
اگر میری کسی تحریر یا کسی لفظ کو خلاف حقیقت پائیں تو ضرور مطلع فرمایا کریں ، آپ کا احسان ہوگا ۔

استغفراللہ الذی لاالہ الاھو الحی القیوم واتوب الیہ !

✍️لقمان شاہد
22-8-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3239130603033773&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیارے نبی ﷺ نے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی:

اللہ پاک سے اس کا فضل مانگو ، کیوں کہ اللہ ﷻ یہ پسند فرماتا ہے کہ اُس سے مانگا جائے ، اور کشادگی کا انتظار کرو یہ افضل ترین عبادت ہے ۔
( یعنی کوئی مشکل ، پریشانی ، بیماری ، دکھ ، تکلیف ، مصیبت آجائے تو اس کے ختم ہونے کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ افضل ترین عبادت ہے ۔ )

( الترغیب والترہیب للمنذری ، کتاب الذکر والدعا ء ، ر 2441 ۔ قال المنذری : حدیث ابی نعیم ، اشبہ ان یکون اصح )

✍️لقمان شاہد
26-8-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242352239378276&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیعہ عالم جواد نقوی نے ایک ایسے شخص کا قول نقل کیا ، جو اُنھی کے بقول ' شیعوں کی امید اور سہارا ہے ' کہ :

" پاکستان کی تعمیر کے لیے میں نے جو اپنا منصوبہ تاریخ سے چناہے اور جو مناسب ترین رول ماڈل ہے ، جن کی حکومت میں ترقی بھی ہے ، فتوحات بھی ہیں ، زراعت بھی ہے ، صنعت بھی ہے اور بہترین سیاست بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ( حضرت ) امیر معاویہ ہیں ، میں ان کی حکومت جیسا پاکستان بنانا چاہتا ہوں ۔ "

نقوی صاحب کی اس تقریر پر اُن کے روافض بھائیوں نے انھیں جو " پھول " کمینٹ کیے ، ان کی خوشبو تو خیر انھی کے لیے ہے ، لیکن ایک بات ضرور ہے موصوف نے جمود توڑ کر ایک مبغوض قوم کو سیدنا معاویہ پاک کی سیرت پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ لائق تحسین ہے ۔

خداکرے ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اُس ہادی و مہدی صحابی رضی اللہ عنہ کی سیرت کو صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش کریں ، تاکہ محرم شریف میں کوئی زندیق یزید کی آڑ میں ہمیں آپ سے دور نہ کرسکے ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242497529363747&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 پی ڈی ایف 📖

تقریبا دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ، تاریخِ دمشق سے ایک حوالے کی ضرورت پیش آئی تھی تو بڑی کوشش کے بعد یہ کتاب 45000 کی خریدی تھی ۔

اُس وقت اگر پی ڈی ایف کی سہولت سے آگاہی ہوتی تو صرف ایک حوالے کے لیے اتنی رقم صَرف نہ کی جاتی ۔

اہل علم جانتے ہیں کہ ہرکتاب کا ، ہر بندہ بالاستیعاب مطالعہ نہیں کرپاتا ، بعض دفعہ 80 جلدوں کی کتاب سے صرف ایک حوالہ مطلوب ہوتا ہے ، یا کسی کتاب سے ایک باب ، ایک واقعہ ، ایک مسئلہ یا ایک صفحہ مطلوب ہوتا ہے ؛ جس کے لیے یا تو حطیر رقم صرف کرنی پڑتی ہے یا پھر دور دراز لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ( اور میں بذات خود اس مرحلے سے گزرا ہوں ) ۔
اس لیے پی ڈی ایف ایک نعمت سے کم نہیں ، اس کی مخالفت کرنا عقل مندی نہیں ۔

اب جب دنیا بھر کی بڑی بڑی قیمتی کتابیں بھی پی ڈی ایف میں آچکی ہیں ، تو ہمارے علماے عظام کو اس کی مخالفت کرنے کےبجائے اس سے ہم آہنگ ہوناچاہیے ۔
رہےناشرین کے تحفظات تو انھیں دور کرنے کے لیے پی ڈی ایف کی مخالفت کے بجائے ، ناشرین کو سیل کے نئے نئے طریقوں سے آگاہ کرنا چاہیے ، اور لوگوں کو کتابیں خریدنے کی ترغیب دلانی چاہیے ۔

کتاب ہرگھر کی زینت ہوتی ہے ، اور اس زینت کے لیے کتابوں کا چھپتے رہنا بہت ضروری ہے ۔
ویسے بھی جو لطف و سرور کتاب خرید کر پڑھنےکا ہے ، پی ڈی ایف میں نہیں ؛ اس لیے پی ڈی ایف سے استفادہ اپنی جگہ لیکن کتابیں ضرور خرید فرمایا کریں ۔

اللہ پاک ہمارےناشر بھائیوں کے رزق حلال میں برکت دے اورانھیں وسعت قلبی نصیب فرمائے ۔

عربی کتب کی پی ڈی ایف فائلوں کا بہت بڑا مرکز " المکتبۃ الوقفیہ " ہے ، جس سے لاکھوں کی کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں ، اور لوگ کرتے بھی ہیں ؛ اس کے باوجود وہ کتابیں بار بار چھپ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ان کے ناشرین باشعور ہیں ، انھوں نے پی ڈی ایف کا رونا رونے کے بجائے کتابیں سیل کرنے کے فن میں مہارت حاصل کی ہے ؛ اللہ کرے ہمارے ناشرین بھی ایسے فراخ دل اور عقل مند ہوجائیں !

✍️لقمان شاہد
28-8-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3244512682495565&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الحمدللہ ایک دین دار گھرانے میں آنکھ کھولی اور بچپن ہی سے علم اور علما کی محبت سیکھی ۔
بچپن میں کتابیں پڑھنے کے شوق کے ساتھ ساتھ علما کی تقریریں سننے کا بھی بے حد شوق رہا ، جیسے ہی معلوم ہوتا فلاں جگہ محفل پاک ہے اور فلانے عالم اور خطیب صاحب آرہے ہیں تو بصد شوق وہاں چلے جاتے ، تقریر سنتے ، اُسے یاد رکھتےاور احباب کو سناسنا کے محظوظ ہوتے رہتے ۔

اُس وقت ایک بات تھی کہ علما و خطبا ، اہل سنت میں انتشار و افتراق کا سبب نہیں بنتے تھے ، نہ تفضیلیوں ، تفسیقیوں کی طرح چولیں مارتے تھے ، بلکہ مسلک اعلیٰ حضرت سے وفا کرتے تھے ۔
وہ اہل بیت پاک کاذکر کرتے تو اتنے خلوص سے کرتے کہ دل چاہتا سنتے ہی رہیں ، صحابہ کرام کو یاد کرتے تو اتنے ادب سے کرتے کہ بے ساختہ سرتعظیم سےجھک جاتے ۔

لفظ مفتی آج کی طرح ہلکا نہیں ہوگیا تھا کہ جس کا جی چاہے مفتی کہلاتا پھرے ، اجلہ علما بھی خود کو مفتی نہیں کہلاتے تھے ، نہ فتوی دینے میں اس قدر جری تھے ۔
ہمارے گاؤں میں ایک طلاق ہوگئی ، قبلہ دادا جی پیش امام تھے وہ فتوی لینے علامہ ابوالنور محمد بشیر صاحب کے پاس پہنچے جو مستند عالم اور فقیہ اعظم کے بیٹے تھے ، لیکن انھوں نے فرمایا:

میں مفتی نہیں ہوں ، اس لیے فتوی نہیں دے سکتا ، آپ جامعہ حنفییہ دو دروازے چلے جائیں وہ فتوی دیں گے ۔

اور جامعہ حنفیہ میں قبلہ شیخ الحدیث استاذالعلما حافظ محمد عالم رحمہ اللہ فتوی دیتے تھے لیکن اپنے مفتی ہونے کی ( آج کی طرح ) تشہیر نہیں کیا کرتے تھے ۔

اب بڑی تشویش ناک صورت حال ہوتی جارہی ہے ، بس اللہ پاک ہی ہمارے حال پر رحم فرمانے والا ہے ۔

✍️لقمان شاہد
30-8-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3245823089031191&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج اپنی ایک پرانی تحریر نظر سے گزری ، سوچا آپ سے شیئر کردوں ، اگرچہ یہ کچھ طویل ہے لیکن کام کی ہے ۔

فارسی زبان میں جوحروف استعمال ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

ا ، ب ، پ ، ت ، ث ، ج ، چ ، ح ، خ ، د ، ذ ، ر ، ز ، ژ ، س ، ش ، ص ، ض ، ط ، ظ ، ع غ ، ف ، ق ، ک ،گ ، ل ، م ، ن ، و ، ہ ، ء ، ی -
ان میں 29 تووہی ہیں جو عربی زبان کے ہیں ، صرف یہ چار حروف زیادہ ہے:

پ ، چ ، ژ ، گ ۔

الف: فارسی کاپہلاحرف ہے ، یہ جب کسی دوحرفی لفظ سے پہلے آئے گا تو اِس پر ہمیشہ زبر آئے گا ، جیسے: اَبر ، اَبا ، اَبے وغیرہ - اور اگر دوسے زیادہ حروف پرمشتمل کسی لفظ پر آئے گا تو اُس لفظ کے پہلے والے حرف کی حرکت اِسے دیں گے ، مثلا:
لفظِ شُتر کے پہلے اگر الف لگایا تو اُشتر ہوجائے گا اور سِتم سے پہلے الف آئے گا تو اِستم ہو گا اور شِکم سے پہلے الف لائے تو اِشکم پڑھیں گے -

ب: اسے بائے موحدہ ( مُ وَ حِّ دَ ہ ) اور بائے تَازی کہتےہیں -

پ: اسے بائے فارسی اور بائے عجمی ( عَ جَ مِ ی ) کہتے ہیں ، فارسی والے اسے بہ وقتِ ضرورت ف سے بدل لیتے ہیں ، جیسے تَعریب میں پِیل کو فِیل کرلیا گیا ہے اور بغیر تعریب کے:
سپید کو سفید ، پرویش کو فرویش -
اسی طرح اسے ب سے بھی بدلاگیاہے ، جیسے پزدہ کوبزدہ کرلیا گیا -

ت: اس حرف کو مثنات فوقانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ فَ وْ قَ ا نِ ی ) اور تائے قرشت ( قَ رْ شَ ت ) کہتے ہیں -

ث: اسےثائےمثلثہ ( مُ ثَ لَّ ثَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ج: اسے جیم تَازی کہتے ہیں ۔

چ: اسے جیم فارسی کہتے ہیں ، اس کی تعریب ' ص ' سے کی جاتی ہے ، مثلاً: چرم سے صرم ، چنگ سے صنج وغیرہ ۔

ح: اسے حائے حطی ( حُ طِّ ی ) کہتے ہیں ، بعض فارسی الفاظ جو حائے حطی سے لکھے جاتے ہیں یہ اصل میں ہائے ہَوَّز ( ہ ) سے ہیں ، جیسے: حیز اورحال کی اصل ہیز اور ہال ہے ، یہ بعض لوگوں کی نا درست ادائگی نے مخلوط کردیے ہیں -

خ: اسے خائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ )کہتے ہیں ۔

د: اسے دالِ مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ذ: اس حرف کوذالِ معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، فارسی کلموں میں دال اورذال کی پہچان یہ ہے کہ جہاں دال سے پہلے حرفِ علت ہو وہاں ہمیشہ ذال معجمہ ہوتی ہے اورجہاں اس سے پہلے حرفِ صحیح ہوگا تو دیکھیں گے کہ وہ ساکن ہے یا متحرک ، اگر متحرک ہے تووہاں بھی ذالِ معجمہ ہی ہوگی اوراگر ساکن ہے تودالِ مہملہ -
بعض علماکاکہناہے کہ ذالِ معجمہ فارسی میں آتی ہے اور بعض کاکہناہے یہ حرف فارسی میں نہیں آتا ، اگر کہیں آیاہے تو دال مہملہ سے بدلاہوا آیاہے ، جیسے: آذر ( آگ ) اصل میں آدر تھا ، جسے ذال سے تبدیل کیاگیا -
نیز بعض اساتذہ نے جو سُود اور بُود کاقافیہ ماخُوذ اور اَعُوذ باندھا ہے ، باد کاقافیہ نَفاذ اور عید کاقافیہ تعویذ باندھا ہے اس کی یہی وجہ ہے ۔

ر: اسے رائے مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ، یہ حرف کلمے کے آخرمیں نسبت کافائدہ بھی دیتاہے ، جیسے: انگشت انگلی کوکہتے ہیں تو انگشتر انگوٹھی کو ؛ ظاہر ہے کہ ' ر ' کے ملنے سے ہی یہ معنی پیدا ہوئے اسی لیے حروفِ نسبت میں اس کابھی شمار کیاجاتاہے ۔

ز: اسے زائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) اور زائے تازی کہتے ہیں ۔

ژ: اس حرف کوزائے فارسی کہاجاتاہے ، یہ صرف فارسی زُبان کے ساتھ مخصوص ہے اس کے علاوہ کسی زبان میں نہیں آتا ، جس لفظ میں یہ آئے سمجھ لیجیے کہ یہ فارسی ہی ہے ، جیسے: اژدھا ( سانپ ) ، ژولیدگی ( پریشانی ) ، ژَند ( گُدڑی ) ، مژدہ ( خوش خبری ) -
اِسے ' ی ' کی طرح نہیں ، ' ز ' کی آواز سے پڑھناچاہیے ، مثلاً: اَژدھا کو ایدھا نہیں ازدھا کہیں گے ، مژدہ کو میدہ نہیں مزدہ پڑھیں گے -

س: اسے سین مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں

ش: اسے شین معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، تصریفِ افعال میں یہ حرف اکثر حاصلِ مصدرکی علامت ہوتاہے اور اس سے پہلے والے حرف کے نیچے ہمیشہ زیر آتاہے ، جیسے: خلِش ، دانِش ، بینِش ، کاہِش ، خارِش وغیرہ -

( کام کرنے والے پر کام کرتے وقت جوحالت طاری ہوتی ہے جوکلمہ اس پر دلالت کرے اُسے حاصل مصدر کہتے ہیں ، جیسے اُردو میں ملنا مصدر ہے اور میل ، ملاپ حاصل مصدر ہیں ۔ )

ص ، ض ، ط ، ظ ، ع:
ان حروف کو صاد مہملہ ، ضاد معجمہ ، طائے مہملہ ، ظائے معجمہ ، اور عین مہملہ کہتے ہیں ۔

غ: اسے غین معجمہ کہتے ہیں ، یہ فارسی میں آتا توہے لیکن بہت کم آتاہے -

ف: عربی اور فارسی میں اس کاتلفظ " فا " ہے اوراُردو میں فے پڑھاجاتاہے -

ق: محققین کاکہناہے کہ یہ حرف اصل فارسی میں تو نہیں آیا لیکن جہاں فارسی میں پایاجاتاہے دوحال سے خالی نہیں:

¹ وہ لفظ جس میں قاف آیاہے یا تووہ سرے سے فارسی ہی نہیں ہوگا ، جیسے لفظِ " قند " میں ق ہے تو سہی لیکن اس کی اصل ہندی " کھانڈ " ہے -

یا
² پھرمتاخرینِ عجم ، عرب سے مخلوط ہونے کی وجہ سے خ ، غ ، اور کاف کو قاف کے مخرج سے نکالتے تھے اس لیے اس کی رسمِ خط قاف کے ساتھ ٹھہر گئی ہے ، جیسے: تاخ کی تاق ، غالیچہ کی قالیچہ -

ک: اسے کافِ تازی کہتے ہیں ، یہ جب کلمے کے آخرمیں آتاہے ، تو اُس کلمے کا یا توجُزہوتاہے یا اِسے جُز ٹھہرا لیاجاتاہے ، جیسے: نمک میں جز ہے اور مامک ( ماں ) ، بابک ( باپ ) میں جُز ٹھہرا لیاگیاہے -

🌺 اگر کاف تازی سے پہلےحرفِ مدہ آئے تو وہ ساکن ہوتا ہے اور مدہ نہ ہو تو ہمیشہ مفتوح ( زبر والا) ہوتا ہے ، جیسے: ' نمَک ' کی میم مفتوح ہے اور ' خُوْک ' میں واو مدہ ہونے کی وجہ سے ساکن ہے -

🌺 کاف اگر کسی لفظ کے آخر میں لگایاجائے تواس کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں ، جن میں سے یہ بھی ہیں:

۱ اس سے تصغیر مقصودہوتی ہے ، جیسے پانی کو آب کہتے ہیں تو پانی کے قطرے کوآبک -

۲ کبھی اس سے تحقیر مرادہوتی ہے ، جیسے ذلیل وحقیر مرد کو مَردک کہاجاتاہے ، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ؎

ذکر روکے ، فضل کاٹے ، نقص کا جُویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی

۳ کبھی تعظیم کے لیے بھی آتا ہے ، جیسے: مام کو مامک ( یعنی عزت والی ماں ) اور باب کو بابک ( یعنی والد بزرگوار) کہا جاتاہے -

۴ کبھی اظہار شفقت مقصود ہوتاہے ، جیسے طفل لڑکے کوکہتے ہیں تو طفلک پیارا لڑکا ، فرزند بیٹا تو فرزندک پیارا بیٹا -
۵ کبھی تشبیہ کافائدہ دیتاہے ، جیسے چوشیدن کامعنی ہے چوسنا اورچوشک ٹونٹی دار کوزے کو کہتے ہیں -

۶ کبھی زائدہ بھی آتاہے ، جیسے کف اور کفک ( ہتھیلی ) ۔

گ: اسے کافِ فارسی اورکافِ عجمی کہتے ہیں ، بعض الفاظ جن کی اصل میں کافِ تازی ( ک) آتاہے ، ان کواہل فارس کاف فارسی ( گ ) پڑھتے ہیں اور اہل ماوراءالنہر کاف تازی ہی پڑھتے ہیں ، جیسے: کُشاد اور گشاد -

ل: اس حرف کو لام کہتے ہیں ، شعرا زلفِ محبوب کو لام سے تشبیہ بھی دیتے ہیں ، جیسے میرے امام نوراللہ مرقدہ کہتے ہیں؎

گیسو وقَد لام الف ، کردوبلامنصرف
لاکے تہِ تیغ لا تم پہ کروروں درود ۔

م : اسے میم کہتےہیں یہ حرف ناموں کے آخرمیں لگایاجائے تونسبت کے معنی بھی دیتا ہے ، جیسے نیلے رنگ کے ہیرے کو نیلم کہتے ہیں ، نیز دولفظوں میں دومیم اکٹھے آئیں تو ایک میم حذف بھی کردیاجاتاہے ، جیسے: نیم من کو نیمن پڑھا جاتاہے -

ن: اسے نون کہتے ہیں ، اگر کسی لفظ میں ن اور ب اکٹھے آئیں توانھیں میم سے بدل دیتے ہیں ، جیسے: انبرود کو امرود پڑھتے ہیں ، دُنب کو دُم اورخُنب کو خُم -

و: اسے واو کہتے ہیں ، اس کی چارقسمیں ہیں:

¹ واوِمعروف :
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش ہواورخوب ظاہر ہوکر پڑھاجائے ، جیسے: نُوْر اور حُوْر کاواو -

² واوِ مجہول:
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش توہو لیکن خوب ظاہر کرکے نہ پڑھاجائے ، جیسے: ہوش اور جوش کاواو ہے -

³ واوِ لین:
وہ واو جس کے پہلے حرف پرزبر ہو اور آواز کو نرم اورترچھی کرکے تلفظ کیاجائے ، جیسے: قَوم ، شَوق وغیرہ ۔

⁴ واو معدولہ:
وہ واو جولکھی توجاتی ہے لیکن پڑھنے میں نہیں آتی ، جیسے: خود اور خوش کاواو ہے -
ایسا واو فارسی میں عام طورپر خ کے بعد آتاہے اور اس کے نیچے بہ طور علامت سیدھی لکیر (-) بھی لگادیتے ہیں -

( یہ لکیر زیر نہیں ہوتی ، صرف تمیز کے لیے لگائی جاتی ہے اسے خُوِد یاخُوِش نہیں پڑھیں گے بلکہ خوش ( خُش ) اور خود ( خُد ) ہی پڑھاجائے گا ) ۔
اگر واوِ معدولہ کے بعد: ا ، پ ، ہ آئے تواس کا ماقبل ( پہلے والاحرف ) مفتوح ( یعنی زبروالا) ہوگا ، جیسے:خواب ، خوپلہ ، خوہلہ -

ہ: اسے ہائے ہوز ( ہَ وَّ ز) کہتے ہیں ، فارسی میں اس کی دوقسمیں ہیں:

¹ ہائے ملفوظ ( مَ لْ فُ وْ ظ )
² ہائے مختفی ( مُ خْ تَ فِ ی )

ہائے ملفوظ: اس ' ہ ' کو کہتے ہیں جسےمستقل حرف کی طرح استعمال کیاجائے اور واضح طور پر تلفظ میں آئے ، جیسے: ہوا ، ماہ ، راہ ۔

ہاے مختفی: وہ ' ہ ' جوظاہر کرکے نہ پڑھی جائے -
درحقیقت یہ مستقل حرف کی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی اپنی کوئی آواز ہے ، یہ اپنے سے پہلے والے حرف کو اِس طرح سہارا دیتی ہے کہ اُس کی حرکت قائم رہ سکے -
اِس طرح اس کی حیثیت علامت کی سی ہے ، جیسے: خانہ ، وقفہ ، دیوانہ -

🌺 لفظ کے آخر میں آنے والی ہائے ملفوظ ، جمع کی حالت میں اپنے حال پرہی رہتی ہے تبدیل نہیں ہوتی ، جیسے: مہ کی جمع مہان ہے -
(مہ( مِ ہْ ) قوم کے سردار کوکہتے ہیں ، جس کی جمع مہان ( مِ ہَ ان ) ہے )

🌺 ہائے مختفی ہمیشہ الفاظ کے آخر میں آتی ہے ، جمع میں اسے کافِ فارسی سے بھی بدلتے ہیں ، جیسے: خواجہ سے خواجگان ، بندہ سے بندگان -

ء: ہمزہ اور الف کو فارسی والے ایک ہی لفظ قراردیتے ہیں -

ی: اسے مثناۃ تحتانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ تَ حْ تَ ا نِ ی ) کہتے ہیں ، اس کی دوقسمیں ہیں: یائے معروف اور یائے مجہول -
یائے معروف:
اُس ' ی ' کو کہتے ہیں جس سے پہلے زیرہو اور خوب ظاہر ہوکرپڑھی جائے ، جیسے: عِید ، فقِیر ، امیر ۔