🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#ابّا_جان

غلام مصطفیٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

عرصہ ہوا ایک شعر سنا تھا؛
دنیا میں آئے ہو تو کچھ ایسا کر جاؤ مہربان
کہ ہر گلی کوچے سے آواز آئے ابّا جان ابّا جان

آج کئی سال بعد یوپی میں "ابّا جان" سرخیوں میں ہے۔ نیوز چینل سے لیکر ایوان اسمبلی تک 'ابا جان' ہی کا شور ہے۔

__پچھلے دنوں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے خود کو بی جے پی والوں سے بڑا ہندو قرار دیا۔اس بیان پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کے بہانے ملائم سنگھ کو اکھلیش کا ابّا جان کہہ کر اعتراض جتایا۔بس اسی بات پر اکھلیش بھیّا ہتھے سے اکھڑ گیے، مانو کسی راہ چلتے کو ان کا باپ کہہ دیا گیا ہو۔انہوں نے نہایت غصے میں جواب دیا کہ ہمارے "پِتا جی" کو کچھ کہا تو ہم بھی ان کے پِتا جی کو کچھ کہہ دیں گے۔اکھلیش کی ناراضگی سے بے پرواہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں ایک بار پھر یہی لفظ دہرایا،حسب امید سماج وادی لیڈران غصے میں آگیے اور احتجاج وہنگامہ شروع ہوگیا۔

__معاشرتی اعتبار سے لفظ ابا جان مسلم تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ہندو سماج میں باپ کو پِتا جی کہا جاتا ہے۔آدتیہ ناتھ نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ لفظ ابا جان کا استعمال کیا۔کیوں کہ یوگی کی منشا اس لفظ کے سہارے ہندو ووٹروں کو یہ میسج دینا تھا کہ اکھلیش ایک مسلم پرست لیڈر ہے اس لیے نہایت چابک دستی سے ملائم کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ابا جان استعمال کیا حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ خالص ہندی میں بات کرتے ہیں لیکن سیاسی مفاد سادھنے کے لیے خالص اردو لفظ استعمال کیا تاکہ ہندو ووٹوں کو پولرائز کیا جاسکے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا داؤں چل دیا اور اکھلیش یادو اس چال میں بری طرح پھنس گیے۔اب یہ طے ہوگیا کہ آنے والے وقت میں "ابا جان" سیاسی مدعا ضرور بنایا جائے گا۔بی جے پی جو چاہتی تھی وہ مسیج چلا گیا مگر مزے کی بات ہے کہ سماج وادیوں کو ابھی تک کچھ نہیں سوجھا ہے بس ایک سُر میں "ابّا جان" کی مخالفت کیے جا رہے ہیں۔اب وزیر اعلیٰ سمیت سارے بی جے پی لیڈر پوچھ رہے ہیں کہ ابا جان میں ایسا کیا ہے کہ اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟

___ اصل وجہ یہ ہے!

مسلمانوں کے تئیں یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کا ایجنڈا ایک دم صاف اور کھلا ہے لیکن اکھلیش اس لفظ سے اتنا کیوں چڑھ رہے ہیں؟
سیدھا جواب یہ ہے کہ اکھلیش مسلم حامی نہیں دکھنا چاہتے کہ کہیں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوجائے بس اسی سوچ کے تحت 'ابا جان' کی مخالفت کی جارہی ہے۔بی جے پی نے کمزور نس پکڑ لی ہے اب وہ سماج وادیوں پر سوار ہوکر پوچھ رہے ہیں کہ اکھلیش مسلم ووٹ تو چاہتے ہیں لیکن اردو لفظ سے چڑھ رہے ہیں،ابا جان اچھا لفظ ہے کوئی گالی تھوڑی ہے جو اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟ اس بات کا اکھلیش سمیت کسی سماج وادی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اکھلیش یا تو یوگی کے بیان کو نظر انداز کرتے یا یوگی حکومت کے خراب نظم و نسق پر بات کرتے لیکن اکھلیش میاں(معذرت...اکھلیش راجا) یوگی کی کمزور نس پکڑنے کی بجائے اپنی کمزوری دکھا بیٹھے اب ہر طرف ابا جان ابا جان کی صدائیں گونج رہی ہیں اور بی جے پی والوں کے تیور سے لگتا ہے کہ ابا جان الیکشن تک یوپی میں ڈیرا جمائے رہیں گے۔

اس ہنگامے سے ایک بار پھر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سیکولر لیڈر، شدت پسند ہندوؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ہر اس چیز سے بچتے ہیں جس سے مسلم حامی ہونے کا الزام آسکے۔انہیں مسلم ووٹ تو چاہیے مگر مسلم حامی کسی طور پر نہیں دکھنا چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سیکولروں کی عزت صرف مسلم ووٹروں کی بدولت ہی بچی ہوئی ہے ورنہ ہندو ووٹر انہیں کب کا دھتکار چکے ہیں۔

۸ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
18 اگست 2021 بروز بدھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/972036940033491/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#خطرے_میں_کون_ہے؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی

بھارت میں تقریباً 42 لاکھ فوج ہے، جس میں سی آر پی ایف، ایس ایس ایف، پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس جیسے کئی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔جو باہری دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی ملکی امن وامان بنائے رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ہر صوبے میں پولس فورس بھی موجود رہتی ہے جو صوبائی سطح پر عوامی جان ومال کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے تعینات رہتی ہے۔پولیس فورس بھی تقریباً 17 لاکھ سے زائد ہے۔پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی اتنی بھاری نفری کی موجودگی میں کوئی بھی معاشرہ چین کی نیند سو سکتا ہے مگر حیرت کی بات ہے اتنی ساری پولیس/فورس کے باوجود ملک کا ایک طبقہ بہت زیادہ خطرے میں ہے۔خوف اس قدر ہے کہ پولیس/آرمی اور پیرا ملٹری فورس کے باوجود اس طبقے نے اپنی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر درجنوں فوجیں(सेनाएं)بنا رکھی ہیں۔

__ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ خوف زدہ طبقہ ملک کا اکثریتی سماج ہے۔جو کل آبادی کا اسّی فیصد اور تقریباً 82 کروڑ ہے۔(2011 مردم شماری کے مطابق) اور یہ ڈر بھی اس وقت ہے جب ملک کی باگ ڈور اُنہیں کے ہاتھوں میں ہے۔ملکی وسائل پر اسّی تا نوّے فیصد یہی سماج قابض ہے، اس کے باوجود کچھ "شَانتی پُرُشوں" کو لگتا ہے کہ ہندو بہت خطرے میں ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر انہوں نے مقامی، ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر چھوٹی بڑی درجنوں فوجیں(सेनाएं) بنا رکھی ہیں تاکہ وہ سینائیں ان کے جان ومال اور ان کی تہذیب کی حفاظت کرسکیں۔ان سیناؤں میں ہندو سینا، کرنی سینا، راجپوت کرنی سینا، ہندو رکشا دل، بجرنگ دَل ، ہندو یُوا واہنی، درگا واہنی، ہندو رکشا سمتی، پرشورام سینا، وشوا ہندو پریشد، شری رام سینا، اور دھرم رکشا سینا جیسی درجنوں سینائیں ہیں۔جو ہر گلی محلے نکڑ سے لیکر ملک کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر اتنی ساری سیناؤں کے بعد بھی خطرے کا گراف نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، جیسے جیسے سینائیں بڑھ رہی ہیں خطرہ بھی اُسی تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے، اگر خطرے کی رفتار یہی رہی ہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک آدمی کے ساتھ خود ساختہ سینا کی آدھی پونی ٹُکڑی لگانا پڑے گی تاکہ ہندو سماج بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔

_کیا واقعی خطرہ ہے؟

ہندو سماج کے ہر سنجیدہ مزاج انسان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے، کیا واقعی ہندو سماج خطرے میں ہے؟ جس سماج کی تعداد 82 کروڑ ہو، صدر مملکت، وزیر اعظم اور 20 سے زائد وزراے اعلی ہندو سماج سے ہوں۔ایڈمنسٹریشن میں کانسٹیبل سے لیکر آئی جی تک، قانونی اداروں میں وکیل سے لیکر جج تک، میونسپلٹی سے لیکر ودھان سبھا اور پارلیمنٹ تک جس سماج کی اسّی تا پچاسی فیصد نمائندگی ہو۔الیکشن کمیشن، بینکنگ، سکریٹریٹ تک جس کا دبدبہ ہو۔تعلیمی اداروں میں جن کا مکمل تسلط ہو۔کاروباری سطح پر جو سماج مکمل اجارہ داری رکھتا ہو آخر اس سماج کو کس سے ڈر لگتا ہے اور کیوں لگتا ہے؟

آٹھ سو سال تک مسلم بادشاہوں اور لگ بھگ دو سو سال تک انگریزی حکومت میں رہنے کے بعد جس سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہوا، اب اس سماج کو ڈر کیوں لگنے لگا ہے، جب کہ اب تو اِسی سماج کے افراد حاکم ہیں؟

حکومت واقتدار کی طاقت اور غالب ترین افرادی قوت کے بعد بھی اگر ڈر لگتا ہے تو بتایا جائے کہ ڈر نکالنے کے لیے اب کون سا نسخہ ڈھونڈا جائے؟ ملک کے تمام اسباب ووسائل آپ ہی کے قبضہ واختیار میں ہیں، لیکن پھر بھی خطرے کا شور ہے، تو شور مچانے والوں سے پوچھا جائے کہ خطرہ کہاں ہے اور کس سے ہے؟
خطرہ ہونا چاہیے تو عیسائی، سِکھ، جین، پارسی اور بودھ دھرم ماننے والوں کو ہونا چاہیے جن کی تعداد ایک تا ڈھائی فیصد ہے۔یا پھر مسلمانوں کو خطرہ ہونا چاہیے جو ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جو تجارت میں صفر اور سیاست میں دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں۔جو حکومتی اداروں میں نظر کے ٹیکے سے کمتر ہیں مگر حیرت بالائے حیرت ہے کہ اس ملک کی کسی اقلیت کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور اکثریت مسلسل خوف وہراس میں جی رہی ہے۔

خطرہ نہیں مفاد کا دھندا ہے!

صحیح بات یہ ہے کہ ملک میں کسی کو ہو تو ہو، مگر اکثریتی سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی لمبی چوڑی فائل پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے سماجی سطح پر یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ کون سا طبقہ خوش حال اور طاقت ور ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا دھندا 'خطرے' ہی سے چلتا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ اگر 'خطرہ' نہیں دکھایا گیا تو ہمارا کیا ہوگا؟ اس لیے وہ لوگ خطرے کا اتنا شور مچاتے ہیں اور اس قدر خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ اکثریتی سماج آنکھیں موند کر ان کی باتوں پر یقین کر لیتا ہے بعد میں 'خطرے سے نپٹنے' کے نام پر یہ لوگ سیاسی اور تجارتی طاقت حاصل کرکے منہ مانگی مراد حاصل کرتے ہیں، جو قابلیت کی بنیاد پر کبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔حالانکہ ہمارے ملک کا سماجی تانا بانا پوری طرح گھلا ملا ہے۔ایک دوسرے کے کاروبار/تجارتی تعلقات اور سماجی
روابط ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔کوئی سماج چاہ کر بھی ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک الگ نہیں رہ سکتا مگر اکثریتی سماج 'خطرے کے سوداگروں' کے بہکاوے میں آکر ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتا ہے، اور دوسرے طبقات سے نفرت کرنے لگتا ہے۔سماجی اور کاروباری ضرورت کی بنا پر سب سے تعلقات نبھانا مجبوری ہوتی ہے مگر یہ تعلقات دل میں نفرت کے ساتھ نبھائے جاتے ہیں۔اس طرح ساتھ رہ کر بھی دلوں کی دوریاں اور نفرتیں ختم نہیں ہوتیں۔
اچھا ہوگا کہ اکثریتی سماج اپنی آنکھیں کھولے اور حقیقت کا احساس کرے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو اور نفرتوں کا خاتمہ ہو۔اس ملک میں خطرہ اکثریتی سماج کو نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارگی اور آپسی اتحاد کو ہے اور اس خطرے کو آرمی یا پولیس نہیں بلکہ سماج ہی ختم کر سکتا ہے۔

١١ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
22 اگست 2021 بروز اتوار

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/974108289826356/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#روشن_خیالی_کے_مریض

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔

19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/978659459371239/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آؤ کہ اجرِ کارِ رسالت ادا کریں ؟؟!!!

تحریر : نثار مصباحی

فیس بک پر اپنے ایک کرم فرما کی ٹائم لائن پر اہلِ بیتِ اطہار کی شان میں ایک منقبت دیکھی. منقبت -ما شاء اللہ- اچھی تھی مگر اس کا ایک مصرع تھا:
"آؤ کہ اجرِ کارِ رسالت ادا کریں."
شاعر کا مدعا یہ ہے کہ محبتِ اہلِ بیتِ اَطہار دراصل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا "اجر" ہے. اور ان کی امت کو یہ اجر ادا کرنا چاہیے.
شاعر نے یہ مفہوم آیتِ مودّت سے نکالا ہے, مگر افسوس کہ انھوں نے آیت کی درست سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مفہوم کے استخراج میں لغزش کھائی ہے.
آیتِ کریمہ یہ ہے :
"قل لا أسئلكم عليه أجرا إلا المودة في القربىٰ"
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے محبوب !
آپ فرما دیجیے کہ تبلیغِ رسالت پر مَیں تم سے کچھ اجر نہیں طلب کرتا,
ہاں, قرابت کی محبت تم سے طلب کرتا ہوں.
یعنی یہاں دو الگ الگ باتیں ہیں:
1- پہلی چیز تبلیغِ رسالت پر "اجر" ہے. تبلیغِ رسالت پر تم سے کسی اجر اور بدلے کا مطالبہ نہیں.
2- دوسری چیز ہے "قُربیٰ کی محبت". تم سے اِسی قُربیٰ کی محبت کا مطالبہ ہے.
دوسری بات پہلی بات میں شامل نہیں ہے.
اسی بات کو اہل علم کی زبان میں سمجھا جائے تو "إلا المودة في القربى" میں لفظِ "الّا" سے "مودتِ قربی" کا جو استثنا کیا گیا ہے وہ استثناے منقطع ہے. (تفسیر الجلالین) یعنی ما سبق میں "لا أسئلكم علیہ اجرا" کے "اجر" میں یہ شامل ہی نہیں ہے. بلکہ یہ ایک الگ شی ہے جس کا مطالبہ یہاں مخاطَب بندوں سے کیا گیا ہے.
اور جب یہ "اجر" میں شامل ہی نہیں ہے تو یہاں اجرِ کارِ رسالت کے طور پر اس کا مطالبہ بھی نہیں ہو سکتا ہے.
امام فخر الدین رازی تفسیرِ کبیر میں لکھتے ہیں :
"المودة في القربى ليست أجرا"
یعنی قربیٰ کی محبت "اجر" نہیں ہے.
نیز امام رازی استثناے منقطع والی بات پر لکھتے ہیں :
هذا استثناء منقطع، و تم الكلام عند قوله قل لا أسئلكم عليه أجرا.
ثم قال إلا المودة في القربى أي لكن أذكركم قرابتي منكم، و كأنه في اللفظ أجر و ليس بأجر.
یعنی
یہ استثناے منقطع ہے اور "قل لا أسئلكم علیہ اجرا" پر کلام مکمل ہو گیا ہے.
پھر اس کے بعد "الا المودۃ فی القربیٰ" کہا ہے یعنی (کسی بھی اجر کا تم سے مطالبہ نہیں کرتا) البتہ مَیں تمھیں اپنی قرابت یاد دلاتا ہوں. گویا یہ (قرابت کی محبت) لفظ کے اعتبار سے "اجر" لگ رہی ہے جب کہ یہ اجر نہیں ہے."
(تفسیرِ کبیر, سورۃ الشوری, آیت 23)

امام رازی نے اسی مقام پر قرآنی آیات کی روشنی میں اسے کئی طریقے سے ثابت کیا ہے کہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تبلیغ اور کارِ رسالت کے اجر کا کسی مخلوق سے مطالبہ نہیں ہے. اور نہ ہی ہو سکتا ہے. یہ تو بس اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم پر ہے.

حق یہ ہے کہ اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کارِ رسالت کا اجر صرف اللہ رب العلمین دے گا. کسی مخلوق سے نہ ہی اس کا مطالبہ ہے اور نہ ہی کسی فردِ بشر کی استطاعت میں یہ ہے کہ وہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا کچھ اجر ادا کر سکے.
لہذا شاعر کا "مودَّتِ قربیٰ" (اہل قرابت کی محبت) کو "کارِ رسالت کا اجر" قرار دینا درست نہیں.

#نثارمصباحی
6 محرم 1440ھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/979346392635879/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تعلیم_نسواں_اور_روشن_خیالوں_کے_الزامات_ایک_جائزہ

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل، دہلی

کسی بھی عہد کی حقیقی صورت حال کا درست اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب انسان اس عہد کی ضروریات، عوامی نفسیات اور معاشرتی صورت حال سے اچھی طرح واقف ہو۔اس صورت میں بھی انسان صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہے کیوں کہ سو سال کے طویل عرصے میں حقائق و واقعات کی کئی کڑیاں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں، کتنے ہی حقائق کتابوں کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں اور کتنے حقائق ایسے ہوتے ہیں جو سرے سے تاریخ میں درج نہیں ہوپاتے اس لیے کسی فاضل دانش ور کا یہ دعوی کہ؛
"جنوبی ایشیائی مفسرین وفقہا نے علاقائی معاشرتی اثرات ورسوم کے قبول وعدم قبول کے چکر میں دین فطرت کے متعدد احکام کو یکسر نیا رنگ دیا ہے۔"

مودودی صاحب کے بعد یہ -غالباً- پہلا ایسا الزام ہے جس میں بیک جنبش قلم بر صغیر کے جملہ مفسرین وفقہا پر دین فطرت کو بدلنے جیسا بے بنیاد اور انتہائی سستا الزام لگانے کا 'شرف' حاصل کیا گیا ہے، جس کے لیے وہ بجا طور پر 'روشن خیالوں' کی داد وتحسین اور اوارڈ وانعام کے حق دار ہیں۔

یہاں فاضل موصوف کی جادو گری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے نہایت چابک دستی سے بحث کا رخ اس طرح بدلا ہے کہ عام بندہ ان کے ہاتھ کی صفائی سمجھ نہیں پاتا، علما نے ممانعت تو محض کتابت نسواں کے متعلق کی، مگر فاضل دانش ور نے نہایت صفائی سے کتابت نسواں کی ممانعت کو تعلیم نسواں کی ممانعت پر چسپاں کرکے اکابر علما کو غیر ذمہ دار، شخصیت پرست، حرام کے ایمبیسڈر جیسی مہذب صلواتیں سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اسے ہی کہتے ہیں؛
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بر صغیر کی تاریخ میں ایسا کوئی معتبر عالم نہیں گزرا جس نے تعلیم نسواں کو منع کیا ہو۔ جن علما پر موصوف نے دین فطرت کو بدلنے کا الزام لگایا اُنہیں علما کی بچیوں نے مختلف علوم وفنون میں گراں قدر علمی خدمات انجام دے کر اپنے والدین و استاذہ کی فکری بلندی کا جیتا جاگتا ثبوت فراہم کیا ہے، مگر جوش تعلی کا کیا کِیا جائے جسے اس وقت تک چین نہیں پڑتا جب تک ماضی کے علما و فقہا کو حالات زمانہ سے بے خبر اور خود کو کائناتِ عالم کا سب سے بڑا مفکر ثابت نہ کر لیا جائے۔
تعلیم نسواں کے حوالے سے کسی مفسر وفقیہ کو ہدف تنقید بنانے اور اس فکر سے عدم اتفاق ظاہر کرنے سے پہلے فاضل دانش ور کو چاہیے تھا کہ وہ اس حدیث پر کلام فرماتے جس میں نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو دو چیزیں(سورہ نور اور کاتنا) سکھانے اور دو چیزوں(بالاخانے اور کتابت) سے بچانے کا حکم دیا ہے۔اس حدیث پاک کو نقل کرکے پھر آنجناب یہ رائے دیتے کہ "مجھے اس قول(رسول) سے ہرگز اتفاق نہیں ہے۔"
کیوں کہ جن فقہا ومحدثین نے کتابتِ نسواں کو ممنوع قرار دیا وہ اسی حدیث پاک سے استدلال کرتے ہیں۔ مذکورہ حدیث پاک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جسے امام طبرانی نے "معجم اوسط" میں، امام حاکم نے "مستدرک" میں، اور امام بیہقی نے "شعب الایمان" میں اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس کی ہم معنی روایات نوادر الأصول للحکیم الترمذی میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور امام ابن عدی کی "الکامل" میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہیں۔
متعدد طُرُق(اسانید) والی اس حدیث کی بنیاد پر علماے کرام نے کتابت نسواں کو ممنوع قرار دیا۔ اس روایت کے بالمقابل ابو داؤد شریف کی ایک روایت پائی جاتی ہے جس میں حضور ﷺ نے خواتین کو کتابت سکھانے کی بات ارشاد فرمائی۔دونوں روایتیں بہ ظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہیں مگر حقیقتاً یہ دونوں روایتیں معاشرے کے دو مختلف رویوں کی ضرورت واصلاح پر مشتمل ہیں۔ چونکہ فی نفسہ تحریر و کتابت کوئی بری چیز نہیں اس لیے ایک روایت میں اس کے سیکھنے کو مثبت انداز میں بیان کیا گیا۔تو خواتین کی جذباتی کیفیت اور احتمال فتنہ کے مد نظر کتابت نسواں کو منع بھی قرار دیا گیا۔اسی ممانعت اور مخصوص معاشرتی حالات کی وجہ سے بعض فقہا نے کتابت نسواں کو منع فرمایا مگر یہ ممانعت کراہت تنزیہی کے درجے میں تھی جیسا کہ شیخ احمد شہاب الدین ابن حجر ہیتی مکی نے فتاوی حدیثیہ میں اس کی صراحت کر دی ہے:
أن النهي عنه تنزيها لما تقرر من المفاسد المترتبة عليه،
(ج 1ص 193)
امام احمد رضا نے بھی کتابت نسواں کو ایک جگہ منع تو دوسری جگہ مکروہ لکھا یعنی آپ کے نزدیک ممانعت کراہت پر محمول ہے۔علماے عصر کے مطابق جہاں احتمال فتنہ کا غلبہ ہو تو کراہت درجہ تحریم میں ہوگی۔یعنی مدار حکم احتمال فتنہ پر ہے اگر احتمال فتنہ ختم ہو جائے تو انتفاے علت سے حکم بھی منتفی ہوگا اور علم کتابت بلا کراہت جائز ہوگا۔دوسرے لفظوں میں اس ممانعت کو ایسا ہی سمجھیں جیسے آج کل کی سماجی بے راہ روی، معاشقے کے بڑھتے چلن اور خواتین کے فرار ہونے کے اسباب میں موبائل کو ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے، جس کی بنا پر دفع فتنہ اور سد ذرائع کے طور پر بہت سارے کالجوں/یونیورسٹیوں میں موبائل رکھنے پر پابندی کی تجویز دی جاتی
ہے اور بعض مقامات پر پابندی عائد بھی کی جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایسی پابندی لگانے/تجویز دینے والے افراد "تشدد پسند اور شخصی غلامی کے شکار" ہیں۔کیوں کہ تجاویز دینے والوں میں بہت سارے 'روشن خیال' بھی ہوتے ہیں، جن کی آزاد خیالی پر شک کرنے کا گناہ کم از کم ہم جیسے تنگ نظر تو بالکل نہیں کر سکتے۔اب سو سال کے بعد کوئی 'انقلابی جیالا' اٹھے اور پابندی موبائل پر برستے ہوئے ایسی تجاویز دینے والوں کو 'تشدد پسند اور شخصی غلامی کا شکار' قرار دے تو اس روشن خیال مفکر کو کہا جائے گا؟

اصلاح معاشرہ کے لیے بعض اقدامات احتیاطی اور وقتی ضرورت ہوا کرتے ہیں۔اس زمانے میں چونکہ احتمال فتنہ خط وکتابت سے تھا تو احتیاطاً کتابت نسواں کو منع کیا گیا اب پیغامات کی ترسیل کے دوسرے ذرائع آگیے ہیں اور یہ جگہ موبائل نے حاصل کرلی ہے تو اس کے استعمال پر جز وقتی پابندی یا نگرانی کی بات کی جاتی ہے جو عین سمجھ داری اور معاشرے کے تئیں فکرمندی کی دلیل ہے۔اس بنیادی بات کو نظر انداز کرکے اپنی فکر کو برتر ثابت کرنا اور علماے سلف کی توہین کرنا کہاں کی دانش وری اور کہاں کا ادب ہے؟
اختلاف رائے کے نام پر اکابر پر طعن وتشنیع کرنا، سستے اور بھونڈے اسلوب میں ان پر طنز کسنا کِیا نئی نسل کو جری اور گستاخ بنانا نہیں ہے؟ امام احمد رضا تو اپنے پیش رو بزرگوں سے اختلاف رائے کو اپنا "تطفل" قرار دیتے ہیں جب کہ آج کے فاضلین بیک جنبش قلم ان پر دین بدلنے کا گھنونا الزام لگاتے ہیں۔

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

22 محرم الحرام 1443ھ
یکم ستمبر 2021 بروز بدھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/980430112527507/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیائی_بلیک_میلنگ... 01

جو علما یا حفاظ فیس بک یا دیگر سوشل سائٹس پر ایکٹو ہیں ان کے لیے ایک خاص پیغام۔

جس طرح یہود ہمیشہ اسلامی سپاہیوں کو اپنی لڑکیا دیکر پھنسانے کی ناکام کوششیں کرتے آئے ہیں اسی طرح آج بھی اغیار ہمارے علما و حفاظ کو لڑکیوں کے ذریعے غیر مہذب چیٹ یا برہنہ ویڈیو کال کرکے پھنسانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
کئی دنوں سے اس طرح کی خبریں موصول ہورہی تھیں اور اب متعدد علمائے کرام نے یہ بات بتائی کہ ان کے پاس اس طرح کی کالز آئی ہیں اور ان سے چیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نیز راقم السطور کے پاس بھی کئی روز سے فیس بک میسنجر پر ایک خاتون چیٹ کرنے کی کوشش کررہی تھی اور ساتھ ہی باربار ویڈیو کال بھی آرہی تھی جن کو کئی مرتبہ اگنور کرنے کے بعد کل ایک کال کو رسیو کیا تو معاملہ وہی تھا جو لوگوں سے سنتے آئے تھے۔ ( میں نے فوراً ہی کال ڈسکنکٹ کردی۔)
کیوں کہ ان معاملات کی سنگینی کا علم مجھے تھا اور احباب سے اس طرح کی کالز اور چیٹس کی جانکاری بھی مل رہی تھی۔ ایک صاحب نے یہاں تک بتایا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسی طرح کی چیٹ اور ویڈیو کالز کی بنا پر بلیک میل بھی کیا جارہا ہے۔
ان کال کرنے والی لڑکیوں میں کچھ ائیڈیز مسلم ناموں سے ہیں تو کچھ غیر مسلم ناموں سے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اس طرح کی کالز آ ینڈ کرنا یا چیٹ میں شرکت کرنا آپ کے لیے وبال جان تو بنے گا ہی ساتھ ہی آپ کی قوم و ملت کے لیے بھی باعث ننگ و عار ہوگا۔

*ضروری بات*
مجھے جس آئی ڈی سے کال آئی تھی جب میں نے اس آئی ڈی کا اسکرین شاٹ لینا چاہا تو وہ آئی ڈی اتنی سیکیور تھی کہ اس کا اسکرین شاٹ بھی نہیں لیا جاسکا۔
یہ بات ایک اور واضح اشارہ کرتی ہے کہ یہ دور ٹیکنالوجی کا ہے یہاں آپ کو آپ کے موبائیل فون پر اسکرین شاٹ لینے سے روکا جاسکتا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کی چیٹ یا آپ کی ویڈیو کال کو بھی ایڈٹ کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوگا۔
ہوسکتا ہے کہ کال ادھر سے آئے اور شو کرے کہ کال آپ نے کی ہے، آپ کے چہرے کے ایکسپریشن سے چھڑچھاڑ کردی جائے یا آپ کے جسم کو بدل کر کوئی دوسرا جسم لگانا تو بچوں کا کھیل ہے۔
جب تک آپ ثابت کریں گے کہ وہ آپ نہیں ہیں تب تک کٹیا ڈوب چکی ہوگی۔

*اس حرکت کی متعدد وجوہات ہوسکی ہیں*
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح اغیار کے مذہبی رہنما ان معاملات میں ملوث ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی پوری قوم کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسی طرح وہ ہمارے علما و حفاظ کو بھی ملوث کرکے بدنام کرنا چاہتے ہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس طرح کے معاملات کو Love Jihad کے ساتھ جوڑ کر نہ صرف آپ کی زندگی تباہ و برباد کی جائے بلکہ آپ کے پورے کنبہ کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔
یا پہلے آپ کو بلیک میل کرکے آپ کے نال و دولت کو لوٹا جائے اور پھر ٹی وی وغیرہ کے حوالے کرکے قومی سطح پر فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کی جائے۔
یاد رہے ! آپ کی ایک غلطی یا نادانی آپ کو، آپ کے خاندان کو، آپ کی پوری قوم کو رسوا کرسکتی ہے۔
لہذا ہوشیار رہیں!!! اور اس طرح کی کوئی پیش کش کبھی قبول نہ کریں۔

*توجہ طلب یہ بھی ہے*
یہ بھی قابل توجہ امر ہے کہ اس معاملے میں ٹارگیٹ اکثر علما و حفاظ یا ڈارھی ٹوپی والے ہی ہیں۔ یہ تو وہ دور ہے جس میں خود قوم مسلم کی بیٹیاں داڑھی ٹوپی والوں کو پسند نہیں کرتیں۔ ایسے وقت میں اغیار کا داڑھی ٹوپی والوں پر ٹویٹ پڑنا اور بغیر کسی بات چیت کے سیدھے برہنہ ویڈیو چیٹ سے شروعات کرنا کوئی عام بات نہیں یہ کسی بہت بڑی سازش کا حصہ ہے۔
کفار کی ایسی تمام سازشوں کا شکار ہونے سے خود بھی بچیں اور اپنے اعزہ و اقارب کو بھی بچائیں۔

ایسے میں آپ سب سے گزارش ہے کہ اگر کوئی کسی بھی سوشل سائٹ پر یا فون کال پر اس طرح کی چیٹ کرے یا ویڈیو کال کرے تو آپ لوگ قطعاً اس میں شامل ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اور اس طرح کے نمبرز یا ایسی ائڈیز کو فوراً بلاک کردیں۔

تاکہ آپ اور آپ کا مذہب دونوں بدنامی سے بچ سکیں۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981390402431478/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیائی_بلیک_میلنگ... 02

✒️⁩ محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علمائے بندیل کھنڈ

چند روز قبل ہم نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں علما اور خواص کو سوشل میڈیائی بلیک میلنگ سے خبردار کیا گیا تھا۔
خادم کو لگا تھا شاید یہ تحریر کافی ہوگی ہمارے سمجھدار طبقہ کے لیئے، کیوں کہ جس تیزی کے ساتھ وہ تحریر وائرل ہوئی تھی وہ تو یہی اشارہ کررہی تھی۔ صرف خادم کے پیج پر گیارہ ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا اور ان گنت صاحب فہم حضرات نے اپنی وال سے پوسٹ کیا، ساتھ ہی عالی جناب قمر غنی عثمانی صاحب نے اس تحریر کے افادہ کو عام کرنے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکال کر ہندی میں بھی ترجمہ کروایا۔

#تازہ_معاملات
مگر آج ضرورت آن پڑی ہے دوسری قسط لکھنے کی، کیوں کہ لگاتار خبریں موصول ہورہی ہیں خواص کو گرفت میں لیکر بلیک میلنگ کی، کئی اہم لوگوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے اور ان سے اچھی خاصی رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کچھ لوگ تو کچھ رقم دے بھی چکے ہیں جن کی پہچان ظاہر کرنے یا پہچان کی طرف کوئی اشارہ کرنا مناسب نہیں۔

#بلیک_میلنگ_کیا_ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جب کوئی شخص اپنے ناجائز مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے کسی شخص، کنبے یا تنظیم کے بارے میں "کافی حد تک سچ معلومات" عام کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو، اس کارروائی کو "بلیک میلنگ" کہا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا معاملات کا مقصد اکثر 'عزت' کو ختم کرنا ہوتا ہے۔
در حقیقت ، اس طرح کی معلومات کو عام کرنا کسی بھی طرح سے غیر قانونی جرم نہیں ہے، لیکن اپنے ناجائز مطالبات کو منوانے کے لیے کسی معلومات کا 'ہتھیار' کی طرح استعمال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔

#بلیک_میل_کس_کو_کیا_جاتا_ہے؟
بلیک میل کسی کو بھی کیا جاسکتا ہے؛ خاص کر ایسے لوگ کثیر تعداد میں بلیک میل کیے جاتے ہیں جو سماج میں عزت رکھتے ہوں، ان میں مذہبی رہنما، (کسی بھی مذہب کے ہوں) سیاسی رہنما، سماجی قائدین یا کوئی بھی عزت دار شخص ہوسکتا ہے۔ اور ہر طرح کے وہ لوگ جو اپنی بے عزتی سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہوں۔

آج کل بلیک میلرز کا پسندیدہ شکار ہمارے علما اور اشراف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ ایک بار اگر چنگل میں آگئے تو یہ اپنی عزت بچانے کے لیے زندگی بھر پیسہ دیتے رہیں گے اور کہیں کچھ بول بھی نہ سکیں گے۔
اسی لیے بڑے پیمانے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر ایکٹو لوگوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانا شروع کردیا۔
ابھی تک ان کے شکار ہوئے افراد سے ملی معلومات کے مطابق پہلے یہ لڑکیاں آپ کو فرینڈ رکیوسٹ بھیجیں گی اور اسے قبول کیئے جانے کے بعد پرسنل میسجز کا دور شروع ہوگا اور ساتھ ہی ویڈیو چیٹ کی مانگ بھی انہیں کی جانب سے کی جائے گی، اور جیسے ہی ویڈیو کالز شروع ہوئیں تو پھر وہ برہنہ ہوکر آپ کے سامنے آئیں گی اور آپ کو بھی برہنہ ہونے کی دعوت دیں گی؛ جب آپ بھی اس میں ملوث ہوجائیں گے تو وہ اس کا اسکرین رکارڈ کرکے آپ کو بلیک میل کرنا شروع کردیں گی۔
ایسے میں سیدھے سادھے یا اپنی عزت سے بہت زیادہ پیار کرنے والے افراد ڈر کر ان کے مطالبات ماننے لگتے ہیں اور انہیں پیسہ پہنچانے لگتے ہیں۔

#بلیک_میلرز_کے_مطالبات_نہ_مانیں
اگر آپ میں سے کسی کے ایسا معاملہ پیش آئے اور کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ ایک طالب علم سے کچھ پیسے لینے بعد مزید پیسوں کی مانگ جاری ہے۔

#سائبر_کرائم اور سوشل میڈیائی بلیک میلنگ
اگر آپ کو کوئی بلیک میل کر رہا ہو، تو سائبر کرائم کو اطلاع دیں۔
آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ سائبر کرائم واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔
مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا۔
آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمع ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس یا فون کالز کی ریکارڈنگ وغیرہ) اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر دے سکتے ہیں۔
یا مندرجہ ذیل ای میل پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
पुलिस मुख्यालय लखनऊ में स्थापित साइबर क्राइम मुख्यालय sp-cyber.lu@up.gov.in
یا سائبر ہیلپ لائن 155260 پر صبح 9:00 بجے سے شام 6:00 بجے درمیان کال کرسکتے ہیں۔
#ایک_گروہ_گرفتار_ہوا
لکھنؤ پولیس نے کل ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس میں میاں بیوی سمیت سات افراد شامل تھے، وہ لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسا کر ان سے اچھی خاصی رقم وصولتے تھے۔ اس گروپ کے دو فرد (جو میاں بیوی ہیں) پولیس کی گرفت میں ہیں بقیہ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

#دھوکا_دھڑی_ان_پر_بھی
صرف ٹویٹر، فیس بک، واٹس اپ ہی نہیں اور بھی بہت سے ایسے ایپلیکیشنز ہیں جن پر آپ کے ساتھ دھوکا دھڑی ہوسکتی ہے جیسے:
Indian Messenger App
Hike Sticker Chat
JioChat
Troop Messenger
Namaste Bharat
ShareChat
Telegram
Kik
Hangouts
Line
Signal
Tindar
اور نہ جانے کتنے۔
ہمیں فضول میں ان ایپس کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
آپ صرف وہی ایپ استعمال کریں جو آپ کے کام کے ہیں۔
مثلاً واٹس اپ ٹیلیگرام وغیرہ جو آپ کے ڈیٹا کی ترسیل کے کام آتے ہیں بقیہ ایپس کی ضرورت نہیں! جب آپ اس طرح کے ایپس پر چیٹنگ کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کبھی نہ کبھی تو گرفت میں آنا ہی ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ تنہائی میں کیا ہوا کام ہے اسے کون دیکھ رہا ہے؟
آج کل تو لوگ یہ بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ آپ سرچ کیا کرتے ہیں اپنے فون پر تو کسی سے کی ہوئی چیٹ کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اگر محفوظ رہ بھی جائے تب بھی آپ کا رب ہر چیز دیکھنے والا ہے، آپ کو کسی اور سے نہیں اپنے رب سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔
جس دن خوف خدا پیدا ہوگیا اس دن یہ ساری چیزیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔

#کوشش
کچھ خیر خواہ حضرت جن میں سر فہرست حضرت قاری آصف برکاتی صاحب مہاراشٹر ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک ایسا ایپ ڈیولپ کرایا جائے جس کے ہوتے ہوئے موبائل میں کوئی فحش مواد یا فحش کال آ ہی نہ سکے۔
یقیناً یہ ایک قابل عمل مشورہ ہے اور کافی حد تک کارگر بھی ہوسکتا ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام کرسکے گا جب آپ اپنے موبائل میں وہ ایپ انسٹال کریں گے۔
اللہ کرے یہ ایپ جلد ہی تیار ہوجائے کیوں کہ کئی بار لوگ عدم معلومات کی بنا پر ان چیزوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تو اس ایپ کی مدد سے وہ لوگ تو محفوظ ہو جائیں گے، مگر جو لوگ جان بوجھ کر دلدل میں چھلانگ لگانا چاہیں گے ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ توفیق بخشے۔

#دست_بستہ_گزارش
ہماری آپ سب سے گزارش ہے کہ اس طرح کے کسی بھی ہنی ٹریپ کا شکار نہ ہوں۔
آپ کی عزت بحیثیت عالم صرف آپ ہی کی نہیں بلکہ مذہب اسلام کی بھی عزت ہے۔
اگر آپ کو اپنی پرواہ نہیں ہے تو کم از کم اپنے حُلیہ کی بناپر آپ کے مذہب پر جو الزام آئے گا اس کی تو پرواہ کریں۔
جہاں ان معاملات میں ملوث ہونے سے آپ کی پرسنل اور ازدواجی زندگی تباہ ہوگی وہیں آپ کی پروفیشنل زندگی بھی تباہ ہوگی۔ اور آخرت کا عذاب مزید برآں۔
تو خدا را کسی بھی انجان لڑکی یا عورت سے قطعاً رابطہ نہ کریں اگرچہ وہ آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے تب بھی آپ اس سے دور ہی رہیں۔
یہی آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے سود مند ہوگا۔
ورنہ دونوں مقامات پر خائب و خاسر ہونگے۔

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/981392675764584/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#روشن_خیالی_کے_مریض

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ: سواد اعظم دہلی

'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔

19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار

بہ شکریہ Ghulam Mustafa Naimi

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2895528547362631&id=100007165422879
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برصغیر پاک و ہند میں مروجہ بیعت کے اثرات۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی۔

برصغیر پاک و ہند کے اندر ایک سیدھا سادہ مسلمان جو شریعت مطہرہ کا عامل ، نماز روزے کا پابند، رزق حلال کمانے والا، اپنے والدین کی خدمت کرنے والا ،رشتے داروں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ،ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا ،دینی محافل میں ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرنے والا ،ہر دینی کتاب کو لگن اور شوق کے ساتھ پڑھنے والا قرآن و سنت میں مذکور مسنون دعاؤں کو اہتمام سے پڑھنے والا جب کسی پیر صاحب کا مرید ہو جاتا ہے تو اس کا اندازِ زیست ہی بدل جاتا ہے ۔ اس بیعت کے بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں کچھ کا تذکرہ اختصار کے ساتھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔مخصوص وضع قطع اختیار کر لیتا ہے جس میں اپنے پیر خانے کی تشہیر نمایاں ہو ۔مخصوص رنگ کی ٹوپیاں ،عمامہ شریف ،گلے میں لٹکانے والی چادر وغیرہ۔پیر صاحب کا ذوق جس رنگ کا ہے سارے مرید اسی رنگ کی ٹوپیاں کرتے وغیرہ سلواتےہیں۔شیخ صاحب کے ذوق کو اس میں مرکزی اور نمایاں حیثیت ہوتی ہے ۔

2۔مروجہ طریقت میں پیر صاحب کا ذوق بھی ایک مستقل حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر پیر صاحب کو قوالی پسند ہے اور اس میں ایک مخصوص راگ اور ساز پسند ہے تو جملہ مریدین اسی راگ اور ساز کو سنیں گے ۔اگر پیر صاحب کو نماز کے بعد جہری ذکر ایک مخصوص طرز اور لے میں پسند ہے تو جملہ مریدین بھی اسی انداز اور طرز میں ذکر کریں گے۔ یہی معاملہ لباس کا ہے جو آستانہ کا آفیشل لباس منظور شدہ ہے تمام پیر بھائی حضرات وہی پہنتے ہیں کچھ عملی طور پر سست مرید یوں بھی کر لیتے ہیں پورا سال جینز ،تھری پیس ،شارٹس پہنے رکھتے ہیں جب پیر صاحب کے سامنے حاضری دیتے ہیں تو پیر صاحب کے مرغوب لباس پہن کر حاضر ہو جاتے ہیں یوں رند کے رند بھی رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ قصہ مختصر پیر صاحب کے ذوق کی فرضوں کی طرح پابندی کی جاتی ہے ۔

3۔بیعت سے پہلے ہر دینی محفل میں شرکت کرنے والا اب بیعت کے بعد دوسری دینی محافل میں جانا چھوڑ دیتا ہے ۔صرف یاران طریقت کی محافل میں شرکت کی جاتی ہے دوسری محافل میں جتنا بھی قابل،عالم فاضل ،صاحب تقوی عالم دین بیان کرنے کے لیے آئے اسے در خور اعناء نہیں سمجھا جاتا۔

4۔ہر بزرگ کا ادب و احترام کرنے والا سالک اپنی تمام محبتیں شفقتیں، الفتیں ،چاہتیں، پیار ،خلوص، عزت و احترام اپنے شیخ پر ہی نچھاور کرتا ہے۔ بہت کم مرید ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جو دوسرے بزرگ کو بھی وہی ادب و احترام دے رہے ہو ں جو اپنے پیر صاحب کو دیتے ہیں۔ ایسی بازاری اور گھٹیا سیاست کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں کہ ایک علاقے میں کسی پیر صاحب کا حلقہ ارادت زیادہ ہو ،اسی علاقے میں کوئی دوسرے پیر صاحب آ جائیں تو مریدین دوسرے پیر صاحب پر گھٹیا الزام لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے جھوٹ، غیبت، چغلی، تہمت بہتان طرازی کا بھی سہارا لینے میں کوئی عار نہیں سمجھی جاتی۔

5۔مسنون دعاؤں کی پابندی کرنے والا اب اپنے آستانے کے اکثر غیر مسنون اوراد و وظائف کی اہتمام سے پابندی کرتا نظر آتا ہے۔
یہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ مروجہ امور تصوف میں مسنون اوراد و وظائف کی جگہ غیر مسنون اوراد و وظائف زیادہ شامل ہیں۔

6۔مروجہ بیعت کی ایک تاثیر یہ بھی دیکھنے میں نظر آئی ہے کہ رسومات تصوف ،معمولات تصوف مثلا دست بوسی، قدم بوسی، استان بوسی،چادر پوشی، عرس اور قوالی میں اہتمام سے شرکت بلکہ ان محافل میں شرکت کو لازم اور فرض خیال کرتے ہیں، جب کہ فرائض دینیہ نماز ،روزہ، حج، زکوۃ، کسب حلال ،اکل حلال وغیرہ کو یکسر نظر انداز کیا جاتاہے۔مریدوں کے اندر یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ ہم جتنی بھی بد اعمالیاں کرلیں، صاحب مزار ہماری شفاعت کریں گے ۔اس غلط بات کو مزید ان واعظین نے عام کیا ہے جنہوں نے حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے دھوبی والی کرامت اور اس طرح کی دیگر کرامتیں بیان کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کر دیا ہے کہ تم جو مرضی کرو صاحب مزار آخرت میں تم کو قبر کے عذاب سے بھی چھڑوا لیں گے اور حشر میں اپنے جھنڈے تلے جگہہ دے کر تمہارے گناہ بھی بخشوا لیں گے تمہاری شفاعت کریں گے۔اور تمہیں جنت میں اپنے ساتھ رکھیں گے۔

8۔ شومئی قسمت اگر پیر صاحب علم دین سے کورے ہیں اور مسند ارشاد میراث میں ہی پائی ہے تو ان کے مریدین علم اور علماء سے سخت تنفر اور بیزاری رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی سرگرمیوں کو فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں جیسا کہ مدارس میں پڑھنا ،علم دین کی ترویج و اشاعت وغیرہ ۔ان کا موقف ہے کہ ہم درگاہ سے نسبت کی برکت سے اس مقام عالی پر فائز ہیں جہاں پر ظاہر بیں علماء سوچ بھی نہیں سکتے۔