Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*"جُوا" ہمارے معاشرے کی ایک برائی ہے۔*
*(قسط نمبر 01)*
*جُوئے کی تعریف۔*
*ترجمۂ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اِن دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور اِن کا گناہ اِن کے نفع سے بڑا ہے۔*
*جوا شیطانی کام ہے۔*
*ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو اِن سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟*
*جوئے کا شرعی حکم*
*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلِ سنّت، امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ*
*جُوا کے بارے میں چار 4 فرامینِ مصطفٰے ﷺ:*
*آپ کی معلومات کے لئے۔*
📖 مراٰۃ المناجیح، 6 / 203
*(قسط نمبر 01)*
جو برائیاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اُن میں سے ایک "جُوا" بھی ہے، جس کے جال میں پھنس کر کئی لوگ برباد ہوچکے ہیں۔
عادی جُواریوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے مَحض تفریح کے لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگانے سے جوا کھیلنے کا آغاز کیا مگر رَفتہ رَفتہ اِس "ناسور" کے ایسے عادی ہوئے کہ اب جُوئے کی لت چھوڑنا اُن کے لئے دشوار ہو گیا۔
جوئے میں انسان بہت کچھ ہار جاتا ہے چنانچہ جواری مالی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، کچھ نہیں سُوجھتا تو سود پر قرض لیتے رہتے ہیں اور ایک لمبا ہاتھ مارنے کے چکر میں جوئے کی دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔
اپنا وقت جوئے کے اڈوں میں برباد کرتے ہیں اور وہاں پر پھیلنے والی مزید برائیوں نشہ، چوری چکاری وغیرہ میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔
کئی جواری اپنی نوکری یا کاروبار سے بھی غافل ہو جاتے ہیں، انجام کار نوکری یا کاروبار ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، اُن کی گھریلو زندگی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
عزت برباد ہوجاتی ہے، ٹینشن کے مارے یہ بیمار ہوجاتے ہیں، بعض اوقات جوا کھیلنے کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں گِرِفْتار بھی ہوجاتے ہیں، یوں اُن کو جوئے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، جب انہیں کچھ سُجھائی نہیں دیتا تو اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو جاتے ہیں کہ(مَعَاذَاللہ ﷻ) خودکشی جیسے حرام کام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔
ہم اللہ ﷻ سے رحمت اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
*جُوئے کی تعریف۔*
جُوئے کو عربی میں قِمار کہتے ہیں، حضرت میر سیّد شریف جُرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مَغْلُوب (یعنی ناکام ہونے والے) کی کوئی چیز غالِب (یعنی کامیاب ہونے والے) کو دی جائے گی یہ "قِمار" (یعنی جُوا) ہے۔
📖 التّعریفات، صفحہ نمبر 126
قراٰنِ پاک میں ہے:
*ترجمۂ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اِن دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور اِن کا گناہ اِن کے نفع سے بڑا ہے۔*
📖 سورۃ البقرہ، آیت 219
خزائن العرفان میں ہے: نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سُرور پیدا ہوتا ہے یا اِس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مُفْت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار! عقل کا زوال، غیرت و حَمِیَّت کا زوال، عبادات سے محرومی، لوگوں سے عَدَاوَتیں، سب کی نظر میں خوار ہونا، دولت و مال کی اِضاعت (یعنی بربادی)۔
📖 خزائن العرفان، صفحہ 73
*جوا شیطانی کام ہے۔*
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 90 اور 91 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
*ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو اِن سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟*
*جوئے کا شرعی حکم*
*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلِ سنّت، امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ*
فتاویٰ رضویہ جلد 21 صَفْحَہ 156 پر فرماتے ہیں:
جُوا بھی بَنَصِِّ قَطْعِیِ قرآن حرام ہے۔
جبکہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم بھی حرام ہے چنانچہ فتاوٰی رضویہ جلد 19 صَفْحَہ 646 پر ہے:
سُود اور چوری اور غَصَب اور جُوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔
*جُوا کے بارے میں چار 4 فرامینِ مصطفٰے ﷺ:*
(1)جس نے نَرد شَیر (جُوا کھیلنے کے سامان) سے جُوا کھیلا تو گویا اُس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبویا۔
📖 ابنِ ماجہ، 4 / 23۱، حدیث: 3763
2۔ جو کوئی نَرد کھیلے اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی۔
📖 مسندِ بزار، 8 / 77، حدیث نمبر: 3075
3۔ جو شخص نَرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سؤر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔
📖 مسند امام احمد، 09 / 50، حدیث نمبر: 33199
4۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ! جُوا کھیلیں، تو اُس (کہنے والے) کو چاہئے کہ صدقہ کرے۔
📖 مسلم، ص894، حدیث: 1647
یعنی جُوا کھیلنا تو درکنار اگر کسی کو جُوا کھیلنے کی دعوت بھی دے تو وہ جوئے کا مال جس سے جوا کھیلنا چاہتا ہے وہ یا دوسرا مال صدقہ کردے تاکہ اس اِرادے کا یہ کفارہ ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ارادہ بھی گناہ ہے، یہ ہی مذہبِ جُمْہور ہے۔
📖 مراٰۃُ المناجیح، 05 / 195۔
*آپ کی معلومات کے لئے۔*
`فارس کے بادشاہوں میں ایک بادشاہ آردشیر ابن تابک گزرا ہے اُس نے یہ جوا ایجاد کیا۔ 📖 مراٰۃ المناجیح، 6 / 203
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*"جوا" ہمارے معاشرے کی ایک برائی۔*
*آخری اور دوسری قسط۔*
*جوئے کی 6 صورتیں:*
*1۔ لاٹری۔*
*2۔ پرائز بانڈ کی پرچی۔*
*3۔ موبائل میسجز اور جُوا۔*
*4۔ مُعَمَّہ۔*
*5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا۔*
*6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا*
*📖 رسالہ: جُوئے میں جیتا ہوا مال۔*
*جُواریوں کی صُحبت کا بھیانک انجام۔*
*آخری اور دوسری قسط۔*
*جوئے کی 6 صورتیں:*
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دنیا میں جوئے کے نِت نئے طریقے رائج ہیں، اُن میں سے 6 یہ ہیں:
*1۔ لاٹری۔*
اس طریقۂ کار میں لاکھوں کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رَقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے کامیاب ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کردئیے جاتے ہیں جبکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے، یہ بھی جُوئے ہی کی ایک صورت ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
*2۔ پرائز بانڈ کی پرچی۔*
حکومتِ پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 روپے کی قیمت کے انعامی بانڈز بینک کے ذَرِیعے جاری کرتی ہے اور جَدوَل کے مطابِق ہر ماہ قُرعہ اندازی کے ذَرِیعے کروڑوں روپے کے اِنعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے، جس کا انعام نہیں نکلتا اُس کی بھی رَقم محفوظ رہتی ہے وہ اسے جب چاہے کیش کروا سکتا ہے۔ یہ جَواز (یعنی جائز ہونے) کی صورت ہے اور جُوئے میں داخِل نہیں۔
لیکن اِس کے مُتَوازی بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں، اُن پرچیوں کی خریدو فروخت، غیر قانونی اور ناجائز و حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات تو پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رَقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ کر دے دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رَقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جُوا ہے کیونکہ اس میں اِنْعام نہ نکلنے کی صورت میں خریدار کی رَقم ڈوب جاتی ہے۔
*3۔ موبائل میسجز اور جُوا۔*
موبائل پر مختلف سُوالات پر مبنی میسجز بھیجے جاتے ہیں مَثَلاً کونسی ٹیم میچ جیتے گی؟ یا پاکستان کس دن بنا تھا؟ جس میں دُرُست جوابات دینے والوں کیلئے مختلف اِنعامات رکھے جاتے ہیں، شرکت کرنے والے کے "موبائل بیلنس" سے قلیل رقم مَثَلاً دس روپے کَٹ جاتی ہے، جن کا انعام نہیں نکلتا ان کی رَقم ضائع ہو جاتی ہے، یہ بھی جُوا ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
*4۔ مُعَمَّہ۔*
اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سُوالات حل کرنے کے لئے دئیے جاتے ہیں جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابِق نکل آئے اُسے انعام دیا جاتا ہے، انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے زائد بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا دُرُست حَل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کھیل میں بَہُت سارے افراد شریک ہوتے ہیں، ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے:
(1) مفت (2) معمولی فیس دے کر،
اگر شُرَکَا سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے تو اور کوئی مانِع شَرعی نہ ہونے کی صورت میں اس انعام کا لینا جائز ہے۔ جس میں شُرَکَا سے فیس لی جاتی ہے اُس میں اِنعام ملے یا نہ ملے رقم ڈوب جاتی ہے، یہ صورت جُوئے کی ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
*5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا۔*
بعض افراد یا دوست آپس میں تھوڑی تھوڑی رَقم جمع کر کے قُرعَہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا ساری رقم اس کو ملے گی، یہ بھی جُوا ہے کیونکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اِسی طرح بعض اوقات پیسے جمع کر کے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قُرعَہ اندازی میں نکل آیا اسے یہ کتاب دے دی جائے گی یہ بھی جُوا ہی ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مَصْنُوعات خریدنے والوں کو قُرعہ اندازی کر کے اِنعامات دیتی ہیں یہ جائز ہے کیوں کہ اس میں کسی کی بھی رَقم نہیں ڈوبتی۔
*6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا*
ہمارے یہاں مختلف کھیل مَثَلاً گُھڑ دَوڑ، کرکٹ، کَیرم، بِلیرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فُلاں چیز دے گا یہ بھی جوا ہے اور ناجائز وحرام۔
کیرم اور بِلیرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وَقت عُمُوماً یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کریگا، یہ بھی جُوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں مَثَلاً تاش یا لڈو پر دو طرفہ شرط لگا کر کھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعِث اِس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جُوا ہے اور جُوا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔
*📖 رسالہ: جُوئے میں جیتا ہوا مال۔*
*جُواریوں کی صُحبت کا بھیانک انجام۔*
`پنجاب (پاکستان) کے ایک محلے میں عجیب وغریب بدبو محسوس ہونے لگی، عَلاقے والوں کی خوب جُستجو کے بعد کہیں جا کر بدبو کا سُراغ ملا، وہ بدبو ایک بند گھر سے آرہی تھی۔چُنانچِہ پولیس کو اطِّلاع دی گئی۔ جب پولیس والے لوگوں کی موجودگی میں تالا توڑ کر گھر کے اندر داخِل ہوئے تو یہ دیکھ کر سب کے رُونگٹے کھڑے ہوگئے کہ وہاں چارپائی پر ایک جوان آدمی کی لاش پڑی تھی اور اُس کے بعض حصے گل سڑ چکے تھے اور اُن میں کیڑے رِینگ رہے تھے۔
یہ منظر دیکھ کر بچّوں سمیت کئی افراد بے ہوش ہوگئے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرنے کے لئے اِس عَلاقے میں آیا تھا، کرائے کے مکان میں رِہائش پذیر تھا اور بعض جُواریوں سے اس کی دوستی تھی۔
ایک دن یہ نوجوان اپنے دوستوں سے جُوا میں بَہُت ساری رقم جیت گیا، ہارے ہوئے جواری دوستوں نے ہاری ہوئی رقم لُوٹنے کے لئے اس کے گلے میں پھندا کَسا اور بجلی کے کرنٹ لگا لگا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا، پھر اسے بے گورو کفن چھوڑ کر تالا لگا کر فِرار ہوگئے۔
جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے اور اس سے بَراءت (یعنی نَجات) کی یِہی صورت ہے کہ جِس جِس سے جتنا جتنا مال جِیتا ہے اُسے واپَس دے، یا جیسے بنے اُسے راضی کر کے مُعاف کرالے۔
وہ نہ ہو تو اُس کے وارِثوں کو واپَس دے، یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضا مندی سے مُعاف کرالے۔ باقیوں کا حصّہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتا کسی طرح نہ چلے، نہ اُن کا، نہ اُن کے وَرَثہ کا، اُن سے جس قَدَر جیتا تھا اُن کی نیّت سے خیرات کر دے، اگرچِہ (خود) اپنے (ہی) محتاج بہن بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے۔
آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: غَرَض جہاں جہاں جس قَدَر یاد ہو سکے کہ اِتنا مال فُلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑا تھا، اُتنا تو انہیں یا اُن کے وارِثوں کو دے، یہ نہ ہوں تو اُن کی نیّت سے تصدُّق (یعنی صدقہ) کرے، اور زیادہ پڑنے کے یہ معنیٰ کہ مَثَلًا ایک شخص سے دس بار جُوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اُس (یعنی سامنے والے جواری) کے جیتنے کی (رقم کی) مقدار مَثَلًا سو روپے کو پہنچی، اور یہ (خود) سب دَفعَہ کے مِلا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہو گئے، پچیس اُس (یعنی سامنے والے جواری)کے دینے رہے۔ اِتنے ہی اسے واپس دے۔ وَعَلٰی ھٰذَا القِیاس (یعنی اور اسی پر قیاس کر لیجئے) اور جہاں یاد نہ آئے کہ (جُوا کھیلنے والے) کون کون لوگ تھے اور کتنا (مال جُوئے میں جیت) لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ (مِقدار کا) تخمینہ (یعنی اندازہ) لگائے کہ اِس تمام مدّت میں کس قَدَر مال جوئے سے کمایا ہوگا اُتنا مالِکوں (یعنی اُن نامعلوم جواریوں) کی نیّت سے خیرات کردے، عاقِبت یونہی پاک ہوگی۔ وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَم۔
*📖 فتاوٰی رضویہ، ج19، ص651*
*اے جُواری تُو جوئے سے باز آ*
*ورنہ پھنس جائے گا جس دن تُو مرا*
*ہو گیا تجھ سے خدا ناراض اگر*
*قبر سن لے آگ سے جائیگی بھر*
*📖 وسائلِ بخشش مرمم، ص 713*
یہ منظر دیکھ کر بچّوں سمیت کئی افراد بے ہوش ہوگئے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرنے کے لئے اِس عَلاقے میں آیا تھا، کرائے کے مکان میں رِہائش پذیر تھا اور بعض جُواریوں سے اس کی دوستی تھی۔
ایک دن یہ نوجوان اپنے دوستوں سے جُوا میں بَہُت ساری رقم جیت گیا، ہارے ہوئے جواری دوستوں نے ہاری ہوئی رقم لُوٹنے کے لئے اس کے گلے میں پھندا کَسا اور بجلی کے کرنٹ لگا لگا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا، پھر اسے بے گورو کفن چھوڑ کر تالا لگا کر فِرار ہوگئے۔
جُوا کھیلنے والا اگر نادم ہوا تو اُس کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی عزوجل میں سچّی توبہ کرے مگر جو کچھ مال جیتا ہے وہ بدستور حرام ہی رہے گا اس ضِمْن میں راہنمائی کرتے ہوئے
*📖 نیکی کی دعوت، حصہ اول، ص290*
*جوئے سے توبہ کا طریقہ*
*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہل سنّت، امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن*فرماتے ہیں:
جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے اور اس سے بَراءت (یعنی نَجات) کی یِہی صورت ہے کہ جِس جِس سے جتنا جتنا مال جِیتا ہے اُسے واپَس دے، یا جیسے بنے اُسے راضی کر کے مُعاف کرالے۔
وہ نہ ہو تو اُس کے وارِثوں کو واپَس دے، یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضا مندی سے مُعاف کرالے۔ باقیوں کا حصّہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتا کسی طرح نہ چلے، نہ اُن کا، نہ اُن کے وَرَثہ کا، اُن سے جس قَدَر جیتا تھا اُن کی نیّت سے خیرات کر دے، اگرچِہ (خود) اپنے (ہی) محتاج بہن بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے۔
آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: غَرَض جہاں جہاں جس قَدَر یاد ہو سکے کہ اِتنا مال فُلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑا تھا، اُتنا تو انہیں یا اُن کے وارِثوں کو دے، یہ نہ ہوں تو اُن کی نیّت سے تصدُّق (یعنی صدقہ) کرے، اور زیادہ پڑنے کے یہ معنیٰ کہ مَثَلًا ایک شخص سے دس بار جُوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اُس (یعنی سامنے والے جواری) کے جیتنے کی (رقم کی) مقدار مَثَلًا سو روپے کو پہنچی، اور یہ (خود) سب دَفعَہ کے مِلا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہو گئے، پچیس اُس (یعنی سامنے والے جواری)کے دینے رہے۔ اِتنے ہی اسے واپس دے۔ وَعَلٰی ھٰذَا القِیاس (یعنی اور اسی پر قیاس کر لیجئے) اور جہاں یاد نہ آئے کہ (جُوا کھیلنے والے) کون کون لوگ تھے اور کتنا (مال جُوئے میں جیت) لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ (مِقدار کا) تخمینہ (یعنی اندازہ) لگائے کہ اِس تمام مدّت میں کس قَدَر مال جوئے سے کمایا ہوگا اُتنا مالِکوں (یعنی اُن نامعلوم جواریوں) کی نیّت سے خیرات کردے، عاقِبت یونہی پاک ہوگی۔ وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَم۔
`*📖 فتاوٰی رضویہ، ج19، ص651*
*اے جُواری تُو جوئے سے باز آ*
*ورنہ پھنس جائے گا جس دن تُو مرا*
*ہو گیا تجھ سے خدا ناراض اگر*
*قبر سن لے آگ سے جائیگی بھر*
*📖 وسائلِ بخشش مرمم، ص 713*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مخلوقِ خدا کے خیرا خواہ
Makhlooq E Khuda K Khair Kha
https://telegram.me/SirfUrduTahrir/
اللہ پاک کے آخِری نبی، محمدِ عَرَبی ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے دنیا میں ظُلْم و سِتَم اور ناانصافی عام تھی۔ جانور تو کیا انسان بھی اپنے کثیر حقوق سے محروم تھے۔ غلام، یتیم، عورتیں اور نَومَولُود بیٹیاں ظالموں کے ظلم کا تختۂ مشق تھیں۔ رحمتِ دوجہاںﷺ نے تشریف لاکر دنیا کو حقیقی انسانیّت کا دَرْس دیا، یتیموں، غلاموں، عورتوں، بچّوں، جانوروں الغرض جمیع مخلوقات کی اصل خیرخواہی فرمائی۔ آپﷺ کی روشن تعلیمات نے ظلم و ستم کو ختم کیا اور امن و سکون سے مُعاشرے کو سَرسَبز و شاداب اور پُررونق بنا دیا۔ آئیے! آپﷺ کی مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی کے چند پہلوؤں کا تذکرہ پڑھ کر دِلوں کی تسکین کا سامان کرتے ہیں: (1)میدانِ جنگ میں بھی انسانیت کی تعلیم نبیِّ رحمت، خیرخواہِ انسانیتﷺ کے بیان کردہ قوانین صرف مسلمانوں کےلئے ہی خاص نہیں بلکہ آپ نے غیرمسلموں کی جان و مال اور عزّت و آبرو کے تحفظ کیلئے بھی جو حقوق بیان فرمائے ہیں ان کی نظیر کائنات میں کہیں نہیں ملتی۔ غیرمسلم جب جنگ لڑتے تو ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھتے، لیکن رسولِ کریمﷺ نے جنگ میں بوڑھوں، عورتوں، بچّوں، غیرمسُلَّح افراد اور جانوروں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ درخت اور فصلیں خراب کرنے سے منع فرمایا نیز بچّوں، بوڑھوں اور عورتوں کے تحفّظ کی خاطر رات کے وقت حملہ کرنے سے منع کیا۔(2)یتیموں کے حق میں خیرخواہی قبلِ اسلام یتیموں کے حقوق دبانا اور ان پر ظُلم ڈھانا بھی عام تھا، یہ رسولِ کریمﷺ ہی کی ہستی ہے جس نے یتیموں کے حق ادا کرنے، کَفالت کرنےاور ان کی وراثت ان کے سمجھدار ہونے پر انہیں سونپنے کا حکم دیا۔ ہمارے پیارے آقاﷺ نے تو ان یتیموں کو بھی سینے سے لگانے اور ان کے سَروں پر دستِ شفقت پھیرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ جنہیں ہمارے معاشرے میں بیگانے تو کیا اپنے بھی منہ لگانے کو تیار نہیں ہوتے چنانچہ ارشاد فرمایا: جس نے رِضائے الٰہی کیلئے یتیم کے سَر پر ہاتھ رکھا تواس کیلئے ہر بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرا نیکیاں ہیں۔(مسندِ احمد،ج8،ص300،حدیث:22347) (3)عورتوں کے حق میں خیرخواہی نبیِّ کریمﷺ کی آمد سے پہلے یہ صِنْفِ نازک زمانۂ جاہلیت کی وحشیانہ رُسومات کا شکار تھی آپ نے شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے اِسے ظلم و جبر کے بھنور سے نکال کر عزّت کا تاج پہنایا اور اپنے قول و عمل سے بیٹی ہو یا بہن، بیوی ہو یا ماں ہر ایک کے حقوق بیان فرماکر انہیں مُعاشرے میں اہم مقام عطا فرمایا۔ آپﷺ نے اپنی بیٹیوں اور اَزواج ِ مُطہّرات سے شفقت و محبت کا برتاؤ کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خَیْرُکُـمْ خَیْرُکُـمْ لِنِسَائِہٖ وَلِبَنَاتِہٖ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں اور بیٹیوں کے ساتھ اچھا ہو۔(شعب الایمان،ج 6،ص415، حدیث:8720) نیز والدین کو شفقت بھری نظر سے باربار دیکھنے پر مقبول حج کی بشارت اور بہن کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے پر جنّت میں اپنی رَفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔(شعب الایمان،ج 6،ص186،حدیث: 7856، مسنداحمد،ج 4،ص313، حدیث: 12594) (4)بوڑھوں کے حق میں خیر خواہی رسولِ کریمﷺ کی تعلیمات کا یہ طُرّۂ امتِیاز ہے کہ آپﷺ عمر رسیدہ افراد کو بوجھ سمجھ کر ”اولڈ ہاؤس“ (Old House) میں پہنچانے کے بجائے ان کی قدر و منزلت بتاتے ہوئے انہیں قابلِ عزّت اور ان کی معیت کو باعثِ بَرَکت قرار دیا ہے جیساکہ فرمانِ مصطفےٰﷺ ہے: برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے اور جو ہمارے چھوٹوں پر رَحْم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
(معجمِ کبیر،ج8،ص227،حدیث:7895)
(5)جانوروں کے حق میں خیر خواہی اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت جانور بھی ہیں۔ ان کے گوشت دودھ اور بالوں وغیرہ سے کثیر فوائد کے ساتھ ساتھ یہ مال برداری اور سواری کے کام آتے ہیں جبکہ ان کی خرید و فروخت کسبِ حلال کا ذریعہ بھی ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے اور کسی بھی طرح سے انہیں اذیّت دینے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ جانور کے منہ پر مارنے، بھوکا پیاسا ذَبْح کرنے سے بھی ممانعت فرمائی، بلکہ ذَبْح کے وقت بھی تیزدھار چُھری استعمال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔
جو کچھ بیان ہوا یہ حضور نبیِّ رحمتﷺ کی تعلیمات کا مختصر حصّہ ہے، بہرحال رسولِ اکرمﷺ نے انسان کو اس کا اصل مقام دلوایا مگر صَد افسوس کہ بعض نادان اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر انسانیت کے نام پر حیوانیت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنﷺ
شعبہ فیضان اولیا وعلماالمدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی
#Articles
Makhlooq E Khuda K Khair Kha
https://telegram.me/SirfUrduTahrir/
اللہ پاک کے آخِری نبی، محمدِ عَرَبی ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے دنیا میں ظُلْم و سِتَم اور ناانصافی عام تھی۔ جانور تو کیا انسان بھی اپنے کثیر حقوق سے محروم تھے۔ غلام، یتیم، عورتیں اور نَومَولُود بیٹیاں ظالموں کے ظلم کا تختۂ مشق تھیں۔ رحمتِ دوجہاںﷺ نے تشریف لاکر دنیا کو حقیقی انسانیّت کا دَرْس دیا، یتیموں، غلاموں، عورتوں، بچّوں، جانوروں الغرض جمیع مخلوقات کی اصل خیرخواہی فرمائی۔ آپﷺ کی روشن تعلیمات نے ظلم و ستم کو ختم کیا اور امن و سکون سے مُعاشرے کو سَرسَبز و شاداب اور پُررونق بنا دیا۔ آئیے! آپﷺ کی مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی کے چند پہلوؤں کا تذکرہ پڑھ کر دِلوں کی تسکین کا سامان کرتے ہیں: (1)میدانِ جنگ میں بھی انسانیت کی تعلیم نبیِّ رحمت، خیرخواہِ انسانیتﷺ کے بیان کردہ قوانین صرف مسلمانوں کےلئے ہی خاص نہیں بلکہ آپ نے غیرمسلموں کی جان و مال اور عزّت و آبرو کے تحفظ کیلئے بھی جو حقوق بیان فرمائے ہیں ان کی نظیر کائنات میں کہیں نہیں ملتی۔ غیرمسلم جب جنگ لڑتے تو ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھتے، لیکن رسولِ کریمﷺ نے جنگ میں بوڑھوں، عورتوں، بچّوں، غیرمسُلَّح افراد اور جانوروں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ درخت اور فصلیں خراب کرنے سے منع فرمایا نیز بچّوں، بوڑھوں اور عورتوں کے تحفّظ کی خاطر رات کے وقت حملہ کرنے سے منع کیا۔(2)یتیموں کے حق میں خیرخواہی قبلِ اسلام یتیموں کے حقوق دبانا اور ان پر ظُلم ڈھانا بھی عام تھا، یہ رسولِ کریمﷺ ہی کی ہستی ہے جس نے یتیموں کے حق ادا کرنے، کَفالت کرنےاور ان کی وراثت ان کے سمجھدار ہونے پر انہیں سونپنے کا حکم دیا۔ ہمارے پیارے آقاﷺ نے تو ان یتیموں کو بھی سینے سے لگانے اور ان کے سَروں پر دستِ شفقت پھیرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ جنہیں ہمارے معاشرے میں بیگانے تو کیا اپنے بھی منہ لگانے کو تیار نہیں ہوتے چنانچہ ارشاد فرمایا: جس نے رِضائے الٰہی کیلئے یتیم کے سَر پر ہاتھ رکھا تواس کیلئے ہر بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرا نیکیاں ہیں۔(مسندِ احمد،ج8،ص300،حدیث:22347) (3)عورتوں کے حق میں خیرخواہی نبیِّ کریمﷺ کی آمد سے پہلے یہ صِنْفِ نازک زمانۂ جاہلیت کی وحشیانہ رُسومات کا شکار تھی آپ نے شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے اِسے ظلم و جبر کے بھنور سے نکال کر عزّت کا تاج پہنایا اور اپنے قول و عمل سے بیٹی ہو یا بہن، بیوی ہو یا ماں ہر ایک کے حقوق بیان فرماکر انہیں مُعاشرے میں اہم مقام عطا فرمایا۔ آپﷺ نے اپنی بیٹیوں اور اَزواج ِ مُطہّرات سے شفقت و محبت کا برتاؤ کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خَیْرُکُـمْ خَیْرُکُـمْ لِنِسَائِہٖ وَلِبَنَاتِہٖ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں اور بیٹیوں کے ساتھ اچھا ہو۔(شعب الایمان،ج 6،ص415، حدیث:8720) نیز والدین کو شفقت بھری نظر سے باربار دیکھنے پر مقبول حج کی بشارت اور بہن کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے پر جنّت میں اپنی رَفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔(شعب الایمان،ج 6،ص186،حدیث: 7856، مسنداحمد،ج 4،ص313، حدیث: 12594) (4)بوڑھوں کے حق میں خیر خواہی رسولِ کریمﷺ کی تعلیمات کا یہ طُرّۂ امتِیاز ہے کہ آپﷺ عمر رسیدہ افراد کو بوجھ سمجھ کر ”اولڈ ہاؤس“ (Old House) میں پہنچانے کے بجائے ان کی قدر و منزلت بتاتے ہوئے انہیں قابلِ عزّت اور ان کی معیت کو باعثِ بَرَکت قرار دیا ہے جیساکہ فرمانِ مصطفےٰﷺ ہے: برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے اور جو ہمارے چھوٹوں پر رَحْم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔
(معجمِ کبیر،ج8،ص227،حدیث:7895)
(5)جانوروں کے حق میں خیر خواہی اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت جانور بھی ہیں۔ ان کے گوشت دودھ اور بالوں وغیرہ سے کثیر فوائد کے ساتھ ساتھ یہ مال برداری اور سواری کے کام آتے ہیں جبکہ ان کی خرید و فروخت کسبِ حلال کا ذریعہ بھی ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے اور کسی بھی طرح سے انہیں اذیّت دینے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ جانور کے منہ پر مارنے، بھوکا پیاسا ذَبْح کرنے سے بھی ممانعت فرمائی، بلکہ ذَبْح کے وقت بھی تیزدھار چُھری استعمال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔
جو کچھ بیان ہوا یہ حضور نبیِّ رحمتﷺ کی تعلیمات کا مختصر حصّہ ہے، بہرحال رسولِ اکرمﷺ نے انسان کو اس کا اصل مقام دلوایا مگر صَد افسوس کہ بعض نادان اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر انسانیت کے نام پر حیوانیت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنﷺ
شعبہ فیضان اولیا وعلماالمدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی
#Articles
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ســـــود سے بھی بڑا گناہ ڪون سا ہے؟*
*ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ ﷺ*
*ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، اُنہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔*
*📖 پارہ 22، الاحزاب، آیت 58*
*📖 شعب الایمان، 5 / 298، حدیث: 6711*
اے عاشقانِ رسول! یقیناً مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالنا سود جیسے گناہِ بد سے کبھی بدترین ہے۔
*مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالتا سود سے بڑا گناہ ہے۔*
اِس ضمن میں مزید تین فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمایئے:
1: آدمی کو ملنے والا سود کا ایک درہم اللہ کریم کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 لابن ابی الدنیا، ص 80، حدیث: 36
2: سود بہتر (72) گناہوں کا مجموعہ ہے اور اُن میں سے ادنٰی ترین اپنی ماں سے زنا کرنے کی طرح ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 معجم اوسط، 5 / 227، حديث: 7151
3: بدترین سود مسلمان کی آبرو میں ناحق دست درازی ہے۔
📖 ابو داؤد، 4 / 353، حدیث: 4876
حدیث پاک نمبر 3 کے تحت
*مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:*
مسلمان کی آبرو چونکہ مال سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے، اِس لئے مسلمان کی آبروریزی، اُسے ذلیل کرنا بدترین سود قرار دیا گیا۔
*📖 مراۃ المناجیح، ج 06، ص 618*
*مسلمان کی عزت کی حفاظت کا ثواب۔*
اے عاشقانِ رسول! آپ کے سامنے جب بھی کوئی آدمی کسی اسلامی بھائی کی خطا یا اُس کے عیب کا تذکرہ اُس کی موجودگی میں یا پسِ پشت (یعنی پیٹھ پیچھے) شروع کرے تو سننے میں اگر کوئی مصلحتِ شرعی نہ ہو تو فوراً احترام مسلم کا لحاظ کرتے ہوئے ثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے اپنے اسلامی بھائی کی عزت کی حفاظت کیجئے۔
*سرکارِ دو جہاں، شہنشاہِ کون و مکاں ﷺ کا فرمانِ عافیت نشان ہے:*
جو اپنے (مسلمان) بھائی کی پیٹھ پیچھے اُس کی عزت کا تحفظ کرے تو الله پاک کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اُسے جہنم سے آزاد کر دے۔
*📖 مسند امام احمد، 10 / 445، حدیث نمبر: 27680*
*حضرت سیّدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم، رؤف رحيم ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی، اللہ پاک قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اُس کی حفاظت فرمائے گا۔
*لابن ابی الدنیا، ص 131، حدیث: 105*
غیبت سے روکنے کے بارے میں حدیث پاک ہے کہ
*حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
جس کے سامنے اُس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اُس کی مدد پر قادر ہو اور مدد کرے، الله پاک دنیا اور آخرت میں اُس کی مدد کرے گا اور اگر باوجود قدرت اُس کی مدد نہیں کی تو اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اُسے پکڑے گا۔
*📖 مصنف عبدالرزاق، حدیث: 20426، جلد 10، صفحہ 188*
جس طرح زندہ لوگوں کی غیبت کرنا سخت ہے ایسے ہی مسلمان مرحومین کی غیبت کرنا بھی سخت گناہ ہے۔
*حضور نبی اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور اُن کی برائیوں سے باز رہو۔
*📖 ترمذی، 2 / 312، حدیث: 1021*
*حضرت علامہ محمد عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:*
مردے کی غیبت زندے کی غیبت سے بدتر ہے کیوں کہ زندہ شخص سے معاف کروانا ممکن ہے جبکہ مردہ سے معاف کروانا ممکن نہیں۔
📖 فیض القدیر، ج 01، تحت الحدیث: 852
📖 رسالہ: جوئے میں جیتا ہوا مال
*ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ ﷺ*
نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑا گناه کون سا ہے؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: اللہ پاک اور اُس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔
فرمایا: بے شک اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑھ کر گناہ ہے مسلمان کی عزت کو حلال سمجھنا۔
پھر رسولِ اکرم، نورِ مجسم ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:*ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، اُنہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔*
*📖 پارہ 22، الاحزاب، آیت 58*
*📖 شعب الایمان، 5 / 298، حدیث: 6711*
اے عاشقانِ رسول! یقیناً مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالنا سود جیسے گناہِ بد سے کبھی بدترین ہے۔
*مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالتا سود سے بڑا گناہ ہے۔*
اِس ضمن میں مزید تین فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمایئے:
1: آدمی کو ملنے والا سود کا ایک درہم اللہ کریم کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 لابن ابی الدنیا، ص 80، حدیث: 36
2: سود بہتر (72) گناہوں کا مجموعہ ہے اور اُن میں سے ادنٰی ترین اپنی ماں سے زنا کرنے کی طرح ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 معجم اوسط، 5 / 227، حديث: 7151
3: بدترین سود مسلمان کی آبرو میں ناحق دست درازی ہے۔
📖 ابو داؤد، 4 / 353، حدیث: 4876
حدیث پاک نمبر 3 کے تحت
*مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:*
مسلمان کی آبرو چونکہ مال سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے، اِس لئے مسلمان کی آبروریزی، اُسے ذلیل کرنا بدترین سود قرار دیا گیا۔
*📖 مراۃ المناجیح، ج 06، ص 618*
*مسلمان کی عزت کی حفاظت کا ثواب۔*
اے عاشقانِ رسول! آپ کے سامنے جب بھی کوئی آدمی کسی اسلامی بھائی کی خطا یا اُس کے عیب کا تذکرہ اُس کی موجودگی میں یا پسِ پشت (یعنی پیٹھ پیچھے) شروع کرے تو سننے میں اگر کوئی مصلحتِ شرعی نہ ہو تو فوراً احترام مسلم کا لحاظ کرتے ہوئے ثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے اپنے اسلامی بھائی کی عزت کی حفاظت کیجئے۔
*سرکارِ دو جہاں، شہنشاہِ کون و مکاں ﷺ کا فرمانِ عافیت نشان ہے:*
جو اپنے (مسلمان) بھائی کی پیٹھ پیچھے اُس کی عزت کا تحفظ کرے تو الله پاک کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اُسے جہنم سے آزاد کر دے۔
*📖 مسند امام احمد، 10 / 445، حدیث نمبر: 27680*
*حضرت سیّدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم، رؤف رحيم ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی، اللہ پاک قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اُس کی حفاظت فرمائے گا۔
*لابن ابی الدنیا، ص 131، حدیث: 105*
غیبت سے روکنے کے بارے میں حدیث پاک ہے کہ
*حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
جس کے سامنے اُس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اُس کی مدد پر قادر ہو اور مدد کرے، الله پاک دنیا اور آخرت میں اُس کی مدد کرے گا اور اگر باوجود قدرت اُس کی مدد نہیں کی تو اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اُسے پکڑے گا۔
*📖 مصنف عبدالرزاق، حدیث: 20426، جلد 10، صفحہ 188*
جس طرح زندہ لوگوں کی غیبت کرنا سخت ہے ایسے ہی مسلمان مرحومین کی غیبت کرنا بھی سخت گناہ ہے۔
*حضور نبی اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور اُن کی برائیوں سے باز رہو۔
*📖 ترمذی، 2 / 312، حدیث: 1021*
*حضرت علامہ محمد عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:*
مردے کی غیبت زندے کی غیبت سے بدتر ہے کیوں کہ زندہ شخص سے معاف کروانا ممکن ہے جبکہ مردہ سے معاف کروانا ممکن نہیں۔
📖 فیض القدیر، ج 01، تحت الحدیث: 852
📖 رسالہ: جوئے میں جیتا ہوا مال
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🚨قرآن پاک جلانے والوں نے پورے ملک کی سلامتی خطرے میں ڈال دی🚨
ازقلم ✍️حضور کنزالعلماء مفکر اسلام ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب
حافظ آباد میں دارِ ارقم سکول کی طرف سے قرآن مجید کے متعدد نسخوں کا جلایا جانا،محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سب کچھ ارادی اور اعتقادی طور پرہوا۔ ملک میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جو قرآن جلانے کو توہین قرآن نہیں سمجھتا۔ اس سے پہلے انہیں لوگوں کی طرف سے گوجرانوالہ، لاہور دیگر کئی شہروں سے میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔دارِ ارقم کے پرنسپل سمیت تمام انتظامیہ کو گرفتار کر کے اس فتنے کے پیچھے موجود خفیہ ہاتھوں اور منفی نظریات کو بے نقاب کیا جائے۔ایسے واقعات امریکی پادری ٹیری جونز جیسے ملعونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو معاذاللہ قرآن برننگ ڈے(Quran burning day) مناتے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر ویسٹ میں گستاخیوں کانہ تھمنے والا سلسلہ جو جاری ہے اس کی روک تھام کے لیے پاکستان کا اپنی سرزمین کو گستاخانہ آلودگی سے پاک کرنا ناگزیر ہے۔ امر جلیل نے اللہ تعالی کی مبینہ گستاخیاں کیں، شہنشاہ نقوی نے اصحاب رسول ﷺ کی گستاخیاں کیں، عبدالرحمن سلفی نے آئمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی گستاخیاں کیں،کوہاٹ میں خلفاء راشدین کے گستاخانہ خاکے بنائے گئے، چکوال، حیدر آباد اور قصور میں اصحاب رسول ﷺ کے خلاف گستاخانہ چاکنگ کی گئی مگر حکومت ٹس سے مس نہیں۔گستاخانہ کلچر کے خاتمہ کے لیے حکومت کوترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہو گااور گستاخانہ مائنڈ سیٹ کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا
ازقلم ✍️حضور کنزالعلماء مفکر اسلام ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب
حافظ آباد میں دارِ ارقم سکول کی طرف سے قرآن مجید کے متعدد نسخوں کا جلایا جانا،محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سب کچھ ارادی اور اعتقادی طور پرہوا۔ ملک میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جو قرآن جلانے کو توہین قرآن نہیں سمجھتا۔ اس سے پہلے انہیں لوگوں کی طرف سے گوجرانوالہ، لاہور دیگر کئی شہروں سے میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔دارِ ارقم کے پرنسپل سمیت تمام انتظامیہ کو گرفتار کر کے اس فتنے کے پیچھے موجود خفیہ ہاتھوں اور منفی نظریات کو بے نقاب کیا جائے۔ایسے واقعات امریکی پادری ٹیری جونز جیسے ملعونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو معاذاللہ قرآن برننگ ڈے(Quran burning day) مناتے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر ویسٹ میں گستاخیوں کانہ تھمنے والا سلسلہ جو جاری ہے اس کی روک تھام کے لیے پاکستان کا اپنی سرزمین کو گستاخانہ آلودگی سے پاک کرنا ناگزیر ہے۔ امر جلیل نے اللہ تعالی کی مبینہ گستاخیاں کیں، شہنشاہ نقوی نے اصحاب رسول ﷺ کی گستاخیاں کیں، عبدالرحمن سلفی نے آئمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی گستاخیاں کیں،کوہاٹ میں خلفاء راشدین کے گستاخانہ خاکے بنائے گئے، چکوال، حیدر آباد اور قصور میں اصحاب رسول ﷺ کے خلاف گستاخانہ چاکنگ کی گئی مگر حکومت ٹس سے مس نہیں۔گستاخانہ کلچر کے خاتمہ کے لیے حکومت کوترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہو گااور گستاخانہ مائنڈ سیٹ کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#ابّا_جان
غلام مصطفیٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
عرصہ ہوا ایک شعر سنا تھا؛
دنیا میں آئے ہو تو کچھ ایسا کر جاؤ مہربان
کہ ہر گلی کوچے سے آواز آئے ابّا جان ابّا جان
آج کئی سال بعد یوپی میں "ابّا جان" سرخیوں میں ہے۔ نیوز چینل سے لیکر ایوان اسمبلی تک 'ابا جان' ہی کا شور ہے۔
__پچھلے دنوں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے خود کو بی جے پی والوں سے بڑا ہندو قرار دیا۔اس بیان پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کے بہانے ملائم سنگھ کو اکھلیش کا ابّا جان کہہ کر اعتراض جتایا۔بس اسی بات پر اکھلیش بھیّا ہتھے سے اکھڑ گیے، مانو کسی راہ چلتے کو ان کا باپ کہہ دیا گیا ہو۔انہوں نے نہایت غصے میں جواب دیا کہ ہمارے "پِتا جی" کو کچھ کہا تو ہم بھی ان کے پِتا جی کو کچھ کہہ دیں گے۔اکھلیش کی ناراضگی سے بے پرواہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں ایک بار پھر یہی لفظ دہرایا،حسب امید سماج وادی لیڈران غصے میں آگیے اور احتجاج وہنگامہ شروع ہوگیا۔
__معاشرتی اعتبار سے لفظ ابا جان مسلم تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ہندو سماج میں باپ کو پِتا جی کہا جاتا ہے۔آدتیہ ناتھ نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ لفظ ابا جان کا استعمال کیا۔کیوں کہ یوگی کی منشا اس لفظ کے سہارے ہندو ووٹروں کو یہ میسج دینا تھا کہ اکھلیش ایک مسلم پرست لیڈر ہے اس لیے نہایت چابک دستی سے ملائم کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ابا جان استعمال کیا حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ خالص ہندی میں بات کرتے ہیں لیکن سیاسی مفاد سادھنے کے لیے خالص اردو لفظ استعمال کیا تاکہ ہندو ووٹوں کو پولرائز کیا جاسکے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا داؤں چل دیا اور اکھلیش یادو اس چال میں بری طرح پھنس گیے۔اب یہ طے ہوگیا کہ آنے والے وقت میں "ابا جان" سیاسی مدعا ضرور بنایا جائے گا۔بی جے پی جو چاہتی تھی وہ مسیج چلا گیا مگر مزے کی بات ہے کہ سماج وادیوں کو ابھی تک کچھ نہیں سوجھا ہے بس ایک سُر میں "ابّا جان" کی مخالفت کیے جا رہے ہیں۔اب وزیر اعلیٰ سمیت سارے بی جے پی لیڈر پوچھ رہے ہیں کہ ابا جان میں ایسا کیا ہے کہ اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟
___ اصل وجہ یہ ہے!
مسلمانوں کے تئیں یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کا ایجنڈا ایک دم صاف اور کھلا ہے لیکن اکھلیش اس لفظ سے اتنا کیوں چڑھ رہے ہیں؟
سیدھا جواب یہ ہے کہ اکھلیش مسلم حامی نہیں دکھنا چاہتے کہ کہیں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوجائے بس اسی سوچ کے تحت 'ابا جان' کی مخالفت کی جارہی ہے۔بی جے پی نے کمزور نس پکڑ لی ہے اب وہ سماج وادیوں پر سوار ہوکر پوچھ رہے ہیں کہ اکھلیش مسلم ووٹ تو چاہتے ہیں لیکن اردو لفظ سے چڑھ رہے ہیں،ابا جان اچھا لفظ ہے کوئی گالی تھوڑی ہے جو اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟ اس بات کا اکھلیش سمیت کسی سماج وادی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اکھلیش یا تو یوگی کے بیان کو نظر انداز کرتے یا یوگی حکومت کے خراب نظم و نسق پر بات کرتے لیکن اکھلیش میاں(معذرت...اکھلیش راجا) یوگی کی کمزور نس پکڑنے کی بجائے اپنی کمزوری دکھا بیٹھے اب ہر طرف ابا جان ابا جان کی صدائیں گونج رہی ہیں اور بی جے پی والوں کے تیور سے لگتا ہے کہ ابا جان الیکشن تک یوپی میں ڈیرا جمائے رہیں گے۔
اس ہنگامے سے ایک بار پھر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سیکولر لیڈر، شدت پسند ہندوؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ہر اس چیز سے بچتے ہیں جس سے مسلم حامی ہونے کا الزام آسکے۔انہیں مسلم ووٹ تو چاہیے مگر مسلم حامی کسی طور پر نہیں دکھنا چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سیکولروں کی عزت صرف مسلم ووٹروں کی بدولت ہی بچی ہوئی ہے ورنہ ہندو ووٹر انہیں کب کا دھتکار چکے ہیں۔
۸ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
18 اگست 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/972036940033491/
غلام مصطفیٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
عرصہ ہوا ایک شعر سنا تھا؛
دنیا میں آئے ہو تو کچھ ایسا کر جاؤ مہربان
کہ ہر گلی کوچے سے آواز آئے ابّا جان ابّا جان
آج کئی سال بعد یوپی میں "ابّا جان" سرخیوں میں ہے۔ نیوز چینل سے لیکر ایوان اسمبلی تک 'ابا جان' ہی کا شور ہے۔
__پچھلے دنوں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے خود کو بی جے پی والوں سے بڑا ہندو قرار دیا۔اس بیان پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کے بہانے ملائم سنگھ کو اکھلیش کا ابّا جان کہہ کر اعتراض جتایا۔بس اسی بات پر اکھلیش بھیّا ہتھے سے اکھڑ گیے، مانو کسی راہ چلتے کو ان کا باپ کہہ دیا گیا ہو۔انہوں نے نہایت غصے میں جواب دیا کہ ہمارے "پِتا جی" کو کچھ کہا تو ہم بھی ان کے پِتا جی کو کچھ کہہ دیں گے۔اکھلیش کی ناراضگی سے بے پرواہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں ایک بار پھر یہی لفظ دہرایا،حسب امید سماج وادی لیڈران غصے میں آگیے اور احتجاج وہنگامہ شروع ہوگیا۔
__معاشرتی اعتبار سے لفظ ابا جان مسلم تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ہندو سماج میں باپ کو پِتا جی کہا جاتا ہے۔آدتیہ ناتھ نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ لفظ ابا جان کا استعمال کیا۔کیوں کہ یوگی کی منشا اس لفظ کے سہارے ہندو ووٹروں کو یہ میسج دینا تھا کہ اکھلیش ایک مسلم پرست لیڈر ہے اس لیے نہایت چابک دستی سے ملائم کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ابا جان استعمال کیا حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ خالص ہندی میں بات کرتے ہیں لیکن سیاسی مفاد سادھنے کے لیے خالص اردو لفظ استعمال کیا تاکہ ہندو ووٹوں کو پولرائز کیا جاسکے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا داؤں چل دیا اور اکھلیش یادو اس چال میں بری طرح پھنس گیے۔اب یہ طے ہوگیا کہ آنے والے وقت میں "ابا جان" سیاسی مدعا ضرور بنایا جائے گا۔بی جے پی جو چاہتی تھی وہ مسیج چلا گیا مگر مزے کی بات ہے کہ سماج وادیوں کو ابھی تک کچھ نہیں سوجھا ہے بس ایک سُر میں "ابّا جان" کی مخالفت کیے جا رہے ہیں۔اب وزیر اعلیٰ سمیت سارے بی جے پی لیڈر پوچھ رہے ہیں کہ ابا جان میں ایسا کیا ہے کہ اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟
___ اصل وجہ یہ ہے!
مسلمانوں کے تئیں یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کا ایجنڈا ایک دم صاف اور کھلا ہے لیکن اکھلیش اس لفظ سے اتنا کیوں چڑھ رہے ہیں؟
سیدھا جواب یہ ہے کہ اکھلیش مسلم حامی نہیں دکھنا چاہتے کہ کہیں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوجائے بس اسی سوچ کے تحت 'ابا جان' کی مخالفت کی جارہی ہے۔بی جے پی نے کمزور نس پکڑ لی ہے اب وہ سماج وادیوں پر سوار ہوکر پوچھ رہے ہیں کہ اکھلیش مسلم ووٹ تو چاہتے ہیں لیکن اردو لفظ سے چڑھ رہے ہیں،ابا جان اچھا لفظ ہے کوئی گالی تھوڑی ہے جو اکھلیش اتنا برا مان رہے ہیں؟ اس بات کا اکھلیش سمیت کسی سماج وادی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اکھلیش یا تو یوگی کے بیان کو نظر انداز کرتے یا یوگی حکومت کے خراب نظم و نسق پر بات کرتے لیکن اکھلیش میاں(معذرت...اکھلیش راجا) یوگی کی کمزور نس پکڑنے کی بجائے اپنی کمزوری دکھا بیٹھے اب ہر طرف ابا جان ابا جان کی صدائیں گونج رہی ہیں اور بی جے پی والوں کے تیور سے لگتا ہے کہ ابا جان الیکشن تک یوپی میں ڈیرا جمائے رہیں گے۔
اس ہنگامے سے ایک بار پھر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سیکولر لیڈر، شدت پسند ہندوؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ہر اس چیز سے بچتے ہیں جس سے مسلم حامی ہونے کا الزام آسکے۔انہیں مسلم ووٹ تو چاہیے مگر مسلم حامی کسی طور پر نہیں دکھنا چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سیکولروں کی عزت صرف مسلم ووٹروں کی بدولت ہی بچی ہوئی ہے ورنہ ہندو ووٹر انہیں کب کا دھتکار چکے ہیں۔
۸ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
18 اگست 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/972036940033491/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#خطرے_میں_کون_ہے؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
بھارت میں تقریباً 42 لاکھ فوج ہے، جس میں سی آر پی ایف، ایس ایس ایف، پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس جیسے کئی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔جو باہری دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی ملکی امن وامان بنائے رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ہر صوبے میں پولس فورس بھی موجود رہتی ہے جو صوبائی سطح پر عوامی جان ومال کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے تعینات رہتی ہے۔پولیس فورس بھی تقریباً 17 لاکھ سے زائد ہے۔پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی اتنی بھاری نفری کی موجودگی میں کوئی بھی معاشرہ چین کی نیند سو سکتا ہے مگر حیرت کی بات ہے اتنی ساری پولیس/فورس کے باوجود ملک کا ایک طبقہ بہت زیادہ خطرے میں ہے۔خوف اس قدر ہے کہ پولیس/آرمی اور پیرا ملٹری فورس کے باوجود اس طبقے نے اپنی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر درجنوں فوجیں(सेनाएं)بنا رکھی ہیں۔
__ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ خوف زدہ طبقہ ملک کا اکثریتی سماج ہے۔جو کل آبادی کا اسّی فیصد اور تقریباً 82 کروڑ ہے۔(2011 مردم شماری کے مطابق) اور یہ ڈر بھی اس وقت ہے جب ملک کی باگ ڈور اُنہیں کے ہاتھوں میں ہے۔ملکی وسائل پر اسّی تا نوّے فیصد یہی سماج قابض ہے، اس کے باوجود کچھ "شَانتی پُرُشوں" کو لگتا ہے کہ ہندو بہت خطرے میں ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر انہوں نے مقامی، ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر چھوٹی بڑی درجنوں فوجیں(सेनाएं) بنا رکھی ہیں تاکہ وہ سینائیں ان کے جان ومال اور ان کی تہذیب کی حفاظت کرسکیں۔ان سیناؤں میں ہندو سینا، کرنی سینا، راجپوت کرنی سینا، ہندو رکشا دل، بجرنگ دَل ، ہندو یُوا واہنی، درگا واہنی، ہندو رکشا سمتی، پرشورام سینا، وشوا ہندو پریشد، شری رام سینا، اور دھرم رکشا سینا جیسی درجنوں سینائیں ہیں۔جو ہر گلی محلے نکڑ سے لیکر ملک کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر اتنی ساری سیناؤں کے بعد بھی خطرے کا گراف نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، جیسے جیسے سینائیں بڑھ رہی ہیں خطرہ بھی اُسی تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے، اگر خطرے کی رفتار یہی رہی ہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک آدمی کے ساتھ خود ساختہ سینا کی آدھی پونی ٹُکڑی لگانا پڑے گی تاکہ ہندو سماج بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔
_کیا واقعی خطرہ ہے؟
ہندو سماج کے ہر سنجیدہ مزاج انسان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے، کیا واقعی ہندو سماج خطرے میں ہے؟ جس سماج کی تعداد 82 کروڑ ہو، صدر مملکت، وزیر اعظم اور 20 سے زائد وزراے اعلی ہندو سماج سے ہوں۔ایڈمنسٹریشن میں کانسٹیبل سے لیکر آئی جی تک، قانونی اداروں میں وکیل سے لیکر جج تک، میونسپلٹی سے لیکر ودھان سبھا اور پارلیمنٹ تک جس سماج کی اسّی تا پچاسی فیصد نمائندگی ہو۔الیکشن کمیشن، بینکنگ، سکریٹریٹ تک جس کا دبدبہ ہو۔تعلیمی اداروں میں جن کا مکمل تسلط ہو۔کاروباری سطح پر جو سماج مکمل اجارہ داری رکھتا ہو آخر اس سماج کو کس سے ڈر لگتا ہے اور کیوں لگتا ہے؟
آٹھ سو سال تک مسلم بادشاہوں اور لگ بھگ دو سو سال تک انگریزی حکومت میں رہنے کے بعد جس سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہوا، اب اس سماج کو ڈر کیوں لگنے لگا ہے، جب کہ اب تو اِسی سماج کے افراد حاکم ہیں؟
حکومت واقتدار کی طاقت اور غالب ترین افرادی قوت کے بعد بھی اگر ڈر لگتا ہے تو بتایا جائے کہ ڈر نکالنے کے لیے اب کون سا نسخہ ڈھونڈا جائے؟ ملک کے تمام اسباب ووسائل آپ ہی کے قبضہ واختیار میں ہیں، لیکن پھر بھی خطرے کا شور ہے، تو شور مچانے والوں سے پوچھا جائے کہ خطرہ کہاں ہے اور کس سے ہے؟
خطرہ ہونا چاہیے تو عیسائی، سِکھ، جین، پارسی اور بودھ دھرم ماننے والوں کو ہونا چاہیے جن کی تعداد ایک تا ڈھائی فیصد ہے۔یا پھر مسلمانوں کو خطرہ ہونا چاہیے جو ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جو تجارت میں صفر اور سیاست میں دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں۔جو حکومتی اداروں میں نظر کے ٹیکے سے کمتر ہیں مگر حیرت بالائے حیرت ہے کہ اس ملک کی کسی اقلیت کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور اکثریت مسلسل خوف وہراس میں جی رہی ہے۔
خطرہ نہیں مفاد کا دھندا ہے!
صحیح بات یہ ہے کہ ملک میں کسی کو ہو تو ہو، مگر اکثریتی سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی لمبی چوڑی فائل پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے سماجی سطح پر یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ کون سا طبقہ خوش حال اور طاقت ور ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا دھندا 'خطرے' ہی سے چلتا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ اگر 'خطرہ' نہیں دکھایا گیا تو ہمارا کیا ہوگا؟ اس لیے وہ لوگ خطرے کا اتنا شور مچاتے ہیں اور اس قدر خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ اکثریتی سماج آنکھیں موند کر ان کی باتوں پر یقین کر لیتا ہے بعد میں 'خطرے سے نپٹنے' کے نام پر یہ لوگ سیاسی اور تجارتی طاقت حاصل کرکے منہ مانگی مراد حاصل کرتے ہیں، جو قابلیت کی بنیاد پر کبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔حالانکہ ہمارے ملک کا سماجی تانا بانا پوری طرح گھلا ملا ہے۔ایک دوسرے کے کاروبار/تجارتی تعلقات اور سماجی
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی
بھارت میں تقریباً 42 لاکھ فوج ہے، جس میں سی آر پی ایف، ایس ایس ایف، پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس جیسے کئی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔جو باہری دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی ملکی امن وامان بنائے رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ہر صوبے میں پولس فورس بھی موجود رہتی ہے جو صوبائی سطح پر عوامی جان ومال کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے تعینات رہتی ہے۔پولیس فورس بھی تقریباً 17 لاکھ سے زائد ہے۔پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی اتنی بھاری نفری کی موجودگی میں کوئی بھی معاشرہ چین کی نیند سو سکتا ہے مگر حیرت کی بات ہے اتنی ساری پولیس/فورس کے باوجود ملک کا ایک طبقہ بہت زیادہ خطرے میں ہے۔خوف اس قدر ہے کہ پولیس/آرمی اور پیرا ملٹری فورس کے باوجود اس طبقے نے اپنی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر درجنوں فوجیں(सेनाएं)بنا رکھی ہیں۔
__ مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ خوف زدہ طبقہ ملک کا اکثریتی سماج ہے۔جو کل آبادی کا اسّی فیصد اور تقریباً 82 کروڑ ہے۔(2011 مردم شماری کے مطابق) اور یہ ڈر بھی اس وقت ہے جب ملک کی باگ ڈور اُنہیں کے ہاتھوں میں ہے۔ملکی وسائل پر اسّی تا نوّے فیصد یہی سماج قابض ہے، اس کے باوجود کچھ "شَانتی پُرُشوں" کو لگتا ہے کہ ہندو بہت خطرے میں ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر انہوں نے مقامی، ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر چھوٹی بڑی درجنوں فوجیں(सेनाएं) بنا رکھی ہیں تاکہ وہ سینائیں ان کے جان ومال اور ان کی تہذیب کی حفاظت کرسکیں۔ان سیناؤں میں ہندو سینا، کرنی سینا، راجپوت کرنی سینا، ہندو رکشا دل، بجرنگ دَل ، ہندو یُوا واہنی، درگا واہنی، ہندو رکشا سمتی، پرشورام سینا، وشوا ہندو پریشد، شری رام سینا، اور دھرم رکشا سینا جیسی درجنوں سینائیں ہیں۔جو ہر گلی محلے نکڑ سے لیکر ملک کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر اتنی ساری سیناؤں کے بعد بھی خطرے کا گراف نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، جیسے جیسے سینائیں بڑھ رہی ہیں خطرہ بھی اُسی تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے، اگر خطرے کی رفتار یہی رہی ہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک آدمی کے ساتھ خود ساختہ سینا کی آدھی پونی ٹُکڑی لگانا پڑے گی تاکہ ہندو سماج بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔
_کیا واقعی خطرہ ہے؟
ہندو سماج کے ہر سنجیدہ مزاج انسان کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے، کیا واقعی ہندو سماج خطرے میں ہے؟ جس سماج کی تعداد 82 کروڑ ہو، صدر مملکت، وزیر اعظم اور 20 سے زائد وزراے اعلی ہندو سماج سے ہوں۔ایڈمنسٹریشن میں کانسٹیبل سے لیکر آئی جی تک، قانونی اداروں میں وکیل سے لیکر جج تک، میونسپلٹی سے لیکر ودھان سبھا اور پارلیمنٹ تک جس سماج کی اسّی تا پچاسی فیصد نمائندگی ہو۔الیکشن کمیشن، بینکنگ، سکریٹریٹ تک جس کا دبدبہ ہو۔تعلیمی اداروں میں جن کا مکمل تسلط ہو۔کاروباری سطح پر جو سماج مکمل اجارہ داری رکھتا ہو آخر اس سماج کو کس سے ڈر لگتا ہے اور کیوں لگتا ہے؟
آٹھ سو سال تک مسلم بادشاہوں اور لگ بھگ دو سو سال تک انگریزی حکومت میں رہنے کے بعد جس سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہوا، اب اس سماج کو ڈر کیوں لگنے لگا ہے، جب کہ اب تو اِسی سماج کے افراد حاکم ہیں؟
حکومت واقتدار کی طاقت اور غالب ترین افرادی قوت کے بعد بھی اگر ڈر لگتا ہے تو بتایا جائے کہ ڈر نکالنے کے لیے اب کون سا نسخہ ڈھونڈا جائے؟ ملک کے تمام اسباب ووسائل آپ ہی کے قبضہ واختیار میں ہیں، لیکن پھر بھی خطرے کا شور ہے، تو شور مچانے والوں سے پوچھا جائے کہ خطرہ کہاں ہے اور کس سے ہے؟
خطرہ ہونا چاہیے تو عیسائی، سِکھ، جین، پارسی اور بودھ دھرم ماننے والوں کو ہونا چاہیے جن کی تعداد ایک تا ڈھائی فیصد ہے۔یا پھر مسلمانوں کو خطرہ ہونا چاہیے جو ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جو تجارت میں صفر اور سیاست میں دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں۔جو حکومتی اداروں میں نظر کے ٹیکے سے کمتر ہیں مگر حیرت بالائے حیرت ہے کہ اس ملک کی کسی اقلیت کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور اکثریت مسلسل خوف وہراس میں جی رہی ہے۔
خطرہ نہیں مفاد کا دھندا ہے!
صحیح بات یہ ہے کہ ملک میں کسی کو ہو تو ہو، مگر اکثریتی سماج کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی لمبی چوڑی فائل پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے سماجی سطح پر یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ کون سا طبقہ خوش حال اور طاقت ور ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا دھندا 'خطرے' ہی سے چلتا ہے۔انہیں لگتا ہے کہ اگر 'خطرہ' نہیں دکھایا گیا تو ہمارا کیا ہوگا؟ اس لیے وہ لوگ خطرے کا اتنا شور مچاتے ہیں اور اس قدر خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ اکثریتی سماج آنکھیں موند کر ان کی باتوں پر یقین کر لیتا ہے بعد میں 'خطرے سے نپٹنے' کے نام پر یہ لوگ سیاسی اور تجارتی طاقت حاصل کرکے منہ مانگی مراد حاصل کرتے ہیں، جو قابلیت کی بنیاد پر کبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔حالانکہ ہمارے ملک کا سماجی تانا بانا پوری طرح گھلا ملا ہے۔ایک دوسرے کے کاروبار/تجارتی تعلقات اور سماجی
روابط ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔کوئی سماج چاہ کر بھی ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک الگ نہیں رہ سکتا مگر اکثریتی سماج 'خطرے کے سوداگروں' کے بہکاوے میں آکر ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتا ہے، اور دوسرے طبقات سے نفرت کرنے لگتا ہے۔سماجی اور کاروباری ضرورت کی بنا پر سب سے تعلقات نبھانا مجبوری ہوتی ہے مگر یہ تعلقات دل میں نفرت کے ساتھ نبھائے جاتے ہیں۔اس طرح ساتھ رہ کر بھی دلوں کی دوریاں اور نفرتیں ختم نہیں ہوتیں۔
اچھا ہوگا کہ اکثریتی سماج اپنی آنکھیں کھولے اور حقیقت کا احساس کرے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو اور نفرتوں کا خاتمہ ہو۔اس ملک میں خطرہ اکثریتی سماج کو نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارگی اور آپسی اتحاد کو ہے اور اس خطرے کو آرمی یا پولیس نہیں بلکہ سماج ہی ختم کر سکتا ہے۔
١١ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
22 اگست 2021 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/974108289826356/
اچھا ہوگا کہ اکثریتی سماج اپنی آنکھیں کھولے اور حقیقت کا احساس کرے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو اور نفرتوں کا خاتمہ ہو۔اس ملک میں خطرہ اکثریتی سماج کو نہیں بلکہ انسانیت، بھائی چارگی اور آپسی اتحاد کو ہے اور اس خطرے کو آرمی یا پولیس نہیں بلکہ سماج ہی ختم کر سکتا ہے۔
١١ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
22 اگست 2021 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/974108289826356/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#روشن_خیالی_کے_مریض
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔
19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/978659459371239/
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
'روشن خیالوں' کی بھی اپنی دنیا ہے۔ جو بات انہیں پسند آجائے اسے درست ٹھہرانے کے لیے ایسی ایسی 'تِکڑم' بھڑاتے ہیں کہ شیخ رشید بھی شرما جائے۔ ان کی فکر 'تنقید پروف' ہوتی ہے۔ اگر کسی نے جسارت کر ہی لی تو اسے شدت پسند اور تنگ نظر ڈکلئیر کر دیتے ہیں۔ ان کی خود کی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ انبیاے کرام کو مطلقاً خطاکار اور صحابہ کرام کو بزدل کہنے والے مودودی کو سر پر اٹھائے گھومتے ہیں، لیکن کوئی سنی عالم کسی مقدس ہستی کے لیے خطاے اجتہادی کا قول بھی کر لے تو ان کی سوئی ہوئی غیرت غلیظ ترین گالیوں پر منتج ہوتی ہے۔ آج کل یہ طبقہ یزید پلید کی کی ماں اور زوجۂ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (میسون بنت بحدل) کے کفر ونصرانیت کا فتوی لیے گھوم رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ وہی اعتدالی ٹولہ ہے جو ہر دوسرے گھنٹے علماے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً واجب سمجھتا ہے۔ مگر آپ یہ پوچھنے کی قطعاً جرأت نہ کریں کہ اگر آپ کو یزید پلید کی ماں کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات نہیں ملیں تو آپ کب سے داروغہ جہنم بن گئے جو ایک صحابی کی بیوی کے لیے کفر کا وارنٹ جاری کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے عدم علم اور زبردستی کے اشکالات کی بنا پر کفر واسلام کے فیصلے صادر ہوں گے؟
یہ وہ معتدل مُنّے ہیں جو غمِ حسین میں نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو بھی بے ادبی قرار دے دیتے ہیں، مگر اپنے ہی قرار فرمودہ "ایامِ غم" میں بے پردہ خواتین کے ساتھ اختلاط اور ساحل سمندر کی سیر سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو کتاب ان کے موافق نہ ہو انہیں یوپی اور کراچی کا بتا دیتے ہیں اور اپنے مطلب کے لیے تہرانی عزاداروں کا بوجھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زوجۂ امیر معاویہ کو کافرہ ثابت کرنے کا جنون اس قدر ہے کہ انہیں تاریخ دمشق، العباب الزاخر، اور تاج العروس، جیسی کتابیں نظر نہیں آئیں، جس میں انہیں نہ صرف مومنہ بلکہ تابعیہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا دعوی ہے کہ تاریخ اس معاملے میں گم ہے۔!!
ان کے پیرامیٹر کے مطابق جب تک انہیں کسی کے ایمان، نکاح وطلاق کی تاریخ اور اسباب وجوہات کا علم نہ ہو تو یہ لوگ ایمان کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ تاریخ دمشق، العباب الزاخر، البدایہ و النہایہ، اور تاج العروس، یوپی/کراچی نہیں عراق و دمشق اور مصر و لبنان کی کتابیں ہیں۔ یوپی وکراچی سے چِڑھنے والوں کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آج لکھنے پڑھنے کا جو شعور آیا ہے وہ یوپی وکراچی کی کتابوں اور یہیں کے اساتذہ وشیوخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میاں کس شمار وقطار میں ہوتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ تہران کا نہیں محمد عربی ﷺ کا اسلام ہے جہاں کسی کو کافر کہنے کے لیے وجہِ کفر کا آفتاب سے زیادہ ظاہر وباہر ہونا ضروری ہے محض اپنی پسند و ناپسند اور عقلی اکھاڑ پچھاڑ کی بنا پر مَن مرضی کے فتوے نہیں داغے جاسکتے۔ کسی بد بخت کی دشمنی میں اتنا بھی جنونی نہ ہوں کہ اس کے اہل خانہ کو بھی کفر کی بھینٹ چَڑھانے کے لیے کفر کی تلوار نکالے پھریں۔ 'دین آپ کے مزاج کا نام نہیں ہے' کہ جو پسند نہیں آیا اس کی گردن قلم کردیں۔
19 محرم الحرام 1443ھ
29 اگست 2021 بروز اتوار
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/978659459371239/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آؤ کہ اجرِ کارِ رسالت ادا کریں ؟؟!!!
تحریر : نثار مصباحی
فیس بک پر اپنے ایک کرم فرما کی ٹائم لائن پر اہلِ بیتِ اطہار کی شان میں ایک منقبت دیکھی. منقبت -ما شاء اللہ- اچھی تھی مگر اس کا ایک مصرع تھا:
"آؤ کہ اجرِ کارِ رسالت ادا کریں."
شاعر کا مدعا یہ ہے کہ محبتِ اہلِ بیتِ اَطہار دراصل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا "اجر" ہے. اور ان کی امت کو یہ اجر ادا کرنا چاہیے.
شاعر نے یہ مفہوم آیتِ مودّت سے نکالا ہے, مگر افسوس کہ انھوں نے آیت کی درست سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مفہوم کے استخراج میں لغزش کھائی ہے.
آیتِ کریمہ یہ ہے :
"قل لا أسئلكم عليه أجرا إلا المودة في القربىٰ"
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے محبوب !
آپ فرما دیجیے کہ تبلیغِ رسالت پر مَیں تم سے کچھ اجر نہیں طلب کرتا,
ہاں, قرابت کی محبت تم سے طلب کرتا ہوں.
یعنی یہاں دو الگ الگ باتیں ہیں:
1- پہلی چیز تبلیغِ رسالت پر "اجر" ہے. تبلیغِ رسالت پر تم سے کسی اجر اور بدلے کا مطالبہ نہیں.
2- دوسری چیز ہے "قُربیٰ کی محبت". تم سے اِسی قُربیٰ کی محبت کا مطالبہ ہے.
دوسری بات پہلی بات میں شامل نہیں ہے.
اسی بات کو اہل علم کی زبان میں سمجھا جائے تو "إلا المودة في القربى" میں لفظِ "الّا" سے "مودتِ قربی" کا جو استثنا کیا گیا ہے وہ استثناے منقطع ہے. (تفسیر الجلالین) یعنی ما سبق میں "لا أسئلكم علیہ اجرا" کے "اجر" میں یہ شامل ہی نہیں ہے. بلکہ یہ ایک الگ شی ہے جس کا مطالبہ یہاں مخاطَب بندوں سے کیا گیا ہے.
اور جب یہ "اجر" میں شامل ہی نہیں ہے تو یہاں اجرِ کارِ رسالت کے طور پر اس کا مطالبہ بھی نہیں ہو سکتا ہے.
امام فخر الدین رازی تفسیرِ کبیر میں لکھتے ہیں :
"المودة في القربى ليست أجرا"
یعنی قربیٰ کی محبت "اجر" نہیں ہے.
نیز امام رازی استثناے منقطع والی بات پر لکھتے ہیں :
هذا استثناء منقطع، و تم الكلام عند قوله قل لا أسئلكم عليه أجرا.
ثم قال إلا المودة في القربى أي لكن أذكركم قرابتي منكم، و كأنه في اللفظ أجر و ليس بأجر.
یعنی
یہ استثناے منقطع ہے اور "قل لا أسئلكم علیہ اجرا" پر کلام مکمل ہو گیا ہے.
پھر اس کے بعد "الا المودۃ فی القربیٰ" کہا ہے یعنی (کسی بھی اجر کا تم سے مطالبہ نہیں کرتا) البتہ مَیں تمھیں اپنی قرابت یاد دلاتا ہوں. گویا یہ (قرابت کی محبت) لفظ کے اعتبار سے "اجر" لگ رہی ہے جب کہ یہ اجر نہیں ہے."
(تفسیرِ کبیر, سورۃ الشوری, آیت 23)
امام رازی نے اسی مقام پر قرآنی آیات کی روشنی میں اسے کئی طریقے سے ثابت کیا ہے کہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تبلیغ اور کارِ رسالت کے اجر کا کسی مخلوق سے مطالبہ نہیں ہے. اور نہ ہی ہو سکتا ہے. یہ تو بس اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم پر ہے.
حق یہ ہے کہ اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کارِ رسالت کا اجر صرف اللہ رب العلمین دے گا. کسی مخلوق سے نہ ہی اس کا مطالبہ ہے اور نہ ہی کسی فردِ بشر کی استطاعت میں یہ ہے کہ وہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا کچھ اجر ادا کر سکے.
لہذا شاعر کا "مودَّتِ قربیٰ" (اہل قرابت کی محبت) کو "کارِ رسالت کا اجر" قرار دینا درست نہیں.
#نثارمصباحی
6 محرم 1440ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/979346392635879/
تحریر : نثار مصباحی
فیس بک پر اپنے ایک کرم فرما کی ٹائم لائن پر اہلِ بیتِ اطہار کی شان میں ایک منقبت دیکھی. منقبت -ما شاء اللہ- اچھی تھی مگر اس کا ایک مصرع تھا:
"آؤ کہ اجرِ کارِ رسالت ادا کریں."
شاعر کا مدعا یہ ہے کہ محبتِ اہلِ بیتِ اَطہار دراصل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا "اجر" ہے. اور ان کی امت کو یہ اجر ادا کرنا چاہیے.
شاعر نے یہ مفہوم آیتِ مودّت سے نکالا ہے, مگر افسوس کہ انھوں نے آیت کی درست سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مفہوم کے استخراج میں لغزش کھائی ہے.
آیتِ کریمہ یہ ہے :
"قل لا أسئلكم عليه أجرا إلا المودة في القربىٰ"
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے محبوب !
آپ فرما دیجیے کہ تبلیغِ رسالت پر مَیں تم سے کچھ اجر نہیں طلب کرتا,
ہاں, قرابت کی محبت تم سے طلب کرتا ہوں.
یعنی یہاں دو الگ الگ باتیں ہیں:
1- پہلی چیز تبلیغِ رسالت پر "اجر" ہے. تبلیغِ رسالت پر تم سے کسی اجر اور بدلے کا مطالبہ نہیں.
2- دوسری چیز ہے "قُربیٰ کی محبت". تم سے اِسی قُربیٰ کی محبت کا مطالبہ ہے.
دوسری بات پہلی بات میں شامل نہیں ہے.
اسی بات کو اہل علم کی زبان میں سمجھا جائے تو "إلا المودة في القربى" میں لفظِ "الّا" سے "مودتِ قربی" کا جو استثنا کیا گیا ہے وہ استثناے منقطع ہے. (تفسیر الجلالین) یعنی ما سبق میں "لا أسئلكم علیہ اجرا" کے "اجر" میں یہ شامل ہی نہیں ہے. بلکہ یہ ایک الگ شی ہے جس کا مطالبہ یہاں مخاطَب بندوں سے کیا گیا ہے.
اور جب یہ "اجر" میں شامل ہی نہیں ہے تو یہاں اجرِ کارِ رسالت کے طور پر اس کا مطالبہ بھی نہیں ہو سکتا ہے.
امام فخر الدین رازی تفسیرِ کبیر میں لکھتے ہیں :
"المودة في القربى ليست أجرا"
یعنی قربیٰ کی محبت "اجر" نہیں ہے.
نیز امام رازی استثناے منقطع والی بات پر لکھتے ہیں :
هذا استثناء منقطع، و تم الكلام عند قوله قل لا أسئلكم عليه أجرا.
ثم قال إلا المودة في القربى أي لكن أذكركم قرابتي منكم، و كأنه في اللفظ أجر و ليس بأجر.
یعنی
یہ استثناے منقطع ہے اور "قل لا أسئلكم علیہ اجرا" پر کلام مکمل ہو گیا ہے.
پھر اس کے بعد "الا المودۃ فی القربیٰ" کہا ہے یعنی (کسی بھی اجر کا تم سے مطالبہ نہیں کرتا) البتہ مَیں تمھیں اپنی قرابت یاد دلاتا ہوں. گویا یہ (قرابت کی محبت) لفظ کے اعتبار سے "اجر" لگ رہی ہے جب کہ یہ اجر نہیں ہے."
(تفسیرِ کبیر, سورۃ الشوری, آیت 23)
امام رازی نے اسی مقام پر قرآنی آیات کی روشنی میں اسے کئی طریقے سے ثابت کیا ہے کہ سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تبلیغ اور کارِ رسالت کے اجر کا کسی مخلوق سے مطالبہ نہیں ہے. اور نہ ہی ہو سکتا ہے. یہ تو بس اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم پر ہے.
حق یہ ہے کہ اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کارِ رسالت کا اجر صرف اللہ رب العلمین دے گا. کسی مخلوق سے نہ ہی اس کا مطالبہ ہے اور نہ ہی کسی فردِ بشر کی استطاعت میں یہ ہے کہ وہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارِ رسالت کا کچھ اجر ادا کر سکے.
لہذا شاعر کا "مودَّتِ قربیٰ" (اہل قرابت کی محبت) کو "کارِ رسالت کا اجر" قرار دینا درست نہیں.
#نثارمصباحی
6 محرم 1440ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/979346392635879/