🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضورﷺ جانتے ہیں (تحریر 1)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹حضورﷺ جانتے ہیں (تحریر 2)
محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

قراٰنِ پاک کی کئی  آیاتِ مبارَکہ میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علمِ غیب کا بیان موجود ہے چند آیات مُلاحَظہ فرمائیے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیجئے: (1)ہمارا پیارا رب ارشاد فرماتا ہے: ) وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)) ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

شانِ نُزُول

امام شہابُ الدّین احمد بن علی المعروف ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ  محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) امام بَغَوی (سالِ وفات:510ھ)،امام سراجُ الدّین عمر حنبلی (سالِ وفات:775ھ)، امام محمد بن احمد شِربِینی (سالِ وفات: 977ھ) اور امام علاءُ الدّین علی بن محمد خازن رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین (سالِ وفات: 741ھ)نے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مزید یوں بیان فرمایا ہے کہ:منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں: لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم  اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ   تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی۔(خازن،پ4، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ:179،1/328)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(2)ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان قراٰنِ پاک کے پارہ پانچ میں یوں ہے:)) وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیتِ مبارَکہ ہمارے پیارے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم مدح اور تعریف پر مشتمل ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ تمام عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے چنانچہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی  لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)

یاد رہے
’’ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ   ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پہلےنہ جانتے تھے۔ اسی آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر البحرالمحیط،ج 3،ص362  ، زاد المسیر فی علم التفسیر، جزثانی،ج 1،ص118، اور روح المعانی،ج3 ،ص 187 میں اس کی تصریح اور وضاحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:(اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)) ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27، الرحمٰن:1تا4)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)

امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔

(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)) ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(5) اللہ  پاک فرماتا ہے:(وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)) ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود


احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔

#Articles
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌴 رسولُ اللّٰهﷺ کے تجارتی سفر 🌴
عبدالرحمٰن عطاری مدنی

حلال کے لئے جدّو جہد کرنا اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا طریقہ رہا ہے،ان  پاکیزہ ہَستیوں میں سے کوئی کپڑے سینے کا کام کرتے تھے تو کوئی کھیتی باڑی کرکے  توکوئی  لکڑی کا کام کرکے رزقِ حلال طلب کیا کرتے۔ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰﷺ نے بھی کسبِ حلال کے لئے کوشش فرمائی،آپ نے اُجرت پر گلّہ بانی کی، تجارت بھی فرمائی اور اس کیلئے  ملکِ شام اور یمن وغیرہ کا سفر اختِیار فرمایا۔ آپ نے دورانِ تجارت لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا،وعدے کی پاسداری کی اور  صَبْر،حِلْم، عَفْو ودَرگُزر اور دیانتدادی کا مُظاہَرہ کیا۔ آپﷺ تجارتی اَسفار میں اپنے اَخلاقِ کریمانہ  حُسْنِ مُعَامَلہ اور صِدْق و دِیانت کی وجہ سے ”صادِق و اَمین  کے لقب سے  مشہور ہو چکے تھے ۔کفّارِ مکّہ اگرچہ  آپ کےبدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود آپ کی اَمانت و دِیانت پر ان کو اس قدر اِعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کوآپ کے پاس بطور امانت رکھواتے تھے۔ اَلْغَرَض ایک تاجر کے اندر جو  خُوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ بابرکات میں کامل طور پر موجود تھیں۔ تجارت کیلئے یمن کی طرف سفرسرکارِمدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاندانی پیشہ تجارت تھا اور چونکہ آپ بچپن میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کئی بار تجارتی سفر فرما چکے تھے جس سے آپ کو تجارتی لین دین کا کافی تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔ اس لئے ذریعۂ معاش کے لئے آپ نے تجارت کا  پیشہ اختِیار فرمایا اور تجارت کی غرض سے مختلف مقامات پر سفر کئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےجو تجارتی سفرحضرتِ خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کے لئے کئے، ان میں سے دو سفر یمن کی جانب بھی تھے، چنانچہ روایت میں ہے: حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے نبِیّ کریم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جُرَش (یمن میں ایک مقام) کی طرف دوبار تجارت کیلئے  بھیجا اور ان میں سے ہر سفر ایک اونٹنی کے عوض تھا۔(مستدرک ،ج 4،ص178، حدیث:4887) تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفرآپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کااعلانِ نبوت سے پہلے تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفر کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے،چنانچہ آپ  کی خدمت میں عرب کے دور دراز مقامات سے وفود (Delegations) حاضِر ہوتے تھے، ان ہی وفود میں بحرین سے وفدِ عبد ُالقَیس بھی آیا، آپ نے اہلِ وفد سے بحرین کے شہروں کے نام لے کروہاں کے احوال دریافت فرمائےتو انہوں نے تعجب سے پوچھا:یارسول اللہ! ہمارے  ماں باپ آپ پر قربان!آپ تو ہم سے بھی زیادہ ہمارے شہروں کے نام جانتے ہیں!آپ نے ارشاد فرمایا:میں تمہارے شہروں میں ٹھہرا ہوں اور میرے لئے ان شہروں میں کشادگی کردی گئی تھی۔ (مسند احمد،ج 5،ص296، حدیث: 15559 ملتقطا)  تجارت کی غلطیوں کی اصلاح میں رسولُ اللہ کا کردارجیسے ہمارے زمانے میں  تجارت کے شعبے میں مختلف بُرائیاں مثلا دھوکا دہی،عیب والی چیز بیچنا،ملاوٹ کرنا،غلے کی ذخیرہ اندوزی وغیرہ  پائی جاتی ہیں، زمانۂِ جاہلیت میں بھی یہ خرابیاں عام تھیں،ہمارے پیارےآقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کی خامیوں   کودرست کیا وہیں اس شعبے میں پائی  جانے والی  غلطیوں کی بھی اصلاح  فرمائی،چنانچہ اس کی 3 مثالیں ملاحظہ کیجئے: (1)دھوکا دہی کی مذمت میں ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں۔(مسلم،ص64،حدیث: 283) (2)عیب والی چیز بیچنے کے متعلّق ارشاد فرمایا:جس نے عیب والی چیز بیچی  اور اس کا عیب ظاہر نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ پاک کی  ناراضی  میں ہےاور ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ،ج3،ص59،حدیث2247) (3)غلّے کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں ارشاد فرمایا:جس نے مسلمان پر غلّہ روک دیا، اﷲ پاک اُسے جذام (کوڑھ) اور افلاس میں مبتلا فرمائے گا۔(شعب الایمان،ج7،ص526، حدیث 11218) خرید و فروخت میں نرمی کا مُظاہَرہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت ہی بُلند اخلاق،نرم خُو اور رحیم و کریم تھے ، زید بن سَعْنَہ  ایک یہودی عالم تھے،انہوں نے جب آپ کے ساتھ خرید و فروخت میں سَختی کا معاملہ کیا تو آپ نے حلم سے کام لیتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ فرمایا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ زید بن سَعْنَہ نےقبولِ اسلام سے پہلے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کھجوریں خریدی تھیں۔کھجوریں دینے کی مدّت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں آپ سے انتہائی سختی کے ساتھ کھجوروں کا تقاضا کیاجس کے باعث حضرتِ عُمَر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہان پر غضبناک ہوئے، اس پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے عُمَر!تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حقّ کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کرکے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر
آپ نے حکم دیا کہ اے عُمَر!اس کو اس کے حق کے برابر کھجوریں دے دو اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔ کھجوریں لینے کے بعد زید بن سَعْنَہ نے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو سختی کے ساتھ تقاضا کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے توریت میں نبیِّ آخرُ الزّمان کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں ان سب کو محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لیا مگر دو نشانیوں کے بارے میں امتحان باقی رہ گیا تھا۔ ایک یہ کہ ان کا حِلْم جَہْل پر غالب رہے گا  اور جس قدر زیادہ ان کے ساتھ جَہْل کا برتاؤ کیا جائے گا اسی قدر ان کا حِلْم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ میں نے اس ترکیب سے ان دونوں نشانیوں کو بھی ان میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ یقیناً یہ نبیِّ برحق ہیں اور اے عُمر! میں بہت ہی مالدار آدمی ہوں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا آدھا مال حُضورِ اکرم  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اُمّت پر صَدَقہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ بارگاہ ِرسالت میں آئے اور کلمہ پڑھ کر دامنِ اسلام میں آگئے۔ (سیرت ِمصطفےٰ، ص601، ملخصاً)طے شدہ مقدار سے  زیادہ کھجوریں دیں حضرت طارِق بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ہم  مدینۂ منوّرہ آئے تو اس  کی چار دیواری (Boundary) کے قریب ایک شخص کو دیکھا جس نے دو چادریں پہنی ہوئیں تھیں، اس نے ہمیں سلام کیا اور پوچھا:کہاں کا اِرادہ ہے؟ہم نے کہا:مدینہ کا،اس نے پوچھا:اس شہر میں کس کام سے آئے ہو؟ہم نے  کہا:یہاں کی کھجوریں لینے کے لئے، ہمارے ساتھ سُواری کا اُونٹ ہے اور نکیل ڈلا ہوا ایک سُرْخ  اُونٹ بھی ہے،اس نے کہا: یہ (سُرخ)اُونٹ فروخت کرنا ہے؟ ہم نے کہا:اتنی اتنی صاع کھجور کے بدلے میں  بیچیں گے۔اس شخص نے قیمت میں کوئی کمی نہیں کروائی  اور اُونٹ کی لگام  پکڑ  کرروانہ ہوگیا ،جب وہ نگاہوں سے اَوجھل ہوا  تو ہم کہنے لگے: یہ ہم نے کیا کیا؟ہم نے ایک ناواقف شخص کو  اُونٹ دے دیا اور اس  سے قیمت بھی وُصول نہیں کی۔ ہمارے ساتھ موجود ایک خاتون نے کہا:ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو،خدا کی قسم! ایسے چہرے والا شخص کبھی تمہیں دھوکا نہیں  دے گا، میں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا جو چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن تھا،تمہارے اس اُونٹ کی قیمت کی ضمانت میں دیتی ہوں،ابھی ہماری یہ گفتگو چل رہی تھی کہ اتنے میں ایک شخص آیا  اور اس نے کہا:مجھے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھیجا ہےاوریہ تمہارے لئے کھجوریں ہیں،اس میں سے پیٹ بھر  کےکھا لو اور تول کر پوری مِقْدار میں لے بھی لو۔(یعنی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے طے شدہ مِقْدار سے زیادہ کھجوریں عطا فرمائیں)۔ (الخصائص الکبریٰ،ج2،ص35)

اللہ پاک ہمیں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک سیرت  سے راہنمائی لے کر سچّائی ،دیانت داری اور ایفائے عہد جیسے سنہری اصولوں پر عمل کرتےہوئے اور لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے  تجارت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*"جُوا" ہمارے معاشرے کی ایک برائی ہے۔*

*(قسط نمبر 01)*

جو برائیاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اُن میں سے ایک "جُوا" بھی ہے، جس کے جال میں پھنس کر کئی لوگ برباد ہوچکے ہیں۔ 

عادی جُواریوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے مَحض تفریح کے لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگانے سے جوا کھیلنے کا آغاز کیا مگر رَفتہ رَفتہ اِس "ناسور" کے ایسے عادی ہوئے کہ اب جُوئے کی لت چھوڑنا اُن کے لئے دشوار ہو گیا۔

جوئے میں انسان بہت کچھ ہار جاتا ہے چنانچہ جواری مالی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، کچھ نہیں سُوجھتا تو سود پر قرض لیتے رہتے ہیں اور ایک لمبا ہاتھ مارنے کے چکر میں جوئے کی دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔

اپنا وقت جوئے کے اڈوں میں برباد کرتے ہیں اور وہاں پر پھیلنے والی مزید برائیوں نشہ، چوری چکاری وغیرہ میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

کئی جواری اپنی نوکری یا کاروبار سے بھی غافل ہو جاتے ہیں، انجام کار نوکری یا کاروبار ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، اُن کی گھریلو زندگی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔

عزت برباد ہوجاتی ہے، ٹینشن کے مارے یہ بیمار ہوجاتے ہیں، بعض اوقات جوا کھیلنے کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں گِرِفْتار بھی ہوجاتے ہیں، یوں اُن کو جوئے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، جب انہیں کچھ سُجھائی نہیں دیتا تو اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو جاتے ہیں کہ(مَعَاذَاللہ ﷻ) خودکشی جیسے حرام کام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

ہم اللہ ﷻ سے رحمت اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔


*جُوئے کی تعریف۔*

جُوئے کو عربی میں قِمار کہتے ہیں، حضرت میر سیّد شریف جُرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مَغْلُوب (یعنی ناکام ہونے والے) کی کوئی چیز غالِب (یعنی کامیاب ہونے والے) کو دی جائے گی یہ "قِمار" (یعنی جُوا) ہے۔
📖 التّعریفات، صفحہ نمبر 126

قراٰنِ پاک میں ہے:



*ترجمۂ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اِن دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور اِن کا گناہ اِن کے نفع سے بڑا ہے۔*

📖 سورۃ البقرہ، آیت 219

خزائن العرفان میں ہے: نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سُرور پیدا ہوتا ہے یا اِس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مُفْت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار! عقل کا زوال، غیرت و حَمِیَّت کا زوال، عبادات سے محرومی، لوگوں سے عَدَاوَتیں، سب کی نظر میں خوار ہونا، دولت و مال کی اِضاعت (یعنی بربادی)۔
📖 خزائن العرفان، صفحہ 73


*جوا شیطانی کام ہے۔*

سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 90 اور 91 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:


*ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو اِن سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟*

*جوئے کا شرعی حکم*

*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلِ سنّت، امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ*
فتاویٰ رضویہ جلد 21 صَفْحَہ 156 پر فرماتے ہیں: 

جُوا بھی بَنَصِِّ قَطْعِیِ قرآن حرام ہے۔

جبکہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم بھی حرام ہے چنانچہ فتاوٰی رضویہ جلد 19 صَفْحَہ 646 پر ہے:

سُود اور چوری اور غَصَب اور جُوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔


*جُوا کے بارے میں چار 4 فرامینِ مصطفٰے ﷺ:*

(1)جس نے نَرد شَیر (جُوا کھیلنے کے سامان) سے جُوا کھیلا تو گویا اُس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبویا۔
📖 ابنِ ماجہ، 4 / 23۱، حدیث: 3763


2۔ جو کوئی نَرد کھیلے اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی۔
📖 مسندِ بزار، 8 / 77، حدیث نمبر: 3075

3۔ جو شخص نَرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سؤر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔
📖 مسند امام احمد، 09 / 50، حدیث نمبر: 33199

4۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ! جُوا کھیلیں، تو اُس (کہنے والے) کو چاہئے کہ صدقہ کرے۔
📖 مسلم، ص894، حدیث: 1647

یعنی جُوا کھیلنا تو درکنار اگر کسی کو جُوا کھیلنے کی دعوت بھی دے تو وہ جوئے کا مال جس سے جوا کھیلنا چاہتا ہے وہ یا دوسرا مال صدقہ کردے تاکہ اس اِرادے کا یہ کفارہ ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ارادہ بھی گناہ ہے، یہ ہی مذہبِ جُمْہور ہے۔
📖 مراٰۃُ المناجیح، 05 / 195۔


*آپ کی معلومات کے لئے۔*

`فارس کے بادشاہوں میں ایک بادشاہ آردشیر ابن تابک گزرا ہے اُس نے یہ جوا ایجاد کیا۔
📖 مراٰۃ المناجیح، 6 / 203
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*"جوا" ہمارے معاشرے کی ایک برائی۔*

*آخری اور دوسری قسط۔*

*جوئے کی 6 صورتیں:*

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دنیا میں جوئے کے نِت نئے طریقے رائج ہیں، اُن میں سے 6 یہ ہیں:


*1۔ لاٹری۔*

اس طریقۂ کار میں لاکھوں کروڑوں روپے کے انعامات کا لالچ دے کر لاکھوں ٹکٹ معمولی رَقم کے بدلے فروخت کئے جاتے ہیں پھر قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے کامیاب ہونے والوں میں چند لاکھ یا چند کروڑ روپے تقسیم کردئیے جاتے ہیں جبکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے، یہ بھی جُوئے ہی کی ایک صورت ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔


*2۔ پرائز بانڈ کی پرچی۔*

حکومتِ پاکستان 200، 750، 1500، 7500، 15000 روپے کی قیمت کے انعامی بانڈز بینک کے ذَرِیعے جاری کرتی ہے اور جَدوَل کے مطابِق ہر ماہ قُرعہ اندازی کے ذَرِیعے کروڑوں روپے کے اِنعامات خریداروں میں تقسیم کرتی ہے، جس کا انعام نہیں نکلتا اُس کی بھی رَقم محفوظ رہتی ہے وہ اسے جب چاہے کیش کروا سکتا ہے۔ یہ جَواز (یعنی جائز ہونے) کی صورت ہے اور جُوئے میں داخِل نہیں۔ 

لیکن اِس کے مُتَوازی بعض لوگ انعامی بانڈز کی پرچیاں بیچتے ہیں، اُن پرچیوں کی خریدو فروخت، غیر قانونی اور ناجائز و حرام ہے کیونکہ بیچنے والا حکومت کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈز اپنے ہی پاس رکھتا ہے (بلکہ بعض اوقات تو پرائز بانڈز بھی بیچنے والے کے پاس نہیں ہوتے) پرچی بیچنے والا خریدار کو قلیل رَقم کے بدلے پرچی پر محض ایک نمبر لکھ کر دے دیتا ہے کہ اگر اس نمبر پر انعام نکل آیا تو میں تمہیں اتنی رَقم دوں گا۔ انعامی پرچی کا یہ کام بھی جُوا ہے کیونکہ اس میں اِنْعام نہ نکلنے کی صورت میں خریدار کی رَقم ڈوب جاتی ہے۔


*3۔ موبائل میسجز اور جُوا۔*

موبائل پر مختلف سُوالات پر مبنی میسجز بھیجے جاتے ہیں مَثَلاً کونسی ٹیم میچ جیتے گی؟ یا پاکستان کس دن بنا تھا؟ جس میں دُرُست جوابات دینے والوں کیلئے مختلف اِنعامات رکھے جاتے ہیں، شرکت کرنے والے کے "موبائل بیلنس" سے قلیل رقم مَثَلاً دس روپے کَٹ جاتی ہے، جن کا انعام نہیں نکلتا ان کی رَقم ضائع ہو جاتی ہے، یہ بھی جُوا ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔


*4۔ مُعَمَّہ۔*

اس میں ایک یا ایک سے زیادہ سُوالات حل کرنے کے لئے دئیے جاتے ہیں جس کا حل منتظمین کی مرضی کے مطابِق نکل آئے اُسے انعام دیا جاتا ہے، انعامات کی تعداد تین یا چار یا اس سے زائد بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا دُرُست حَل زیادہ تعداد میں نکلیں تو قُرعَہ اندازی کے ذَرِیعے  فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کھیل میں بَہُت سارے افراد شریک ہوتے ہیں، ان کی شرکت دو طرح سے ہوتی ہے: 

(1) مفت (2) معمولی فیس دے کر،

اگر شُرَکَا سے کسی قسم کی فیس نہ لی جائے تو اور کوئی مانِع شَرعی نہ ہونے کی صورت میں اس انعام کا لینا جائز ہے۔ جس میں شُرَکَا سے فیس لی جاتی ہے اُس میں اِنعام ملے یا نہ ملے رقم ڈوب جاتی ہے، یہ صورت جُوئے کی ہے جو کہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔


*5۔ پیسے جمع کرکے قرعہ اندازی کرنا۔*

بعض افراد یا دوست آپس میں تھوڑی تھوڑی رَقم جمع کر کے قُرعَہ اندازی کرتے ہیں کہ جس کا نام نکلا ساری رقم اس کو ملے گی، یہ بھی جُوا ہے کیونکہ بَقِیَّہ افراد کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ اِسی طرح بعض اوقات پیسے جمع کر کے کوئی کتاب یا دوسری چیز خریدی جاتی ہے کہ جس کا نام قُرعَہ اندازی میں نکل آیا اسے یہ کتاب دے دی جائے گی یہ بھی جُوا ہی ہے۔ یاد رہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مَصْنُوعات خریدنے والوں کو قُرعہ اندازی کر کے اِنعامات دیتی ہیں یہ جائز ہے کیوں کہ اس میں کسی کی بھی رَقم نہیں ڈوبتی۔


*6۔ مختلف کھیلوں میں شرط لگانا*

ہمارے یہاں مختلف کھیل مَثَلاً گُھڑ دَوڑ، کرکٹ، کَیرم، بِلیرڈ، تاش، شطرنج وغیرہ دو طرفہ شرط لگا کر کھیلے جاتے ہیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم یا فُلاں چیز دے گا یہ بھی جوا ہے اور ناجائز وحرام۔ 

کیرم اور بِلیرڈ کلب وغیرہ میں کھیلتے وَقت عُمُوماً یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ کلب کے مالک کی فیس ہارنے والا ادا کریگا، یہ بھی جُوا ہے۔ بعض نادان گھروں میں مختلف کھیلوں مَثَلاً تاش یا لڈو پر دو طرفہ شرط لگا کر کھیلتے ہیں اور کم علمی کے باعِث اِس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے وہ بھی سنبھل جائیں کہ یہ بھی جُوا ہے اور جُوا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔


*📖 رسالہ: جُوئے میں جیتا ہوا مال۔*

*جُواریوں کی صُحبت کا بھیانک انجام۔*

`پنجاب (پاکستان) کے ایک محلے میں عجیب وغریب بدبو محسوس ہونے لگی، عَلاقے والوں کی خوب جُستجو کے بعد کہیں جا کر بدبو کا سُراغ ملا، وہ بدبو ایک بند گھر سے آرہی تھی۔
چُنانچِہ پولیس کو اطِّلاع دی گئی۔ جب پولیس والے لوگوں کی موجودگی میں تالا توڑ کر گھر کے اندر داخِل ہوئے تو یہ دیکھ کر سب کے رُونگٹے کھڑے ہوگئے کہ وہاں چارپائی پر ایک جوان آدمی کی لاش پڑی تھی اور اُس کے بعض حصے گل سڑ چکے تھے اور اُن میں کیڑے رِینگ رہے تھے۔

یہ منظر دیکھ کر بچّوں سمیت کئی افراد بے ہوش ہوگئے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرنے کے لئے اِس عَلاقے میں آیا تھا، کرائے کے مکان میں رِہائش پذیر تھا اور بعض جُواریوں سے اس کی دوستی تھی۔

ایک دن یہ نوجوان اپنے دوستوں سے جُوا میں بَہُت ساری رقم جیت گیا، ہارے ہوئے جواری دوستوں نے ہاری ہوئی رقم لُوٹنے کے لئے اس کے گلے میں پھندا کَسا اور بجلی کے کرنٹ لگا لگا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا، پھر اسے بے گورو کفن چھوڑ کر تالا لگا کر فِرار ہوگئے۔

*📖 نیکی کی دعوت، حصہ اول، ص290*

*جوئے سے توبہ کا طریقہ*


جُوا کھیلنے والا اگر نادم ہوا تو اُس کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی عزوجل میں سچّی توبہ کرے مگر جو کچھ مال جیتا ہے وہ بدستور حرام ہی رہے گا اس ضِمْن میں راہنمائی کرتے ہوئے
 *اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہل سنّت، امام اَحمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن* 
فرماتے ہیں:

جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے اور اس سے بَراءت (یعنی نَجات) کی یِہی صورت ہے کہ جِس جِس سے جتنا جتنا مال جِیتا ہے اُسے واپَس دے، یا جیسے بنے اُسے راضی کر کے مُعاف کرالے۔

وہ نہ ہو تو اُس کے وارِثوں کو واپَس دے، یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضا مندی سے مُعاف کرالے۔ باقیوں کا حصّہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتا کسی طرح نہ چلے، نہ اُن کا، نہ اُن کے وَرَثہ کا، اُن سے جس قَدَر جیتا تھا اُن کی نیّت سے خیرات کر دے، اگرچِہ (خود) اپنے (ہی) محتاج بہن بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے۔

آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: غَرَض جہاں جہاں جس قَدَر یاد ہو سکے کہ اِتنا مال فُلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑا تھا، اُتنا تو انہیں یا اُن کے وارِثوں کو دے، یہ نہ ہوں تو اُن کی نیّت سے تصدُّق (یعنی صدقہ) کرے، اور زیادہ پڑنے کے یہ معنیٰ کہ مَثَلًا ایک شخص سے دس بار جُوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اُس (یعنی سامنے والے جواری) کے جیتنے کی (رقم کی) مقدار مَثَلًا سو روپے کو پہنچی، اور یہ (خود) سب دَفعَہ کے مِلا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہو گئے، پچیس اُس (یعنی سامنے والے جواری)کے دینے رہے۔ اِتنے ہی اسے واپس دے۔ وَعَلٰی ھٰذَا القِیاس (یعنی اور اسی پر قیاس کر لیجئے) اور جہاں یاد نہ آئے کہ (جُوا کھیلنے والے) کون کون لوگ تھے اور کتنا (مال جُوئے میں جیت) لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ (مِقدار کا) تخمینہ (یعنی اندازہ) لگائے کہ اِس تمام مدّت میں کس قَدَر مال جوئے سے کمایا ہوگا اُتنا مالِکوں (یعنی اُن نامعلوم جواریوں) کی نیّت سے خیرات کردے، عاقِبت یونہی پاک ہوگی۔ وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَم۔`

*📖 فتاوٰی رضویہ، ج19، ص651*

*اے جُواری تُو جوئے سے باز آ*

*ورنہ پھنس جائے گا جس دن تُو مرا*

*ہو گیا تجھ سے خدا ناراض اگر*

*قبر سن لے آگ سے جائیگی بھر*

*📖 وسائلِ بخشش مرمم، ص 713*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مخلوقِ خدا کے خیرا خواہ
Makhlooq E Khuda K Khair Kha

https://telegram.me/SirfUrduTahrir/

اللہ پاک کے آخِری نبی، محمدِ عَرَبی ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے دنیا میں ظُلْم و سِتَم اور ناانصافی عام تھی۔ جانور تو کیا انسان بھی اپنے کثیر حقوق سے محروم تھے۔ غلام، یتیم، عورتیں اور نَومَولُود بیٹیاں ظالموں کے ظلم کا تختۂ مشق تھیں۔ رحمتِ دوجہاںﷺ نے تشریف لاکر دنیا کو حقیقی انسانیّت کا دَرْس دیا، یتیموں، غلاموں، عورتوں، بچّوں، جانوروں الغرض جمیع مخلوقات کی اصل خیرخواہی فرمائی۔ آپﷺ کی روشن تعلیمات نے ظلم و ستم کو ختم کیا اور امن و سکون سے مُعاشرے کو سَرسَبز و شاداب اور پُررونق بنا دیا۔ آئیے! آپﷺ  کی مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی کے چند پہلوؤں کا تذکرہ پڑھ کر دِلوں کی تسکین کا سامان کرتے ہیں: (1)میدانِ جنگ میں بھی انسانیت کی تعلیم نبیِّ رحمت، خیرخواہِ انسانیتﷺ کے بیان کردہ  قوانین صرف مسلمانوں کےلئے  ہی خاص نہیں بلکہ آپ نے غیرمسلموں  کی جان و مال اور عزّت و آبرو کے تحفظ کیلئے  بھی جو حقوق بیان فرمائے ہیں ان کی نظیر کائنات میں کہیں نہیں ملتی۔ غیرمسلم جب جنگ لڑتے تو ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھتے، لیکن رسولِ کریمﷺ نے جنگ میں بوڑھوں، عورتوں، بچّوں، غیرمسُلَّح افراد اور جانوروں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ درخت اور فصلیں خراب کرنے سے منع فرمایا نیز بچّوں، بوڑھوں اور عورتوں کے تحفّظ کی خاطر رات کے وقت حملہ کرنے سے منع کیا۔(2)یتیموں کے حق میں خیرخواہی قبلِ اسلام یتیموں کے حقوق دبانا اور ان پر ظُلم ڈھانا بھی عام تھا، یہ رسولِ کریمﷺ ہی کی ہستی ہے جس نے یتیموں کے حق ادا کرنے، کَفالت کرنےاور ان کی وراثت ان کے سمجھدار ہونے پر انہیں سونپنے کا حکم دیا۔ ہمارے پیارے آقاﷺ نے تو ان یتیموں کو بھی سینے سے لگانے اور ان کے سَروں پر دستِ شفقت پھیرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ  جنہیں ہمارے معاشرے میں بیگانے تو کیا اپنے بھی منہ لگانے کو تیار نہیں ہوتے چنانچہ ارشاد فرمایا: جس نے رِضائے الٰہی کیلئے یتیم کے سَر پر ہاتھ رکھا تواس کیلئے ہر بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرا نیکیاں ہیں۔(مسندِ احمد،ج8،ص300،حدیث:22347) (3)عورتوں کے حق میں خیرخواہی نبیِّ کریمﷺ کی آمد سے پہلے یہ صِنْفِ نازک زمانۂ جاہلیت کی وحشیانہ رُسومات کا شکار تھی آپ نے شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے اِسے ظلم و جبر کے بھنور سے نکال کر عزّت کا تاج پہنایا  اور اپنے قول و عمل سے بیٹی ہو یا بہن، بیوی ہو یا ماں ہر ایک کے حقوق بیان فرماکر انہیں  مُعاشرے میں اہم مقام عطا فرمایا۔ آپﷺ نے اپنی بیٹیوں اور اَزواج ِ مُطہّرات سے شفقت و محبت کا برتاؤ کیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خَیْرُکُـمْ خَیْرُکُـمْ لِنِسَائِہٖ وَلِبَنَاتِہٖ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں اور بیٹیوں کے ساتھ اچھا ہو۔(شعب الایمان،ج 6،ص415، حدیث:8720) نیز والدین کو شفقت بھری نظر سے باربار  دیکھنے پر مقبول حج کی بشارت اور بہن کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے پر جنّت میں اپنی رَفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔(شعب الایمان،ج 6،ص186،حدیث: 7856، مسنداحمد،ج 4،ص313، حدیث: 12594) (4)بوڑھوں کے حق میں خیر خواہی رسولِ کریمﷺ کی تعلیمات کا یہ طُرّۂ امتِیاز ہے کہ آپﷺ  عمر رسیدہ افراد کو بوجھ سمجھ کر ”اولڈ ہاؤس“ (Old House) میں پہنچانے کے بجائے ان کی قدر و منزلت بتاتے ہوئے انہیں قابلِ عزّت اور ان کی معیت کو باعثِ بَرَکت قرار دیا ہے جیساکہ فرمانِ مصطفےٰﷺ ہے: برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے اور جو ہمارے چھوٹوں پر رَحْم نہ کرے  اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔

(معجمِ کبیر،ج8،ص227،حدیث:7895) 

(5)جانوروں کے حق میں خیر خواہی اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت جانور بھی ہیں۔ ان کے گوشت دودھ اور بالوں وغیرہ سے کثیر فوائد کے ساتھ ساتھ یہ مال برداری اور سواری کے کام آتے ہیں جبکہ ان کی خرید و فروخت کسبِ حلال کا ذریعہ بھی ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے انہیں بھوکا پیاسا رکھنے، طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے اور کسی بھی طرح سے انہیں اذیّت دینے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ جانور کے منہ پر مارنے، بھوکا پیاسا ذَبْح کرنے سے بھی ممانعت فرمائی، بلکہ ذَبْح کے وقت بھی تیزدھار چُھری استعمال کرنے کا حکم فرمایا تاکہ اسے کم سے کم تکلیف ہو۔

جو کچھ بیان ہوا یہ حضور نبیِّ رحمتﷺ کی تعلیمات کا مختصر حصّہ ہے، بہرحال رسولِ اکرمﷺ نے انسان کو اس کا اصل مقام دلوایا مگر صَد افسوس کہ بعض نادان اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر انسانیت کے نام پر حیوانیت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنﷺ

شعبہ فیضان اولیا وعلماالمدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی                                        

#Articles
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ســـــود سے بھی بڑا گناہ ڪون سا ہے؟*

*ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ ﷺ*
نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑا گناه کون سا ہے؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: اللہ پاک اور اُس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔

فرمایا: بے شک اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑھ کر گناہ ہے مسلمان کی عزت کو حلال سمجھنا۔

پھر رسولِ اکرم، نورِ مجسم ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:


*ترجمہ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، اُنہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔*
*📖 پارہ 22، الاحزاب، آیت 58*

*📖 شعب الایمان، 5 / 298، حدیث: 6711*

اے عاشقانِ رسول! یقیناً مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالنا سود جیسے گناہِ بد سے کبھی بدترین ہے۔

*مسلمان کی عزت پر ہاتھ ڈالتا سود سے بڑا گناہ ہے۔*

اِس ضمن میں مزید تین فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمایئے:

1: آدمی کو ملنے والا سود کا ایک درہم اللہ کریم کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 لابن ابی الدنیا، ص 80، حدیث: 36

2: سود بہتر (72) گناہوں کا مجموعہ ہے اور اُن میں سے ادنٰی ترین اپنی ماں سے زنا کرنے کی طرح ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔
📖 معجم اوسط، 5 / 227، حديث: 7151

3: بدترین سود مسلمان کی آبرو میں ناحق دست درازی ہے۔
📖 ابو داؤد، 4 / 353، حدیث: 4876

حدیث پاک نمبر 3 کے تحت
*مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:*
مسلمان کی آبرو چونکہ مال سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے، اِس لئے مسلمان کی آبروریزی، اُسے ذلیل کرنا بدترین سود قرار دیا گیا۔
*📖 مراۃ المناجیح، ج 06، ص 618*

*مسلمان کی عزت کی حفاظت کا ثواب۔*

اے عاشقانِ رسول! آپ کے سامنے جب بھی کوئی آدمی کسی اسلامی بھائی کی خطا یا اُس کے عیب کا تذکرہ اُس کی موجودگی میں یا پسِ پشت (یعنی پیٹھ پیچھے) شروع کرے تو سننے میں اگر کوئی مصلحتِ شرعی نہ ہو تو فوراً احترام مسلم کا لحاظ کرتے ہوئے ثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے اپنے اسلامی بھائی کی عزت کی حفاظت کیجئے۔

*سرکارِ دو جہاں، شہنشاہِ کون و مکاں ﷺ کا فرمانِ عافیت نشان ہے:*

جو اپنے (مسلمان) بھائی کی پیٹھ پیچھے اُس کی عزت کا تحفظ کرے تو الله پاک کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اُسے جہنم سے آزاد کر دے۔
*📖 مسند امام احمد، 10 / 445، حدیث نمبر: 27680*

*حضرت سیّدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم، رؤف رحيم ﷺ نے ارشاد فرمایا:*

جس نے دنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی، اللہ پاک قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اُس کی حفاظت فرمائے گا۔

*لابن ابی الدنیا، ص 131، حدیث: 105*

غیبت سے روکنے کے بارے میں حدیث پاک ہے کہ
*حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:*

جس کے سامنے اُس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اُس کی مدد پر قادر ہو اور مدد کرے، الله پاک دنیا اور آخرت میں اُس کی مدد کرے گا اور اگر باوجود قدرت اُس کی مدد نہیں کی تو اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اُسے پکڑے گا۔
*📖 مصنف عبدالرزاق، حدیث: 20426، جلد 10، صفحہ 188*

جس طرح زندہ لوگوں کی غیبت کرنا سخت ہے ایسے ہی مسلمان مرحومین کی غیبت کرنا بھی سخت گناہ ہے۔

*حضور نبی اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*

اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور اُن کی برائیوں سے باز رہو۔
*📖 ترمذی، 2 / 312، حدیث: 1021*

*حضرت علامہ محمد عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:*

مردے کی غیبت زندے کی غیبت سے بدتر ہے کیوں کہ زندہ شخص سے معاف کروانا ممکن ہے جبکہ مردہ سے معاف کروانا ممکن نہیں۔
📖 فیض القدیر، ج 01، تحت الحدیث: 852

📖 رسالہ: جوئے میں جیتا ہوا مال
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🚨قرآن پاک جلانے والوں نے پورے ملک کی سلامتی خطرے میں ڈال دی🚨

ازقلم ✍️حضور کنزالعلماء مفکر اسلام ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب

حافظ آباد میں دارِ ارقم سکول کی طرف سے قرآن مجید کے متعدد نسخوں کا جلایا جانا،محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سب کچھ ارادی اور اعتقادی طور پرہوا۔ ملک میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ ہے جو قرآن جلانے کو توہین قرآن نہیں سمجھتا۔ اس سے پہلے انہیں لوگوں کی طرف سے گوجرانوالہ، لاہور دیگر کئی شہروں سے میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔دارِ ارقم کے پرنسپل سمیت تمام انتظامیہ کو گرفتار کر کے اس فتنے کے پیچھے موجود خفیہ ہاتھوں اور منفی نظریات کو بے نقاب کیا جائے۔ایسے واقعات امریکی پادری ٹیری جونز جیسے ملعونوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو معاذاللہ قرآن برننگ ڈے(Quran burning day) مناتے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر ویسٹ میں گستاخیوں کانہ تھمنے والا سلسلہ جو جاری ہے اس کی روک تھام کے لیے پاکستان کا اپنی سرزمین کو گستاخانہ آلودگی سے پاک کرنا ناگزیر ہے۔ امر جلیل نے اللہ تعالی کی مبینہ گستاخیاں کیں، شہنشاہ نقوی نے اصحاب رسول ﷺ کی گستاخیاں کیں، عبدالرحمن سلفی نے آئمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم کی گستاخیاں کیں،کوہاٹ میں خلفاء راشدین کے گستاخانہ خاکے بنائے گئے، چکوال، حیدر آباد اور قصور میں اصحاب رسول ﷺ کے خلاف گستاخانہ چاکنگ کی گئی مگر حکومت ٹس سے مس نہیں۔گستاخانہ کلچر کے خاتمہ کے لیے حکومت کوترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہو گااور گستاخانہ مائنڈ سیٹ کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا‌‌