Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تعلیم_نسواں_اور_روشن_خیالوں_کے_الزامات_ایک_جائزہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل، دہلی
کسی بھی عہد کی حقیقی صورت حال کا درست اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب انسان اس عہد کی ضروریات، عوامی نفسیات اور معاشرتی صورت حال سے اچھی طرح واقف ہو۔اس صورت میں بھی انسان صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے کیوں کہ سو سال کے طویل عرصے میں حقائق و واقعات کی کئی کڑیاں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں، کتنے ہی حقائق کتابوں کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں اور کتنے حقائق ایسے ہوتے ہیں جو سرے سے تاریخ میں درج نہیں ہوپاتے اس لیے کسی فاضل دانش ور کا یہ دعوی کہ؛
"جنوبی ایشیائی مفسرین وفقہا نے علاقائی معاشرتی اثرات ورسوم کے قبول وعدم قبول کے چکر میں دین فطرت کے متعدد احکام کو یکسر نیا رنگ دیا ہے۔"
مودودی صاحب کے بعد یہ -غالباً- پہلا ایسا الزام ہے جس میں بیک جنبش قلم بر صغیر کے جملہ مفسرین وفقہا پر دین فطرت کو بدلنے جیسا بے بنیاد اور انتہائی سستا الزام لگانے کا 'شرف' حاصل کیا گیا ہے، جس کے لیے وہ بجا طور پر 'روشن خیالوں' کی داد وتحسین اور اوارڈ وانعام کے حق دار ہیں۔
یہاں فاضل موصوف کی جادو گری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے نہایت چابک دستی سے بحث کا رخ اس طرح بدلا ہے کہ عام بندہ ان کے ہاتھ کی صفائی سمجھ نہیں پاتا، علما نے ممانعت تو محض کتابت نسواں کے متعلق کی، مگر فاضل دانش ور نے نہایت صفائی سے کتابت نسواں کی ممانعت کو تعلیم نسواں کی ممانعت پر چسپاں کرکے اکابر علما کو غیر ذمہ دار، شخصیت پرست، حرام کے ایمبیسڈر جیسی مہذب صلواتیں سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اسے ہی کہتے ہیں؛
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بر صغیر کی تاریخ میں ایسا کوئی معتبر عالم نہیں گزرا جس نے تعلیم نسواں کو منع کیا ہو۔ جن علما پر موصوف نے دین فطرت کو بدلنے کا الزام لگایا اُنہیں علما کی بچیوں نے مختلف علوم وفنون میں گراں قدر علمی خدمات انجام دے کر اپنے والدین و استاذہ کی فکری بلندی کا جیتا جاگتا ثبوت فراہم کیا ہے، مگر جوش تعلی کا کیا کِیا جائے جسے اس وقت تک چین نہیں پڑتا جب تک ماضی کے علما و فقہا کو حالات زمانہ سے بے خبر اور خود کو کائناتِ عالم کا سب سے بڑا مفکر ثابت نہ کر لیا جائے۔
تعلیم نسواں کے حوالے سے کسی مفسر وفقیہ کو ہدف تنقید بنانے اور اس فکر سے عدم اتفاق ظاہر کرنے سے پہلے فاضل دانش ور کو چاہیے تھا کہ وہ اس حدیث پر کلام فرماتے جس میں نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو دو چیزیں(سورہ نور اور کاتنا) سکھانے اور دو چیزوں(بالاخانے اور کتابت) سے بچانے کا حکم دیا ہے۔اس حدیث پاک کو نقل کرکے پھر آنجناب یہ رائے دیتے کہ "مجھے اس قول(رسول) سے ہرگز اتفاق نہیں ہے۔"
کیوں کہ جن فقہا ومحدثین نے کتابتِ نسواں کو ممنوع قرار دیا وہ اسی حدیث پاک سے استدلال کرتے ہیں۔ مذکورہ حدیث پاک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جسے امام طبرانی نے "معجم اوسط" میں، امام حاکم نے "مستدرک" میں، اور امام بیہقی نے "شعب الایمان" میں اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس کی ہم معنی روایات نوادر الأصول للحکیم الترمذی میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور امام ابن عدی کی "الکامل" میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہیں۔
متعدد طُرُق(اسانید) والی اس حدیث کی بنیاد پر علماے کرام نے کتابت نسواں کو ممنوع قرار دیا۔ اس روایت کے بالمقابل ابو داؤد شریف کی ایک روایت پائی جاتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خواتین کو کتابت سکھانے کی بات ارشاد فرمائی۔دونوں روایتیں بہ ظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہیں مگر حقیقتاً یہ دونوں روایتیں معاشرے کے دو مختلف رویوں کی ضرورت واصلاح پر مشتمل ہیں۔ چونکہ فی نفسہ تحریر و کتابت کوئی بری چیز نہیں اس لیے ایک روایت میں اس کے سیکھنے کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا۔تو خواتین کی جذباتی کیفیت اور احتمال فتنہ کے مد نظر کتابت نسواں کو منع بھی قرار دیا گیا۔اسی ممانعت اور مخصوص معاشرتی حالات کی وجہ سے بعض فقہا نے کتابت نسواں کو منع فرمایا مگر یہ ممانعت کراہت تنزیہی کے درجے میں تھی جیسا کہ شیخ احمد شہاب الدین ابن حجر ہیتی مکی نے فتاوی حدیثیہ میں اس کی صراحت کر دی ہے:
أن النهي عنه تنزيها لما تقرر من المفاسد المترتبة عليه،
(ج 1ص 193)
امام احمد رضا نے بھی کتابت نسواں کو ایک جگہ منع تو دوسری جگہ مکروہ لکھا یعنی آپ کے نزدیک ممانعت کراہت پر محمول ہے۔علماے عصر کے مطابق جہاں احتمال فتنہ کا غلبہ ہو تو کراہت درجہ تحریم میں ہوگی۔یعنی مدار حکم احتمال فتنہ پر ہے اگر احتمال فتنہ ختم ہو جائے تو انتفاے علت سے حکم بھی منتفی ہوگا اور علم کتابت بلا کراہت جائز ہوگا۔دوسرے لفظوں میں اس ممانعت کو ایسا ہی سمجھیں جیسے آج کل کی سماجی بے راہ روی، معاشقے کے بڑھتے چلن اور خواتین کے فرار ہونے کے اسباب میں موبائل کو ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے، جس کی بنا پر دفع فتنہ اور سد ذرائع کے طور پر بہت سارے کالجوں/یونیورسٹیوں میں موبائل رکھنے پر پابندی کی تجویز دی جاتی
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل، دہلی
کسی بھی عہد کی حقیقی صورت حال کا درست اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب انسان اس عہد کی ضروریات، عوامی نفسیات اور معاشرتی صورت حال سے اچھی طرح واقف ہو۔اس صورت میں بھی انسان صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے کیوں کہ سو سال کے طویل عرصے میں حقائق و واقعات کی کئی کڑیاں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں، کتنے ہی حقائق کتابوں کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں اور کتنے حقائق ایسے ہوتے ہیں جو سرے سے تاریخ میں درج نہیں ہوپاتے اس لیے کسی فاضل دانش ور کا یہ دعوی کہ؛
"جنوبی ایشیائی مفسرین وفقہا نے علاقائی معاشرتی اثرات ورسوم کے قبول وعدم قبول کے چکر میں دین فطرت کے متعدد احکام کو یکسر نیا رنگ دیا ہے۔"
مودودی صاحب کے بعد یہ -غالباً- پہلا ایسا الزام ہے جس میں بیک جنبش قلم بر صغیر کے جملہ مفسرین وفقہا پر دین فطرت کو بدلنے جیسا بے بنیاد اور انتہائی سستا الزام لگانے کا 'شرف' حاصل کیا گیا ہے، جس کے لیے وہ بجا طور پر 'روشن خیالوں' کی داد وتحسین اور اوارڈ وانعام کے حق دار ہیں۔
یہاں فاضل موصوف کی جادو گری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے نہایت چابک دستی سے بحث کا رخ اس طرح بدلا ہے کہ عام بندہ ان کے ہاتھ کی صفائی سمجھ نہیں پاتا، علما نے ممانعت تو محض کتابت نسواں کے متعلق کی، مگر فاضل دانش ور نے نہایت صفائی سے کتابت نسواں کی ممانعت کو تعلیم نسواں کی ممانعت پر چسپاں کرکے اکابر علما کو غیر ذمہ دار، شخصیت پرست، حرام کے ایمبیسڈر جیسی مہذب صلواتیں سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اسے ہی کہتے ہیں؛
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بر صغیر کی تاریخ میں ایسا کوئی معتبر عالم نہیں گزرا جس نے تعلیم نسواں کو منع کیا ہو۔ جن علما پر موصوف نے دین فطرت کو بدلنے کا الزام لگایا اُنہیں علما کی بچیوں نے مختلف علوم وفنون میں گراں قدر علمی خدمات انجام دے کر اپنے والدین و استاذہ کی فکری بلندی کا جیتا جاگتا ثبوت فراہم کیا ہے، مگر جوش تعلی کا کیا کِیا جائے جسے اس وقت تک چین نہیں پڑتا جب تک ماضی کے علما و فقہا کو حالات زمانہ سے بے خبر اور خود کو کائناتِ عالم کا سب سے بڑا مفکر ثابت نہ کر لیا جائے۔
تعلیم نسواں کے حوالے سے کسی مفسر وفقیہ کو ہدف تنقید بنانے اور اس فکر سے عدم اتفاق ظاہر کرنے سے پہلے فاضل دانش ور کو چاہیے تھا کہ وہ اس حدیث پر کلام فرماتے جس میں نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو دو چیزیں(سورہ نور اور کاتنا) سکھانے اور دو چیزوں(بالاخانے اور کتابت) سے بچانے کا حکم دیا ہے۔اس حدیث پاک کو نقل کرکے پھر آنجناب یہ رائے دیتے کہ "مجھے اس قول(رسول) سے ہرگز اتفاق نہیں ہے۔"
کیوں کہ جن فقہا ومحدثین نے کتابتِ نسواں کو ممنوع قرار دیا وہ اسی حدیث پاک سے استدلال کرتے ہیں۔ مذکورہ حدیث پاک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جسے امام طبرانی نے "معجم اوسط" میں، امام حاکم نے "مستدرک" میں، اور امام بیہقی نے "شعب الایمان" میں اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس کی ہم معنی روایات نوادر الأصول للحکیم الترمذی میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور امام ابن عدی کی "الکامل" میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہیں۔
متعدد طُرُق(اسانید) والی اس حدیث کی بنیاد پر علماے کرام نے کتابت نسواں کو ممنوع قرار دیا۔ اس روایت کے بالمقابل ابو داؤد شریف کی ایک روایت پائی جاتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خواتین کو کتابت سکھانے کی بات ارشاد فرمائی۔دونوں روایتیں بہ ظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہیں مگر حقیقتاً یہ دونوں روایتیں معاشرے کے دو مختلف رویوں کی ضرورت واصلاح پر مشتمل ہیں۔ چونکہ فی نفسہ تحریر و کتابت کوئی بری چیز نہیں اس لیے ایک روایت میں اس کے سیکھنے کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا۔تو خواتین کی جذباتی کیفیت اور احتمال فتنہ کے مد نظر کتابت نسواں کو منع بھی قرار دیا گیا۔اسی ممانعت اور مخصوص معاشرتی حالات کی وجہ سے بعض فقہا نے کتابت نسواں کو منع فرمایا مگر یہ ممانعت کراہت تنزیہی کے درجے میں تھی جیسا کہ شیخ احمد شہاب الدین ابن حجر ہیتی مکی نے فتاوی حدیثیہ میں اس کی صراحت کر دی ہے:
أن النهي عنه تنزيها لما تقرر من المفاسد المترتبة عليه،
(ج 1ص 193)
امام احمد رضا نے بھی کتابت نسواں کو ایک جگہ منع تو دوسری جگہ مکروہ لکھا یعنی آپ کے نزدیک ممانعت کراہت پر محمول ہے۔علماے عصر کے مطابق جہاں احتمال فتنہ کا غلبہ ہو تو کراہت درجہ تحریم میں ہوگی۔یعنی مدار حکم احتمال فتنہ پر ہے اگر احتمال فتنہ ختم ہو جائے تو انتفاے علت سے حکم بھی منتفی ہوگا اور علم کتابت بلا کراہت جائز ہوگا۔دوسرے لفظوں میں اس ممانعت کو ایسا ہی سمجھیں جیسے آج کل کی سماجی بے راہ روی، معاشقے کے بڑھتے چلن اور خواتین کے فرار ہونے کے اسباب میں موبائل کو ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے، جس کی بنا پر دفع فتنہ اور سد ذرائع کے طور پر بہت سارے کالجوں/یونیورسٹیوں میں موبائل رکھنے پر پابندی کی تجویز دی جاتی
ہے اور بعض مقامات پر پابندی عائد بھی کی جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایسی پابندی لگانے/تجویز دینے والے افراد "تشدد پسند اور شخصی غلامی کے شکار" ہیں۔کیوں کہ تجاویز دینے والوں میں بہت سارے 'روشن خیال' بھی ہوتے ہیں، جن کی آزاد خیالی پر شک کرنے کا گناہ کم از کم ہم جیسے تنگ نظر تو بالکل نہیں کر سکتے۔اب سو سال کے بعد کوئی 'انقلابی جیالا' اٹھے اور پابندی موبائل پر برستے ہوئے ایسی تجاویز دینے والوں کو 'تشدد پسند اور شخصی غلامی کا شکار' قرار دے تو اس روشن خیال مفکر کو کہا جائے گا؟
اصلاح معاشرہ کے لیے بعض اقدامات احتیاطی اور وقتی ضرورت ہوا کرتے ہیں۔اس زمانے میں چونکہ احتمال فتنہ خط وکتابت سے تھا تو احتیاطاً کتابت نسواں کو منع کیا گیا اب پیغامات کی ترسیل کے دوسرے ذرائع آگیے ہیں اور یہ جگہ موبائل نے حاصل کرلی ہے تو اس کے استعمال پر جز وقتی پابندی یا نگرانی کی بات کی جاتی ہے جو عین سمجھ داری اور معاشرے کے تئیں فکرمندی کی دلیل ہے۔اس بنیادی بات کو نظر انداز کرکے اپنی فکر کو برتر ثابت کرنا اور علماے سلف کی توہین کرنا کہاں کی دانش وری اور کہاں کا ادب ہے؟
اختلاف رائے کے نام پر اکابر پر طعن وتشنیع کرنا، سستے اور بھونڈے اسلوب میں ان پر طنز کسنا کِیا نئی نسل کو جری اور گستاخ بنانا نہیں ہے؟ امام احمد رضا تو اپنے پیش رو بزرگوں سے اختلاف رائے کو اپنا "تطفل" قرار دیتے ہیں جب کہ آج کے فاضلین بیک جنبش قلم ان پر دین بدلنے کا گھنونا الزام لگاتے ہیں۔
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
22 محرم الحرام 1443ھ
یکم ستمبر 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/980430112527507/
اصلاح معاشرہ کے لیے بعض اقدامات احتیاطی اور وقتی ضرورت ہوا کرتے ہیں۔اس زمانے میں چونکہ احتمال فتنہ خط وکتابت سے تھا تو احتیاطاً کتابت نسواں کو منع کیا گیا اب پیغامات کی ترسیل کے دوسرے ذرائع آگیے ہیں اور یہ جگہ موبائل نے حاصل کرلی ہے تو اس کے استعمال پر جز وقتی پابندی یا نگرانی کی بات کی جاتی ہے جو عین سمجھ داری اور معاشرے کے تئیں فکرمندی کی دلیل ہے۔اس بنیادی بات کو نظر انداز کرکے اپنی فکر کو برتر ثابت کرنا اور علماے سلف کی توہین کرنا کہاں کی دانش وری اور کہاں کا ادب ہے؟
اختلاف رائے کے نام پر اکابر پر طعن وتشنیع کرنا، سستے اور بھونڈے اسلوب میں ان پر طنز کسنا کِیا نئی نسل کو جری اور گستاخ بنانا نہیں ہے؟ امام احمد رضا تو اپنے پیش رو بزرگوں سے اختلاف رائے کو اپنا "تطفل" قرار دیتے ہیں جب کہ آج کے فاضلین بیک جنبش قلم ان پر دین بدلنے کا گھنونا الزام لگاتے ہیں۔
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
22 محرم الحرام 1443ھ
یکم ستمبر 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/980430112527507/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیائی_بلیک_میلنگ... 01
جو علما یا حفاظ فیس بک یا دیگر سوشل سائٹس پر ایکٹو ہیں ان کے لیے ایک خاص پیغام۔
جس طرح یہود ہمیشہ اسلامی سپاہیوں کو اپنی لڑکیا دیکر پھنسانے کی ناکام کوششیں کرتے آئے ہیں اسی طرح آج بھی اغیار ہمارے علما و حفاظ کو لڑکیوں کے ذریعے غیر مہذب چیٹ یا برہنہ ویڈیو کال کرکے پھنسانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
کئی دنوں سے اس طرح کی خبریں موصول ہورہی تھیں اور اب متعدد علمائے کرام نے یہ بات بتائی کہ ان کے پاس اس طرح کی کالز آئی ہیں اور ان سے چیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نیز راقم السطور کے پاس بھی کئی روز سے فیس بک میسنجر پر ایک خاتون چیٹ کرنے کی کوشش کررہی تھی اور ساتھ ہی باربار ویڈیو کال بھی آرہی تھی جن کو کئی مرتبہ اگنور کرنے کے بعد کل ایک کال کو رسیو کیا تو معاملہ وہی تھا جو لوگوں سے سنتے آئے تھے۔ ( میں نے فوراً ہی کال ڈسکنکٹ کردی۔)
کیوں کہ ان معاملات کی سنگینی کا علم مجھے تھا اور احباب سے اس طرح کی کالز اور چیٹس کی جانکاری بھی مل رہی تھی۔ ایک صاحب نے یہاں تک بتایا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسی طرح کی چیٹ اور ویڈیو کالز کی بنا پر بلیک میل بھی کیا جارہا ہے۔
ان کال کرنے والی لڑکیوں میں کچھ ائیڈیز مسلم ناموں سے ہیں تو کچھ غیر مسلم ناموں سے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اس طرح کی کالز آ ینڈ کرنا یا چیٹ میں شرکت کرنا آپ کے لیے وبال جان تو بنے گا ہی ساتھ ہی آپ کی قوم و ملت کے لیے بھی باعث ننگ و عار ہوگا۔
*ضروری بات*
مجھے جس آئی ڈی سے کال آئی تھی جب میں نے اس آئی ڈی کا اسکرین شاٹ لینا چاہا تو وہ آئی ڈی اتنی سیکیور تھی کہ اس کا اسکرین شاٹ بھی نہیں لیا جاسکا۔
یہ بات ایک اور واضح اشارہ کرتی ہے کہ یہ دور ٹیکنالوجی کا ہے یہاں آپ کو آپ کے موبائیل فون پر اسکرین شاٹ لینے سے روکا جاسکتا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کی چیٹ یا آپ کی ویڈیو کال کو بھی ایڈٹ کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوگا۔
ہوسکتا ہے کہ کال ادھر سے آئے اور شو کرے کہ کال آپ نے کی ہے، آپ کے چہرے کے ایکسپریشن سے چھڑچھاڑ کردی جائے یا آپ کے جسم کو بدل کر کوئی دوسرا جسم لگانا تو بچوں کا کھیل ہے۔
جب تک آپ ثابت کریں گے کہ وہ آپ نہیں ہیں تب تک کٹیا ڈوب چکی ہوگی۔
*اس حرکت کی متعدد وجوہات ہوسکی ہیں*
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح اغیار کے مذہبی رہنما ان معاملات میں ملوث ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی پوری قوم کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسی طرح وہ ہمارے علما و حفاظ کو بھی ملوث کرکے بدنام کرنا چاہتے ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح کے معاملات کو Love Jihad کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف آپ کی زندگی تباہ و برباد کی جائے بلکہ آپ کے پورے کنبہ کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
یا پہلے آپ کو بلیک میل کرکے آپ کے نال و دولت کو لوٹا جائے اور پھر ٹی وی وغیرہ کے حوالے کرکے قومی سطح پر فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کی جائے۔
یاد رہے ! آپ کی ایک غلطی یا نادانی آپ کو، آپ کے خاندان کو، آپ کی پوری قوم کو رسوا کرسکتی ہے۔
لہذا ہوشیار رہیں!!! اور اس طرح کی کوئی پیش کش کبھی قبول نہ کریں۔
*توجہ طلب یہ بھی ہے*
یہ بھی قابل توجہ امر ہے کہ اس معاملے میں ٹارگیٹ اکثر علما و حفاظ یا ڈارھی ٹوپی والے ہی ہیں۔ یہ تو وہ دور ہے جس میں خود قوم مسلم کی بیٹیاں داڑھی ٹوپی والوں کو پسند نہیں کرتیں۔ ایسے وقت میں اغیار کا داڑھی ٹوپی والوں پر ٹویٹ پڑنا اور بغیر کسی بات چیت کے سیدھے برہنہ ویڈیو چیٹ سے شروعات کرنا کوئی عام بات نہیں یہ کسی بہت بڑی سازش کا حصہ ہے۔
کفار کی ایسی تمام سازشوں کا شکار ہونے سے خود بھی بچیں اور اپنے اعزہ و اقارب کو بھی بچائیں۔
ایسے میں آپ سب سے گزارش ہے کہ اگر کوئی کسی بھی سوشل سائٹ پر یا فون کال پر اس طرح کی چیٹ کرے یا ویڈیو کال کرے تو آپ لوگ قطعاً اس میں شامل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اور اس طرح کے نمبرز یا ایسی ائڈیز کو فوراً بلاک کردیں۔
تاکہ آپ اور آپ کا مذہب دونوں بدنامی سے بچ سکیں۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981390402431478/
جو علما یا حفاظ فیس بک یا دیگر سوشل سائٹس پر ایکٹو ہیں ان کے لیے ایک خاص پیغام۔
جس طرح یہود ہمیشہ اسلامی سپاہیوں کو اپنی لڑکیا دیکر پھنسانے کی ناکام کوششیں کرتے آئے ہیں اسی طرح آج بھی اغیار ہمارے علما و حفاظ کو لڑکیوں کے ذریعے غیر مہذب چیٹ یا برہنہ ویڈیو کال کرکے پھنسانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
کئی دنوں سے اس طرح کی خبریں موصول ہورہی تھیں اور اب متعدد علمائے کرام نے یہ بات بتائی کہ ان کے پاس اس طرح کی کالز آئی ہیں اور ان سے چیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نیز راقم السطور کے پاس بھی کئی روز سے فیس بک میسنجر پر ایک خاتون چیٹ کرنے کی کوشش کررہی تھی اور ساتھ ہی باربار ویڈیو کال بھی آرہی تھی جن کو کئی مرتبہ اگنور کرنے کے بعد کل ایک کال کو رسیو کیا تو معاملہ وہی تھا جو لوگوں سے سنتے آئے تھے۔ ( میں نے فوراً ہی کال ڈسکنکٹ کردی۔)
کیوں کہ ان معاملات کی سنگینی کا علم مجھے تھا اور احباب سے اس طرح کی کالز اور چیٹس کی جانکاری بھی مل رہی تھی۔ ایک صاحب نے یہاں تک بتایا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسی طرح کی چیٹ اور ویڈیو کالز کی بنا پر بلیک میل بھی کیا جارہا ہے۔
ان کال کرنے والی لڑکیوں میں کچھ ائیڈیز مسلم ناموں سے ہیں تو کچھ غیر مسلم ناموں سے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اس طرح کی کالز آ ینڈ کرنا یا چیٹ میں شرکت کرنا آپ کے لیے وبال جان تو بنے گا ہی ساتھ ہی آپ کی قوم و ملت کے لیے بھی باعث ننگ و عار ہوگا۔
*ضروری بات*
مجھے جس آئی ڈی سے کال آئی تھی جب میں نے اس آئی ڈی کا اسکرین شاٹ لینا چاہا تو وہ آئی ڈی اتنی سیکیور تھی کہ اس کا اسکرین شاٹ بھی نہیں لیا جاسکا۔
یہ بات ایک اور واضح اشارہ کرتی ہے کہ یہ دور ٹیکنالوجی کا ہے یہاں آپ کو آپ کے موبائیل فون پر اسکرین شاٹ لینے سے روکا جاسکتا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کی چیٹ یا آپ کی ویڈیو کال کو بھی ایڈٹ کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوگا۔
ہوسکتا ہے کہ کال ادھر سے آئے اور شو کرے کہ کال آپ نے کی ہے، آپ کے چہرے کے ایکسپریشن سے چھڑچھاڑ کردی جائے یا آپ کے جسم کو بدل کر کوئی دوسرا جسم لگانا تو بچوں کا کھیل ہے۔
جب تک آپ ثابت کریں گے کہ وہ آپ نہیں ہیں تب تک کٹیا ڈوب چکی ہوگی۔
*اس حرکت کی متعدد وجوہات ہوسکی ہیں*
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح اغیار کے مذہبی رہنما ان معاملات میں ملوث ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی پوری قوم کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسی طرح وہ ہمارے علما و حفاظ کو بھی ملوث کرکے بدنام کرنا چاہتے ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح کے معاملات کو Love Jihad کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف آپ کی زندگی تباہ و برباد کی جائے بلکہ آپ کے پورے کنبہ کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
یا پہلے آپ کو بلیک میل کرکے آپ کے نال و دولت کو لوٹا جائے اور پھر ٹی وی وغیرہ کے حوالے کرکے قومی سطح پر فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کی جائے۔
یاد رہے ! آپ کی ایک غلطی یا نادانی آپ کو، آپ کے خاندان کو، آپ کی پوری قوم کو رسوا کرسکتی ہے۔
لہذا ہوشیار رہیں!!! اور اس طرح کی کوئی پیش کش کبھی قبول نہ کریں۔
*توجہ طلب یہ بھی ہے*
یہ بھی قابل توجہ امر ہے کہ اس معاملے میں ٹارگیٹ اکثر علما و حفاظ یا ڈارھی ٹوپی والے ہی ہیں۔ یہ تو وہ دور ہے جس میں خود قوم مسلم کی بیٹیاں داڑھی ٹوپی والوں کو پسند نہیں کرتیں۔ ایسے وقت میں اغیار کا داڑھی ٹوپی والوں پر ٹویٹ پڑنا اور بغیر کسی بات چیت کے سیدھے برہنہ ویڈیو چیٹ سے شروعات کرنا کوئی عام بات نہیں یہ کسی بہت بڑی سازش کا حصہ ہے۔
کفار کی ایسی تمام سازشوں کا شکار ہونے سے خود بھی بچیں اور اپنے اعزہ و اقارب کو بھی بچائیں۔
ایسے میں آپ سب سے گزارش ہے کہ اگر کوئی کسی بھی سوشل سائٹ پر یا فون کال پر اس طرح کی چیٹ کرے یا ویڈیو کال کرے تو آپ لوگ قطعاً اس میں شامل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اور اس طرح کے نمبرز یا ایسی ائڈیز کو فوراً بلاک کردیں۔
تاکہ آپ اور آپ کا مذہب دونوں بدنامی سے بچ سکیں۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981390402431478/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیائی_بلیک_میلنگ... 02
✒️ محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
چند روز قبل ہم نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں علما اور خواص کو سوشل میڈیائی بلیک میلنگ سے خبردار کیا گیا تھا۔
خادم کو لگا تھا شاید یہ تحریر کافی ہوگی ہمارے سمجھدار طبقہ کے لیئے، کیوں کہ جس تیزی کے ساتھ وہ تحریر وائرل ہوئی تھی وہ تو یہی اشارہ کررہی تھی۔ صرف خادم کے پیج پر گیارہ ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا اور ان گنت صاحب فہم حضرات نے اپنی وال سے پوسٹ کیا، ساتھ ہی عالی جناب قمر غنی عثمانی صاحب نے اس تحریر کے افادہ کو عام کرنے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہندی میں بھی ترجمہ کروایا۔
#تازہ_معاملات
مگر آج ضرورت آن پڑی ہے دوسری قسط لکھنے کی، کیوں کہ لگاتار خبریں موصول ہورہی ہیں خواص کو گرفت میں لیکر بلیک میلنگ کی، کئی اہم لوگوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے اور ان سے اچھی خاصی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کچھ لوگ تو کچھ رقم دے بھی چکے ہیں جن کی پہچان ظاہر کرنے یا پہچان کی طرف کوئی اشارہ کرنا مناسب نہیں۔
#بلیک_میلنگ_کیا_ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جب کوئی شخص اپنے ناجائز مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کسی شخص، کنبے یا تنظیم کے بارے میں "کافی حد تک سچ معلومات" عام کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو، اس کارروائی کو "بلیک میلنگ" کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا معاملات کا مقصد اکثر 'عزت' کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
در حقیقت ، اس طرح کی معلومات کو عام کرنا کسی بھی طرح سے غیر قانونی جرم نہیں ہے، لیکن اپنے ناجائز مطالبات کو منوانے کے لیے کسی معلومات کا 'ہتھیار' کی طرح استعمال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔
#بلیک_میل_کس_کو_کیا_جاتا_ہے؟
بلیک میل کسی کو بھی کیا جاسکتا ہے؛ خاص کر ایسے لوگ کثیر تعداد میں بلیک میل کیے جاتے ہیں جو سماج میں عزت رکھتے ہوں، ان میں مذہبی رہنما، (کسی بھی مذہب کے ہوں) سیاسی رہنما، سماجی قائدین یا کوئی بھی عزت دار شخص ہوسکتا ہے۔ اور ہر طرح کے وہ لوگ جو اپنی بے عزتی سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہوں۔
آج کل بلیک میلرز کا پسندیدہ شکار ہمارے علما اور اشراف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ ایک بار اگر چنگل میں آگئے تو یہ اپنی عزت بچانے کے لیے زندگی بھر پیسہ دیتے رہیں گے اور کہیں کچھ بول بھی نہ سکیں گے۔
اسی لیے بڑے پیمانے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر ایکٹو لوگوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانا شروع کردیا۔
ابھی تک ان کے شکار ہوئے افراد سے ملی معلومات کے مطابق پہلے یہ لڑکیاں آپ کو فرینڈ رکیوسٹ بھیجیں گی اور اسے قبول کیئے جانے کے بعد پرسنل میسجز کا دور شروع ہوگا اور ساتھ ہی ویڈیو چیٹ کی مانگ بھی انہیں کی جانب سے کی جائے گی، اور جیسے ہی ویڈیو کالز شروع ہوئیں تو پھر وہ برہنہ ہوکر آپ کے سامنے آئیں گی اور آپ کو بھی برہنہ ہونے کی دعوت دیں گی؛ جب آپ بھی اس میں ملوث ہوجائیں گے تو وہ اس کا اسکرین رکارڈ کرکے آپ کو بلیک میل کرنا شروع کردیں گی۔
ایسے میں سیدھے سادھے یا اپنی عزت سے بہت زیادہ پیار کرنے والے افراد ڈر کر ان کے مطالبات ماننے لگتے ہیں اور انہیں پیسہ پہنچانے لگتے ہیں۔
#بلیک_میلرز_کے_مطالبات_نہ_مانیں
اگر آپ میں سے کسی کے ایسا معاملہ پیش آئے اور کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم سے کچھ پیسے لینے بعد مزید پیسوں کی مانگ جاری ہے۔
#سائبر_کرائم اور سوشل میڈیائی بلیک میلنگ
اگر آپ کو کوئی بلیک میل کر رہا ہو، تو سائبر کرائم کو اطلاع دیں۔
آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ سائبر کرائم واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔
مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا۔
آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمع ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس یا فون کالز کی ریکارڈنگ وغیرہ) اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر دے سکتے ہیں۔
یا مندرجہ ذیل ای میل پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
पुलिस मुख्यालय लखनऊ में स्थापित साइबर क्राइम मुख्यालय sp-cyber.lu@up.gov.in
یا سائبر ہیلپ لائن 155260 پر صبح 9:00 بجے سے شام 6:00 بجے درمیان کال کرسکتے ہیں۔
✒️ محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
چند روز قبل ہم نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں علما اور خواص کو سوشل میڈیائی بلیک میلنگ سے خبردار کیا گیا تھا۔
خادم کو لگا تھا شاید یہ تحریر کافی ہوگی ہمارے سمجھدار طبقہ کے لیئے، کیوں کہ جس تیزی کے ساتھ وہ تحریر وائرل ہوئی تھی وہ تو یہی اشارہ کررہی تھی۔ صرف خادم کے پیج پر گیارہ ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا اور ان گنت صاحب فہم حضرات نے اپنی وال سے پوسٹ کیا، ساتھ ہی عالی جناب قمر غنی عثمانی صاحب نے اس تحریر کے افادہ کو عام کرنے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہندی میں بھی ترجمہ کروایا۔
#تازہ_معاملات
مگر آج ضرورت آن پڑی ہے دوسری قسط لکھنے کی، کیوں کہ لگاتار خبریں موصول ہورہی ہیں خواص کو گرفت میں لیکر بلیک میلنگ کی، کئی اہم لوگوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے اور ان سے اچھی خاصی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کچھ لوگ تو کچھ رقم دے بھی چکے ہیں جن کی پہچان ظاہر کرنے یا پہچان کی طرف کوئی اشارہ کرنا مناسب نہیں۔
#بلیک_میلنگ_کیا_ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جب کوئی شخص اپنے ناجائز مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کسی شخص، کنبے یا تنظیم کے بارے میں "کافی حد تک سچ معلومات" عام کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو، اس کارروائی کو "بلیک میلنگ" کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا معاملات کا مقصد اکثر 'عزت' کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
در حقیقت ، اس طرح کی معلومات کو عام کرنا کسی بھی طرح سے غیر قانونی جرم نہیں ہے، لیکن اپنے ناجائز مطالبات کو منوانے کے لیے کسی معلومات کا 'ہتھیار' کی طرح استعمال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔
#بلیک_میل_کس_کو_کیا_جاتا_ہے؟
بلیک میل کسی کو بھی کیا جاسکتا ہے؛ خاص کر ایسے لوگ کثیر تعداد میں بلیک میل کیے جاتے ہیں جو سماج میں عزت رکھتے ہوں، ان میں مذہبی رہنما، (کسی بھی مذہب کے ہوں) سیاسی رہنما، سماجی قائدین یا کوئی بھی عزت دار شخص ہوسکتا ہے۔ اور ہر طرح کے وہ لوگ جو اپنی بے عزتی سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہوں۔
آج کل بلیک میلرز کا پسندیدہ شکار ہمارے علما اور اشراف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ ایک بار اگر چنگل میں آگئے تو یہ اپنی عزت بچانے کے لیے زندگی بھر پیسہ دیتے رہیں گے اور کہیں کچھ بول بھی نہ سکیں گے۔
اسی لیے بڑے پیمانے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر ایکٹو لوگوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانا شروع کردیا۔
ابھی تک ان کے شکار ہوئے افراد سے ملی معلومات کے مطابق پہلے یہ لڑکیاں آپ کو فرینڈ رکیوسٹ بھیجیں گی اور اسے قبول کیئے جانے کے بعد پرسنل میسجز کا دور شروع ہوگا اور ساتھ ہی ویڈیو چیٹ کی مانگ بھی انہیں کی جانب سے کی جائے گی، اور جیسے ہی ویڈیو کالز شروع ہوئیں تو پھر وہ برہنہ ہوکر آپ کے سامنے آئیں گی اور آپ کو بھی برہنہ ہونے کی دعوت دیں گی؛ جب آپ بھی اس میں ملوث ہوجائیں گے تو وہ اس کا اسکرین رکارڈ کرکے آپ کو بلیک میل کرنا شروع کردیں گی۔
ایسے میں سیدھے سادھے یا اپنی عزت سے بہت زیادہ پیار کرنے والے افراد ڈر کر ان کے مطالبات ماننے لگتے ہیں اور انہیں پیسہ پہنچانے لگتے ہیں۔
#بلیک_میلرز_کے_مطالبات_نہ_مانیں
اگر آپ میں سے کسی کے ایسا معاملہ پیش آئے اور کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم سے کچھ پیسے لینے بعد مزید پیسوں کی مانگ جاری ہے۔
#سائبر_کرائم اور سوشل میڈیائی بلیک میلنگ
اگر آپ کو کوئی بلیک میل کر رہا ہو، تو سائبر کرائم کو اطلاع دیں۔
آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ سائبر کرائم واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔
مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا۔
آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمع ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس یا فون کالز کی ریکارڈنگ وغیرہ) اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر دے سکتے ہیں۔
یا مندرجہ ذیل ای میل پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
पुलिस मुख्यालय लखनऊ में स्थापित साइबर क्राइम मुख्यालय sp-cyber.lu@up.gov.in
یا سائبر ہیلپ لائن 155260 پر صبح 9:00 بجے سے شام 6:00 بجے درمیان کال کرسکتے ہیں۔
#ایک_گروہ_گرفتار_ہوا
لکھنؤ پولیس نے کل ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں میاں بیوی سمیت سات افراد شامل تھے، وہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسا کر ان سے اچھی خاصی رقم وصولتے تھے۔ اس گروپ کے دو فرد (جو میاں بیوی ہیں) پولیس کی گرفت میں ہیں بقیہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
#دھوکا_دھڑی_ان_پر_بھی
صرف ٹویٹر، فیس بک، واٹس اپ ہی نہیں اور بھی بہت سے ایسے ایپلیکیشنز ہیں جن پر آپ کے ساتھ دھوکا دھڑی ہوسکتی ہے جیسے:
Indian Messenger App
Hike Sticker Chat
JioChat
Troop Messenger
Namaste Bharat
ShareChat
Telegram
Kik
Hangouts
Line
Signal
Tindar
اور نہ جانے کتنے۔
ہمیں فضول میں ان ایپس کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
آپ صرف وہی ایپ استعمال کریں جو آپ کے کام کے ہیں۔
مثلاً واٹس اپ ٹیلیگرام وغیرہ جو آپ کے ڈیٹا کی ترسیل کے کام آتے ہیں بقیہ ایپس کی ضرورت نہیں! جب آپ اس طرح کے ایپس پر چیٹنگ کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کبھی نہ کبھی تو گرفت میں آنا ہی ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ تنہائی میں کیا ہوا کام ہے اسے کون دیکھ رہا ہے؟
آج کل تو لوگ یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ آپ سرچ کیا کرتے ہیں اپنے فون پر تو کسی سے کی ہوئی چیٹ کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اگر محفوظ رہ بھی جائے تب بھی آپ کا رب ہر چیز دیکھنے والا ہے، آپ کو کسی اور سے نہیں اپنے رب سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔
جس دن خوف خدا پیدا ہوگیا اس دن یہ ساری چیزیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔
#کوشش
کچھ خیر خواہ حضرت جن میں سر فہرست حضرت قاری آصف برکاتی صاحب مہاراشٹر ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ایسا ایپ ڈیولپ کرایا جائے جس کے ہوتے ہوئے موبائل میں کوئی فحش مواد یا فحش کال آ ہی نہ سکے۔
یقیناً یہ ایک قابل عمل مشورہ ہے اور کافی حد تک کارگر بھی ہوسکتا ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام کرسکے گا جب آپ اپنے موبائل میں وہ ایپ انسٹال کریں گے۔
اللہ کرے یہ ایپ جلد ہی تیار ہوجائے کیوں کہ کئی بار لوگ عدم معلومات کی بنا پر ان چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تو اس ایپ کی مدد سے وہ لوگ تو محفوظ ہو جائیں گے، مگر جو لوگ جان بوجھ کر دلدل میں چھلانگ لگانا چاہیں گے ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ توفیق بخشے۔
#دست_بستہ_گزارش
ہماری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس طرح کے کسی بھی ہنی ٹریپ کا شکار نہ ہوں۔
آپ کی عزت بحیثیت عالم صرف آپ ہی کی نہیں بلکہ مذہب اسلام کی بھی عزت ہے۔
اگر آپ کو اپنی پرواہ نہیں ہے تو کم از کم اپنے حُلیہ کی بناپر آپ کے مذہب پر جو الزام آئے گا اس کی تو پرواہ کریں۔
جہاں ان معاملات میں ملوث ہونے سے آپ کی پرسنل اور ازدواجی زندگی تباہ ہوگی وہیں آپ کی پروفیشنل زندگی بھی تباہ ہوگی۔ اور آخرت کا عذاب مزید برآں۔
تو خدا را کسی بھی انجان لڑکی یا عورت سے قطعاً رابطہ نہ کریں اگرچہ وہ آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تب بھی آپ اس سے دور ہی رہیں۔
یہی آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے سود مند ہوگا۔
ورنہ دونوں مقامات پر خائب و خاسر ہونگے۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981392675764584/
لکھنؤ پولیس نے کل ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں میاں بیوی سمیت سات افراد شامل تھے، وہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسا کر ان سے اچھی خاصی رقم وصولتے تھے۔ اس گروپ کے دو فرد (جو میاں بیوی ہیں) پولیس کی گرفت میں ہیں بقیہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
#دھوکا_دھڑی_ان_پر_بھی
صرف ٹویٹر، فیس بک، واٹس اپ ہی نہیں اور بھی بہت سے ایسے ایپلیکیشنز ہیں جن پر آپ کے ساتھ دھوکا دھڑی ہوسکتی ہے جیسے:
Indian Messenger App
Hike Sticker Chat
JioChat
Troop Messenger
Namaste Bharat
ShareChat
Telegram
Kik
Hangouts
Line
Signal
Tindar
اور نہ جانے کتنے۔
ہمیں فضول میں ان ایپس کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
آپ صرف وہی ایپ استعمال کریں جو آپ کے کام کے ہیں۔
مثلاً واٹس اپ ٹیلیگرام وغیرہ جو آپ کے ڈیٹا کی ترسیل کے کام آتے ہیں بقیہ ایپس کی ضرورت نہیں! جب آپ اس طرح کے ایپس پر چیٹنگ کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کبھی نہ کبھی تو گرفت میں آنا ہی ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ تنہائی میں کیا ہوا کام ہے اسے کون دیکھ رہا ہے؟
آج کل تو لوگ یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ آپ سرچ کیا کرتے ہیں اپنے فون پر تو کسی سے کی ہوئی چیٹ کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اگر محفوظ رہ بھی جائے تب بھی آپ کا رب ہر چیز دیکھنے والا ہے، آپ کو کسی اور سے نہیں اپنے رب سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔
جس دن خوف خدا پیدا ہوگیا اس دن یہ ساری چیزیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔
#کوشش
کچھ خیر خواہ حضرت جن میں سر فہرست حضرت قاری آصف برکاتی صاحب مہاراشٹر ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ایسا ایپ ڈیولپ کرایا جائے جس کے ہوتے ہوئے موبائل میں کوئی فحش مواد یا فحش کال آ ہی نہ سکے۔
یقیناً یہ ایک قابل عمل مشورہ ہے اور کافی حد تک کارگر بھی ہوسکتا ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام کرسکے گا جب آپ اپنے موبائل میں وہ ایپ انسٹال کریں گے۔
اللہ کرے یہ ایپ جلد ہی تیار ہوجائے کیوں کہ کئی بار لوگ عدم معلومات کی بنا پر ان چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تو اس ایپ کی مدد سے وہ لوگ تو محفوظ ہو جائیں گے، مگر جو لوگ جان بوجھ کر دلدل میں چھلانگ لگانا چاہیں گے ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ توفیق بخشے۔
#دست_بستہ_گزارش
ہماری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس طرح کے کسی بھی ہنی ٹریپ کا شکار نہ ہوں۔
آپ کی عزت بحیثیت عالم صرف آپ ہی کی نہیں بلکہ مذہب اسلام کی بھی عزت ہے۔
اگر آپ کو اپنی پرواہ نہیں ہے تو کم از کم اپنے حُلیہ کی بناپر آپ کے مذہب پر جو الزام آئے گا اس کی تو پرواہ کریں۔
جہاں ان معاملات میں ملوث ہونے سے آپ کی پرسنل اور ازدواجی زندگی تباہ ہوگی وہیں آپ کی پروفیشنل زندگی بھی تباہ ہوگی۔ اور آخرت کا عذاب مزید برآں۔
تو خدا را کسی بھی انجان لڑکی یا عورت سے قطعاً رابطہ نہ کریں اگرچہ وہ آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تب بھی آپ اس سے دور ہی رہیں۔
یہی آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے سود مند ہوگا۔
ورنہ دونوں مقامات پر خائب و خاسر ہونگے۔
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981392675764584/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#روشن_خیالی_کے_مریض
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ: سواد اعظم دہلی
'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔
19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار
بہ شکریہ Ghulam Mustafa Naimi
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2895528547362631&id=100007165422879
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ: سواد اعظم دہلی
'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔
19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار
بہ شکریہ Ghulam Mustafa Naimi
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2895528547362631&id=100007165422879
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برصغیر پاک و ہند میں مروجہ بیعت کے اثرات۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی۔
برصغیر پاک و ہند کے اندر ایک سیدھا سادہ مسلمان جو شریعت مطہرہ کا عامل ، نماز روزے کا پابند، رزق حلال کمانے والا، اپنے والدین کی خدمت کرنے والا ،رشتے داروں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ،ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا ،دینی محافل میں ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرنے والا ،ہر دینی کتاب کو لگن اور شوق کے ساتھ پڑھنے والا قرآن و سنت میں مذکور مسنون دعاؤں کو اہتمام سے پڑھنے والا جب کسی پیر صاحب کا مرید ہو جاتا ہے تو اس کا اندازِ زیست ہی بدل جاتا ہے ۔ اس بیعت کے بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں کچھ کا تذکرہ اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
1۔مخصوص وضع قطع اختیار کر لیتا ہے جس میں اپنے پیر خانے کی تشہیر نمایاں ہو ۔مخصوص رنگ کی ٹوپیاں ،عمامہ شریف ،گلے میں لٹکانے والی چادر وغیرہ۔پیر صاحب کا ذوق جس رنگ کا ہے سارے مرید اسی رنگ کی ٹوپیاں کرتے وغیرہ سلواتےہیں۔شیخ صاحب کے ذوق کو اس میں مرکزی اور نمایاں حیثیت ہوتی ہے ۔
2۔مروجہ طریقت میں پیر صاحب کا ذوق بھی ایک مستقل حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر پیر صاحب کو قوالی پسند ہے اور اس میں ایک مخصوص راگ اور ساز پسند ہے تو جملہ مریدین اسی راگ اور ساز کو سنیں گے ۔اگر پیر صاحب کو نماز کے بعد جہری ذکر ایک مخصوص طرز اور لے میں پسند ہے تو جملہ مریدین بھی اسی انداز اور طرز میں ذکر کریں گے۔ یہی معاملہ لباس کا ہے جو آستانہ کا آفیشل لباس منظور شدہ ہے تمام پیر بھائی حضرات وہی پہنتے ہیں کچھ عملی طور پر سست مرید یوں بھی کر لیتے ہیں پورا سال جینز ،تھری پیس ،شارٹس پہنے رکھتے ہیں جب پیر صاحب کے سامنے حاضری دیتے ہیں تو پیر صاحب کے مرغوب لباس پہن کر حاضر ہو جاتے ہیں یوں رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ قصہ مختصر پیر صاحب کے ذوق کی فرضوں کی طرح پابندی کی جاتی ہے ۔
3۔بیعت سے پہلے ہر دینی محفل میں شرکت کرنے والا اب بیعت کے بعد دوسری دینی محافل میں جانا چھوڑ دیتا ہے ۔صرف یاران طریقت کی محافل میں شرکت کی جاتی ہے دوسری محافل میں جتنا بھی قابل،عالم فاضل ،صاحب تقوی عالم دین بیان کرنے کے لیے آئے اسے در خور اعناء نہیں سمجھا جاتا۔
4۔ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا سالک اپنی تمام محبتیں شفقتیں، الفتیں ،چاہتیں، پیار ،خلوص، عزت و احترام اپنے شیخ پر ہی نچھاور کرتا ہے۔ بہت کم مرید ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جو دوسرے بزرگ کو بھی وہی ادب و احترام دے رہے ہو ں جو اپنے پیر صاحب کو دیتے ہیں۔ ایسی بازاری اور گھٹیا سیاست کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں کہ ایک علاقے میں کسی پیر صاحب کا حلقہ ارادت زیادہ ہو ،اسی علاقے میں کوئی دوسرے پیر صاحب آ جائیں تو مریدین دوسرے پیر صاحب پر گھٹیا الزام لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے جھوٹ، غیبت، چغلی، تہمت بہتان طرازی کا بھی سہارا لینے میں کوئی عار نہیں سمجھی جاتی۔
5۔مسنون دعاؤں کی پابندی کرنے والا اب اپنے آستانے کے اکثر غیر مسنون اوراد و وظائف کی اہتمام سے پابندی کرتا نظر آتا ہے۔
یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ مروجہ امور تصوف میں مسنون اوراد و وظائف کی جگہ غیر مسنون اوراد و وظائف زیادہ شامل ہیں۔
6۔مروجہ بیعت کی ایک تاثیر یہ بھی دیکھنے میں نظر آئی ہے کہ رسومات تصوف ،معمولات تصوف مثلا دست بوسی، قدم بوسی، استان بوسی،چادر پوشی، عرس اور قوالی میں اہتمام سے شرکت بلکہ ان محافل میں شرکت کو لازم اور فرض خیال کرتے ہیں، جب کہ فرائض دینیہ نماز ،روزہ، حج، زکوۃ، کسب حلال ،اکل حلال وغیرہ کو یکسر نظر انداز کیا جاتاہے۔مریدوں کے اندر یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ ہم جتنی بھی بد اعمالیاں کرلیں، صاحب مزار ہماری شفاعت کریں گے ۔اس غلط بات کو مزید ان واعظین نے عام کیا ہے جنہوں نے حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے دھوبی والی کرامت اور اس طرح کی دیگر کرامتیں بیان کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کر دیا ہے کہ تم جو مرضی کرو صاحب مزار آخرت میں تم کو قبر کے عذاب سے بھی چھڑوا لیں گے اور حشر میں اپنے جھنڈے تلے جگہہ دے کر تمہارے گناہ بھی بخشوا لیں گے تمہاری شفاعت کریں گے۔اور تمہیں جنت میں اپنے ساتھ رکھیں گے۔
8۔ شومئی قسمت اگر پیر صاحب علم دین سے کورے ہیں اور مسند ارشاد میراث میں ہی پائی ہے تو ان کے مریدین علم اور علماء سے سخت تنفر اور بیزاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی سرگرمیوں کو فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں جیسا کہ مدارس میں پڑھنا ،علم دین کی ترویج و اشاعت وغیرہ ۔ان کا موقف ہے کہ ہم درگاہ سے نسبت کی برکت سے اس مقام عالی پر فائز ہیں جہاں پر ظاہر بیں علماء سوچ بھی نہیں سکتے۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی۔
برصغیر پاک و ہند کے اندر ایک سیدھا سادہ مسلمان جو شریعت مطہرہ کا عامل ، نماز روزے کا پابند، رزق حلال کمانے والا، اپنے والدین کی خدمت کرنے والا ،رشتے داروں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ،ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا ،دینی محافل میں ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرنے والا ،ہر دینی کتاب کو لگن اور شوق کے ساتھ پڑھنے والا قرآن و سنت میں مذکور مسنون دعاؤں کو اہتمام سے پڑھنے والا جب کسی پیر صاحب کا مرید ہو جاتا ہے تو اس کا اندازِ زیست ہی بدل جاتا ہے ۔ اس بیعت کے بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں کچھ کا تذکرہ اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
1۔مخصوص وضع قطع اختیار کر لیتا ہے جس میں اپنے پیر خانے کی تشہیر نمایاں ہو ۔مخصوص رنگ کی ٹوپیاں ،عمامہ شریف ،گلے میں لٹکانے والی چادر وغیرہ۔پیر صاحب کا ذوق جس رنگ کا ہے سارے مرید اسی رنگ کی ٹوپیاں کرتے وغیرہ سلواتےہیں۔شیخ صاحب کے ذوق کو اس میں مرکزی اور نمایاں حیثیت ہوتی ہے ۔
2۔مروجہ طریقت میں پیر صاحب کا ذوق بھی ایک مستقل حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر پیر صاحب کو قوالی پسند ہے اور اس میں ایک مخصوص راگ اور ساز پسند ہے تو جملہ مریدین اسی راگ اور ساز کو سنیں گے ۔اگر پیر صاحب کو نماز کے بعد جہری ذکر ایک مخصوص طرز اور لے میں پسند ہے تو جملہ مریدین بھی اسی انداز اور طرز میں ذکر کریں گے۔ یہی معاملہ لباس کا ہے جو آستانہ کا آفیشل لباس منظور شدہ ہے تمام پیر بھائی حضرات وہی پہنتے ہیں کچھ عملی طور پر سست مرید یوں بھی کر لیتے ہیں پورا سال جینز ،تھری پیس ،شارٹس پہنے رکھتے ہیں جب پیر صاحب کے سامنے حاضری دیتے ہیں تو پیر صاحب کے مرغوب لباس پہن کر حاضر ہو جاتے ہیں یوں رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ قصہ مختصر پیر صاحب کے ذوق کی فرضوں کی طرح پابندی کی جاتی ہے ۔
3۔بیعت سے پہلے ہر دینی محفل میں شرکت کرنے والا اب بیعت کے بعد دوسری دینی محافل میں جانا چھوڑ دیتا ہے ۔صرف یاران طریقت کی محافل میں شرکت کی جاتی ہے دوسری محافل میں جتنا بھی قابل،عالم فاضل ،صاحب تقوی عالم دین بیان کرنے کے لیے آئے اسے در خور اعناء نہیں سمجھا جاتا۔
4۔ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا سالک اپنی تمام محبتیں شفقتیں، الفتیں ،چاہتیں، پیار ،خلوص، عزت و احترام اپنے شیخ پر ہی نچھاور کرتا ہے۔ بہت کم مرید ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جو دوسرے بزرگ کو بھی وہی ادب و احترام دے رہے ہو ں جو اپنے پیر صاحب کو دیتے ہیں۔ ایسی بازاری اور گھٹیا سیاست کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں کہ ایک علاقے میں کسی پیر صاحب کا حلقہ ارادت زیادہ ہو ،اسی علاقے میں کوئی دوسرے پیر صاحب آ جائیں تو مریدین دوسرے پیر صاحب پر گھٹیا الزام لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے جھوٹ، غیبت، چغلی، تہمت بہتان طرازی کا بھی سہارا لینے میں کوئی عار نہیں سمجھی جاتی۔
5۔مسنون دعاؤں کی پابندی کرنے والا اب اپنے آستانے کے اکثر غیر مسنون اوراد و وظائف کی اہتمام سے پابندی کرتا نظر آتا ہے۔
یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ مروجہ امور تصوف میں مسنون اوراد و وظائف کی جگہ غیر مسنون اوراد و وظائف زیادہ شامل ہیں۔
6۔مروجہ بیعت کی ایک تاثیر یہ بھی دیکھنے میں نظر آئی ہے کہ رسومات تصوف ،معمولات تصوف مثلا دست بوسی، قدم بوسی، استان بوسی،چادر پوشی، عرس اور قوالی میں اہتمام سے شرکت بلکہ ان محافل میں شرکت کو لازم اور فرض خیال کرتے ہیں، جب کہ فرائض دینیہ نماز ،روزہ، حج، زکوۃ، کسب حلال ،اکل حلال وغیرہ کو یکسر نظر انداز کیا جاتاہے۔مریدوں کے اندر یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ ہم جتنی بھی بد اعمالیاں کرلیں، صاحب مزار ہماری شفاعت کریں گے ۔اس غلط بات کو مزید ان واعظین نے عام کیا ہے جنہوں نے حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے دھوبی والی کرامت اور اس طرح کی دیگر کرامتیں بیان کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کر دیا ہے کہ تم جو مرضی کرو صاحب مزار آخرت میں تم کو قبر کے عذاب سے بھی چھڑوا لیں گے اور حشر میں اپنے جھنڈے تلے جگہہ دے کر تمہارے گناہ بھی بخشوا لیں گے تمہاری شفاعت کریں گے۔اور تمہیں جنت میں اپنے ساتھ رکھیں گے۔
8۔ شومئی قسمت اگر پیر صاحب علم دین سے کورے ہیں اور مسند ارشاد میراث میں ہی پائی ہے تو ان کے مریدین علم اور علماء سے سخت تنفر اور بیزاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی سرگرمیوں کو فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں جیسا کہ مدارس میں پڑھنا ،علم دین کی ترویج و اشاعت وغیرہ ۔ان کا موقف ہے کہ ہم درگاہ سے نسبت کی برکت سے اس مقام عالی پر فائز ہیں جہاں پر ظاہر بیں علماء سوچ بھی نہیں سکتے۔
9. ہم نے ایک سروے کیا تھا جس میں مختلف درگاہوں سے وابستہ افراد مثلآ مریدین، معتقدین ،محبین سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اس درگاہ پر بیعت ہونے کی برکت سے آپ کے اخلاق کردار، رویے اور اعمال میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے ؟ بہت سے لوگ یہ سوال سن کر خلا میں گھورنے لگتے۔۔۔۔۔ ۔یا گم صُم ہو کر منہ دیکھنے لگتے جیسے ہم نے کوئی بہت ہی مشکل سوال کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ۔کئی حضرات نے کہا کہ ہم نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں لیکن یہ حضرات بیعت سے پہلے بھی نماز روزے کے پابند تھے۔۔۔۔۔۔۔ ۔ایک فیصد سے بھی کم وہ حضرات تھے جنہوں نے کہا کہ اس آستانے پر بیعت کی برکت سے میں عملی طور پر اچھا مسلمان بن رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔یا میرے اخلاق اور رویے میں بہتری اور تبدیلی آئی ہے ۔یہ کسوٹی ہے اس بات کو دیکھنے کی کہ اس جگہ پر بیعت کی برکت سے میرے اندر کیا انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں ؟
حقیقت یہ ہے کہ بیعت کا ثمرہ وصول الی اللہ بطریق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔۔۔۔۔۔درگاہوں اور آستانوں پر جو بیعت ہوتی ہے یہ فقط بیعت برکت ہے حدیث مبارکہ میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ حاکم اسلام کی بیعت ہے ۔۔۔ ۔ پہلے لوگ بیعت کرتے تھے ۔۔۔باطنی تطہیر، روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اللہ تبارک و تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے اور اپنی تربیت کے لیے ۔ اب رسومات تصوف تو موجود ہیں حقیقت تصوف یعنی تزکیہ ،روحانی پاکیزگی مفقود ہے۔جس طرح دنیا کے تمام شعبے مادیت زدہ ہوئے ہیں اسی طرح روحانی پاکیزگی کا شعبہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے اب بیعت کی جاتی ہے امریکہ کے گرین کارڈ کے لیے،یورپی ممالک کی نیشنلٹی کے لیے،کسی دنیاوی عہدے کے حصول کے لیے یا کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے نہ مریدوں میں وہ تڑپ اور جذبہ صادق ہے کہ ہم گناہوں سے پاک ہو کر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کے مطابق زندگی بسر کریں اور نہ ہی شیوخ کا یہ مطمح نظر ہے کہ اپنے مریدوں کی تربیت کریں ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد رضاء المصطفیٰ
29-08-2021۔اتوار
00923444650892واٹس اپ نمبر
DrRaza Ul Mustafa
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4250797741704291&id=100003223204679
حقیقت یہ ہے کہ بیعت کا ثمرہ وصول الی اللہ بطریق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔۔۔۔۔۔۔درگاہوں اور آستانوں پر جو بیعت ہوتی ہے یہ فقط بیعت برکت ہے حدیث مبارکہ میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ حاکم اسلام کی بیعت ہے ۔۔۔ ۔ پہلے لوگ بیعت کرتے تھے ۔۔۔باطنی تطہیر، روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اللہ تبارک و تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے اور اپنی تربیت کے لیے ۔ اب رسومات تصوف تو موجود ہیں حقیقت تصوف یعنی تزکیہ ،روحانی پاکیزگی مفقود ہے۔جس طرح دنیا کے تمام شعبے مادیت زدہ ہوئے ہیں اسی طرح روحانی پاکیزگی کا شعبہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے اب بیعت کی جاتی ہے امریکہ کے گرین کارڈ کے لیے،یورپی ممالک کی نیشنلٹی کے لیے،کسی دنیاوی عہدے کے حصول کے لیے یا کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے نہ مریدوں میں وہ تڑپ اور جذبہ صادق ہے کہ ہم گناہوں سے پاک ہو کر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کے مطابق زندگی بسر کریں اور نہ ہی شیوخ کا یہ مطمح نظر ہے کہ اپنے مریدوں کی تربیت کریں ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد رضاء المصطفیٰ
29-08-2021۔اتوار
00923444650892واٹس اپ نمبر
DrRaza Ul Mustafa
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4250797741704291&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
یہ سوشل میڈیا کیسی عجیب چیزہے ، ایک خبر چلتی ہے ۔۔۔۔۔ چلتی جاتی ہے ، جب لوگ اس پر یقین کرلیتے ہیں تو خبر آتی ہے کہ یہ خبر غلط ہے ۔
کل ایک عالم دین کے انتقال کی خبر چلی ، کئی گروپوں میں ، کئی معتبر لوگوں نے اس کی تشہیر کی ؛ لیکن آج معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی ، حضرت تو بقیدِ حیات ہیں ۔
اسی طرح کچھ دن پہلے ایک ثناخواں کے بیٹے ، بیٹی کے محرم شریف میں نکاح کی خبر چلی جس کی بعض مفتیان کرام نے بھی تائید و تشہیر کی ، لیکن آج ان کی زبانی معلوم ہوا کہ محرم میں تو انھوں نے کوئی نکاح کیا ہی نہیں ۔🤔
اس لیے آج سے نیت کر لی ہے کہ آئندہ بغیر تحقیقِ انیق میڈیائی خبروں پر کوئی اعتبار نہیں کرنا ۔
اللہ پاک سابقہ کوتاہیاں معاف فرمائے ، ہم کیوں کسی غلط چیز کو عام کرکے اپنی قبر تاریک کریں !
احباب سے بصد ادب عرض ہے کہ:
اگر میری کسی تحریر یا کسی لفظ کو خلاف حقیقت پائیں تو ضرور مطلع فرمایا کریں ، آپ کا احسان ہوگا ۔
استغفراللہ الذی لاالہ الاھو الحی القیوم واتوب الیہ !
✍️لقمان شاہد
22-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3239130603033773&id=100008105947430
کل ایک عالم دین کے انتقال کی خبر چلی ، کئی گروپوں میں ، کئی معتبر لوگوں نے اس کی تشہیر کی ؛ لیکن آج معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی ، حضرت تو بقیدِ حیات ہیں ۔
اسی طرح کچھ دن پہلے ایک ثناخواں کے بیٹے ، بیٹی کے محرم شریف میں نکاح کی خبر چلی جس کی بعض مفتیان کرام نے بھی تائید و تشہیر کی ، لیکن آج ان کی زبانی معلوم ہوا کہ محرم میں تو انھوں نے کوئی نکاح کیا ہی نہیں ۔🤔
اس لیے آج سے نیت کر لی ہے کہ آئندہ بغیر تحقیقِ انیق میڈیائی خبروں پر کوئی اعتبار نہیں کرنا ۔
اللہ پاک سابقہ کوتاہیاں معاف فرمائے ، ہم کیوں کسی غلط چیز کو عام کرکے اپنی قبر تاریک کریں !
احباب سے بصد ادب عرض ہے کہ:
اگر میری کسی تحریر یا کسی لفظ کو خلاف حقیقت پائیں تو ضرور مطلع فرمایا کریں ، آپ کا احسان ہوگا ۔
استغفراللہ الذی لاالہ الاھو الحی القیوم واتوب الیہ !
✍️لقمان شاہد
22-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3239130603033773&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیارے نبی ﷺ نے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی:
اللہ پاک سے اس کا فضل مانگو ، کیوں کہ اللہ ﷻ یہ پسند فرماتا ہے کہ اُس سے مانگا جائے ، اور کشادگی کا انتظار کرو یہ افضل ترین عبادت ہے ۔
( یعنی کوئی مشکل ، پریشانی ، بیماری ، دکھ ، تکلیف ، مصیبت آجائے تو اس کے ختم ہونے کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ افضل ترین عبادت ہے ۔ )
( الترغیب والترہیب للمنذری ، کتاب الذکر والدعا ء ، ر 2441 ۔ قال المنذری : حدیث ابی نعیم ، اشبہ ان یکون اصح )
✍️لقمان شاہد
26-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242352239378276&id=100008105947430
اللہ پاک سے اس کا فضل مانگو ، کیوں کہ اللہ ﷻ یہ پسند فرماتا ہے کہ اُس سے مانگا جائے ، اور کشادگی کا انتظار کرو یہ افضل ترین عبادت ہے ۔
( یعنی کوئی مشکل ، پریشانی ، بیماری ، دکھ ، تکلیف ، مصیبت آجائے تو اس کے ختم ہونے کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ افضل ترین عبادت ہے ۔ )
( الترغیب والترہیب للمنذری ، کتاب الذکر والدعا ء ، ر 2441 ۔ قال المنذری : حدیث ابی نعیم ، اشبہ ان یکون اصح )
✍️لقمان شاہد
26-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242352239378276&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شیعہ عالم جواد نقوی نے ایک ایسے شخص کا قول نقل کیا ، جو اُنھی کے بقول ' شیعوں کی امید اور سہارا ہے ' کہ :
" پاکستان کی تعمیر کے لیے میں نے جو اپنا منصوبہ تاریخ سے چناہے اور جو مناسب ترین رول ماڈل ہے ، جن کی حکومت میں ترقی بھی ہے ، فتوحات بھی ہیں ، زراعت بھی ہے ، صنعت بھی ہے اور بہترین سیاست بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ( حضرت ) امیر معاویہ ہیں ، میں ان کی حکومت جیسا پاکستان بنانا چاہتا ہوں ۔ "
نقوی صاحب کی اس تقریر پر اُن کے روافض بھائیوں نے انھیں جو " پھول " کمینٹ کیے ، ان کی خوشبو تو خیر انھی کے لیے ہے ، لیکن ایک بات ضرور ہے موصوف نے جمود توڑ کر ایک مبغوض قوم کو سیدنا معاویہ پاک کی سیرت پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ لائق تحسین ہے ۔
خداکرے ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اُس ہادی و مہدی صحابی رضی اللہ عنہ کی سیرت کو صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش کریں ، تاکہ محرم شریف میں کوئی زندیق یزید کی آڑ میں ہمیں آپ سے دور نہ کرسکے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242497529363747&id=100008105947430
" پاکستان کی تعمیر کے لیے میں نے جو اپنا منصوبہ تاریخ سے چناہے اور جو مناسب ترین رول ماڈل ہے ، جن کی حکومت میں ترقی بھی ہے ، فتوحات بھی ہیں ، زراعت بھی ہے ، صنعت بھی ہے اور بہترین سیاست بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ( حضرت ) امیر معاویہ ہیں ، میں ان کی حکومت جیسا پاکستان بنانا چاہتا ہوں ۔ "
نقوی صاحب کی اس تقریر پر اُن کے روافض بھائیوں نے انھیں جو " پھول " کمینٹ کیے ، ان کی خوشبو تو خیر انھی کے لیے ہے ، لیکن ایک بات ضرور ہے موصوف نے جمود توڑ کر ایک مبغوض قوم کو سیدنا معاویہ پاک کی سیرت پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ لائق تحسین ہے ۔
خداکرے ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے اُس ہادی و مہدی صحابی رضی اللہ عنہ کی سیرت کو صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش کریں ، تاکہ محرم شریف میں کوئی زندیق یزید کی آڑ میں ہمیں آپ سے دور نہ کرسکے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3242497529363747&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📖 پی ڈی ایف 📖
تقریبا دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ، تاریخِ دمشق سے ایک حوالے کی ضرورت پیش آئی تھی تو بڑی کوشش کے بعد یہ کتاب 45000 کی خریدی تھی ۔
اُس وقت اگر پی ڈی ایف کی سہولت سے آگاہی ہوتی تو صرف ایک حوالے کے لیے اتنی رقم صَرف نہ کی جاتی ۔
اہل علم جانتے ہیں کہ ہرکتاب کا ، ہر بندہ بالاستیعاب مطالعہ نہیں کرپاتا ، بعض دفعہ 80 جلدوں کی کتاب سے صرف ایک حوالہ مطلوب ہوتا ہے ، یا کسی کتاب سے ایک باب ، ایک واقعہ ، ایک مسئلہ یا ایک صفحہ مطلوب ہوتا ہے ؛ جس کے لیے یا تو حطیر رقم صرف کرنی پڑتی ہے یا پھر دور دراز لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ( اور میں بذات خود اس مرحلے سے گزرا ہوں ) ۔
اس لیے پی ڈی ایف ایک نعمت سے کم نہیں ، اس کی مخالفت کرنا عقل مندی نہیں ۔
اب جب دنیا بھر کی بڑی بڑی قیمتی کتابیں بھی پی ڈی ایف میں آچکی ہیں ، تو ہمارے علماے عظام کو اس کی مخالفت کرنے کےبجائے اس سے ہم آہنگ ہوناچاہیے ۔
رہےناشرین کے تحفظات تو انھیں دور کرنے کے لیے پی ڈی ایف کی مخالفت کے بجائے ، ناشرین کو سیل کے نئے نئے طریقوں سے آگاہ کرنا چاہیے ، اور لوگوں کو کتابیں خریدنے کی ترغیب دلانی چاہیے ۔
کتاب ہرگھر کی زینت ہوتی ہے ، اور اس زینت کے لیے کتابوں کا چھپتے رہنا بہت ضروری ہے ۔
ویسے بھی جو لطف و سرور کتاب خرید کر پڑھنےکا ہے ، پی ڈی ایف میں نہیں ؛ اس لیے پی ڈی ایف سے استفادہ اپنی جگہ لیکن کتابیں ضرور خرید فرمایا کریں ۔
اللہ پاک ہمارےناشر بھائیوں کے رزق حلال میں برکت دے اورانھیں وسعت قلبی نصیب فرمائے ۔
عربی کتب کی پی ڈی ایف فائلوں کا بہت بڑا مرکز " المکتبۃ الوقفیہ " ہے ، جس سے لاکھوں کی کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں ، اور لوگ کرتے بھی ہیں ؛ اس کے باوجود وہ کتابیں بار بار چھپ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ان کے ناشرین باشعور ہیں ، انھوں نے پی ڈی ایف کا رونا رونے کے بجائے کتابیں سیل کرنے کے فن میں مہارت حاصل کی ہے ؛ اللہ کرے ہمارے ناشرین بھی ایسے فراخ دل اور عقل مند ہوجائیں !
✍️لقمان شاہد
28-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3244512682495565&id=100008105947430
تقریبا دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ، تاریخِ دمشق سے ایک حوالے کی ضرورت پیش آئی تھی تو بڑی کوشش کے بعد یہ کتاب 45000 کی خریدی تھی ۔
اُس وقت اگر پی ڈی ایف کی سہولت سے آگاہی ہوتی تو صرف ایک حوالے کے لیے اتنی رقم صَرف نہ کی جاتی ۔
اہل علم جانتے ہیں کہ ہرکتاب کا ، ہر بندہ بالاستیعاب مطالعہ نہیں کرپاتا ، بعض دفعہ 80 جلدوں کی کتاب سے صرف ایک حوالہ مطلوب ہوتا ہے ، یا کسی کتاب سے ایک باب ، ایک واقعہ ، ایک مسئلہ یا ایک صفحہ مطلوب ہوتا ہے ؛ جس کے لیے یا تو حطیر رقم صرف کرنی پڑتی ہے یا پھر دور دراز لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ( اور میں بذات خود اس مرحلے سے گزرا ہوں ) ۔
اس لیے پی ڈی ایف ایک نعمت سے کم نہیں ، اس کی مخالفت کرنا عقل مندی نہیں ۔
اب جب دنیا بھر کی بڑی بڑی قیمتی کتابیں بھی پی ڈی ایف میں آچکی ہیں ، تو ہمارے علماے عظام کو اس کی مخالفت کرنے کےبجائے اس سے ہم آہنگ ہوناچاہیے ۔
رہےناشرین کے تحفظات تو انھیں دور کرنے کے لیے پی ڈی ایف کی مخالفت کے بجائے ، ناشرین کو سیل کے نئے نئے طریقوں سے آگاہ کرنا چاہیے ، اور لوگوں کو کتابیں خریدنے کی ترغیب دلانی چاہیے ۔
کتاب ہرگھر کی زینت ہوتی ہے ، اور اس زینت کے لیے کتابوں کا چھپتے رہنا بہت ضروری ہے ۔
ویسے بھی جو لطف و سرور کتاب خرید کر پڑھنےکا ہے ، پی ڈی ایف میں نہیں ؛ اس لیے پی ڈی ایف سے استفادہ اپنی جگہ لیکن کتابیں ضرور خرید فرمایا کریں ۔
اللہ پاک ہمارےناشر بھائیوں کے رزق حلال میں برکت دے اورانھیں وسعت قلبی نصیب فرمائے ۔
عربی کتب کی پی ڈی ایف فائلوں کا بہت بڑا مرکز " المکتبۃ الوقفیہ " ہے ، جس سے لاکھوں کی کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں ، اور لوگ کرتے بھی ہیں ؛ اس کے باوجود وہ کتابیں بار بار چھپ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ان کے ناشرین باشعور ہیں ، انھوں نے پی ڈی ایف کا رونا رونے کے بجائے کتابیں سیل کرنے کے فن میں مہارت حاصل کی ہے ؛ اللہ کرے ہمارے ناشرین بھی ایسے فراخ دل اور عقل مند ہوجائیں !
✍️لقمان شاہد
28-8-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3244512682495565&id=100008105947430