Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 5)
✍حافظ افنان عطاری بن منصور عطاری
سنت کے لغوی معنی سيرت اور رطريقے کے ہیں ، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا البتہ اہل علم کے اغراض و مقاصد کے اختلاف کے باعث ان کے ہاں سنت کا مفہوم بھی مختلف ہے، مثلا علما اصول شرعی دلائل کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، جب کہ علما حدیث کا مطلوب و مقصود ہر اس چیز سے شغف ہے جو امام کائنات سے نسبت رکھتی ہو، اور علما ئے فقہ کا منتہائے مقصود احکام شرعیہ فرض، مستحب، اور حرام وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہوتا ہے، اہل علم کے انہیں مختلف اغراض و مقاصد کے باعث ان کے ہاں سنت کا اصطلاحی مفہوم بھی مختلف ہے، علماءِ اصول کے ہاں سنت کا اطلاق ہر اس قول، فعل یا تقریر پر کیا جاتا ہے جو آنحضرت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے منقول ہو۔
اکثر علما شافعیہ اور جمہور علما اصول فقہی مفہوم کی نسبت سے مندوب، مستحب اور نفل وغیرہ پر سنت کا اطلاق کرتے اور کہتے ہیں کہ سنت سے مراد وہ فعل ہے جس کے کرنے پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا، علماءِ حدیث کے حالات و واقعات پر بھی ہوتا ہے اوراس معنی و مفہوم کے اعتبار سے سنت کا لفظ حدیث شریف کے مترادف ہے اور اس وقت ہمارےپیش نظر بھی سنت کا یہی معنی و مفہوم ہے۔
نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
✍حافظ افنان عطاری بن منصور عطاری
سنت کے لغوی معنی سيرت اور رطريقے کے ہیں ، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا البتہ اہل علم کے اغراض و مقاصد کے اختلاف کے باعث ان کے ہاں سنت کا مفہوم بھی مختلف ہے، مثلا علما اصول شرعی دلائل کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، جب کہ علما حدیث کا مطلوب و مقصود ہر اس چیز سے شغف ہے جو امام کائنات سے نسبت رکھتی ہو، اور علما ئے فقہ کا منتہائے مقصود احکام شرعیہ فرض، مستحب، اور حرام وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہوتا ہے، اہل علم کے انہیں مختلف اغراض و مقاصد کے باعث ان کے ہاں سنت کا اصطلاحی مفہوم بھی مختلف ہے، علماءِ اصول کے ہاں سنت کا اطلاق ہر اس قول، فعل یا تقریر پر کیا جاتا ہے جو آنحضرت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے منقول ہو۔
اکثر علما شافعیہ اور جمہور علما اصول فقہی مفہوم کی نسبت سے مندوب، مستحب اور نفل وغیرہ پر سنت کا اطلاق کرتے اور کہتے ہیں کہ سنت سے مراد وہ فعل ہے جس کے کرنے پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا، علماءِ حدیث کے حالات و واقعات پر بھی ہوتا ہے اوراس معنی و مفہوم کے اعتبار سے سنت کا لفظ حدیث شریف کے مترادف ہے اور اس وقت ہمارےپیش نظر بھی سنت کا یہی معنی و مفہوم ہے۔
نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 6)
✍ بنتِ یوسف عطاریہ
آیت و ترجمہ :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (احزاب ،21)
حدیث پاک :
تاجدار مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ( ابن عساکر ج ۹،ص ۳۷۳)
سینہ تیری سنت کا مدینہ بنے آقاﷺ
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
ایک مسلمان کےنزدیک سنت کی اہمیت کیا ہوتی ہے اسی کا انداز ہ اس حکایت سے لگایا جاسکتا ہے۔
حکایت:
حضرت سیدنا عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی نقل فرماتے ہیںْ: ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر شبلی بغدادی علیہ الرحمہ اللہ الہادی کووضو کے وقت مسواک کی ضرورت ہوئی تلاش کی مگر نہ ملی، لہذا ایک دینار یعنی ایک سونے کی اشرفی میں مسواک خرید کر استعمال فرمائی، بعض لوگوں نے کہا یہ تو آپ نے بہت زیادہ خرچ کر ڈالا کہیں اتنی مہنگی بھی مسواک لی جاتی ہے؟فرما یا:بے شک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں اللہ عزوجل کے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں ، اگر بروز قیامت اللہ عزوجل نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا کہ تو نے میرے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ( مسواک) کیوں ترک کی؟ جو مال و دولت میں نے تجھے دیا تھا اس کی حقیقت تو میرے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی نہیں تھی تو آخر ایسی دولت اس عظیم مسواک کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی ؟
اس حکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:
ایک مسلمان کو سنت سے ایسی محبت ہو کہ اگر اس کے بدلے میں اسے اپنی عزیز ترین چیز بھی قربان کرنی پڑی تو اس سے دریغ نہ کرے۔
نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
✍ بنتِ یوسف عطاریہ
آیت و ترجمہ :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (احزاب ،21)
حدیث پاک :
تاجدار مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ( ابن عساکر ج ۹،ص ۳۷۳)
سینہ تیری سنت کا مدینہ بنے آقاﷺ
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
ایک مسلمان کےنزدیک سنت کی اہمیت کیا ہوتی ہے اسی کا انداز ہ اس حکایت سے لگایا جاسکتا ہے۔
حکایت:
حضرت سیدنا عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی نقل فرماتے ہیںْ: ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر شبلی بغدادی علیہ الرحمہ اللہ الہادی کووضو کے وقت مسواک کی ضرورت ہوئی تلاش کی مگر نہ ملی، لہذا ایک دینار یعنی ایک سونے کی اشرفی میں مسواک خرید کر استعمال فرمائی، بعض لوگوں نے کہا یہ تو آپ نے بہت زیادہ خرچ کر ڈالا کہیں اتنی مہنگی بھی مسواک لی جاتی ہے؟فرما یا:بے شک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں اللہ عزوجل کے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں ، اگر بروز قیامت اللہ عزوجل نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا کہ تو نے میرے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ( مسواک) کیوں ترک کی؟ جو مال و دولت میں نے تجھے دیا تھا اس کی حقیقت تو میرے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی نہیں تھی تو آخر ایسی دولت اس عظیم مسواک کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی ؟
اس حکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:
ایک مسلمان کو سنت سے ایسی محبت ہو کہ اگر اس کے بدلے میں اسے اپنی عزیز ترین چیز بھی قربان کرنی پڑی تو اس سے دریغ نہ کرے۔
نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضورﷺ جانتے ہیں (تحریر 1)
Huzoorﷺ Jante Hain
✍ محمد عدنان چشتی عطاری مدنی
غیب کی تعریف غیب کے (لفظی) معنی ہیں: غائب یعنی چُھپی ہوئی چیز۔ غیب وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اور ہم اپنے حَوّاسِ خَمسہ یعنی دیکھنے، سُننے، سونگھنے، چکھنے اور چُھونے سے نہ جان سکیں اور غور و فکر سے عَقل اُسے معلوم نہ کرسکے۔(ملخص از تفسیرِ بیضاوی،ج 1،ص114 وغیرہ) جیسے جنَّت اور دوزخ وغیرہ ہمارے لئے اِس وقت غَیب ہیں کیونکہ اِنہیں ہم حوّاس (یعنی آنکھ، ناک، کان وغیرہ) سے معلوم نہیں کرسکتے۔ عقیدہ اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کو روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کا علم عطا فرمایا ہے۔ لوحِ محفوظ میں درج تمام عُلُوم نیز اپنی ذات و صفات کی معرفت سے متعلّق بہت اور بےشُمار عُلوم عطا فرمائے۔ عُلُومِ خمسہ پر مطلع فرمایا جس میں خاص وقتِ قِیامت کا علم بھی شامل ہے۔ ساری مخلوقات کے احوال اور تمام مَاکَانَ (جو ہوچکا) اور مَایَکُوْنُ (جو ہوگا) کا علم عطا فرمایا۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے پیارے نبیﷺ کا علم ’’عطائی (اللہ کریم کا عطا کیا ہوا) ‘‘ہونے کی وجہ سے’’حادِث‘‘ ہے اور اللہ پاک کا علم’’ ذاتی و قدیم‘‘۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں۔ (مقالاتِ کاظمی،ج 2،ص111ملخصاً) علمِ مصطفےٰ کی تکمیل یاد رہے! ہمارے پیارے نبیِّ کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علم میں نزولِ قراٰن کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا تھا آخِرکار قراٰنِ پاک کی تکمیل کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم بھی مکمل ہوگیا جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: فقیر نے قرآنِ عظیم کی آیاتِ قطعیہ سے ثابت کیا کہ قرآنِ عظیم نے 23 برس میں بتدریج نزولِ اِجلال فرما کر اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جَمِیْع مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن یعنی روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کی ہر شَے، ہر بات کا علم عطا فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص512) چند ضروری وضاحتیں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کے متعلق چند ضَروری باتیں ذِہْن نشین فرما لیجئے، ان شاء اللہ عزوجل نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب سے متعلق شیطانی وسوسوں کا علاج ہوجائے گا۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: (1)بےشک غیرِ خدا کے لئے ایک ذَرّہ کا علم’’ ذاتی‘‘ نہیں اتنی بات’’ضَروریاتِ دین‘‘سے ہے اور اس کامُنْکِر (یعنی انکار کرنے والا)کافر ہے۔ (یعنی جو کوئی اللہ پاک کے بتائے بغیر غیرِ خدا کے لئے ایک ذرّے کا بھی علم مانے وہ مسلمان نہیں) (2)بے شک غیرِ خدا کا عِلم اللہ تعالیٰ کی معلومات کا اِحاطہ نہیں کرسکتا، برابر ہونا تو دُور کی بات۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء و مُرسَلین، ملائکہ و مُقرّبین سب کے عُلوم مل کر عُلومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصّے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصّہ دونوں ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے) اور ”متناہی“ کو ’’متناہی ‘‘سے نسبت ضَرور ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے عُلوم ’’غیرمُتَناہی دَر غیرمتناہی دَر غیرمتناہی (Unlimited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہے ہی نہیں) اور مخلوق کے عُلوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق و مغرب، روزِ اوّل تا روزِ آخِر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں (boundaries) ہیں، روزِ اوّل اور روزِ آخِر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب’’ مُتَناہی (Limited) ‘‘ہے (3)بِالفعل غیرِمُتَناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جُملہ عُلومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَ اللہ تَوَہُّمِ مساوات۔ (یعنی جس بارِی تعالیٰ کے علم کی حقیقی طور پر کوئی حَد اور کِنارہ نہیں ہے اس کا سارے کا سارا علم مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا، لہٰذا جب ساری مخلوق کے سارے عُلوم مل کر بھی اللہ پاک کے علم سے کسی طرح بھی نسبت نہیں رکھتے تو معاذاللہ انہیں اللہ پاک کے علم کے برابر ہونے کا وہم و گمان بھی کیسے ہوسکتا ہے!) (4)اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیائے کرام علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو کثیر و وافِر غیبوں کا عِلم ہے یہ بھی ضَروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سِرے سے نَبُوّت ہی کا منکر ہے (5)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضلِ جلیل میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا حصّہ تمام انبیاء علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور تمام جہان سے اَتَمّ (کامل ترین) اور اعظم (سب سے بڑا) ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا
Huzoorﷺ Jante Hain
✍ محمد عدنان چشتی عطاری مدنی
غیب کی تعریف غیب کے (لفظی) معنی ہیں: غائب یعنی چُھپی ہوئی چیز۔ غیب وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اور ہم اپنے حَوّاسِ خَمسہ یعنی دیکھنے، سُننے، سونگھنے، چکھنے اور چُھونے سے نہ جان سکیں اور غور و فکر سے عَقل اُسے معلوم نہ کرسکے۔(ملخص از تفسیرِ بیضاوی،ج 1،ص114 وغیرہ) جیسے جنَّت اور دوزخ وغیرہ ہمارے لئے اِس وقت غَیب ہیں کیونکہ اِنہیں ہم حوّاس (یعنی آنکھ، ناک، کان وغیرہ) سے معلوم نہیں کرسکتے۔ عقیدہ اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کو روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کا علم عطا فرمایا ہے۔ لوحِ محفوظ میں درج تمام عُلُوم نیز اپنی ذات و صفات کی معرفت سے متعلّق بہت اور بےشُمار عُلوم عطا فرمائے۔ عُلُومِ خمسہ پر مطلع فرمایا جس میں خاص وقتِ قِیامت کا علم بھی شامل ہے۔ ساری مخلوقات کے احوال اور تمام مَاکَانَ (جو ہوچکا) اور مَایَکُوْنُ (جو ہوگا) کا علم عطا فرمایا۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے پیارے نبیﷺ کا علم ’’عطائی (اللہ کریم کا عطا کیا ہوا) ‘‘ہونے کی وجہ سے’’حادِث‘‘ ہے اور اللہ پاک کا علم’’ ذاتی و قدیم‘‘۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں۔ (مقالاتِ کاظمی،ج 2،ص111ملخصاً) علمِ مصطفےٰ کی تکمیل یاد رہے! ہمارے پیارے نبیِّ کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علم میں نزولِ قراٰن کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا تھا آخِرکار قراٰنِ پاک کی تکمیل کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم بھی مکمل ہوگیا جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: فقیر نے قرآنِ عظیم کی آیاتِ قطعیہ سے ثابت کیا کہ قرآنِ عظیم نے 23 برس میں بتدریج نزولِ اِجلال فرما کر اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جَمِیْع مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن یعنی روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کی ہر شَے، ہر بات کا علم عطا فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص512) چند ضروری وضاحتیں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کے متعلق چند ضَروری باتیں ذِہْن نشین فرما لیجئے، ان شاء اللہ عزوجل نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب سے متعلق شیطانی وسوسوں کا علاج ہوجائے گا۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: (1)بےشک غیرِ خدا کے لئے ایک ذَرّہ کا علم’’ ذاتی‘‘ نہیں اتنی بات’’ضَروریاتِ دین‘‘سے ہے اور اس کامُنْکِر (یعنی انکار کرنے والا)کافر ہے۔ (یعنی جو کوئی اللہ پاک کے بتائے بغیر غیرِ خدا کے لئے ایک ذرّے کا بھی علم مانے وہ مسلمان نہیں) (2)بے شک غیرِ خدا کا عِلم اللہ تعالیٰ کی معلومات کا اِحاطہ نہیں کرسکتا، برابر ہونا تو دُور کی بات۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء و مُرسَلین، ملائکہ و مُقرّبین سب کے عُلوم مل کر عُلومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصّے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصّہ دونوں ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے) اور ”متناہی“ کو ’’متناہی ‘‘سے نسبت ضَرور ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے عُلوم ’’غیرمُتَناہی دَر غیرمتناہی دَر غیرمتناہی (Unlimited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہے ہی نہیں) اور مخلوق کے عُلوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق و مغرب، روزِ اوّل تا روزِ آخِر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں (boundaries) ہیں، روزِ اوّل اور روزِ آخِر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب’’ مُتَناہی (Limited) ‘‘ہے (3)بِالفعل غیرِمُتَناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جُملہ عُلومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَ اللہ تَوَہُّمِ مساوات۔ (یعنی جس بارِی تعالیٰ کے علم کی حقیقی طور پر کوئی حَد اور کِنارہ نہیں ہے اس کا سارے کا سارا علم مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا، لہٰذا جب ساری مخلوق کے سارے عُلوم مل کر بھی اللہ پاک کے علم سے کسی طرح بھی نسبت نہیں رکھتے تو معاذاللہ انہیں اللہ پاک کے علم کے برابر ہونے کا وہم و گمان بھی کیسے ہوسکتا ہے!) (4)اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیائے کرام علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو کثیر و وافِر غیبوں کا عِلم ہے یہ بھی ضَروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سِرے سے نَبُوّت ہی کا منکر ہے (5)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضلِ جلیل میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا حصّہ تمام انبیاء علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور تمام جہان سے اَتَمّ (کامل ترین) اور اعظم (سب سے بڑا) ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا
شُمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص450،451 ملخصاً) ایک ایمان افروز روایت حضرت سیّدنا انس بِن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: سورج ڈھلنے پر رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہر تشریف لائے، نمازِ ظہر ادا فرمائی، پھر منبر پر کھڑے ہوکر قِیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس میں بڑے بڑے اُمور ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا: جو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے پوچھنا چاہتا ہو تو پوچھ لے اور تم مجھ سے جس کسی شے کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اسی جگہ بتا دوں گا۔ تو لوگ زار و قِطار رونے لگے۔ بہت زیادہ روئے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو۔ حضرت عبدُاللہ بن حُذافَہ سَہْمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے: میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہارا باپ حُذافہ ہے۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے گُھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر عرض کی: ہم اللہ پاک کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش ہوگئے، پھر فرمایا: ابھی مجھ پر جنّت اور جہنّم اس دیوار کے گوشے میں پیش کی گئیں، میں نے ایسی اچّھی اور بُری چیز نہیں دیکھی۔ (بخاری،ج1،ص200،حدیث: 540)
رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا قراٰنِ پاک اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭… رکن مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ
رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا قراٰنِ پاک اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭… رکن مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹حضورﷺ جانتے ہیں (تحریر 2)
✍ محمد عدنان چشتی عطاری مدنی
قراٰنِ پاک کی کئی آیاتِ مبارَکہ میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علمِ غیب کا بیان موجود ہے چند آیات مُلاحَظہ فرمائیے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیجئے: (1)ہمارا پیارا رب ارشاد فرماتا ہے: ) وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)) ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
شانِ نُزُول
امام شہابُ الدّین احمد بن علی المعروف ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) امام بَغَوی (سالِ وفات:510ھ)،امام سراجُ الدّین عمر حنبلی (سالِ وفات:775ھ)، امام محمد بن احمد شِربِینی (سالِ وفات: 977ھ) اور امام علاءُ الدّین علی بن محمد خازن رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین (سالِ وفات: 741ھ)نے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مزید یوں بیان فرمایا ہے کہ:منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں: لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی۔(خازن،پ4، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ:179،1/328)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2)ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان قراٰنِ پاک کے پارہ پانچ میں یوں ہے:)) وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیتِ مبارَکہ ہمارے پیارے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم مدح اور تعریف پر مشتمل ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ تمام عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے چنانچہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)
یاد رہے
✍ محمد عدنان چشتی عطاری مدنی
قراٰنِ پاک کی کئی آیاتِ مبارَکہ میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علمِ غیب کا بیان موجود ہے چند آیات مُلاحَظہ فرمائیے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیجئے: (1)ہمارا پیارا رب ارشاد فرماتا ہے: ) وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)) ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
شانِ نُزُول
امام شہابُ الدّین احمد بن علی المعروف ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) امام بَغَوی (سالِ وفات:510ھ)،امام سراجُ الدّین عمر حنبلی (سالِ وفات:775ھ)، امام محمد بن احمد شِربِینی (سالِ وفات: 977ھ) اور امام علاءُ الدّین علی بن محمد خازن رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین (سالِ وفات: 741ھ)نے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مزید یوں بیان فرمایا ہے کہ:منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں: لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی۔(خازن،پ4، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ:179،1/328)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2)ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان قراٰنِ پاک کے پارہ پانچ میں یوں ہے:)) وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیتِ مبارَکہ ہمارے پیارے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم مدح اور تعریف پر مشتمل ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ تمام عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے چنانچہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)
یاد رہے
’’ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پہلےنہ جانتے تھے۔ اسی آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر البحرالمحیط،ج 3،ص362 ، زاد المسیر فی علم التفسیر، جزثانی،ج 1،ص118، اور روح المعانی،ج3 ،ص 187 میں اس کی تصریح اور وضاحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:(اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)) ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27، الرحمٰن:1تا4)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)
امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔
(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)) ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(5) اللہ پاک فرماتا ہے:(وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)) ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود
احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔
#Articles
(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:(اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)) ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔(پ 27، الرحمٰن:1تا4)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)
امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔
(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)) ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(5) اللہ پاک فرماتا ہے:(وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)) ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود
احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔
#Articles
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌴 رسولُ اللّٰهﷺ کے تجارتی سفر 🌴
✍ عبدالرحمٰن عطاری مدنی
حلال کے لئے جدّو جہد کرنا اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا طریقہ رہا ہے،ان پاکیزہ ہَستیوں میں سے کوئی کپڑے سینے کا کام کرتے تھے تو کوئی کھیتی باڑی کرکے توکوئی لکڑی کا کام کرکے رزقِ حلال طلب کیا کرتے۔ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰﷺ نے بھی کسبِ حلال کے لئے کوشش فرمائی،آپ نے اُجرت پر گلّہ بانی کی، تجارت بھی فرمائی اور اس کیلئے ملکِ شام اور یمن وغیرہ کا سفر اختِیار فرمایا۔ آپ نے دورانِ تجارت لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا،وعدے کی پاسداری کی اور صَبْر،حِلْم، عَفْو ودَرگُزر اور دیانتدادی کا مُظاہَرہ کیا۔ آپﷺ تجارتی اَسفار میں اپنے اَخلاقِ کریمانہ حُسْنِ مُعَامَلہ اور صِدْق و دِیانت کی وجہ سے ”صادِق و اَمین کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے ۔کفّارِ مکّہ اگرچہ آپ کےبدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود آپ کی اَمانت و دِیانت پر ان کو اس قدر اِعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کوآپ کے پاس بطور امانت رکھواتے تھے۔ اَلْغَرَض ایک تاجر کے اندر جو خُوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ بابرکات میں کامل طور پر موجود تھیں۔ تجارت کیلئے یمن کی طرف سفرسرکارِمدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاندانی پیشہ تجارت تھا اور چونکہ آپ بچپن میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کئی بار تجارتی سفر فرما چکے تھے جس سے آپ کو تجارتی لین دین کا کافی تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔ اس لئے ذریعۂ معاش کے لئے آپ نے تجارت کا پیشہ اختِیار فرمایا اور تجارت کی غرض سے مختلف مقامات پر سفر کئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےجو تجارتی سفرحضرتِ خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کے لئے کئے، ان میں سے دو سفر یمن کی جانب بھی تھے، چنانچہ روایت میں ہے: حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے نبِیّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جُرَش (یمن میں ایک مقام) کی طرف دوبار تجارت کیلئے بھیجا اور ان میں سے ہر سفر ایک اونٹنی کے عوض تھا۔(مستدرک ،ج 4،ص178، حدیث:4887) تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفرآپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کااعلانِ نبوت سے پہلے تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفر کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے،چنانچہ آپ کی خدمت میں عرب کے دور دراز مقامات سے وفود (Delegations) حاضِر ہوتے تھے، ان ہی وفود میں بحرین سے وفدِ عبد ُالقَیس بھی آیا، آپ نے اہلِ وفد سے بحرین کے شہروں کے نام لے کروہاں کے احوال دریافت فرمائےتو انہوں نے تعجب سے پوچھا:یارسول اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان!آپ تو ہم سے بھی زیادہ ہمارے شہروں کے نام جانتے ہیں!آپ نے ارشاد فرمایا:میں تمہارے شہروں میں ٹھہرا ہوں اور میرے لئے ان شہروں میں کشادگی کردی گئی تھی۔ (مسند احمد،ج 5،ص296، حدیث: 15559 ملتقطا) تجارت کی غلطیوں کی اصلاح میں رسولُ اللہ کا کردارجیسے ہمارے زمانے میں تجارت کے شعبے میں مختلف بُرائیاں مثلا دھوکا دہی،عیب والی چیز بیچنا،ملاوٹ کرنا،غلے کی ذخیرہ اندوزی وغیرہ پائی جاتی ہیں، زمانۂِ جاہلیت میں بھی یہ خرابیاں عام تھیں،ہمارے پیارےآقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کی خامیوں کودرست کیا وہیں اس شعبے میں پائی جانے والی غلطیوں کی بھی اصلاح فرمائی،چنانچہ اس کی 3 مثالیں ملاحظہ کیجئے: (1)دھوکا دہی کی مذمت میں ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں۔(مسلم،ص64،حدیث: 283) (2)عیب والی چیز بیچنے کے متعلّق ارشاد فرمایا:جس نے عیب والی چیز بیچی اور اس کا عیب ظاہر نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ پاک کی ناراضی میں ہےاور ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ،ج3،ص59،حدیث2247) (3)غلّے کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں ارشاد فرمایا:جس نے مسلمان پر غلّہ روک دیا، اﷲ پاک اُسے جذام (کوڑھ) اور افلاس میں مبتلا فرمائے گا۔(شعب الایمان،ج7،ص526، حدیث 11218) خرید و فروخت میں نرمی کا مُظاہَرہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت ہی بُلند اخلاق،نرم خُو اور رحیم و کریم تھے ، زید بن سَعْنَہ ایک یہودی عالم تھے،انہوں نے جب آپ کے ساتھ خرید و فروخت میں سَختی کا معاملہ کیا تو آپ نے حلم سے کام لیتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ فرمایا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ زید بن سَعْنَہ نےقبولِ اسلام سے پہلے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کھجوریں خریدی تھیں۔کھجوریں دینے کی مدّت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں آپ سے انتہائی سختی کے ساتھ کھجوروں کا تقاضا کیاجس کے باعث حضرتِ عُمَر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہان پر غضبناک ہوئے، اس پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے عُمَر!تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حقّ کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کرکے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر
✍ عبدالرحمٰن عطاری مدنی
حلال کے لئے جدّو جہد کرنا اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا طریقہ رہا ہے،ان پاکیزہ ہَستیوں میں سے کوئی کپڑے سینے کا کام کرتے تھے تو کوئی کھیتی باڑی کرکے توکوئی لکڑی کا کام کرکے رزقِ حلال طلب کیا کرتے۔ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰﷺ نے بھی کسبِ حلال کے لئے کوشش فرمائی،آپ نے اُجرت پر گلّہ بانی کی، تجارت بھی فرمائی اور اس کیلئے ملکِ شام اور یمن وغیرہ کا سفر اختِیار فرمایا۔ آپ نے دورانِ تجارت لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا،وعدے کی پاسداری کی اور صَبْر،حِلْم، عَفْو ودَرگُزر اور دیانتدادی کا مُظاہَرہ کیا۔ آپﷺ تجارتی اَسفار میں اپنے اَخلاقِ کریمانہ حُسْنِ مُعَامَلہ اور صِدْق و دِیانت کی وجہ سے ”صادِق و اَمین کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے ۔کفّارِ مکّہ اگرچہ آپ کےبدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود آپ کی اَمانت و دِیانت پر ان کو اس قدر اِعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کوآپ کے پاس بطور امانت رکھواتے تھے۔ اَلْغَرَض ایک تاجر کے اندر جو خُوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ بابرکات میں کامل طور پر موجود تھیں۔ تجارت کیلئے یمن کی طرف سفرسرکارِمدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاندانی پیشہ تجارت تھا اور چونکہ آپ بچپن میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ کئی بار تجارتی سفر فرما چکے تھے جس سے آپ کو تجارتی لین دین کا کافی تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔ اس لئے ذریعۂ معاش کے لئے آپ نے تجارت کا پیشہ اختِیار فرمایا اور تجارت کی غرض سے مختلف مقامات پر سفر کئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےجو تجارتی سفرحضرتِ خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کے لئے کئے، ان میں سے دو سفر یمن کی جانب بھی تھے، چنانچہ روایت میں ہے: حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا نے نبِیّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جُرَش (یمن میں ایک مقام) کی طرف دوبار تجارت کیلئے بھیجا اور ان میں سے ہر سفر ایک اونٹنی کے عوض تھا۔(مستدرک ،ج 4،ص178، حدیث:4887) تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفرآپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کااعلانِ نبوت سے پہلے تجارت کیلئے بحرین کی طرف سفر کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے،چنانچہ آپ کی خدمت میں عرب کے دور دراز مقامات سے وفود (Delegations) حاضِر ہوتے تھے، ان ہی وفود میں بحرین سے وفدِ عبد ُالقَیس بھی آیا، آپ نے اہلِ وفد سے بحرین کے شہروں کے نام لے کروہاں کے احوال دریافت فرمائےتو انہوں نے تعجب سے پوچھا:یارسول اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان!آپ تو ہم سے بھی زیادہ ہمارے شہروں کے نام جانتے ہیں!آپ نے ارشاد فرمایا:میں تمہارے شہروں میں ٹھہرا ہوں اور میرے لئے ان شہروں میں کشادگی کردی گئی تھی۔ (مسند احمد،ج 5،ص296، حدیث: 15559 ملتقطا) تجارت کی غلطیوں کی اصلاح میں رسولُ اللہ کا کردارجیسے ہمارے زمانے میں تجارت کے شعبے میں مختلف بُرائیاں مثلا دھوکا دہی،عیب والی چیز بیچنا،ملاوٹ کرنا،غلے کی ذخیرہ اندوزی وغیرہ پائی جاتی ہیں، زمانۂِ جاہلیت میں بھی یہ خرابیاں عام تھیں،ہمارے پیارےآقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں کی خامیوں کودرست کیا وہیں اس شعبے میں پائی جانے والی غلطیوں کی بھی اصلاح فرمائی،چنانچہ اس کی 3 مثالیں ملاحظہ کیجئے: (1)دھوکا دہی کی مذمت میں ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں۔(مسلم،ص64،حدیث: 283) (2)عیب والی چیز بیچنے کے متعلّق ارشاد فرمایا:جس نے عیب والی چیز بیچی اور اس کا عیب ظاہر نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ پاک کی ناراضی میں ہےاور ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ،ج3،ص59،حدیث2247) (3)غلّے کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں ارشاد فرمایا:جس نے مسلمان پر غلّہ روک دیا، اﷲ پاک اُسے جذام (کوڑھ) اور افلاس میں مبتلا فرمائے گا۔(شعب الایمان،ج7،ص526، حدیث 11218) خرید و فروخت میں نرمی کا مُظاہَرہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت ہی بُلند اخلاق،نرم خُو اور رحیم و کریم تھے ، زید بن سَعْنَہ ایک یہودی عالم تھے،انہوں نے جب آپ کے ساتھ خرید و فروخت میں سَختی کا معاملہ کیا تو آپ نے حلم سے کام لیتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ فرمایا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ زید بن سَعْنَہ نےقبولِ اسلام سے پہلے حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کھجوریں خریدی تھیں۔کھجوریں دینے کی مدّت میں ابھی ایک دو دن باقی تھے کہ انہوں نے بھرے مجمع میں آپ سے انتہائی سختی کے ساتھ کھجوروں کا تقاضا کیاجس کے باعث حضرتِ عُمَر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہان پر غضبناک ہوئے، اس پر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے عُمَر!تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ مجھ کو ادائے حقّ کی ترغیب دے کر اور اس کو نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی ہدایت کرکے ہم دونوں کی مدد کرتے۔ پھر
آپ نے حکم دیا کہ اے عُمَر!اس کو اس کے حق کے برابر کھجوریں دے دو اور کچھ زیادہ بھی دے دو۔ کھجوریں لینے کے بعد زید بن سَعْنَہ نے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو سختی کے ساتھ تقاضا کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے توریت میں نبیِّ آخرُ الزّمان کی جتنی نشانیاں پڑھی تھیں ان سب کو محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لیا مگر دو نشانیوں کے بارے میں امتحان باقی رہ گیا تھا۔ ایک یہ کہ ان کا حِلْم جَہْل پر غالب رہے گا اور جس قدر زیادہ ان کے ساتھ جَہْل کا برتاؤ کیا جائے گا اسی قدر ان کا حِلْم بڑھتا جائے گا۔ چنانچہ میں نے اس ترکیب سے ان دونوں نشانیوں کو بھی ان میں دیکھ لیا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ یقیناً یہ نبیِّ برحق ہیں اور اے عُمر! میں بہت ہی مالدار آدمی ہوں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا آدھا مال حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اُمّت پر صَدَقہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ بارگاہ ِرسالت میں آئے اور کلمہ پڑھ کر دامنِ اسلام میں آگئے۔ (سیرت ِمصطفےٰ، ص601، ملخصاً)طے شدہ مقدار سے زیادہ کھجوریں دیں حضرت طارِق بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ہم مدینۂ منوّرہ آئے تو اس کی چار دیواری (Boundary) کے قریب ایک شخص کو دیکھا جس نے دو چادریں پہنی ہوئیں تھیں، اس نے ہمیں سلام کیا اور پوچھا:کہاں کا اِرادہ ہے؟ہم نے کہا:مدینہ کا،اس نے پوچھا:اس شہر میں کس کام سے آئے ہو؟ہم نے کہا:یہاں کی کھجوریں لینے کے لئے، ہمارے ساتھ سُواری کا اُونٹ ہے اور نکیل ڈلا ہوا ایک سُرْخ اُونٹ بھی ہے،اس نے کہا: یہ (سُرخ)اُونٹ فروخت کرنا ہے؟ ہم نے کہا:اتنی اتنی صاع کھجور کے بدلے میں بیچیں گے۔اس شخص نے قیمت میں کوئی کمی نہیں کروائی اور اُونٹ کی لگام پکڑ کرروانہ ہوگیا ،جب وہ نگاہوں سے اَوجھل ہوا تو ہم کہنے لگے: یہ ہم نے کیا کیا؟ہم نے ایک ناواقف شخص کو اُونٹ دے دیا اور اس سے قیمت بھی وُصول نہیں کی۔ ہمارے ساتھ موجود ایک خاتون نے کہا:ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو،خدا کی قسم! ایسے چہرے والا شخص کبھی تمہیں دھوکا نہیں دے گا، میں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا جو چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن تھا،تمہارے اس اُونٹ کی قیمت کی ضمانت میں دیتی ہوں،ابھی ہماری یہ گفتگو چل رہی تھی کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا:مجھے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھیجا ہےاوریہ تمہارے لئے کھجوریں ہیں،اس میں سے پیٹ بھر کےکھا لو اور تول کر پوری مِقْدار میں لے بھی لو۔(یعنی آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے طے شدہ مِقْدار سے زیادہ کھجوریں عطا فرمائیں)۔ (الخصائص الکبریٰ،ج2،ص35)
اللہ پاک ہمیں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک سیرت سے راہنمائی لے کر سچّائی ،دیانت داری اور ایفائے عہد جیسے سنہری اصولوں پر عمل کرتےہوئے اور لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے تجارت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی
اللہ پاک ہمیں سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک سیرت سے راہنمائی لے کر سچّائی ،دیانت داری اور ایفائے عہد جیسے سنہری اصولوں پر عمل کرتےہوئے اور لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے تجارت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*"جُوا" ہمارے معاشرے کی ایک برائی ہے۔*
*(قسط نمبر 01)*
*جُوئے کی تعریف۔*
*ترجمۂ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اِن دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور اِن کا گناہ اِن کے نفع سے بڑا ہے۔*
*جوا شیطانی کام ہے۔*
*ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو اِن سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟*
*جوئے کا شرعی حکم*
*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلِ سنّت، امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ*
*جُوا کے بارے میں چار 4 فرامینِ مصطفٰے ﷺ:*
*آپ کی معلومات کے لئے۔*
📖 مراٰۃ المناجیح، 6 / 203
*(قسط نمبر 01)*
جو برائیاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اُن میں سے ایک "جُوا" بھی ہے، جس کے جال میں پھنس کر کئی لوگ برباد ہوچکے ہیں۔
عادی جُواریوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے مَحض تفریح کے لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگانے سے جوا کھیلنے کا آغاز کیا مگر رَفتہ رَفتہ اِس "ناسور" کے ایسے عادی ہوئے کہ اب جُوئے کی لت چھوڑنا اُن کے لئے دشوار ہو گیا۔
جوئے میں انسان بہت کچھ ہار جاتا ہے چنانچہ جواری مالی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، کچھ نہیں سُوجھتا تو سود پر قرض لیتے رہتے ہیں اور ایک لمبا ہاتھ مارنے کے چکر میں جوئے کی دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔
اپنا وقت جوئے کے اڈوں میں برباد کرتے ہیں اور وہاں پر پھیلنے والی مزید برائیوں نشہ، چوری چکاری وغیرہ میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔
کئی جواری اپنی نوکری یا کاروبار سے بھی غافل ہو جاتے ہیں، انجام کار نوکری یا کاروبار ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، اُن کی گھریلو زندگی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
عزت برباد ہوجاتی ہے، ٹینشن کے مارے یہ بیمار ہوجاتے ہیں، بعض اوقات جوا کھیلنے کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں گِرِفْتار بھی ہوجاتے ہیں، یوں اُن کو جوئے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، جب انہیں کچھ سُجھائی نہیں دیتا تو اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو جاتے ہیں کہ(مَعَاذَاللہ ﷻ) خودکشی جیسے حرام کام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔
ہم اللہ ﷻ سے رحمت اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
*جُوئے کی تعریف۔*
جُوئے کو عربی میں قِمار کہتے ہیں، حضرت میر سیّد شریف جُرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ہر وہ کھیل جس میں یہ شرط ہو کہ مَغْلُوب (یعنی ناکام ہونے والے) کی کوئی چیز غالِب (یعنی کامیاب ہونے والے) کو دی جائے گی یہ "قِمار" (یعنی جُوا) ہے۔
📖 التّعریفات، صفحہ نمبر 126
قراٰنِ پاک میں ہے:
*ترجمۂ کنزالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اِن دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور اِن کا گناہ اِن کے نفع سے بڑا ہے۔*
📖 سورۃ البقرہ، آیت 219
خزائن العرفان میں ہے: نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سُرور پیدا ہوتا ہے یا اِس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مُفْت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار! عقل کا زوال، غیرت و حَمِیَّت کا زوال، عبادات سے محرومی، لوگوں سے عَدَاوَتیں، سب کی نظر میں خوار ہونا، دولت و مال کی اِضاعت (یعنی بربادی)۔
📖 خزائن العرفان، صفحہ 73
*جوا شیطانی کام ہے۔*
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 90 اور 91 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
*ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو اِن سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟*
*جوئے کا شرعی حکم*
*اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلِ سنّت، امام اَحمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ*
فتاویٰ رضویہ جلد 21 صَفْحَہ 156 پر فرماتے ہیں:
جُوا بھی بَنَصِِّ قَطْعِیِ قرآن حرام ہے۔
جبکہ جوئے سے حاصل ہونے والی رقم بھی حرام ہے چنانچہ فتاوٰی رضویہ جلد 19 صَفْحَہ 646 پر ہے:
سُود اور چوری اور غَصَب اور جُوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔
*جُوا کے بارے میں چار 4 فرامینِ مصطفٰے ﷺ:*
(1)جس نے نَرد شَیر (جُوا کھیلنے کے سامان) سے جُوا کھیلا تو گویا اُس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبویا۔
📖 ابنِ ماجہ، 4 / 23۱، حدیث: 3763
2۔ جو کوئی نَرد کھیلے اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی۔
📖 مسندِ بزار، 8 / 77، حدیث نمبر: 3075
3۔ جو شخص نَرد کھیلتا ہے پھر نماز پڑھنے اٹھتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سؤر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے۔
📖 مسند امام احمد، 09 / 50، حدیث نمبر: 33199
4۔ جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ! جُوا کھیلیں، تو اُس (کہنے والے) کو چاہئے کہ صدقہ کرے۔
📖 مسلم، ص894، حدیث: 1647
یعنی جُوا کھیلنا تو درکنار اگر کسی کو جُوا کھیلنے کی دعوت بھی دے تو وہ جوئے کا مال جس سے جوا کھیلنا چاہتا ہے وہ یا دوسرا مال صدقہ کردے تاکہ اس اِرادے کا یہ کفارہ ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ارادہ بھی گناہ ہے، یہ ہی مذہبِ جُمْہور ہے۔
📖 مراٰۃُ المناجیح، 05 / 195۔
*آپ کی معلومات کے لئے۔*
`فارس کے بادشاہوں میں ایک بادشاہ آردشیر ابن تابک گزرا ہے اُس نے یہ جوا ایجاد کیا۔ 📖 مراٰۃ المناجیح، 6 / 203